No Download Link
Rate this Novel
Episode 39
میرون لہنگے پر گولڈن کام، سونے کی ہیوی جیولری اور میک اپ کے تڑکے نے بیا کے حسن کو چار چاند لگا دیے تھے. ابھی ابھی اسے اسٹیج پر لاکر کرن بیگم اور آئمہ نے بیٹھایا تھا.
اب خدا کے لیے خاموش بیٹھنا پارلر کی طرح “تماشا” مت لگانا سمجھی……. کرن بیگم نے بظاہر اس کا دوپٹہ سیٹ کرتے ہوئے سمجھایا.
جی بہتر……… اور تم کہاں چلی ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو خبردار جو مجھے اکیلے چھوڑ کر گئی میں بور ہو جاؤ گی…… بیا نے آئمہ کو جو لیمن گرین کامدار فراک اور پجامے میں بہت پیاری لگ رہی تھی روکا.
صبح سے کچھ نہیں کھایا میں زرا کچھ کھا پی لوں. دوسرا ہال میں دیکھوں کہ عورتیں کیا باتیں کر رہیں ہیں پھر تمہیں رپورٹ بھی تو کرنی ہے. آئمہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا.
آئمہ میری آنکھیں یا تو خراب ہو رہیں ہیں یا پھر پارلر والی نے تیرا میک اپ زبردست کیا ہے. وہ “لنڈے کا انگریز” تو گیا کام سے…… بیا نے انگوٹھے کے اشارے سے آئمہ کو سراہا
بیا ایسی حرکتیں دلہن بن کر نہیں کرتے. گاؤں والے باتیں کریں گئے اور تعریف کرنے کا شکریہ
مجھے پتہ ہے اب تو گئی تو جلدی واپس نہیں آئے گی ایسا کر حارب کو بھی ادھر میرے پاس ہی بھیج دے تاکہ میرا دل لگا رہے اگر میں چپ رہی تو میرا سر دکھنے لگے گا پلیززززززز
اچھا اچھا صبر کر میں ماما سے کہتی ہوں کہ حارب کو بھی تمہارے ساتھ اسٹیج پر بیٹھا دیں. آئمہ تسلی دیتی ہوئی نیچے اتر گئی.
🎀🎀🎀🎀
تم نے مجھے یہاں کیوں بلوایا ہے بولو……. ؟ ڈیانا نے غصے سے کرس لارڈ کی طرف دیکھا
اتنا غصہ اچھا نہیں ہوتا. بیٹھو میں نے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں اس لیے بلوایا ہے. لارڈ نے دوستانہ لہجے میں ڈیانا کو اپنے سامنے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا. نہ چاہتے ہوئے بھی ڈیانا کو بیٹھنا پڑا.
کچھ دیر کمرے میں خاموشی چھائی رہی پھر اس خاموشی کو ایک ملازم کی آواز نے توڑا
جناب یہ حاضر ہے……. اس کے ہاتھ میں ایک پلیٹ تھی جس میں سرخ مخملی ڈبیا پڑی ہوئی تھی لارڈ کے کہنے پر ملازم نے وہ پلیٹ ڈیانا کے سامنے والے میز پر رکھ دی اور خود سلام کرتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا.
اب یہ کیا تماشہ ہے……. ڈیانا نے حقارت سے اس ڈبیا کی طرف دیکھا
ایسا تو مت بولو……… اس ڈبیا میں وہی “شاہی انگوٹھی” ہے جو میں نے تمہیں دی تھی اور شاید تم نے Marry کو…….
لارڈ کی بات پر ڈیانا ایک لمحے کیلئے چونکی…… اچھا تو پھر اب میں کیا کروں….؟
پھر کیا یہ انگوٹھی تمہاری ہے اور میں تمہیں دینا چاہتے ہوں. بے شک یہ مجھے تمہاری انگلی میں ہی اچھی لگتی ہے.
میرے خیال سے ہم دونوں عمر کے اس حصے میں ہیں کہ ہمیں یہ چھچھوری حرکتیں زیب نہیں دیتیں.
ڈیانا کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی اور اس کے اٹھتے ہی لارڈ بھی اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا.
