No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
Visal-e-Javedan وصال جاوداں
یوشع اپنے آفس روم میں کھڑا ہاتھ میں پکڑی فائل کو دیکھ رہا تھا اور پھر مطلوبہ جگہہ پر سائن کرکے فائل سامنے کھڑی زینب کو دی…… زینب نے فائل لی….
“علی نہیں آیا ابھی تک….’ اس نے ریوالونگ چیئر پر بیٹھتے پوچھا…….
نو سر…..
اور المیرا بھی نہیں آئ کیا….’
وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آئ ہے’ اپنے کیبن میں ہے…..’
اوکے….
سر آپ کیلۓ کافی لے آؤ….؟؟؟
وہ کرسی پر پیر پر پیر جماۓ بیٹھا تھا’ ایک ہاتھ پیر پر اور دوسرا کرسی کے ہینڈل پر کہنی سے جماۓ بند مٹھی پر سر کو ٹکاۓ اسے دیکھ رہا تھا…..’
میری سیکرٹری ہو’ یا علی کی….’
جی سر” اس نے کچھ حیرانگی سے دیکھا “جیسے آپ کو نہیں معلوم میں کس کی سیکرٹری ہو”
میں نے کیا پوچھا ہے؟؟؟
جی علی سر کی….
جی بالکل’ تو پھر اسی کے کام کیا کرو….’
زینب نے سر جھکایا….
یوشع کو ہنسی آئ مگر ضبط کرگیا…..”
المیرا کو بھیج دو سر اگر آپ کو کچھ کام ہے تو….؟؟
میں نے تم سے کہا کہ المیرا کو بھیجو…”
نوسر….
تو پھر جاؤ جاکہ اپنے کام کرو…’ مجھے المیرا سے کام ہوگا تو میں خود اسے بلالو گا…..”
اور وہ شرمندہ ہوتی یس سر کہتی روم سے نکل گئ…..”
یوشع سیدھا ہوکر بیٹھا’ ٹانگ پر ٹانگ جمائ ہوئ تھی…. وہ اس وقت بلیو پینٹ اور گرین دھاریوں والی شرٹ میں ملبوس ہر بار کی طرح فریش تھا’ کسی بھی لڑکی کا دل آرام سے دھڑکا سکتا تھا’ مگر ہمارے یوشع کا دل تو صرف المیرا کیلۓ دھڑکتا ہے….”
یوشع نے ٹائم دیکھا….. آئ کیوں نہیں ابھی تک’ اتنا نہیں ہورہا کہ اپنی شکل ہی دیکھا جاؤ ایک بار…..’
“وہ اسے دیکھنے کیلۓ بے چین ہورہا تھا”
دس سے پندرہ منٹ ویٹ کرتا ہو’ کیا پتا آجاۓ’ مگر ہاۓ یہ ٹائم کیسے گزرے گا….”
وہ خود سے ہی باتیں کررہا تھا…. اس وقت کوئ اسے یوں باتیں کرتا دیکھ لے تو آفس میں اعلان ہوجانا تھا کہ سر کی آج طبیعت ٹھیک نہیں ہے’ ان کا دماغ خراب ہوگیا ہے…..
المیرا اپنے کیبن میں بیٹھی تھی “یوشع انتظار کررہا ہوگا مگر میں کیسے سامنا کرو گی’ اس نے ایک منٹ نہیں لگانا میری حالت پہچاننے میں….”
المیرا نے اپنی آنکھوں کو رگڑا”
“یوشع نے ایک بار پھر ٹائم دیکھا’ پندرہ منٹ ہوگۓ تھے’ مگر المیرا ابھی تک روم میں نہیں آئ تھی”
بس بہت ہوا”
وہ سیدھا ہوکر کرسی پہ آگے کو ہوکر بیٹھا’ میز پہ رکھا اپنا موبائل اٹھایا اور کال ملائ……
دوسری طرف سے کام اٹھائ گئ….
کہاں ہو یار میں کتنی دیر سے تمھارا ویٹ کررہا ہو’ اور ایک تم ہو جو خود کے دیدار سے محروم رکھا ہوا ہے’ جلدی آؤ یار تمھیں دیکھنا ہے’ تمھیں دیکھے بغیر کچھ بھی کام کرنے کو دل بھی نہیں کرتا….” کیا ہوا’ تم کچھ بول کیوں نہیں رہی ہو؟؟؟
آرہی ہو’ کافی لاؤ….
ہاں لے آؤ….
المیرا نے کال کاٹ دی… یوشع نے حیرت سے موبائل کو دیکھا…
“تمھاری آواز کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی”
کیا پتا میں کچھ زیادہ ہی سوچ رہا ہو’ ابھی آۓ گی تو پتا چل جاۓ گا ٹھیک ہے یا نہیں…”
اس نے اپنا لیپ ٹاپ اون کیا’ مگر کام نہیں کیا’ کرسی سے ٹیک لگالی…..
پندرہ منٹ بعد المیرا روم میں داخل ہوئ تھی…. ہاتھ میں بھاپ اڑاتا کافی کا مگ پکڑا ہوا تھا…. یوشع سیدھا ہوکر بیٹھا’ مسکراتے ہوۓ اسے دیکھنے لگا….
آج وہ بھی گرین کلر کی قمیض اور ساتھ وائٹ کلر کا پجامہ ڈالا ہوا تھا ‘ دوپٹے کو اچھی طرح کندھوں پر پھیلایا ہوا تھا….’
المیرا نے کافی کا مگ یوشع کے سامنے رکھا…. آپکی کافی…’
یوشع اسی کو دیکھ رہا تھا’ مگر المیرا نے اب تک نظریں اٹھا کر یوشع کو نہیں دیکھا تھا…..
مگ رکھ کر وہ سیدھی ہوئ’ اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑ رہی تھی….
میں بعد میں آتی ہو ‘ مجھے کچھ کام ہے….”
نظریں جھکاۓ کہا اور جانے کیلۓ مڑی….
ون منٹ المیرا…. وہ رک گئ تھی….
یوشع کو اب تک اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ ٹھیک نہیں ہے…..
وہ کرسی سے اٹھا’ قدم قدم چلتا المیرا تک آیا…. اس نے اس کا بازو پکڑ کر المیرا کا رخ اپنی طرف کیا…. دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں سے المیرا کی ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر اس کا چہرہ اوپر کیا….
لوک ایٹ می المیرا…. المیرا نے مزید نظریں جھکائ…..
آئ سیڈ لوک ایٹ ان مائ آئیز…؟؟؟
اس نے اب بھی نرمی سے کہا….
المیرا نے جھکی پلکیں اٹھائ…. کالی گہری آنکھوں نے گہری براؤن آنکھوں میں جھانکا….. یوشع نے کالی گہری آنکھوں میں دیکھا جو کہ رتجگے کی چغلی کھارہی تھی…. المیرا نے ایک بار پھر نظریں جھکائ…. یوشع نے دونوں ہاتھوں سے المیرا کے دونوں بازوں کو پکڑا….
اوکے’ المیرا اب میں صرف سچ سنو گا’ مجھے اب سب کچھ بتاؤ کل میرے جانے کے بعد گھر میں کیا بات ہوئ’ آنٹی نے کل کیا کہا جسکی وجہ سے تم ساری رات جاگتی رہی ہو ‘ روتی رہی ہو’ اگر جاگ رہی تھی تو میرے میسیجز کا ریپلائ کیوں نہیں کیا…؟؟ مجھے صرف سچ سننا ہے’ نہ میں نہیں سنوں گا’ اب بتانا سٹارٹ کرو’ سٹارٹ ٹو دی اینڈ….”
المیرا نے اسکی آنکھوں میں دیکھا’ اسی چیز سے تو ڈر رہی تھی مگر اب کوئ راستہ بھی نہیں تھا…. وہ دونوں کافی دیر یوہی ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے یہاں تک کہ المیرا کی آنکھوں میں نمی آگئ’ اس نے بتانے کیلۓ لب کھولے مگر الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے….’
آخر اس نے ساری بات یوشع کو بتادی شروع سے آخر تک’ جیسے جیسے یوشع سنتا گیا’ المیرا کے بازوؤں پر اسکی پکڑ سخت ہوتی گئ…. غصے کی وجہ سے آنکھیں لال اور دماغ کی رگیں ابھرنے لگی تھی…..
المیرا نے سب کچھ بتادیا تھا’ آنکھوں سے آنسوں نکل نکل کر گالوں پر لڑھک رہے تھے…..
شہری مجھے درد ہورہا ہے…. المیرا نے اس کے دونوں ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر کہا….
یوشع کی پکڑ ڈھیلی ہوئ’ اس نے بازؤں پہ سے ہاتھ ہٹاۓ’ ہاتھوں کی مٹھیوں کو زور سے بھینچا’ پھر بالوں میں ہاتھ پھیر کر خود کو ریلیکس کرنے کی کوشش کی’ لمبے سانس لے کر غصے کو کم کرنا چاہا…. المیرا کی طرف دیکھا…. اس کے آنسوں صاف کیے….
اب اگر ایک بھی آنسوں تمھاری آنکھوں سے نکلا نہ المیرا تو قسم سے دو تھپڑ کھینچ کے لگاؤ گا تمھارے… اس کے بعد جتنا مرضی رو لینا قسم سے اتنی تکلیف جب بھی نہیں ہوگی کہ تم میری وجہ سے روں گی جتنی تکلیف اب مجھے تمھاری آنکھوں میں کسی اور کی وجہ سے آنسوں دیکھ کر ہورہی ہے…. اس نے انگلی اٹھائ…. المیرا بالکل چپ…. ایک بار پھر آنسوں صاف کیے….
اس نے اپنا دایاں ہاتھ اس کے چہرے پر رکھا….
المیرا مجھ سے محبت کرتی ہو’ المیرا نے اثبات میں سر ہلایا….
نظریں جھکی ہوئ تھی…. اور وہ اسی کو دیکھ رہا تھا….
بھروسہ کرتی ہو مجھ پر’ یقین ہے میرے پر….’ اس نے ایک بار پھر اثبات میں سر ہلایا…
کتنا یقیں کرتی ہو اپنے شہری پر…..
خود سے بھی کئ زیادہ….’
المیرا نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا….
ہمیشہ یوہی بھروسہ کرو گی….
پھر ہاں میں سر ہلایا…
یوشع نے سکون کی سانس خارج کی….
جاؤ منہ دھو کر آؤ’ تمھارا شہری سب سنبھال لے گا’ تم اب دوبارہ نہیں روؤں گی’ جاؤ فیس واش کرکے آؤ…..
وہ مڑی اٹیچ واشروم کی طرف بڑھ گئ…. یوشع نے ایک بار پھر اپنا ہاتھ اپنے بالوں میں پھیرا… اس نے سوچ لیا تھا اس نے کیا کرنا ہے…..
________________________
اتنے میں علی روم میں داخل ہوا تھا…. وہ بلیو پینٹ اور وائٹ شرٹ میں ملبوس تھا…. وہ یوشع کی طرح زیادہ خوبصورت نہیں تھا تو یوشع سے کچھ کم بھی نہیں تھا…. وہ ایک دوسرے سے بغلگیر ہوۓ….. اتنے میں المیرا بھی واشروم سے آگئ….
“المیرا تمھیں کیا ہوا ہے؟؟؟” یوشع تم نے آج پھر کچھ کہا ہے کیا…؟؟؟
یار مانا کہ کل ڈانٹ دیا تھا… غلطی ہوگئ تھی میرے سے مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں نہ کہ میں اب روز ہی ڈانٹنیں لگ جاؤں گا….
المیرا میری جان مجھے سچ بتاؤ…..
علی نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھا…. اس کو سینے سے لگایا…..
اگر اس یوشع نے تمھیں کچھ کہا ہے تو بتاؤ…. اس کو تو میں ابھی بتاتا ہو”
علی نے المیرا کا چہرہ اوپر کیا….
کل تو میں نے چھوڑ دیا تھا…. کچھ نہیں کہا’ مگر آج نہیں چھوڑوں گا….
علی نے یوشع کو گھورتے ہوۓ کہا….
اس کی آنکھ میں ڈسٹ چلی گئ تھی’ جسکی وجہ سے آنسوں آگۓ اور آنکھیں لال ہوگئ’ باقی یہ تمھاری بہن کھڑی ہے پوچھ لو کہ کیا یہ میری وجہ سے رو رہی ہے…. ‘
بھائ…. یوشع ٹھیک کہہ رہے ہیں’ آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا…’
اس نے ایک بار پھر آنکھیں رگڑی… اب میں ٹھیک ہو……
المیرا نے مسکراتے ہوۓ کہا…..
دیکھ لیا سچ کہا تھا میں نے…
ٹھیک ہے اگر تم کہتی ہو تو مان لیتا ہو……”
“علی ان دونوں کی باتوں سے متفق نہیں ہوا تھا’ مگر چپ ہوگیا تھا یہ سوچ کر کہ بعد میں یوشع سے سچ اگلوا لے گا”
علی نے المیرا کے سر پر پیار کیا’ پھر سر پر ہاتھ پھیرا…..
تمھارا بھائ’ ہمیشہ تمھارے ساتھ ہے’ کوئ کچھ بھی کہے مجھے بتانا…..”
جی بھائ…..
ٹھیک ہے تم دونوں باتیں کرو’ میں کچھ کام کرلو…..
علی روم سے نکل گیا…..
یوشع نے المیرا کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا…..
“میں نے بھی تم سے کل کہا تھا کہ میں ہمیشہ تمھارے ساتھ ہو’ کچھ بھی ہوجاۓ’ تمھارا شہری ہر موڑ پر تمھارے ساتھ کھڑا ہے’ صرف ایک مسڈ کال اور تمھارا شہری تمھارے پاس آجاۓ گا’ تو تم نے مجھے کل ہی سب کچھ کیوں نہیں بتایا…. “
ہمت نہیں تھی مجھ میں بات کرنے کی….’
یوشع نے نفی میں سر ہلایا… اس کی آنکھوں میں دیکھا….
“میں اب بھی کہوں گا تمھارا شہری ہمیشہ تھارے ساتھ ہے….
یوشع نے ہاتھ چھوڑے…. اپنی ٹیبل تک گیا….. کافی کا مگ اٹھایا….. المیرا کے ہاتھوں میں دیا…. جاؤ دوسری بناکے لے کر آؤ…. ٹھنڈی ہوگئ ہے….. چلو جلدی جاؤ….. اب وہ اس کا باس بن گیا تھا…. ایک باس کی طرح آرڈر دیا…. المیرا کل سے شاید اب دل سے مسکرائ تھی…
اوکے سر کہتی وہ بھی آگے بڑھ گئ….
المیرا’ یوشع نے پکارا….
وہ رک گئ مگر مڑی نہیں…..
ہنستی رہا کرو یار اچھی لگتی ہو…. “
المیرا مسکرائ’ اور بنا کچھ کہے روم سے نکل گئ…..
یوشع بھی مسکراتا ہوا اپنی چیئر پر آکے بیٹھا اور اب اپنے کام میں بزی ہوگیا……
********
علی اپنے روم میں داخل ہوا تو اندر کھڑے وجود کو دیکھ کر مسکراہٹ لبوں پر آئ…. مسکرا کر بالوں میں ہاتھ پھیرا….. قدم قدم چلتا اس کے قریب آیا…. وہ وہاں کھڑی فائلوں کو سیٹ کررہی تھی….. علی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا… وہ جو اس حملے کیلۓ تیار نہیں تھی کھینچتی ہوئ علی کے چوڑے سینے سے ٹکرائ…. علی نے اس کی کمر کے گرد دونوں بازوؤں کا گھیرا کرکے اس کے جانے کی راہیں بند کردی…..
“کیسی ہو میری جان؟؟”
وہ اپنے چکراتے سر کو تھامے کھڑی تھی…..’
“بہت بری ہو” غصے سے علی کو دیکھ کر جواب دیا…..
علی نے مسکراتے ہوۓ زینب کے ماتھے پر محبت بھرا لمس چھوڑا….. زینب نے آنکھیں میچی’ علی کے کالر کو سختی سے اپنی مٹھی میں جکڑا……
علی نے باری باری اس کی دونوں آنکھوں پر بوسہ دیا….’
“اوپن یور آئیز” زینب نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولی…..
“اب بتاؤ کیا ہوا ہے؟؟ کیوں موڈ آف ہے؟؟؟”
کچھ نہیں ہوا’ ٹھیک ہو میں…..’
اب مجھے بتارہی ہو یا میں اپنے طریقے سے اگلواؤں….؟؟
ایک تو یوشع سر کی مجھے سمجھ نہیں آتی میں نے صرف اتنا پوچھا تھا کہ سر آپکو کافی لادو….’ مجھے کہتے کہ علی کی سیکرٹری ہوتو اسی کے کام کیا کرو…..”
علی کی ہنسی چھوٹی اور پھر وہ ہنستا ہی چلا گیا…..” وہ پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ہنس رہا تھا…..
زینب نے غصے سے گھورا…..
یوشع سر نے مجھے ڈانٹا اور آپ کو ہنسی آرہی ہے…..”
ہاہاہاہا’ سوری یار… ہاہاہا اس نے اپنے ہنسی کو بریک لگائ’ آنکھوں میں ہنسنے کی وجہ سے آۓ پانی کو صاف کیا…..’
“یار تمھیں کس عقلمند نے مشورہ دیا تھا کہ تم یوشع سے کافی کا پوچھو’ تمھیں اچھی طرح معلوم ہے یوشع المیرا کے علاوہ کسی کی بھی بنی کافی نہیں پیتا اور آفس میں تو اسے صرف المیرا کے ہاتھوں کی بنی کافی پسند ہے’ تو میری جان کس نے کہا تھا کہ تم یوشع سے کافی کا پوچھو…..”
میں نے تو بس ایسے ہی پوچھ لیا تھا…..”
اب مت پوچھنا ‘ اور جاؤ اپنے ہاتھوں کی بنی کافی مجھے پلاؤ….”
ابھی لائ’ وہ خوش ہوتی روم سے نکل گئ….
پاگل’ علی نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا…. اور وہ خود بھی روم سے نکل گیا کیونکہ اسے اب یوشع کی طبیعت جو سیٹ کرنی تھی……
________________________
علی یوشع کے روم میں داخل ہوا تھا…. غصے سے اسے گھورتا آگے بڑھنے لگا…..
یوشع’ غصے سے کہا….
وہ جو وہاں آرام سے بیٹھا ابھی تھوڑی دیر پہلے المیرا کی لاکے دی گئ کافی سے لطف اندوز ہوتا اپنے خیالوں میں گم بیٹھا تھا……” علی کو غصے سے خود کی طرف بڑھتا دیکھ مگ ٹیبل پر رکھ کر کرسی سے اٹھتے ہوۓ تھوگ نگلا…..”
تو تو گیا یوشع› دل میں خود سے کہا…..
یوشع کے قریب پہنچ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر مروڑا’ وہ بھی گھوما’ علی نے دوسرا ہاتھ بھی پکڑ کر دونوں ہاتھ پیچھے کمر پر باندھے……
آآآ چھوڑدے بےغیرت میرے ہاتھ…..’
“تمھیں زیادہ شوق نہیں چڑھ رہا آج کل لڑکیوں کو ڈانٹنے کا’ کچھ زیادہ نہیں ڈانٹنے لگ گۓ ہو تم” علی نے ہاتھ پر زور دیا…..
آآآ اچھا نہ چھوڑ تو…..
یوشع پیچھے ہوا’ یوشع کی علی کی طرف پشت تھی…..
اپنا چہرہ علی کے کان کے قریب کیا……
“ایک بات تو بتا یہ لڑکیوں کے پیٹ میں کچھ بچتا نہیں ہے کیا جو سب کچھ ہی کسی نہ کسی کو بتادیتی ہے”
علی مسکرایا’ مگر یوشع کے ذہن میں کچھ کلک ہوا تھا…. علی نے ہاتھ چھوڑے اور یہی اس کی غلطی تھی…..
یوشع فوراً علی کی طرف مڑا….. علی کا ہاتھ پکڑ کر مروڑا….. پہلے والا سین چینج ہوگیا تھا…. جو حالت پہلے یوشع کی تھی وہ اب علی کی ہوگئ تھی….
“تم مجھے یہ بتاؤ تم نے ڈیڈ کو کال کرکے کیوں بتایا کہ میں نے المیرا کو ڈانٹا تھا….”
ہاں تو میری بہن کو رلاؤں گے تو کیا میں چپ بیٹھوں گا……
یوشع نے ہاتھ پر زور دیا…..
آآآ….
ڈانٹا میں نے تھا’ ہمت تھی تو مجھ سے لڑتے’ ڈیڈ کو کیوں شکایت لگائ…..”
اسی لۓ کیونکہ تم انکل کے علاوہ کسی کے قابو نہیں آتے…..”
یوشع کے بچے ہاتھ تو چھوڑ……’
یوشع نے اپنا چہرہ علی کے کان کے قریب کیا اور چبا چبا کر کہا…..
میرے بچے نہیں ہے’ جب بچے ہوگے تب میرے بچوں کو بولنا یوشع کے بچے….. میں یوشع یوسفزئ ہو’ اسی لۓ آئندہ مجھ سے پنگا سوچ سمجھ کر لینا…..”
سالے چھوڑ دے میرا ہاتھ درد ہورہا ہے’ میں تجھ سے بڑا ہو ‘ کچھ تو شرم کر…..”
نہ ہی مجھ میں شرم ہے اور نہ ہی میں تمھارا سالا ہو…..”
یوشع ہاتھ چھوڑ کر پیچھے ہوا….. علی نے اپنا رخ یوشع کی طرف کیا…… اپنی کلائیوں کو سہلایا….. یوشع نے اپنے دونوں بازوں علی کے کندھوں پر رکھے…..
“ہاں اگر چاہوں تو میں تمھارا بہنوئ ضرور بن سکتا ہو میری جان’ یوشع نے ہونٹوں کو گول کر کے کہا……
لاحولا ‘ پیچھے ہٹو میرے سے…..
علی نے اسے دھکا دیا….
“میں المیرا نہیں ہو’ آئ سمجھ’ نہ ہی میں تمھاری جان ہو….”
یوشع نے قہقہہ لگایا…..
علی نے انگلی اٹھا کر وارن کیا…..
یوشع یوسفزئ آج کے بعد اگر زینب، المیرا یا ماہی میں سے تم نے کسی کو بھی ڈانٹا یا ان کی آنکھوں میں تمھاری وجہ سے آنسوں آۓ تو میں بھول جاؤں گا ہم بچپن سے ساتھ ہے…..”
یوشع نے آئبرو اچکائ…..
ماہی کو میں نے کب ڈانٹا…… اگر ڈانٹا تو….. علی نے تصحیح کی….. اور ایک آخری بات….. علی نے قدم پیچھے بڑھانا شروع کیے…..
“جب تم میرے قریب آتے ہو’ یا اس طرح کی کوئ حرکت کرتے ہو ( اس کا اشارہ کندھوں پر ہاتھ رکھنے اور ہونٹوں کو گول کرنے کی طرف تھا) تو مجھے تم پہ کچھ شک ہونے لگتا ہے کہ تم سچ میں مرد ہو یا کچھ……
علی نے فقرہ ادھورا چھوڑا تھا….
یوشع نے غصے سے پین کھینچ کر مارا مگر علی کے لگنے سے پہلے ہی وہ زبان دکھا کر باہر نکل گیا تھا…… یوشع نے پہلے تو غصے سے دروازے کو گھورتے دائیں ہاتھ کی مٹھی بناکر بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر زور سے ماری اور پھر مسکراتا ہوا اپنی چئیر پر بیٹھ گیا……
_______________________
یوسف صاحب آفس آۓ تھے کئ دنوں بعد….. سب ہی یوسف صاحب سے مل کر خوش تھے….. وہ بھی بہت خوشدلی سے سب سے ملے….. یوسف صاحب نرم دل کے مالک تھے….. یوسف صاحب کے آنے سے افس والوں کی عید سی ہوجاتی تھی….. اور اس دن یوشع کی بولتی بند رہتی تھی کیونکہ یوشع سب کو ڈانٹتا تھا اور اس کے مقابلے میں یوسفزئ ہر کام پرسکون طریقے سے کرنے کے مالک تھے…. یوشع جس دن یوسفزئ صاحب کے سامنے کسی کو ڈانٹ دے’ اس دن تو یوشع کی سب کے سامنے کلاس لگ جانی ہوتی تھی….. جو وہ بالکل بھی افورڈ نہیں کرسکتا تھا….. اس لۓ اس دن یوشع چپ اور باقی سب کی زبان کھل جاتی تھی….. یوسف صاحب کے آنے کی سب سے زیادہ خوشی المیرا کو ہوئ تھی…… سب خوش تھے……
_______________________
