Visal-e-Javedan by Malaika Sheikh readelle50001 Episode 55 Last
No Download Link
Rate this Novel
Episode 55 Last
المیرا سرخ جوڑے میں سجی بیڈ پر بیٹھی یوشع کا ویٹ کررہی تھی…. وہ دونوں سادگی سے نکاح کرچکے تھے….. اور جہان کا ساری زندگی کیلۓ علی پر ایک احسان رہ گیا تھا جسے وہ اپنی جان دے کر بھی کبھی نہیں اتار پاۓ گا….. یوشع ڈور کھولتا روم میں داخل ہوا….. بیڈ پر بیٹھا… المیرا نے نظریں جھکائ….. یوشع مبہوت سا اس کو دیکھے گیا….. کافی دیر بھی کچھ نہ بولنے پر المیرا نے نگاہ اٹھا کر یوشع کو دیکھا…. یوشع کی آنکھوں میں نمی تھی……
آپ کی آنکھوں میں……” یوشع نے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی….. نفی میں گردن ہلائ….. وہ المیرا کے گلے لگا…..
مہرو…..” المیرا نے بھی اپنی آنکھیں بند کی…..
مہرو مجھے یقین نہیں ہورہا کہ تم آج واقعی میرے ساتھ میرے سامنے ہو’ تم پر صرف میرا حق ہے’ ہمارے درمیان کوئ تیسرا نہیں’ معجزے ایسے بھی ہوتے ہیں مہرو’ مجھے لگا تھا میں تمھیں ہمیشہ کیلۓ کھودو گا’ مگر معجزے ہوتے ہیں’ مجھے ایسا لگتا ہے میں کوئ خواب دیکھ رہا ہو اور آنکھ کھلتے ہی یہ حسین پل ختم ہوجاۓ گے…..” یوشع کی آنکھ سے موتی ٹوٹ کر گرا تھا….. مگر آج یہ آنسو دکھ کے نہیں خوشی کے تھے….. وہ کچھ پل بعد اس سے دور ہٹا….. المیرا نے اس کے آنسو صاف کۓ…..
المیرا نفل ادا کرے’ تم نے کہا تھا تمھاری خواہش تھی……”یوشع نے المیرا کے ہاتھوں کو تھامتے ہوۓ کہا…..
آپ کو یاد ہے اب تک…..”
تمھارے ساتھ گزارا ہوا ایک ایک پل ایک ایک لمحہ مجھے حرف بہ جرف یاد ہے’ میں کچھ نہیں بھولا مہرو…..” المیرا نے گردن جھکائ…..
نو سیڈنیس اونلی ہیپی نیس’ تم نے کہا تھا نہ آگے بڑھنے کیلۓ ہمیں اپنا پاسٹ بھولنا ہوگا’ تو بھول جاۓ گے وہ سب جس نے ہمیں تکلیف دی’ وہ لمحہ جس میں ہم ایک دوسرے سے جدا ہوۓ تھے’ بھول جاۓ گے سب تلخ یادیں’ آج سے ہماری ایک نئ زندگی شروع ہے’ اور میں وعدہ کرتا ہو تم سے کبھی زندگی میں تمھیں کوئ دکھ نہیں دو گا’ اب صرف محبت ہوگی ہر طرف خوشیاں ہوگی’ تم میں ہادی باقی سب’ ہیپی فیملی…..”
المیرا نے نم آنکھوں سے اثبات میں سر ہلایا…… یوشع نے اٹھ کر ڈرا سے کچھ چیزیں نکالی….. المیرا کے سامنے کی…..
اس نے سب سے پہلے اسے وہ لاکٹ دیا تھا جو وہ آتے وقت ماہی کو دے آئ تھی’ جس پر یوشع لکھا تھا…..”
آپ نے یہ اب تک رکھ رکھا ہے……”
جو چیز تمھاری ہے وہ صرف تمھاری ہے مہرو…..” یوشع نے خود اسے وہ گولڈ کا لوکٹ پہنایا…..
اس کی انگلی میں وہی رنگ پہنائ جو وہ آتے وقت ماہی کے ہاتھ پر رکھ آئ تھی’ان کی انگیجمنٹ رنگ……” یوشع نے اس رنگ پر اپنے لب رکھے….. المیرا کے پورے جسم میں ایک کرنٹ سا دوڑا…..
سب سے اینڈ میں یوشع نے وہ ڈائمنڈ کا سیٹ نکال کر المیرا کو دیا تھا….. جوکہ بہت خوبصورت تھا…..
