Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

اپنے گارڈن میں گھاس پر بیٹھی تھی….. گھٹنوں کے گرد اپنے بازؤں کا گھیرا کۓ آسمان کو تک رہی تھی… مغرب کا وقت ہورہا تھا…. سرمئ بادل….. ٹھنڈی ہوا…. پرندوں کی چہچہاہٹ جو اپنے آشیانوں کی طرف لوٹنے کی تیاری کررہے تھے…. گارڈن میں پھیلی تازہ پھولوں کی مہک….. رومانوی ماحول بنا ہوا تھا اور اسے اس طرح کے ماحول بہت پسند تھے….. وہ خود بھی اس وقت لال کلر کی فراک میں سادگی میں بیٹھی تھی…. اپنے لمبے کالے گھنے بالوں کو کیچر میں مقید کیا ہوا تھا….. کچھ آوارہ لٹے اس کے چہرے پر بار بار آرہی تھی…. وہ بھی شاید شرارتوں کے موڈ میں تھی….. وہ بار بار انہیں کان کے پیچھے اڑستی….. اگر اس وقت یوشع اسے یوں بیٹھا دیکھ لیتا تو دیکھتا ہی چلا جاتا….. وہ لگ ہی اتنی خوبصورت رہی تھی…..اور محبوب کی تو ہر ادا کمال کی لگتی ہے تو کیسے یہ ناممکن ہے کہ یوشع آج ایک بار اپنا دل اس پہ نہ وارتا….. وہ اس رومانوی ماحول کا ہی تو ایک حصہ تھی…. اس کی نگاہیں آسمان پر ہی جمی ہوئ تھی….. جب ہی جہانزیب بھی اندر سے آیا…. المیرا کو دیکھا تو وہی اسکے ساتھ آکر بیٹھ گیا…. المیرا نے مسکراتے ہوۓ ایک نگاہ اس پر ڈالی…. وہ بھی اسے دیکھ کر مسکرایا…..کیا کررہی ہو؟؟؟ اللّه پاک کی ان حسین قدرتوں سے لطف اندوز ہورہی ہو…..یہ موسم ‘ پھولوں کی یہ خوشبو’ اس نے اپنے ہاتھوں کو پھیلایا تھا….. ” یہ پرندوں کی چہچہاہٹ ‘ٹھنڈی تازہ ہوا جو روح تک کو سکون پہنچاتی ہے ‘ مطلب اللّه پاک کی اتنی نعمتیں ہے کہ گننے بھی بیٹھو تو کبھی گن نہ پاۓ ‘ ظاہری بھی اور مخفی بھی ‘ مگر ہم اپنے رب کا شکرادا ہی نہیں کرتے ‘ ہمیشہ ناشکری کرتے ہیں…..’ جہانزیب نے اثبات میں سر ہلایا….”کتنے ناشکرے انسان ہے نہ ہم’ مطلب اگر جب ہم اللّه پاک سے کوئ چیز مانگتے ہیں اور وہ چیز ہمیں مل بھی جاۓ تو بھی ہماری زبانوں پہ ناشکری جیسا لفظ رہتا ہے ‘ ہم الحمداللّه کہنے کی بجاۓ اس سے اور مانگتے ہیں ‘ اللّه تو ہے ہی دینے والا ‘ اگر ہم نہ بھی مانگے تو بھی وہ ہمیں بن مانگے عطا کرتا ہے ‘ ہمیں اپنی ہر نعمت سے نوازتا ہے ‘ سورہ رحمن میں بالکل صحیح کہا گیا ہے کہ “تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے” مگر ہم ایک بار بھی سچے دل سے اللّه کا شکر ادا نہیں کرتے ‘ جبکہ شکر کرنے والوں کو تو ان کی سوچ سے بھی زیادہ ملتا ہے ‘ مگر شکر کرنے والا کوئ کوئ ہے ‘ ناشکری کرنے والے بہت ہے….” جہانزیب مسکراتے ہوۓ اسے سن رہا تھا…. وہ خود میں مگن آسمان کو تکتی بس کہے جارہی تھی….”مگر میں نے سنا ہے سب سے زیادہ نا شکری کرنے والی بھی عورتیں ہی ہے….” المیرا نے آسمان سے نگاہ ہٹا کر اس کو دیکھا….صحیح سنا ہے بالکل…. ‘ میں تمھیں اس بات پہ ایک آیت کا مفہوم بتاتی ہو…..” وہ ایکسائیٹڈ ہوکر جہانزیب کی طرف مڑکر بیٹھی تھی…. اپنے ہاتھوں کو گود میں رکھا تھا…. وہ بھی مسکراتے ہوۓ دھیان سے اسے سننے لگا تھا….”تمھیں پتا ہے یہود پر اللّه کا غضب کیوں ہوا تھا؟؟”ہاں’ کیونکہ وہ انبیاء کو قتل کیا کرتے تھے….” المیرا نے اثبات میں سر ہلایا…. تمھیں پتا ہے قرآن پاک میں دس مقامات پر یہ وجہ بیان کی گئ ہے کہ یہودیوں پر اللّه کا غضب کیوں نازل ہوا….؟؟؟ اور ان پر آج تک اللّه کے غضب کا کوڑا پڑرہا ہے اور آخری وقت تک ان پر اللّه کے غضب کا کوڑا پڑتا رہے گا…. ایک تو یہ بات ہوگئ ٹھیک ہے اور دوسری بتاتی ہوں کہ ان کے علاوہ بھی یہودیوں کی ایسی بدترین حرکات تھی کہ جن کے باعث وہ اللّه کے غضب کا شکار ہوۓ…. ‘ ان دس میں سے میں تمھیں ایک بتاتی ہو جس پہ ہماری بات ہورہی ہے ‘ناشکری’ یہودیوں کی پہلی ہی حرکت جو تھی وہ “ناشکری تھی” سورہ البقره آیت نمبر 61 ( مفہوم) بتاتی ہو…. “اس مقام پر بتایا گیا کہ یہود نے اللّه کی ناشکری کی ‘ اللّه نے انہیں من و سلوی عطا کیا ‘ لیکن انہوں نے کہا کہ اے موسی علیہ السلام اپنے رب سے دعا کرو کہ ہم ایک چیز پر اکتفا نہیں کرسکتے’ ہمارے لۓ دالیں اور پیاز وغیرہ بھی نازل کرے ‘ تو پھر ان پر اللّه کا غضب نازل ہوا….” انہوں نے بھی ناشکری کی….. کہ ہمیں اور چیزیں دی جاۓ….. اسی طرح سے تمھاری بات پہ بھی میں ایک حدیث سناؤ….(ناشکری کا مرض بالخصوص ہمارے معاشرے میں کثرت سے خواتین میں پایا جاتا ہے) جس کے ضمن میں ایک حدیث مبارکہ ہمیں ہمیشہ محفوظ رکھنی ہوگی…..صحیح بخاری کی حدیث ہے ‘ حدیث # 29 ” نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ‘ مجھے دوزخ دکھلائ گئ تو اس میں سب سے زیادہ عورتیں تھیں جو کفر کرتی تھی….” کہا گیا ‘ یارسول اللّه صلی اللّه علیہ والہ وسلم ! کیا وہ اللّه کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟؟ آپ صلی اللّه علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ خاوند کی ناشکری کرتی ہے ‘ احسان کی ناشکری کرتی ہے جو کچھ تم انہیں دو گے اس میں ناشکری کرتی ہے ‘ اگر تم عمر بھر ان میں سے کسی کے ساتھ بھلائ کرو گے ‘ احسان کرتے رہو پھر بھی تمہاری طرف سے کبھی کوئ ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہوجاۓ تو فورًا کہہ اٹھے گی کہ میں نے کبھی بھی تجھ سے کوئ بھلائ نہیں دیکھی…..” اور مردوں میں سے بھی اگر کسی کو اللّه نے کوئ نعمت دی ہے مثلاً صحت، فارغ وقت وغیرہ اور وہ ناشکری کرتا ہے تو وہ بھی کفر کرتا ہے’ آج کے اس جدید دور میں کسی کو فارغ وقت ملنا کسی نعمت سے کم نہیں ہے ‘ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے….” ناشکری ایک کفر ہے….” اسی طرح سے ہمیں ہمارے سجدے بھی کم نہیں کرنے چاہیے’ ہمارے سجدے زیادہ ہونے چاہیے ہمیں تو سب سے زیادہ شکر گزار ہونا چاہیے اپنے رب کا کہ اس نے ہمیں دینے والا بنایا ہے…..” نماز جو ہے مومن کی معراج ہے… دین کا ستون ہے…..ویقیمون الصّلوة “وہ قائم کرتے ہیں نماز کو ” تمھیں پتا ہے ہمیں قرآن میں سات سو بار نماز کو قائم کرنے کی تلقین کی گئ ہے….” زیادہ تو نہیں مگر چند ایک آیتیں اور بتاتی ہو….سوره البقر٥ آیت نمبر 3:”وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور قائم کرتے ہیں نماز کو’ اور ہماری دی ہوئ روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں ” اس میں پتا ہے کیا کہا گیا ہے کہ جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں غیب پتا ہے کس کو کہتے ہیں… غیب ہر وہ چیز ہوتی ہے جسے ہماری آنکھ نہیں دیکھ سکتی… جیسے مثال کے طور پر سب سے پہلی ہستی اللّه تعالى ہے ہم انہیں اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے لیکن ہم اس پر پورا پورا ایمان رکھتے ہیں کہ اللّه تعالی کا وجود ہے…. اللّه کا عرش موجود ہے… کسی نے بھی رہتی دنیا میں اب تک نہیں دیکھا لیکن انشااللّه ہماری ملاقات ہوگی اپنے رب سے…. وہ بہت ایکسائیٹڈ ہوکر بتارہی تھی…. اسی طرح سے فرشتے ہوگۓ وہ ہمیں نہیں دیکھتے لیکن ان پر بھی ہمارا ایمان ہے… اور پھر اسی طرح سے جنات ہوگۓ وہ بھی ہمیں نہیں دیکھتے لیکن ان کا وجود ہے مگر دیکھتے نہیں…. اسی طرح سے بہت سے انبیاء رسول ہے سب پر ہم پورا پورا ایمان رکھتے ہیں…. اس کے بعد قائم کرتے ہیں نماز کو اور جو کچھ بھی ہم نے ان کو دے رکھا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں…. ہر ایک چیز ساکت ہوگئ تھی… ہوا رک گئ تھی وہ بھی اس خوبصورت نین نقش والی لڑکی کو سن رہے تھے…. بادل بھی اپنی جگہہ ساکت ہوگۓ تھے…. دیواروں پر پرندے آکر بیٹھ گۓ تھے…. اور پھر اسی طرح سےسور٥ البقرہ آیت نمبر 43: میں ہے….”نماز قائم کرو ‘ زکوه ادا کرو’ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو ” اور پھر اسی طرح سے سورہ البقرہ آیت نمبر 45: ” اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز بھاری بوجھ ہے مگر ان پر (نہیں) جو دل سے میری طرف ( اللّه ) کی طرف جھکتے ہیں” اس میں فرمایا گیا کہ صبر کی تلقین کرو، صبر کو قائم کرو، صبر سے مدد لو، اور نماز کو قائم کرو بلاشبہ یہ بڑا بھاری بوجھ ہے…. تمھیں پتا ہے پانچ وقت کی نماز ادا کرنا یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے امت مسلمہ کیلۓ…. خاص کر مردو حضرات کیلۓ بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ اپنا کام کاج چھوڑ کر مسجد میں جاکر نماز پڑھنا یہ ایک چیلنج ہے سواۓ ان لوگوں کے جن کے دل میں اللّه کیلۓ خشعیت ہے…. جن لوگوں کے دل آمادہ ہوگۓ ہیں کہ اللّه کیلۓ نماز پڑھنا اللّه کی طرف سے ہیں تو ان کیلۓ یہ کوئ بہت بڑا چیلنج نہیں ہے…. چیلنج زیادہ تر ان کیلۓ بن جاتا ہے جن کو ماں کہتی ہے کہ نماز پڑھ لو تو یہ ان پر ایک بھاری بوجھ ہے ان کیلۓ چیلنج ہے کہ وہ نماز کس کے کہنے سے پڑھتے ہیں….. لیکن جس نے اس کی قدروقیمت کو جانا ہے وہ تو پھر وقت سے پہلے ہی نماز کیلۓ تیار ہوتے ہیں…..اور پھر اسی طرح سے ہیں کہسورہ البقرہ آیت نمبر 110:”اور نماز قائم رکھو، زکوہ ادا کرو، اور اپنی جانوں کیلۓ جو بھلائ آگے بھیجو گے اسے اللّه کے ہاں پاؤ گے بےشک اللّه تمھارے کام دیکھ رہا ہے ” یعنی ہمارے سارے اعمال کو لکھا جارہا ہے اور جب ہمیں بروزقیامت دوبارہ اٹھایا جاۓ گا تو سب کچھ ایک کتاب کی صورت محفوظ ہوگا…. اس میں ایسا کچھ نہیں ہوگا کہ ہمارا کوئ اعمال ضائع ہوجاۓ گا….اسی طرح سے جو ہیں فرض نمازوں کے بعد جو نماز ہے وہ تہجد کی نماز کو فضیلت ملتی ہے…. کیونکہ اس وقت اللّه کا نزول ہوتا ہے…. اللّه اپنے عرش سے اتر کر پہلے آسمان تک آتا ہے…. اس میں اللّه کے نزول کا وقت ہوتا ہے…..” “اللّه کی یاد سے کوئ لمحہ بھی ہمارا دل غافل نہ ہو….” اسی لۓ بار بار نماز کو قائم کرنے کی تلقین کی گئ ہے….” وہ چپ ہوگئ تھی… ایسا تھا کہ جیسے وقت رک سا گیا تھا سب اپنی جگہہ پر منجمد اسے سن رہے تھے… اس خوبصورت جوان لڑکی کو سن رہے تھے کہ دیکھو یہ کتنی پیاری باتیں کرتی ہے…. ایک تسلسل سا تھا جو اس کے چپ ہونے پہ ٹوٹا تھا…. سب بےجان چیزوں میں جیسے پھر سے جان آگئ تھی… ایک بار پھر دنیا میں ہلچل مچ گئ تھی….. ہوا چلنے لگ گئ تھی… پھولوں کی مہک ہر طرف پھیل رہی تھی…. پرندے واپس اپنے گھروں کو لوٹنے لگے تھے…..اگر اس وقت اسے یوشع سن لیتا تو اسے اپنی قوت سماعت پہ شق ہونے لگتا کہ اس نے المیرا کو ہی سنا ہے ‘ اس نے تو غش کھا کے ہی مرجانا تھا کہ المیرا خان بھی اتنی پیاری پیاری باتیں کرسکتی ہے…..٤تم سمجھدار ہوگئ ہو بہت زیادہ….” وہ بس مسکرائ تھی….