No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
میری سمجھ کے مطابق پتہ کیا ہوا ہو گا….!!!
آئمہ نے چھلی کھاتے ہوئے بیا کی طرف دیکھا جبکہ بیا نے بھی صرف سر کے اشارہ سے پوچھا
کیا…. ؟
یہ جو ابراھیم صاحب ہیں یہ بقول پھپھو کے ان کے تایا کے بیٹے تھے مطلب ہمارے داجی کے بھتیجے ہوئے ہے ناااااا…..
بیا جو اس وقت آئمہ کے ساتھ برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھی چھلی کھا رہی تھی. اُس کی بات سن کر ہنسنے لگی.
آئمہ میرے خیال سے تمہاری اس قدر اہم معلومات پر حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ تمہیں اکیس توپوں کی سلامی پیش کرے.
واہ واہ یعنی مجھے تو پتہ ہی نہ چلتا اگر تم نے بتاتی کہ ابراھیم دا جی کے بھائی کا بیٹا ہے.
اس کے بعد وہ آئمہ کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگی جبکہ آئمہ اپنی بےعزتی پر منہ بنا کر رہ گئی.
میں سمجھی کہ کوئی خاص بات ہو گی مگر…..
بیا نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ کسی نے زور زور سے گھر کا دروازہ پیٹا.
کون ہے…؟ آ رہے ہیں، صبر تو ہوتا ہی نہیں ہے.
داجی کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکلے جبکہ سارہ پھپھو بھی اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگیں.
داجی نے جیسے ہی دروازہ کھولا حارب تقریباً گرتا پڑتا اندر کی طرف بھاگا.
حارب کو اس طرح آتا دیکھ کر سب ہی ڈر گئے کچن میں موجود کرن اور ثنا بیگم بھی حارب کے پیچھے اس کے کمرے کی طرف گئیں.
یا اللہ خیر کہیں کسی سے لڑ کر تو نہیں آیا. تخت پوش پر موجود دادی رقیہ نے حیرت سے پہلے داجی کو اور پھر حارب کے کمرے کی طرف دیکھا.
بیا لگتا ہے کوئی خاص بات ہوئی ہے ورنہ بھائی اس طرح تو کبھی گھر داخل نہیں ہوئے.
آئمہ نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے پریشانی سے بیا کو دیکھا جو بڑے مزے سے چھلی کھانے میں مصروف تھی.
کچھ نہیں ہوا کتا پیچھے پڑ گیا ہو گا یا غلطی سے بھنگ پی لی ہو گی اور کیا ہونا ہے….؟
بیا نے چھلی ساتھ انصاف کرتے ہوئے اپنے ہاتھ جھاڑے.
بیا…….!!!
سارہ پھپھو نے تنبہی والی آواز میں اسے پکارا اور وہ خود بھی حارب کے کمرے کی طرف چل پڑیں.
حارب میرے، بچے میری جان کیا ہوا ہے…؟ تم اس طرح کیوں تھر تھر کانپ رہے ہو…؟
ثنا بیگم نے حارب کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا جو تکیے پر سر رکھ کر اپنے بستر پر سیدھا لیٹا ہوا تھا.
ماما پلیز میرے اوپر کمبل ڈال دیں. مجھے شدید سردی لگ رہی ہے اور دروازہ بند کر دیں کہیں وہ نہ آجائے….!!!
حارب کی بات پر کمرے میں موجود سب نے ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھا جبکہ کرن بیگم نے جلدی سے کمبل حارب کے اوپر ڈالا
دادی رقیہ نے حارب کے اوپر فوراً آیت الکرسی پڑھ کر پھونک ماری اور اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا جو بخار کی شدت سے تپ رہا تھا.
بیٹا کچھ بتاؤ بھی ہمارا دل پریشانی سے ڈوبا جا رہا ہے.
چلو جی…..
یہاں پورا پاکستان بارش سے ڈوبا جا رہا ہے تو دل بیچارے کی کیا اوقات….
داجی کی بات پر بیا نے آئمہ کے کان میں سرگوشی کی.
داجی وہ وہ میں جب جب کھیتوں سے گھر کی طرف آ رہا تھا تو توووووو…..
اب ہکلا کیوں رہے ہو ہمیں آگے ہی تمہاری باتیں کم سمجھ آتیں ہیں اوپر سے اب تم…..
بیا اپنی بکواس بند کرو اور ہمیں اس بیچارے کی بات سننے دو.
بیا کی بات پر کرن بیگم کے ساتھ ساتھ باقیوں نے بھی اسے غصے سے دیکھا.
“مسکرائیے کیونکہ مسکرانے میں صرف 14 مسلز جبکہ غصے میں پورے 72 مسلز استعمال ہوتے ہیں.”
بیا نے اپنی پونی ٹھیک کرتے ہوئے جواب دیا.
تم کچھ دیر کے لیے کمرے سے باہر چلی جاؤ ہمیں بات کر لینے دو.
پھپھو سارہ نے پیار سے بیا کو کہا
کیوں باہر جاؤں؟
کیا آپ لوگ میری شادی کی بات کرنے لگے ہیں…؟
ماشاءاللہ سے میرے بچے تو صرف ڈھیٹ تھے مگر میرے بچوں کے بچے ڈھیٹ کے ساتھ ساتھ بےشرم بھی ہیں.
داجی نے دادی رقیہ کی طرف دیکھ کر افسوس سے سر ہلایا.
جبکہ بیا اور آئمہ نیچے منہ کر کے ہنسنے لگیں.
بیٹا تم بتاؤ پھر کیا ہوا. ثنا بیگم نے سب کو نظرانداز کرتے ہوئے دوبارہ حارب سے پوچھا.
امی جب میں گھر کی طرف آ رہا تھا تو میں نے دیکھا میرے سے کچھ فاصلے پر ایک بابا جی سفید کپڑے پہنے چل رہے ہیں.
تو اس میں ایسی کیا بات ہے…؟
بیا پھر بول پڑی.
بیا تم اگر اب چپ نہیں کی تو میرے سے مار کھاؤ گی نظر نہیں آ رہا وہ کتنی مشکل سے بول رہا ہے.
کرن بیگم نے اب کی بار بیا کو سختی سے گھورا.
اچھا بیٹا پھر…. داجی نے حوصلہ دیا.
پھر وہ کچھ فاصلے پر میرے ساتھ ساتھ چلنے لگے اگر میں تیز چلتا تو وہ بھی تیز چلتے اگر میں آہستہ چلتا تو وہ بھی آہستہ چلتے…..
اس میں بیٹا پریشان ہونے والی کونسی بات تھی. دادی نے پیار سے حارب کے بال ٹھیک کیے.
دادو پریشانی والی بات ہے کیونکہ جب میں چھپڑ (چھوٹا سا تالاب ہوتا ہے عموماً اس میں مال مویشی نہاتے ہیں) کے قریب پہنچا تو مجھے دل میں ہنسی آئے کے اب تو بابا جی میرے ساتھ ریس نہیں لگا سکیں گے مگر….
مگر کیا…؟
بیٹا جلدی بولو سارہ پھپھو نے پریشانی سے پوچھا
میں تو چھپڑ کے کنارے پر چلنے لگا مگر وہ بابا جی چھپڑ کے پانی پر چلنے لگے نہ ان کے کپڑے گیلے ہوئے اور نہ ہی وہ ڈوبے پھر میں نے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ مجھے نہیں دیکھ رہے، نہ وہ سر ہلا رہے، نہ ہی پاؤں بلکہ عجیب انداز میں پانی پر چل رہے ہیں.
مجھے ڈر لگا میں نے آیت الکرسی پڑھ کر بھاگنا شروع کر دیا میں اپنی پوری قوت سے بھاگا مگر پھر بھی وہ میرے ساتھ ساتھ تھے.
جب میں تیز بھاگتا وہ بھی تیززز بھاگتے جب میں آہستہ ہو جاتا وہ بھی آہستہ ہو جاتے.
پھر جیسے ہے شمشان گھات کی وہ ٹوٹی پھوٹی عمارت آئی وہ وہاں میری آنکھوں کے سامنے غائب ہو گئے.
بات بتاتے بتاتے حارب کا پورا جسم پسینے سے بھر گیا جبکہ کمرے میں موجود تمام افراد کو سانپ سونگھ گیا.
کتنی بار کہا ہے مغرب کے بعد اس عمارت کے پاس سے مت گزرا کرو مگر تم لوگوں کو بزرگوں کی باتیں مذاق لگتیں ہیں. بہو اس کی نظر اتارو اور صدقہ بھی دو شکر ہے اللہ نے بچا لیا اور کوئی نقصان نہیں پہنچا.
دادی نے پہلے غصے سے پھر قدرے سنبھلتے ہوئے ثنا بیگم کو مخاطب کیا.
جبکہ بیا حارب کو دیکھ کر کچھ سوچنے لگی.
🎀🎀🎀🎀🎀
ابراھیم نکاح کے بعد سے روز مجھے کہتا کہ میں تایا جی سے بات کروں کہ وہ اسے لندن جانے دیں.
میرا دل بھی نہیں مانتا تھا کہ وہ ہم سب کو چھوڑ کر لندن جائے مگر میں اس کی ضد کے آگے ہار گئی اور میں نے تایا جی سے بات کرنے کا فیصلہ کیا.
تایا جی کو جب میں نے کہا کہ وہ ابراھیم کو لندن جانے دیں تو انھیں نے میری طرف غور سے دیکھا.
بیٹا وہ میری اکلوتی اولاد ہے میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا مجھےاس سے محبت کے ساتھ ساتھ اسے روز دیکھنے کی عادت بھی ہے.
تایا جی آپ انھیں تھوڑی سپیس دیں. وہ ہروقت آپ کےساتھ نہیں رہ سکتے وہ بھی انسان ہیں آپ کے ہر بار آواز دینے پر نہیں آ سکتے.
آپ خود بھی ہر وقت اپنی موجودگی کا احساس دلانا چھوڑ دیں جو کام موجودگی نہیں کر پاتی وہ اس جگہ سے آپ کی غیر موجودگی کرجاتی ہے.
کبھی کبھی کمی محسوس ہونا اچھاہوتاہے اس سے ہمیں اپنی برداشت کا پتالگ جاتا ہے کہ ہم کتنا عادی ہوچکےہیں کسی چیز یا انسان کے یاپھر مستقل کمی سے ہم پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں.
پر انسان نے اکثر خود کو دھوکے میں رکھا ہوتا ہے وہ سمجھتا ہے میں addicted ہوں لیکن ایسا نہیں ہوتا آہستہ آہستہ ہم نارمل لینا شروع کردیتے ہیں.
ہر اس انسان یا چیز یا پھر کسی عادت کو بس تھوڑی سی سپیس کی ضرورت ہے.
میرے دلائل پر تایا جی نے خاموشی سے مجھے دیکھا اور پھر کہا
وہ میری اکلوتی اولاد ہے اور تم اکلوتی بھتیجی…..
میرے کہنے پر اس نے تم نے شادی کی میں سمجھا اب وہ اپنی ضد چھوڑ دے گا مگر اس نے تمہیں ہی میرے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا ہے.
اگر تم چاہو تو اپنی محبت سے اسے روک سکتی ہو میں فضل دین سے تمہاری رخصتی کی بات کرتا ہوں مجھے یقین ہے کہ شادی کے بعد وہ کہیں نہیں جائے گا. بیوی کی محبت میں بہت طاقت ہوتی ہے.
سارہ بیٹے مجھے تنہائی سے بہت ڈر لگتا ہے. تنہائی بذات خود ایک عذاب ہے مجھے اس گھر میں رونق چاہیے.
خالی گھروں کا حال شمشان گھاٹ جیسا ہوتا ہے وہاں روحیں رہتی ہیں جہاں انسان نہیں رہتے.
کیا تم چاہتی ہو میرے اس گھر میں روحیں بسیرا کریں…..؟
توبہ ہے…..
پھپھو ڈائری ایسے لکھتی ہیں جیسے کوئی ڈراؤنا ناول ہو.
اور یہ پھپھو کا ہیرو جو ہیرو کم اور ولن زیادہ لگ رہا ہے.
میرے حساب سے اسے گاؤں کے چوک میں کھڑا کر کے 100 جوتے لگانے چاہیں اور 99 پر پہنچ کر پھر 1 سے شروع ہو جانا چاہیے.
اور پتہ اسے جوتے کس بات پر مارنے چاہیں…؟
بیا نے آئمہ کی طرف دیکھ کر سوال کیا اور پھر آئمہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی خود ہی جواب دینے لگی.
پھپھو اس عمر میں بھی غضب کی لگتیں ہیں تو سوچو جوانی میں کیا توپ چیز ہو گی.
ایک بات تو کنفرم ہے یہ ابراھیم عقل سے بلکل فارغ تھا.
اب تمہیں کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو….؟
بیا نے آئمہ کو ٹوکا جو اس کی کسی بھی بات کا جواب نہیں دے رہی تھی.
پھپھو دروازے میں کھڑی ہیں. آئمہ کے کہنے پر بیا نے ایک نظر اپنے ہاتھ میں پکڑی ڈائری پر ڈالی اور دوسری آئمہ کے چہرے سے ہوتی ہوئی دروازے پر…….
🎀🎀🎀🎀
میں نے اُس “بُو” کو محسوس کیا کہ وہ کہاں سے آ رہی ہے اور کس چیز کی ہو سکتی ہے…؟
پہلے سوچا ڈرائنگ روم کی طرف جاؤں کیونکہ وہاں سے باتوں کی آوازیں آ رہی تھیں مگر پتہ نہیں کیوں میرے قدم خود بخود بیڈ روم کی طرف چل پڑے.
کیٹ اور پیٹر بہت غور سے ولی کی باتوں کو سن رہے تھے جبکہ ولی باہر پڑتی برف کو دیکھ رہا تھا.
کچھ دیر خاموشی کے بعد ولی نے پھر بولنا شروع کیا.
میں اِس کے کمرے میں جا کر بیٹھ گیا ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ مجھے کمرے کے باہر سے باتوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں.
میں جلدی سے آٹھ کر پردوں کے پیچھے چھپ گیا. میرے چھپنے کی وجہ یہ تھی کہ میں جاننا چاہتا تھا کہ اس وقت کون ہے…؟ جو Marry کے ساتھ اس کے بیڈ روم میں آ رہا ہے.
ولی نے اپنا جملہ پیٹر کی طرف دیکھ کر ادا کیا. جبکہ پیٹر کچھ کھویا سا ولی کو محسوس ہوا.
اس سے پہلے ولی آگے کچھ کہتا پیٹر بول پڑا.
وہ یقیناً ڈینیل اور مئیر کا بیٹا وکی ہونگے.
ہاں مگر تمہیں کیسے پتہ…؟
اب کی بار ولی نے مسکرا کر پیٹر سے پوچھا
میں نے ایک دو بار اُن کو Marrt سے ملتے دیکھا تھا اور جب بھی میں نے Marry سے اُن کے بارے میں کچھ پوچھنے کی کوشش کرتا وہ ٹال جاتی.
ٹالنے کی وجہ کیا تھا ؟
کیٹ نے سوال پیٹر سے کیا مگر دیکھا ولی کو….
تمہاری خوبصورتی نہ تو مجھے متاثر کر سکتی ہے اور نہ ہی کنفیوز، اس لیے مجھے ایسے مت دیکھا کرو.
ولی کی بات پر کیٹ نے ناگواری سےاپنے آس پاس دیکھنا شروع کر دیا جبکہ پیٹر نے ولی کو پکارا
پھر کیا ہوا…؟
ہونا کیا تھا وہ تینوں ایک ساتھ آگے پیچھے کمرے میں داخل ہوئے.
وہ کسی پراپرٹی پر جھگڑا کر رہے تھے وہ شاید کچھ پیپرز پر اُس کے سائن لینا چاہتے تھے مگر کچھ دیر بعد Marry نے انھیں وہاں سے جانے کا کہا جس پر وہ برہم ہو گئے.
یعنی وہ جانا نہیں چاہتے تھے اور Marry انھیں جانے کا کہہ رہی تھی.
بلکل ایسا ہی تھا.
ولی نے کیٹ کی بات کی تصدیق کی.
ویسے تو میں Marry سے ہی ملنے آیا تھا مگر اسے غصے میں دیکھ کر میں نے چپ چاپ وہاں سے جانے کا فیصلہ کیا.
جیسے ہی Marry واشروم میں گئی میں تیزی سے باہر نکل گیا.
پھر تمہیں کیسے پتہ کہ میری کا قتل کیسے ہوا…؟
پیٹر کے سوال پر ولی کی آنکھوں میں ایک چمک ابھر کر معدوم ہوئی.
میرے پاپا کی بیگم صاحبہ اکثر Marryسے ملنے اس کے گھر جاتیں تھیں مجھے انھیں کے ذریعے پتہ چلا کہ اس گھر کی ایک چاپی پودے کے نیچے ہوتی ہے.
دوسرا جب میں Marry کے کمرے سے نکل رہا تھا تو مجھے سامنے والے کمرے کا دروازہ کھلا محسوس ہوا.
اس وقت تو میں نے کوئی نوٹس نہیں لیا مگر بعد میں احساس ہوا کہ وہ لوگ Marry کے کہنے پر گئے نہیں تھے بلکہ وہاں چھپ گئے تھے.
اور یہ جو میں نے سگار کا ٹکڑا تمہیں دیا ہے یہ مجھے وہاں سے ہی ملا تھا یہ کسی عام سگار کا ٹکڑا نہیں ہے اگر تم غور سے اِسے دیکھو تو اس پر لارڈ کا نام لکھا ہوا ہے.
مطلب…!
پیٹر اور کیٹ نے ایک ساتھ کہا
مطلب یہ کہ یا تو لارڈ بھی وہاں موجود تھا یا وہ وہاں آتا جاتا تھا اور یا پھر…..
یا پھر….
کیٹ نے دیرایا
یا پھر ڈینیل اور وکی میں سے کوئی اس سگار کو پی رہاتھا.
