No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
آج ایک مہینہ ہوگیا تھا…. المیرا یوشع کے گھر آئ ہوئ تھی…. وہ لاؤنج میں صوفے پر پیروں کو اوپر رکھے ان کے گرد اپنے بازؤں کا گھیرا کیے گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھی تھی….
وہ تھوڑی دیر پہلے ہی یہاں آئ تھی… مگر یوشع گھر پہ نہیں تھا تو وہ وہی لاؤنج میں بیٹھ گئ….. یوسف صاحب بھی لاہور گۓ ہوۓ تھے…….
پچھلے دو دن سے اس کا دل بہت بےچین ہورہا تھا….. باپ سے بات کرنے کیلۓ تڑپ رہا تھا….. مگر ہمت نہیں ہورہی تھی کہ اب کیسے کال کرے….. اسے بھی احساس ہورہا تھا کہ اس نے بہت غلط کیا جو بھی کیا’ اسے اتنا کچھ نہیں بولنا چاہیے تھا…..
یوشع بھی ابھی لاؤنج میں آیا چابی کو انگلی پہ گھومارہا تھا…..
ارے مہرو تم کب آئ؟؟؟ اگر آنا ہی تھا تو مجھے پہلے ہی بتادیتی میں باہر نہیں جاتا دونوں باتیں کرتے……”
وہ صوفے کے قریب پہنچا…..
المیرا نے پیر زمین پر رکھے’ جوتی کو پیروں میں اڑسا…. اس نے نظریں جھکائ ہوئ تھی…. وہ اٹھ کھڑی ہوئ…..
یوشع کے سینے سے لگی….. اس کے کمر کے گرد مضبوطی سے بازو حائل کیے…..
یوشع کو ٹینشن ہوئ…..” اس سے پہلے اس نے کبھی اس طرح نہیں کیا تھا کہ وہ خود اسکے سینے سے لگے…. اور اتنا ٹائٹ ہگ کرے…..
المیرا کیا ہوا ہے تمھیں؟؟؟
وہ رونے لگی تھی….”
مہرو!! اسے اب واقعی ٹینشن ہورہی تھی….
مہرو کیوں رورہی ہو؟؟؟
یوشع مجھے بابا کی بہت یاد آرہی ہے ‘ پلیز میں میری با بابا سے بات کروادوں’ میں میں بس ان کی آواز سن لو گی مجھے چین پڑجاۓ گا’ میرا دل بہت بہت بےچین ہورہا ہے’ میرا سر بھی گھوم رہا ہے’ پلیز پلیز شہری بس بابا سے بات کروادں ‘ میں نے انکے ساتھ بہت بہت برا کیا’ مجھے اتنا نہیں کرنا چاہیے تھا’ میرا دل دل بہت بےچین ہورہا ہے پلیز میری بات کروادوں میں ان کی اواز سن لو گی…..”
وہ زاروقطار رونے لگی تھی…..
یوشع کو دلی خوشی ہوئ دیر آۓ درست آۓ….”
تو یار رونے والی کیا بات ہے اس میں یہ تو بلکہ بہت اچھی بات ہے……”
نہیں شہری آپ نہیں جانتے میرا دل پچھلے کچھ دنوں سے دل بہت بےچین ہورہا ہے مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا’ مجھے بابا کے پاس جانا ہے ‘ ان کے سینے سے لگنا ہے…..”
اچھا میں ابھی کال ملاتا ہو’ تم چپ کرو….”
وہ جیب سے موبائل نکالنے لگا…..
اس کا موبائل وائبریٹ ہوا…..
سویٹ ہارٹ کالنگ!!!
میرا موبائل سائیلنٹ پہ ہے اور مجھے معلوم ہی نہیں…..”
اس نے یس کرکے کان سے لگایا…..
علی: جہانزیب کتنی دیر سے تمھیں کال کررہا ہے تم کال اٹھا کیوں نہیں رہے….
یوشع: یار قسم سے میرا موبائل سائیلنٹ پہ تھا مجھے نہیں معلوم….”
علی: ذرا چیک کرو کتنی کالز کی ہے اس نے…..”
اچھا ایک منٹ….” اس نے کان سے ہٹا کر موبائل چیک کیا….
ہاں جہانزیب کی کافی کالز آئ ہوئ ہے’ علی خیریت ہے نہ سب کچھ…..”
علی نے گہری سانس خارج کی…..
المیرا تمھارے ساتھ ہی ہے نہ…..”
ہاں میرے ساتھ ہے کیوں کیا ہوا؟؟”
دوسری طرف سے جو خبر اسے دی گئ تھی…. یوشع کی آنکھین حیرت سے پھٹی…..
اس نے ایک نظر اپنے سینے سے لگی روتی المیرا کو دیکھا…..
“یاخدا اور کتنے امتحان لے گا اپنی اس بندی کے….”
یوشع نے دل میں کہا…..
شہری کیا ہوا ہے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں’ بابا کے پاس کال ملاۓ مجھے ان سے بات کرنی ہے’ علی بھائ نے کیا کہا ہے’ جہانزیب آپ کو بار بار کال کیوں کررہا تھا بتاۓ مجھے آپ چپ کیوں ہے؟؟؟
وہ اب بھی چپ رہا….
المیرا نے اپنے چکراتے سر کو تھاما…..
شہری پلیز بتاۓ کیا ہوا ہے آپ چپ کیوں ہے؟؟؟
اس نے اس کا کالر پکڑا….
بابا کے پاس کال ملاۓ’ مجھے بات کرنی ہے’ مجھے ان کی آواز سننی ہے…..”
مہرو تمھیں خود کو سنبھالنا ہوگا…..”
اس نے اسے بازؤں سے مضبوطی سے تھاما……
شہری’ کیا ہوا ہے؟؟؟
اس کا سر پہلے سے زیادہ گھومنے لگا تھا…..
کیا چھپارہے ہیں آپ مجھ سے…….”
المیرا!! خان انکل…..”
یوشع نے نفی میں گردن ہلائ…..
