No Download Link
Rate this Novel
Episode 42
مدھم سی رنگین لائٹس ہر طرف اون تھی…. تیز آواز میں چلتا میوزک, وائن کی مہک, لڑکیوں کی بیہودہ ڈریسنگ, لڑکے لڑکیوں کا رقص… غرض ہر طرف گناہ کا عمل جاری تھا… ایسے میں وہ میز پر نفرت بھری نگاہوں سے سوفٹ ڈرنک کے گھونٹ بھرتا ان لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا جن میں شاید حیاء نام کی کوئ چیز نہیں تھی…. ان گہری براؤن آنکھوں میں سواۓ نفرت کے اور کچھ نہیں تھا….
دی گریٹ بزنس مین یوشع یوسفزئ آج یہاں ایسی جگہہ پہ ایم شوکڈ….” وہ بولتا بولتا اس کے سامنے رکھی چیئر پر بیٹھ گیا…. یوشع نے اپنےسامنے بیٹھے اس بندے کو دیکھا…. وہ ان کا ایک پرانا بزنس پارٹنر تھا جس سے یوشع کے تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے تھے….
میری زندگی ہے جہاں مرضی آؤ جاؤ’ اٹس نوٹ یور بزنس…..”
ارے ارے تم تو غصہ ہی کرگۓ میں نے تو بس ایسے ہی کہا تھا……” یوشع ایک بار پھر سوفٹ ڈرنک کے گھونٹ بھرتا سامنے ان لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا…..
“اور دیکھو یار میں تو بھول ہی گیا تمھیں مبارکباد دینا کونگریچولیشن آخر کار شادی جو ہوگئ ہے تمھاری…..” سعد نے مصاحفہ کیلۓ ہاتھ آگے بڑھایا مگر یوشع نے بس صرف ایک نظر سعد کے بڑھے ہوۓ ہاتھ کو دیکھا اور پھر وہ سامنے کسی غیر مرئ نقطے کو گھورنے میں مصروف ہوگیا…. سعد نے ہاتھ واپس گرالیا….
چلو کوئ نہیں ویسے کتنے افسوس کی بات ہے نہ یوشع یوسفزئ انگیجمنٹ کسی کے ساتھ نکاح کسی اور کے ساتھ’ علی کی بہن کے ساتھ نکاح ہوا ہے نہ یوشع یوسفزئ…..” اس کے لہجے میں طنز تھا…. یوشع نے اب کچھ بیزاریت سے اسکی طرف دیکھا…..
اٹس مائ پروبلم….”
ویسے چلو جو ہوا اچھا ہی ہوا’ کہاں وہ المیرا خان اور کہاں ماہین سیال؟؟؟ ویسے بھئ مزے لگ گۓ ہیں تمھارے تو…..” یوشع نے اب کچھ غصے سے اس کی طرف دیکھا….
کہاں المیرا خان کی باڈی فزکس اور کہاں ماہین سیال کی افففف…..” اس نے بہت بےباکی سے کہا تھا…. یوشع نے غصے سے مٹھی بھینچی…..
بھئ اگر میں تمہاری جگہہ ہوتا تو بہت مزے……” اور اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتا یوشع غصے سے چئیر سے اٹھا… سعد کا کالر پکڑ کے اس کوکھڑا کیا….. اور اس سے پہلے وہ اپنا کالر چھڑواتا یوشع نے ایک زوردار مکہ اس کے منہ پر رسید کیا تھا…. وہ دھاڑا تھا…..
ماہین عمران میری بیوی ہے’اگر آج کے بعد دوبارہ اسطرح کے الفاظ تم نے استعمال کۓ تو زندہ نہیں چھوڑو گا’ انڈرسٹینڈ…..”یوشع نے ایک بار پھر زوردار مکہ اس کےمنہ پر مارا تھا….. اس کی ناک سے خون بہا تھا….. ہر طرف جیسے یک دم ہی خاموشی چھاگئ تھی…. یوشع نے ایک جھٹکے سے اس کا کالر چھوڑ کر اس کو دور پھینکا تھا…. غصے سے آگے کی طرف بڑھا تھا اور باہر جاتے جاتے وہ اس حرام شے کو بھی ساتھ لے آیا تھا…. باہر آکر اس نے وائن کی بوتل کو منہ کے قریب کیا…… ایک گندی سمیل اس کے نتھنوں سے ٹکرائ….. اس نے فورا بوتل کو خود سے دور کیا تھا…. مگر غصہ کم نہیں ہورہا تھا اور پھر اس نے وائن کو منہ سے لگالیا…. وہ یوشع جس نے آج تک ایسی جگہہ پر آنے کی کوشش نہیں کی تھی, جو آج تک ایسی جگہہ پر نہیں آیا تھا, آج آیا بھی تو اس حرام شے کو بھی پی لیا تھا…. وہ بامشکل ہی آدھی وائن پی پایا تھا اور پھر اسی وقت اس نے قے کی تھی… اس کا سر گھومنے لگا تھا… اس کو چکر آرہے تھے…. چکراتے سر کے ساتھ وہ اپنی کار تک پہنچا اور پھر گھر کی طرف روانہ ہوگیا…….
آج ماہی یوشع کے روم میں آئ تھی….. یہ دیکھنے کہ وہ روم میں ہے یا نہیں…. شام سے یوشع گھر سے باہر گیا ہوا تھا اور اب رات کا ایک بج گیا ہے مگر وہ اب تک گھر نہیں آیا…. کتنی ہی دیر انتظار کرنے کے بعد آخر تھک ہار کر وہ روم میں ہی آگئ کہ کیا پتا وہ روم میں ہی ہو مگر یہاں آکر بھی اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا…. وہ یہاں بھی نہیں تھا…. وہ اس کے روم کو کھڑی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی…. تین مہینے ہوگۓ نکاح کو اور آج وہ اس کے روم میں آئ تھی…. وہ بیڈ کے پاس بجھے دل بجھے چہرے کے ساتھ کھڑی تھی…. روم کا دروازہ کھولا گیا…. ماہی کا سانس اٹکا تھا…. یوشع نے روم میں داخل ہوتے اپنے سر کو تھاما…. اپنی آنکھیں رگڑتا سر کو جھٹکا دیا….اس کی آنکھیں لال ہورہی تھی….. اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھارہا تھا….. اس کے قدموں میں بھی لڑکھڑاہٹ تھی….. یوشع نے بیڈ کے پاس کھڑے اس وجود کو دیکھا….. ایک بار پھر آنکھوں کو رگڑا…. سر کو جھٹکا دیا…. ماہی ڈرتے ڈرتے پیچھے مڑی… وہ اب اس سے ڈرنے بھی تو بہت لگی تھی کیونکہ یوشع کا بس نہیں چلتا تھا اس کاجب دل کرتا وہ غصے میں ماہی ہر ہاتھ اٹھادیتا تھا…. اور اس دن روم سے نکالے جانے کے بعد اس میں ہمت ہی نہیں ہوئ تھی کہ وہ دوبارہ اس کے روم میں آۓ…. اور اب وہ پھر ڈر رہی تھی کہ کہی یوشع پھر اس کو روم میں دیکھ کر اس پر ہاتھ نہ اٹھادے….
المیرا….” وہ لڑکھڑاتے قدموں سے ماہی کے قریب آیا….
المیرا تتتتم….” یوشع نے اس کو بازو سے تھاما….. ماہی حیرانگی سے اس کو دیکھنے لگی…
المیرا تم واپس آگئ’ المیرا تم آگئ…..”
یوشع کی آنکھوں میں نمی آئ…. وہ مسکرانے لگا تھا…. اس نے اس کو خود کے قریب کیا….
ماہی نے بولنا چاہا…..
شششششش’ یوشع نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اس کو چپ کروادیا…..
تمھیں پتا ہے تتتم بہہہت بہت بری ہو’ بہت زیادہ……” اس کی آنکھیں بھیگنے لگی تھی…. لہجہ نم…..
ماہی کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اپنے ہوش میں نہیں اور اس کو اس میں المیرا نظر آرہی ہے’ مگر اب یوشع کے ساتھ کیا ہوا ہے جو وہ یہ سب کررہا ہے کہ وہ اپنے ہوش میں نہیں ہے؟؟ ماہی نے اپنا چہرہ یوشع کے چہرے کے قریب کیا….. اس نے فورا اپنی ناک پر ہاتھ رکھا….
“یوشع نے ڈرنک کی ہے” اس نے دل میں کہا…. مگر ایسے کیسے؟؟؟ یوشع میں ایسی کوئ بری عادت نہیں….” اس کو ایک دم کرنٹ لگا تھا وہ اپنی سوچوں سے باہر نکلی….
یوشع نے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے ….. یوشع نے ہاتھوں کے پیالے میں ماہی کا چہرہ بھرا…..
المیرا تم سچ میں آگئ’ تم بہت بری ہو بہت بری…..” وہ کبھی اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا…. کبھی اس کو بازو سے تھامتا تو کبھی اس کو خود میں بھینچتا…..
اسے اس وقت بالکل بھی ہوش نہیں تھا کہ وہ کیا کررہا ہے؟؟؟ سامنے کھڑا وجود کس کا ہے المیرا یا ماہی…. ماہی نے خاموشی سے اسے بیڈ پر لٹایا…. یوشع کی ایک ہی رٹ تھی مجھے چھوڑ کر مت جانا…. مجھے چھوڑ کر مت جانا…. تم بہت بری ہو….ماہی چند پل وہاں کھڑی اس کو دیکھتی رہی…. اس کے شوز اتارے…. وہ اس پر بلینکٹ صحیح کرکے جانے لگی تھی… یوشع نے اس کی کلائ تھامی….
المیرا مت جاؤ پلیز’ میرے میرے پاس رہو’ اب نہیں رہا جاتا تمھارے بغیر….” ماہی نے مڑ کر اس کو دیکھا…..
وہ نیم بےہوشی کی حالت میں یہ سب کہہ رہا تھا….. اس کی آنکھیں کبھی کھلتی تو کبھی بند ہوتی….
مہرو’ مت تڑپاؤ اپنے شہری کو…..” یوشع کی آنکھ سے موتی ٹوٹ کر پلو میں جزب ہوگیا…. ماہی نے تھوک نگلا…. وہ اس کے قریب ہوئ…. یوشع نے اس کو خود پر گرایا…… اس کی کمر کے گرد دونوں بازؤں کا حصار کیا اور کچھ دیر بعد وہ اس کے اوپر تھا….. اس نے اس پر اپنی گرفت سخت کی تھی….. ماہی نے آنکھیں بند کی…. آج اس نے اپنا آپ یوشع کے سپرد کردیا تھا….. کھڑکی سے جھانکتا چاند اداسی سے مسکرایا…. وہ خوش نہیں تھا ان کے ملن پر بالکل بھی نہیں…. وہ اسی اداسی سے نظریں جھکاۓ بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا….. ساری رات یوشع اس پر اپنی شدتیں نچھارو کرتا رہا… اپنی محبت کی بارش میں اس کو بھگوتا رہا….. وہ بھی خاموشی سے اس کی شدتیں اس کے بھیگے لمس اپنے وجود پر محسوس کرتی رہی…..
****
صبح کا سورج طلوع ہوا تھا اور آج کی یہ صبح یوشع پر قیامت کی طرح برسنے والی تھی…… یوشع کی پلکوں میں جنبش ہوئ…. اس نے ہاتھ اٹھا کر سر کو تھاما….. اسے اپنے سینے پر کسی کا وجود محسوس ہوا تھا….. مشکلوں سے اس نے آنکھیں کھول کر اپنے سینے کو دیکھا….. اس کی پوری آنکھیں کھل گئ…. وہ وجود کسی اور کا نہیں ماہی کا ہی تھا…. جو اس کی شرٹ پہنے اس کے سینے پر سر رکھے پرسکون سی سورہی تھی…… یوشع نے اپنے برہنہ جسم کو دیکھا…. وہ کرنٹ کھا کر اٹھ کر بیٹھا…. اس کے ایک دم اٹھ کر بیٹھنے سے ماہی کی بھی آنکھ کھل گئ تھی… وہ بھی اٹھ کر بیٹھی… اس نے ایک نظر یوشع کو دیکھا…. جو یک ٹک اسی کو دیکھ رہا تھا…. اس نے نظریں جھکائ……
یوشع تو اب تک حیران تھا اس سیچویشن کو کو لے کر…. کبھی خود کے وجود کو دیکھتا…. تو کبھی ماہی کے وجود کو جو اس کی شرٹ میں ملبوس تھی…..
کککییییا کیا ہوا تھا رات کو…..” اس کی آواز میں صاف لڑکھڑاہٹ تھی…….
ماہی نے نظریں اٹھا کر اس کو دیکھا…
وہی جو بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا’ وہی سب جو سب کا حق ہوتا ہے….”
جھوٹ…” جھوٹ ہے یہ سب….” کچھ نہیں ہوا…..
اب تم مانو یا نہ مانو مگر جو سچ ہے وہ سچ ہے’ اور اب کی بار میں تمھارے قریب نہیں آئ تھی تم خود میرے قریب آۓ تھے’ رات کو تم نے خود اپنی مرضی سے مجھے اپنایا ہے’ میں تمھاری بیوی ہو یوشع یوسفزئ…..” اس نے ہمت سے جواب دیا….
جھوٹ ہے یہ….” وہ بالکل ہی یہ بات ماننے سے انکاری تھا اور پھر وہ ایک جھٹکے سے بیڈ سے اٹھا اور واشروم میں جاکر بند ہوگیا…. شاور کے نیچے کھڑے وہ خود کے وجود کو رگڑ رہا تھا…
ایسا نہیں ہوسکتا مجھے نفرت ہے ماہی سے’ مجھے پر حق صرف المیرا کا ہے’ اور یہ حق کسی کو نہیں دے سکتا میں….”
وہ خود سے بڑبڑاتا پاگلوں کی طرح تیز تیز اپنے جسم کو رگڑنے میں مصروف تھا….. کافی دیر یوہی اپنے وجود کو رگڑنے کے بعد وہ وہی دیوار کے ساتھ ٹیک لگاۓ سر کو تھامتے بیٹھتا چلا گیا….
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے؟؟ کیا ہوا تھا رات کو؟؟ جو ماہی کہہ رہی ہے وہ سب سچ بھی ہے یا جھوٹ؟؟؟
اس نے اپنے دماغ پر زور دیا رات کیا ہوا تھا؟؟؟
وہ غصے میں ایک بار میں چلا گیا تھا’ وہاں اس کو سعد ملا تھا, اس کی بےباک باتیں, یوشع کا اس کو مارنا, اور پھر….” اس سے آگے وہ یہ سب سوچ بھی نہیں سکتا’ وہ یہ بات سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس نے کل رات غصے میں ڈرنک کی تھی…..
یااللّه میں نے حرام شے کو ہاتھ لگایا’ نہیں بالکل نہیں…..” مگر اب حقیقت کو کون جھٹلاتا ہے….. وہ سر پکڑے وہی بیٹھا رہا…. ایک پل, دو پل گھڑی کی سوئیاں اپنی رفتار سے گھوم رہی تھی….. کتنے پل بیتے اور پھر وہ باہر آیا تھا…..
اس کی انکھیں لال تھی…. بظاہر وہ فریش تھا…. ایک بار پھر ماہی کو دیکھ کر دماغ کی رگیں ابھری تھی…. غصے سے آگے بڑھتا ماہی کے بالوں کو سختی سے اپنی گرفت میں لیا تھا…..
میں نے منع کیا تھا نہ کہ میرے کمرے میں مت آنا تو کیوں آئ؟؟؟ وہ دھاڑا تھا…. اس نے آنکھیں بند کی تھی….
یوشع یوسفزئ تمہاری بیوی ہو میں’ اس کمرے پہ جتنا تمہارا حق ہے اتنا ہی میرا بھی ہے’ اور یہ حق تم نے کل رات کو خود مجھے دیا ہے….” اس نے بھی دوبدو جواب دیا….
حق ‘ میں بتاتا ہو تمھیں تمہارا حق’ نکلو یہاں سے…..” وہ اسے بالوں سے ہی پکڑتا دروازے کی طرف لے کر جارہا تھا….
یوشع چھوڑو مجھے’ میں اب کہی نہیں جاؤں گی’ یہ کمرا میرا بھی ہے’ لیو می….” یوشع نے دروازہ کھول کر ایک جھٹکے سے اسے باہر دھکیلا تھا….
یہ ہے تمہارا حق’ اس روم سے باہر’ ماہین عمران جہاں مرضی رہو مگر روم میں ہر گز نہیں’ میری بلا سے تم مرجاؤں کہیں جاکر’ میری زندگی سے جاؤں’ میں تمھیں کبھی معاف نہیں کرو گا کبھی نہیں’ اور دیکھ لینا میں المیرا کو واپس لاؤں گا اسی گھر میں اسی روم میں’ اور تم تڑپتی مرتی رہ جاؤں گی مگر کبھی میرے دل میں اپنے لۓ جگہہ نہیں بنا پاؤ گی’ نہ میرے دل میں نہ میری زندگی میں’ اور اسی طرح ایک دن مرجاؤ گی جب میں کہی جاکر سکون کا سانس لوں گا’ جب سے زندگی میں آئ ہو جب سے زندگی خراب کرکے رکھ دی ہے’ چلی جاؤ’ دفعہ ہوجاؤ’ مرجاؤ’ مگر میری زندگی سے جاؤ…..” اور اب ماہی نے خود کو سنبھالا تھا’ دل خون کے آنسو رویا تھا مگر آنکھ میں ایک آنسو نہیں……
جاؤ یوشع یوسفزئ لے آؤ المیرا خان کو اگر تمہاری محبت میں اتنی ہی طاقت ہے تو لے آؤ المیرا کو’ مگر اسے کیا کہو گے کہ میرے ساتھ چلو میں نے کچھ نہیں کیا؟؟؟ میں بےقصور ہو بےگناہ ہو؟؟؟ اور وہ تمہارا یقین کرکے تمہارے ساتھ آجاۓ گی؟؟؟ کیا وہ تمہاری باتوں پر یقین کرلے گی؟؟ ارے اب تو سب کو یہی لگتا ہے کہ تم گنہگار ہو میرے’ اور پھر وہ رپورٹس وہ بھی تو یہی کہتی ہے نہ کہ تم گنہگار ہو’ بھائ بھی تمھیں گنہگار سمجھتے ہیں’ نہ بھائ ہے نہ المیرا ہے تم اکیلے ہوگۓ ہو یوشع یوسفزئ اکیلے’ اگر المیرا کو تمہاری اتنی فکر ہوتی تو وہ تمہیں کبھی اکیلا چھوڑ کر نہیں جاتی کبھی نہیں’ اور میں مجھے دیکھو تم سے بےپناہ محبت کی تمہاری زات سے عشق کیا’ اور تمہیں اپنا بنالیا…. ” یوشع کی بولتی بند ہوچکی تھی…. اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنا بولے گی’ اور شاید اس کے پاس جواب تھا بھی نہیں اس نے کچھ غلط بھی نہیں کہا تھا’ کیا المیرا واقعی اس کے پاس واپس آجاۓ گی؟؟ کیا وہ واقعی اس کی باتوں پر یقین کرلے گی؟؟ اس نے پڑھا تھا جانے والے کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتے’ تو کیا المیرا واپس آجاۓ گی؟؟ وہ صحیح تو کہہ رہی ہے علی بھی تو اسے گنہگار سمجھتا ہے’ وہ واقعی اکیلا تو ہے’ نہ محبت ہے نہ جان سے زیادہ عزیز دوست ہے….”
یوشع نےچپ چاپ دروازہ بند کردیا تھا…. وہ باہر کھڑی دروازے کو تکتی رہی…. اور اندر وہ بالوں کو پکڑے کھڑا تھا….. سارے سوالات اس کے ذہن میں گردش کررہے تھے….
نہیں المیرا کو واپس آنا ہوگا’ اسے میری بات پر یقین کرنا ہوگا’ اسے بھی مجھ سے عشق ہے…..” وہ چینختا چلاتا گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھتا چلا گیا……
*
جاری ہے_
