No Download Link
Rate this Novel
Episode 47
علی یوشع کو ابھی گھر لایا تھا….. ماہی بھی ساتھ ہی تھی…. وہ لاؤنج میں داخل ہوۓ تھے…..
بابا……” یوشع نے یوسف صاحب کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا…..
میں تمھیں بتاچکا ہو انکل کا پیغام’ اس لۓ تمھاری بھلائ اسی میں ہے کہ تم ابھی فلحال اپنے روم میں جاؤ’ جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوجاۓ جب ان سے مل لینا……”
بھائ ٹھیک کہہ رہے ہیں’ بابا غصے میں ہے ابھی’ آپ روم میں چلے’ میں آپکے لۓ جوس لاتی ہو……” یوشع نے اپنا ہاتھ علی کی گرفت سے چھڑوایا….. اور یوسف صاحب کے کمرے کی طرف قدم بڑھادیے……
یوشع…..” رہنے دو ماہی میں نے کہا تھا نہ کہ بہت ڈھیٹ ہے تو جانے دو اسے’ اب اس کا ڈنڈے کھانے کو دل کررہا ہے تو مت روکو اسے جانے دو…..”
بھائ کبھی تو اچھا بول لیا کرے……”
کیا ہے جب دیکھو میری دشمن بنی رہتی ہو’ جاو جاکے مجھے جوس لاکے دو وہ بھی فریش’ چلو نکلو اب یہاں سے……”علی نے اس کا رخ کیچن کہ طرف کردیا….. وہ آگے بڑھ گئ….. یوشع نے بھی علی کی ڈنڈے والی بات سن لی تھی مسکراتا ہوا اندر داخل ہوگیا….. یوسف صاحب بیڈ پر کراؤن سے ٹیک لگاۓ بیٹھے تھے….. آنکھیں بند تھی….. وہ قدم قدم چلتا بیڈ تک آیا…… یوسف صاحب نے بھی اسکی موجودگی محسوس کرلی تھی مگر آنکھیں نہیں کھولی….. وہ زمین پہ بیڈ پر سر رکھ کر ان کے قدموں میں بیٹھ چکا تھا…..
بابا…….” یوشع مجھے اس وقت بہت غصہ آرہا ہے اس سے پہلے میں غصے میں تم پر ہاتھ اٹھاؤ جاؤ یہاں سے……” یوسف صاحب نے اپنے دل کو مسلا…. یوشع نے دیکھا…..
بابا آپ کو ہارٹ پین ہورہا ہے…..”
تو تمھیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے تمھارا باپ جۓ یا مرے……” انہوں نے قدرے غصے سے اونچی آواز میں کہا تھا……. باہر کھڑے علی نے بامشکل اپنی مسکراہٹ دبائ…… ایک ہی دم اندر یوسف صاحب کے کھانسی ہوئ تھی…. یوشع ایک ہی دم ہڑبڑا کر زمین سے اٹھا تھا……
وہاں ان کی کلاس لگ رہی ہے اور آپکو ہنسی آرہی ہے……..”
تو اور کیا کرو خود ہی تو گیا ہے موت کے کنوئیں میں چھلانگ لگانے’ تو لگانے دو تمھیں کیوں ٹینشن ہورہی ہے……”
بھائ بہت ہوگیا اندر جاۓ اور بابا کو دیکھیں…..”
بیٹا رات بہت ہورہی ہے تمھاری طبیعت نہیں ٹھیک تمھیں ریسٹ کی ضرورت ہے جاؤ اور جاکے آرام کرو’چلو نکلو شاباش’ورنہ دو چار تھپڑ تم مجھ سے کھالو گی…….”
اب آپ بھی مجھ پر ہاتھ اٹھاۓ گے……’ اچانک ماہی کے منہ سے نکل گیا تھا…… اس نے دانتوں تلے زبان دبائ……. علی نے کچھ حیرت سے اس کو دیکھا…..
آپ بھی کا کیا مطلب ہے ماہی؟؟؟ کیا یوشع نے تم پر ہاتھ اٹھایا ہے…..”
نہیں نہیں بھائ آپ غلط سمجھ رہے ہیں’ وہ تو مجھے کچھ نہیں کہتے……”
مجھ سے جھوٹ مت بولنا ماہی’ کیا یوشع نے تم پر ہاتھ اٹھایا ہے؟؟؟؟”
بھائ آپ غلط سمجھ رہے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے’ مجھے نیند آرہی ہے میں سونے جارہی ہو’ آپ جانے آپکا دوست جانے’ گڈ نائٹ……”
ماہی……” بھائ سچ میں آپ غلط سمجھ رہے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے……”
اور پھر وہ فورا وہاں سے نکل گئ تھی……
اندر یوشع یوسف صاحب کی میڈیسن ڈھونڈنے میں لگا ہوا تھا…..
بابا خدا کے واسطے بتادے مجھے آپکی میڈیسن کہاں رکھی ہے’ مجھے نہیں مل رہی……” یوسف صاحب لگاتار اپنے دل کو مسل رہے تھے….. ان کا درد بڑھتا جارہا تھا….
سندس’ سندس…..” یوشع نے آواز لگائ…… آوازیں سنتا علی بھی فورا روم کی طرف دوڑا تھا….. سندس بھی بھاگی بھاگی آئ تھی…..
میری میڈیسن ختم ہوچکی ہے…..” یوسف صاحب نے کہا…. یوشع کو اپنا سر ایک بار پھر گھومتا ہوا نظر آیا تھا…. اتنی رات کو میڈیسن کہاں سے ملے گی…..
انکل آپ ٹھیک ہے…..” علی نے انہیں تھاما تھا…..
نہیں میڈیسن ختم نہیں ہوئ ایکسڑا رکھی ہوتی ہے صاحب……”
تو کھڑی کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو جلدی نکال کر دو کہاں رکھی ہے…..”
جی جی صاحب…..” یوشع نے گلاس میں پانی بھرا تھا….. سندس نے میڈیسن نکال کر دی……. یوشع نے انہیں میڈیسن کھلائ…. علی ان کی کمر مسلنے لگا تھا…… کچھ پل بعد جاکر انہیں سکون ملنے لگا تھا….. یوشع نے زور سے یوسف صاحب کو گلے لگایا……
کیو کررہے تھے بابا آپ ایسا ابھی اگر خدانخواستہ کچھ ہوجاتا تو میرا کیا ہوتا’ کیوں جھوٹ بولا کہ میڈیسن ختم ہوگئ ہے…..”
اگر یہی بات میں تم سے بولو یوشع کہ اگر خدانخواستہ تمھیں کچھ ہوجاتا تو سوچا ہے تمھارے اس بوڑھے باپ کا کیا ہوتا’ میں کیسے جیتا تمھارے بغیر…….”
سوری بابا ایم سو سوری’ میں نہیں کرو گا اب آپ کو تنگ مگر پلیز یار اب آپ مجھے چھوڑ کر مت جانا’ ورنہ میں اب واقعی مرجاؤ گا……” اس کے آنسوں ان کے کندھے میں جزب ہورہے تھے…… یوسف صاحب بھی تھوڑا نرم پڑے….. یوشع کو خود میں بھینچا…..
انکل ویری بیڈ’ میرا دلکررہا ہے میں اب آپ سے ناراض ہوجاؤ’ میں تو سوچے کھڑا تھا کہ آپ یوشع کے دس بارہ ڈنڈے پانچ چھ لاتیں اور ایک بوکسر کی طرح گھونسے مارے گے مگر یہاں تو سارا سین ہی چینج ہوگیا’ آپ تو اس کو گلے سے لگاۓ بیٹھے ہیں…..” یوسف صاحب مسکراۓ…..
ڈنڈے تو اس کے پڑے گے مگر تم سب کے سامنے تھوڑی مارو گا’میرے بیٹے کی بھی کوئ عزت ہے……” یوشع نے ان پر اپنی گرفت اور سخت کہ تھی…..
کیا انکل زیادہ نہیں توصرف ایک ڈنڈا ہی مار دے میرے سامنے’ تاکہ میں بھی دیکھ سکوں’اور اگر آپ سے نہیں مارا جاۓ گا تو مجھے بتادے یار میں مار دیتا ہو’میں بھی تو اپنے بڑے ہونے کا کچھ فرض ادا کرو……” یوشع ان سے دور ہٹا……
کچھ زیادہ ہی زبان نہیں چل رہی تمھاری’بیٹا نکلو یہاں سے بہت ہوگیا’ اپنے گھر جاؤ چلو’ نکلو……”
دیکھ رے ہیں انکل آپ کے ہوتے ہوۓ یہ مجھے گھر سے نکال رہا ہے’ آپ کے ہوتے ہوۓ یہ عزت ہے میری……” نہ آنے والے آنسوں صاف کرتے ہوۓ کہا…..
اووو چلتی پھرتی نوٹنکی کی دکان’ بس بہت ہوا تمھارا یہ ڈرامہ’ اب نکلو…….”
اچھا اچھا جارہا ہو تم تو یہی چاہتے ہو کہ میں یہاں سے چلا جاؤں……”
تو میں نے کب روکا ہے جاؤ یہاں سے……” یوسف صاحب نے ماتھا پیٹا…….
ان دونوں کا کبھی کچھ نہیں ہوسکتا’ یہ جب شروع ہوتے ہیں تو چپ ہونے کا نام نہیں لیتے……”
اوکے انکل جارہا ہو میں’ اب آپ بلاۓ گے تو آؤ گا ورنہ نہیں آؤ گا……” یوسف صاحب سے پیار لیتا یوشع کو زبان دیکھاتا وہ چلا گیا….. آج یوشع دل سے مسکرایا تھا کتنے مہینے بعد اس نے اس طرح سے مزاق کیا تھا…….
سندس بیٹا جاؤ آپ بھی جاکے ریسٹ کرو…..” جی…..” اور پھر وہ بھی چلی گئ…..
یوسف صاحب نے یوشع کا ماتھا چوما…..
کیا سوچا ہے پھر؟؟؟؟”
کس بارے میں؟؟؟”
ماہی اور اپنے بارے میں…..” وہ خاموش ہوگیا….
کیا سوچنا ہے بابا کچھ نہیں….”
کیوں کررہے ہو اس بچی کے ساتھ ایسا؟؟ مت دو یوشع خود کو تکلیف’ نہ ماہی کے ساتھ یہ برتاؤ کرو’ نہ مجھےٹینشن دو’ کچھ تو خیال کرو کسی پر تو رحم کھالو……” وہ خاموشی سے ان کی سنتا رہا…..
ماہی کی حالت دیکھی ہے وہ ویک ہورہی ہے’ مجھے لگا تھا میں جب لاہور سے واپس آؤ گا تو ماہی مجھے ہنستی کھیلتی خوش دیکھے گی’ مگر اس کا پہلے سے برا حال تھا’ تم کہتے ہو ماہی اپنے کۓ پر شرمندہ نہیں ہے’ جبکہ یہ سب غلط ہے’ میں نے خود دیکھا ہے ماہی کو تمھاری بے رخی پر تڑپتے ہوۓ’ میں نے اسے اپنے کۓ گۓ کام پر شرمندہ دیکھا ہے’ وہ پہلے والی ماہی نہیں رہی ہے’ وہ اب بدل چکی ہے’یہ ماہی صرف تمھاری توجہ تمھاری محبت چاہتی ہے’ مجھے بہت افسوس ہوا تھا سن کر جب ماہی نے مجھے بتایا کہ تم نے بچے کو ماننے سے انکار کردیا ہے…..” یوشع نے گردن جھکائ…..
اور جانتے ہو اس نے کیا کہا کہ بابا اگر اب مجھے یوشع سےعلیحدگی بھی اختیار کرنی پڑی تو وہ بھی کرلو گی مگر اپنے بچے کو کچھ نہیں ہونے دوگی’ میں خود مرجاؤ گی مگر اپنے بچے کو مارنے کا حق کسی کو نہیں دو گی’ وہ اس بچے کی ماں ہے وہ بچہ تمھارا خون ہے یوشع’ ماہی کا نہ صحیح اپنے ہونے والے بچے کا ہی احساس کرلو’ صرف بچے کی وجہ سے ماہی کا خیال رکھ لو’ اس کا ظرف دیکھو بیٹا تم اسکے ساتھ کتنا غلط کرتے ہو اس پر ہاتھ اٹھاتے ہو مگر وہ کسی سے کوئ گلہ نہیں کرتی’ اپنے گھر والوں کو آج تک اس نے تمھارے بارے میں نہیں بتایا کہ تم اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو’ وہ جب بھی اپنے گھر والوں سے ملی خوشی خوشی ملی ہے’ المیرا کبھی واپس نہیں آۓ گی نکل آؤ اس کی یادوں سے’ اس کی یادوں سے باہر نکل کر دیکھو پوری دنیا تمھارے سامنے کھڑی ہے’ اب بھی سب کچھ ہے کچھ نہیں بدلا’ بس تمھیں خود کو بدلنا ہے’ بدل لو خود کو ورنہ اللّه چھین لیتا وہ چیزیں جسکی قدر نہ کی جاۓ چاہے پھر وہ انسان ہو یا رزق’ فیصلہ اب تمھارے ہاتھ میں ہے’ فور منتھ کی اس کی پریگننسی ہوگئ ہے’ مجھے لاہود سے واپس آۓ دو منتھ ہوگۓ ہیں’ یہ فائف منتھ ہے تمھارے پاس اچھی طرح سوچ لو’ یا تو اس کے ساتھ زندگی گزارلو اچھے سے یا فائف منتھ بعد اس کو ڈائیورس دے دو’ جاؤ ریسٹ کرو……” وہ خاموشی سے اٹھ کرچلا گیا……
اپنا لے بیٹا اس کو زندگی میں سکون مل جاۓ گا’ اس کی رضا میں راضی ہونا سیکھ لے……” بزرگ کی کہی بات اسے یاد آئ تھی…. وہ روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا…. ماہی نے فورا آنکھیں بند کی تھی….. وہ بیڈکے قریب آیا…. ماہی آج بھی اس کے بیڈ پر لیٹی سورہی تھی…… وہ خاموشی سے کھڑا اسکو دیکھنے لگا…..
ماہی اٹھو میں نے لیٹنا ہے…..” وہ بھی آرام سے لیٹی رہی….. یوشع نے اس کے پیٹ کی طرف دیکھا… نہ جانے کیا سوچ کر وہ چپ ہوگیا….. بیڈ کی دوسری سائڈ پر وہ چپ چاپ آکر لیٹ گیا تھا….. ماہی کے چہرے پر محبت بھری مسکراہٹ آئ تھی…. مگر یوشع بالکل سپاٹ تھا…..
*
آج ماہی کی طبیعت کچھ خراب تھی…. اس کو کب سے چکر آرہے تھے…. گھر پر نہ ہی یوشع تھا اور نہ ہی یوسف صاحب….. اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھارہا تھا…..وہ واشروم کہ طرف بڑھ گئ منہ پر پانی کے چھینٹے مارے….. وہ سلیب پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی….. اسے اپنی ناک سے کچھ بہتا ہوا محسوس ہوا تھا اسنے نظریں اٹھا کر شیشے میں دیکھا….. چہرے پر حیرت در آئ تھی…. اسنے انگلی ناک کے قریب لگائ…. اپنی انگلی پر لگے اس خون کو دیکھا…. اس کی آنکھوں میں نمی آنے لگی تھی..
…. اس نے ہاتھ واپس گرالیا…. ناک میں پانی مارنے لگی…..کافی دیر یوہی پانی مارنے کے بعد خون رک گیا مگر وہ رونے لگی تھی…..
یاخدا بس اتنا وقت دیں دے میں اپنے بچے کو اس دنیا میں لاسکوں پلیز…….” وہ وہی زمین ہر بیٹھتی چلی گئ تھی…..
تمھاری طبیعت ٹھیک ہے…..” وہ ابھی آفس سے آیا تھا جب یوشع نے اس کے بجھے چہرے کو دیکھ کر پوچھا……
ہاں میں ٹھیک ہو…..” اس نے نگاہیں چراتے جواب دیا….. یوشع نے چند پل کھڑے ہوکر اس کا اوپر سے نیچے تک اچھی طرح معائنہ کیا…..
تم ڈاکٹر کے پاس جارہی ہو چیک اپ کیلۓ……”
جی جاتی ہو….”
کیا کہا ہے پھر ڈاکٹر نے سب ٹھیک ہے نہ……”
جی سب ٹھیک ہے آپ ٹینشن نہ لے…..”
مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ تم مجھ سے جھوٹ بول رہی ہو……”
میں میں کیوں بولو گی آپ سے جھوٹ……”
یہ تو تمھیں پتا ہوگا…..”
نہیں ایسی بات نہیں ہے……”
پھر کیسی بات ہے……” یوشع اس کے چہرے پر کچھ جانچنے کی کوششش کررہا تھا مگر جانچ نہیں پارہا تھا…… وہ بھی نظریں جھکاۓ کھڑی تھی…..
ٹھیک ہے کل میں چلو گا تمھارے ساتھ…..” اس نے فورا نگاہیں اٹھا کر یوشع کو دیکھا…..
نہیں نہیں آپ کیوں جائیں گے؟؟ میں خود چلی جاؤ گی’ اور ویسے بھی کل تو جانا ہی نہیں ہے ایک ہفتے کے بعد کی اپاؤنٹمنٹ ہے’ تو کل تو پھر کوئ فائدہ نہیں نہ جانے کا……”
کیوں لگ رہا ہے مجھے کہ تم مجھے ساتھ لے کر جانا نہیں چاہتی……” وہ ہلکا سا مسکرائ……
پچھلے چھ مہینوں سے بھی تو میں خود جارہی ہو آگے بھی چلی جاؤ گی……” اس نے اداسی سے کہا….. یوشع چپ ہوگیا…..
لائیں کوٹ دیں دے میں رکھ دو…..” یوشع نے اسے چپ چاپ کوٹ پکڑوادیا….. وہ کوٹ لے کر اداس نظروں سے آگے بڑھ گئ…… یوشع اس کو جاتا دیکھتا رہا……
**
تم گھر میں بتا کیوں نہیں دیتی ہو سب کو سب کچھ’ کب تک یہ بات اپنے دل میں رکھو گی؟؟؟؟”
آخری سانس تک’ سب کو مجھ سے پروبلم ہے’ اور پھر میرا شوہر بھی میرا نہیں ہے’ تو کیا کرنا جی کر….”
تم پاگل ہو مت کرو اپنے ساتھ ایسا ظلم؟؟؟”
میں فیصلہ کرچکی ہو بہت پہلے سے پلیز اب آپ کچھ مت کہے…..”
ایک بار پھر سوچ لو تمھاری جان بچ سکتی ہے اگر تم چاہو تو’ تمھیں بس کیئر کی ضرورت ہے…..”
میرے جانے کے بعد ہی وہ اپنی لائف کھل کر جی پاۓ گے’ اس لۓ میرا ان سے دور جانا ہی بہتر ہے’ وہ خوش رہے گے…..”
تم اس سے ویسے بھی دور جاسکتی ہو’ تم اپنا ایزیلی علاج کراسکتی ہو……”
مجھےضرورت نہیں ماریہ پلیز’ اور تم بھی کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گی’ تم اپنا پرومس نہیں توڑو گی…..”
صرف ایک تمھارے پرومس نے میرے ہاتھ پیر باندھ رکھے ہیں ورنہ میں کب کا اسے سب کچھ بتادیتی’ مگر ہاں یاد رکھنا میں اپنا پرومس توڑنے میں زیادہ دیر نہیں لگاؤ گی اگر تمھاری طبیعت مجھے زیادہ خراب ہوتی نظر آئ…..”
تم ایسا کچھ نہیں کرو گی….”
میں ایسا کرسکتی ہوں…..” ماریہ نے بھی غصے سے کہا تھا….
پرومس توڑنا گناہ ہے…..” مقابل بیٹھی لڑکی نے ایک ناکام سی کوشش کی…..
اگر ایک وعدہ توڑنے سے کسی کی جان بچ جاۓ تو پھر کوئ گناہ نہیں رہتا’ انڈرسٹینڈ…..” مقابل چپ رہا…..
اپنی میڈیسن ٹائم سے لے رہی ہونہ…..” اس نے اثبات میں سر ہلایا…..
گڈ…..” دونوں کے درمیان خاموشی چھاگئ تھی……
*
جاری ہے__