المیرا جھٹکا کھا کر اس سے دور ہٹی…..
نہیں’ نہیں’ اس نے اپنے چکراتے سر کو تھاما…..
صرف چند سیکنڈ لگے تھے اسے حوش و خرد سے بیگانہ ہونے میں…. اور اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی……
المیرا……” یوشع نے آگے بڑھ کر اسے تھاما…..
مہرو ہوش کرو’ ہوش میں آؤ…..”
وہ اس کا گال تھپتھپارہا تھا…..اس سے پہلے اس نے کبھی اس طرح کی سیچویشن کو فیس نہیں کیا تھا….
وہ اسے اپنی بانہوں میں بھر کر اپنے کمرے کی طرف دوڑا….
روم میں پہنچ کر اسے بیڈ پر لٹایا…. پانی کے چھینٹے اس کے منہ پر مارے… اس کے گال کو تھپتھپایا…..
افففف خدایا کیا کرو؟؟؟
اس نے اپنے سر کو تھاما…..
ہاں علی علی!!!
اس نے علی کو کال ملائ…..
ہیلو ہیلو علی’ یار تم جلدی جلدی زینب کو گھر لے کر آؤ’ المیرا بےہوش ہوگئ ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا میں کیا کرو’ جلدی آ….”
اس نے کال کاٹی….
المیرا……” اس نے ایک بار پھر کوشش کی کہ وہ اٹھ جاۓ…..
اسنے اپنے فیملی ڈاکٹر کو کال ملائ….. جو یوسف صاحب کا ٹریٹمنٹ کرتے ہیں….
پلیز آپ جلدی بھیج دے’ مگر لیڈی ڈاکٹر ہو’ ٹھینک یو…..”
کچھ دیر بعد ڈاکٹرنی بھی آگئ تھی….. اس نے المیرا کو چیک کیا….
سٹریس اور ویکنیس کی وجہ سے ایسا ہوا ہے’ اور ان کا ٹمپریچر بھی بہت زیادہ ہے ‘ انہوں نے کھانا پینا چھوڑ رکھا ہے’ کیا آپ ان کا دھیان نہیں رکھتے’ دیکھے یہ واقعی بہت ویک ہے’انہیں ہیلتھی ڈائٹ دے’ اور کوشش کیجۓ گا کسی بھی قسم کا سٹریس ان کو مت لینے دے’ یہ مینٹلی بھی بہت ویک ہے’ سٹریس ان کیلۓ جان لیوہ ہوسکتا ہے……”
یوشع نے اپنا سر تھاما…..
زینب اور علی بھی دونوں روم میں داخل ہوۓ…..
میں یہ کچھ میڈیسن لکھ کر دے رہی ہو یہ انہیں ٹائم سے دیدیجۓ گا’ اور پلیز سٹریس کو ان سے دور رکھیے گا……”
انہیں کب تک ہوش آجاۓ گا؟؟؟
ابھی میں کچھ نہیں کہہ سکتی’ ہوش آنے کو تو ابھی تھوڑی دیر میں ہی آجاۓ’ یا ایک دو دن بھی لگ سکتے ہیں…..”
دو دن…..” علی کو حیرت ہوئ…..
زینب بیڈ پر المیرا کے پاس ہی بیٹھ گئ……
جی اب میں چلتی ہو’ ضرورت پڑے تو بلالیجیے گا…..”
علی ڈاکٹر کے ساتھ باہر نکل گیا…..”
المیر کی میڈیسن لانے کیلۓ…..
یوشع واپس بیڈ پر اس کے سامنے بیٹھا……
اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھاما….
اسے اب واقعی محسوس ہوا تھا…. وہ کس قدر گرم ہورہی ہے……
محسوس تو اسے پہلے بھی ہوا تھا جب وہ اس کے سینے سے لگی تھی….
وہ کہہ رہی تھی اس کا سر چکرارہا ہے……”
یوشع کو خود پر غصہ آیا کیا ضرورت تھی المیرا کو اتنی جلدی یہ خبر سنانے کی……
یوشع” المیرا ٹھیک ہوجاۓ گی’ ٹینشن نہ لو’ دیکھنا اس کو جلدی ہوش آجاۓ گا…..”
یوش نے اثبات میں سر ہلایا…..
اس کی انکھوں میں نمی آئ تھی المیرا کو اس حالت میں لیٹا دیکھ…..
یااللّه بس کر اور کتنے امتحان لے گا اپنی اس بندی کے’ اور کتنی تکیلفیں لکھ رکھی ہے تو نے اپنی اس بندی کے مقدر میں’ اور کتنا آزماۓ گا’ اب بس کردے یااللّه مجھ سے نہیں دیکھا جاتا اس کو اس حال میں’ بچپن سے وہ سہتی آرہی ہے اور کتنا سہے گی’ اب بس کردے’ کرم کردے’ ابھی تو دادی کا غم بھی نہیں بھولا تھا اور آپ نے اس سے اس کا باپ بھی چھین لیا’ یااللّه رحم کردے…..”
وہ دل میں اپنے رب سے محاطب تھا…..
ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر لڑھکا تھا یوشع کے…… نہیں دیکھا جاتا نہ یوشع سے المیرا کو اس حال میں…..
یوشع پلیز سنبھالو نہ خود کو’ اگر تم اس طرح سے کرو گے تو المیرا کو کون سنبھالے گا جب وہ ہوش میں آجاۓ گے’ وہ تمھارے علاوہ کسی کے قابو نہیں آتی’ پلیز مت رو’ میں نے بھی رونے لگ جانا ہے…..”
یوشع نے بھیگی نگاہوں سے اس کو دیکھا……
اس کی بھی آنکھیں نم تھی….
وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا….. وہ بھی روم سے باہر نکل گیا……
رات ہوگئ تھی مگر وہ شام کی بےہوش ہوئ اسے اب تک ہوش نہیں آیا تھا….. وہ ایسے ہی بےسدھ سی پڑی تھی…..
بارہ بجنے والے تھے…..
یوشع نے بھی کچھ نہیں کھایا…..
علی نے کوشش کی کہ کھالے مگر نہیں کھایا…..
زینب بیڈ پر بیٹھی تھی وہ اب تھک رہی تھی لیٹنا چاہتی تھی’ مگر یوشع بھی اب تک روم میں تھا…. وہ سامنے صوفے پر بیٹھا یک ٹک المیرا کو دیکھ رہا تھا…..
علی بھی اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھا تھا….. مگر وہ چپ تھا اس نے اسے نہیں کہا کہ چلو یوشع بہت ہوا’ کیونکہ وہ سمجھ سکتا ہے اس کی کیفیت کو……
آخر بارہ بجے یوشع کو ہی احساس ہوگیا… اس نے زینب کو دیکھا….
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ انکھیں بند کرکے بیٹھی تھی…..
چلو علی باہر چلے’ زینب نے لیٹنا ہے…..
وہ اٹھ کر روم سے باہر نکل گیا…..
علی نے بھی شکر کیا….
وہ بیڈ پر بیٹھا…. اس کے ہاتھوں کو اپنی مضبوط گرفت میں لیا……
کیا بات ہے کیوں موڈ آف ہے؟؟؟؟
زینب نے المیرا کو دیکھا…..
وہ ٹھیک ہوجاۓ گی…..”
اس نے اثبات میں سر ہلایا…..
اوکے تم ریسٹ کرو…..”
وہ اس کے ہاتھ کو تھپتھپاتا اٹھ کھڑا ہوا خود بھی روم سے نکل گیا…..
________
یوشع ابھی فریش ہوکر آیا تھا……
اس نے المیرا کو دیکھا…..
اج اس کو دو دن ہوگۓ تھے مگر ہوش نہیں آیا تھا…. اس کا ٹمپریچر اب کم تھا……
اس کی پلکوں میں جنبش ہوئ تھی….. اس کے ہونٹوں میں حرکت ہوئ تھی….. وہ فورا اس کے پاس آکر بیٹھا…..
بابا….” المیرا نے پکارا…..
یوشع کا دل پھر کٹا…..
المیرا اٹھو…..”
اس نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا…..
بابا…..”
المیرا اٹھو خدا کے واسطے اب اٹھ جاؤ……”
المیرا کی بند پلکوں کی باڑ کے پیچھے سے انسوں نکل کر تکیے میں جزب ہوگۓ…..
زینب بھی یہاں نہیں تھی….. وہ آتی اور چلی جاتی…..
علی بھی نہیں تھا…. ابھی صرف وہی تھا یہاں…..
اس نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولی…..
وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھی…..
اس کا سر پھر چکرایا تھا…. اس نے اپنے سر کو تھاما…..
المیرا…..”
یوشع’ بابا……”
اس کی انکھوں میں پھر آنسوں آۓ تھے……
اس نے روم کو دیکھا…..
یہ تو یوشع کا روم ہے……
میں میں یہاں کب سے ہوں شہری؟؟؟
دو دن سے…..”
دو دن….” اسے حیرت ہوئ…..
اس نے اپنے سر کو تھاما……
آنسوں گالوں پر لڑھکے تھے…..
شہری مجھے دبئ جانا ہے مجھے بابا کے پاس جانا یے…..”
المیرا ان کے قل بھی ہوچکے اب کیا کرو گی جاکر…..”
نہیں شہری مجھے جانا ہے……
اس نے اسے اپنے کندھے سے لگایا……
میرے ساتھ ہی یہ سب کیوں؟؟؟ کیوں اتنی تکلیفیں’ یہ سب میرے مقدر میں کیوں؟؟؟ بابا بھی چلے گۓ’ دادی بھی چلی گی’ میری ماما بھی نہیں ہے….”
میں اکیلی ہوگئ ہو شہری’ میرا کوئ نہیں رہا…..”
میں تمھارا کچھ نہیں لگتا کیا؟؟؟
بابا تمھارے بابا نہیں ہے کیا؟؟؟؟
علی تمھارا بھائ نہیں ہے کیا؟؟؟؟؟
اب بھی تمھارے پاس اتنے رشتے ہیں المیرا’ کیوں ناقدری کررہی ہو’ ہم بھی تو تمھارے اپنے ہیں……”
اور ان سب سے بڑھ کر میرا اور تمھارا ایک رشتہ ہے…..”
وہ بس روۓ گئ…..
المیرا چپ کرو….” اس نے اس کے آنسو صاف کیے…..
اٹھو!! فریش ہو دو دن سے کچھ نہیں کھایا تم نے’ اپنی حالت دیکھو کیا ہورہی ہے….”
وہ کچھ بولنے لگی تھی…..
المیرا ‘ اس نے وارن والے انداز میں انگلی اٹھائ…..
اگر تم نے کھانے سے انکار کیا تو قسم سے میں اب ناراص ہوجاؤں گا’ میرا پچھلے دو دن سے ویسے ہی بہت زیادہ دماغ گھوما ہوا ہے’ اب اور مت گھومانا ‘ اب فیصلہ تمھارا اپنا ہے یا تو کھانا کھالو یا میری نارضگی برداشت کرلینا اور قسم سے میں بالکل بات نہیں کرو گا’ میں سیریس ہو……”
اٹھو فریش ہو…..”
وہ چپ چاپ اٹھنے لگی…..
اس کو ایک بار پھر چکر آۓ تھے…. یوشع نے اسے تھاما……
اس کو سہارا دے کر واشروم تک چھوڑا……
________
اس کو کھانا کھلایا….. جوکہ اس نے چپ چاپ کھالیا….. وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی…. یوشع بھی اس کے سامنے آکر بیٹھا…..
اب کیسا فیل کررہی ہوں؟؟؟
بہتر…..”
گڈ’ میں نے دبئ بابا کو بھیج دیا تھا’ قل کے بعد پھر وہ واپس آگۓ تھے’ اب ایک کام کرو تم جہانزیب سے بات کرلو’ پچھلے دو دن سے لگاتار کالز آرہی ہے اس کی’ تمھارے لۓ بہت پریشان ہے’ بات کرنا چاہتا ہے تم سے…..”
اس نے اثبات میں سر ہلایا……
یوشع نے کال ملائ….
اس نے موبائل کان سے لگایا…..
سلام دعا کی’ اس کی آواز سنتے ہی وہ رونے لگی تھی……
یوشع بیٹھا اس کو دیکھتا رہا….
میری ماما سے بات کروادوں جہانزیب مجھے ان سے بات کرنی ہے…..”
دوسری طرف وہ اپنے آنسوں صاف کرتا روم سے باہر نکلا….. اس کی ماں باہر صوفے پر بیٹھی تھی…..
یہ وہ خدیجہ تو بالکل نہیں تھی جو کتنا تیار رہتی تھی’ یہ تو کوئ اور ہی تھی جو دو تین دن میں ہی مرجھا گئ تھی’ خان کی موت نے انہیں توڑ دیا تھا……
ماما’ المیرا نے بات کرنی ہے…..”
اس نے فون ان کی طرف بڑھایا…..
انہیں غصہ چڑھا…. وہ صوفے سے اٹھی…..
کیا بات کرنی ہے اس نے مجھ سے…..”
وہ چینخی تھی…..
اب بھی اس کو چین نہیں پڑا کھا تو گئ ہے میرے شوہر کو’ اب اس کو کیا چاہیے ہم سے…..”
المیرا کی سانس ساکت ہوئ تھی……
یوشع نے اس سے موبائل لےکر سپیکر پہ ڈالا…..
اس لڑکی نے خود اپنے باپ سے سارے رشتے ختم کۓ تھے’ کرچکی یہ ہم سب سے رشتہ ختم……”
جہانزیب غصے میں کال کاٹنے لگا……
خبردار جہانزیب اگر تم نے کال کاٹی…..”
سنیں گی یہ آج سب کچھ سنیں گی…..”
یوشع نے آئبرو اچکائ…..
اسے بھی پتا لگنا چاہیے کہ دبئ آنے کے بعد خان کی کیا حالت تھی’ اس کے کڑوے نفرت بھرے لہجے نے خان کو کس قدر توڑ کر رکھ دیا تھا؟؟؟ آج سب سنے گی یہ’ کان کھول کر سن لو المیرا خان تم نے زہرہ آنٹی کی موت کا زمہ دار خان کو ٹھہرایا تھا تو اب تم بھی کان کھول کر سن لو المیرا خان میرے شوہر کی قاتل تم ہو’ تم نے اپنے باپ کی جان لی ہے اپنے کڑوے لہجے سے’ تم ایک قاتل ہو قاتل……”
المیرا کو ایسا لگا جیسے کسی نے جلتے دہکتے کوئلوں پہ اسے ننگے پاؤں کھڑا کردیا ہو’ بھری محفل میں زور کا طمانچہ اس کے منہ پر مارا ہو….. مکافات عمل…..”
اس کو پتا لگنا چاہیے کہ دبئ آنے کے بعد خان کی کیا حالت تھی؟؟؟
انہوں نے خود کو کمرے میں قید کرکے رکھ لیا تھا’ سارا سارا دن……”
کان کھول کر سن لینا المیرا خان…..
وہ تمھاری تصویر کو لے کر بیٹھے رہتے’ تمھیں یار کر کر کے تڑپتے رہتے’ تم سے بات کرنے کیلۓ تڑپتے رہے’ تمھارے اس کڑوے لہجے کو یاد کرکر کے پل پل اذیت بھری موت مرتے رہے ہیں وہ’ تمھاری باتیں اس قدر ان کے دل پر لگی تھی کہ انہیں ہارٹ اٹیک تک ہوگیا تھا……”
المیرا سن بیٹھی سنتی رہی….. یوشع نے کال کاٹنا چاہی المیرا نے روک دیا….
اور تم جانتی ہو ڈاکٹر نے کیا کہا نیکسٹ اٹیک جان لیوہ ثابت ہوسکتا ہے’ اور انہیں تمھاری وجہ سے دوسرا اٹیک بھی ہوگیا تھا’ مبارک ہو تمھیں المیرا خان کہ تمھارے باپ کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئ صرف تمھاری وجہ سے…..”
کیا قصور تھا اس کا یہی نہ کہ اس نے تم سے کبھی بات نہیں کی’ تم سے کبھی محبت نہیں کی’ تو ان سب کی ذمہ دار میں تھی’ میں ہی تمھارے خلاف ہمیشہ ان کے کان بھرتی رہی’ ان کے کانوں میں تمھارے خلاف زہر گھولتی رہی کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ خان کبھی تم سے محبت کرے اور ساری جمع پونجی تم پر لٹادے’ میں چاہتی تھی خان کی ساری دولت صرف جہانزیب کی ہو’ مگر دیکھو میں اپنے مقصد میں پھر بھی کامیاب نہیں ہوپائ’ خان کتنی ہی دولت تمھارے نام کرگۓ’ اور ہمیں پتا بھی نہیں چلا’ وکیل سے ہمیں پتا چلا ہے سب کچھ……”
ماما ” جہانزیب نے حیرانگی کی کیفیت میں پکارا….
اور سنو المیرا خان تم’ کیا کہا تھا اس دن کہ دبئ آنے سے پہلے وہ تم سے مل کر بھی نہیں گۓ’ تو سنو!!! اس دن بھی وہ تمھارا انتظار کرتے رہے کہ اپنی بیٹی سے مل کر جاؤں گا’ کتنی ہی دیر اس نے تمھارا انتظار کیا مگر تم نے خود گھر آنے میں دیر کردی’ بلکہ اچھا ہی کیا تھا تم نے جو لیٹ آئ گھر’ کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ تم سے ملے’
اس وقت بھی میں نے ان کے کانوں میں تمھارے خلاف زہر گھول دیا تھا کہ وہ تم سے محبت نہیں کرتی ‘ وہ تم سے نہیں ملے گی’ نفرت کرتی ہے وہ تم سے’ میں ہی انہیں زبردستی لے کر آگئ تھی……”
وہ بھی رونے لگی تھی……
المیرا کی بھی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگۓ تھے……
جہانزیب حیرانگی اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں کھڑا اپنی مان کا یہ نیا چہرہ دیکھ رہا تھا یہ تو اسکی ماں نہیں تھی…..
یوشع کو بھی غصہ چڑھ رہا تھا’ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ خدیجہ سامنے آۓ اور وہ اس کا گلا دباکر اسے جان سے مار دے……
انہوں نے تو ہر دفعہ تمھارے پاس آنا چاہا’ ہر بار میں نے انہیں روکا’ جو سزا دینی تھی مجھے دیتی ‘ میرے شوہر کو کیوں کھاگئ؟؟؟؟
اس دن بھی انہوں نے یوشع کو کال کی تھی کہ تم سے بات کروادے’ تم نے تو اس دن بھی ان سے بات نہیں کی’ تب بھی تم نے انہیں کتنی سنائ’
تمھارے لہجے نے انہیں توڑ کر رکھ دیا’ ٹوٹ کر بکھرگۓ صرف تمھاری وجہ سے’ ارے!!! خان نے جو کیا سو کیا’ مگر تم نے المیرا خان سارے سالوں کی کثر ایک ساتھ نکال دی’ جان سے مار دیا اپنے باپ کو’المیرا خان تمھارے باپ کے آخری کے الفاط تھے کہ میں نے اہنی بیٹی کے ساتھ بہت برا کیا ہے’ میری بیٹی سے کہنا اپنے باپ کو معاف کردینا تاکہ میری روح کو سکوں مل جاۓ’ وہ آخری لمحے تک تمھیں پکارتے رہے’ تمھاری راہ تکتے رہے……”
المیرا خان معاف کردینا اپنے باپ کو تاکہ اس کی روح کو سکون مل جاۓ’ مگر میری بددعا ہے المیرا خان تم کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گی’ کبھی نہیں……”
المیرا نے نفی میں سر ہلاتے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھا……
یوشع نے غصے میں کال کاٹ کر موبائل کو سائڈ میں پھینکا….
المیرا….”
یوشع پلیز جاۓ یہاں سے لیو می آلون…..”
المیرا نہیں کرو ایسا…..”
شہری پلیز جاۓ یہاں سے چھوڑدے مجھے اکیلا’ میں اپنے بابا کی قاتل ہو’
شہری…..” اس نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھا….
میں اپنے بابا کی قاتل نہیں ہو نہ…..”
نہیں المیرا تم نے کچھ نہیں کیا…..”
اس نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا……
کسی کی بات کو سیریس مت لو’ تم قاتل نہیں ہو…..”
شہری میں نے کبھی بابا سے نفرت نہیں کی’ میں میں بس ان سے ناراض تھی بہت زیادہ’ میں جانتی ہو میں نے جو کیا غلط کیا تھا’ مجھے احساس تھا میں نے بہت غلط کیا ہے’ میں تو ان سے بات بھی کرنا چاہتی تھی’ آپ جانتے ہیں نہ میں نے بابا سے بات کرنی تھی مگر بابا مجھ سے بات کیے بغیر چلے گے’ انہوں نے زندگی بھر کیلۓ مجھ سے منہ موڑ لیا’ وہ اب کبھی مجھ سے بات نہیں کرے گے’ بابا مجھے آخری لمحے تک یاد کرتے رہے’ میں نے اپنے بابا کی جان لی ہے…..”
نہیں مہرو چپ مت بولو ایسا’ میری مہرو نے کچھ نہیں کیا…..”
اس نے اسے خود میں بھینچا تھا…..
اس سے نہیں دیکھا جارہا تھا المیرا کو اس طرح سے بولتا دیکھ… وہ بالکل پاگل لگ رہی تھی اس وقت…… خدیجہ کے الفاظوں نے تو یوشع کو بھی تکلیف دی تھی تو پھر المیرا کے دل پر کس قدر لگے ہونگے خدیجہ کے الفاظ….. یوشع سمجھ سکتا ہے اس کی کیفیت کو….. وہ اس کی سینے سے لگی کہہ رہی تھی…..
میں ایک اچھی بیٹی نہیں بن پائ’ شہری میں نے اپنے بابا کی جان لی ہے…..”
نہیں مہرو تم ایک اچھی بیٹی ہو’ بہت اچھی بیٹی…..”
یوشع کے دل پر کسے نے اس وقت چھریاں چلادی تھی….. اس نے اس کے بالوں پر اپنے لب رکھے…..
اس کی ایک ہی رٹ تھی…..
میں ایک اچھی بیٹی نہیں بن پائ…..”
__
دوسری طرف جہانزیب اپنی ماں کو اب تک حیرانگی کی کیفیت سے دیکھ رہا تھا…..
ماما’ آپ اس قدر گرجاۓ گی میں نے کبھی نہیں سوچا تھا’ ایک بیٹی کے خلاف باپ کو اس قدر بڑھکادے گی’ ایک بیٹی کے خلاف اتنا زہر اس کے باپ کے کانوں میں گھول دے گی’ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میری ماما ایسا کرسکتی ہے’ کس لۓ؟؟ صرف اس دولت اس جائیداد کیلۓ’ کیوں کیا ماما آپ نے ایسا کیوں؟؟؟”
تم اب مجھ سے سوال کرو گے؟؟ ماں سے زبان لڑاؤ گے……”
ہاں میں لڑاؤ گا زبان’ کیونکہ میں غلط چیزیں برداشت نہیں کرتا’ آپ نے المیرا کے ساتھ جو کیا غلط کیا” ان سب کی زمہ دار آپ ہے اور المیرا ہمیشہ بابا کو غلط سمجھتی رہی’ میں کتنا اچھا آپکو سمجھتا رہا اور آپ نے’ آپ اس قدر گرجاۓ گی میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا…….”
شٹ اپ’ اب اگر تم نے ایک بھی لفظ بولا نہ تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا’ کاس کیلۓ تم مجھ سے لڑرہے ہو اس لڑکی کیلۓ جو تمھاری کچھ نہیں لگتی’ کس باپ کیلے تم مجھ سے جھگڑرہے ہو جس کا تم خون بھی نہیں ہو’ سن لو تم بھی جہانزیب وہ لڑکی جس کیلۓ تم مجھ سے لڑرہے ہو وہ تمھاری سوتیلی بہن بھی نہیں ہے’ اور وہ باپ جس کیلۓ تم جھگڑا کررہے ہو وہ تمھارا باپ بھی نہیں ہے…..”
جہانزیب کے قدم ڈگمگاۓ…..
تم جہانزیب خان نہیں’ جہانزیب سلیمان ہو….”
اس نے سختی سے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھا…..
تم ایک غلطی ہو’ گناہ ہو’ ناجائز ہو…..”
نہیں ماما خدا کے واسطے چپ کرجاۓ…..”
وہ کانوں پر ہاتھ رکھے مسلسل نفی میں گردن ہلارہا تھا…..
خدیجہ روتے ہوے زمین پر بیٹھی…. وہ زاروقطار رونے لگی تھی….
جہانزیب بھی گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا….
ماما صرف ایک بار کہہ دے یہ سب جھوٹ ہے’ میں کوئ غلطی کوئ گنا نہیں ہو’ میں جہانزیب خان ہو…..”
نہیں بیٹا یہ سچ ہے تم جہانزیب سلیمان ہو…..”
دل ٹوٹ کر کرچیوں میں بکھر گیا تھا….. اسے اب بھی یقین نہیں آرہا تھا…. ایک آنسو ٹوٹ کر گالوں پہ لڑھکا….. کاش کوئ اس وقت جہانزیب کے دل کی کیفیت سمجھ سکتا…..
میں خان کو پسند کرتی تھی’ مجھے محبت نہیں تھی’ بس پسند تھے’ وہ اچھے تھے’ دوسروے مردوں سے مختلف تھے’ مگر وہ نائلہ کو پسند کرتے تھے’ انہوں نے اس سے شادی کرلی’ میں آؤٹ آف کنٹری چلی گی جب کئ سالوں بعد واپس آئ تو نائلہ اس دنیا سے چلی گئ تھی’ المیرا دو سال کی ہونے والی تھی’ میں خان کے قریب آنے لگی کیونکہ مجھ سے خان کی ٹوٹی بکھری حالت نہیں دیکھی جارہی تھی’ میں خان کے سارے کام خود کرکے دینے لگی تھی’ المیرا کا بھی ماؤں کی طرح خیال رکھتی تھی کہ اگر اس بچی کی ماں نہیں تو اس میں اس کا تو کوئ قصور نہیں ہے یہ بھی تو ایک ماں کے پیار کی حقدار ہے’ مجھے المیرا سے محبت تھی وہ کیوٹ تھی’ اور صرف دو سال کی تھی’ سب کے اصرا پر خان نے مجھ سے شادی تو کرلی مگر مجھے اپنایا نہیں’ شادی کی پہلی رات میں دلہن بنی کمرے میں بیٹھی خان کا انتطار کرتی رہی ساری رات گزگئ مگر خان روم میں نہیں آۓ’ فجر ہوگئ جب روم سے باہر نکل کر ساتھ والے روم کا دروازہ کھولا تو خان وہاں بیڈ پر المیرا کے ساتھ سورہے تھے’ میری کوئ فکر نہیں تھی’ وہ دن تھا جب مجھے المیرا سے نفرت محسوس ہونے لگی تھی’ میں نئ نویلی دلہن بنی بیٹھی ساری رات انتطار کرتی رہی’ میں جسکو اس گھر میں ‘ خان کے نکاح میں آۓ ابھی چوبیس گھنٹے بھی نہیں ہوۓ تھے’ میری پہلی ہی رات یہ قدر کی گئ تھی’ مجھے پوچھا تک نہیں’ میں پھر بھی چپ رہی’ دن گزرنے لگے تھے’ خان صبح آفس جاتے شام میں گھر آکر اپنا سارا ٹائم المیرا کے ساتھ سپینڈ کرتے’ اس کے ساتھ کھیلتے رہتے’ میری نفرت بھی دن بہ دن بڑھتی جارہی تھی المیرا کیلے کہ یہ سب اسی کی وجہ سے ہورہا ہے یہ اگر نہ ہوتی تو خان کا سارا ٹائم میرا ہوتا وہ مجھے اپناتے’ مگر اپنانا تو دور کی بات ہے وہ تو ایک نظر مجھے دیکھتے تک نہیں تھے’ میں خوبصورت تھی سب مجھ پر مرتے تھے’ مجھے کبھی کسی نے اگنور نہیں کیا تھا’ جہاں جاتی سب کی توجہ کا مرکز میں ہوتی’ پہلی دفعہ مجھے کسی نے اگنور کیا تو وہ خان تھے’ مجھے اپنا اگنور ہونا ہسند نہیں آرہا تھا’ میں بس کسی طرح خان کو اپنی مٹھی میں کرنا چاہتی تھی’ شادی ہر مردوعورت کی ایک ضرورت ہوتی ہے’ نکاح کا بھی اس لۓ کہا گیا ہے کہ لوگ گناہ سے بچیں’ تین مہینے شادی کو ہوگۓ تھے’ خان نے اب تک مجھے نہیں اپنایا تھا’ وہ بس المیرا کے ساتھ بزی رہتے’ میں کہاں تھی ان دونوں باپ بیٹی کے پیار کے بیچ میں’ مجھے تو خراب چیز کی طرح ایک کونے میں لاکر پھینک دیا گیا تھا’ میری خان سے بھی اس دن بہت لڑائ ہوئ تھی اس بارے میں کہ مجھے ان کی ضرورت ہے مگر انہوں نے میری بات کو نہیں سنا’ میں بہت غصے میں تھی اس رات’ اپنا بار بار اگنور کیا جانا نہیں برداشت کرپارہی تھی’ اس دن غصے میں میں اپنے دوست کے ہوٹل چلی گئ’ وہ میرا ایک بہت اچھا دوست تھا سلیمان’ اس نے بھی مجھے کبھی اگنور نہیں کیا’ اس رات غصے میں میں نے ڈرنک کرلی تھی’ میرا سر گھوم گیا تھا’ چکر آنے لگے تھے’ سامنے سلیمان تھا’ مجھے سلیمان میں خان نظر آنے لگے تھے’ اور اس رات نیم بےہوشی کی حال میں میں اپنا آپ سلیمان پر نچھاور کرگئ’ صبح آنکھ کھلی جب ہوش آیا تو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ میں نے کیا کردیا؟؟ سلیمان نے کہا میں خود اسکے پاس گئ تھی اس کا کوئ قصور نہی ‘ اس بات کو یہی دفن کردیتے ہیں کسی کو کچھ پتا نہیں چلے گا’ میں بہت زیادہ ڈرگی تھی’ مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ اگر خان کو پتا لگ گیا میں کتنا بڑا گناہ کرچکی ہو تو وہ میرے ساتھ کیا کرے گے’ دو دن اسی ٹینشن میں گزرے تھے’ اور ٹھیک دو دن بعد خان نے بھی مجھے اپنالیا’ شاید انہیں میری قدر ہوگئ تھی’ وہ رات تھی جب خان میری مٹھی میں آگۓ تھے’ اس کے بعد میں انہیں اپنی مٹھی میں کرتی ہی چلی گی’ اپنی خوبصورتی’ محبت کے جال میں اس قدر الجھادیا کہ انہیں المیرا سے بھی دور کردیا……”
وہ روتے ہوۓ بس بتاۓ جارہی تھی یہ جانے بغیر کے سامنے والے کے دل پر یہ الفاط کس قدر چب رہے ہونگے’ وہ کس طرح سے ان کو سن رہا ہوگا…..
کچھ دن بعد ماں بننے کی خبر ملی تو میں ٹینشن میں آگئ تھی کہ تم کس کا خون ہو مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا یہ کس کی اولاد ہوگی’ کیونکہ مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا’ بس یہی جاننے کیلۓ میں نے ٹیسٹ کرواۓ تھے جب معلوم پڑا کہ تم سلیمان کا خون ہو’ سوچا اسے بتادو مگر پھر سوچا اگر اس نے کہہ دیا کہ اسے یہ بچہ چاہیے تو میں خان کو کیا جواب دوں گی’ خان کو سب حقیقت کا پتا چل جاۓ گا تو وہ مجھے چھوڑ دے گے’ اور میں خان سے بےپناہ محبت کرنے لگی تھی’ وہ میرے شوہر تھے میں ان کے بغیر نہیں رہ سکتی تھی’ بس اسی لے میں نے سلیمان کو کچھ نہیں بتایا سب کو یہی لگتا تھا کہ یہ خان کا خون ہے’ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میری ٹینشن بڑھتی جارہی تھی کہ خان کو سچ نہ پتا چل جاۓ’ اور اگر انہیں سچ کا پتا لگ گیا تو وہ مجھے بھی چھوڑ دے گے اور تمھیں بھی اپنانے سے انکار کردے گے’ اسی لۓ میں نے المیرا کو خان سے دور کردیا تمھیں ہمیشہ خان کے قریب رکھا’ میں چاہتی تھی اگر خان کو کبھی سچ کا پتا چل گیا اور انہوں نے تمھیں گھر سے نکال دیا تو تم کہاں جاؤ گے’ اسی لۓ میں چاہتی تھی کہ خان کی ساری دولت تمھاری ہوجاۓ تاکہ گھر سے جانے کے بعد دولت تمھارے نام ہو تو تم یتیموں لاوارثوں جیسی زندگی نہ گزارو……”
جہانزیب کی آنکھوں سے آنسوں ٹوٹ ٹوٹ کر گالوں پر لڑھک رہے تھے… اسے لگ رہا تھا کہ اس کی دماغ کی رگیں ابھی پھٹ جاۓ گی……
بس یہی سوچ کر میں نے المیرا کو لے کر خان کے دل و دماغ میں زہر گھول دیا’ ان کو المیرا سے زہرہ آنٹی سے دور کر کے رکھ دیا’ مگر آج دیکھو’ میں آج بھی خالی ہاتھ ہو…..”
انہوں نے اپنے ہاتھوں کو پھیلایا…..
دیکھو’ جہانزیب تمھاری ماں آج بھی خالی ہاتھ ہے’ مجھ سے خان کو چھین لیا گیا’ وہ میری محبت تھے…..”
وہ پاگلوں کی طرح رونے لگی تھی….
خان مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے گۓ’ میں اکیلی رہ گئ……”
یہ سب آپ کو آپ کے گناہوں کی سزا ملی ہے’ آپ نے ایک باپ بیٹی کے پیار کے بیچ میں نفرت پیدا کردی….. یاد رکھیے گا المیرا میری بہن ہے میں آپکا بیٹا ہوں’ آپ بابا کے نکاح میں تھی’ المیرا بابا کی بیٹی ہے’ وہ میری سوتیلی بہن ہے جوکہ مجھے سگی بہنوں کی طرح عزیز ہے……
جہانزیب کا سر گھومنے لگا تھا……
وہ اپنے سر کو تھامے اٹھ کھڑا ہوا…..
اپنے روم میں آکر زمیں پر گرنے والے انداز میں بیٹھا…..
نہیں’ نہیں میں ناجائز نہیں…..” وہ ماننے سے اب بھی انکاری تھا…. ماں کے الفاظ کانوں میں گونجنے لگے……
تم گناہ ہو غلطی ہو’ ناجائز ہو…..”
نہیں…..” وہ چینخا تھا…..
وہ پھوٹ پھوٹ کر روپڑا تھا…..
میں غلی نہیں’ کوئ گناہ نہیں…..”
مگر حقیقت کو کون جھٹلا پایا ہے آج تک…….
وہ اٹھا تھا…. اسے چکر آنے لگے تھے… وہ واشروم کی طرف دوڑا…..
باہر خدیجہ بیگم زمین پر بیٹھی روۓ جارہی تھی……
وہ ہاگل ہی تو ہوگئ تھی شوہر کی موت کے بعد’ سارا رنگ روپ’ سجاوٹ’ سب ختم ہوگئ تھی….. ان کو ان کے کیے کی سزا مل گئ تھی……
زندگی تلخ سے تلخ ہوگئ تھی سب کیلۓ…….
***
زندگی کتنی تلخ ہوگئ تھی سب کیلۓ…… المیرا اب پھر پہلے جءسی ہوگئ تھی…. دادی کی ڈیتھ کے بعد تھوڑا بہت تو وہ بول لیتی تھی مگر خان کی موت کے بعد اس نے چپ سادھ لی تھی….. کھانا پینا چھوڑ دیا تھا….. آنکھیں رونے کی وجہ سےپھر لال رہنے لگی تھی…. رنگت بھی زرد پڑنے لگی تھی….. اس کے زہن میں تو بس ایک ہی بات گھومتی رہتی تھی کہ اس نے اپنے بابا کا قتل کیا ہے….. خان تو اس سے بہت محبت کرتے تھے مگر جو کیا نائلہ نے کیا….. سب اداس تھے….. یوشع المیرا کو لے کر ٹینشن میں رہنے لگا تھا….. اس کی حالت اس سے دیکھی نہیں جارہی تھی…. وہ دن بہ دن کمزور ہوتی جارہی تھی…… اور جب المیرا یوشع اداس ہوتو علی کیسے خوش رہ سکتا ہے ایک طرف جان سے زیادہ عزیز دوست تو دوسری طرف اتنی ہی زیادہ عزیز بہن…… شادی کی تیاریان اب بھی چل رہی تھی مگر خوشی کسی کو نہیں تھی….. یوشع نے پوچھا بھی کہ اگر کہو تو شادی کی ڈءٹ آگے کرلیتے ہیں مگر اس نے منع کردیا….. زندگی اداس تلخ ہوگئ تھی سب کیلۓ….. سب اداس تھے المیرا کے غم میں برابر کے شریک تھے…….. مگر ایک ماہی تھی جس کی خوشیاں دن بہ دن بڑھتی جارہی تھی شادی کہ ڈیٹ قریب آتی جارہی تھی…… اسے بھی دکھ ہوا تھا خان کا سن کر….
کیونکہ اب بھئ ہماری ماہی اتنی بھی بری نہیں ہے…….
ادھر ان سب کی زندگی تلخ ہوگئ تھی تو دوسری طرف جہانزیب کی…….
_______
پورے کمرے میں گھپ اندھیرا تھا….. ایک سایہ سا تھا جو اس کمرے میں زمین پر بیڈ کے ساتھ ٹیک لگاۓ بیٹھا چھت کو گھوررہا تھا…… اس کی آنکھوں میں نمی تھی…..
کمرے کا دروازہ کھولا گیا….. باہر کی روشنی کمرے میں داخل ہوئ…. جہانزیب نے آنکھوں پر روشنی پڑتے آنکھیں بند کی….. آنسوں بند پلکوں کی باڑ توڑ کر باہر نکلا……
کمرے میں ہیل کی ٹھک ٹھک گونجی….. ایک ساٹئلش سی براؤن بالوں سنہری آنکھوں والی لڑکی روم میں داخل ہوئ….. وہ بہت خوبصورت ہے….. دودھ جیسی چٹی….. سنہری آنکھیں’ براؤن بال’ مناسب قد’ جو اس وقت پینٹ شرٹ مین ملبوس تھی……
وہ قدم قدم چلی بیڈ پر جہانزیب کے قریب آکر بیٹھی…… اس نے اب تک آنکھیں بند کررکھی تھی….. اس نے اس کا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھا….. اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی…… جہانزیب کو سکون ملنے لگا تھا…… کتنے دنوں سے وہ سویا نہیں تھا…… اس کے ذہن سے یہ بات ہی نہیں نکل رہی تھی کہ وہ ایک غلطی ہے’ گناہ ہے….. اب تو اس کو ایسا لگتا تھا کہ بس ابھی اس کے دماغ کی رگیں پھٹ جاۓ گی….. اس نے اس دن کے بعد سے کوئ بات نہیں کی تھی خدیجہ سے……. اور نہ ہی اس نے یہ جاننے کی کوشش کہ سلیمان کون ہے کہاں ہے؟؟ زندہ بھی ہے یا نہیں…… اور ڈھونڈ کر کیا کرے گا جب اس کے باپ کو ہی نہیں پتا کہ اس کا کوئ بیٹا بھی ہے….. اسے ضرورت نہیں تھی کسی کی اب….. اس نے المیرا سے بھی اب رابطہ نہیں کیا تھا…. نہ ہی المیرا نے کوئ کال کی…..
وہ لڑکی اس کے بالوں میں ہاتھ پھیررہی تھی…… اسے سکون مل رہا تھا….. وہ اب سونا چاہتا تھا….. گہری نیند…. وہ انکھیں بند کیے اس کی گود میں سر رکھے زمین پر بیٹھا رہا…. چند ہی پل بعد وہ نیند کی گہری وادیوں میں چلا گیا تھا….. اس سٹائلش سی لڑکی نے نیچے جھک کر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے……..
ہاں نہ یہ وہی تو لڑکی ہے جو جہانزیب نے پسند کی تھی…. یہی تو وہ لڑکی ہے جو جہانزیب کی محبت ہے….. ہاۓۓےے کتنی احساس لڑکی ہے……..
***
