Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

Visal-e-Javedan وصال جاوداں

وہ اپنے کمرے میں بلیک کلر کی گھٹنوں تک آتی گھیردار فراک’ بلیک ٹائٹس’ ہاتھوں میں بلیک چوڑیاں’ آنکھوں پہ مسکارا لگاۓ’ کالے بالوں کو کمر پہ کھلا چھوڑے’ پاؤں میں بلیک کلر کے خصے اڑسے’ ریڈ لپسٹک لگاۓ شیشے کے سامنے کھڑی اپنی تیاری کو دیکھ رہی تھی….. جیولری کہ نام پہ جہان کی دی ہوئ رنگ’ گولڈ کی نتھ جو وہ ہمیشہ ڈالے رکھتی ہے’ ہلکا سا ہارٹ شیپ کا ہی نیکلس’ اور ہلکے سے ٹوپس ڈالے ہوۓ تھے…. وہ اتنے میں ہی قیامت ڈھارہی تھی…. ایمان روم میں داخل ہوئ….ایمان نے بھی بالکل المیرا جیسی ڈریسنگ کی تھی…. المیرا چلے…. جہان آگیا ہے’ نیچے ویٹ کررہا ہے…. ہاں چلو…. وہ دونوں باہر آگئ جہاں جہان لان میں ٹہلتا ویٹ کررہا تھا…. جہان کی نظر جیسے ہی المیرا پر پڑی اس کے تو جیسے ہوش اڑگۓ…. بااختیار منہ سے ماشااللّه نکلا تھا’ وہ یک ٹک اسے دیکھے جارہا تھا’ یہ جانے بغیر کہ وہاں ان دونوں کے علاوہ ایمان بھی ہے…. المیرا نے بھی جہان کی نظریں خود پہ محسوس کی تھی…. وہ دونوں قدم قدم چلتی جہان کے قریب آرہی تھی…. اووہو ذرا دیکھو تو’ بنا پلکیں جھپکاۓ کیسے دیدار کیا جارہا ہے’ ایمان نے کان میں سرگوشی کی’ جس سے وہ اور زیادہ جھینپ گئ تھی’ ایک تو جہان کی خود پہ پڑتی نظریں اور اوپر سے ایمان کی باتیں…. وہ دونوں جہان کے قریب پہنچ گئ تھی….. سلام دعا کی گئ’بامشکل المیرا پہ سے نظریں ہٹائ گئ’ اس سے پہلے کب دیکھا تھا جہان نے المیرا کو سجا سنورا’ وہ تو سادگی میں رہتی تھی…. المیرا پہ سے نظریں ہٹائ’ کہیں اس کی خود کی ہی نظر نہ لگ جاۓ’ وہ تینوں باتیں کرتے گاڑی کی طرف بڑھ گۓ…. المیرا اگلی سیٹ پہ’ اور ایمان پچھلی سیٹ پہ بیٹھی تھی…. جہان نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی’ گھر کی طرف روانہ ہوۓ…. آج جہان کی نظریں المیرا پہ سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی’ وہ وقفے وقفے سے المیرا کے چہرے کا طواف کررہا تھا’ وہ جو ہر دفعہ المیرا کو دیکھ کر نظریں جھکا لیتا تھا’ آج نظریں ہٹنے سے انکاری تھی….’ شاید یہ ان کے درمیان جو ایک رشتہ بندھ گیا تھا اس کی وجہ سے تھا یہ سب’ جہان نے انگلی میں پہنی رنگ کو دیکھا’ دل کو قرار آیا تھا’ المیرا اب رنگ اتارتی بھی نہیں تھی’ چوبیس گھنٹے پہن کر رکھتی تھی’ کیونکہ المیرا نے اب اس رشتے کو دل و جان سے قبول کرلیا تھا’ خاموشی میں سفر کاٹا گیا….” ____________________ وہ گھر پہنچ کر سب سے ملی’ جہان کی دوسری بہن کو بھی المیرا بہت پسند آئ تھی’ ماں تو صدقے واری جارہی تھی…. صفیہ اور ایمان بھی ایک دوسرے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئ تھی اور حیران بھی تھی’ کیونکہ وہ بیسٹ فرینڈ تھی…. صفیہ کے دل میں ایک درد سا اٹھا تھا ایمان کو دیکھ کر مگر اپنے بھائ کی خوشی کی وجہ سے چپ رہی’ صفیہ نے ایک نظر جہان پہ ڈالی تھی جو المیرا کے ساتھ بیٹھا باتیں کررہا تھا’ وہ خوش تھا’ سب ہی ایک دوسرے سے مل کر خوش تھے…. اسی ہنسی خوشی میں ڈنر کیا گیا…..” ____________________ صفیہ ڈاکٹر بن رہی ہے’ تو اکثر اسے اپنی میم سٹاف کے ساتھ اور اسی کی ایج کی چار پانچ لڑکیاں انہیں پریکٹس ورک کیلۓ ہوسپٹل لے کر جایا جاتا تھا’ کبھی ویزٹ کرنے تو کبھی کچھ سیکھنے’وہ جس پرائیویٹ ہاسپٹل میں جاتے تھے وہاں ایمان جو خود ایک ڈاکٹر ہے” تقریباً دو سال پہلے ان کی ملاقات ہوئ تھی’ وہاں ان سب کو گائیڈ کرنے کی ریسپونسیبیلیٹی ایمان کی تھی’ وہ دونوں کب ایک دوسرے کے اتنے کلوز ہوۓ انہیں معلوم ہی نہیں ہوا’ وہ کب ایک دوسرے کے دوست بن گۓ…..” ______________________ ڈنر کے بعد المیرا باہر لان میں آگئ تھی تھوڑا ٹہلنے کیلۓ’ کہ پیچھے پیچھے جہان بھی آگیا….. المیرا لان میں کھڑی اس خوبصورت وائٹ کلر کے مور کو دیکھ رہی تھی’ جو لان میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا…. آر یو او کے المیرا جی…؟؟؟ جی فائن…. وہ دونوں اب ساتھ ساتھ لان میں ٹہل رہے تھے…. یہ مور بہت خوبصورت ہے….. اگر آپ کو پسند آیا ہے تو آپ لے جاۓ اسے اپنے ساتھ’ میں دوسرا لے آؤ گا…. نہیں نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے….. ٹھینک یو….. میری طرف سے گفٹ سمجھ کر رکھ لے…. نہیں جہان ٹھینک یو سو مچ بٹ میں اس کو رکھ کر کیا کرو گی’ آئ مین اس کی کیئر کون کرے گا’ نہ میں گھر ہوتی ہو اور نہ ہی ایمان’ ہم دونوں اپنی جوب پہ ہوتے ہیں’ رات کو گھر آتے ہیں’ آپ اسے یہی رکھے اور ویسے بھی شادی کے بعد تو میں نے یہی آنا ہے….. وہ ہنسا’ اوکے المیرا جی’ ایز یو وش… آج آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہے’ بہت زیادہ…. سچے دل سے تعریف کی گئ….. میں پہلے ہی تعریف کرنا چاہتا تھا’ مگر ایمان کی وجہ سے نہیں کرپایا’ کیا اس سے پہلے کبھی خوبصورت نہیں لگی’ چہرے پر آئ لٹ کو کان کے پیچھے اڑستے پوچھا….. لگتی ہے’ ہر بار لگتی ہے’ یاں یو کہہ لے کے آپ کے آگے کوئ اچھا ہی نہیں لگتا….. وہ چھینپ گئ تھی….. کوئ سادگی میں بھی اتنا خوبصورت کیسے لگ سکتا ہے المیرا جی….. وہ دونوں اب رک کر مور کو دیکھتے بات کررہے تھے…. سادگی کا یہ عالم ہے تو سوچتا ہو حسن کا عالم کیا ہوگا” جہان نے المیرا کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا’ ایک پل کیلۓ المیرا نے بھی اس کی آنکھوں میں جھانکا’ مگر صرف ایک پل کیلۓ’ اور اگلے ہی پل نظریں جھکالی’ جہان کی آنکھوں میں محبت ہی محبت دیکھی تھی المیرا کو….’ المیرا جی آپ کو پتا ہے آج اس دل نے شدت سے بس ایک خواہش کی ہے’ آپ کو دلہن کے روپ میں سجا سنورا دیکھنے کی’ جب آپ سادگی میں اتنی خوبصورت لگ رہی ہے تو جب آپ دلہن بنو گی تو کیسی لگو گی’ مجھے شدت سے انتظار ہے المیرا جی بس ایک اس دن کا’ جب آپ صرف میرے لۓ سجے گی’ میرے نام کی مہندی کو اپنی ہتھیلیوں میں سجا کر مٹھی کو بند کرلے گی’ اور آپ اس دن میرے کان میں سرگوشی کرکے کہے کہ جہان آپ صرف میرے ہیں’ صرف میرے’ المیرا کہنا چاہتی تھی مگر الفاظ نے نکلنے سے انکاری کردیا…. المیرا چپ رہی نظریں گھاس پہ جمی تھی’ اور جہان کی المیرا پہ….. دونوں کافی دیر اسی پوزیشن میں کھڑے رہے….. آپ کل میرے ساتھ چلے گی المیرا جی…. گھاس سے نظریں ہٹا کر سوالیہ نظروں سے جہان کو دیکھا….. جہان نے بھی المیرا کی سوالیہ نظریں سمجھ کر کہنا شروع کیا….. میں آپ کو اپنے آفس لے کر جاؤ گا’ کنسٹرکشن کا کام سٹارٹ ہے وہاں’ آدھے سے زیادہ بلڈنگ بن گئ ہے’ میں نے اپنا بزنس سٹارٹ کرنا ہے’ میرا شروع سے خواب رہا ہے کہ میرا اپنا بزنس ہو’ مگر گھر کے حالات’ پھر بہنوں کی شادی کی وجہ سے یہ خواب پورا نہ ہوسکا’ اس لۓ بہنوں کی شادی کے بعد بنک سے کچھ لون لے لیا تھا اور کچھ میری اپنی سیونگز تھی’ تو کام سٹارٹ کروادیا’ آپ کو بھی دیکھانا چاہتا ہو….. المیرا کو خوشگوار حیرت ہوئ’ واقعی اللّه پاک آپکو کامیاب کرے’ ڈھیروں خوشیاں آپ کا مقدر بنے…” آمین! دونوں نے ایک ساتھ آمین کہا اور پھر ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس پڑے….. آپ چلے گی نہ…. جی بالکل…. تھوڑا اور وقت گزارنے کے بعد جہان ہی ان دونوں کو گھر چھوڑ کر خود اپنے گھر آگیا….” ******* اے کیا سوچ رہی ہو؟؟ ایمن نے عروج کے کندھے کو زور سے ہلایا…. اففف کونسا زلزلہ آگیا ہے…. تم مجھے بتارہی ہو یا جاؤں….؟؟؟ کیا سوچ سکتی ہو یہی کہ سر کو کیسے پرپوز کروں…؟؟؟ اوووو اچھا’ پھر کیا سوچا تم نے….؟؟؟ سوچ رہی ہوکہ لو لیٹر لکھ کر سر کے روم میں رکھ دوں…. وہاں کیا آئیڈیا ہے…؟؟ ایمن نے کلیپنگ کرتے ہوۓ کہا…. اس سے زیادہ گھٹیا آئیڈیا نہیں ملا کیا تمھیں..؟؟ ایمن نے دانت پیس کر کہا…’ تو تم ہی بتادو کہ کیسے پرپوز کرو سر کو اور ویسے بھی اس میں برائ کیا ہے لولیٹر لکھ دوں گی سر کو…. ارے تم خود پرپوز کرو نہ سر کو’ فیس ٹو فیس جیسے فلموں’ ڈراموں میں کرتے ہیں’ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر’ ہاتھ میں گلاب کا پھول’ اور پھر کہہ دوں آئ لو یو سر….. ہاہاہاہا’ تمھارا میرے سے بھی گھٹیا آئیڈیا ہے’ اس طرح سے پرپوز’ اس طرح کی حرکتیں لڑکے کرتے ہیں’ لڑکیاں نہیں’ اور میں اس طرح سے کبھی پرپوز نہیں کروں گی’ اپنا آئیڈیا اپنے پاس رکھو…. کیوں تمھیں سر سے محبت نہیں ہے کیا’ ایمن نے آئبرو اچکا کر پوچھا’ بہت ہے…. تو لوگ محبت میں اپنی جان کی بازی تک ہار دیتے ہیں’ اور تم گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پرپوز نہیں کرسکتی…’ لعنت ہے تم پہ…. یار کرتو دوں پرپوز’ مگر مجھے ڈر لگتا ہے…… اچھا کیسا ڈر…. ایمن نے سینے پر بازو باندھتے پوچھا….’ یار یہی کہ سر نے اگر مجھے ریجیکٹ کردیا یا پھر اگر سر کو میرا پرپوزل پسند نہ آیا تو….. ہاں تو کیا ہوگا زیادہ سے زیادہ’ میں تمھیں بتاتی ہو’ اگر سر کو تمھارا پرپوزل پسند نہ آیا تو وہ زیادہ نہیں دو’ چار تھپڑ تو لگا ہی دے گے”’ عروج کی آنکھیں حیرت کے مارے پھٹی’ اپنے گال پہ ہاتھ رکھا’ ایمن نے اپنی مسکراہٹ دبائ” اور دوسرا اگر سر نے تمھیں ریجیکٹ کیا تو زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا’ تم نے دو دن کا روگ لگاکے بیٹھنا ہے’ اور تیسرے دن پھر کسی کو پرپوز کرنے کے پلان بنارہی ہوگی’ کیونکہ تمھارا تو یہی کام ہے’ تمھیں تو آۓ دن کوئ نہ کوئ پسند آجاتاہے’ کل تھیں کوئ اور پسند تھا’ آج تمھارا دل یوشع سر پہ آگیا ہے’ اور کل پھر کسی اور پہ تمھارا دل آجاۓ گا….. ایمن نے طنز کے تیر چلائیں…. جھوٹی میں نے ایسا کب کیا…’ عروج نے لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پہ ہاتھ رکھ کر پوچھا…. عروج میڈم میرا منہ نہ کھلواؤ’ اور نہ ہی مجھ سے جھوٹ بولنا’ میں تمھاری رگ رگ سے واقف ہو….. اچھا نہ تم تو میری دوست ہو پیاری پیاری’ یہ بات ہمارے درمیان تک ہی ٹھیک ہے’ کیوں ایسی باتیں زبان پہ لارہی ہو’ دل میں رکھو’ عروج نے گال کھینچ کر مسکا لگایا… اچھا تو بتاؤ کیسے پرپوز کرو گی….. عروج نے گال پہ انگلی رکھی’ سوچنے کی ایکٹنگ کی’ ایک دم سے آنکھیں چمکی’ چٹکی بجائ’ سوچ لیا…. کیا جلدی بتاؤ….؟؟؟ ایمن نے بے تابی سے پوچھا…. یہی کہ لولیٹر لکھ کر پرپوز کروں گی….. اور ایمن کی ساری ایکسائیٹمنٹ جھاگ کی طرح بیٹھ گئ…. بھاڑ میں جاؤ تم’ جو کرنا ہے کرو….. ایمن نے غصے سے کہا اور وہاں سے واک آؤٹ کرگئ….. بس لولیٹر لکھوگی’ جو ہوگا دیکھا جاۓ گا’ سیلیکشن یا ریجیکشن…. خود سے دل میں کہا اور اپنے کام میں بزی ہوگئ…… ******* جس گھر میں پہلے سناٹا چھایا رہتا تھا’ وہاں اب رونقیں لگ گئ تھی’ زاور اور ہادی کی کھلکھلاہٹیں’ ان کی شرارتیں تھی’ ذیان کے کبھی ہنسنے تو’ کبھی رونے کی آواز گونجتی….. وہ دونوں ابھی یوشع کے ساتھ سکول سے آۓ تھے….. اور آتے ہی گھر کو سر پہ اٹھالیا تھا…. زینب نے کتنی مشکلوں سے ان دونوں کو چینج کروایا اور اب کھانا کھلانے میں سر کھپارہی تھی….. تم دونوں اب مار کھاؤ گے میرے سے’ چپ چاپ بیٹھ کر اب کھانا کھارہے ہو یا نہیں….. ہاہاہاہا….. دونوں ساتھ ساتھ ہنسے…. بڑی ماما’ ہمیں نہیں کھانا….. ہادی کے ساتھ ساتھ زاور نے بھی اپنی ماما کو بڑی ماما کہا اور ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسے لگے…… زینب کا تو منہ ہی کھل گیا’ کل تک وہ زاور کی ماما تھی اور آج بڑی ماما…. زینب نے زاور کا کان پکڑ کر مروڑا’ کیا کہا’ ذرا دوبارہ کہنا…. آآآآ’ ماما’ ماما چھوڑے’ درد ہورہا ہے…. ہاہاہاہا’ ہادی نے قہقہہ لگایا…. ہممم’ اب بولو گے بڑی ماما….. نہیں…. زینب نے کان چھوڑا….. زاور کرسی سے نیچے اترا….. بڑ ی ماما….. زاور نے زور سے چینخ کر کہا’ اور اس سے پہلے وہ زینب سے تھپڑ کھاتا’ سامنے سے آتے علی کی طرف دوڑ لگائ…. علی نے بھی ان کی تکرار سن لی تھی’ فوراً زاور کو گود میں اٹھایا…. کیا ہے بھئ تمھیں؟؟ کیوں تنگ کررہی ہو میرے معصوم بچوں کو….. استغفراللّه آپ کے بچے اور وہ بھی معصوم’ لاحولا” زاور’ علی دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنسے…. کتنی دیر سے کہہ رہی ہو کھانا کھالو’ مگر مجال ہو جو اتنا سا بھی کھایا ہو…. ہاہاہا’ یہ تم سے کھاۓ گا بھی نہیں’ یہ بس اپنے بابا سے کھاتا ہے’ ہے نہ بیٹا…. زاور نے اثبات میں سر ہلایا…. یوشع بھی علی کے ساتھ ہی تھا…. آج اسے یہ گھر واقعی گھر لگ رہا تھا’ اس گھر میں صرف دو افراد نہیں تھے’ ایک پوری فیملی تھی….. یوشع نے پیچھے سے ہادی کے گدگدی کی’ جس سے وہ اور ہنسنے لگا’ سر پہ پیار کیا’ اور پوچھا…. کھانا کیوں نہیں کھارہے ہو؟؟؟کیوں بڑی ماما کو تنگ کررہے ہو..؟؟؟ یوشع نے یہ کہتے ہوۓ چیئر سنبھالی…. علی نے بھی زاور کو چیئر پر بٹھایا’ اورخود بھی چیئر گھسیٹ کر بیٹھ گیا…… بابا’ آپ کے بغیر کیسے کھا سکتا ہو’ آپ ہی تو کھلاتے ہیں…. زینب نے کھانا سرو کرنا شروع کیا…. یوشع کے چہرے پر محبت بھری مسکراہٹ آئ” روٹی کا نوالا بنا کر میرو کے منہ میں دیا…. علی نے بھی زاور کے ساتھ یہی عمل کیا….. ذیان سوگیا تھا… زینب بھی منہ بسورتے کھانا کھانے لگی’ ہنسی’ مزاق میں کھانے کا اختتام کیا گیا…. ********