No Download Link
Rate this Novel
Episode 07
Visal-e-Javedan وصال جاوداں
ایمان میں تمھیں کہہ رہی ہو اگر تم نے زیادہ دیر کی نہ تو میں تمھیں چھوڑ کر چلی جاؤگی…. پھر آتی رہنا خود ہی…. المیرا نے غصے سے کہا….
اووو رئیلی…. تم اکیلی چلی جاؤگی…. ایمان نے ایک آئبرو اچکا کر پوچھا….
ہاں چلی جاؤگی…. المیرا نے بھی سینے پر بازو باندھتے ہوۓ کہا….
چلو پھر دیکھتے ہیں آج تم اکیلی جاتی ہو یا نہیں…. ایمان کو معلوم ہے المیرا کبھی اکیلی نہیں جاۓ گی….
ہاں دیکھ لینا….
اور وہ دونوں شوپنگ مال کے گیٹ سے اندر داخل ہوگۓ…..
______________________
وہ دونوں شوپنگ کرنے آئ تھی…. یاں یو کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ ایمان آئ تھی اور المیرا کو اپنے ساتھ زبردستی ضد کرکے لائ تھی….. شام کا وقت تھا…. المیرا نے آنے سے منع کردیا تھا کہ وہ نہیں جاۓ گی…. مگر ایمان زبردستی لے آئ کہ پلیز چلو… ہم جلدی آجاۓ گے….. زیادہ لیٹ نہیں کرے گے…..
_____________________________
وہ دونوں اندر چلی گئ تھی….
جب یوشع بھی ہادی کے ساتھ مال میں اینٹر ہوا…..
کسی جانے مانے احساس کے تحت رک گیا…. ادھر ادھر دیکھا…. مگر کوئ شناسا چہرہ نظر نہ آیا….
وہ وہیں آنکھیں موندیں کھڑا ہوگیا…. اور اس احساس’ اس خوشبو کو محسوس کرنے لگا….
پھر دوبارہ آنکھیں کھولی…. ادھر ادھر دیکھا…… مگر اس دفعہ بھی کوئ نظر نہ آیا….
ایک پراسرار ہلکی مسکراہٹ نے یوشع کے لبوں کا احاطہ کیا… اور بااختیار اس کے لبوں سے جان یوشع نکلا…..
کیا وہ یہاں ہے..؟؟؟
اس نے خود سے سوال کیا….. مگر اگلے پل خود ہی اپنے خیالوں کی نفی کردی….
وہ یہاں کیسے ہوسکتی ہے…؟؟ یوشع اپنے خیالوں اس احساس سے باہر میرو کے پکارنے پر نکلا…..
بابا کیا ہوا… آپ رک کیوں گۓ..؟؟؟ چلے…
ہممم.. ہاں چلو….
ایک سحر سا تھا جو ٹوٹا تھا….”
اور وہ بھی میرو کا ہاتھ پکڑ کے آگے بڑھ گیا…..
____________________________
ہادی یوشع کو ضد کرکے شاپنگ مال لایا تھا کہ بابا مجھے اپنے فرینڈ کیلۓ گفٹ لینا ہے چلے….
اور ایسا ہوسکتا ہے کہ میرو کوئ فرمائش کرے اور یوشع پوری نہ کرے….
اس لۓ یوشع بھی ہادی کو لے آیا کہ اپنی پسند سے جو لینا ہے لے لینا….
دونوں ہی اپنی اپنی شاپنگ کرنے میں مصروف تھے…..
ایک طرف المیرا اور ایمان…….
اور دوسری طرف یوشع اور میرہادی…..
_________________
ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی انہیں شوپنگ کرتے….. کہ المیرا نے بولنا شروع کردیا…..
یار ایمان کتنی دیر لگاؤ گی…. جلدی کرو دیر ہورہی ہے…..
کیا ہے…؟؟ ابھی تو آۓ ہیں….. چپ کرکے کھڑی رہو…… مجھے شوپنگ کرنے دو…..
المیرا بھی غصے میں کھڑی ہوگئ…..
اتنے میں ایک لڑکی پاس سے گزری جس نے ہاتھ میں جوس کا کین پکڑا ہوا تھا….. کہ اس لڑکی کا پاؤں پھسلا….
اور ہاتھ میں پکڑے کین میں سے کچھ جوس نکل کر لوں بھئ یہ گیا ہماری المیرا کے کپڑوں پر……
افففف یہ کیا کیا تم نے…؟؟ دیکھ کر نہیں چل سکتی تھی کیا…..
المیرا نے غصے سے کہا….. کیونکہ اس کی شرٹ کافی حد تک خراب ہوگئ تھی….
ایک تو ایمان پہ غصہ اور دوسرا کپڑوں پہ جوس کا گرجانا…. وہ بہت غصے میں لگ رہی تھی کہ جیسے سامنے کھڑی لڑکی کی خیر نہیں…..
سوری….. میرا پاؤں پھسل گیا تھا….. میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا….. ایم سو سوری…..
تم…..
اچھا اچھا…. اٹس اوکے….. ایمان’ المیرا کی بات بیچ میں ہی کاٹ کر بولی….
آپ جاسکتی ہے…… المیرا تم واشروم میں جاکے صاف کرلو…..
ایمان نے ایک وقت میں دونوں سے کہا…. وہ کوئ ایشو نہیں چاہتی تھی…. کیونکہ آس پاس سے گزرنے والے سب ہی ان کو دیکھ رہے تھے…..
المیرا نے غصے سے واشروم کا رخ کیا…. اور وہ لڑکی بھی ایک بار پھر ایکسکیوز کرتی وہاں سے چلی گئ…..
ایمان نے سکھ کا سانس لیا….. اور ایک بار پھر اپنے کپڑے دیکھنے میں مصروف ہوگئ…….
_________________
سامنے کی ٹواۓ شوپ سے ہادی ‘ یوشع کے ساتھ نکلا تھا جب میرو کی نظر ایمان پر پڑی……
وہ دور سے ہی آنٹی پکارتا ایمان کے پاس آیا……
پیچھے پیچھے یوشع بھی آیا تھا…..
ایمان بھی ہادی کو دیکھ کر خوش ہوئ تھی….. نیچے بیٹھ کر اس کو پیار کیا…. ہادی نے بھی اس کے گال پہ بوسہ دیا…..
اور یوشع سوچ رہا تھا کہ یہی ہے وہ لڑکی جو پارک میں ہادی سے ملی تھی…..
مگر ہادی نے جب ایمان سے المیرا کا پوچھا تو پتا چلا کہ وہ کوئ اور ہے…. اور یہ ایمان ہے اس کی فرینڈ…..
آنٹی وہ دوسری آنٹی کہاں ہے..؟؟؟ ہادی کو نام تو معلوم نہیں تھا کہ کیا نام ہے…..
بیٹا وہ واشروم گئ ہے…. ان کے کپڑوں پر جوس گرگیا تھا اسی کو صاف کرنے گئ ہے……
آپ بتاؤ..؟؟ آپ یہاں کیسے..؟؟؟
میں کھلونے لینے آیا تھا….
آنٹی یہ میرے بابا ہے…..
بابا یہ ہے ایمان آنٹی…. ان آنٹی کی فرینڈ…..
السلام علیکم!!
ایمان نے سلام کیا….. سلام دعا کی گئ…. حال احوال پوچھا گیا…..
ایمان یوشع کو دیکھ رہی تھی کہ کیا واقعی کوئ اتنا خوبصورت بھی ہوسکتا ہے…. کوئ کیسے اتنا خوبصورت ہوسکتا ہے….؟؟؟
گہری براؤن آئیز’ کالے بال جیل سے سیٹ کۓ’ ہلکی شیو’ مغرور ناک’ عنابی لب’ دودھیا رنگت’ ریڈ شرٹ پہنے کف کہنیوں تک فولڈ کیے’ براؤن پینٹ میں وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا…… سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا….
بامشکل ایمان نے اپنی نظریں اس کے روشن چہرے سے ہٹائ تھی….
نائس ٹو میٹ یو… یوشع نے مسکراتے ہوۓ کہا…. جس سے اس کے دائیں گال پہ پڑتا ڈمپل واضح ہوا…..
می ٹو….. ایمان نے بھی مسکراکر جواب دیا…..
تھوڑی اور رسمی گفتگو کے بعد یوشع ہادی کو لے کر وہاں سے آگے بڑھ گیا…..
__________________
ہادی آگے بھاگ گیا تھا….. یوشع پیچھے ہی رہ گیا تھا…..
جب المیرا اس کے پاس سے گزری…. دونوں ہی ایک دوسرے کی شکل نہیں دیکھ سکے تھے….
کیونکہ یوشع آگے تھا…. اور المیرا اس کے پیچھے سے گزری تھی…..
دونوں کی ہی ایک دوسرے کی طرف پشت تھی…. مگر جانا پہچانا احساس تھا جو دونوں کو ہی آگے قدم بڑھانے سے روک رہا تھا…..
دونوں کی ہی دھڑکنوں کی سپیڈ تیز ہوگئ تھی….. دونوں نے ہی ایک ساتھ اپنے بے قابو ہوتے دل پہ ہاتھ رکھ کر اپنے دل کو قابو میں کرنا چاہا مگر بےسود…..
صرف چند قدم کے فاصلے پر تھے دونوں….. اور دونوں ہی اپنی دلی کیفیت سے انجان تھے…..
المیرا اپنے خیالوں کو جھٹک کر بغیر پیچھے مڑے… آگے کی طرف قدم بڑھادیے تھے….
یوشع اب بھی اسی کیفیت میں گھرا کھڑا تھا….. جب وہ پیچھے پلٹا مگر وہاں کوئ نہیں تھا….. خود ہی اپنی اس دلی کیفیت پہ ہنس کر ہادی کی طرف چل دیا…. جو دور ہی فاصلے پر کھڑا یوشع کا انتظار کررہا تھا…..
____________________
ایمان چلے اگر تمھاری شوپنگ ہوگئ ہو….
ہاں چلو….. چلتے ہیں….. ایمان نے کہا….
اور وہ دونوں بھی باہر کی طرف بڑھ گئ…..
جب دروازے سے جہان داخل ہوا…. دونوں ہی اسے دیکھ کر حیران تھی…… اور دوسری طرف بھی یہی حال تھا….. جسکی آنکھوں میں المیرا کو دیکھ کر چمک آئ تھی….. ان آنکھوں میں المیرا کیلۓ محبت’ عزت سب کچھ تھا….
ان دونوں نے ہی اس چمک’ اس عزت’ اس محبت کو دیکھا تھا…..
اور اسی طرح کی کچھ چمک ایمان کی آنکھوں میں بھی آئ تھی…. کسی نے بھی اس چمک کو نہیں دیکھا تھا…. یا شاید ایمان دیکھانا ہی نہیں چاہتی تھی…..
کیسی تھی یہ چمک کوئ نہیں جانتا تھا…… کیا ہونے والا تھا ان کی قسمت میں….. کسی کو نہیں معلوم….. وقت کب کس کا ساتھ دے گا کچھ نہیں معلوم….
سلام دعا کے بعد وہ دونوں اپنے گھر کی طرف اور جہان اندر کی طرف بڑھ گیا…..
**********
رات کا نہ جانے کونسا پہر تھا….. یوشع کھڑکی کھولے کھڑا سامنے چاند کو تک رہا تھا…. جس کی روشنی ہر طرف پھیلی ہوئ تھی….. ہر طرف خاموشی تھی….. ٹھنڈی ہوا اندر آتی یوشع کے بالوں کو لہراررہی تھی اور وہ سینے پہ بازو باندھے چاند کو دیکھنے میں مگن تھا……
جب ایک نظر بیڈ پر لیٹے اپنے بیٹے کو دیکھا….. جو خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا تھا….. وہ پھر سے چاند کو دیکھنے میں مگن ہوگیا…..
آج یوشع کو چاند بھی بالکل اپنے دل کی طرح اداس لگ رہا تھا…..
“خیر یہ حالت تو اس کی پچھلے پانچ سالوں سے ہے… ہر رات ہی اس کو چاند اداس لگتا تھا بالکل خالی’ اکیلا تنہا’ اپنے دل کی طرح…..
وہ چاند کو دیکھتا…. آج ایمان سے ہوئ ملاقات کے بارے میں سوچ رہا تھا…..
(آپکی فرینڈ کا کیا نام ہے؟؟ جس نے میرے بیٹے کو خود کے اتنے قریب کرلیا کہ سارا دن بس اسی کی باتیں کرتا ہے… میرے بیٹے نے تو کبھی نام پوچھا نہیں تو میں ہی پوچھ لو…..
طنز تھا یا صرف ایک بات تھی…. ایمان کو سمجھ نہ آیا…..
مگر اس نے نام بتادیا….
“المیرا نام ہے اس کا”
المیرا…. اس نے کچھ حیرانگی سے پوچھا….. کنفرم کرنا چاہا….
جی المیرا….. ایمان نے جواب دیا….
اور یوشع تو بس اس ایک نام پہ ہی اٹک گیا تھا….. کتنے سالوں بعد یہ نام سنا تھا اس نے….. کبھی اس نام سے عشق تھا یوشع کو….. اور شاید اب بھی ہے…..)
وہ اپنے خیالوں سے باہر نکلا تھا…..
کیا یہ وہی تھی….. وہ کیفیت…. وہ سب کیا تھا….؟؟؟ کیا یہ سچ میں وہی ہے…؟؟
وہ دل میں خود سے مخاطب تھا….
نہیں! وہ یہاں کیسے ہوسکتی ہے….؟؟؟
اس نے اپنے خیال کی نفی کی…..
“کیا اس نے مجھے معاف کردیا ہوگا؟؟ کیا وہ مجھے یاد کرتی ہوگی؟؟؟ اب بھی اس کو مجھ سے محبت ہوگی یا نہیں..؟؟؟ کیا وہ اپنی لائف میں آگے بڑھ گئ ہوگی؟؟؟
“یہ سارے وہ سوال تھے جو وہ اکثر خود سے کرتا تھا” اور آج بھی یہ سارے سوال وہ خود سے کررہا تھا…. مگر ہر بار کی طرح آج بھی ان سب سوالوں کے جواب اس کے پاس نہیں تھے…..
آج بہت شدت سے یوشع کو اس کی یاد آئ تھی…. وہ تو دن رات ہی اس کو یاد کرتا تھا…. مگر آج اتنے سالوں بعد کسی سے یہ نام سن کرکتنی ہی ماضی کی یادیں’ اس کے ساتھ گزارے پل اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزرے تھے…. اور چپکے سے ایک آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر اس کی داڑھی میں جزب ہوگیا تھا….
لگتا ہے دل نے ابھی تعلق نہیں توڑا
یہ آنکھ تیرے نام پہ بھر آتی ہے اب بھی
************
المیرا نے ایک دم آنکھیں کھولی تھی….. وہ پسینے سے شرابور تھی…. اس نے اپنے دائیں طرف نظر دوڑائ تو ایمان سورہی تھی….. اس نے اپنے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھا اور دوسرے ہاتھ سے ماتھے پہ آیا پسینہ صاف کیا…. اچانک ہی اسے کمرے میں گھٹن کا احساس ہوا….. اور وہ بیڈ سے اتر کر کھڑکی کھول کر کھڑی ہوگئ….
کھڑکی کھولتے ہی ٹھنڈی ہوا نے اس کا استقبال کیا…. جس سے اس کو اپنی روح میں تھوڑا سکون اترتا ہوا محسوس ہوا’ چاند کو دیکھا جس کی روشنی ہر طرف پھیلی ہوئ تھی….
“کبھی ایسا موسم بہت پسند تھا المیرا کو…
چاند کی روشنی’ ٹھنڈی تازہ ہوا’ رات کی تنہائ’ پھولوں کی مہک…..” مگر اب تو جیسے ہر چیز سے دل اچاٹ ہوگیا تھا…..
(یار المیرا میں نے آج تک اتنا خوبصورت مرد نہیں دیکھا….. کوئ اتنا بھی خوبصورت کیسے ہوسکتا ہے” مجھے یقین نہیں آرہا…. بالکل ایسے جیسے فلموں’ ڈراموں کا ہیرو ہوتا ہے ہینڈسم”)
اس کو ایمان کی بات یاد آئ تھی…. ایمان نے گھر آتے ہی یوشع کے ساتھ ہوئ ملاقات کے بارے میں بتادیا تھا’ اور اس کا نام بھی….
المیرا نے بھی زیرلب اسکا نام دہرایا….
“یوشع”
المیرا کی بھی آنکھوں سے آنسوں ٹوٹ کر اس کے گالوں پہ لڑھک رہے تھے… وہ جتنا اسے بھولنے کی کوشش کرتی’ اتنا ہی وہ یاد آتا تھا…
“اس نے تو اپنا فیصلہ اپنے رب پر چھوڑ دیا تھا’ تو کیوں وہ بار بار یاد آجاتا ہے….”
“کیوں یاد آتے ہو تم مجھے… یوشع کیوں…؟؟؟
المیرا نے ایسے پوچھا جیسے وہ سامنے ہی کھڑا ہے…. اور ابھی المیرا کے سوالوں کے جواب دے گا….
کاش! یوشع یہ تم نہ ہو’ ہادی کے بابا تم نہ ہو’ مگر اس کی آنکھیں بالکل تمھارے جیسی ہے….
کاش! المیرا دل ہی دل میں خود سے مخاطب تھی….. اور آنسوں ٹوٹ کر گالوں پر ہنوز لڑھک رہے تھے….
___________________________
“مگر اکثر اوقات ہم صرف کاش ہی کرکے رہ جاتے ہیں’ کہ کاش یہ ایسے نہ ہوتا ایسے ہوجاتا’ مگر ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ
“اس رب نے ایسے ہی یہ سب ہونا ہمارے نصیب میں لکھا تھا’ کیونکہ ہونا تو وہی ہوتا ہے جو ہمارے نصیب میں لکھا ہوتا ہے’ تو کیوں ہم مایوسی والی’ کفرانہ باتیں کرتے ہیں’ اس رب کا شکر ادا کیوں نہیں کرتے’ ہر حال میں خوش رہے’ اس رب کا شکر ادا کرے’ کیونکہ ہونا وہی ہوتا ہے جو نصیب میں ہمارے اس رب نے لکھ دیا ہو’ ہم چاہ کر بھی اپنے نصیب سے نہیں لڑسکتے’ اور اب ایسا ہی کچھ المیرا کے ساتھ بھی ہونے والا تھا….. ” اور آج شاید المیرا کے ستارے گردش میں نہیں تھے اس کا کاش… کاش ہی رہنے والا تھا….
***********
__________________جاری ہے_______________