کچھ پل بعد وہ دونوں اپنے رب کے حضور شکر کا سجدہ کررہے تھے’ المیرا نے اپنی خواہش کے مطابق یوشع کی امامت میں نفل ادا کۓ…. دونوں نے دعا میں رب کا شکر ادا کیا….. اورجیسے المیرا نے کہا تھا کہ آپ سے سورہ رحمن کی تلاوت سننی ہے تو یوشع نے دعا سے فری ہوکر سورہ رحمن کی تلاوت کی…. اور جب وہ اس آیت پر پہنچا……
“تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے” المیرا نے اس آیت پر سب سے پہلے یوشع اور پھر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر رب کا ایک بار پھر شکر ادا کیا……
اور پھر معجزے ہوتے ہیں…. دعائیں سن لی جاتی ہے…… فیکون کہہ دیا جاتا ہے…… صحیح اور مقررہ وقت پر آپ کو آپ کے من پسند شحص کا ساتھ دے دیا جاتا ہے…. بس صبر کرنے کی دیر ہوتی ہے…. اللّه کا انصاف شروع ہوجاتا هے…. صبر کا صلہ اللّه دیتا ہے….. انہوں نے صبر کیا تھا اور آج وہ ایک دوسرے کے سنگ تھے….. ایک دوسرے کیلۓ حلال کردۓ گۓ تھے….. بس صرف صبر ضروری ہوتا ہے….. صبر کرو اور اللّه کو پالو…… پھر اللّه تمھاری من پسند چیز تم تک لاۓ گا نہ وقت سے پہلے نہ وقت کے بعد بالکل مقرر کردہ وقت پر…. پرفیکٹ ٹائم پر….. اور اللّه سے بڑھ کر پرفیکٹ ٹائمنگ کس کی ہوتی ہے…… کسی کی بھی نہیں……
___________
یو یوشع پلی پلیز…..” المیرا نے اس کی قربت میں بےحال ہوتے ہوۓ کہا…..
نہیں مہرو جتنا وقت برباد کرنا تھا’ کرلیا’ پانچ سال تمھارا انتظار کیا ہے’ تمھیں پانے کیلۓ تڑپتا رہا ہو’ میں نے تمھیں کہا تھا کہ ایک دن تم سے اپنے تمام حقوق پورے حق سے وصول کرو گا’ آج کے دن یہ دستبرداری ممکن نہیں ہے مہرو…..” مدہوش ہوتے اس کے چہرے ہر بھیگے لمس چھوڑتے وہ بہت گھمبیر لہجے میں کہہ رہا تھا…..
آج سنو ان دھڑکنوں کے ارتعاش کو مہرو جنہوں نے تمہاری جدائ کے تمام لمحوں میں کسی بےجان چڑیا کی طرح پھڑپھڑاتے تمھارے قرب کے لمحے مانگے ہیں’ تمھاری محبت تمھارا ساتھ مانگا ہے…….” المیرا نے بےقابو ہوتے دل پر جبر کرکے بیڈ شیٹ کو اپنی مٹھیوں میں جکڑا…. یوشع اس کی اس حرکت پر مسکرایا….. اور پھر مزید اس پر اپنی گرفت سخت کرتا چلا گیا…….
دور کہی آسمان پر سے جھانکتا چاند آج اداسی سے نہیں دل سے مسکرایا تھا…. آج وہ ان دو بچھڑے لوگوں کے ملن پر خوش تھا….. محبت کے اتنے کڑے امتحان کے بعد آج وہ ایک دوسرے کے سنگ تھے…. کتنا کچھ کھوکر آج انہوں نے ایک دوسرے کو ہمیشہ کیلۓ پالیا تھا…. چاند شرماتا بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا….. ایک نئ زندگی کی صبح’ ایک نئ زندگی ان دونوں کی منتظر تھی ایک نئ زندگی جہاں بس محبت ہونی تھی’ کوئ جدائ نہیں صرف ملن……
**
سات سال بعد:
المیرا کچن میں کھڑی بچوں کا بریک فاسٹ تیار کررہی تھی….. یوشع بھی وہی آیا…. المیرا کو کام میں مصروف دیکھ اسے شرارت سوجھی تھی…. ہلکے ہلکے قدم اٹھاتا اس کے قریب آیا….. پیچھے سے اس کو ہگ کرتا اس کی گردن پر اپنے لب رکھے…… المیرا نے آنکھیں چھوٹی کرکے اس کو گھورا…..
یہ کونسا ٹائم ہے رومینس کا……”
تم کبھی رومینس کرنے دیتی ہو مجھ بیچارے کو……” یوشع نے معصوم سی شکل بناکر کہا…..
اچھا بہت ہوا ٹھرک پن ہٹے بچوں کا ٹائم ہورہا ہے آنے کا وہ آجائیں گے اچھا نہیں لگتا’ چھوڑے سائڈ میں ہو…..”
ایک تو یہ تمھارے گندے انڈے چوبیس گھنٹے میرے رومینس کے دشمن بنے رہتے ہیں’ مجال ہو جو کبھی اپنی ماں کو اکیلا چھوڑدے…”
اگر میرے بچوں کو کچھ بھی بولا تو سر پھاڑ دو گی شہری میں آپ کا…..”
ماما…..” اور پھر چار سالہ ام ہانی اور حارث اپنی ماں کو پکارتے کچن میں اینٹر ہوۓ تھے…. اپنے باپ کو دیکھا…. واٹر گن سے یوشع کی کمر کو اپنا نشانہ بنایا…. یوشع فورا المیرا سے دور ہٹا…..
آپ پھر میری ماما کے قریب آۓ……” حارث نے کہا…..
آگۓ میرے دشمن……” یوشع نے ماتھا مسلتے ہوۓ کہا….. المیرا کو ہنسی آئ…..
میرے پیارے بچے…..” المیرا نے نیچے بیٹھ کر بانہیں پھیلائ….. دونوں المیرا کی بانہوں میں چھپ گۓ تھے…..
ام ہانی اور حارث دونوں جڑواں تھے….. اور شرارتوں میں یوشع سے دس ہاتھ آگے تھے….. جہاں بھی یہ دونوں اپنے باپ کو اپنی ماں کے قریب جاتے دیکھ لیتے وہی اپنی ماں کے محافظ بن کر اپنی ماں کے آس پاس ہی گھومتے رہتے تھے…. اور جب سے ان دونوں کے پاس واٹرگن آئ تھی….. یوشع کی دن رات کی نیندیں حرام ہوگئ تھی….. جب سے یہ دو ان کی زندگی میں آۓ تھے….. یوشع المیرا کے پاس جانے سے رہ گیا تھا….. جب بھی یوشع قریب آتا وہ دونوں پہلے المیرا کی گود میں چڑھ کر سوجاتے تھے اور پھر ان کو سلاتے سلاتے المیرا خود بھی نیند کی وادیوں میں کھوجاتی تھی…. اور پھر جب المیرا سورہی ہوتی تو یوشع بھی پھر المیرا کو تنگ نہیں کرتا تھا… بقول یوشع کے اس کے یہ دو گندے انڈے بہت خراب ہے…… اپنے باپ کے رومینس کے دشمن ہے……
اچھا چلو جلدی بیٹھو بریک فاسٹ کرو پھر سکول وین آجاۓ گی لیٹ ہوجاؤ گے…..”
ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا ان دونوں کو سکول جوائن کۓ اور جب سے ان کا سکول سٹارٹ ہوا تھا کہی جاکر اب یوشع کی زندگی میں کچھ سکون آیا تھا…..
ماما……” گیارہ سالہ ہمارا پیارا اور کیوٹ سا میرہادی بھی بالکل تیار سا کچن میں داخل ہوا تھا…… المیرا نے ہادی کو سگی ماں سے بڑھ کر محبت دی تھی…. اپنے سگے بچے آنے کے باوجود بھی اس نے ہادی کو پیار کرنا نہیں چھوڑا تھا….. المیرا نے ہادی اور اپنے بچوں میں کبھی فرق نہیں سمجھا…. بلکہ اپنے بچوں میں سب سے زیادہ اس نے ہادی سے محبت کی ہے….. ماہین نے سچ کہا تھا المیرا ہادی کا سگی ماں سے بڑھ کر خیال رکھتی اور اس سے محبت کرتی ہے…… المیرا نے جلدی جلدی تینوں کو بریک فاسٹ کروایا…..
چلو بچوں تمھاری سکول وین آگئ ہے’ جلدی کرو……” یوشع نے کہا….. ام ہانی اور حارث اپنے اپنے بیگ اٹھا کر یوشع اور المیرا سے پیار لیتے باہر کی طرف بھاگے….. میرہادی آج بھی ویسا ہی تھا… کبھی بھرپور شراتیں تو کبھی سنجیدہ….اور آج بھی اتنا ہی خوبصورت….. وہ المیرا کے قریب رکا…..
ماما……” ہادی نے آنکھیں پٹپٹاکر کہا….
جانتی ہو بیٹا…..” وہ نیچے کی طرف جھکی…. ہادی کے ماتھے کو چوما…..
فی امان اللّه ماما کی جان…..” وہ ہنستا مسکراتا کچن سے باہر نکلنے لگا…. یوشع کے پاس رکا…..
ڈیڈ’ سٹے آوے فرام مائ موم’ انڈرسٹینڈ…..”
افففف…..” یوشع نے بال نوچے…..
لو ہاتھ جڑوالوں نہیں جارہا میں تمھاری ماں کے قریب’یار وہ دونوں کم تھے جو تم بھی شروع ہوگۓ……” ہادی مسکرایا….. یوشع نے ہادی کے ماتھے پر لب رکھے….. اور اس کے ساتھ گیٹ تک باہر گیا…… جو بھی تھا تینوں بچے یوشع کی جان تھے… جان بستی تھی یوشع کی ان تینوں میں…… اور سب سے بڑھ کر بچوں کی ماں میں…… المیرا یوشع کیلۓ بریک فاسٹ بنانے میں مصروف ہوگئ…..
ہاۓ میری جان……” کچھ دیر بعد یوشع واپس آیا تھا….. المیرا کا رخ اپنی طرف کیا…. المیرا یوشع کی محبت میں پہلے سے زیادہ نکھرگئ تھی…. اس کی جسامت بھی تھوڑی سی بڑھ گئ تھی…… اور المیرا کے ان پھولے ہوۓ گالوں پر تو یوشع کو رج کر پیار آتا تھا…. کبھی وہ المیرا کے گالوں کو زور سے کھینچ دیتا تو کبھی ان پر اپنے دانت گاڑ دیتا….
یوشع میں کہہ رہی ہو میرے قریب مت آنا…..”
اہم اہم’ گھر میں کوئ نہ ہو اور تم میری قربت سے بچ جاؤ ایسا ہوسکتا ہے کیا……” اس نے المیرا کو سلیپ پر بٹھایا…… اور پھر وہ اس کے چہرے پر اپنی محبت کی بارش کرنے لگا تھا…….
ان کی زندگی حسین ہوگئ تھی….. آج ان کی زندگی میں صرف خوشیاں تھی…. وہ ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش ہیں…… اب یوشع کو بھی اپنی یہ فیملی چھوٹی نہیں لگتی تھی….. وہ دو اور ان کے تین…… ایک ہیپی فیملی………
***
علی نے اخبار کو نیچے کرکے سامنے کھڑے اپنے ان تین بچوں کو دیکھا…. جو لائن سے ایک ساتھ تیار کھڑے تھے…… علی نے اخبار فولڈ کرکے صوفے پر رکھا….. عینک کو آنکھوں پر اچھی طرح ٹکایا….. علی نے سب سے پہلے گیارہ سالہ زاور پھر آٹھ سالہ ذیان اور پھر اپنی تین سالہ گڑیا کے ماتھے کو باری باری چوما…… زاور ذیان دونوں باہر کی طرف بھاگے کیونکہ سکول وین آگئ تھی…… انسا بھی اپنے بھائیوں کے پیچھے بھاگنے لگی تھی مگر علی نے پکڑ کر اپنی گود میں بٹھالیا….
اووو میری گڑیا کہاں بھاگ رہی ہو…..”
بابا متھے بھی تتول دانا ہے(مجھے بھی سکول جانا ہے)……” انسا نے توتلی زبان میں کہا…. کیونکہ اس کو اب تک ٹھیک سے بولنا نہیں آیا تھا…. وہ جب بھی بولتی اس کی زبان میں لڑکھڑاہٹ ہوتی تھی…… وہ باقی بچوں سے ذہانت اور بولنے کے معاملے میں بہت پیچھے رہ گئ تھی……
چلی جانا میری گڑیا مگر پہلے بڑی تو ہوجاؤ پھر سکول بھی چلی جانا…..”
نہیں بابا ابھی دانا ہے بھائ تاتھ( ابھی جانا ہے بھائ ساتھ)……” علی زور سے ہنسا…… علی کو اس کی باتوں پر ہمیشہ یوہی ہنسی آتی تھی…. وہ سب سے زیادہ لاڈلی تھی علی اور یوشع کی….. اور پھر سب بچوں میں سب سے چھوٹی بھی تھی….. انسا کے بولنے پر سب سے زیادہ حارث مزاق اڑاتا تھا….. اور بدلے میں یوشع سے ڈانٹ بھی خوب کھاتا تھا….. علی نے زینب کو کچن سے نکلتے دیکھا….. وہ علی کو دیکھتی اوپر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئ…..
اچھا میری گڑیا آپ ذرا اپنے دادا دادی کا سر کھاؤ’ بابا کو آفس جانا ہے نہ’ بابا ابھی آۓ….” وہ انسا کو اپنی ماما کی گود میں دیتا اوپر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا…..
یہ کبھی نہیں سدھر سکتا…..” مسز عمران نے مزاق بنایا….. عمران صاحب بھی ہنسے…..
زینب وارڈروب سے علی کے لۓ کپڑے نکال رہی تھی…. علی نے آکر کمر پر چٹکی کاٹی…..
اوئ اللّه …..” زینب کرنٹ کھاکر اچھلی….. علی کو گھورا…..
کیا ہے آپ کو’ مت ڈسٹرب کرے جاۓ فریش ہو’ میں بریک فاسٹ ریڈی کردیتی ہو’ یہ لے آپکے کپڑے…..” مگر وہ تو اس کو تنگ کرنے کے موڈ میں تھا…..
اہم اہم نہیں جاؤ گا پہلے چمی دو…..” علی نے گلا گہنگارتے ہوۓ کہا…..
علی شرم کرلے تین بچوں کے باپ ہوگۓ ہو مگر آپکا رومینس ختم ہونے کا نام نہیں لیتا…..” علی مسکرایا….. زینب نے اس کا رخ دوسری طرف کیا… کمر پر زور لگا کر علی کو واشروم کی طرف بھیجنا چاہا….. وہ دو قدم آگے بڑھ کر رک گیا….. علی نے واپس دو قدم پیچھے کۓ…. زینب نے پھر زور لگا کر اس کو آگے کیا تھا….. ایک بار پھر اس نے وہی حرکت کی…..
افففف کیا ہے جاۓ نہ فریش ہوجاۓ’ مت تنگ کیا کرے اتنا…..”
اہم اہم……” علی نے گال پر انگلی….. زینب نے علی کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا….. اس کے گال پر اپنے لب رکھتی دروازے کی طرف بھاگ گئ…..
جتنا بھی دور بھاگ لو جانےمن رات کو واپس میرے پاس ہی آنا ہے…..”’
ارے جاۓ جاۓ وہ ہاتھ ہلاتی باہر نکل گئ….. علی بھی واشروم کی طرف بڑھ گیا……
***
ایمان جہان کے سینے سے لگی کھڑی تھی…..
جہان ایک بات پوچھو آپ سے….”
ہممم پوچھے…..”
کیاآپ کے دل میں اب بھی المیرا کی محبت ہے…..” اور ایک یہی سوال تھا جس کا جہان کے پاس کوئ جواب نہیں ہوتا تھا….تین سال ان کی شادی کو ہوگۓ تھے مگر جہان المیرا کو نہیں بھول پایا تھا….. جہان نے بھی اپنی لائف کے چار سال المیرا کی یاد میں گزار دۓ تھے…. چار سال ہوگۓ تھے سب کی شادی کو…. جہان کی بہن صفیہ بھی دو بچوں کی ماما بن چکی تھی مگر جہان اپنی لائف میں آگے نہیں بڑھ پایا…. وہ المیرا کوچھوڑ تو آیا تھا یوشع کیلۓ مگر المیرا کے بعد کسی اور کو اپنی لائف میں شامل کرنے کا خیال کبھی دل میں پیدا نہیں ہوا…..
کیوں اجڑگئ میری دنیا؟؟؟
ابھی تو میں نے عشق کرنا تھا…..
کچھ ہنسنا تھا, کچھ رونا تھا…..
کچھ پانا تھا, کچھ کھونا تھا….
کچھ اقرار اس نے کرنا تھا…..
کچھ انکار میں نے کرنا تھا…..
ابھی تو میں نے عشق کرنا تھا…..
پیار, محبت, دیوانگی, جنون…..
یہ جزبے کیسی حدت رکھتے ہیں؟؟؟
ابھی تو ان کو محسوس کرنا تھا…..
کچھ اس کے بھی دل میں ہلچل ہونی تھی….
کچھ جزبوں نے رقص کرنا تھا…..
ابھی تو میں نے عشق کرنا تھا…..
کچھ دیکھ کر بھی ان دیکھا کرنا تھا….
کچھ نظروں نے حسد اور کچھ نے رشک کرنا تھا….
کچھ محسوس کرکے بھی بےحس بننا تھا….
کچھ تڑپ اس نے سہنی تھی…..
کچھ درد میں نے سہنا تھا…..
ابھی تو میں نے عشق کرنا تھا…..
)کرن رفیق(
جہان کھڑکی کے پاس جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا….. جب صفیہ نے پیچھے سے آکر اس کی کہنی تھامی……
بھائ……”
بولو…..”
بھائ کب تک چلے گا ایسا’ میری شادی کو بھی چار سال ہوگۓ ہیں’ اب تک تو آپ کو بھی دو بچوں کا بابا بن جانا چاہیے تھا’ کیوں خود کو اذیت دے رہے ہیں’آپ خود ہی تو المیرا کو چھوڑ آۓ تھے’اپنا نہ سہی ماما کا ہی سوچ لے……”
ابھی میرا دل نہیں ہے شادی کا’ جب ہوگا کرلو گا…..”
بھائ ایک بات کہو’ آپ ایمان سے شادی کرلے……” جہان نے صفیہ کو دیکھا…..
وہ صرف میری ایک دوست ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں’ اور ویسے بھی کیا وہ مجھ سے شادی کرلے گی’ میری اس کی دوست کے ساتھ نسبت رہی ہے’ کیا وہ قبول کرلے گی مجھے……”صفیہ ہلکا سا مسکرائ…..
بھائ آپکو یاد ہے تقریبا کئ سال پہلے جب میں ڈاکٹر بن رہی تھی تو میں نے آپکو بتایا تھا کہ میری ہوسپٹل میں جہاں ہم اکثر ٹریننگ کیلۓ جاتے ہیں وہاں میری ایک بہت اچھی دوست بنی ہے’ وہ میری سینئر ہے’اور اس نے مجھے اپنے بارے میں بتایا ہے کہ وہ کسی سے بےانتہا محبت کرتی ہے’ میں نے آپکو بتایا تھا کہ وہ لڑکی اس لڑکے سے بہت محبت کرتی ہے’ اس کیلۓ روتی ہے’ جانتے ہو بھائ میں نے اس لڑکے کو کبھی دیکھا نہیں تھا نہ اس لڑکی نے مجھے کبھی اس کی پک دکھائ’ اور مجھے اس لڑکے کی قسمت پر رشک آتا تھا کہ کوئ کسی کو اتنا کیسے چاہ سکتا ہے’ اور جانتے ہو بھائ جب میں نے پہلی بار اس لڑکی کی تصویر دیکھی تو مجھے اپنی آنکھوں پر حیرت ہوئ تھی کہ یہ وہی لڑکا ہے’ تصویر دیکھنے کے بعد میں نے اس لڑکی سے کہا وہ اسے پرپوز کیوں نہیں کردیتی تو اس نے مجھے کہا کہ وہ لڑکا کسی اور سے محبت کرتا ہے’وہ کبھی اپنی محبت کا اظہار نہیں کرے گی’ وہ بس آخری سانس تک اپنی محبت کا انتظار کرے گی’ اس لڑکی نے اپنی محبت کا کبھی کسی سے ذکر نہیں کیا تھا مجھ سے بھی پتا نہیں کیسے کرگئ تھی مگر آج مجھے لگتا ہے کہ اس نے اس وقت مجھ سے اپنی محبت کے بارے میں شئیر کرکے بہت اچھا کیا تھا’ جانتے ہو بھائ وہ لڑکی کون تھی اور وہ تصویر کس کی تھی……” جہان نے نفی میں گردن ہلائ…..
میرے پیارے بھائ وہ لڑکی کوئ اور نہیں ایمان تھی اور وہ تصویر کسی اور کی نہیں آپ کی تھی……” جہان نے کچھ حیرت سے صفیہ کو دیکھا….
ایمان کو بھی معلوم نہیں تھا کہ میں آپکی بہن ہو’ اگر اسے پتا ہوتا تو شاید وہ کبھی مجھ سے کچھ شئیر نہیں کرتی……”
تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟؟؟؟”
کیونکہ آپ کی خوشی المیرا میں تھی’ اور آپ کی خوشی مجھے سب سے زیادہ ایمپورٹینٹ تھی میں نے ایمان سے کہا تھا کہ میں آپ سے بات کرو گی مگر ایمان نے روک دیا تھا’ اور مجھے معلوم ہے وہ آج بھی آپکے انتظار میں ہے’ ایمان نے بھی تو اب تک شادی نہیں کی’ کیونکہ وہ آپکی منتطر ہے’ وہ کبھی اظہار نہیں کرے گی کیونکہ وہ کسی کا دل نہیں توڑتی’ مجھے المیرا سے زیادہ ایمان پسند تھی کیونکہ ایمان کی محبت میں نے دیکھی تھی’ اور المیرا نے تو آپ سے کبھی محبت کی ہی نہیں……” جہان کی آنکھ نم ہوئ تھی….
چلے جاۓ بھائ ایمان کے پاس وہ آپکو المیرا سے زیادہ خوش رکھے گی’ کیونکہ وہ آپ سے بےانتہا محبت کرتی ہے’ وہ آپکی کبھی بےقدری نہیں کرے گی’ آج اپنی بہن کی بات مان لے’ ایمان کو اپنا لے اس سے شادی کرلے’ چلے جاۓ بھائ اس کے پاس’ پلیز بھائ خود کی لائف کو اور برباد مت کرے’ پلیز…..”صفیہ نے جہان کے کندھے پر سر ٹکایا….. جہان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا…..
__________
ایمان لاؤنج میں اکیلی ٹہل رہی تھی…. وہ اکثر المیرا کے ساتھ یہاں ٹہلتی تھی فری ٹائم میں…… مگر اب المیرا یہاں نہیں رہی تھی….. وہ اکیلی ہوگئ تھی اس گھر میں….. جہان بھی وہی آیا…… ایمان نے آج پورے چار سال بعد جہان کو دیکھا تھا….. وہ کافی بدلا بدلا سا لگ رہا تھا….. المیرا کے جانے کے بعد وہ کبھی گھر بھی نہیں آیا تھا…… اور اچانک اس کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ حیران تھی…..
آپ یہاں اتنے سال بعد…..” جہان قدم قدم چلتا اس کے قریب آیا….
تم نے تو پوچھا نہیں سوچا میں ہی آجاؤ’ تمھارا حال احوال پوچھنے…..”
وہ میں بس ٹائم نہیں ملتا……” ایمان نے الجھ کر جواب دیا…..
ایمان…..” جہان نے پکارا… ایمان نے نظریں اٹھا کر اس کو دیکھا…….
مجھ سے شادی کرو گی؟؟؟؟” ایمان کو اپنی سماعتوں پر شبہ ہوا…..
جہان یہ آپ…..”
مجھ سے شادی کرو گی’ میری سکھ دکھ کی ساتھی بنو گی؟؟؟؟” ایمان کی آنکھیں بھیگنے لگی تھی….
میں آپکے قابل نہیں ہو جہان……”
کس نے کہا کہ تم میرے قابل نہیں’ آج کے بعد دوبارہ کبھی مت کہنا ایسا کہ تم میرے قابل نہیں’ میں المیرا کو کھو چکا ہو’ مگر اپنی ایک اچھی دوست کو کھونا نہیں چاہتا’ بتاؤ رہو گی ساری زندگی میرے ساتھ’ میری شریک حیات بن کر’ کرو گی مجھ سے شادی……” ایمان نے روتے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا….. آج اس کو بھی اس کے صبر کا پھل مل گیا تھا….. وہ روتے ہوۓ میں جہان کے سینے سے لگی….. آخر چار سال زندگی کے برباد کرنے کے بعد اس نے بھی ایمان کا ساتھ پالیا تھا……
___________
اور اب تین سال شادی کو ہوگۓ تھے…. مگر ان کے ہاں اب تک اولاد نہیں ہوئ تھی……. شادی کے بعد جہان نے کسی قسم کی پابندی ایمان پر نہیں لگائ تھی… ایمان اپنا ہوسپٹل بھی چلاتی رہی اور ساتھ ساتھ جہان کا بھی ساتھ دیتی رہی…. اور آج جہان کا بھی بزنس کی دنیا میں ایک نام چلتا تھا….. آج اس کی اپنی کمپنی تھی….. آج وہ کسی کے ہاں جوب نہیں کرتا تھا بلکہ دوسرے اس کے پاس جوب کرتے تھے….. وہ ایمان کے ساتھ خوش تھا مگر المیرا کو بھول نہیں پارہا تھا……
جہان بتاۓ نہ کیا اب بھی آپ کو المیرا کی یاد آتی ہے……” جہان خاموش رہا….. ایمان کے دل کی حسرت ہی رہ گئ کہ وہ کبھی جہان کے منہ سے اپنے لۓ محبت کا اظہار سنے…… مگر وہ پھر بھی اس سے کبھی کوئ گلہ نہیں کرتی تھی… جہان اس کے ساتھ تھا اس کیلۓ یہی کافی تھا……..
**
چند مہینے بعد:
جہان مضطرب سا کوریڈور کے چکر کاٹ رہا تھا… جب کچھ دیر بعد ایک ڈاکٹر نے لال کمبل میں لپٹے ایک ننھے وجود کو اس کی گود میں دیا تھا….. جہان نے اپنے بیٹے کی پیشانی پر بوسہ دیا…. اس کی آنکھیں نم ہوگئ تھی….. جہان کی ماں نے بھی جہان کے ماتھے پر پیار کرتے اس کو مبارکباد دی تھی….. جہان نے اس ننھے وجود کو اپنی ماں کی گود میں دیا…… تقریبا آدھے گھنٹے بعد جہان کو ایمان سے ملنے کی جازت دی گئ تھی….. وہ دروازہ کھول کر روم میں داخل ہوا تو ایک بار پھر اس کی آنکھیں نم ہوئ تھی….. جہان چلتے چلتے ایمان کے قریب آیا…. نیچے جھک کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا….. جبکہ جہان کے آنسو اس کے چہرے پر گرے تھے…. ایمان نے بےساختہ آنکھیں کھولی….
جہان……”
مبارک ہو ہمارے بیٹا ہوا ہے’ جو بالکل تمھارے جیسا ہے ہاں مگر اس کی آنکھیں مجھ پر گئ ہے……” جہان نے مسکراتے ہوۓ کہا…. ایمان بھی مسکرائ……
مجھے اپنے بیٹے کو دیکھنا ہے جہان…..”
ہاں دیکھ لینا’ مگر بعد میں کیونکہ ابھی گھر والے اس کے ساتھ بزی ہے……” ایمان نے مسکراتے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا…..
ایمان جہان شاہ’ آج مجھے اقرار کرتے ہوۓ بالکل بھی عار محسوس نہیں ہورہی کہ آپ کے عشق نے مجھے خرید لیا ہے’ آج تم نے جو اتنا خوبصورت تحفہ مجھے دیا ہے اس کے عوض آج جہان شاہ اپنے دل کو تمھارے پاس ہمیشہ کیلۓ گروی رکھتا ہے’لو یو…..” جہان نے مسکراتے ہوۓ ایمان کا ہاتھ اپنے دل پر رکھ کر کہا…… ایمان کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئ تھی……
جہان شاہ سوچ لے آپ کو اس قید سے تاحیات رہائ نہیں ملے گی……”
سوچ لیا ایمان’ اب مجھے رہائ نہیں چاہیے’ آج سے یہ زندگی بس ایمان جہان کی ہے’ اور کون اتنی خوبصورت قید سے رہائ چاہے گا میری جان……” جہان نے ایمان کے گال پر ہاتھ رکھا……
اور ویسے بھی محبت تو بس محرم سے ہی ہوتی ہے نہ…….” ایمان نے اثبات میں سر ہلایا…… آج اس خوبصورت اعتراف پر ایمان کی آنکھیں بھیگ گئ تھی…. ان گرتے آنسو کو جہان نے اپنے لبوں سے چن لیا تھا…… آج وہ بھی ایک دوسرے کے سنگ تھے…. آخر ایمان کا صبر رنگ لے ہی آیا تھا… جہان کو بھی ایمان سے محبت ہوگئ تھی……
آج سب ایک ساتھ خوش تھے…. یوشع جہانزیب کو بھی واپس لے آیا تھا…. جہانزیب بھی اپنی محبت کے ساتھ نکاح کرچکا تھا…… اور جہاں تک خدیجہ بیگم کی بات تھی ان کو بھی ان کے کۓ کی سزا مل چکی تھی…. وہ شوہر کی موت کے بعد بالکل پاگل ہوچکی تھی…..
حماد نے بھی یوایس اے میں اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کرلی تھی اور وہ بھی آج ایک خوشحال زندگی گزار رہا تھا…… آج وہ سب ایک ساتھ تھے…. کڑے امتحانوں کے بعد ان سب کی زندگی میں خوشیاں بھردی گئ…… خوشیوں نے ان کے گھر کا راستہ دیکھ ہی لیا تھا….. سب کو ان کے من پسند شخص کا ساتھ دے دیا گیا تھا…..
المیرا اور یوشع آج ساحل سمندر پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے قدم سے قدم ملا کر چل رہے تھے….. اور سامنے ہی گیلی ساحل پر تینوں بچے مٹی کا گھر بنانے میں مصروف تھے……. ان دونوں نے مسکراتے ہوۓ ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا…… وہ آج خوش تھے…….
صبر کا صلہ اللّه دیتا ہے’ جو کہ بہت خوبصورت ہوتا ہے…….
ختم شد__
ap sbke feedback ka intezar rahe ga ke ap sbko kesa laga ye novel…..
