Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

حارب تم شہر کب تک جا رہے ہو….؟
بیا نے حارب کی کتابیں الٹ پلٹ کرتے ہوئے پوچھا
تمہیں اس سے مطلب…..؟ جاؤ اپنا کام کرو میرا سر نہ کھاؤ.
مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمہارا سر کھانے کا _ میں تو بس یہ بتانے آئی تھی کہ میں کسی عام سے مکان میں نہیں رہوں گی. کیا کہا تم نے زرا دوبارہ کہنا مجھے صحیح سے سمجھ نہیں آیا……..؟ ہائے تم سی ایس ایس کیسے کرو گے جب تمہیں اتنی سیدھی سی بات بھی سمجھ نہیں آئی. سیدھی بات وہ بھی تمہارے منہ سے بیا پلیززز مذاق مت کرو. اچھا چلو پھر تم خود ہی پریشان ہو گئے کیونکہ میں تمہیں آرام سے پڑھنے نہیں دوں گی. یہ سہی ہے “مان نہ مان میں تیرا مہمان”. مہمان نہیں بیگم مسٹر حارب اپنا محاورہ درست کریں.
بیا پلیززز تنگ مت کرو مجھے ابھی اپنی پیکنگ بھی کرنی ہے پھر کسی وقت کے لیے اپنی” بکواس” ادھار رکھ لو حارب نے منت کی. اگر تم مجھے اپنے ساتھ نہیں لے کر جاؤ گے تو پھر میں تمہارے ساتھ بھاگ جاؤں گی بیا نے کتاب پر ہاتھ رکھتے ہوئے اک ادا سے کہا
پاگل ہو گئی ہو کیا جو منہ میں آ رہا ہے بکے جا رہی ہو. ظاہری سی بات ہے جب تم میری بات نہیں مانو گے تو میں نے غصے میں کچھ نہ کچھ بکواس تو کرنی ہے نااااا…………. اچھا بکواس کرو اور بالکل آرام سے کرو اور تب تک کرتی رہو جب تک تم تھک نہیں جاتی میں اپنے سارے کام چھوڑ دیتا ہوں تاکہ تمہاری تسلی ہو جائے حارب نے کپڑے بیگ میں رکھنا چھوڑ دیے اور سینے پہ ہاتھ باندھ کے سیدھا کھڑا ہو گیا.
پتہ مجھے تمہاری یہ ادا بہت پسند ہے کہ تم میرے سے خود ہی ہار مان جاتے ہو اور مجھے بلا مقابلہ جتا دیتے ہو یہ اچھے خاوند کی پکی والی نشانی ہے خیر اب مطلب کی بات کرتے ہیں. ارے تم کھڑے کیوں ہو بیٹھ جاؤ نا آرام سے بات کرتے ہیں ۔ مجھے کوئی جلدی نہیں ہے میں نے کونسا کہیں جانا ہے. بیا نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے حارب کو بھی بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا جس پر وہ احسان مندانہ نظروں اور چہرے پر خفگی لیے بیڈ پر بیٹھ گیا. اب اس طرح تو مت دیکھو پتہ ہے جب تم ناراض ہو جاتے ہو تو میرا دل ڈوبنے لگتا ہے بیانے اپنی ہنسی روکتے ہوئے کہا جس پر وہ مسکرا دیا ۔
میں چاہتی ہوں کہ تم شہر اکیلے مت جاؤ بلکہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے کر جاؤ. یقین مانو اس میں تمہاری ہی بہتری ہے میرا تو کوئی فائدہ نہیں ہے. شہر کے حالات اچھے نہیں ہیں وہاں پر کوئی نہ کوئی تو ایسا ہونا چاہئے نا جو تمہارا خیال رکھے اور میں یہ کام انتہائی ایمانداری سے سر انجام دینے کو تیار ہوں یعنی میں تمہارا پورا خیال رکھوں گی اور تم پوری توجہ کے ساتھ پڑھنا اور پیپر دینا پھر تم یقیناً پاس ہو جاؤ گے.
جی جی پھر تو میں بالکل “پاس” ہو جاؤں گا. حارب نے طنزیہ لہجے میں بیا کو جواب دیا.
ہر وقت “سڑے” نہ رہا کرو سڑ سڑ کر مر جاؤ گے کبھی تو میری طرح میٹھی میٹھی باتیں کر لیا کرو.
اچھا بس اب میں اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی ہم دوبارہ اپنی بات کی طرف آتے ہیں بیا نے بڑے سنجیدہ لہجے میں حارب کی طرف دیکھ کر کہا جیسے وہ کسی سنجیدہ موضوع پر بات کرنا چاہ رہی ہو. جی جی میں بالکل خاموشی سے آپ کی بات سن رہا ہوں آپ نے محسوس تو کیا ہوگا حارب نے دانت پیستے ہوئے آہستہ آواز میں بیا کو جواب دیا مگر چہرے سے بیزاریت ظاہر تھی.
اب تم نے بات کرنی ہے چاچو اور چچی جان سے اور اگر تم بات نہیں کرو گے تو پھر میں بات کروں گی اور تمہیں پتہ ہے نااااا جب میں بات کرتی ہوں تو پھر بات کا “بتنگڑ” بن جاتا ہے میری بات کو سب اتنا “سیریس” نہیں لیتے مگر تمہارے بارے میں سب کی یہ رائے ہے کہ تم ایک سنجیدہ انسان ہو جبکہ حقیقت میں ایسا بالکل بھی نہیں ہے تم ایک سنجیدہ نہیں بلکہ تم ایک “بور انسان” بلکہ انتہائی بور بلکہ انتہائی عجیب انسان ہو اتنے بڑے ہو گئے ہو اور بغیر شادی کے پھر رہے ہو شرم تو تمہیں نہیں آتی ہی نہیں ہے. بیانے حارب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
شرم اور مجھے بیا بی بی اس “لفظ” کا لڑکوں کی نسبت لڑکیوں سے زیادہ گہرا تعلق ہے. حارب نے بیا کی طرف دیکھ کر قدرے اونچی آواز میں کہا ہوگا بیا نے کندھے اچکائے.
دیکھ میرا ابھی “شادی” کا کوئی ارادہ نہیں ہے میں پہلے کچھ بننا چاہتا ہوں اس کے بعد شادی کروں گا.
تمہیں شادی نہیں کرنی مگر مجھے تو کرنی ہے ناااااا پتہ حارب مجھے بچپن ہی سے دلہن بننے کا بہت شوق ہے. بیا نے خوش سے کہا ویسے تمہاری بات بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے تم ایسا کرو کہ پہلے “ابو” بن جاؤ اور بعد میں “سی ایس ایس” کر لینا. کچھ بننے چاہتے ہو تو “ابو” بہترین آپشن ہے. لوگ پہلے “سی ایس ایس” کرتے ہیں اور بعد میں “ابو” بنتے ہیں مگر تم پہلے ابو بن کر سب کو حیران کر دو. ویسے بھی میرے خیال سے یہ دونوں باتیں ایک ہی ہیں. “پہلے اور بعد” کا تھوڑا چکر ہے باقی سب same ہی ہے تم کیا کہتے ہو اس بارے میں……؟ ؟؟
تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا تم نے ہر صورت اپنی مرضی کرنی ہے جو بات ایک دفعہ تمہارے دماغ میں سما جاتی ہے تم جب تک کر نہیں لیتیں تب تم تمہیں چین نصیب نہیں ہوتا اور جب تک تمہیں خود چین نہیں ملتا تم کسی دوسرے کو بھی چین سے رہنے نہیں دیتی حارب نے بیا کی باتیں سننے کے بعد افسوس سے سر ہلایا. اب اور کیا تعریف کروں تمہاری…….. ُ”ہمارا تو رتبہ ہی الگ ہے “جناب” ہم تعریف کے نہیں مثال کے قابل ہیں”. تو پھر پکا تم مجھے ساتھ لے کر جا رہے ہو
بیا نے کرسی سے اٹھتے ہوئے تصدیق چاہی.
جی جی بلکل _ کیونکہ میرے پاس اب مزید وقت نہیں ہے حارب نے زبردستی مسکراتے ہوئے دوبارہ بیگ میں کپڑے ڈالنا شروع کیے.
🎀🎀🎀🎀
ولی نے جیسے ہی گھر میں قدم رکھا اُس کی نظر سیدھی ابراہیم کے کمرے کے دروازے پر پڑی خود بخود دو موتی آنکھوں سے ٹوٹ کے گرے باپ کی وفات کے بعد آج وہ پہلی بار گھر واپس آیا تھا. پاپا مجھے آپ سے کبھی بھی شدید محبت نہیں رہی مگر یہ سچ ہے کہ جب آپ کی یاد آتی ہے تو میری آنکھیں گیلی ہو جاتیں ہیں. میں آج بھی آپ کو اس گھر میں “مِس” کر رہا ہوں. میں جب بھی کچھ دن بعد گھر آتا تھا تو آپ کو اپنے لئے بہت بے قرار پاتا تھا اب کسی آنکھ کو میرا انتظار نہیں
ولی نے سوچتے ہوئے قدم اپنے کمرے کی طرف بڑھائے اس سے پہلے کہ وہ اپنا بیگ اپنے کمرے میں رکھتا اُسے ڈیانا نے پکارا.
کہاں تھے اتنے دنوں سے
جب دل کرتا ہے گھر آ جاتے ہو تمہارے باپ کے علاوہ بھی اس گھر میں کوئی اور رہتا ہے ماں ہوں میں تمہاری مگر تم نے کبھی مانا نہیں ڈیانا کی باتوں پر ولی نے مڑ کے دیکھا اور طنزاً مسکرایا ۔ ماں اس لفظ کا مطلب آتا ہے آپ کو نہیں آپ کو اس لفظ کا مطلب نہیں آتا ارے میری ماں سے زیادہ اچھی تو “جانوروں” کی ماں ہوتی ہے کبھی” بلی” کو دیکھا ہے اپنی بچوں کی کیسے حفاظت کرتی ہیں انھیں دشمنوں سے بچانے کے لیے منہ میں لیے پھرتی ہے میری ماں سے زیادہ اچھی تو “پرندوں” کی ماں ہوتی ہے کبھی “چڑیا” کو دیکھا ہے اپنے بچوں کو گھونسلے میں کیسے سنبھالتی ہیں میں تو جانوروں اور پرندوں سے بھی زیادہ بلکہ بےحد بدقسمت ہوں انسانوں کی تو بات ہی الگ ہے.
اب آپ خود “بوڑھی” ہو رہیں ہیں تو آپ کو” اولاد” یاد آ رہی ہے آپ کو ماں کا مطلب بھی سمجھ آنا شروع ہو گیا ہے اس وقت آپ کہاں تھی جب میں آپ کی محبت کے لیے ترستا تھا آپ کی “گود” تلاش کرتا تھا اور آپ لوگوں کے “بستر” گرم کر رہیں ہوتیں تھیں رہنے دیں، انسان اپنا بویا ہوا ہی کاٹتا ہے مجھ سے کسی اچھے کی امید مت رکھنا کیونکہ میں اچھا بالکل بھی نہیں ہوں اس لیے کہ آپ نے مجھے اچھا رہنے ہی نہیں دیا. ولی کہتا ہوں اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگا پھر کسی خیال کے تحت پلٹا اچھا اب میں سمجھا آپ کو اپنی “پاکٹ منی” چاہیے ہوگی تبھی میری یاد ستا رہی ہے ورنہ میری شکل تو آپ دیکھنے کی روا دار نہیں ولی نے جیب میں ہاتھ ڈال کر چند ڈالر نکالے اور ڈیانا کے پاؤں میں پھینک دیے _
جب کہ ڈیانا اپنے پاؤں میں پڑے ڈالرز کو دیکھتی ہوئی غمزدہ ہوگی اور یہ زندگی میں پہلی بار اس کے ساتھ ہوا تھا.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے