Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

المیرا جہانزیب کے روم میں کھڑی اس کی پیکنگ کررہی تھی جو تقریبا بس ہوئ گئ تھی…. اس نے زیب بند کی تھی…. وہ اداس لگ رہی تھی… آج جہانزیب نے بھی واپس چلے جانا تھا… جہانزیب روم میں آیا تھا…
ہوگئ پیکنگ…..”
ہاں….” اس نے منہ بنا کر کہا تھا…. وہ بیڈ پر چڑھ کر آلتی پالتی مار کر بیٹھی تھی….
کیا بات ہے؟؟؟ وہ بھی بیڈ پر بیٹھا تھا……
جانا ضروری ہے کیا’ مت جاؤ نہ یار میرا دل نہیں لگے گا’ تم تھے تو بہت اچھا ٹائم سپینڈ ہوگیا تھا تمھارے ساتھ یہ ڈھائ ہفتے کیسے گزرے پتا ہی نہیں چلا’ اور اب تم چلے جاؤ گے….”
اس نے رونی صورت بنا کر کہا تھا….
یار ایسے بولو گی نہ تو میں نے سچ میں ہی نہیں جانا….”
تو مت جاؤ نہ’ میں بھی تو یہی کہہ رہی ہو….”
میرے جانا ضروری ہے پیپرز ہے میرے اب…. بلکہ ایک کام کرو تم بھی میرے ساتھ چلو….”
تمھیں پتا ہے مجھے پاکستان سے باہر جانا بالکل پسند نہیں ہے’ میں کبھی نہیں جاؤں گی….”
اچھا بعد میں تو آؤ گی جب بابا اور بھی آجائیں گے وہاں….”
کہاں پہ؟ اس نے کچھ حیرت سے پوچھا تھا….
دبئ میں اور کہاں تمھیں نہیں معلوم کیا بابا وہی شفٹ ہورہے ہیں….”
المیرا اب بھی اسے حیرانگی سے دیکھ رہی تھی….
اتنی بڑی بات اور اسے پتا ہی نہیں…. اس نے ہلکا سا مسکراتے ہوۓ نفی میں گردن ہلائ….
المیرا تمھیں سچ میں معلوم نہیں تھا کیا؟؟؟”
کیا فرق پڑتا ہے چھوڑو اس بات کو’ ویسے بھی بابا نے کونسا کبھی مجھ سے محبت کی ہے یا وہ مجھے کچھ بتاتے ہیں….”
المیرا ایسی بات نہیں ہے بابا تم سے محبت کرتے ہیں….”
جہانزیب پلیز تم اب بابا کی سائڈ مت لینے بیٹھ جانا’ انہوں نے مجھ سے کبھی محبت نہیں کی’ تمھیں تو بابا ماما دونوں کا پیار ملا ہے ‘ ترستی تو میں رہی ہو ہمیشہ ان کے پیار کیلۓ…..” اس کے لہجے میں نمی آئ تھی….
جہانزیب نے بھی سر جھکایا تھا…. کچھ غلط نہیں کہا اس نے….
تم نہیں جان سکتے جہانزیب وہ اذیتیں جو میں نے سہی ہے ‘ میں ہمیشہ سے انتظار کرتی رہی ہو بابا کا کہ وہ ایک بار آکر مجھے اپنے سینے سے لگاۓ گے ‘ یا ایک شفقت بھرا ہاتھ ہی میرے سر پر رکھ دے’ مگر نہیں وہ کبھی نہیں آۓ اور میں آج تک انتظار میں ہی ہو کہ بابا آۓ گے اور مجھے اپنے سینے سے لگاۓ گے’ اور میں سارے گلوے شکوے بھلاکر ساری اذیتیں بھول کر ان کے سینے سے لگ جاؤ گی کوئ شکایت کوئ گلہ نہیں کرو گی’ مگر مجھے معلوم ہے وہ دن کبھی نہیں آۓ گا’ انگیجمنٹ والے دن بھی میں انتظار کرتی رہی کہ بابا آکر سر پر ہاتھ رکھے گے ‘ مگر وہ جب بھی نہیں آۓ’ سر پر ہاتھ تمھارا تھا جبکہ ہونا بابا کا چاہیے تھا…..”
اس نے سر جھکایا ہوا تھا وہ اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ کر بول رہی تھی….
المیرا بابا سے نفرت کرنے لگی ہو کیا؟؟؟” اس نے نہ جانے کس احساس کے تحت پوچھا تھا…. اس نے نگاہ اٹھائیں تھی…. آنکھوں میں نمی تھی….
یہ میرے بس میں نہیں’ ایک بیٹی کبھی اپنے باپ سے نفرت کرسکتی ہے’ کبھی نہیں’ وہ میرے بابا ہے میں چاہ کر بھی ان سے نفرت نہیں کرسکتی’ یہ میرے بس میں ہی نہیں ہے ‘ مگر میں ان سے ناراض ہو بہت زیادہ…..”
جو محبت جو پیار میں بابا سے ڈیزرو کرتی تھی وہ مجھے یوشع کے ڈیڈ سے ملا ہے’ میں انہیں بھی بابا ہی بلاتی ہو’ اور انہوں نے بھی ہمیشہ مجھے بیٹیوں والا پیار ‘ بیٹیوں والی عزت ‘ بیٹیوں والا مان دیا ہے….”
اور بھائ کا پیار….
اس نے نگاہ اٹھا کر جہانزیب کو دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا….
وہ علی بھائ سے ملا ہے’ انہوں نے بہنوں والی عزت دی ہے’ پہلے تم چھوٹے تھے’ پھر تم دبئ چلے گۓ دو سال بعد واپس آۓ ہو’ اب جوان ہوگۓ ہو’ اب مجھے لگتا ہے کہ میری بھی کوئ ڈھال بن سکتا ہے’ تو تم واپس جارہے ہو…” جہانزیب نے اس کے کندھے پر اپنا بازو پھیلایا تھا…. اس نے اس کے کندھے پر سر ٹکایا تھا…
اور تم نے تو کہا تھا کہ تم وہیں رہو گے وہی جوب کرو گے’ اور جب بابا بھی وہاں شفٹ ہوجاۓ گے تو یقینا وہ اپنا بزنس بھی پھر وہی شفٹ کرے گے تو پھر تم ان کا بزنس سنبھالو گے’ کیونکہ میں تو ان کے ساتھ کام کرتی ہی نہیں ہو’ تو تم ہی سنبھالو گے…..”
تم سچ میں کبھی دبئ نہیں آؤ گی….؟؟”
نہیں….” کیونکہ مجھے بالکل نہیں پسند پاکستان سے باہر جانا…”
اچھا اپنا موڈ ٹھیک کرو’ ایسے الوداع کرو گی مجھے….”
وہ ہلکا سا مسکرائ……
ویسے میں نے تمھارے جیسی بہن آج تک نہیں دیکھی….”
کیوں؟؟؟ کیا ہوا؟؟؟
مطلب کتنی بری بات ہے نہ…” خود اپنی انگیجمنٹ کرواکر بیٹھ گئ ہو بھائ کا کچھ خیال ہی نہیں ہے…”
اوو ہووو تو تمھیں بھی انگیجمنٹ کرنی ہے…” وہ خوش ہوئ تھی…
ہاں تو میں نہیں کرسکتا کیا….”
ہمم صحیح پھر لڑکی ڈھونڈلی جاۓ….”
اگر میں خود ڈھونڈ لو….” اس نے زبان نکالی تھی…..
مطلب تم ڈھونڈ چکے….” اس نے اس کا کان کھینچا تھا….
اللّه اللّه چھوڑ….
پہلے بتاؤ ڈھونڈلی نہ…
ہاں ہاں ‘ اب چھوڑ…..
اس نے کان چھوڑا تھا….
تو اب بتاؤ کون ہے وہ چڑ…..”
میں بتارہا ہو اسے چڑیل مت بولنا….” جہانزیب نے بیچ میں ٹوکا تھا…..
وہ بہت خوبصورت ہے آئ سمجھ……”
افففف ہم تو شادی سے پہلے ہی زن مریدی والے کام کرے گے…..” المیرا نے اتراتے ہوۓ کہا….. اس نے ایک بار پھر اس کا کان کھینچا تھا….
المیرا تم اس طرح کی حرکتیں کرتی میرے ساتھ ہو’ مگر قسم سے ترس مجھے یوشع بھائ پہ آتا ہے وہ کیسے رہے گے تمھارے ساتھ ساری زندگی ‘ ہاۓےے میرے بیچارے یوشع بھائ…..”
المیرا نے اس کی کمر پر مکہ مارا تھا….
اور کرو اب بکواس….”
اللّه….. جہانزیب نے اپنی کمر پر ہاتھ رکھا تھا…..
کون سا زکوٹا جن گھسا ہے تمھارے اندر بیٹھے بیٹھے….”
المیرا نے قہقہہ لگایا تھا…..
ہاہاہا زکوٹا جن’ ویری فنی…..
وہ تھوڑا اسکے قریب کھسکی تھی….
اچھا تصویر تو دیکھاؤ….؟؟
نہیں دیکھارہا میں کیا کرلو گی….”
اچھا بچوو’ یہ بات ہے’ ٹھیک ہے نہ دیکھاؤ پھر میں بھی جاری ہو دادی کے پاس’ دادی کو سب کچھ سچ سچ بتانے….” وہ بیڈ سے اٹھنے لگی تھی….. جہانزیب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر واپس بیڈ پر بٹھایا تھا….
افففف میری بہنا یہی بیٹھ جا…..”
دادی دادی…..” اس نے بیٹھے بیٹھے آواز لگائ تھی…..
جہانزیب نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا…..
یار مجھے دادی کی چھڑی سے مار کھانے کا کوئ شوق نہیں چڑھ رہا’ آرام نال بیٹھ جا نہ…..”
المیرا نے اپنے منہ پر رکھے اس کے ہاتھ پر کاٹا تھا….
آآآ اوئ اللّه…..” اس نے رونی صورت بنائ تھی…..
تو اب شرافت سے اس کی تصویر دیکھاؤ…..”
جہانزیب نے منہ بناتے جیب سے موبائل نکالا تھا…..
یہ دیکھو….’ اس نے تصویر دیکھائ تھی….
ماشااللّه یہ کتنی پیاری ہے…..”
تم جیسے بندر کو اتنی حسین پری مل کہاں سے گئ…؟؟؟
وہ مسکرایا…. یہ خود میرے پاس آئ تھی میری پیاری بہنہ….”
جہانزیب لمبی لمبی چھوڑنے لگا تھا’ حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا….
اووو بس بس پھینکو انسان….
ہاہاہاہا’ جہانزیب نے قہقہہ لگایا تھا…..
ٹھیک ہے میں دادی سے بات کرو گی….”
ٹھینک یو….”
کچھ دیر یوہی اور باتیں کرنے ایک دوسرے کو تنگ کرنے کے بعد المیرا اور یوشع دونوں اسے ائیر پورٹ چھوڑنے گۓ تھے…. المیرا کو واپس گھر چھوڑنے کے بعد وہ بھی واپس اپنے گھر آگیا تھا…..
***

آج المیرا بہت خوش تھی…. اتنی خوش کہ چہرے پر بھی خوشی کے رنگ واضح نظر آرہے تھے…. چہرہ گل گلنار ہورہا تھا….. وجہ آج یوشع پورے ایک مہینے کے بعد نیویارک سے واپس آرہا تھا…. آج ان کی انگیجمنٹ کو دو مہینے ہوگۓ تھے…. جہانزیب کے جانے کے چند دن بعد ہی یوشع بھی بزنس کے سلسلے میں نیویارک چلاگیا تھا…. اور آج پورے ایک مہینے بعد وہ واپس آرہا ہے…. اس لۓ اس کی خوشی کا کوئ ٹھکانہ نہیں تھا…. وہ یوشع کے ہی گھر میں کیچن میں کھڑی اس کی پسند کی ساری ڈیشز بنارہی تھی… بہت کچھ اس نے اکیلے بنایا تھا…. صبح ہی وہ یہاں آگئ تھی اور اب شام ہوگئ تھی سب کچھ ریڈی تھا…. اس نے یوشع کو صاف صاف دھمکی دی تھی کہ دیکھو شہری مجھے سرپرائز مت دینا جس دن آنا ہو اسی دن کا بتانا کہ اس دن آؤ گا….. کیونکہ میں نے تمھارے لۓ لزیز کھانے بنانے ہیں…..
اور وہ جو بیچارہ سرپرائز دینے کا سوچے بیٹھا تھا’ سارے خواب کا چکنا چور کرکے رکھ دیا المیرا نے…..اسی لۓ سرپرائز دینے کا ارادہ کینسل کردیا تھا مگر وہ خوش تھا کہ گھر پہنچ کر سب سے پہلے اپنی متاع کل کا دیدار کرنے کو ملے گا…. اس کے ہاتھوں کی بنی لزیز ڈشز کھانے کو ملے گی…. دونوں ہی حد سے زیادہ خوش تھے…. اتنی خوشی میں اتنی ڈشز بنانے کے چکر میں وہ اپنا ہاتھ بھی جلا بیٹھی تھی اور سب سے بڑھ کر اس پر کچھ لگایا بھی نہیں…..
(ہاۓۓے پکا یوشع سے ڈانٹ پڑے گی)
المیرا نے ٹائم دیکھا تھا….. اس کا ٹائم ہوگیا تھا آنے کا….. اس نے شیشے میں خود کو ایک نظر دیکھا تھا…. آج وہ بلیک کلر کی پٹھانی شلوار قمیص میں ملبوس تھی…. دوپٹے کو شانوں پہ اچھی طرح پھیلایا ہوا تھا…. یوشع نے بھی گھر میں اینٹری ماری تھی….. لمبی سانس اندر کو کھینچی تھی….. طبیعت تازہ ہوگئ اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا بھوک بھی تازہ ہوگئ تھی…. لذیز کھانوں کی مہک ہر طرف پھیلی ہوئ تھی…. اس نے اپنا سوٹ کہس ملازم کو پکڑوایا تھا اور خود کیچن کی طرف آیا…..
ایک مہینے بعد دیدار یار افففف….” دل میں کہا تھا…. خوشی سے اس کے گال بھی لال ہورہے تھے…. گال پہ پڑتا ڈمپل بھی واضح تھا…. اس نے کیچن میں پہلا قدم رکھا تھا….. ہر چیز کھل اٹھی تھی…. وہ بھی اس وقت بلیک پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا…. اسے محسوس ہوگیا تھا کہ وہ کیچن میں آگیا ہے…..
دیدار یار بھی کیا چیز ہے’ انسان کی سارے دن کی تھکن دور ہوجاۓ…..” وہ قدم قدم چلتا اس کے قریب آرہا تھا…. ابھی تو اس نے اس کا چہرہ دیکھا بھی نہیں ہے مگر اس کی لو دیتی باتیں اور دیدار یار افففف…….
المیرا بلش کرنے لگی تھی….
مطلب یار کسی نے صحیح کہا ہے مرد کی اگر سارے دن کی تھکن تھکاوٹ کو دور کرنا ہوتو اسے اسکی من پسند عورت کا دیدار کرادیا جاۓ…..” اس نے پیچھے سے اسے کندھوں سے تھاما تھا…. سانسیں ساکت ہوگئ تھی…. دل کی دھڑکن کی سپیڈ بڑھ گئ تھی….. اس نے اسے خود کی طرف گھمایا تھا…. المیرا نے چہرہ جھکایا ہوا تھا…. ٹھوڑی کے نیچے دو انگلہ رکھ کر اس کا چہرہ اوپر کیا تھا…. دل کو سکون مل گیا تھا….. اس کی مہینے بھر کی تھکاوٹ اترگئ تھی….
“فقط محبوب کے دیدار سے”
وہ یک ٹک اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا…. ایک مہینے بعد محبوب کا دیدار کیا جارہا ہے”
المیرا نے اب نظریں اٹھا کر ان مقدس آنکھوں میں جھانکا تھا اس کی چہرے کو دیکھا تھا….
مگر اگلے ہی پل اسنے نظریں جھکائ تھی….
ان بھوری آنکھوں میں کتنی محبت تھی ، کتنی چاہت تھی ، کتنی عزت تھی ان بھوری آنکھوں میں….. ان بھوری آنکھوں میں نہیں دیکھا جاتا….
یوشع نے مصافحہ کیلۓ ہاتھ آگے بڑھایا تھا…..
السلام علیکم!!!! اس نے مقدس پلکیں اٹھائ تھی….
جلدی یاد نہیں آگیا یوشع یوسفزئ…..
طنز کے ساتھ غیرت بھی دلوائ تھی….. وہ مسکرایا…. ڈمپل گہرا ہوا…. المیرا نے بھی مصافحہ کیلۓ ہاتھ آگے بڑھایا تھا….
(مگر ہاۓ رے قسمت ہماری المیرا بھول گئ تھی کہ اس کی کلائ جل گئ ہے)
یوشع کی نظر اسکی کلائ پر پڑی تھی….. وہ جو مصافحہ کرنے ہی لگی تھی اس نے اسکی کلائ کو اپنی گرفت میں لیا تھا…..
سسسس” یوشع نے اسکی کلائ چھوڑ کر اس کے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیا….. وہ اسکی کلائ کو غور سے دیکھ رہا تھا…. آنکھوں میں خون اترا…..
سارے موڈ کا بیڑا غرق ہوگیا….. المیرا کو معلوم پڑگیا تھا کہ اسکی خیر نہیں……
شہری….” اس نے ڈرتے ڈرتے اسے پکارا تھا….
شٹ اپ….” وہ دھاڑا تھا…. وہ ڈر کر پیچھے ہوئ تھی….
اندھی ہوکر کام کررہی تھی کیا’ ارے کس نے کہا تھا پاگلوں کی طرح کام کرنے کو کہ ہاتھ جلا بیٹھوں’ سارے ملازم مرگۓ تھے کیا ان سے کروالیتی…..”
المیرا کی آنکھوں میں نمی آئ تھی….
دل کررہا ہے ایک تھپڑ رکھ کر دو تمھارے تاکہ تمھاری عقل ٹھکانے پر آجاۓ….”
ایک موتی ٹوٹ کر گال پر لڑھکا تھا….
اس نے اپنا ہاتھ اس سے چھڑوایا…..
اس نے اسے بازوؤں سے تھاما تھا…. گرفت بھی سخت تھی….
آخر چاہتی کیا ہو تم مجھے یہ آج بتاہی دو؟؟؟”
ایک اور موتی ٹوٹ کر گال پہ لڑھکا تھا…..
اففف کیا مصیبت ہے یار…..” اس نے اس کے بازؤں پہ سے ہاتھ ہٹاۓ تھے…..
ایک تو تمھاری آنکھوں میں یہ آنسوں نہیں دیکھے جاتے….”
اس نے اپنے ماتھے پر انگلیاں پھیری تھی….. ذرا کی ذرا نظریں اس پر ڈالی…. وہ اپنے آنسوں صاف کررہی تھی…..
نہیں یار المیرا تم آج مجھے بتاہی دو تم آخر چاہتی کیا ہو؟؟؟ تمھیں معلوم ہے تمھاری آنکھوں میں آنسوں نہیں دیکھے جاتے مجھ سے جب ہی تم رونے لگ جاتی ہو’ معلوم ہے نہ تھوڑا سا رولوں گی تو خود ہی غصہ ختم ہوجاۓ گا….”
تتتتم بہت برے ہو” ہمیشہ کہتے ہو کہ آج کے بعد نہیں ذانٹوں گا پھر بھی ہمیشہ ڈانٹ دیتے ہو….”
یوشع مسکرایا…. سارا غصہ ہوا ہوگیا تھا….
وہ اپنے آنسو صاف کرتی بچوں کی طرح کتنا خوبصورت سا شکوہ کرگئ تھی…..
یوشع کو اس پہ رج کر پیار آیا تھا….. مگر ابھی صرف غصہ کرنا ہے…. اس نے خود کو باآور کروایا…..
تو تم ایسے کام کرتی ہی کیوں ہو؟؟؟ جس پہ مجھے تم پہ غصہ کرنا پڑے….” آواز میں غصہ اب بھی تھا مگر پہلے والا غصہ بالکل نہیں تھا….
میں اتنا خوش تھا کہ تم سے ڈھیر ساری باتیں کروں گا’ تمھارے گلے شکوے دور کردوں گا جو اس پورے مہینے میں میں تم سے ٹھیک سے بات نہیں کرپایا’ دو گھڑی فرصت کے مجھے وہاں نہیں ملے تھے کہ تم سے بات کرسکوں ڈھیر ساری ‘ مگر نہیں موڈ تو خراب کرنا ہوتا ہے نہ کسی نہ کسی طرح…..”
سورییی…..”
وہ اس کا بازو پکڑ کر سلیپ کی طرف گیا تھا…. ڈرا میں سے فرسٹ ایڈ باکس نکالا تھا…. کریم نکال کر اس کی کلائ پر لگانے لگا تھا…. اسے جلن کا احساس ہورہا تھا مگر وہ خوش تھی…. یوشع سے زیادہ بیسٹ لائف پارٹنر کوئ نہیں ہے’ وہ اس کی بہت فکر کرتا ہے….. اس کے غصے میں بھی تو فکر تھی….
وہ کریم لگاتے ہوۓ بڑبڑا رہا تھا….
اتنا نہیں ہورہا تھا کہ اگر جل ہی گیا تھا تو کوئ کریم ہی لگالیتی اتنے ریشز تو نہ پڑتے مگر نہیں کریم تو لگانی ہی نہیں نہ ‘ چوبیس گھنٹے بس لاڈ اٹھوانے ہیں اپنے ‘ لاڈ اٹھوانے کا شوق ہے بس ‘ اور اگر ڈانٹ دو تو رونے بیٹھ جاتی ہے’ یوشع جی آپ نے مجھے ڈانٹا…..”
وہ اترا اترا کر دانت پیس کر خود ہی اپنے منہ ہی منہ میں بڑبڑاۓ جارہا تھا….. المیرا اب مسکراتے ہوۓ اسے سن رہی تھی…. یوشع نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا…..
اب کیوں ہنسی آرہی ہے تمھیں؟؟؟ تم تو خوش ہونہ دل کو تکلیف پہنچا کر خوشی ملتی ہے تمھیں’ تبھی خود کو نقصان پہنچاتی رہتی ہو….”
المیرا نے اپنی مسکراہٹ دبائ تھی…..
ہنسو خوب ہنسو ‘ مگر چھوڑو گا نہیں تمھیں’ میرے ننھے سےدل کو تکلیف پہنچائ ہے نہ سزا ملیں گی المیرا خان تمہیں اسکی…..”
وہ سیریس ہوئ تھی….
کیسی سزا؟؟؟”
ابھی بتاتا ہو….
اس نے اسے اپنے طرف کھینچا تھا….. وہ اس کے سینے سے لگی تھی….
اس کی دونوں کلائیوں کو پیچھے کی طرف لےجاکر اپنے مضبوط ہاتھ کی قید میں سختی سے جکڑی تھی….
سسسس ‘ اس کو درد ہوا ‘ جلن کا احساس ہوا تھا….
یوشع نے بھی اسکی دونوں کلائیوں کو تھوڑا اوپر سے پکڑا تھا تاکہ اسے جلن کا احساس نہ ہو…..
شہری یہ کیا؟؟؟
شششش اس نے چپ کروایا تھا…..
سزا….” اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب کیا….
تمہیں پتا ہے نہ میں کتنا ضدی اور غصے والا ہو….”
تو آج تمھاری سزا ہے آج تم اپنی محبت کا اظہار کروں گی….
وہ مسکرائ….
اظہار زبردستی نہیں کرواۓ جاتے….”
میں زبردستی ہی کرواؤں گا….”
وہ اس کے اتنا قریب تھی مگر وہ ڈر بالکل نہیں رہی تھی… کیونکہ اسے معلوم ہے وہ کوئ غلط حرکت نہیں کرے گا….
ستم یہ کہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے کہو کس کی ہو؟؟؟؟”
اس کی آنکھوں میں دیکھنا اففف توبہ…. اس نے سختی سے آنکھیں میچی تھی…. لب ہلتے ہیں….
“تمہاری ہو”
نہیں میری آنکھوں میں دیکھ کر کہو…..”
پھر وہی ضد….
پلیز….”
میں نے کہا ہے’ میری آنکھوں میں دیکھو….”
کلائیوں پر ہتھکڑیاں سخت کی تھی….
ذرا کی ذرا پلکیں ان مقدس آنکھوں میں جھانکنے کی گستاخی کرتی ہے…..
تین بار کہو…” کہو کس کہ ہو؟؟؟ وہ بھی بنا پلکیں جھپکے….”
پھر وہ اس کی ضد کے آگے ہارجاتی ہے…. اسے اگر جیتنا پسند ہے تو المیرا کو بھی اس کی محبت کے آگے ہارنا….
ہاں ہاں یہی تو محبت ہے ان کی یہی تو ان کا معصوم سا عشق ہے….. محبتوں میں لاڈ اٹھاۓ جاتے ہیں…. محبتوں میں لاڈ اٹھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں….. ہاں ہاں وہ اٹھاتے ہیں ایک دوسرے کے لاڈ…. یہی محبت ہے یہی عشق ہے…. اس نے اظہار کیا تھا….
“تمہاری ہوں’
تمہاری ہوں’
صرف تمہاری ہوں”
اور اس خوبصورت اقرار کے بعد پلکیں اقرار کی سرخیاں عارضوں پہ لۓ جھک جاتی ہیں…..
اور پھر اس ضدی عملی اعتراف کا ثبوت اسے اپنے ماتھے پہ محسوس ہوتا ہے…. ہاں نہ اس نے اپنے تشنہ لب اس کے ماتھے پر رکھے تھے…. کتنا سکون ملا تھا دونوں کو اس خوبصورت اعتراف پر….
اس نے اپنے لب اس کے ماتھے سے ہٹاۓ تھے…..

“اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارا “تو میں تمہارا”
یا اس پر مبنی کوئ تاثر کوئ اشارہ “تو میں تمھارا”

غرور پرور ، انا کا مالک کچھ اس طرح کے ہیں نام میرے
مگر قسم سے جو تم نے ایک بھی دفعہ پکارا “تو میں تمھارا”

تم اپنی شرطوں پہ کھیل کھیلوں میں جیسے چاہو لگاؤں بازی
اگر میں جیتا تو تم ہو میرے ، اگر میں ہارا “تو میں تمھارا”

تمہارا عاشق ، تمہارا مخلص ، تمہارا ساتھی ، تمہارا اپنا
رہانہ ان میں سے کوئ دنیا میں جب تمہارا “تو میں تمھارا”

تمہارا ہونے کے فیصلے کو میں اپنی قسمت پر چھوڑتا ہوں
اگر مقدر کا کوئ بھی ٹوٹا ستارہ “تو میں تمھارا”

دونوں کی روحوں کو دنیا جہاں کا سکوں مل گیا تھا کتنا پیارا کتنا خوبصورت اظہار محبت کیا ہے دونوں نے…..”
ایک بار پھر اس نے اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھے تھے…..
وہ اس کی کلائیوں کو چھوڑ کر اس سے دور ہٹا تھا…..
مگر وہ اب تک اس کے سحر میں جکڑی ہوئ تھی….
اس نے نگاہ اٹھائ تھی….
آپکو کب سے شعرو شاعری کا شوق ہوگیا’ آپکو تو ان چیزوں کا شوق ہی نہیں ہے….”
وہ ایکچوئلی کیا ہے نہ ‘ میری ایک متاع کل ہے’ میری جان من اسے بہت شوق ہے ان شعر و شاعری کا تو پھر سوچا کیوں نہ میں بھی ایک یاد کرہی لیتا ہو ‘ مگر قسم سے بہت مشکلوں سے یاد ہوئ تھی….” اس نے منہ بناتے اپنا سر کھجایا تھا….
المیرا مسکرائ……
ویسے بہت ظالم ہو کب سے آیا کھڑا ہو مگر اتنا نہیں ہورہا کہ کچھ کھانے کو ہی دے دوں یار بہت بھوک لگی ہے…..”
آپ فریش ہوکر آجاۓ میں کھانا لگوادیتی ہو…..”
اوکے بس ابھی آیا پانچ منٹ میں…..”
اس نے چٹکی بجائ تھی….. اور پھر وہ کیچن سے نکل گیا تھا……
میں جتنا رشک کرو اپنی قسمت پر شاید اتنا کم ہو….” اس نے خود سے اعتراف کیا تھا…..
ہاں شہری میں صرف آپکی ہو’ صرف آپکی….”
وہ شرمائ تھی…..
تھوڑی دیر بعد یوشع کھانے سے بھرپور انصاف کرنے لگا تھا….
اس نے سب سے پہلے بریانی اپنی پلیٹ میں ڈالی تھی وہ کہتا ہے اسے عشق ہے بریانی سے…..
المیرا بھی اسی کے ساتھ بیٹھی اس کو دیکھ رہی تھی….
تم نہیں کھاؤ گی…..”
نہیں….”
اوکے ایز یو وش’ اس نے کندھے اچکاۓ تھے…..
المیرا نے آنکھیں چھوٹی کرکے اسکو گھورا تھا….
کیا؟؟؟ اگر کھانا ہے تو کھالو….”
اس نے یہ کہتے اسکی پلیٹ میں بھی بریانی نکالی تھی…..
المیرا منہ میں بڑبڑائ تھی…..
پہلے تو ڈانٹ دیا اور اب کتنی آرام سے کھانے میں لگیں ہوۓ ہیں ‘ اتنا نہیں ہورہا کہ تھوڑی تعریف ہی کردو…..”
وہ مسکرایا…. اس کے تو کان ویسے ہی تیز ہے…..
المیرا میری جان!! کھانا بالکل بھی اچھا نہیں بنا….”
المیرا کو غصہ چڑھا تھا….
مگر نہیں چھوڑو لڑنا نہیں ہے وہ بس کھانا کھالے آرام سے…..
وہ ایک ایک کرکے بہت مزے مزے سے ساری ڈشز چیک کررہا تھا ساری ہی اسکی پسند کی چیزیں تھی…. مگر تعریف نہیں کرنی شان میں کمی نہیں آجانی یوشع کی…..
وہ خوش تھے مطمئین تھے ایک دوسرے کے ساتھ…..
مگر کون جانے یہ پل انکی زندگی میں آگے واپس آنے بھی ہے یا نہیں…….
***

جاری ہے___