No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
Visal-e-Javedan وصال جاوداں
شام کا پہر تھا….. یوسفزئ ولا میں اس خوبصورت بڑے سے لان میں یوشع ٹہلتا اس حسین موسم سے لطف اندوز ہورہا تھا….. جب علی کی گاڑی مین گیٹ سے اندر داخل ہوتی دکھائ دی…. وہ گاڑی سے اترا…. چابی گارڈ کو کیچ کروائ اور یوشع کے پاس آگیا…..
کیوں میں یہاں نہیں آسکتا کیا…؟؟؟
بالکل بھی نہیں…!! شوخی لہجے میں کہا…..’
اوکے بیٹا وہ تو انکل ہی بتاۓ گے کہ کون آسکتا ہے اور کون نہیں؟؟؟ علی نے سامنے سے آتے یوسف صاحب کو دیکھ کر کہا…. یوشع کی اس طرف پشت تھی اس لۓ وہ دیکھ نہ سکا…..
ہیلو انکل’ السلام علیکم!!
یوشع نے ہاتھ ہلایا جیسے مزاق کرنا بند کرو…..”
وعلیکم السلام برخوردار…..’ یوسف صاحب کی آواز پہ ہاتھ ساکن ہوگیا…. آنکھوں میں حیرت در آئ….. پیچھے مڑا….(آج پھر یوشع تیری خیر نہیں) خود سے دل میں کہا…. وہ دونوں ایک دوسرے سے حال احوال پوچھ رہے تھے…..
انکل ایک بات پوچھوں؟؟؟
ہاں بیٹا اجازت کی کیا ضرورت ہے؟؟؟ جو پوچھنا ہے پوچھو؟؟؟؟
یوشع نے کمر پہ مقہ رسید کیا’ باز رہنے کیلۓ کہا…..
یوشع یہ کیا حرکت ہے’ تم سے بڑا ہے یہ….’
یوسف صاحب نے ڈانٹا ‘ یوشع نے سر جھکایا….. بچیں گا نہیں تو علی کے بچے…. دل میں خود سے کہا….. علی ‘ یوشع کی شکل دیکھ کر تالی بجا کر ہنسا…. یوسف صاحب بھی ہنسے……
یوچھو بیٹا تم کچھ پوچھ رہے تھے…؟؟؟
ہاں انکل ‘ ایک بار پھر یوشع کا چہرہ دیکھا جو آنکھوں ہی آنکھوں میں باز رہنے کیلۓ کہہ رہا تھا…. مگر علی بھی کہاں باز آنے والا ہے…. کبھی کبھی تو موقع ملتا ہے یوشع کی ٹانگ کھینچنے کا…. اور یہ تو اس کی پرانی عادت یے جس کام سے منع کرو وہ کام تو علی عمران کو لازمی کرنا ہوتا ہے….
“انکل کیا میں اس گھر میں نہیں آسکتا’ یہ میرا گھر نہیں ہے کیا….؟؟” بہت ہی معصومیت سے پوچھا جیسے اس سے زیادہ معصوم اس دنیا میں کوئ نہیں ہے….’ یوشع نے سر پیٹا…….
کس نے کہا آپ سے ایسا’ یہ آپکا گھر ہے’ جب دل چاہے جب آؤ….”
“سنا تم نے یوشع’ کیا کہا انکل نے’ جب دل چاہے جب اؤ’ یہ میرا گھر ہے ‘ ایکچوئلی کیا ہے نہ انکل’ یہ جو آپکا پیارا سا اکلوتا بیٹا ہے یوشع اس نے ابھی تھوڑی دیر پہلے مجھے کہا ہے کہ میں اس گھر میں نہیں آسکتا…..’ نہ آنے والے آنسوں صاف کرتے ہوۓ کہا….
یوشع ‘
ڈیڈ آئ واز جسٹ جوکنگ….”
یہ کوئ جوک ہے….”
جی’ یوشع نے ارام سے بولا’ یوسف صاحب نے سن لیا…. اس کو گھورا….
اچھا اچھا اب کان مت پکڑنا’
نہیں نہیں انکل ضرور پکڑے’ میں تو کہتا ہو ‘ دو چار جوتے بھی لگادے….”
تم چپ کرو کچھ زیادہ نہیں بول رہے ہو اب….”
دیکھا انکل یہ کیسے مجھ معصوم کو ڈانٹ رہا ہے…” ایک بار پھر نہ آنے والے آنسوں صاف کرنے کی ایکٹنگ کی…..’
تم تو بچو مجھ سے ‘ بس ایک بار ڈیڈ چلے جائیں اندر’ پھر دیکھتا ہو’ تمھیں کون بچاتا ہے میرے ہاتھوں سے” وہ دل میں خود سے کہہ رہا تھا…. ‘ گالیوں سے نواز رہا تھا….’
افففف تم دونوں کی لڑائ کبھی ختم نہیں ہوگی…. تم دونوں یہاں باتیں کرو…. میں فریش ہوکر آتا ہو’ پھر گپ شپ کرتے ہیں…. کہیں جانا مت ڈنر کرکے جانا…..
اوکے انکل میں کہی نہیں جارہا’ یہی ہو آپ آجاۓ….
یوسف صاحب اندر کی طرف بڑھ گۓ…….
اہم اہم…. یوشع علی کی طرف مڑا…..دونوں ہاتھ سینے پر باندھے…..
“کچھ زیادہ ہی بکواس نہیں کررہے تھے تم ڈیڈ کے سامنے’ اب بکو کیا بک رہے تھے….”
میں نے کیا بولا ہے’ مجھے تو یاد ہی نہیں’ تمھیں پتا ہے میں کسی کو بھی کچھ نہیں کہتا’ آنکھیں پٹپٹا کر کہا….
میں یاد کروادیتا ہو نہ تمھیں سب کچھ’ کیوں ٹینشن لے رہے ہو….’ یوشع نے ہاتھ مسلے….. یوشع یوسفزئ کے ہوتے ہوۓ کوئ ٹینشن نہیں لینی….’ یوشع ہاتھ مسلتا آگے بڑھنے لگا….. علی نے تھوگ نگلا….. اوراس سے پہلے وہ بھاگتا….. یوشع نے اسے اپنے شکنجے میں لیا تھا…… “گیا بیچارا علی”
یوشع نے سب سے پہلے بال کھینچے’ ایک مکا پیٹ پہ ‘ دو مکے کمر پہ’ دونوں ہاتھوں کو باری باری مروڑا ‘ اچھی طرح اپنا غصہ اتارنے’ صرف ایکسل کی طرح اچھی دھلائ کرنے کے بعد اسے چھوڑا تھا…. یوشع کو سکون ملا تھا…. علی وہیں گھاس پر پیٹ پکڑ کر بیٹھ گیا….. غصے سے یوشع کو گھوررہا تھا…..
“یقین کر علی تجھے اس حالت میں دیکھ کر……
دل کو قرار آیا….
تجھ پہ ہے پیار آیا…..
پہلی پہلی بار آیا…..
اوووو بیغیرت……
نا چاہتے ہوۓ بھی علی ہنس پڑا….. تو کبھی نہیں سدھرے گا یوشع…..
“یوشع قہقہہ لگاتا گھاس پر بیٹھا…..
“یوشع سدھرنے والی چیز ہے بھی نہیں میری جان…” علی کے گال کھینچے…..
توبہ توبہ دور ہٹ….’ علی نے دھکا دیا….. یوشع بھی گھاس پر گرا…. دونوں پھر ہنس پڑے….
“جس دن یوشع سدھر گیا نہ میری جان یا یوشع نے ہنسنا ‘ بولنا بند کردیا’ اس دن ایک خلقت اداس ہوگی’ تم سب کی زندگیوں سے رونق ختم ہوجاۓ گی علی عمران…..’ لہجے میں بھرپور سنجیدگی تھی…..
صرف باتیں ‘ خوشفہمیاں…. علی نے بات ہوا میں اڑائ…..
“بھلے لکھ کر رکھ لو’ یوشع جو کہتا ہے سچ کہتا ہے…..” علی نے پھر نفی کی…. اس نے اب تک اپنے پیٹ کو پکڑا ہوا تھا……
کیا زیادہ زور سے ماردیا میں نے…..’
تو تمھیں کیا لگتا ہے’ تم نے اتنی زور سے مارا ہے کہ سارا نظام ہل گیا ہے اندر کا…..’
