Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 45

یوسف صاحب یوشع کے روم میں داخل ہوۓ تھے…. پندرہ دن گزرچکے تھے…. اور آج وہ بہت غصے میں لگ رہے تھے….. ان پندرہ دنوں میں علی بھی یوشع سے بات کرچکا تھا اور اس نے ماہی کو ڈائیورس دینے سے بالکل انکار کردیا تھا…. اور سب سے زیادہ غصہ ماہی نے کیا تھا کہ آپ نے یہ بات کیسے کی؟؟؟ پھر علی بھی چپ ہوگیا تھا کہ جب دونوں ہی راضی نہیں تو میں کیا کرسکتا ہو؟؟؟؟
یوسف صاحب نے پورے کمرے میں نظر دوڑائ مگر یوشع نظر نہیں آیا….. پانچ منٹ انتظار کرنے کے بعد یوشع فریش سا تولیے سے گیلے بالوں کو رگڑتا واشروم سے باہر آیا تھا….
بابا آپ یہاں؟؟ کوئ کام تھا تو مجھے بلا لیتے آپ…..” یوسف غصے سے اس کو دیکھتے رہے….. یوشع نے بھی کچھ ان کے چہرے پر جانچنا چاہا…..
بابا اگر آپ جواب لینے آۓ ہیں تو میں آپ سے پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ میں ماہی کو ڈائیورس نہیں دوں گا……”
میں جواب لینے نہیں آیا یہ پوچھنے آیا ہو کہ تم نے جھوٹ کب سے بولنا سیکھ لیا یوشع….”
کیا مطلب بابا میں نے کیا جھوٹ بولا ہے آپ سے’ آپ جانتے ہیں کہ میں آپ سے کیا کسی سے بھی جھوٹ نہیں بولتا…..”
ماہی کا کچھ خیال ہے تمھیں’ کہ وہ کس حال میں ہے’ زندہ ہے کہ مررہی ہے….”
کچھ نہیں ہوتا اسے بابا ڈھیٹ ہے وہ اتنی آسانی سے نہیں مرنے والی…..”
ماہی ماں بننے والی ہے وہ بھی تمہارے بچے کی…..” یہ الفاظ تھے کہ ہتھوڑے جو یوشع پر برساۓ گۓ تھے’ چند پل کیلۓ اسے اپنے اردگرد کی ہر ایک چیز گھومتی ہوئ محسوس ہوئ تھی…. چند پل کیلۓ تو وہ بھی کچھ نہیں بول پایا تھا….. وہ نظریں جھکاۓ کھڑا بس حیران پریشان سا زمین کو دیکھتا رہا…..
بولو کچھ اب کیوں بولتی بند ہوگئ ہے تمھاری’ کوئ جواب ہےتمھارے پاس’ تم کہتے ہو تم نے اسے کبھی نہیں اپنایا اور نہ ہی کبھی اپناؤ گے تو یہ سب کیا ہے’ کیاجھوٹ ہے کیا سچ ہے بتاؤ مجھے’ تمھاری ڈاکٹر اور وہ نرس والی بات وہ جھوٹی اورمن گھڑت کہانی ہے یا وہ سب کچھ جھوٹ ہے کہ اس رات تم دونوں کے درمیان کچھ نہیں ہوا’ کیا جھوٹ ہے ان میں سے بتانا پسند کرو گے’ یوشع مجھے جواب دو اگر تم نے اسے کبھی اپنایا ہی نہیں تو کیا ہے یہ سب؟؟؟؟”
بابا میں نے کوئ جھوٹ نہیں بولا آپ سے جوکہا سچ کہا ہے” ان دونوں میں سے کوئ بھی بات جھوٹی نہیں ہے’ نہ اس رات والی اور نہ ہی وہ رپورٹس والی’ میں نے ماہی کی عزت خراب نہیں کی تھی’جو کچھ ہوا بعد میں ہوا تھا مگر وہ ایک غلط فہمی تھی’ میں اس وقت ہوش میں نہیں تھا……”
اور کیوں نہیں تھے تم ہوش میں…..” یوسف صاحب نے سینے پر ہاتھ باندھتے پوچھا….. یوشع چپ رہا…..
یوشع میری آنکھوں میں دیکھ کر جواب دو…..” یوشع نے مزید نظریں جھکالی تھی…..
یوشع ڈونٹ سے کہ تم نے ڈرنک کی تھی…..” انہوں نے کچھ سوچ بچار سے جواب دیا……. وہ چپ رہا….
یوشع میں نے کیا پوچھا ہے؟؟ جواب دو؟؟ یوشع نے ہاں میں سر ہلایا….
یوشع مجھے افسوس ہورہا ہے آج کہ تم میری اولاد ہو’ یہ تربیت تو میں نے بالکل بھی نہیں کی تھی تمھاری ‘ مجھے تم سے بالکل بھی یہ امید نہیں تھی کہ تم اس عمر میں آکر مجھے اس قدر تنگ کرو گے’ یہ جانتے ہوۓ بھی کہ میں ایک ہارٹ پیشنٹ ہو’ جانتے ہو یوشع اس وقت میرا کیا دل کررہا ہے تمھیں اتنا مارو کے تم اپنی آخری سانس تک یہ مار نہ بھولو…..”
مارلے بابا جتنا مارنا ہے حق ہے آپ کا مار سکتے ہیں’ اففف بھی نہیں کرو گا….”
تم تو مار کھالو گے کیونکہ تمھارے اندر شرم نام کی کوئ چیز ہی نہیں ہے مگر مجھے بہت شرم آۓ گی اپنی جوان اولاد پر ہاتھ اٹھاتے ہوۓ…..” یوسف صاحب نے ایک گہری سانس خارج کی….
آج کے بعد ماہی تمھارے ساتھ اسی روم میں رہے گی…..”
یہ کبھی نہیں ہوگا…..”
بس یوشع بہت ہوگیا’ جتنا برداشت کرنا تھا کرلیا’ اب مزید نہیں جو میں نے کہہ دیا وہ کہہ دیا’ آج کے بعد ماہی تمھارے ساتھ اسی روم میں رہے گی’ اس کا اب تم خیال رکھو گے’ اگر میں نے دیکھا تم نے ماہی ہر ہاتھ اٹھایا ہے یا اسے روم سے باہر نکالا تو بھول جانا کہ تمھارا کوئ باپ ہے……”
بابا…. “
بس چپ جو کہہ دیا سو کہہ دیا’ اس کی دیکھ بھال تمہاری زمہ داری ہے’ میں کل لاہور جارہا ہو دو مہینوں کیلۓ’ جب واپس آؤ تو مجھے میری بیٹی ہنستی مسکراتی دیکھے’ اگر مجھے ذرا بھی اندزہ ہوگیا کہ تم نے اس پر ہاتھ اٹھایا یا اسے روم سے نکالا یا تم نے اسے خوش نہیں رکھا’ تو میں اپنی بات بار بار دہرانے کا عادی نہیں ہو تم اچھی طرح جانتے ہو’ اور کل سے آفس آجانا’ چار مہینوں سے تم نے آفس کی شکل نہیں دیکھی ہے’ میں کتنے بزنس سنبھالوں اکیلے’ وہ تو شکر ہے علی کا اس نے ان چار مہینوں میں بہت ساتھ دیا ہے’ کل سے اپنا آفس سنبھالوں’ اپنی پاور آف آٹرنی کو سنبھالو’ میں جب واپس آؤ تو مجھے سب کچھ صحیح دکھنا چاہیے یوشع…..”
یہ آپ بالکل بھی اچھا نہیں کررہے میرے ساتھ’ میں آپکا سگا بیٹا ہو’ وہ ماہی نہیں ہے آپکی بیٹی……”
نہ مجھے مزید تم سے کچھ سننا اور نہ ہی مجھے مزید کچھ کہنا ہے تم سے’ یا تو باپ کو حاصل کرو گے یا ساری زندگی کیلۓ ترستے رہ جاؤ گے’ چوائس اٹس یورز……”
ملتے ہیں دو مہینے بعد’ خدا حافظ’ اور ہاں بھیج رہا ہو میں ماہی کو روم میں’ یقیناً مجھے شکایت کا موقع نہیں ملے گا……” یوشع غصے سے دروازے کو گھورتا رہا…..
بالکل اچھا نہیں کررہے میرے ساتھ آپ بابا…..”
اور پھر کچھ دیر بعد ہی ماہی روم میں آگئ تھی….. مگر اس کے چہرے پر زیادہ خوشی نہیں تھی….. ماہی نے روم میں نظر دوڑائ…. مگر یوشع کہی نظر نہیں آیا….. وہ ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آکر کھڑی ہوگئ…. یوشع ڈریسنگ روم سے باہر نکلا تھا….. ماہی کو دیکھ کر ٹھٹکا…..
ماہی آج کے بعد تمھارے ساتھ اسی روم میں رہے گی…..” غصے کی لہر ایک بار پھر پورے جسم میں دوڑی تھی…. وہ غصے سے مٹھیاں بھینچتا روم سے باہر نکلنے لگا تھا…..
یوشع اگر تمھیں نہیں پسند تو میں چلی جاؤ گی روم سے……”
واؤ رئیلی’ نوٹنکی چیک کرو’ پہلے تو بابا کو بھڑکا دیا میرے خلاف اپنے ان جھوٹ موٹ کے آنسو سے اور اب مجھے کہتی ہو کہ میں چلی جاؤ گی’ کیا چاہتی ہو کہ بابا مجھ سے بات نہ کرے’ تم ہم باپ بیٹوں کے درمیان پھوٹ ڈلوادو’ یہی چاہتی ہو نہ تم’ بابا کی ہمدردیاں سمیٹتی پھیرو…..”
نہیں میں کیوں؟؟ میں نے بابا…. کو کچھ نہیں کہا؟؟ آپ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں یوشع…..” اس نے بامشکل یہ الفاظ ادا کۓ تھے……
واؤ میں الزام لگا رہا ہوں’ گریٹ’ بابا تمھارے ان جھوٹ موٹ کے آنسو میں پھنس سکتے ہیں مگر میں نہیں’ گو ٹو ہیل……” وہ پلٹ کر جانے لگا تھا…..
یوشع میں ماں بننے والی ہو…..” یوشع کے چلتے قدم رک گۓ…… کچھ پل کیلۓ وہ منجمد ہوگیا…. مگر صرف کچھ پل نہ ہی وہ پلٹا اور نہ ہی اس نے کچھ کہا….. بس قدم باہر کی طرف بڑھادیے…… ماہی کی آنکھیں ایک بار پھر بھیگنے لگی تھی…..
*

اگلے دن یوسف صاحب لاہور کیلۓ روانہ ہوگۓ تھے….. یوشع بھی چار مہینوں بعد آفس چلا گیا تھا…. اس نے اپنی سیٹ ایک بار پھر سنبھال لی تھی… یوشع کو چار مہینوں بعد اچانک آفس میں دیکھ کر سب ہی حیران پریشان تھے…… علی خوش تھا چلو دیر سے ہی سہی آیا تو….. وہ آتو گیا تھا مگر کام میں کوئ خاص دلچسپی نہیں لی تھی…..
آج کی میٹنگ میں چلو گے…..” یوشع اپنے آفس روم میں بیٹھا تھا جب علی نے پوچھا…..
نہیں خود جانا’ میرا دل نہیں…..”
ٹھیک ہے میں چلا جاؤ گا……” اتنے میں ایک لڑکی سلام کرتی روم میں داخل ہوئ تھی….
یہ کون ہے؟؟؟ یوشع نے پوچھا…..
نیو سیکرٹری…..” علی نے بتایا…… اور یوشع کی سانسیں اٹکی تھی…..
سر ہو از ہی؟؟؟ ہانیہ نے علی سے پوچھا…..
یہی ہے آپکے باس یوشع یوسفزئ’ اس کمپنی کے اونر…..”
یہ باس ہے…..”
ہاں تمھیں کوئ شق ہے کیا؟؟؟
نہیں میں نے تو سنا تھا کہ جو بوس ہوتے وہ ادھیڑ عمر کے ہوتے ہیں’ موٹے ہوتے ہیں’ گھنی گھنی مونچھیں ہوتی ہے……” جہاں علی نے اپنی ہنسی روکی…. وہی یوشع کو اس کی بےتکی باتوں پر غصہ چڑھا تھا…..
مگر یہ تو ینگ ہے…..” شاید وہ کچھ زیادہ ہی باتونی تھی….. یا علی نے سر پر چڑھا لیا تھا….
گیٹ آؤٹ…..” یوشع نے غصے سے کہا…. ہانیہ نے بھی یوشع کے بگڑے تیور دیکھے…..
بہری ہو سنائ نہیں دیتی ایک دفعہ کی’ آئ سیڈ گیٹ آؤٹ……”
آ یوشع آرام سے’ مس ہانیہ آپ جاۓ اور جاکر میٹنگ کی تیاری کرے پھر ہم نے نکلنا بھی ہے…..”
جی سر…..”وہ بھی غصے سے یوشع کو گھورتی روم سے نکل گئ…..
یوشع کیا ہوگیا تھا کیوں غصہ کررہے تھے…..”
میراغصہ نظر آگیا اس کی باتیں نظر نہیں آئ’ تم نے کچھ زیادہ سر پر نہیں چڑھا لیا اس کو…..”
میں نے نہیں چڑھایا’ وہ پہلے سے ہی باتونی اور منہ پھٹ ہے…..”
اور ایسے منہ پھٹ لوگوں کی مجھے میرے آفس میں کوئ ضرورت نہیں…..”
سیکرٹری مائ فٹ….” اس نے غصے سے کہا…..
کیا زینب نہیں آسکتی سیکرٹری کی پوسٹ پر’ کسی اور کو رکھنا میرے بس میں نہیں…..”
وہ اب میری سیکرٹری نہیں رہی تو تمھاری کہاں سے بنے گی’ اور اگر بالفرض میں اسے بولا بھی لو تو وہ کتنے مہینے زیادہ سے زیادہ کام کرلے گی چار سے پانچ مہینے بس’ اسکے بعد پھر دوبارہ ہمیں کسی کی ضرورت پڑے گی’ کیونکہ زینب کی کنڈیشن تو تم جانتے ہی ہو…..”
اوکے تو پھر آج سے کسی میل کو رکھ لو سیکرٹری کی پوسٹ پر……”
اب فوراً کسی کو ہائیر کرنا مشکل ہے یوشع’ اس لۓ چپ چاپ کچھ دن گزار لو’ اور وہ اب اتنی بھی منہ پھٹ نہیں ہے’ وہ تم سے پہلے ملی نہیں اس لۓ تمھیں اتنا جانتی نہیں ہے’ آہستہ آہستہ سمجھ جاۓ گی’ تم غصہ مت کرو’ یہاں کے کام سنبھال لو میں چلتا ہو’ پھر ملاقات ہوگی……” یوشع وہی چیئر پر بیٹھا رہا….. نظر سامنے شیشے کی میز پر رکھی المیرا کی تصویر پر گئ….. اس نے فریم کو ہاتھ میں اٹھایا……
کہاں ہو یار آجاؤ’ نہیں رہا جاتا تمھارے بغیر’ مررہا ہو تمھارے بغیر’ میری حالت دیکھو’ ایک بار تو ترس کھالیتی مجھ پر’ ایک بار تو سوچ لیتی میرا……” وہ اس کی تصویر کو تکتا رہا…..
**

میرے سر پر کیوں کھڑی ہو’ جاؤ یہاں سے…..”
میں سر پر نہیں کھڑی سائڈ میں کھڑی ہو…..” ماہی نے بھی دانت نکالتے ہوۓ جواب دیا…. یوشع کو غصہ چڑھا….
ویسے بھی مجھے نیند آرہی ہے’ سائڈ میں ہوکر لیٹے میں نے بھی لیٹنا ہے…..”
پورا کمرا پڑا ہے جہاں دل کرے وہاں لیٹو’ مگر میرا سر نہ کھاؤ’ اور ویسے بھی میں نے بس روم میں جگہہ دی ہے’ بیڈ پر یا اپنی زندگی میں نہیں….”
مجھے زمین پر نیند نہیں آتی’ میں بیڈ پر ہی سوگی…..” یوشع اٹھ کر بیٹھا….
ماہی مجھے نہ غصہ دلاؤ اور نہ ہی مجھے مجبور کرو کہ میں تم پر ہاتھ اٹھاؤ’ وہ سامنے ڈریسنگ روم رہا’ وہاں سے میٹرس لاؤ زمین پر بچھاؤ اور سوجاؤ’ اب مجھے ڈسٹرب کیا تو بہت برا ہوگا’ انڈرسٹینڈ…..” یوشع نے غصے سے انگلی اٹھا کر وارن کیا تھا…..
اکڑو’ گھمنڈی’ سڑے ہوۓ بینگن…..” ماہی نے بھی غصے سے کہا…..
یوشع ایک بار پھر اٹھ کر بیٹھا…..
مائنڈ یور لینگویج ماہین عمران…..”
یوشع یوسفزئ کسی نے آپکو بتایا نہیں کہ شادی کے بعد لڑکی کا سرنیم چینج ہوجاتا ہے’ سو میں ماہین عمران نہیں’ ماہین یوشع یوسفزئ ہو’ آئ سمجھ یوشع یوسفزئ…..” ماہی نے بھی اسے جتایا تھا……
تم کچھ زیادہ ہواؤں میں نہیں اڑرہی ہو…..”
مجھے نیند آرہی ہے’ صبح بات کرتے ہیں ٹھیک ہے یوشع جانو……” وہ ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئ…. میٹرس لاکر زمین پر بچھایا…. یوشع مسلسل اس کو گھورے جارہا تھا…..
کیا ہوا یوشع؟؟ کیا ایک بار پھر سے جانو سننے کو دل کررہا ہے؟؟؟” یوشع بیڈ سے اٹھا…. ماہی کے قریب پہنچ کر غصے سے اس کے بازو کو پکڑا….
تم کیا سمجھتی ہو اپنے آپ کو’ میں نے تمھیں روم میں رہنے کی اجازت دے دی تو تم میرے سر پر چڑھتی جاؤ گی اور میں کچھ نہیں کہو گا’ تو ماہین یہ بہت بڑی بھول ہے تمھاری’ میں تمھیں ابھی ایک سیکنڈ سے پہلے اس روم سے باہر دھکیل سکتا ہو’ اور یہ جو تم ہواؤں میں اڑرہی ہو نہ تو ایک سیکنڈ سے پہلے تمھیں زمین پر پٹخ سکتا ہو’ اس لۓ اپنی اوقات میں رہو تو زیادہ بہتر ہوگا’ ورنہ تم جانتی ہو مجھے وہ حشر کرو گا ساری زندگی یادرکھو گی…..”
اور آپکو کیا لگتا ہے آپ مجھے ڈراۓ گے دھمکاۓ گے تو اب میں ڈر جاؤ گی’ یہ اب آپکی بھول ہے یوشع’ دیکھ لے اب آپ مجھے اپنے اردگرد بھی برداشت نہیں کرنا چاہتے تھے مگر میں آج یہاں آپکے ساتھ آپکے روم میں ہو’ اور جانتے ہو آج آپ مجھے چاہ کر بھی نہیں نکال سکتے’ یونو بابا نے آپ سے کیا کہا تھا’ اور آپ جانتے ہیں نہ آج اگر آپ نے مجھے روم سے نکالا تو بس ایک فون کرنا ہے بابا کے پاس’ اور پھر آپ جانتے ہیں میں کیا کرو گی زیادہ نہیں بس دو کی چار لگادو گی’ کہ مجھے روم سے نکال رہے ہیں’ مجھ پر ہاتھ اٹھارہے ہیں مجھے بیڈ پر نہیں سونے دے رے’ کیونکہ بابا نے اب میری باتوں پر یقین کرنا ہے آپکی نہیں’ اس لۓ اب مجھے چپ چاپ سونے دے’ نیند آرہی ہے مجھے’ اور ایک آخری بات روم میں تو آگئ ہو یوشع دیکھ لیجۓ گا آخر کار ایک وہ دن بھی آجاۓ گا جب آپ کے دل میں میرے لۓ محبت پیدا ہوجاۓ گی’ اور اس دن میں یہاں زمین پر نہیں وہاں بیڈ پر آکی بانہوں میں ہونگی اور اس وقت زندگی کتنی حسین ہوگی’ میں انتظار کرو گی اس دن کا یوشع…..”
مرجاؤ گی تم مگر وہ دن کبھی نہیں آۓ گا’ جب میرے دل میں تمھارے لۓ محبت پیدا ہوگی’ اگر تم بیڈ پر آبھی گئ تو بھی تم میری دسترس کیلۓ ترستی رہو گی’ کیا پتا میں بس ترس کھالو تم پر مگر محبت مائ فٹ’ میرے دل میں بس المیرا ہے صرف المیرا….”
مت بھولے اب آپ یوشع میں آپکے بچے کی ماں بننے والی ہو’ اور آپ باپ…..”
اگر یہی بات ہے اور اگر تم سوچتی ہو کہ اس بچے کی وجہ سے تم میرے قریب آجاؤ گی تو مجھے یہ بچہ ہی نہیں چاہیے’ اور یہ بات مت بھولو کہ اس رات جو کچھ ہوا سب غلط فہمی میں ہوا تھا’ میں اپنے ہوش میں نہیں تھا’ اس لۓ نہ میں اس رات کو مانتا ہوں اور نہ ہی اس بچے کو’ مجھے یہ بچہ نہیں چاہیے…..”
یوشع…..” اس نے حیرانگی سے کہا تھا…..
آپ چاہتے ہیں میں اپنے ہاتھوں سے اپنے بچے کا قتل کردو’ اتنے پتھر دل آپ’ افسوس ہورہا ہے تم پر یوشع کیسے باپ ہو تم’ میں خود مرجاؤ گی مگر اپنے بچے کو کچھ نہیں ہونے دوگی’ آئی سمجھ……” ماہی نے بھی یوشع کو خود سے دور دھکیلتے غصے سے کہا….. وہ رونے لگی تھی……
دیکھ لینا یوشع یہی بچہ ایک دن ہمارے درمیان محبت پیدا کرے گا’ کیونکہ میں یوشع یوسفزئ کو اچھی طرح جانتی ہو’ وہ اتنا بےحس ہے نہیں جتنا وہ بن رہا ہے’ یوشع آۓ گا وہ دن جب آپ کو میری قدر ہوگی مگر اس وقت شاید بہت دیر ہوچکی ہوگی’ اس لۓ یوشع جو ہے اگر وقت کے رہتے اس کی قدر کرلی جاۓ تو بعد میں پچھتاوا نہیں ہوتا……”
وہ بت بنا کھڑا رہا… اور ماہی روم سے باہر نکل گئ……
*

جاری ہے_