Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

Visal-e-Javedan وصال جاوداں

“ملے تو اسے کہنا تیرے نہ ہونے سے کچھ بھی تو نہیں بدلا’

یہ سورج بھی وہی سے نکلتا ہے’

آسماں پہ تارے بھی چمکتے ہیں’

اور چاند کی چاندنی بھی ہوتی ہے’

ہوا بھی چلتی ہے’ دریا بھی بہتے ییں’

پھول بھی کھلتے ہیں’ ان میں خوشبو بھی ہوتی ہے’

لیکن نہ جانے کیوں!!

تیرے نہ ہونے سے ہر چیز ادھوری لگتی ہے’

ہر صبح شام سی لگتی ہے’

ہر مسکان اداس سی لگتی ہے’

ہر محفل انجان سی لگتی ہے’

اور

ہر دھڑکن بےجان سی لگتی ہے’

ملے تو اسے کہنا کہ تیرے بن دنیا ویران سی لگتی ہے”😞

____________________

“مجھے نہ سانس آتی ہے’ نا میرا دم نکلتا ہے….

مگر یہ بیچ کا عالم بہت تکلیف دیتا ہے….

سمندر نہ اگلتا ہے نہ ساحل پہ پٹختا ہے….

ابھرنا’ ڈوبنا بہت تکلیف دیتا ہے….

جو تم بولو’ تو سنور جاۓ ہم….

جو تم بولو’ تو بکھر جائیں ہم….

مگر یہ ٹوٹنا بہت تکلیف دیتا ہے….

جو تم مانو’ تو بتلائیں…

جو تم سمجھو’ تو سمجھائیں….

تمھارے بن ادھورا پن بہت تکلیف دیتا ہے….”

______________________

‘تیری مسکان’ تیرا لہجہ’ تیرے معصوم سے الفاظ…..

کیا کہوں بس بہت یاد آتے ہو تم…”

__________________

یقیناً وہ آگے بھی لکھتا’ مگر اس کا تسلسل علی نے توڑا تھا’…..

وہ کب سے وہاں آیا بیٹھا تھا’ مگر یوشع کا دھیان بالکل بھی اس کی طرف نہیں تھا…. وہ بس لکھنے میں مصروف تھا…..

یوشع نے علی کو اور علی نے بھی یوشع کو دیکھا’ یوشع نے اپنا خالی مگ سامنے شیشے کی ٹیبل پہ رکھا اور کرسی کہ بیک سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کرلی….

علی نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ڈائری کو دیکھا’ جو یوشع کے ہاتھوں سے لی تھی جس سے اس کے لکھنے کا تسلسل ٹوٹا تھا….

علی نے اب تک ڈائری کو کھول کر نہیں دیکھا تھا’ اور نہ ہی یوشع نے منع کیا’ کیونکہ وہ جانتا ہے وہ جتنا اسے منع کرے گا’ علی نے اتنی ہی زیادہ ڈائری کو چیک کرنی ہے…..

کب سے لکھنا سٹارٹ کردیا تم نے اور یہ ڈائری کا تو تمھیں بالکل بھی شوق نہیں تھا”

ایک سال سے لکھ رہا ہو’ لاہور آنے کے بعد سٹارٹ کی تھی ٹائم پاس کیلۓ’ اب عادت ہوگئ ہے لکھنے کی’ اچھا لگتا ہے لکھنا…..

یوشع آسمان کو تکتا کہہ رہا تھا جہاں بادل برسنے کو تیار تھے….

علی نے ڈائری کا پہلا صفحہ کھول جہاں ‘عنوان’ پہ ‘مہرو’ لکھا تھا اور پھر ‘یوشع’ یعنی ‘مہرویوشع’ علی نے حیرت سے یوشع کو دیکھا…. بےیقینی کی کیفیت سے یوشع کو پکارا….

یوشع…..

جواب ندارد…..

بس آسمان سے نظریں ہٹا کر علی کو دیکھا…..

میں یہ تو جانتا تھا یوشع کہ تم مہرو کو کبھی نہیں بھولے ہو’ اور نہ ہی کبھی بھول سکتے ہو’ وہ تمھارے دل’ تمھاری روح میں ہے’ مگر تم اسے یوں ڈائری میں لکھنا شروع کردو گے….’

علی نے چند صفحے ریڈ کیے…. جہاں مہرو کے ساتھ گزارے لمحے لکھے ہوۓ تھے’ شعر’ غزلیں لکھی تھی…..

علی نے ڈائری بند کردی’ وہ اس ڈائری کو نہیں پڑھ سکتا تھا…. علی نے ڈائری واپس یوشع کو دی…. یوشع نے ڈائری واپس اپنی گود میں رکھی…. وہ دونوں یوہی کافی دیر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے….. پھر علی نے کہنا سٹارٹ کیا….’

یوشع تم بہت بدل گۓ ہو’ بہت زیادہ… اس یوشع سے جس سے میں پورے ایک سال بعد مل رہا ہو’ اس یوشع میں اور پانچ سال پہلے والے یوشع میں بہت فرق ہے’ تم وہ نہیں رہے جو پانچ سال پہلے ہوا کرتا تھا’ اگر مجھے معلوم ہوتا نہ یوشع کہ تم یہاں آکر اس ایک سال میں اتنا بدل جاؤگے تو قسم سے یوشع میں تمھیں یہاں کبھی نہ آنے دیتا’ وہ افسوس سے یوشع کو دیکھتا کہہ رہا تھا…. پانچ سال پہلے والا یوشع پتا ہے کیسا تھا…. شرارتی’ شوخ چنچل لڑکیوں کی طرح’ جو جب تک کسی کو تنگ نہیں کرلیتا تھا’ اس کی ہڈیوں کو چین نہیں ملتا تھا’ غصے کا بھی تیز تھا اور ہر ٹائم چہرے پر مسکراہٹ سجا کر رکھنے والا بھی’ خود بھی خوش رہنا’ اور دوسروں کو بھی خوش رکھنا’ آۓ دن آؤٹنگ کی پلان بنانے والا’ وہ یوشع جو پانچ سال پہلے تھا وہ میرا دوست تھا’ بھائیوں سے بڑھ کر تھا’

وہ کرسی پر آگے کو ہوکر بیٹھا’ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کی’ یوشع ہنوز ویسے ہی بیٹھا بس اسے سن رہا تھا…. بیک سے ٹیک لگاۓ’ سینے پہ بازو باندھے’ ٹانگ پہ ٹانگ چڑھاۓ….”

اور اب والا یوشع پتا ہے کیسا ہے…. عشق میں ہارا ہوا ایک مجنوں’ جسکو صرف اب اپنے سے مطلب ہے’ اس کو اگر کچھ نظر آتا ہے تو بس اپنے دل کا روگ’ اپنے دل کے علاوہ اسے اپنے اردگرد کے لوگ نظر ہی نہیں آتے…. صحیح کہہ رہا ہونہ یوشع یوسفزئ….”

اور تمھیں پتا ہے’ اب مجھے کیا لگنے لگا ہے’ اگر کل کو ہم مر بھی جائیں’ ہمیں کچھ بھی ہوجائیں’ تو پانچ سال پہلے والے یوشع کو تو فرق پڑسکتا تھا ہمارے نہ ہونے سے’ مگر یہ یوشع اس کو شاید کبھی فرق نہ پڑے کہ ہم جیے یا مرے’ کیونکہ اس یوشع کو اگر کچھ نظر آتا ہے تو بس اپنے دل کا روگ’ اپنا عشق’ مطلب یار ایک لڑکی کیا چھوڑگئ…. تم تو مجنوں بن گۓ’ مجھے لگتا تھا تم وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہوجاؤ گے’ سب ٹھیک ہوجاۓ گا’ تم پہلے جیسے ہوجاؤگے’ مگر نہیں’ نفی میں گردن ہلائ….

میں غلط تھا….’

علی اس کی آنکھوں میں دیکھتا بس بولے جارہا تھا’ یہ جانے بغیر کہ سامنے والے کے دل پہ اسکی باتوں کا اثر ہو بھی رہا ہے یا نہیں”

تم تو اسکی یادوں میں’ اس کے عشق میں ڈوبتے ہی چلے گۓ’ جتنا اس کی یادوں سے نکلنا تھا’ تم تو اتنا ڈوب گۓ ہو’

یوشع رحم کھالو خود پر’ تمھارے آگے ابھی تمھاری پوری زندگی پڑی ہے’ کسی ایک کے چلے جانے سے زندگی رک نہیں جاتی’ گزرتی چلی جاتی ہے’ تمھاری بھی گزررہی ہے’ تو کتنا ہی اچھا ہو کہ تم اسے اچھے طریقے سے گزارلوں’ اپنی لائف میں آگے بڑھ جاؤ’ آج بھی کتنی لڑکیاں تم پر مرتی ہے’ خود کو تمھارے سامنے پیش کرنے کیلۓ تیار ہے’ شادی کرلوں نکل آؤ خدا کے واسطے ماضی سے نکل آؤ’

علی نے ہاتھ جوڑے….

بھول جاؤ سب آگے بڑھو لائف میں’ تم جوان ہو’ اپنی لائف برباد مت کرو’ کسی لڑکی کے پیچھے اگر مہرو کو بھی تم سے محبت ہوتی نہ تو وہ تمھیں کبھی چھوڑ کر نہ جاتی’ اور اگر اتنی ہی محبت تم ماہی کو دیتے نہ تو شاید آج میری بہن اس دنیا سے نہ جاتی یوشع….”

نہ چاہتے ہوۓ بھی

شکوہ زباں پہ آہی گیا تھا” گلے میں گلٹی سی ابھری تھی….

علی چپ ہوگیا تھا…. آخری بات پہ یوشع نے بھی سختی سے آنکھیں میچی تھی’ وہ کچھ غلط نہیں کہہ رہا تھا’ جب سے اب یوشع پہ کسی بات کا اثر ہوا تھا’ علی چپ تھا’ اور اب یوشع کے جواب کا منتظر…..

*******

یوشع نے ٹیک لگاۓ لگاۓ پوچھا ہوگیا یا اب بھی اور کچھ بولنا ہے….. بول لو’ سن رہا ہو’ کیونکہ اس کے بعد صرف میں بولو گا’ اور تم سنو گے…..

علی خاموش رہا’ تھوڑی دیر تک یوشع اسکے بولنا کا انتظار کرتا رہا مگر وہ نہیں بولا….

یوشع نے اپنی ٹانگ گھاس پہ رکھی اور اب وہ کرسی پہ آگے کو ہوکر بیٹھا’ گود میں رکھی کتاب کو میز پہ رکھا’ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کی اور بولنا شروع کیا…..

پہلی بات تو یہ کہ ہاں میں واقعی بدل گیا ہو’ یہ والا یوشع جو اب تمھارے سامنے بیٹھا ہے’ یہ پانچ سال پہلے والا یوشع نہیں رہا…. پانچ سال پہلے والا یوشع مرگیا ہے’ اس کا جسم تو ہے مگر روح نہیں’ اور تمھیں پتا ہے میری روح کون تھی’ وہ جس کو تم نے ایک معمولی لڑکی بنادیا’ علی عمران اگر تمھیں معلوم ہو تو وہ معمولی لڑکی تمھاری بہن تھی’ تم نے خود اسے اپنی بہن بنایا تھا’ بھائیوں سے بڑھ کر فرض ادا کیے تھے’ پیار دیا تھا’ وہ معمولی لڑکی تمھاری صرف منہ بولی بہن تھی’ جسکے لۓ تم کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے تھے’ یہاں تک کہ مجھ سے بھی لڑلیا کرتے تھے’ تو سوچو میرا تو عشق ہے وہ’ میں کیسے بھول سکتا ہو اسے’ یاد رکھنا علی عمران وہ میرا عشق تھی’ عشق ہے’ اور آخری سانس تک رہے گی’ وہ میرے دل کا سکون ہے’

اور دوسری بات اگر میں مجنوں بنتا تو آج یہاں تمھارے سامنے بیٹھا تم سے یوں باتیں نہ کررہا ہوتا’ کسی دربار یا ولی کے مزار کے باہر ملنگ بنا بیٹھا ہوتا’ اور پتا نہیں اب تک زندہ بھی ہوتا یا نہیں’

تیسری بات’ اگر مجھے میرے اردگرد کے لوگ نظر نہ آتے تو علی عمران آج تم یہاں میرے سامنے نہ بیٹھے ہوتے’ تمھیں کراچی سے یہاں نہ بلاتا کہ تم اپنی فیملی کو لے کر یہاں آجاؤ’ اگر مجھے میرے اردگرد کے لوگ نظر نہ آتے نہ تو ہادی بھی مجھے نظر نہ آتا’

یوشع نے سامنے کی طرف دیکھا’ جہاں بچے اب تک کھیلنے میں مگن تھے…’

اور ایک بات یاد رکھنا اگر میں زندہ ہو تو اپنے بیٹے کی وجہ سے’ یوشع نے نظریں ہٹا کر علی کی آنکھوں میں دیکھا….

تمھاری وجہ سے’ مجھے فرق پڑے گا تم سب کے ہونے یا نہ ہونے سے’

چوتھی بات’ تم نے صحیح کہا وقت واقعی نہیں رکتا…. گزرتا’ چلا جاتا ہے’ اور میرا بھی گزررہا ہے’ کیونکہ ہماری اس زندگی میں کچھ نہیں رکتا’ وقت اور انسان زندگی میں آتے اور گزرتے چلے جاتے ہیں’ وہ بھی آئ اور چلی گئ’ اب ہے تو کیا بس اس کی یادیں’ اس کی باتیں’ آخری لائن ڈائری کو دیکھ کر کہی’ میرے پاس بھی اب صرف اس کی باتیں ہے’ اس کی یادیں ہے’ وہ ہر جگہ مجھے محسوس ہوتی ہے’ مجھے لگتا ہے وہ یہی میرے آس پاس ہے’ میرا دل بھی چاہتا ہے کہ میں بھی کھل کے جیوں زندگی پہلے کی طرح’ خوش رہو’ سب کے ساتھ’ یہ نا امیدی’ یہ مایوسی’ یہ تنہائ کہیں دور چھوڑ آؤں’ مگر اس کا وہ چبھتا ہوا لہجہ مجھے اذیت کی ان تکلیف دہ وادیوں میں دھکیل دیتا ہے’ جہاں مجھے اپنا آپ بوجھ لگنے لگتا ہے’ یوشع نے ڈائری سے نظریں ہٹا کر علی کو دیکھا’ جو دم سادھے اس کو سن رہا تھا…..’

یوشع نے ایک بار پھر ٹیک لگائ’ دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے’ نگاہیں آسمان پہ جمائ….’

مجھے مہرو کے وہ آخری کی الفاظ نہیں بھولتے’ وہ مجھے آج تک گناہ گار سمجھتی ہوگی علی’ عشق میں شرک کرنے والا سمجھتی ہوگی’ اس نے مجھ سے کہا کہ میں ایک حوس پرست انسان ہو’ اس کے سامنے میں نیک بننے کا ڈھونگ رچتا ہوں اور اس کے پیٹھ پیچھے اپنی حوس پوری کرتا ہو’ اس نے مجھ پر یقین نہیں کیا علی’ کبھی کبھار تو مجھے بھی لگتا ہے کہ واقعی اسے مجھ سے محبت نہیں تھی’ کیونکہ اگر اسے مجھ سے محبت ہوتی تو وہ میرا اعتبار کرتی’ اس نے مجھ پہ اعتبار نہیں کیا’ پھر لگتا ہے کہ وہ بھی اپنی جگہہ ٹھیک تھی’ اسے جیسا دیکھایا گیا’ اس نے اسی پہ یقین کرلیا’

اس بات پہ علی نے آنکھیں میچی تھی اسے اپنی بہن(ماہی) کی وہ غلطیاں یاد آئ جس سے مہرو یوشع کو چھوڑ گئ تھی’

وہ مجھے ایک حوس پرست انسان بنا کر مجھے چھوڑگئ’ اسے میرا رونا’ بلکنا’ تڑپنا’ فریاد کرنا’ منتیں کرنا کچھ نظر نہیں آیا’ اس نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ ایک مرد ہوکر میں کیسے رورہا تھا’ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر منتیں کررہا تھا’ اپنی محبت کی بھیک مانگ رہا تھا کہ مت جاؤ چھوڑ کر’ مگر وہ اس ٹائم پتھر دل بنی مجھے چھوڑ کر چلی گئ’ اس کی وہ آنکھیں نہیں بھولتی علی جہاں پہ مان ٹوٹنے کی تکلیف تھی’ کتنی تکلیف تھی اس کی ان آنکھوں میں’ کچھ نہیں بھولتا مجھے’ وہ آج بھی سرتاپا مجھے یاد ہے’ میں بس اس کی معافی کا طلبگار ہو’ بس وہ مجھے ایک بار معاف کردے تو ہوسکتا ہے کہ میں ٹھیک ہوجاؤ’ اس دل پہ جو بوجھ ہے وہ ختم ہوجاۓ’ آواز میں نمی گھلنے لگی تھی’ یوشع سیدھا ہوکر بیٹھا’ آنکھیں لال ہورہی تھی’ اور یہ سب پتا ہے کس کی وجہ سے ہوا’

علی کی طرف انگلی اٹھائ….

صرف تمھاری بہن کی وجہ سے’ جس کی موت کا ذمہ دار تم نے ابھی مجھے ٹہرایا ہے’ اگر تمھاری بہن اس رات وہ گھٹیا ناٹک نہ کرتی نہ تو آج میری مہرو میرے ساتھ ہوتی اور میں بہت خوش ہوتا’

ہاں میں مانتا ہو کہ میں نے تمھاری بہن سے ویسی محبت نہیں کی جیسے مجھے کرنی چاہیے تھی’ جیسے اسکا حق تھا’ اسے ہمیشہ دھتکارہ’ خود کے قریب نہیں آنے دیتا تھا’ کیونکہ میں تمھاری بہن کو قصوروار ٹہراتا تھا’ کیونکہ یہ سب کرنے والی تمھاری بہن ہی تو تھی’مگر علی عمران ایک بات یاد رکھنا وقت کے ساتھ میں ٹھیک ہونے لگ گیا تھا تمھاری بہن کے ساتھ’ مجھے اس کی عادت ہوگئ تھی’ مہرو دل سے تو نہیں نکلی تھی’ مگر دل کے ایک خانے میں بند کرکے میں تمھاری بہن کے ساتھ سروائیو کرنے لگ گیا تھا’ اپنی لائف میں آگے بڑھ رہا تھا’ تمھاری بہن کی موت کا ذمہ دار میں نہیں خود تمھاری بہن ہے’ اگر وہ ہمیں اپنی بیماری کے بارے میں بتادیتی تو آج شاید وہ بھی ہمارے ساتھ ہوتی’ ہاں میں مانتا ہوکہ یہاں بھی میری غلطی تھی کیونکہ میں یہاں آکے تھوڑی لاپرواہی برت گیا تھا’ میں نے یہ جاننے کی بالکل کوشش نہیں کی کہ وہ آۓ دن ہوسپٹل کس چیک اپ کیلۓ جاتی رہتی ہے’ علی اگر مجھے ذرا بھی اس کی بیماری کا پتا چلتا نہ تو باہر ملک لے جاکر اس کا علاج کرواتا’ جی جان لگا دیتا ‘ مگر اسے کچھ نہ ہونے دیتا’ مگر دیکھو پتا بھی کب چلا’ جب وہ اس دنیا سے جارہی تھی’ انسان نے اپنی زندگی اتنی ہی جینی ہوتی ہے’ جتنی لکھی ہوتی ہے’ اس کی زندگی جتنی تھی’ اس نے گزاری اور وہ چلی گئ’ اس کیلۓ ہم کسی کو بلیم نہیں کرسکتے’

یوشع نے ڈائری ہاتھ میں اٹھائ’ اور ایک آخری بات’ میں کبھی شادی نہیں کرو گا’ جہاں تک ہادی کی بات ہے’ اسے ماں کا پیار دینے کیلۓ زینب بہت ہے’ ہم سب ہے’

یوشع اٹھا اور گھر کے اندر کی طرف بڑھ گیا’

علی گنگ سا وہیں بیٹھا رہا’ نہ یوشع کو روکنے کی ہمت ہوئ’ اور نہ ہی کچھ بولنے کی…..’

اپنے کمرے میں پہنچ کر ڈائری کو ڈرا میں رکھا’ اور خود شیشے کے سامنے جاکر دونوں ہاتھ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر گردن جھکا کر کھڑا ہوگیا’ نظریں اٹھا کر شیشے میں دیکھا’ جہاں پانی جمع تھا’ اس دل کا بوجھ ہمیشہ کم ہونے کی بجاۓ بڑھ جاتا تھا’ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی اس نے علی کے سامنے ماہی کے بارے میں اتنا کچھ بول کر صحیح کیا ہے یا غلط’

اس نے ایک ہاتھ اٹھا کر اپنی آنکھوں کو چھوا’ علی کی کل کی کہی بات یاد آئ’

(تمھیں پتا ہے تمھاری آنکھوں نے نیچے حلقے پڑگۓ ہیں) یوشع نے غور سے دیکھا’ جہاں ہلکے ہلکے حلقے پڑرہے تھے’ جو غور کرنے سے نظر آتے تھے’ یوشع نے سب چیزوں کو ‘ سب خیالوں کو دل سے جھٹک کر واشروم کی طرف فریش ہونے چل دیا……

“بہت عجیب تھے کم بخت بھولتے ہی نہیں…..

وہ چند روز جو تیرے ساتھ گزارے ہم نے….”

*******

جاری ہے________