تمہیں یہ انگوٹھی رکھنی پڑے گی کیونکہ میں نے یہ تمہارے لئے ہی بنوائی تھی اگر تم نے اس انگوٹھی پر غور کیا ہو تو اس کے اندر میرے اور تمہارے نام کا پہلا لفظ لکھا ہوا ہے لارڈ نے کہتے ہوئے انگوٹھی ڈبیا سے نکال کر اس کے سامنے کی.
رکھ لو یہ بہت قیمتی بھی ہے لارڈ نے ڈیانا کے انکار پر دوسرا حربہ استعمال کیا.
مجھے اب قیمتی چیزوں سے دلچسپی نہیں رہی. میں نے اپنی ساری زندگی لالچ میں گنوا دی اور اپنا بیٹا بھی……. جس کا مجھے بہت افسوس ہے مگر اب میں خالی ہاتھ ہوں……. بالکل خالی…… ڈیانا کہتی ہوئی کمرے سے باہر آ گئی.
اسے کیا ہو گیا ہے یہ ایسی تو نہیں تھی……. ؟؟؟ لارڈ اسے حیرت سے جاتے ہوئے دیکھنے لگا.
🎀🎀🎀🎀
تم نے مجھے شادی کی مبارک کیوں نہیں دی….. ؟ بیا نے حارب کے بیٹھتے ہی گلہ کیا
تم فلحال مجھ سے ہمدردی کرو کیونکہ مجھے اُس کی سخت ضرورت ہے. حارب نے بیا کو چڑایا
بے فکر رہو وہ تو میں ضرور کروں گی مگر کمرے میں جا کر تسلی سے…… بیا کے جواب پر حارب کو جھٹکا لگا
حارب سچ سچ بتاؤ تمہیں شرم آ رہی ہے کہ نہیں……؟؟ قسم سے مجھے تو زرا بھی نہیں آ رہی. بلکہ ہنسی آ رہی ہے کتنا مزاحیہ سین ہے ہم دونوں اس رنگ برنگے “تمبو” میں اسٹیج پر اوپر بیٹھیں ہیں اور باقی سب نیچے….. ایسا لگ رہا ہے جیسا دربار لگا ہو. ویسے مانو یا نہ مانو شادی ہے مزے کی چیزززززز……. بیا نے لوگوں پر نظر مارتے ہوئے آخر میں حارب کو دیکھا
اللہ جانتا ہے مجھے تم سے ایسی ہی کسی “بکواس” کی امید تھی. کم از کم دلہن بن کر تو اپنا منہ بند رکھوں. سب لوگ ادھر ہی دیکھ رہے ہیں. حارب نے سامنے دیکھتے ہوئے ڈانٹا.
اگر تم سمجھتے ہو کہ میں تمہاری باتوں سے چپ ہو جاؤں گی تو “غلط فہمی” ہے اور یہ تم میری طرف کیوں نہیں دیکھ رہے……. ؟ اب کس بات کا ڈر ہے ڈرپوک زمانے کے….. آخر میں بیا نے افسوس کیا
بات “ڈر” کی نہیں بلکہ “تمیزز” کی ہے جس سے تمہیں کچھ لینا دینا نہیں. تمہاری حرکتوں کی وجہ سے لوگ ہمیں” چھچھورے” بول رہے ہوں گے.
حارب نے بظاہر مسکراتے ہوئے نرم لہجے میں جواب دیا.
پتہ نہیں جی مجھ سے تو یہ “منافقت” نہیں ہوتی جو میرے دل میں ہوتا ہے وہی زبان پر ہوتا ہے. بیا نے منہ بناتے ہوئے کھا جانے والی نظروں سے گھورا.
منافقت……. میں نے اب کون سی منافقت کر دی……. ؟حارب نے چونک کر بیا کی طرف دیکھا
پہلی بات تو یہ کہ تم اس میرون شیروانی میں بڑے غضب کے لگ رہے ہو. میرا تو دل خوش ہو گیا ہے. سب لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ اس کا دلہا بڑا ڈیشنگ ہے اور اندر اندر سے جل بھی رہے ہوں گے کہ ہماری بیٹی کو نہیں ملا.
اور دوسری بات یہ کہ “لڈو” تو تمہارے دل میں بھی پھوٹ رہے ہوں گے اتنی پیاری دلہن دیکھ کر….. آخر میں ہوں ہی اتنی پیاری تم کیا چیزززز ہو میرے آگے……. بس مجھے تمیززز کا درس دے رہے ہو اور اندر اندر خود مرے جا رہے ہو.
بیا بی بی کیا چیززز ہو تم……. ؟؟؟ حارب نے ٹشو باکس سے ٹشو نکالا.
حارب ایک بات پوچھنی تھی وہ میں نے “ناولززز” میں پڑھا تھا جیسے ہی دلہا دلہن کو “محبت پاش” نظروں سے دیکھتا ہے اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے مگر میرے ساتھ ایسا نہیں ہو رہا. اس کا مطلب یہ ہوا کہ ابھی تک تم نے مجھے “محبت پاش” نظروں سے نہیں دیکھا.
بیا کی بات پر حارب نے اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے خاہ مخواہ ٹشو کو اپنے چہرے پر پھیرا اور خود کو نارمل کیا.
ہائے اتنی سردی میں بھی تمہیں پسینہ کیوں آ رہا ہے. بتاؤ….؟ بیا فکرمند ہوئی.
میں بلکل ٹھیک ہوں کوئی پسینہ وسینہ نہیں آ رہا ہے. تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے. اور اب مہربانی فرما کر چپ رہنا دیکھو ولی ہماری طرف آ رہا ہے.
تمہاری فکر کرنا اب میرا فرض ہے بلکہ “فرضِ عین” ہے آخر تم میرے “مجازی خدا” ہو اور رہی بات ولی کی تو یہ سچ مچ “بےوقوفوں” کا سردار ہے. بجائے یہ کہ آئمہ کو “سیٹ” کرے الٹا ہماری” سیٹنگ خراب” کرنے آ رہا ہے گدھا کہیں کا…….بیا کو شدید غصہ آیا.
بیا کچھ تو خدا خوفی کرو اب تو مجھے تم سے ڈر لگنے لگا ہے. حارب نے بیا کو دیکھا
ماشاءاللہ آپ دونوں ہی ایک دوسرے ساتھ بہت پیارے لگ رہے ہیں. ولی نے حارب کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا.
شکریہ………. مگر آپ یہاں اکیلے بلکل بھی اچھے نہیں لگ رہے وہ جو ہم نے ایک عدد “تحفہ” بیگم کی شکل میں آپ کو دیا تھا وہ کہاں ہے………. ؟ اُسے بھی اپنے ساتھ لائیں اور ہمیں “سلامی” دیں. بیا حارب سے پہلے بول پڑی.
سلامی…… میں سمجھا نہیں. ولی نے ناسمجھی سے بیا اور پھر حارب کو دیکھا
(سمجھا تو ابھی تک میں بھی نہیں تو تم کس کھیت کی مولی ہو. حارب نے دل میں اپنی بھڑاس نکالی).
سلامی سے مراد ہے کہ پیسے وغیرہ جو آپ اپنی خوشی سے دلہا دلہن کو دیتے ہیں. حارب کو جو مرضی دے دیں اس نے ضائع ہی کرنے ہیں کتابیں خرید کر…… مگر مجھے تو کم از کم 10 ہزار چاہیں. آخر کو آپ لندن سے آئیں ہیں کوئی مذاق تھوڑی ہے. بیا نے اپنا گجرا ٹھیک کرتے ہوئے ولی سے کہا جس پر حارب نے شرم سے سر جھکا لیا.
اچھا تو یہ بات ہے ٹھیک ہے میں ابھی دے دیتا ہوں. ولی نے وائیلٹ نکالنے کے لیے اپنی پاکٹ میں ہاتھ ڈالا جب بیا نے ٹوکا.
پہلے اپنی بیگم کو تو اسٹیج پر لے کر آئیں. ہر رسم ایک طریقے سے ہو گی. آپ حارب کو پیسہ دینا اور آئمہ مجھے، پھر تصویر اور تھوڑی سی مووی بنوا کر اسٹیج سے اتر جانا ٹھیک ہے. سمجھ آ گئی.اپنی بات کے آخر میں بیا نے ولی کی طرف دیکھا.
“آپ سمجھائیں اور سمجھ نہ آئے اب ایسے بھی حالات نہیں”. میں آئمہ کو لے کر آتا ہوں. ولی مسکرا کر اٹھ گیا.
ارے لڑکی کچھ دیر تو منہ بند کر لے میں کب سے تجھے بولتے ہوئے دیکھ رہی ہوں.کرن بیگم نے بیا کے پاس بیٹھتے ہوئے سمجھایا.
یہ کہاں پر اور کس احمق نے لکھا ہے کہ “دلہن کا بولنا منع ہے”. میں تو بولوں گی کوئی بولے نہ بولے………. اپنے جملے کے آخر میں بیا نے حارب کو دیکھا جو اسے ہی خونخوار نظروں سے گھور رہا تھا.
آج کے دن تو پیار سے دیکھو اتنے پیسے پارلر والی نے لیے ہیں حالانکہ جتنا ٹائم لگا کر اس نے مجھے کارٹون بنایا ہے اس سے کم وقت میں، میں ایسے چار بنا سکتی تھی وہ بھی بلکل مفت……. بیا کی بات پر نا چاہتے ہوئے بھی حارب کے ہونٹوں کو مسکراہٹ چھو گئی.
🎀🎀🎀🎀
حارب نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا بیا کو کمرے میں چکر کاٹتے ہوئے پایا.
تم یہ کیا کر رہی ہو وہ بھی اس وقت……. ؟؟؟ حارب کو حیرت ہوئی
ورزش کر رہی ہوں……… نظر نہیں آتا کہ غصے میں چکر کاٹ رہی ہوں. بڑے لوگوں کو جب غصہ آتا ہے تو وہ ایسا ہی کرتے ہیں. بیا نے اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھتے ہوئے حارب کو جواب دیا.
اب کھڑے میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو دروازہ بند کرو آگے اتنا ٹائم ضائع کر دیا ہے تم نے…… بیا کی بات پر حارب نے ایک نظر اسے گھور کر دیکھا اور پھر دروازہ بند کر دیا.
اچھا اب میری بات غور سے سنو جیسا میں کہتی ہوں تم نے بالکل ویسا ہی کرنا ہے ٹھیک ہے اچانک بیا چہکنے لگی.
جی فرمائیں جیسا آپ کہیں گی میں ویسا ہی کروں گا کیونکہ اتنی سردی میں میرا باہر سونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے…….. حارب نے ہار مانتے ہوئے ہتھیار ڈالے اور خود صوفے پر گرنے والے انداز میں بیٹھ کر جوتے اتارنے لگا.
یہ کیا سست لوگوں کی طرح صوفے پر گر گئے ہو چست بنوں.
ہماری آج “شادی” ہے اور” شادی” روز روز نہیں ہوتی سمجھے.
ویسے بھی ہماری یہ “پہلی شادی” ہے. تو تھوڑی بہت “گڑ بڑ” چلے گی. ہم دونوں کا پہلے” تجربہ” جو نہیں ہے دوسروں کے تجربوں سے ہی فائدہ اٹھانا پڑے گا. خیر……… بیا نے حارب کو بازو سے پکڑ کر اٹھایا.
پہلی سے کیا مراد ہے……… حارب نے غصے سے اپنا بازو بیا سے آزاد کرایا.
پہلے بھی ہے اور آخری بھی……. اب ٹھیک ہے. میری باتوں کا مطلب سمجھو اور زیادہ سنجیدہ مت لو جیسے پہلے نہیں لیتے تھے اور اپنا موڈ خراب نہیں کرو. میری بات غور سے سنو……
سن تو رہا ہوں اور کیسے سنو…….. ؟ حارب دبا دبا چیخا
میں بیڈ پر جاکر بیٹھنے لگی ہوں تم دروازے سے میری طرف آؤ گے…… پھر بیڈ پر میرے قریب ہو کر بیٹھ جانا…….. تھوڑی سی میری تعریفیں کرنا شاعری وغیرہ بے شک “ٹرکوں ویگنوں” کے پیچھے جو اشعار لکھے ہوتے ہیں وہ ہی سنا دینا.
ویسے بھی بڑے شاعروں کی شاعری تو مجھے سمجھ نہیں آتی ٹھیک ہے پریشان مت ہو….. پھر میرا گھونگھٹ اٹھانا اور مجھے منہ دکھائی دینا۔
ایسا میں نے ناولز اور فلموں میں دیکھا ہے جو بہت اچھا سلجھا ہوا ہیرو ہوتا ہے وہ ایسے ہی کرتا ہے ٹھیک ہے اب میں بیٹھتی ہوں .
بیا کہتی ہوئی بھاگ کر بیڈ پر بیٹھ گئی چلو اب تم آ جاؤ جلدی سے…… اور اپنا گھونگھٹ نکال لیا.
حارث نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بیڈ کی طرف چلا پڑا. مگر اچانک اسے خیال آیا کہ جو انگوٹھی ثنا بیگم نے اسے منہ دکھائی کے لیے دی تھی وہ اس نے کہاں رکھی ہے…….. ؟ بیڈ کے دراز میں یا…… ابھی وہ یہ سوچ رہا تھا کہ بیا پھر بول پڑی.
افففففف……. تم سے کچھ نہیں ہوگا تم ایسا کرو کہ بیڈ پر بیٹھو. میں تمہیں بتاتی ہوں کہ کیسے “اظہار محبت” کرتے ہیں اور “منہ دکھائی” دیتے ہیں یقین مانو ناولوں میں پڑھ پڑھ کر مجھے تو ڈائیلاگ کا رٹا لگا ہوا ہے.
بیااااااااا…… حارب نے انتہائی حیرت سے اسے پکارا
ایسے کیا دیکھ رہے ہو کوئی فرق نہیں پڑتا چلو بیٹھو شاباش……. ویسے بھی یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ” دلہن دلہے کو منہ دکھائی نہیں دے سکتی”.
آج میں تم سے “اظہار محبت” بھی کروں گی اور تمہیں “منہ دکھائی” بھی دوں گی. ٹھیک ہے.
حارب چپ چاپ بیڈ پرجا کر بیٹھ گیا…….. بیا اسے محبت سے اور وہ اسے ناراضگی سے دیکھنے لگا.
پھر بیا مسکراتی ہوئی حارب کے پاس آکر بیٹھ گئی. اس کا ہاتھ محبت سے اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
“ایک بات کہوں گر سنتے ہو
تم مجھکو اچھے لگتے ہو
کچھ چنچل سےکچھ چپ چپ سے
کچھ پاگل پاگل لگتے ہو
ایک بات کہوں گر سنتے ہو
تم مجھکو اچھے لگتے ہو
ہیں چاہنے والے اور بہت
پر تم میں ہے اک بات بہت
تم اپنے اپنے لگتے ہو
ایک بات کہوں گر سنتے ہو
تم مجھکو اچھے لگتے ہو
یہ بات بات پر کھو جانا
کچھ کہتے کہتے رک جانا
یہ کس الجھن میں رہتے ہو
ایک بات کہوں گر سنتے ہو
تم مجھکو اچھے لگتے ہو”
اور منہ دکھائی کے طور پر آج سے میں “ساری کی ساری” تمہاری اور تمہاری اسلامیوں کے پیسے……. ملنے والی نوکری کی تنخواہ…….. ملنے والی گاڑی…….. ملنے والا گھر اور تمہاری ہر چیز میری…….. منظور، بولو بھی ناااااا یقین مانو آج کل کے دور میں میرے جیسی بیوی ایک نعمت ہے جو صرف خوش نصیب لوگوں کو ملتی ہے ورنہ تو مت پوچھو کیسی کیسی آئٹمیں موجود ہیں.
بیا نے کہتے ہوئے اپنا سیدھا ہاتھ حارب کے آگے کیا…….. حارب نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا ۔
Biya I love uuuuu…….
اللہ تمہیں بری نظر سے بچائے بے شک میں خوش نصیب ہوں. یہ کہتے ہوئے حارب نے بیا کے سر پر پیار سے بوسہ دیا.
آمین ثم آمین……… یہ تم نے بالکل ٹھیک کہا ہے کیونکہ تمہیں تو نظر لگنے سے رہی. بیا نے سر اٹھا کے حارب کی طرف دیکھا
کیوں بھئی مجھے کیوں نہیں نظر لگ سکتی……… ؟حارب نے حیرت سے پوچھا
کیونکہ تمہارے ساتھ میں جو ہوں…….. اور پھر دونوں ہنسنے لگے. قدرت نے ان پہ محبت کی برسات جو کردی تھی.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے
