Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

اب یہ کیا چکر ہے اور وہ تمہارا کچھ لگتا کدھر ہے….؟
کیٹ نے ایک نظر اُس تیرہ سالہ لڑکی پر ڈالی اور پھر پیٹر سے پوچھا
میرا کچھ لگتا اور آپ کا سب کچھ لگتا(آپ کی نظر میں) فلحال پاکستان گیا ہے اور جاتے جاتے یہ امانت آپ کو سوپنے کا کہا تھا اب آگے “آپ” جانے اور “وہ” میں تو چلا.
پاکستان کیا کرنے گیا ہے…..؟
اپنے والد کی وصیت پر عمل کرنے…..
مطلب…..؟
مطلب وطلب تو پتہ نہیں بس پاکستان گیا ہے جلد واپس آئے گا یہی کہا ہے اس نے…..
پیٹر نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے اور واپسی کے لیے مڑا.
رکو….. مطلب میں اس کو تب تک اپنے ساتھ رکھوں گی مگر کیوں…؟
میں نے ٹھیکہ نہیں لیا ہوا اس کے ہر “الٹے” کام کو “سیدھا” کرنے کا……
کیٹ نے ایک ہاتھ اپنی کمر اور دوسرا دروازہ پر رکھتے ہوئے پیٹر کی طرف دیکھا.
مت رکھو میں واپس لے جاتا ہوں پھر جو بھی ہو گا تم دونوں کے درمیان ، اُس کی ذمہ دار تم ہو گی. یہ جو تم میرے ساتھ اتنی زبان چلا رہی ہو اُس کے سامنے بھی چلایا کرو نااااا….
پیٹر کہہ کر اس لڑکی کی طرف پلٹا.
کیا مصیبت ہے…..؟
خود تو سیدھے منہ بات نہیں کرتا اور کام ایسے کہتا ہے جیسے میں اس کی “میڈ” ہوں.
چلو لڑکی اندر آ جاؤ، جیسے ہی پھولوں والی لڑکی نے اندر قدم رکھا کیٹ نے اپنی پوری طاقت سے دروازہ بند کیا جو اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ اس لڑکی کو پاس رکھنا نہیں چاہتی.
پیٹر نے مسکراتے ہوئے اپنی جیکٹ میں ہاتھ ڈالے اور گنگناتا ہوا چل پڑا.
اندر آ کر کیٹ نے سر سے پاؤں تک لڑکی کا جائزہ لیا اس میں تو شک نہیں کہ لڑکی خوبصورت ہے مگر اتنی کم عمر لڑکی کا ولی سے کیا تعلق ہو سکتا ہے کیٹ کو الجھن ہوئی.
سنو یہاں بیٹھ جاؤ اور مجھے بتاؤ کہ تم ولی کو کیسے جانتی ہو میرا مطلب ہے کہ تم اسے کہاں ملی…. ؟
کون ولی…. ؟
لڑکی نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے حیرت سے کیٹ کی طرف دیکھا.
کیا مطلب کون ولی….؟
کیٹ کو غصہ آیا.
میں کسی ولی کو نہیں جانتی مجھے تو یہ بندہ یہاں چھوڑ گیا ہے پتہ نہیں کیوں حالانکہ میں اپنے گھر جانا چاہتی تھی.
لڑکی کی باتیں کیٹ کا سر گھما رہی تھیں. کیا چیز ہو تم “ولی….”
اچھا ٹھیک ہے تم یہاں بیٹھو میں تمہارے کھانے کے لیے کچھ لاتی ہوں.
کیٹ بیزاری سے کہتی ہوئی کچن کی طرف بڑھ گئی جبکہ لڑکی اس کے فلیٹ کا جائزہ لینے لگی.
آپ اکیلی ہی ہوتی ہیں….؟
کیٹ سینڈوچ بنانے میں بزی تھی جب اپنے پیچھے سے اس کی آواز سنی.
پہلے تم مجھے اپنا نام بتاؤ تاکہ بات کرنے میں آسانی ہو.
کیٹ نے مڑ کر اس لڑکی کی طرف دیکھا جو اب پہلے کی نسبت زیادہ پر اعتماد دکھائی دے رہی تھی.
میرا نام ” جینیفر” ہے ویسے مجھے پیار سے سب جے بولتے ہیں.آپ بھی بول سکتی ہیں.
ہاں تو مس جے میں ایک پولیس انسپکٹر ہوں اور یہاں اکیلی رہتی ہوں کیونکہ میرے والدین میں ڈیوئس ہو گئی تھی جب میں تمہاری طرح بارہ تیرہ سال کی تھی
اب تمہاری باری ہے اپنا تعارف کروانے کی.
کیٹ نے کافی بنانے کے لیے الیکٹرک کیٹل میں پانی ڈالا
میری ایک والدہ ہیں اور ایک والد بھی ہیں……
جے نے کچھ سوچتے ہوئے تعارف کروانا شروع کیا.
ظاہری سی بات ہے تم خودبخود تو وجود میں آئی نہیں ہو گی اس کے علاوہ کچھ بتاؤ…؟
کیٹ نے ناپسندیدگی سے جینیفر کی طرف دیکھا
ماں بیمار رہتی ہے اور باپ نشے میں گم…..
دونوں کو پیسے کی ضرورت ہے ماں کو دوا کے لیے اور باپ کو نشے…..
اس لیے میں پھول بیچتی ہوں اور بس….
ہممممم…..
کیٹ نے ٹرے میں سینڈوچ اور کافی رکھ کر جینیفر کی طرف بڑھائی جسے اس نے فوراً تھام لیا اور لاؤنچ میں موجود صوفے کی طرف چل پڑی.
یہ چوٹیں تمہیں کیسے لگیں…؟
کیٹ نے اسے انہماک سے سینڈوچ کھاتے دیکھ کر پوچھا
میں کنواں میں گر گئی تھی اور باہر آتے ہوئے کچھ خراشیں آ گئیں.
جے نے اپنی بازوؤں پر نظر مارتے ہوئے کافی کا سپ لیا.
ہممممم…..
مگر میں تمہارے چہرے کے نشانات کے بارے میں پوچھ رہی ہوں.
کیٹ نے جے کے چہرے پر پڑے نیل کے نشانوں کی طرف اشارہ کیا.
بتایا تو ہے کنواں میں گر گئی تھی تو گرنے کی وجہ سے چوٹ لگ گئی ہو گی.
کیٹ مطمئن تو نہیں ہوئی تھی مگر کچھ سوچ کر چپ کر گئی.
🎀🎀🎀🎀
کون ہو تم…… ؟
داجی نے ستائیس اٹھائیس سال کے اُس نیلی آنکھوں اور بھورے بالوں والے انگریز لڑکے کی طرف دیکھ کر پوچھا جو کہیں سے بھی ابراھیم کا بیٹا نہیں لگ رہا تھا.
اگر یہی سوال میں آپ سے کروں تو….؟
ولی نے پُر اعتماد لہجہ میں سر سے پاؤں تک داجی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا
میں راجہ فضل دین ہوں مجھے سارا گاؤں جانتا ہے اور یہ جگہ میرے بھائی اسماعیل کی ہے.
اچھا تو اطلاعاً عرض ہے کہ میں اُس اسماعیل کا پوتا ہوں.
کیا ثبوت ہے تمہارے پاس…..؟
دا جی کو وہ کہیں سے بھی ابراھیم کا بیٹا نہیں لگ رہا تھا.
سب سے بڑا ثبوت میرے پاس اس پراپرٹی کے کاغذات ہیں، میرا آئی ڈی کارڈ جس پر ولدیت کے خانے میں ابراھیم صاحب موجود ہیں.
اور اگر اتنے سے آپ کی تسلی نہیں ہو رہی تو یہ لفافہ انھوں نے آپ کے لیے دیا ہے.
ولی نے جیکٹ کی جیب سے ایک خاکی لفافہ نکال کر دا جی کی طرف بڑھایا اِس سے پہلے کے خرم یا فرخ میں سے کوئی وہ لفافہ پکڑتا ولی نے ہاتھ پیچھے کر لیا.
پہلے آپ بھی مجھے ثبوت دیں کہ آپ واقعی ہی میرے باپ کے چچا ہیں؟
ولی کی حرکت پر راجہ فرخ اور خرم نے غصے سے اُس کی طرف دیکھا جبکہ داجی نارمل تھے.
تم اس گاؤں میں کسی سے بھی پوچھ لو وہ تمہیں میرے اور تمہارے باپ کے بارے میں وہی بتائیں گے جو میں کہہ رہا ہوں. داجی نے نہایت بردباری کا مظاہرہ کیا.
مگر مجھے سارہ بی بی سے ملنا ہے اور انھی کی زبان سے سننا ہے کیونکہ میرے باپ نے مجھے صرف اُن کے بارے میں بتایا ہے.
ولی نے مسکراتے ہوئے داجی اور پاس کھڑے اپنے چچاؤں کو دیکھا
سارہ کے نام پر جہاں داجی کے رنگ اُڑے وہیں تسلی ہوئی کہ یہ لڑکا اُن کا پوتا ہی ہے.
بیٹا اگر آپ نے اُن سے ملنا ہے تو پھر آپ کو ہمارے گھر جانا ہو گا.
اب کی بار دا جی کے لہجہ میں شفقت نمایاں تھی( یہ لوگ کتنے منافق ہیں) ولی نے دل میں سوچتے ہوئے سر ہلایا.
یہ دونوں میرے بیٹے خرم اور فرخ ہیں داجی نے باری باری ولی سے اپنے بیٹوں کا تعارف کروایا.
ابراھیم کیسا ہے وہ کیوں نہیں آیا…..؟
فرخ اور خرم نے باری باری گرمجوشی سے ولی کو گلے لگایا اور پوچھا
آئے ہیں میں اُنھیں ہی لے کر آیا ہوں اگر آپ لوگ چاہیں تو پہلے اُن سے مل سکتے ہیں….؟
ولی نے تاثرات سے عاری لہجے میں پوچھا
ہاں کیوں نہیں میں تو پہلے اُسی سے ملنا پسند کروں گا.
خرم جو ابراھیم کے بہت پکے دوست تھے جوش سے بولے.
چلیں پھر پہلے اُن سے ہی مل لیتے ہیں اُمید ہے آپ کو اتنے عرصے بعد اُن سے مل کر خوشی ہوگی.
ولی نے پُراسرار مسکراہٹ چہرے پر سجائے سب کو چلنے کا اشارہ کیا.
🎀🎀🎀🎀
کہاں گئی وہ لڑکی….؟
زمین نگل گئی یا آسمان…. ؟
سارے بےوقوف مجھے ہی ملے ہیں.
لارڈ جینیفر کے گم ہونے سے شدید پریشان تھا.
عزت مآب ہم نے اسے رات کنواں میں کھانا دیا تھا مگر صبح وہ وہاں نہیں تھی.
ہاتھ باندھے گارڈ کے انچارچ نے عرض کی.
وہ لڑکی تو کیا اگر کوئی مرد بھی ہوتا تو دہشت سے ہی مر جاتا جیسا کہ ہوتا آیا ہے.
پھر اُس میں اتنی طاقت کیسے آگئی کہ وہ باہر نکل گئی وہ بھی اس انداز میں کے کسی کو نظر ہی نہیں آئی.
عزت مآب ہم تو خود بہت پریشان ہیں سمجھ نہیں آ رہی کنواں کی دیواریں بھی ایسی نہیں ہیں کہ کوئی اس میں سے باہر نکل سکے اوپر سے وہ مردہ وجود……..
خوف کے مارے ہی لوگ مر جاتے تھے یہ پہلی بار ہوا ہے.
پتہ کرو یہ یقیناً اندر کا ہی کوئی بندہ ہے باہر سے کوئی بھی آ کر محل میں کاروائی نہیں کر سکتا.
سوچنے والی بات ہے لڑکی صرف کنواں سے باہر نہیں نکلی بلکل محل سے ہی باہر نکل گئی……
لارڈ نے سگار کا کش لیتے ہوئے اپنے سامنے موجود گارڈز کی لائن کو دیکھا.
مجھے بارہ گھنٹے کے اندر اندر رپورٹ چاہیے سمجھے آپ لوگ…..
جی عزت مآب !!!
سب گارڈز اپنے انچارج کے اشارے سے سر کو خم دیتے لارڈ کے سامنے سے جانے لگے.
تبھی کچھ سوچ کر لارڈ نے اپنے ایک ملازم کو ڈینیل کو بلانے کا حکم دیا.
🎀🎀🎀🎀
اس وقت قبرستان میں ہُو کا عالم تھا نہ کوئی چرند نہ ہی پرند…..
بس چار لوگ کھڑے ابراھیم کی قبر کو دیکھ رہے تھے جس پر اب باقاعدہ کتبہ لگا ہوا تھا گیلی مٹی قبر کی تازگی کا منہ بولتا ثبوت تھی.
آپ لوگوں کے گھورنے سے وہ باہر نہیں آئیں گے اس لیے میری مانے تو فاتحہ پڑھ کر نکلنے کی کریں.
وہ کیا ہے ناااا گرمی بہت ہے اور مجھے زیادہ گرم موسم پسند نہیں. مجھ سے گرمی برداشت نہیں ہوتی…
باقی کے جزباتی سین آپ کسی دن اکیلے میں آ کر پورے کر لیجیے گا. بہت معزرت مگر مجھے دیر ہو رہی ہے.
ولی نے تینوں کے تاثرات دیکھے بغیر اپنی گھڑی پر ٹائم دیکھا.
جبکہ وہ تینوں ولی کی گفتگو پر حیران تھے.
تم واقعی ہی ابراھیم کی سگی اولاد ہو….؟
داجی سے رہا نہ گیا تو انھوں نے ولی سے پوچھا
جی وہ تو یہی کہتے تھے مگر مجھے خود بھی شک ہے….
ولی نے داجی کی ہاں میں ہاں ملائی اس کے جواب پر خرم نے فرخ کو بے یقینی سے اسے دیکھا.
ایسے مت دیکھیں جو میں نے آج تک محسوس کیا ہے وہ بتا رہا ہوں.
“ولی تم انتہائی ڈھیٹ انسان ہو.” اچانک کیٹ کے الفاظ ولی کے ڈہن میں گونجے اور وہ مسکرانے لگا.
🎀🎀🎀🎀
پتہ نہیں یہ لوگ کب واپس آئیں گے اللہ جانے کون منحوس ہے، کہاں سے آیا ہے….؟
مجھے تو کوئی فراڈ لگ رہا ہے. اگر ابراھیم کا بیٹا ہوتا تو سیدھا گھر آتا ہمارے پاس، یوں گاؤں میں تماشا نہ کرتا ویسے بھی وہ اکیلا کیوں آیا ابراھیم ساتھ کیوں نہیں آیا بلکل فراڈ ہے فراڈ…..
دادی رقیہ مسلسل تخت پوش پر بیٹھی تسبیح گھما رہیں تھیں.
دادی آپ تسبیح کم اور فلحال “کوس” زیادہ رہیں ہیں میری مانے تو تسبیح رکھ دیں.
پہلے ہم سب مل کر کھلے دل سے اسے “کوس” لیتے ہیں. کیا خیال ہے آئیڈیا بہترین ہے ناااااا….؟
اپنی بات کے آخر میں بیا نے داد طلب نظروں سے آس پاس بیٹھے حارب، آئمہ اور سارہ پھپھو کی طرف دیکھا.
میں نے کہا بھی تھا مجھے ساتھ لے جائیں مگر وہ مانے نہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں تھوڑی سی جاسوسی کر کے آؤں….؟
حارب نے اجازت طلب نظروں سے دادی کی طرف دیکھا.
تم تھوڑی سی نہیں بلکل پوری جاسوسی کرنے جاؤ میں تمہیں اجازت دیتی ہوں. تمہیں اب صرف میری اجازت کی ضرورت ہے کسی اور کی نہیں…..
بیا…..!!!
کرن بیگم نے بیا کو گھورا جبکہ سارہ پھپھو ہلکا سا مسکرائیں.
آپ اس کی بےعزتی کرنے کی بجائے ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتیں ہیں. حارب بگڑا اتنی دیر میں دروازے پر دستک ہوئی.
چل میرا بیٹا جلدی سے دروازہ کھول لگتا ہے وہ لوگ آگئے.
دادی رقیہ نے بےتاب ہوتے ہوئے حارب سے کہا
آئمہ، بیا، پھپھو سارہ ، کرن ، ثنا اور دادی رقیہ نے بڑی حیرت سے اندر آنے والے کو دیکھا
آئمہ کہیں انگریزوں نے ہمارے گاؤں پر قبضہ تو نہیں کر لیا….
مگر نہیں مجھے لگتا ہے ہم 1857 کے دور میں چلے گئے ہیں یہ تو بلکل “کاؤ بوائے” ٹائپ کا انگریز ہے. مجھے ایسے انگریز قریب سے دیکھنے کا بہت شوق تھا.
کیا یہ اصلی ہے میں اسے ہاتھ لگا کر دیکھ لوں….؟
بیا نے ولی پر تبصرہ کیا جبکہ آئمہ سمیت سب چپ چاپ اسے اور وہ صحن کے بیچوں بیچ کھڑا اُن سے بھی زیادہ حیرت ذدہ انھیں دیکھ رہا تھا.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے.