No Download Link
Rate this Novel
Episode 36
جو بات ولی کو بار بار پریشان کر رہی تھی وہ پھولوں والی لڑکی کا لارڈ کے محل سے تعلق تھا.
آخر ان دونوں کا آپس میں کیا تعلق ہو سکتا ہے…… ؟؟ وہ ابھی اپنے بیڈ پر سیدھا لیٹا یہی سوچ رہا تھا کہ اس کے موبائل پر میسج ٹون بجی.
چہرے پر خودبخود مسکراہٹ چھا گئی وہ سمجھا آئمہ کا میسج ہو گا مگر یہ کیا……؟ ؟؟ میسج پڑھتے ہی ولی کے چہرے کی نسیں تن گئیں اور وہ تیزی سے اپنی بائیک کی چابی لے کر باہر نکلا.
یہ کیا بیہودہ مذاق ہے اگر آئندہ تم نے ایسا کچھ کیا تو میری طرف سے پیشگی معزرت قبول کرو.مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں….. ڈیوڈ کے آفس میں داخل ہوتے ہوئے اس نے لات مار کر زور سے دروازہ بند کیا جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت تھا کہ وہ شدید غصے میں ہے.
تم تو بڑی جلدی آ گئے میں سمجھا کم از کم آدھا گھنٹہ تو لگے گا…… ڈیوڈ کرسی پر بیٹھا مسکرا رہا تھا.
میں پوچھ سکتا ہوں کہ تمہیں یہ جھوٹ بولنے کی کیوں “ضرورت” پیش آئی…….. ؟ ولی کے استفادے پر ڈیوڈ پھیکا سا مسکرایا.
مجھے ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ مجھ سے “ضروری” کرایا گیا ہے.
یہ کیا بات ہوئی…..؟ ولی نے گھور کر اسے دیکھا جو اسے کچھ بجھا بجھا سا لگا
میرے پاس لارڈ کے آدمی آئے تھے دھمکی دی ہے کہ میں تمہیں مار دوں یا خود مرنے کو تیار رہوں.
اب تم ہی بتاؤ کہ میں کیا کروں……. ؟ ڈیوڈ نے امید بھری نظروں سے ولی کو دیکھا
تم مجھے مار دو……. ولی نے کہتے ساتھ اپنا پسٹل نکال کر ٹیبل پر رکھا جبکہ ڈیوڈ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا
تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ناااااا…. نشہ تو نہیں کیا ہوا…… ویسے تم کرتے تو نہیں ہو پھر بھی آج بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو اور یہ اپنے پاس رکھو…… ڈیوڈ نے ہاتھ مار کر پسٹل اپنے سے دور کی جو گھومتی ہوئی ولی کے عین سامنے رکی.
چلو پھر میں تمہیں مار دیتا ہوں.ویسے بھی تم نے میسج یہی کیا تھا نا کہ تمہیں کسی نے گولی مار دی ہے اور تم آخری سانسیں لے رہے ہو….. ولی نے کہتے ساتھ پسٹل سے ڈیوڈ کا نشانہ لیا
اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتا گولی کی آواز سے پورا آفس گونج اٹھا.
🎀🎀🎀🎀
مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ تم لوگ کیا کرتے پھر رہے ہو اور ڈینیل اسے کیا ہو گیا ہے…….. ؟لارڈ کرس نے الجھے ہوئے لہجے میں سامنے ہاتھ باندھے کھڑے اپنے کارندوں سے پوچھا
جناب ہمیں تو خود سمجھ نہیں آرہی…….. کہ ڈینیل کو کیا ہو گیا ہے…..؟ ؟؟ عجیب بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے….. کبھی کہتا میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور کبھی کہتا ہے تم لوگ کون ہو میں نہیں تمہیں جانتا……. ؟؟
بند کرو یہ ڈرامے بازی اور سچ سچ بتاؤ کہ تم سے وہ چھ فٹ کا لڑکا کیوں کنٹرول نہیں ہو رہا آخر اس میں ایسا کیا ہے کہ تم جیسے بدمعاشوں کے ہاتھ سے مکھن میں سے بال کی طرح نکل جاتا ہے…… ؟ لارڈ کا غصہ اپنے پورے عروج پر تھا اور اس کی آنکھیں اس وقت شعلے برسا رہی تھیں جب اس کا ایک ملازم اندر داخل ہوا.
جناب عالی…… ولی نامی کوئی شخص آپ سے ملنے آیا ہے…… ؟
نوکر کی بات پر لارڈ کو اپنی سماعت پر شبہ ہوا……. کیا کہا تم نے کون ملنے آیا ہے…… ؟
یہ لڑکا تو اب میرے حواسوں پر اتنا سوار ہو گیا ہے…… اس کا نام مجھے جاگتے میں بھی ہر وقت سنائی دینے لگا ہے…….. لارڈ نے بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا
جناب عالی اس شخص نے اپنا نام ولی بتایا ہے اور اب کی بار لارڈ کے ساتھ ساتھ کمرے میں موجود ہر شخص حیران تھا.
تم سے تو لاکھ درجے اچھا مجھے یہ “ولی” لگ رہا ہے…… شیر جیسا “دل” ہے اس کا جو اپنی “موت” کو خود گلے لگانے یہاں پہنچ گیا ہے اور تم لوگ……….. دفع ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے…… جب تک میں نہ کہوں میرے کمرے میں نہیں کوئی نہیں آئے گا…….. بھیجوں اسے آج میں بھی اسے بتا دوں کہ لارڈ کرس کس چیز کا نام ہے…… ؟
سب لوگ سر ہلاتے کمرے سے باہر چلے گئے جب کہ لارڈ سگار سُلگانے لگا
بلیو جینز، وائٹ شرٹ اور جاگرز، بلیک لیدر کی جیکٹ، آنکھوں پر بلیک گلاسس ایک ہاتھ میں موبائل اور دوسرے ہاتھ میں چین گماتا ایک شاندار جوان کمرے میں داخل ہوا.
اچھا تو تم ہو “ولی الرحمان” ………. لارڈ نے حیرت سے ولی کو سر سے پاؤں دیکھتے ہوئے طنزیہ لہجے میں پوچھا
آپ کو مجھے دیکھ کر پتہ نہیں حیرت ہوئی ہے کہ نہیں مگر مجھے آپ کو دیکھ کر بے انتہا حیرت ہورہی ہے ……… ولی نے لارڈ کے سامنے والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے جواب دیا
ولی کی بات پر لارڈ کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھرے…….. وہ منہ سے تو کچھ نہیں بولا مگر ان کی شکل بتا رہی تھی کہ انھیں ولی کا جملہ تیر کی طرح لگا ہے اور یہی بات ولی کو سکون پہنچا رہی تھی.
کہوں کیا کہنا چاہتے ہو ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کہ تم جیسوں پر اپنا وقت برباد کریں لارڈ نے تلخ لہجے میں پوچھا
حیرت تو مجھے آپ کو دیکھ کر بھی بات ہوئی تھی مگر آپ سے گفتگو کرنے کے بعد میں باقاعدہ حیرت کے سمندر میں تقریبا “غوطہ” لگا رہا ہوں ولی نے سیدھا بیٹھتے ہوئے لارڈ کی طرف جھک کر سرگوشی کے انداز میں کہا
سیدھی طرح بکواس کرو اس سے پہلے کہ میرے بندے تمہیں اٹھا کر ایسی جگہ پھینکے کہ پھر دوبارہ کبھی کسی کو نہ ملوں.
لارڈ کا صبر جواب دے گیا تھا اور اس نے شدید اشتعال میں اپنا سگھار ایش ٹرے میں مسز دیا.
سیدھی بات یہ ہے کہ آپ مجھے قتل کر دیں میں آپ کے ہاتھوں سے مرنا چاہتا ہوں بجائے اس کے کہ آپ لوگوں کو ہائیر کر کہہ میرے ہاتھوں مرواتے رہیں……… ولی نے کہتے ہوئے پسٹل لارڈ کے سامنے ٹیبل پر رکھ دی اور خود جھک کے اس کے آگے بیٹھ گیا.
یہ کیا حرکت ہے اٹھاؤ اس پسٹل کو ……… لارڈ نے پسٹل کو ولی کی طرف پھینکا۔
اچھی طرح سوچ لیں یہ موقع آپ کی زندگی میں دوبارہ کبھی نہیں آئے گا کیونکہ میں دوسری دفعہ کسی کو موقع دیتا ہی نہیں ہوں……..ولی نے کہتے ساتھ ہی پسٹل ٹیبل سے اٹھا لی.
بس یہی کام تھا کہ کچھ اور لارڈ نے ولی کی طرف دیکھا.
اصل میں……. میں آپ کو آج ایک” کہانی” سنانے آیا تھا لیکن آپ کا شاید موڈ نہیں ہے یقین مانیں کہ کہانی انتہائی دلچسپ ہے…… ویسے مرضی ہے آپ کی اگر سن لیتے تو اس میں آپ کا فائدہ ہوتا ہے ولی کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا.
میرے پاس بار بار اتنا وقت نہیں کہ میں تم جیسے دو ٹکے کے لوگوں پر خرچ کروں اس لیے جو کہنے آئے تھے وہ کہہ کر جاؤ لارڈ کی بات پر ولی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور وہ دوبارہ لارڈ کے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا.
آپ کے ہاں “مہمان داری” کا کوئی رواج نہیں ہے میں نے تو سنا تھا کہ آپ بڑے مہمان نواز ہیں…… ولی نے چھیڑا.
میں اپنے دشمنوں کو کھلاتا پلاتا نہیں ہوں تمہارے لئے یہی کافی ہیں کہ میں نے تمہاری جان بخش دی ہے میری طرف سے اسے ہی ” مہمان نوازی” سمجھے.
ہاں تو کہانی کچھ یوں ہے کہ …. ولی نے کندھے اچکا کے اپنی بات شروع کی اور جیسے جیسے ولی بولتا گیا لارڈ کے تاثرات بدلتے گے.
🎀🎀🎀🎀
دیکھو اگر تم مجھے سب کچھ سچ سچ بتا دو گی تو…….. (تو پزل کا جو ایک ٹکڑا نا مکمل ہے وہ مکمل ہو جائے گا. ولی نے باقی کا جملہ دل میں دہرایا اس لئے)……… شاباش تم ڈرو نہیں اور مجھے بتاؤ کہ تمہارا لارڈ کرس کے محل سے کیا تعلق ہے……. ؟؟؟ وہ لوگ تمہیں کیوں لے کر گئے تھے…….. ؟؟؟
ولی نے پیار سے پھولوں والی لڑکی کی طرف دیکھ کر پوچھا
پہلے آپ وعدہ کریں کہ یہ بات آپ کسی کو نہیں بتائیں گے….؟
ابھی تک میں نے تمہارے بارے میں کیٹ کو بھی کچھ نہیں بتایا تو میرے خیال سے تم مجھ پر اعتماد کر سکتی ہو……!!!
ولی کی جواب پر جنیفر کو حوصلہ ملا. جب میرے پاس “پھول” نہیں ہوتے یا مجھے “پیسوں” کی سخت ضرورت ہوتی ہیں تو تب میں چھوٹی موٹی “چوریاں” کر لیتی ہوں…….. جینیفر نے اپنی بات کے آخر میں ولی کی طرف دیکھا جو اسے گھور رہا تھا .
گندی بچی…..!!! تمہیں شرم نہیں آتی ایسے کام کرتے ہوئے. ولی نے مصنوعی خفگی سے اس کے سر پہ ہاتھ مارا.
اب ہر کوئی آپ کی طرح مہربان تو نہیں ہوتا ناااااا……. خیر ایک دن میں چوری کی نیت سے کسی کے لان میں کودی.
میں نے سوچا تھا کہ میں ” کچن” سے کچھ کھانے پینے کا سامان اور ڈرائنگ روم سے کوئی ایک آدھ “قیمتی چیز” لے کر چلی جاؤنگی……… مگر میں نے جیسے ہی کچن میں قدم رکھا مجھے گھر بھی عجیب قسم کی آوازیں سنائی دی. جیسے کوئی کسی کو گھسیٹ رہا ہو اور ساتھ میں کچھ سرگوشی بھی کر رہا ہو.
پہلے تو میں “ڈر” کر ایک دم چھپ گئی مگر جب کافی دیر تک کوئی اُدھر نہیں آیا تو میں ہمت کرکے اس طرح بڑھی جدھر سے آوازیں آرہی تھیں.
وہ گھر کس کا تھا اور آوازیں کیسی تھی……؟ ؟؟ ولی کے سوال پر جنیفر نے کندھے اچکائے
مجھے نہیں معلوم مگر…….. جب میں اس طرح بڑھی جہاں سے آوازیں آ رہی تھیں تو مجھے کچھ آدمی دکھائی دیئے جو حلیے سے کافی ٹھیک ٹھاک لگ رہے تھے “بابو ٹائپ” لوگ…….. جنیفر کے تبصرے پر ولی مسکرا دیا.
اگر آپ بار بار بیچ میں بولیں گے تو پھر میں آپ کو نہیں بتاؤں گے کہ آگے کیا ہوا. جینیفر نے منہ پھلا لیا.
اچھا سوری…….. میں وعدہ کرتا ہوں کہ تم اپنی بات جب تک مکمل نہیں کرو گی تب تک میں نہیں بولوں گا اوکے……… ولی کی بات پر جینیفر نے مسکرا کر اپنی بات دوبارہ شروع کی.
میں ایک کمرے میں آدھ کھلے دروازے کے پیچھے سے انھیں دیکھ رہی تھی……… بدقسمتی سے میں جس کمرے میں چھپی وہ اسی کمرے میں ایک لڑکی گھسیٹ کر لا رہے تھے جو شاید بے ہوش تھی. میں جلدی سے دروازے کے پیچھے چھپ گئی وہ کمرے میں ادھر ادھر دیکھے بغیر سیدھا باتھ روم میں گھس گئے.
انہوں نے اس لڑکی کو باتھ روم میں لے جا کر باتھ ٹب میں ڈالا اور پانی کھول دیا.
کچھ دیر تک تو وہ پانی میں ہاتھ مرتی رہی مگر پھر ساکت ہوگی۔
مجھے یہ سب دیکھ کر اتنا ڈر لگا کہ نہ چاہتے ہوئے میرے منہ سے “چیخ” نکل گئی.
چیخ کی آواز سنتے ہی وہ لوگ بھاگ کر باتھ روم سے باہر نکل آئے……. اس سے پہلے کہ وہ مجھے پکڑتے میں نے ایک دم دروازہ کھول کر باہر سے کمرے کو لاک کردیا اور دوڑ لگا دی.
اب اسے میری خوش قسمتی سمجھیے یا بدنصیبی مگر وہ لوگ مجھے اچھے طرح سے پہچان گئے تھے.
میں نہیں جانتی تھی کہ وہ کون لوگ ہیں اور گھر میں کیا ہوا ہے…….. ؟ ؟ سوائے اس کے کہ میں اس شخص کو اچھے س پہچانتی تھی جس نے اس لڑکی کو قتل کیا تھا.
کچھ دن تو میں خوف زدہ رہی اور گھر سے بھی باہر نہیں نکلی مگر پھر آہستہ آہستہ سب نارمل ہو گیا. میں اس واقعے کو بھول گئی تھی……… کہ اچانک ایک دن میں چوک میں پھول بیچ رہی تھی کہ بلیک کلر کی ایک کار میرے پاس آ کر رکی اس میں سے چند لوگ نکلے اور مجھے لارڈ کے محل لے گے۔
حیرت تو مجھے تب ہوئی کہ جو بندہ میں نے اس لڑکی کے گھر دیکھا تھا وہی لارذ کے پاس کھڑا تھا ۔
لارڈ کے بار بار پوچھنے پر کہ اس کا قتل کس نے کیا……. تم اسے پہچانتی ہو…… ہمیں اس کی شناخت کروا دو……. ؟؟؟
پہلے تو میں ڈر گئی پھر میں نے سچ سچ بتا دیا کہ یہ جو بندہ آپ کے پاس کھڑا ہے یہی اس لڑکی کا قاتل ہے.
میرے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ وہ اس زور زور سے چلانے لگا اور بولا کہ لڑکی مجھ پر الزام لگا رہی ہے…… جھوٹ بول رہی ہے…… اس لڑکی نے ہی قتل کیا ہو گا….. اور وہ قیمتی چیز بھی اسی نے چرائی ہو گی…… ؟
لارڈ نے مجھ سے نومی سے پوچھا کہ اگر میں انھیں وہ قیمتی چیززز جو میں نے وہاں سے چرائی ہے واپس کر دوں تو وہ مجھے چھوڑ دیں گے اور پولیں کو بھی نہیں بتائیں گے……….. مگر میں نے کچھ چرایا ہی نہیں تھا تو انھیں کیا بتاتی.
لارڈ کے کہنے پر انہوں نے مجھے مارا بھی اور پھر “اندھے کنواں” میں پھینک دیا اور کہا کہ اگر تم سچ نہیں بتاؤ گی تو اندر ہی گل سڑ کر مر جاؤں گی.
مگر شکر ہے کہ آپ نے مجھے وہاں سے نکال لیا میں آپ کی بہت شکر گزار ہوں……. لیکن یہ سچ ہے کہ میں اس لڑکی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی اور نہ ہی میں نے وہاں سے کوئی ایسی چیز چرائی تھی جو بہت قیمتی ہو.
تو یہ بات ہے (ٹھیک ہے پزل مکمل ہوگی)…… تمہارا بہت بہت شکریہ…… تم نے میرا بہت بڑا کام کردیا ہے………. خوش رہو…. آباد رہو…….. جہاں بھی رہو.
مجھے آپ بہت اچھے لگتے ہیں کیا اب میں اپنے گھر جا سکتی ہوں……. ؟؟
اگر تم مجھے “مکھن” نہیں بھی لگاؤ گی تب بھی میں تمہیں اب یہاں سے جانے دوں گا…………. بلکہ میں تمہیں خود چھوڑ کر آؤں گا ٹھیک ہے ………..چلو اب اندر چلتے ہیں اور کیٹ کی ہاتھ کی بنی ہوئی” بدمزہ” سی کافی پیتے ہیں ولی نے منہ بناتے ہوئے جینیفر کی طرف دیکھا.
بری بات ہے ایسا نہیں کہتے………….. وہ آپ کو بہت پسند کرتی ہیں بہت زیادہ…………. ویسے وہ ہیں بھی بہت پیاری ہے اگر میں آپ کی جگہ ہوتی ہے تو فورا ان سے شادی کر لیتی آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے…… ؟
میرا یہی خیال ہے کہ تم میری “جگہ” نہیں ہوں چلو اب اندر چلو اور باتیں بنانا بند کرو.
🎀🎀🎀🎀
اب تمہیں کیا ہوا ہے کیوں منہ پھلا کر بیٹھی ہو………. ؟؟؟ اچھی نند ہونے کا ثبوت دو اور میری شادی میں خوشی خوشی بڑھ چڑھ کر حصہ لو……… ڈانس کرو……… گانے گاؤ……… مہندی لگاؤں………. آخر کو تمہاری “اکلوتی بھابھی” آ رہی ہے مذاق تھوڑی ہے. بیا نے أئمہ کو اداس بیٹھے دیکھ کر پوچھا
یار کیا مصیبت ہے……… میں اتنی دیر سے فون کر رہی ہوں تو کوئی میرا فون ہی نہیں اٹھا رہا انسیلٹ فیل ہو رہی ہے مجھے اپنی……
تو تم ” کوئی” کو فون کر ہی کیوں رہی ہو………….. ؟مجھے فون کرو ایک سیکنڈ میں اٹینڈ کرو گی.
افففففف ہو……. بیا سمجھو ناااااا میں ” اس کو” فون کر رہی ہوں………. آئمہ نے الجھ کر بیا کی طرف دیکھا.
اس کو……… کس کو……… اچھا “مقصود نمبردار عرف کالا بابا “……. بیا کے قہقوں سے پورا کمرہ گونج اٹھا۔
بیا میں “ولی” کی بات کر رہی ہوں اس نے مجھے خود کہا تھا فون کرنے کو……….. اب میں فون کر رہی ہوں تو اٹھا نہیں رہا یہ کیا بات ہوئی بھلا…….. ائمہ بہت اداس لگ رہی تھی.
اس میں اتنی اداس اور پریشان ہونے والی کونسی بات ہے……….. میں ہوں ناااااا……… وہ کیا کسی “لوکل شاعر” نے خوب کہا ہے.
” وہ بےوفا ہے تو مت کہو برا اسے……….. تم مجھ سے set ہو جاؤ دفا کرو اسے”
بیا تم یہ کس طرح کی گھٹیا شاعری سنا رہی ہو………. مجھے ذرا بھی پسند نہیں آئی اور ویسے بھی اس وقت میرا اتنا موڈ خراب ہے کہ…….. اس نے مجھے کہا تھا کہ تم بھی مجھے فون کرنا………. ابھی میں نے کیا ہے……….. اگلی دفعہ تمہاری باری……… تو اس کے کہنے پر فون کر رہی تھی لیکن اٹھا ہی نہیں رہا.
بدتمیز لڑکی ……… زیادہ فرمانبرداری دکھانے کی ضرورت نہیں ہے اپنی اہمیت بڑھاؤ……. اسے تین چار دفعہ فون کرنے دو پھر تم نخرے سے ایک دفعہ فون کرناورنہ……………. اس طرح تمہاری ویلیو کم ہو جائے گی.
ویسے آئمہ بی بی ایک بات تو بتائیں یہ آپ کب سے لنڈے والے کے پیچھے پاگل ہو رہی ہیں…؟
تو کیا تمہارے پیچھے پاگل ہوں. آئمہ نے تپ کر پوچھا.
میرے پیچھے لوگ “پاگل” نہیں ہوتے پیاری لڑکی…….. میں انہیں “پاگل” کر دیتی ہوں……. اگر کسی بھی قسم کا میری بات پر شک ہو تو اپنے بھائی کا حشر دیکھ لینا.
ابھی دونوں اسی “بحث” میں لگی ہوئی تھیں کہ آئمہ کے فون کی گھنٹی بجی.
خبردار……….. جو تم نے کال اٹینڈ کی میں خود بات کروں گی اور اُس کی کلاس بھی اچھی سے لوں لگی وہ ہوتا کون ہے میری معصوم سی نیند کو تنگ کرنے والا……… ؟ بیا نے کال اٹینڈ کرتے ہی موبائل کا اسپیکر آن کر دیا.
تم کیا ہر وقت اسے ” چڑیل” کی طرح چپکی رہتی ہو کبھی تو تنہا بھی چھوڑ دیا کرو. ولی نے بیا کی آواز سنتے ہی کہا
اچھا تا کہ اسے “جن” چپک جائے……. بیا کہ بات پر آئمہ نے اسے ایک چٹکی کاٹی جبکہ ولی نے زور سے قہقہہ لگایا.
خیر میرا ارادہ فلحال آپ سے لڑائی کرنے کا بالکل بھی نہیں ہے میں اس لیے آپ کو بار بار فون کر رہی تھی کہ آپ نے پاکستان کب آرہے ہیں……… ؟
کیوں……. ؟ خیریت کس کو میری یاد ستانے لگی…….. ؟ ولی کا جملہ معنی خیز تھا
ہم پاکستانی تو صرف “مرے لوگوں” کو یاد کرتے ہیں ” زندہ” کو یاد کرنا اب ہماری عادت ہی نہیں رہی…………. اور رہی بات “خیریت” کی تو جناب حارب کی شادی ہے اس کی شادی میں تو آئیں گے نا اسی بہانے اپنی بیگم کو بھی واپسی پر ساتھ لے جانا ہم اسے رکھ کر کیا کریں گے ہم نے اس کا کوئی “اچار” ڈالنا ہے……. ؟؟؟
مطلب میں نے اچار ڈالنا ہے ولی نے پوچھا……؟ ؟؟؟
دیکھیں جی اب آپ کی مرضی ہے” اچار” ڈالیں یا “چٹنی” بنائیں ہم نے لڑکی آپ کو دے دی ہے اب وہ آپ کی ہوئی.
مجھے تو بس دو ٹکٹ ہنی مون کے دے دینا……….. لندن گھومنے کا مجھے بہت شوق ہے ویسے تو مجھے پتا ہے آپ کا ” ایفل ٹاور” ہمارے “مینار پاکستان” سے زیادہ خوبصورت بالکل بھی نہیں ہیں مگر پھر بھی ہم اس کو بھی “شرف دیدار” بخش دیں گے.
آپ کو کیسے پتہ ہے کہ ایفل ٹاور سے زیادہ خوبصورت مینارے پاکستان ہیں……..… ؟؟؟؟
کیونکہ میری آنکھیں ہیں بنٹے نہیں….. بیا نے فوراً جواب دیا.
اچھا تو آپ کو دو ٹکٹ چاہیے ہنی مون کے لیے…….. ولی نے تصدیق چاہی.
ظاہری سی بات ہے آپ نے ہمیں شادی پر کچھ تو ” تحفہ” دینا ہی ہے نااااا…… تو میں نے سوچا آپ کی مشکل آسان کر دوں. یہی دے دیجئے گا ہم اس پر صبر شکر کر لیں گے میں” لالچی” بالکل نہیں ہوں کہ بڑی بڑی “فرمائشیں ” کر کہ آپ کو پریشان کروں.
جی بالکل میں آپ کو جانتا ہوں مگر شاید آپ یہ نہیں جانتی کہ ایفل ٹاور” پیرس” میں ہے “لندن” میں نہیں… ولی نے جان چھڑائی.
آپ مجھے “جاننا “چھوڑیں اور جسے “جاننا” آپ کے لیے ضروری ہے اسے “جانیے” اور رہی بات ایفل ٹاور کی تو وہ آپ” فرنگیوں” کا ہی ہے اب لندن میں ہو یا پیرس میں ہمیں کیا فرق پڑتا ہے.
بیا نے کہتے ہوئے فون آئمہ کو دیا اور خود کمرے سے باہر چلی گئی.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے.
