No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
چلیں آج میں اپنے ہاتھوں سے آپ کو چائے بنا کر پلاتا ہوں.
خلافِ معمول ولی کا موڈ آج بہت اچھا تھا اس لیے اُس نے اپنے بوڑھے باپ کو ویل چیئر پر بیٹھا کر کچن کا رخ کیا.
لندن میں آپ کے بیٹے سے اچھی چائے کوئی نہیں بنا سکتا یہ میرا چیلنج ہے.
ولی نے کیٹل میں پانی ابلنے کو چولہے پر رکھا.
آج بہت خوش ہو…….!!!
بمشکل اُن کے منہ سے یہ الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر نکلے.
جی بلکل خوش ہوں کیونکہ آج آپ کی نیلی آنکھوں والی چڑیل گھر پر نہیں ہے.
ولی نے ایک ادا سے اپنے سینے پر ہاتھ باندھے اور باپ کی طرف مسکرا کر دیکھا
وہ ماں ہے تمہاری…..
پتہ نہیں کس کی، کم از کم مجھے اپنی تو بلکل نہیں لگتی. کہاں میں معصوم سا سیدھا سادہ اور کہاں وہ مکار سی، مادہ پرست…..!!!
ولی نے کہتے ہوئے فریج سے دودھ نکالا.
ولی…..!!!
پلیززززز اُن کی حمایت میں کچھ مت کہنا ورنہ میں یہ گرم گرم چائے اپنے یا آپ پر ڈال دوں گا اور مجھے لگتا ہے کہ میں ایسا کر گزروں گا.
ولی نے کپ میں چائے انڈیلی.
ساتھ سینڈوچ بنا لو یا خالی چائے…. ؟
ولی نے کپ ٹیبل پر رکھا اور باپ کے ہاتھ تھامتا زمین پر بیٹھ گیا.
کچھ دیر دونوں باپ بیٹا ایک دوسرے کو محبت سے دیکھتے رہے پھر اس سے پہلے کے اُن کی آنکھیں چمکنے کے بعد برسنے لگتیں ولی نے اپنا سر ان کی گود میں رکھ دیا.
مجھے معاف کر دو…..؟
کر دوں گا جب آپ مجھے معاف کر دیں گے کیونکہ جلد ہی میں آپ کی نیلی آنکھوں والی چڑیل کو مار دوں گا. پھر حساب برابر……
ولی کی بات پر بوڑھے انسان کی آنکھوں میں پہلے حیرت اور پھر بےبسی ابھری.
ڈیڈ وہ کیا ہے ناااااا جتنا آپ نے میرا نقصان کیا بس اتنا میں آپ کا کروں گا نہ کم نہ زیادہ……
آپ کو معلوم ہے ناااا میرا حساب کتنا اچھا ہے.
ولی نے ساتھ ساتھ سینڈوچ تیار کیا.
بھول جاؤ اور شادی کر لو.
ابھی میں عمر کے اس حصے میں نہیں پہنچا کہ مجھے چیزیں بھولنے لگ گئی ہیں اور رہی بات شادی کی تو میں آپ کی طرح ویل چیئر بھیپر بیٹھنے سے کنوارہ مرنا پسند کروں گا.
ولی نے سینڈوچ پلیٹ میں رکھا اور اپنے باپ کی طرف مڑا.جب اس کا موبائل بجنے لگا.
ڈیڈ آپ جلدی جلدی سینڈوچ کھا لیں مجھے کسی ضروری کام سے جانا ہے.
ولی نے سرسری نظر شلف پر پڑے اپنے موبائل پر ڈالی اور دوبارہ ڈیڈ کی طرف متوجہ ہو گیا.
کیٹ ہے ….. ؟
بلیاں تو مجھے بلکل پسند نہیں اور وہ بھی جنگلی بلی……
ولی باپ کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگا.
ہنستے رہا کرو یقین مانو بہت پیارے لگتے ہو بانسبت غصہ کرنے کے…..
جی آپ کی چڑیل سے وراثت میں ایک شکل ہی تو اچھی ملی ہے.
ولی میں نے اپنی ڈائری میں تمہارے لیے کچھ وصیت لکھی ہے میں چاہتا ہوں کہ تم اسے پڑھو، کیونکہ میں اتنا بول نہیں سکتا.
آپ نے اردو میں لکھا ہو گا اور میں اردو پڑھ نہیں سکتا اس لیے میری طرف سے معزرت قبول کریں.
آپ اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں ہی بتا دیں کہ آپ کو مرنے کے بعد دفنانا ہے یا جلانا…
ولی کی بات پر ایک منٹ کے لیے بوڑھے آدمی کی آنکھیں ساکت ہو گئی.
زیادہ حیران نہ ہوں جیسا آپ کا شاندار ماضی ہے اس کو مدِنظر رکھتے ہوئے پوچھا ہے مجھے بات گھما کر کرنا نہیں آتی اگر بری لگی ہے تو سوری……
ولی کو اپنی بات کی سنگینی کا احساس ہو گیا تھا اس لیے وضاحت دی.
مجھے تم سے محبت ہے ولی…..
معلوم ہے اور کچھ….
ولی نے سینڈوچ کھلاتے ہوئے تصدیق کی.
تمہاری ماں اتنی بری نہیں تھی جتنی وقت کے ساتھ ہو گئی ہے.
وہ شروع سے ہی ایسی تھیں آپ کو اچھے برے کی تمیزززز دیر سے آئی.
ولی نے چائے کا آخری گھونٹ پلاتے ہوئے ان کا منہ صاف کیا.
شکریہ آج میں نے بہت دنوں بعد ایک مزیدار کھانا کھایا.
اگر آپ اس چڑیل کو اس گھر سے باہر نکال دیں تو ہم سکون سے اکٹھے رہ اور کھا پی سکتے ہیں. مگر آپ ایسا نہیں کریں گے….!!!
ولی نے ویل چیئر کمرے کی طرف موڑی.
🎀🎀🎀🎀
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ مُردوں کو ان چیزوں سے کیا فرق پڑتا ہے….؟
آئمہ نے دونوں ہاتھوں میں پکڑے گلاب کی پتیوں کے شاپر کی طرف اشارہ کیا.
جبکہ بیا نے اگر بتیاں اور حارب نے گلاب کے عرق کا کین پکڑا ہوا ہے.
مُردوں کو فرق پڑے نہ پڑے ہمیں تو پڑ رہا ہے ناااااا…
بیا کے جواب پر آئمہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا.
ہائے میری قسمت کس قدر ناسمجھ کزن ملی ہے…..
میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک فنکشن ہو جاتا ہے ہم سب مل کر قبرستان صاف کرتے ہیں. کتبے دھوتے ہیں. قبروں پر نئی مٹی ڈالتے ہیں. ساری قبروں پر سرخ گلاب ڈالتے اور گلاب کے عرق کی وجہ سے قبرستان، قبرستان کم اور شادی حال کا سماں زیادہ پیش کرتا ہے.
استغفراللہ…..
آئمہ نے بیا کی بات پر اونچی آواز سے کہا
تمہیں شادی کے فنکشن اور قبرستان میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا…؟
مجھے تو ڈر لگتا ہے. آئمہ نے جھرجھری لی.
ڈر کیسا، یہاں پر جتنے بھی لوگ ہیں وہ سب ہمارے اپنے تھے. ہمیں پیار کرتے تھے. اب اگر اللہ کے حکم سے وہ زمین کے اوپر سے نیچے شفٹ ہو گئے ہیں. تو کیا ہوا…؟ ہیں تو وہی ناااااا ہمارے پیارے…..
اور اپنے پیاروں سے ڈرتے نہیں پیار کرتے ہیں. سمجھی…..
مجھے تو بڑا مزا آتا ہے جب دا جی ہم سب کو ساتھ لے کر چھوٹی عید، بڑی عید اور محرم الحرام میں یہاں آتے ہیں.
بیا نے جوش سے کہا
داجی، راجہ خرم اور فرخ آگے تھے. بیا آئمہ اور حارپ درمیان میں جبکہ کرن، ثنا، دادی رقیہ اور پھپھو سارہ سب سے آخر میں تھیں. کیونکہ پھپھو سارہ پولیو کی وجہ سے آرام سے چلتی تھیں.
چل بیٹا فرخ اور خرم تم دونوں فالتو گھاس کاٹو اور جگہ صاف کرو حارب تم دیکھو کن قبروں پر مٹی ڈالنے کی ضرورت ہے اور کتبے دھوؤں.
بیا، آئمہ تم اس کے بعد پتیاں ڈالنا اور اگر بتیاں لگانا.
داجی نے ایک سائیڈ پر بیٹھتے ہوئے حکم دینا شروع کیا.
فوج سے ریٹائر ہو گئے مگر آڈر کرنے کی عادت نہیں جاتی…..
بیا نے آئمہ کے کان میں بڑبڑانا شروع کیا.
جبکہ دادی رقیہ، ثنا، کرن اور سارہ دا جی ساتھ بیٹھ کر یٰسین سورت پڑھنے لگیں.
سب اپنے اپنے کاموں میں مست تھے کہ بیا کو شرارت سوجھی.
داجی وہ کونے والی قبر تو بلکل بیٹھ گئی ہے میرے خیال سے صرف اس پر مٹی کی ضرورت ہے.
بیا کے کہتے ہی سب نے ایک نظر قبر اور دوسری داجی پر ڈالی. جو انتہائی دکھ اور غصہ سے بیا کو دیکھ رہے تھے.
ایسے کیوں گھور رہیں ہیں ثنا بیگم کے گھورنے پر بیا نے اونچی آواز سے پوچھا تاکہ سب اس کی بات آسانی سے سن لیں.
داجی سب قبروں کا اتنا خیال کرتے ہیں مگر کبھی بھی نہ اس پر مٹی ڈالتے نہ پھول نہ کوئی اگر بتی جلاتے اور تو اور فاتحہ بھی نہیں پڑھتے.
یہ قبرستان ہمارے خاندان والوں کا ہے مگر لگتا یہ قبر والا ہمارا دشمن تھا پھر یہ یہاں کیا کر رہا ہے اسے گاؤں والے قبرستان میں ہونا چاہیے تھا یہ مسلمان بھی ہے کہ……
بیا….!!!
اس سے پہلے بیا مزید کچھ کہتی بیا کے والد راجہ خرم نے گرجدار آواز سے اسے ٹوکا.
بتائیں ناااااا یہ قبر کس کی ہے آخر آپ لوگ بتاتے کیوں نہیں….؟
بیا نے زچ ہوتے ہوئے پوچھا
بیٹا بڑوں سے بحث نہیں کرتے چپ کر جاؤ. پھپھو سارہ نے آہستگی سے کہا
“میرا ماننا ہے جس معاشرے میں سوال کرنے پر پابندی عائد کر دی جائے۔ وہاں تحقیق کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ معاشرہ لاحاصل چیزوں پر بحث کرتا نظر آئے گا۔”
بیا خیر ہے لگتا اگر بتیوں کی خوشبو تمہارے دماغ میں چلی گئی ہے.اتنا گہرا اور مشکل فلسفہ….
حارب نے ماحول کی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مزاح کا رنگ دیا مگر کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی.
سب کے ہی چہروں پر عجیب سا رنگ چھا گیا تھا.
بیا کا موڈ خراب ہو گیا تو وہ چپ چاب پھپھو سارہ کے پاس بیٹھ گی. تب پھپھو نے سورت پڑھ کر بند کی اور دعا مانگ کر بیا کی طرف دیکھا.
کیا ہو جاتا ہے تمہیں، کیوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنا موڈ خراب کر لیتی ہو.
تم نے اس قبر سے کیا نکالنا ہے کیوں پیچھے پڑی رہتی ہو….؟
چلیں ٹھیک ہے میں کوئی ضد نہیں کرتی مگر پھر آج میں اس قبر پر پھول بھی ڈالوں گی، اگربتیاں بھی لگاؤں گی اور فاتحہ بھی پڑھو گی.
بیا غصہ سے کہتی کھڑی ہونے لگی جب پھپھو سارہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا.
” میں نے تم تینوں کو ایسے پالا ہے جیسے لوگ بلی کے بچے پالتے ہیں.”
لہجہ میں اس قدر پیار اور شفقت تھی کہ نہ چاہتے ہوئے بھی بیا بیٹھ گئی.
اسی لیے تو ہم آپ سے اتنی محبت کرتے ہیں. حارب ہاتھ جھاڑتا پھپھو کے سامنے بیٹھ گیا.
سفید سوٹ کا ستیاناس کر دیا ہے. بیا نے حارب پر نظر مارتے ہوئےکہا
تمہارا ہی مشورہ تھا. حارب نے بیا کے انداز میں جواب دیا.
اس قبرستان میں جتنے بھی لوگ دفن ہیں سب ہمارے اپنے ہیں اور ہمیں ان سے محبت ہے اور بڑوں سے ضد نہیں کرتے وقت آنے پر سب خود بخود پتہ چل جاتا ہے چیزیں اور باتیں وقت پر اچھی لگتیں ہیں جاؤ شاباش اب مل کر سب پھول ڈالو تاکہ پھر ہم گھر چلیں سمجھی……
پھپھو سارہ نے بیا کہ سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نرمی سے سمجھایا. تو وہ حارب ساتھ آٹھ کر چل پڑی جبکہ پھپھو سارہ نے کونے والی قبر کی طرف دیکھ کر سوچا.
“محبت بھی کتنی سیانی ہے. کسی طلاق شدہ بیوہ، کسی معذور، کسی سانولی سے نہیں ہوتی، جب بھی ہوتی ہے، خوبصورت صورت سے ہوتی ہے. امیر سے ہوتی ہے.”
🎀🎀🎀🎀🎀
میں نے سنا ہے کہ تم Marry کے کیس میں خامخواہ مداخلت کر رہے ہو….!
مئیر نے سامنے بیٹھے ولی کو غور سے سر تا پاؤں دیکھتے ہوئے پوچھا
آپ Promod Betra کو جانتے ہیں..؟
ولی نے جواب دینے کی بجائے الٹا سوال کیا اس کا اعتماد مئیر کو حیران کر گیا.
نہیں، میں کسی ایسے نام والے شخص سے واقف نہیں.
میں بھی نہیں جانتا مگر وہ باتیں کمال کرتا ہے اپنی طرف سے ایک رائیٹر ہے وہ کہتا ہے کہ
” جو دیکھا ہے اس پر آدھا یقین کیجیے اور جو سنا اس پر بلکل بھی نہیں”
خوبصورت ہونے کے ساتھ. ساتھ ذہین بھی ہو. مئیر نے مسکراتے ہوئے کافی کا سیپ لیا.
خوبصورت تو بلکل بھی نہیں ہوں ہاں مگر میری اوپر والی منزل خالی نہیں ہے.
کیا چاہتے ہو؟
مئیر نے سیدھے سادھے الفاظ میں ولی کو پیش کش کی.
جہاں تک میری ناقص عقل کا تعلق ہے تو آپ مجھے خریدنا چاہ رہے ہیں….؟
ہاں مگر میری آفر کو میری کمزوری مت سمجھنا میں تمہیں قتل بھی کرا سکتا ہوں.
آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میں جب آپ سے ملنے آرہا تھا تو پہلے بس سٹینڈ گیا میں بائیک پر نہیں آیا ہوں پھر راستہ میں ایک مال پر اس کے بعد روڑ پر پیدل چلتے ہوئے آپ کی کوٹھی پہنچا. یعنی ہزاروں cctv کیمروں نے مجھے یہاں آتے دیکھا.
اب اگر میں اچانک کہیں غائب ہو جاؤ یا میری لاش کہیں سے ملے تو پولیس کو ایک منٹ لگے گا میرا کیس حل کرنے میں…..
میرے وارثوں میں ایک بوڑھا باپ ہے جو اپنی زندگی سے تنگ ہے اور اپنی طرف سے زندگی کے آخری دن گزار رہا ہے اس لیے وہ بلکل بے ضرر ہے.
مگر میری خوش قسمتی کہیے یا آپ کی بدنصیبی میری ایک انگریز ماں بھی ہے.
جو اتنی کمینی اور لالچی عورت ہے کہ وہ میری لاش کو ایسے کیش کرے گی جیسے آپ لوگ غریب عوام کی مجبوریاں کرتے ہیں.
مطلب کے وہ آپ سے اتنے پیسے لے کر بھی منہ بند نہیں کرے گی بلکہ مسلسل بلیک میل کرتی رہے گی. بہت ماہر ہے اس کھیل کی پرانی کھلاڑی ہے.
اور آخر میں آپ کے لیے مشورہ وہ بھی بلکل مفت الیکشن سے پہلے ایسا سوچنا بھی مت……
مجھے تم سے مل کر بہت خوشی ہوئی. پہلی بار مئیر کی آنکھوں میں ولی کے لیے ایک خاص چمک ابھری.
مگر مجھے بلکل بھی نہیں ہوئی. میں کوئی 18 ،20 سال کی لڑکی نہیں جو ایسی باتوں سے بہل جاؤں آپ مجھے دھمکی دیے بغیر اپنی آفر بتائیں اگر مجھے پسند آ گئ تو ٹھیک ورنہ….
ولی نے صوفے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا.
ورنہ……
مئیر نے قدرے غصہ سے پوچھا
ورنہ Marry کی جائیداد تو ہے ناااااا…… میں کیا میری نسلیں بھی آرام سے کسی گوری کی گود میں لیٹ کر کھا سکتیں ہیں.
مئیر جتنا ولی کو ہلکا لے رہا تھا اتنا ہی اب الجھن کا شکار ہو گیا تھا.
ٹھیک ہے میرے بندے کچھ دن تک تمہیں اطلاع کر دیں گے. ویسے کام کیا کرتے ہو اگر چاہو تو میں تمہیں نوکری دے سکتا ہوں….؟
ولی جانے کے لیے مڑا ہی تھا کہ مئیر کی بات پر مڑا.
” میں ایک وقت میں ایک ہی کام کرتا ہوں. ہزاروں کاموں میں ایک فیصد کامیابی کا امکان ہوتا ہے جبکہ ایک کام میں سو فیصد کامیابی کا امکان ہوتا ہے.”
ولی کہہ کر رکا نہیں بلیک پینٹ شرٹ اور کیمل کلر کی جیکٹ پہنے بظاہر یہ معمولی سا لڑکا مئیر کو اندر تک ہلا گیا.
🎀🎀🎀🎀🎀
