Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

ٹیلی فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی مگر شاید کوئی برآمدے میں موجود نہیں تھا. سارہ جو ابھی عشاء کی نماز کے لیے جائے نماز بچھا ہی رہیں تھیں بڑبڑاتی ہوئی اپنے کمرے سے باہر نکلیں.
اسلام علیکم……. انتہائی شفیق آواز ولی کی سماعتوں سے ٹکرائی.
وعلیکم اسلام…… کیسی ہیں آپ……؟ ؟؟ میں ولی بات کر رہا ہوں.
اچھا اچھا…… میں ٹھیک ہوں تم اپنی سناؤ کیسے ہو، تمہاری والدہ کیسی ہیں……؟
سارہ نے برآمدے میں رکھے تخت پوش پر آرام سے بیٹھتے ہوئے پوچھا
بس سب ٹھیک ٹھاک…… سوری شاید میں نے غلط ٹائم پر کال کر دی…… ولی نے ذہن میں پاکستانی وقت کا اندازہ لگایا.
ارے نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ہم بوڑھے لوگ زرا جلدی بستروں میں دبک جاتے ہیں مگر حارب، بیا اور آئمہ جاگ ہی رہے ہوتے ہیں خاص طور پر بیا…… وہ سب گھر والوں کو بلکہ گاؤں والوں کو بھی سلا کر سوتی ہے.
سارہ کی بات پر دونوں نے مل کر ہلکا سا قہقہ لگایا.
ہنستی رہا کریں بہت اچھی لگتی ہیں…… ولی کی بات پر دونوں طرف خاموشی چھا گئی.
میں نے آپ سے ایک بات پوچھنی تھی اگر بری نہ لگے تو……. ولی کے سوال پر سارہ دھیما سا مسکرائیں.
تم میرے لیے بلکل حارب جیسے ہو اور اب آئمہ کی وجہ سے اور بھی پیارے ہو گئے ہو پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو……؟
میں آپ کو کیا کہہ کر پکارا کروں……؟ میرا مطلب ہے کہ پھپھو یا کچھ اور……. ولی نے اپنی بات جان بجھ کر ادھوری چھوڑ دی.
تم آئمہ کے رشتے سے مجھے “پھپھو” کہہ سکتے ہو……. سارہ نے پیار سے جواب دیا.
اور پاپا کے رشتے سے…… ولی کی بات پر ایک مرتبہ پھر دونوں طرف خاموشی چھا گئی.
آپ کو پاپا بہت یاد آتے ہیں میں نے آپ کی آنکھوں میں ان کے لیے بے حد “احترام” اور “محبت” دیکھی ہے. ایسا ہی ہے یا یہ میرا اندازہ ہے.
آپ مجھے سے شئیر کر سکتیں ہیں مجھے بہت اچھا لگے گا……. ولی نے اپنی طرف سے سارہ کو حوصلہ دیا.
بیٹے میرے خیال سے بندے کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنی عبادت، محبت اور معافی میں کسی تیسرے کو شریک نہ کرے کیونکہ یہ سب پردے کی چیزیں ہیں.
سارہ کے جواب پر ولی لاجواب ہو گیا اور بس اتنا ہی کہہ سکا….. مجھے آپ بہت اچھی لگتی ہیں بلکل ” ماں” جیسی……
اچھا اب بیا کی طرح مسکا مت لگاؤ تم نے یقیناً آئمہ سے بات کرنے کے لیے فون کیا ہو گا…….. ہولڈ کرو میں اسے بلاتی ہوں.
سارہ نے فون ہولڈ پر رکھتے ہوئے آئمہ کو آواز دی جبکہ ولی آسمان کی طرف منہ کر کہ ہنس پڑا.
پتہ نہیں یہ دونوں کیا کر رہیں ہیں میں زرا آئمہ کو کمرے سے بلا کر لاتی ہوں تم فون ہولڈ پر رکھو گے یا دوبارہ کال کرو گے……؟ ؟؟ سارہ نے فون کان ساتھ لگاتے ہوئے ولی سے پوچھا
میں انتظار کر رہا ہوں آپ بلا دیں….. ولی نے اپنے آس پاس جگمگاتی رنگ برنگی روشنیوں کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا.
بیٹا ایک بات تمہیں کہنی تھی آئمہ اور بیا دونوں کو ہم نے بہت لاڈ پیار سے پالا ہے وہ بہت معصوم بچیاں ہیں اس دنیا کی چالاکیاں سے واقف نہیں. بھولی بھالی سی……. لفظ بھولی بھالی پر ولی نے چونک کر فون کان سے ہٹایا.
یہ بیا کب سے “بھولی بھالی” ہو گئی…… چلو آئمہ کے بارے میں “فرض” کر لیتے ہیں. ولی دل میں سوچتا ہوا دوبارہ فون سننے لگا.
سارہ نے آگے کیا کہا تھا ولی نے سنا نہیں مگر سارہ کی ہاں میں ہاں ملانے لگا.
پھپھو آپ اتنی سردی میں یہاں بیٹھی کس سے باتیں کر رہیں ہیں…… اس سے پہلے سارہ ان کے کمرے میں جاتیں بیا تخت پوش پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ چکی تھی.
جاؤ جا کر آئمہ کو بلا کر لاؤ ولی کا فون ہے….. سارہ بیگم نے آنکھیں نکالتے ہوئے بیا سے کہا
ہائے سچی…… بیا نے پر جوش آواز میں پوچھا میری بھی بات کروائیں ناااااااا……. آخر میں ان کی سالی ہوں.
لڑکی کبھی تو ہوش کے ناخن لیا کرو تم کیا بات کرو گی ان میاں بیوی میں تمہارا کیا کام……؟ ؟؟ سارہ پھپھو نے فون کے مائیک پر ہاتھ رکھتے ہوئے ڈانٹا.
آئمہ ابھی نماز پڑھ رہی ہے تب تک مجھے بات کرنے دیں ناااااا……. بیا نے کہتے ساتھ فون سارہ پھپھو کے ہاتھ سے لے لیا جبکہ سارہ سر نفی میں ہلاتی اپنے کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں.
ہیلو مسٹر لندن کیسے ہیں……. ؟ بیا بڑی مشکل سے “لنڈا” کا لفظ روک کر اسے “لندن” میں تبدیل کیا اور اپنی بروقت ذہانت پر خود کو خود ہی داد دی.
بیا میں نے آئمہ سے بات کرنی ہے…. ولی نے مسکراتے ہوئے کہا
ہمارے پاکستان میں ایک رواج ہے پوچھیں وہ کیا……؟ بیا نے ولی کو جواب دینے کی بجائے الٹا سوال کیا.
جی بتائیے……. کیونکہ بتائے بغیر آپ کو “چین” نہیں آئے گا.
شکریہ شکریہ…. نوازش ہے آپ کی…….. کہ آپ مجھ ناچیززز کو جاننے لگے ہیں. بیا نے شرارتاً جواب دیا اتنی دیر میں آئمہ بھی اپنے کمرے سے باہر آ گئی جسے بیا نے ہاتھ کے اشارے سے اپنے پاس بلایا.
ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ ہمارے پاکستان میں جب داماد باہر کے ملک ہو اور وہ غلطی سے اپنی بیگم سے بات کرنے کے لیے سسرال فون کر لے تو………. بیا نے تو کو لمبا کیا.
تو……. ولی کو بیا کی بات عجب لگی.
تو یہ میرے بھولے بھالے دولہا بھیا……… بیگم کو چھوڑ کر سب باری باری اُس سے بات کرتے ہیں جب تک اس بیچاری کا نمبر آتا ہے کال کٹ جاتی ہے.
بیا نے مزے سے آئمہ کی طرف دیکھ کر کہا جبکہ آئمہ اس کے پاس ہی تخت پوش پر مسکراتے ہوئے بیٹھ گئی تھی.
مجھے امید ہے کہ آپ جیسی “سمجھدار لڑکی” جس کے “سسرال” میں موجود ہو وہاں ایسا کچھ نہیں ہو گا اور آپ میری بات فوراً میری بیگم سے کروا دیں گی.
ولی بیا کی باتوں سے محظوظ ہوتے ہوئے گویا ہوا.
گو کہ آپ نے اپنی طرف سے مجھے “بھرپور مکھن” لگایا ہے مگر پھر بھی میں آپ پر “احسان عظیم” کرتے ہوئے آپ کی بات اس “بےوقوف لڑکی” سے کروا دیتی ہوں……. بیا نے فون آئمہ کو دیا.
میں آپ کا احسان یاد رکھوں گا……… ولی نے پینٹ کی جیب میں سردی سے بچنے کے لیے ہاتھ ڈالا اور گیلی سڑک پر آہستہ آہستہ چلنے لگا
اسلام علیکم………. کچھ دیر بعد آئمہ کی آواز ولی کو سنائی دی.
پہلے سچ سچ بتاؤ تم آئمہ ہو یا بیا……. ؟؟؟ کیونکہ بیا سے کچھ بعید نہیں کہ وہ مجھے آلو بنا رہی ہو………. ولی کی بات پر آئمہ اور بیا نے ایک ساتھ قہقہ لگایا
کیا یاد کریں گے بخشا آپ کو……… میں جا رہی ہوں مجھے اتنی سردی میں دوسروں کی باتیں سننے کا شوق نہیں……….. بیا کہتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی.
کیا چیززز ہے قسم سے یہ جو آپ جناب کی کزن ہیں محترمہ بیا صاحبہ …… ولی نے جب دوسری طرف مکمل خاموشی محسوس کی تو خود ہی بات کا آغاز کیا.
جی وہ شروع سے ایسی ہی ہے…. آئمہ کی شرم فطری تھی.
کیا کر رہی تھی……؟ ؟؟ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد دوبارہ ولی نے بات کو آگے بڑھایا.
کچھ نہیں…… آئمہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا بات کرے.
کچھ نہیں……. یہ کیا بات ہوئی….. کچھ تو کر رہی ہو گی ناااااااا……. ولی مسکرایا
نماز پڑھ رہی تھی. آئمہ کا چہرہ سرخ ہوتا جا رہا تھا. حالانکہ وہ معمولی باتیں کر رہا تھا مگر پھر بھی اِس طرح اکیلے میں اس سے بات کرنا آئمہ کو بڑا عجیب لگ رہا تھا.
یہ تو بہت اچھی بات ہے نماز پڑھنے کے بعد بندہِ خدا دعا بھی مانگتا ہے تم نے کیا مانگا……… ؟؟؟
سب اپنے لیے ہی مانگا ہے یا کچھ میرے لیے بھی مانگا…. ولی کو یہ ڈری سہمی سی لڑکی اچھی لگ رہی تھی. ورنہ جس سوسائٹی میں وہ پروان چڑھا تھا وہاں شرم نام کا ” لفظ” ہی نہیں تھا.
آئمہ کو کچھ سمجھ نہیں آئی کہ وہ اس بات کا کیا جواب دے اس لیے اس نے خاموشی میں ہی عافیت جانی.
تمہیں مجھ سے بات کرنے میں “شرم” آ رہی ہے بار بار چپ کیوں کر جاتی ہو….. ولی اب آئمہ کی خاموشی سے تنگ پڑ رہا تھا.
ولی کے اس جملے نے آئمہ کی رہی سہی ہمت بھی ختم کر دی اور اس نے جلدی سے فون بند کر دیا معبادہ وہ فون سے باہر ہی نہ آ جائے. اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر خود کو نارمل کرنے لگی. جبکہ ولی اس کی حرکت پر پہلے حیران ہوا پھر ہنسنے لگا. پاگل لڑکی…..
محبتوں کی امین لڑکی
وہ پارسا وہ حسین لڑکی
شرمگیں لہجہ جھکی ہیں پلکیں
وہ آبرو جیسی مبین لڑکی⁦
گھائل کرے جو محبت سے اپنی
وہ وفا کا پیکر یقین لڑکی
اک نظر جو دیکھو گے واللہ
وہ واجب المحبت وہ دلنشین لڑکی
🎀🎀🎀🎀
اچھا تو پھر اِن سب باتوں کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں حارب اور بیا کی شادی جلد کر دینی چاہیے مگر اتنی جلدی سب انتظامات کیسے ہوں……. ؟
کرن بیگم نے سب کی باتیں سننے کے بعد اپنی رائے دی.
مجھے بھی اعتراض ہے یہ کیا بات ہوئی آگے آئمہ کی شادی “سادگی” سے کی ہے اور اب حارب کی بھی…….. نہیں مجھے منظور نہیں کم از کم میں “حارب” کی شادی تو “دھوم دھام” سے کروں گی…… ثنا بیگم نے ناراضگی سے سب کی طرف دیکھا
ویسے چھوٹی بہو کہہ تو ٹھیک ہی رہی ہے ایک ہی پوتا ہے میرا……… میرے بھی کچھ ارمان ہیں…… دادی رقیہ نے بھی حصہ اور بہوؤں کی سائیڈ لی.
تم دونوں اس بارے میں کیا کہتے ہو….؟؟؟ داجی نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے راجہ خرم
اور فرخ سے پوچھا
ہماری بات تو ان کی سمجھ میں آ نہیں رہی مگر آپ تو سمجھیں……. راجہ فرخ نے داجی کو سمجھانے کی کوشش کی.
اب آپ زیادتی کر رہے ہیں چھوٹے بھیا…… سارہ نے بھی احتجاج کیا.
میرے خیال سے ہمیں سب سے پہلے بیا اور حارب کا نکاح سادگی سے کر دینا چاہیے اور پھر حارب کی جاب لگتے ہی دونوں کی شادی دھوم دھام سے…….. کیا کہتے ہو اس بارے میں…..؟؟ ؟ داجی نے تجویز دیتے ہوئے سب کی طرف دیکھا
مگر مجھے یہ ٹھیک نہیں لگ رہا …. راجہ خرم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
تو پھر کھل کر بات کرو کہ تم کیا چاہتے ہو…..؟ دا جی کی بات پر خرم نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا.
میں خیال سے اب ہمیں بچوں کے بارے میں کچھ اہم فیصلے کرنا ہونگے.
جیسے…… راجہ فرخ نے چونکتے ہوئے پوچھا
جیسے اب آئمہ کو ولی پاس “لندن” جانا چاہیے دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملنا چاہیے…… پتہ نہیں کیوں مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہم نے اسے پاکستان روک کر اچھا نہیں کیا.
ہاں…..!!! آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں میرا بھی یہی خیال ہے….. سارہ کو ولی کی کال یاد آ گئی.
اچھا اور……… راجہ فرخ نے قدرے ناگواری سے پوچھا
اور یہ کہ اب حارب اور بیا بڑے ہو گئے ہیں ویسے تو ہماری تربیت اور گھر کا ماحول دونوں ہی بہت اچھے ہیں مگر “شیطان” کا کیا بھروسہ کب وار کر دے آپ لوگ میری بات سمجھ رہے ہیں نااااا…………. راجہ خرم نے اپنی بات کے آخر میں سب کی طرف دیکھا.
معاف کیجیے گا بڑے بھائی مگر مجھے آپ کی بات زرا پسند نہیں آئی ہے.
پہلی بات یہ کہ ہم اتنی دور “پردیس” میں کیسے اپنی معصوم سی بچی بھیج دیں. اگر آئمہ آپ کی اپنی اولاد ہوتی تو آپ کبھی ایسا نہ کہتے اور………… میرا حارب وہ بھی “انتہائی شریف” بچہ ہے مجھے حیرت ہے آپ آج کیسی باتیں کر رہے ہیں……؟ ؟؟ نہ چاہتے ہوئے بھی راجہ فرخ تلخ ہوئے.
کمرے کا ماحول یکدم بدل گیا سب ایک دوسرے کو عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے.
فرخ بڑے بھائی سے کیسے بات کر رہے ہو تمہیں شرم آنی چاہیے……..وہ جو بھی کہہ رہا ہے بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے……….. آئمہ جتنی تمہاری بیٹی ہے اتنی ہی یہاں پر موجود ہم سب کی بھی ہے…….. رہی بات حارب کی تو یہاں پر بھی خرم کی بات وزن رکھتی ہے فتنے کا دور ہے تم بھی ماشاءاللہ سوجھ بوجھ رکھنے والے ہو…… اپنے اردگرد دیکھو کیا نہیں ہو رہا. کیا ہم بھی کچھ غلط ہونے کا انتظار کریں……. ؟
دونوں خیر سے جوان بھی ہیں اور سمجھدار بھی تو اس بات میں حرج کیا ہے……. ؟؟؟ داجی کی بات پر تھوڑی دیر کے لیے خاموشی چھا گئی. جسے راجہ خرم کی آواز نے توڑا.
مجھے تم نے بہت دکھ دیا ہے چھوٹے……… آئمہ مجھے بیا سے بھی زیادہ پیاری ہے مگر تم خود سوچو یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ ہم اُسے اُس کے شوہر سے دور رکھیں.اس طرح گھر نہیں بستے…… ؟ راجہ خرم نے سمجھانے والے انداز میں اپنے برابر بیٹھے فرخ کی طرف دیکھا جو اب شرمندہ دکھائی دے رہے تھے.
ٹھیک ہے جیسا پھر آپ لوگوں کو مناسب لگتا ہے ویسا کر لیں. بالآخر راجہ فرخ نے ہتھیار ڈالے.
چلو جی بس پھر طے ہے کہ اگلے چاند کی “چودہ” تاریخ کو بیا اور حارب کی شادی پکی…… اور جب ولی شادی میں شرکت کے لیے آئے گا تو واپسی پر آئمہ اس کے ساتھ جائے گی…… داجی کے فیصلے پر سب نے خوشی خوشی ایک دوسرے کو دیکھا.
🎀🎀🎀🎀
جاری ہے.