No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
(یہ قسط پیاری ریڈر کوکب زاہد کے نام جنھوں نے آج کی قسط کا کور فوٹو بنا کر دیا ہے.)
حارب تم کیا کر رہے ہو؟
بیا نے حارب کے کمرے میں جھانکتے ہوئے پوچھا.
تم سے پناہ مانگ رہا تھا کیونکہ میں جب بھی پڑھنے لگتا ہوں تمہیں کوئی نہ کوئی کام یاد آ جاتا ہے.
حارب نے کتاب بند کرتے ہوئے بیزاری سے جواب دیا.
بیا نے حارب کے قریب آتے ہوئے پوچھا
وہ میں نے تم سے ایک ضروری بات کرنی تھی. کیا میں اندر آ جاؤں… ؟
محترمہ یہ سوال کمرے کے باہر کھڑے ہو کر پوچھتے ہیں اندر آ کر نہیں.
حارب کے جواب پر بیا کو غصہ تو بہت آیا مگر اپنے مطلب کے لیے اس نے اگنور کرنے کا فیصلہ کیا.
خیریت آج آپ کی زبان جو عموماً “بےقابو” رہتی ہے “قابو” میں ہے.
دیکھو حارب اب تم بڑے ہو گئے ہو اس لیے تمہیں چاہیے کہ تم اب اپنے “چھوٹوں” سے لڑنا جھگڑنا چھوڑ دو. برا لگتا ہے ہمارے نبی نے چھوٹوں پر شفقت کا کہا ہے.
بیا نے دوستانہ انداز میں بات کا آغاز کیا جس پر حارب نے آنکھ کے آبرو اچکا کر لفظ” چھوٹوں” کو دہرایا.
یہ “چھوٹوں” سے تمہاری مراد میرے خیال سے صرف تمہاری اپنی ذات ہے کیونکہ میرے سے چھوٹے اس گھر میں صرف دو افراد ہیں ایک “آپ جناب” اور دوسری “آئمہ” .
آئمہ سے تو آج تک میری کسی بات پر کبھی کوئی بحث تک نہیں ہوئی تو لڑائی کیسی…؟
ہاں البتہ آپ کی تو بات ہی الگ ہے آپ کوئی موقع….
اس سے پہلے حارب کچھ کہتا بیا نے اس کی بات کاٹ دی.
دیکھو حارب تم بڑے ہو اور بڑوں کا کام چھوٹوں کی” غلطیوں” کو نظرانداز کرنا ہوتا ہے.
بیا آج سورج کہاں سے نکلا ہے…..؟
وہیں سے جہاں سے روز نکلتا ہے.
اچھا پھر کہیں کوئی سیلاب وغیرہ کی خبر…. ؟
نہیں میں نے تو ایسا کچھ نہیں سنا.
کیا ہمارے گاؤں میں تیل کے ذخائر نکل آئے ہیں….؟
نہیں تو…..
مقصود نمبر دار دودھ سفید چٹا ہو گیا ہے…؟
حارب نے اپنی ہنسی دباتے ہوئے آہستہ آواز میں پوچھا
بلکل بھی نہیں وہ تو کالا ہونے کے ساتھ ساتھ اب “چمک” بھی دے رہا ہے.
تمہیں بخار، نزلہ، زکام یا کسی بھی قسم کی کوئی طبیعت ناسازی وغیرہ
حارب نے جانچتی نظروں سے بیا کا جائزہ لیا.
نہیں میں تو بلکل ٹھیک ٹھاک ہوں. اب کی بار بیا کا موڈ خراب ہونے لگا تھا.
جاؤ پھر جا کر سو جاؤ کیونکہ تمہاری نیند پوری نہیں ہوئی ہے تم بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو.
چھوٹوں، غلطیاں….
ان الفاظ کا تمہارے منہ سے نکلنا “ناممکنات” میں سے ہے تم تو بڑی سے بڑی غلطی کو کبھی غلطی نہیں مانتی تو یوں اچانک…..
مجھے یقین ہے بلکہ کامل یقین ہے کہ آج دنیا کہ کسی حصے میں ضرور کوئی انہونی ہوئی ہے.
حارب تم اب بدتمیزی پر اتر رہے ہو جبکہ میں اس وقت ایک ضروری کام سے تمہارے پاس آئی ہوں.
ایسا نہ ہو کہ گیم الٹ جائے میں تم سے بدتمیزی کروں اور تم ہاتھ جوڑ کر کہو
” چپ رہو خدا کے لیے”
بیا کو اپنے روپ میں لوٹتا دیکھ کر حارب کی مسکراہٹ گہری ہو گئی.
ہاں اب سب نارمل لگ رہا ہے بتاؤ کیا بات کرنی تھی…؟
حارب سیدھے ہو کر بیٹھو یہاں “مجرا” نہیں ہونے لگا اور میری بات غور سے سنو.
حارب جو ابھی ابھی کرسی ساتھ ٹیک لگا کر ریلکس ہوا تھا فوراً سیدھا ہو گیا.
کیا بکواس ہے….؟
شریف گھرانے کی لڑکیاں ایسی باتیں نہیں کرتیں.
مگر شریف گھرانے کے لڑکے ایسی حرکتیں ضرور کرتے ہیں.
بیا کے جواب نے حارب کا موڈ خراب کر دیا.
میں نے پڑھنا ہے اس لیے اپنے آنے کا مقصد بتاؤ…؟
ہاں وہی تو کرنے لگی ہوں مگر تم درمیان میں اپنی ٹانگ اڑا دیتے ہو.
وہ بات کچھ یوں ہے کہ مجھے لڑکیوں کا پڑھنا میرا مطلب ہے زیادہ پڑھنا بلکل پسند نہیں ہے.
تو…..؟
حارب نے پن کو اپنی انگلیوں میں گھماتے ہوئے پوچھا جبکہ وہ تقریباً بات کی تہہ میں پہنچ چکا تھا.
دیکھو پڑھی لکھی لڑکی ہمارے معاشرے کے لیے بہت نقصان دہ ہے. پڑھ لکھ کر لڑکیاں بتمززز ہو جاتیں ہیں.
یہ لبرل لوگوں کی بہت گھناؤنی سازش ہے جو ہمارے معصوم والدین کو سمجھ نہیں آ رہی.
ان کی اپنی گوریاں باہر گھومتی پھرتی ہیں تو یہ چاہتے ہیں کہ ہماری بھولی بھالی لڑکیاں بھی ویسی ہی ہو جائیں.
جبکہ لڑکیاں گھر کے کام کاج کرتیں اچھی لگتی ہیں. اچھے اچھے کپڑے پہنتی، مہندی لگاتیں، سوتی، کھاتی پیتی، شرارتیں کرتیں . ہے ناااااا ، میں ٹھیک کہہ رہی ہوں ناااا….
حارب بیا کی باتوں سے محظوظ ہو رہا تھا مگر لبادہ سنجیدگی کا اوڑھ رکھا تھا.
اچھا پھر…..
پھر یہ میرے پیارے کزن کہ میں نے اپنی FSC کر لی ہے اور اب بابا مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے ہیں.
مگر میں ڈاکٹر بننا نہیں چاہتی وہ کیا ہے ناااااا مجھے “دلہن” بننا بہت پسند ہے ڈاکٹر بننے کی نسبت…
بیا کا آخری جملہ حارب کے ہوش اڑا گیا.
بیا تم کیسی باتیں کر رہی ہو شرم کرو…..!!!
اچھا جب مرد عورت کو پڑھا لکھا کر اس کی کمائی کھاتے ہیں تب انھیں شرم نہیں آتی. اگر میں ڈاکٹر بن گئی تو لوگ ہمارے خاندان کو طعنے دیں گے کہ یہ لوگ لڑکی کی کمائی کھا رہے ہیں جو یقیناً تمہیں برا لگا گا اسی لیے میں ڈاکٹر بننا نہیں چاہتی.گھر والوں کی عزت کی خاطر…..
ویسے بھی ڈاکٹر بننے میں میرا نقصان ہی نقصان ہے جبکہ “دلہن” بننے میں فائدہ ہی فائدہ…..
پوچھو کیسے…. ؟
بیا نے حارب کے سامنے چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا
کیسے…؟
حارب شدید جھٹکوں کی زد میں تھا.
اگر میں ڈاکٹر بنوں تو مجھے بہت پڑھنا پڑے گا راتوں کی نیندیں حرام ہو جائیں گی آنکھوں کے نیچے ہلکے پڑ جائیں گے میں شدید کمزور ہو جاؤں گی پھر ڈاکٹر بن کر دن رات کی ڈیوٹیاں، اففففف…….
بیا نے مظلوم سی شکل بنا کر حارب کی طرف دیکھا.
مجھے پوری ہمدردی ہے تمہارے ساتھ، حارب نے بیا کو تسلی دی.
اس کے برعکس اگر میں “دلہن” بن جاؤں تو اس میں میرا فائدہ ہی فائدہ…
نئے نئے کپڑے، اتنا سارا سامان، فنکشنز، دعوتیں، ہنی مون اور سب سے بڑھ کر ایک کماؤں ہسبنڈ جو میری ساری خواہشات پوری کرے کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں ہوگا میں آزاد ہوں گی.
بیا نے مزے لیتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کر کے کھولیں.
اچھا اب تم مجھ سے کیا چاہتی ہو…؟
حارب نے ہوش کی دنیا میں لوٹتے ہوئے پوچھا
ہائے…….
یہ جو میرے ماں باپ ہیں یعنی آپ کے تایا اور تائی وہ آپ کی بات بہت سنتے ہیں جب وہ آپ سے کہیں کہ میرا داخلہ میڈیکل کالج میں کرانا ہے تو آپ نے بھرپور مخالفت کرنی ہے اور اس بات پر انھیں راضی کرنا ہے کہ لڑکیوں کو زیادہ پڑھانا مناسب نہیں اور میری شادی زیادہ مناسب ہے.
میں آپ کا احسان تاعمر یاد رکھوں گی اور وقت آنے پر چکا بھی دوں گی.منظور…!!
نامنظور…!!
بیا تم ابھی معصوم ہو دنیا سے واقف نہیں اس لیے چپ چاپ والدین کی بات مانو اور ڈاکٹر بنوں. یہی تمہارے لیے بہتر ہے میں تمہارا فضول کام میں ساتھ بلکل نہیں دوں گا. تم نے میرا بہت وقت ضائع کر دیا ہے جاتے وقت دروازہ بند کر دینا.
حارب نے کہتے ہوئے کتاب دوبارہ کھول لی.
تمہیں میری مدد نہ کرنا بہت مہنگا پڑ سکتا ہے سوچ لو…..
بیا نے وارننگ والے انداز میں کہا اور چارپائی سے کھڑی ہو گئی.
جاؤ میرا سر نہ کھاؤں آگے ہی اتنا وقت برباد کر دیا ہے تمہارے پاس بہت فارغ وقت ہے مگر میرے پاس نہیں….
ایک دفعہ پھر سوچ لو میری مدد کرو گے یا نہیں….؟
بیا نے امید بھری نظروں سے حارب کی طرف دیکھا
نہیں نہیں بلکل بھی نہیں …..
اب آپ تشریف لے جائیں اور اپنا سامان پیک کریں کیونکہ میں پہلی فرصت میں آپ کا داخلہ میڈیکل کالج میں کرانے کے ساتھ ساتھ ہوسٹل کا بھی بندوبست کر دوں گا تاکہ مجھے اور گاؤں والوں کو چند سال سکون کے مل سکیں.
حارب بندوبست تو اب میں تمہارا کروں گی وہ ایسا کہ تمہاری سات پشتیں یاد رکھیں گی.
بیا کہتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئ.
🎀🎀🎀🎀
میز پر دو پیک اور ایک کافی کپ موجود تھا لیکن کوئی بھی کچھ بھی پی نہیں رہا تھا بس تینوں ایک دوسرے کو دیکھنے میں گم تھے.
جب خاموشی طویل ہوتی گئی تو بالآخر پیٹر نے اپنا گلا صاف کیا.
اب کچھ بولو بھی مجھے تم دونوں کی خاموشی سے وحشت ہونے لگی ہے.
پیٹر نے کیٹ اور ولی کی طرف باری باری دیکھا.
بولنے کی باری کیٹ کی ہے میں نے جو کچھ بولنا تھا بول دیا.
ولی نے ریلکس ہوتے ہوئے کافی کا کپ اٹھایا.
تمہیں یقین ہے کہ تم نے جو کچھ کہا یا ہے وہ سچ ہے میرا مطلب ہے کہ لارڈ کے بارے میں ایکشن لینا اتنا آسان نہیں جتنا تمہیں لگ رہا ہے.
کیٹ نے کنفیوز ہوتے ہوئے ولی کی طرف دیکھا
اگر اس ثبوت کے بعد بھی تم سمجھتی ہو کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں تو پھر تم یہ نوکری چھوڑ دو کیونکہ تم اس کے لائق نہیں ہو.
ہم ایک دفعہ شروع سے Marry کے کیس کو دہراتے ہیں. تاکہ ہمیں پتہ چل سکے یہ لارڈ کیسے اس کیس میں داخل ہوا…؟ ٹھیک ہے.
پیٹر نے رائے دی.
چلو پہلے تم شروع کرو کہ تمہیں Marry کی لاش کس حالت میں اور کہاں ملی…..؟
ولی نے گیند کیٹ کی کورٹ میں ڈال دی.
شام کا وقت تھا میں حسبِ معمول اپنی ڈیوٹی پر تھی جب مجھے Marry کے ہمسائے نے کال کر کے بتایا.
وہاں میرے پہنچنے سے پہلے ہی Marry کا وکیل ایڈم سمتھ اور کچھ آس پاس کے لوگ موجود تھے.
اُس کی لاش باتھ ٹب میں تھی. رپورٹ کے مطابق پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے موت ہوئی.
میں نے آس پاس کا اچھی طرح جائزہ لیا مگر کچھ خاص نہ ملا.
سب کا یہی کہنا تھا کہ تم آخری انسان تھے جو مرنے سے پہلے اس سے ملے.
کیٹ کی بات مکمل ہوتے ہی ولی نے اپنا رخ پیٹر کی طرف کیا.
کچھ دنوں سے Marry مجھے کافی ڈسٹرب لگ رہی تھی اس کی اپنے وکیل سے کسی بات پر بحث تھی میں نے پوچھی نہیں اور اس نے بتائی نہیں…..
اس کی ڈیتھ سے ایک دن پہلے میں اسی کے گھر اس سے ملا تھا.
وہ کچھ الجھن کا شکار تھی وہ مجھے کچھ بتانا چاہ رہی تھی مگر……
مگر کیا….؟
ولی نے پیٹر کا جملہ مکمل کیا.
اس نے کچھ ایسا کہا تھا اگر مجھے غلطی نہیں لگی کہ
“پیٹر میری جان کو خطرہ ہے وہ لوگ مجھ سے میری جائیداد لینا چاہتے ہیں.”
لیکن جہاں تک میری معلومات تھی Marry کے پاس تو صرف وہی ایک گھر تھا جس میں وہ رہتی تھی. اس لیے میں نے اس کی بات کو مذاق میں اڑا دیا اور کہا کہ کم پیا کرو تم کیا فضول باتیں کر رہی ہو پھر وہ چپ کر گئی.
دوسرے دن شام کو پتہ چلا کہ اس نے خودکشی کی ہے مجھے یقین نہیں آیا…
ہمممم……
تم دونوں کو اصل کہانی پتہ ہی نہیں ہے اور نہ ہی اصل مسئلہ…..
کیٹ تم نے بھی تفتیش ٹھیک نہیں کی مگر حیرت مجھے پیٹر پر ہے جو 6 سال سے اس کے ساتھ تھا اور جہاں تک مجھے معلوم ہے تم دونوں میں کافی گہرے تعلقات بھی تھے.
گہرے تعلقات پر ولی نے زور دیتے ہوئے پیٹر کی طرف دیکھا.
جس پر اس نے ہاں میں سر ہلایا.
اب تم دونوں مجھ سے کہانی سنو…..!!!
🎀🎀🎀🎀
کسی کی زندگی سے خود نکل جانا اور بات ہے.
لیکن اپنی جگہ کو آسانی سے پر ہوتے دیکھنا اور بات ہے.
کسی سے نفرت ہو تو بھی تکلیف ہوتی ہے اور وہ شخص جو اپنی زندگی میں آپ کو Replace کر رہا ہو وہ آپ کی پہلی اور آخری محبت ہو تو پھر صرف تکلیف نہیں ہوتی.
انسان سولی پہ لٹک جاتا ہے، نہ بھول سکتا ہے، نہ نظر انداز کر سکتا ہے.
صبر کر لینا تو ناممکنات میں سے ہوتا ہے.
مجھے آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب تم میری زندگی میں بہار بن کر آئے تھے.
کتنا خوبصورت دن تھا جس دن میرا “نکاح” تمہارے ساتھ ہوا تھا.
مجھ معزور کا ہاتھ تھام کر تم نے سب کو حیران کر دیا تھا.
لکھتے لکھتے سارہ نے رک کر کھڑکی کے شیشے پر برستی بارش کو دیکھا.
ایک ٹھنڈی آہ بھری اور دوبارہ لکھنا شروع کیا.
آج بارش ہوئی میں نے تھاما قلم
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سلگا سلگا سا من
لکھنا چاہا مگر لفظ مانے نہیں
اے میرے ہمنشین سوچ کی سرزمیں
تیری یادوں کی ایسی چلی پھر ہوا
لفظ ملنے لگے ہاتھ ہلنے لگے
یاد میں پھر تیری دل کی سوکھی زمیں
کچھ ایسے تر ہوگئی میں پھسلنے لگی
یاد کر پھر تجھے من مچلنے لگا
دید کو تیری لے آنکھ روتی رہی
دیر تک پھر جانِ جاں
بارش ہوتی رہی بارش ہوتی رہی…
🎀🎀🎀🎀