وہ اٹھ کھڑی ہوئ تھی… نماز کا ٹائم ہوگیا ہے ‘ تم بھی نماز پڑھ آؤ….’ وہ بھی اٹھ گیا تھا… اس نے اثبات میں سر ہلایا المیرا اندر کی طرف اور وہ باہر کی طرف بڑھ گیا تھا…..المیرا کی ایک سب سے اچھی عادت یہ تھی کہ وہ نماز نہیں چھوڑتی تھی…. پانچوں وقت کی نماز ٹائم سے ادا کرتی اور اکثر تو وہ تہجد بھی پڑھتی تھی… اپنے رب سے ملاقات کرتی تھی…. اپنے دل کا حال بیان کرتی تھی…. اپنے رب کی شکرگزار تھی ہر چیز کیلۓ…. یوشع جیسے لائف پارٹنر کیلۓ….. وہ ہمیشہ یوشع کی صحت و سلامتی کی دعا کرتی تھی… سب کیلۓ وہ دعا کیا کرتی تھی…. اپنے لۓ اگر کچھ مانگتی تھی تو وہ یہی کہ یا اللّه ہم دونوں کی جوڑی ہمیشہ سلامت رکھنا…. وہ تو یوشع سے بھی بہت کہتی تھی کہ تم بھی ساری نماز پڑھا کرو مگر وہ کبھی پڑھتا کبھی نہیں پڑھتا تھا… نماز جمعہ باقاعدگی سے ادا کرتا تھا….. وہ اکثر اس سے کہتی تھی کہ شہری تمھیں تو زیاده شکرگزار ہونا چاہیے اپنے رب کا کہ اس نے تمھیں دینے والا بنایا ہے ‘ لینے والا نہیں ‘ تمھارے پاس سب کچھ ہے تمھیں تو زیادہ سجدوں میں سر جھکانا چاہے شکر کرنا چاہے… اور وہ اس کی سنتا تھا… ایسا ہوسکتا تھا کہ المیرا کچھ کہے اور وہ نہ سنے… مگر اس پہ اثر کچھ دن رہتا تھا اس کے بعد پھر دوبارہ اسی لائف میں بزی…. اور وہ پھر گہری سانس لے کر رہ جاتی تھی اس کا کام تو بس سمجھانا تھا اس سے زیادہ وہ کیا کرسکتی تھی…… وہ نماز کی اہمیت جانتی تھی اور یہ بھی کہ قرآن میں سات سو بار نماز کو قائم کرنے کی تلقین کی گئ ہے……. **********آج وہ سب علی کے گھر جمع تھے…. عمران صاحب اور مسز عمران دونوں کسی ریلیٹو کے گۓ ہوۓ تھے…. ماہی اپنے روم میں تھی…. المیرا ‘ یوشع ‘ حماد ‘ علی ‘ زینب اور جہانزیب سب کچن میں کھڑے اپنے کارنامے سرانجام دے رہے تھے….. ملازموں کو باہر بھیج دیا تھا…. زینب ویسے تو بہت کم ہی ان سب کے ساتھ ہوتی تھی مگر آج وہ سب اسے بھی اٹھا لاۓ تھے….ارے مطلب انکل آنٹی سے اجازت لےکر عزت کے ساتھ لاۓ تھے….. المیرا اور زینب دونوں ہی کوگنگ میں ماہر تھی اور وہ چاروں خود کچھ کر نہیں رہے تھے ‘ انہیں بھی کچھ نہیں کرنے دے رہے تھے…. سارے کچن میں سامان پھیلایا ہوا تھا…..اوۓ یار وہ پیاز اٹھا….”یوشع نے جہانزیب سے کہا….. آ میں تجھے بتاتا ہو پیاز کیسے کاٹتے ہیں….. ” جہانزیب نے بھی پیاز اپنے ہاتھ میں اٹھائ…..اب دیکھو غور سے!! یہ پیاز ہے…” یوشع اپنے ہاتھ میں پکڑی پیاز کو گھوما گھوما کر ہر زاویے سے جہانزیب کو دیکھا رہا تھا…..بہت شکریہ’ مجھے تو جیسے پتا ہی نہیں تھا یہ پیاز ہے…..” وہ سب کھڑے ان دونوں کو دیکھ دیکھ کر مسکرارہے تھے…. یوشع بھی ہنسا…. چل اب تو پتا لگ گیا نہ بیٹا یہ پیاز ہے….” افففف خدایا بچا مجھے !! اس نے اپنے بال نوچے…..” ان سب نے ایک بار پھر قہقہہ لگایا تھا….یوشع اس کی ٹانگ کھینچنے کے موڈ میں تھا اور وہ کھینچ بھی رہا تھا….چل اب اس پیاز کو یہاں رکھا ‘ ایک ہاتھ میں چھری پکڑ….” بھائ یہ تو ایسے سیکھارہے ہیں جیسے انہیں بہت اچھی پیاز کاٹنے آتی ہے……” المیرا نے علی کے کان میں کھسر پھسر کی….میں سن چکا ہو’ میرے کان بہت تیز ہے….” المیرا نے زبان نکالی….. زینب المیرا دونوں بیک کا سامان تیار کررہی تھی….. حماد بھی تھوڑی بہت کوکنگ جانتا تھا….. کوکنگ تو ہمارا یوشع یوسفزئ بھی جانتا ہے مگر وہ کوکنگ کرلیتا ہے یہ بات سواۓ علی اور یوسفزئ صاحب کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم….. المیرا کو تو بالکل بھی نہیں بتانا کہ وہ کوکنگ جانتا ہے ورنہ وہ جو روز ہی اس کیلۓ کچھ نہ کچھ ٹرائ کررہی ہوتی ہے اس نے اسی دن کوکنگ چھوڑ دینی ہے اور سارے کھانے یوشع سے بنوانے ہیں….. حماد بھی کھڑا ٹماٹر کاٹ رہا تھا…. اور علی اس کو تو کیچن کا کوئ کام نہیں آتا اسی لۓ اس بیچارے کو ڈیوٹی دی گئ تھی جو بھی چیز مانگی جاۓ وہ فورا فورا پکڑائ جاۓ اور ساتھ ساتھ برتن بھی دھوۓ جاۓ…. یوشع اسے پیاز کاٹنا سیکھا رہا تھا……اس چھری کو پیاز پہ ایسے ایسے پیار پیار سے چلا…. ” جہانزیب بھی اس کو دیکھتا پیاز کاٹنے لگا تھا ٹیڑھی میڑھی جیسے یوشع کاٹ رہا تھا ویسے ہی وہ کاٹ رہا تھا….. مگر ہاۓ رے قسمت ایک تو پیاز کی وجہ سے آنکھوں میں آنسو دوسرا لو بھئ یہ کٹ گئ انگلی…..اللہ جی مجھے نہیں کاٹنی پیاز….” اس نے غصے میں چھری کو سلیپ پر پھینکا تھا…. ان سب نے زوروں کا قہقہہ لگایا تھا….ایک تو میری انگلی کٹ گئ ہے اور تم سب کو ہنسی آرہی ہے….” ارے سالے صاحب ابھی تو یہ سٹارٹ ہے ‘ چلو دوبارہ سے کاٹو ‘ شاباش آؤ…..”کیا کانٹو؟؟؟” انگلی جناب انگلی…..” یوشع اور حماد دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسے تھے…..مجھے تم سب کے ساتھ کام ہی نہیں کرنا’ جارہا ہوں میں’ پھر میری قدر کرو گے….” وہ بھی مسکراہٹ دباۓ باہر کی طرف بڑھا تھا…… مگر یہ کیا کوئ اسے روک ہی نہیں رہا….افففف کوئ تو روکے….” دل میں کہا…. وہ دروازے پہ رکا…. پیچھے مڑ کر دیکھا…. آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئ…. کوئ بھی اس کی طرف متوجہ نہیں…. سب اپنے اپنے کام میں بزی…. زینب المیرا علی کیک کی ڈیکوریٹ کررہے تھے…. حماد اور یوشع بھی اپنے کام میں بزی….میں نے کہا میں جارہا ہو یہاں سے کوئ روکے گا نہیں….” اب بھی کوئ ری ایکٹ نہیں…..میں نے کہا میں جارہا ہو…..” اب کی بار وہ تھوڑا تیز بولا تھا…. یوشع مڑا تھا…. دل خوش ہوگیا چلو کوئ تو متوجہ ہوا…تو سالے صاحب کس نے روکا ہے آپ کو جلدی جلدی جاۓ….” اس نے بچوں کی طرح آنکھیں پٹپٹا کر کہا….. سب اپنی اپنی مسکراہٹ دباۓ اپنے اپنے کام میں بزی…. وہ تو بیچارہ ٹھیک سے خوش بھی نہ ہو پایا…..پھر بےعزتی’ ٹھیک ہے میرے جانے کے بعد میری قدر ہوگی’ میں جارہا ہو….” باۓۓۓ…. یوشع نے ہاتھ ہلایا…. وہ کیچن سے نکل گیا تھا باہر جاکر کھڑا ہوگیا….افففف اللّه کتنا خوبصورت کیک ہے یہ یمی ‘ دیکھ کر بھی منہ میں پانی آرہا ہے….” المیرا نے تھوڑا تیز کیچن کی طرف منہ کرکے بولا تھا تاکہ وہ سن لے…..جہانزیب کے کان کھڑے ہوۓ تھے…. واقعی مہرو یار تم صحیح کہہ رہی ہو یہ واقعی بہت لذیذ لگ رہا ہے…..” جہانزیب نے ہونٹوں پر زبان پھیری….کیک اففف میری جان” بھئ ہم نے تھوڑی دیر بعد کیک کھالینا ہےاگر ختم ہوگیا توہمیں مت کہنا کہ مجھے نہیں کھلایا….” علی نے کہا….جہانزیب نے ایک قدم پیچھے بڑھایا…. وہ جو سب اسی کو دیکھ رہے تھے اس پہ سے نظریں ہٹا کر پھر کام میں بزی ہوگۓ… وہ مڑا تھا کیچن میں داخل ہوا….. وہ گائیز میں نے کیا سوچا ہے…” وہ قدم قدم چلتا کیک کی طرف بڑھ رہا تھا….وہ میں کیا کہہ رہا تھا کہ لڑائ جھگڑوں میں کیا رکھا ہے سب مل بانٹ کر کھاتے ہیں نہ….” اس نے کیک کی ڈش اپنے ہاتھ میں اٹھائ تھی…. ایک بار پھر سب کا زوردار قہقہ کیچن میں گونجا تھا… وہ ان سب کو ہونقوں کی طرح دیکھ رہا تھا…. دیر سے ہی صحیح پر اس کو سمجھ آگئ….تم سب مل کر مجھے تنگ کررہے تھے….” وہ مسلسل ہنس رہے تھے…. ہاہاہاہاہا…. اس کا غصہ ختم ہوا تھا… وہ بھی ہنسنے لگا تھا…..ٹھک ٹھک کی آواز گونجی تھی…. سب نے کیچن کے دروازے کی طرف دیکھا تھا…. عین اسی وقت یوشع بھی ادھر سے باہر نکلنے لگا تھا….آآآآ اللّه میرا دل….” یوشع نے چینخ ماری تھی….آآآآ ‘ یوشع کی چینخ سن کر ڈر کے مارے المیرا کی بھی چینخ نکلی تھی…. سب نے انہیں حیرانگی سے دیکھا…. انہیں کیا ہوا…. نظر دروازے پر کھڑی ماہی پر پڑی جو فل میک اپ میں تھی… وہ بالکل تیار تھی… کہیں جانے کہ تیاری تھی….شہری کی کی کیوں چینخ ماری تھی آپ نے….” وہ اٹک اٹک کر بول رہی تھی…. وہ اس کی چینخ سن کر واقعی ڈر گئ تھی…. یوشع نے قہقہہ لگایا تھا….مہرو میں نے ماری تو ماری مگر تمہاری کیوں نکلی؟؟؟” آپ نے ماری تھی میری بھی ڈر کی وجہ سے نکل گئ کہ پتا نہیں کیا ہوگیا….” اففف خدایا ایسے بھی کوئ چینخیں مارتا ہے تم دونوں نے تو ڈرا ہی دیا تھا کہ پتا نہیں ایسا کیا ہوگیا….. سب نے ہی ان دونوں کو ڈانٹا تھا…..قسم سے تمہاری چینخ سن کر ہارٹ فیل ہونے لگا تھا….” جہانزیب نے دل پر ہاتھ رکھا…..میرا بھی ” حماد نے بھی دل پر ہاتھ رکھا….یوشع المیرا دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسے تھے… اچھا بتاؤ تو چینخ ماری کیوں تھی….” اس چڑیل کو دیکھ کر نکل آئ تھی ‘ میں تو بیچارہ معصوم مزے مزے سے جارہا تھا اچانک ہی سامنے سے آگئ اتنا میک اپ کرکے ‘ میرا بھی تو ہارٹ فیل ہوتے ہوتے بچا ہے…..” المیرا ہنسی تھی…. ماہی نے خود پہ کنٹرول کیا…. حماد نے ماہی کو گہری نظروں سے اوپر سے نیچے تک دیکھا…بھائ’ ماما بابا کہاں ہے؟؟؟ وہ چاچو کے گۓ ہیں’ تم کہیں جارہی ہو اور یار میں سچ میں بہت خوش ہو تم اپنے کمرے سے باہر تو نکلی ‘ ہماری کمپنی انجواۓ کرو….” یوشع نے نظریں جھکائ…. حماد نے ایک نظر یوشع پر ڈالی…. صرف دو دن رو گۓ تھے حماد کے جانے کے مگر اس نے جانے سے پہلے ایک کام ضرور کرنا ہے’ کر کر رہنا ہے’ نہیں میں اپنی فرینڈ کے جارہی ہو ” ایک نظر سب پہ ڈالتی وہ باہر نکل گئ تھی….بھائ یہ ٹھنڈا ہوگا جب کھاۓ گے….” المیرا نے کیک فریزر میں رکھا… وہ سب ایک بار پھر اپنے کام میں بزی ہوگۓ تھے….یوشع کے دل میں تو ماہی کو لے کر اب بھی کوئ میل نہیں تھا’ وہ تو بھول بھال گیا تھا باتوں کو…. وہ تو اسے اب بھی ایک اچھا دوست سمجھتا ہے اور اب تک ماہی نے کوئ کھیل نہیں کھیلا تو وہ کیوں کھیلے….. اس کا دل تو صاف ہے ماہی کو لے کر…. _____________مگر یوشع کو کون سمجھاۓ کہ اگر وہ چپ ہے تو کسی خاص موقعے کا انتظار کررہی ہے… وہ سوچ چکی تھی اس نے کیا کرنا ہے…. کیونکہ یوشع کو تو المیرا کا ہر گز نہیں ہونے دینا اور جب ” یوشع کو ہر حال میں ہونا ہی میرا ہے تو کیوں خود کو کمرے میں قید کیا جاۓ” یہ سب ماہی نے سوچا تھا…. اسی لۓ آج وہ گھر سے باہر گئ تھی… وہ سب کیچن میں ہنسی مزاق کرتے اپنے اپنے کام میں مصروف تھے….. خوش تھے فیوچر سے بےخبر تھے کہ بہت جلد ان سب کی زندگی کی کایا پلٹنے والی ہے…. اور ایسی پلٹے گی کہ کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا… زندگی ایسے دہراۓ پر لاکر کھڑا کرنے والی ہے کہ سمجھ نہیں آنا کہ ہوا کیا ہے…؟ وہ سب ہوگا جو کبھی وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا… فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہوگی اس چیز کی کہ خوشیوں کو نظر لگنے والی ہے….. ************