چل بیٹا ‘ پھر مجھے بالکل بھی افسوس نہیں ہے……’ یوشع ہاتھ جھاڑتے اٹھ کھڑا ہوا….. اپنا ہاتھ علی کی برف بڑھایا… علی نے پہلے ہاتھ کو اور پھر یوشع کو غصے سے دیکھا….
“زخم دے کر مرہم لگانا چاہتے ہو”
آجا نہ یار ایک تو ہی تو ہے میرا اکلوتا بڈی…..’ علی نے ہاتھ تھاما…. یوشع نے کھینچا…. اور وہ اٹھ کھڑا ہوا…..
چل اب بتا ایسے ہی آیا تھا’ یا کوئ کام تھا….’ وہ دونوں اب گھاس پر چل رہے تھے…..
“کل آفس میں المیرا کی آنکھوں میں آنسوں کیوں تھے..؟؟؟” علی بھی اب سنجیدہ نظر آنے لگا تھا….اتنا تو میں جانتا ہو کہ وہ آنسوں آنکھوں میں ڈسٹ جانے کی وجہ سے تو نہیں تھے ڈسٹ ٹیئر نہیں تھے…… یوشع رکا… علی بھی رک گیا…. یوشع نے علی کا چہرہ دیکھا…. جہاں بھرپور سنجیدگی تھی…. وہ سامنے کی طرف دیکھ رہا تھا….. وہ دونوں ایک بار پھر چلنے لگے…. کچھ پل خاموشی کی نظر ہوۓ اور پھر یوشع نے سب کچھ بتادیا’ پرسوں المیرا کو گھر چھوڑنے کے بعد کیا ہوا تھا….. علی کی آنکھوں میں خون اترا…. غصے سے یوشع کی طرف مڑا…. اور تم نے کچھ نہیں کیا….. یوشع کا دل کیا اپنا ماتھا پییٹ لے…..
“تمھیں لگتا ہے علی عمران’ کوئ المیرا خان کو کچھ کہے گا اور یوشع یوسفزئ چپ رہے گا….” علی ہلکا سا مسکرایا…. کیا کیا پھر تم نے بتاؤ…. کیوں سسپینس کریٹ کررہے ہو….؟؟
یوشع فخر سے اپنا کل کا کیا ہوا کارنامہ بتانے لگا….. علی کو سکون ملا اور ساتھ میں غصہ بھی آیا….
یوشع یوسفزئ تم نے میرے بغیر انگیجمنٹ کرلی….’
یار میں نے تمھیں سب کچھ سچ بتاتو دیا ہے’ اس میں میری کوئ غلطی نہیں…..”
علی نے اپنا بازو یوشع کی گردن میں ڈال کر گردن کو دبوچا…..
ابےےےے چھوڑ میری گردن ٹوٹ جاۓ گی’ میں مرجاؤں گا’ پھر تو روۓ گا’ المیرا تجھے جان سے مار دے گی’ کیوں شادی سے پہلے اسے بیوہ بنانا چاہ رہا ہے……” (اگے کا سارا لائحہ عمل بتادیا تھا) علی ہنسا مگر گردن کو دبوچے رکھا…… اوپر بالکونی میں کھڑے یوسف صاحب نے یہ منظر دیکھا….. مسکراتے ہوۓ نفی میں گردن ہلائ….. ہاتھ میں پکڑے موبائل سے ان دونوں کی تصویر کلک کی اور ان دو دوستوں کے اس خوبصورت منظر کو ہمیشہ کیلۓ تصویر میں قید کردیا….. یہ دونوں کبھی نہیں سدھر سکتے…. اور اندر روم میں چلے گۓ…..
“نہیں تم نے منگنی کی تو کیسے کی؟؟؟ وہ بھی میرے بغیر….”
“ایک دوسرے کو رنگ پہنا کر کہ سمپل’ یوشع نے تالی بجا کر کہا…..علی نے گرفت اور تیز کی مسکراہٹ دبائ…..
آآآ علی یار اب یہ زیادہ ہورہا ہے” سچ میں میری اکلوتی پیاری سی گردن ٹوٹ جاۓ گی…..”
بیٹا سب کی اکلوتی ہی ہوتی ہے’ تو کوئ انوکھا نہیں ہے…”
چھوڑدے سالے….’ اچھا… آئ ہیو این آئیڈیا’ بٹ فرسٹ آف آل’ لیو مائ نیک……” علی نے گردن چھوڑی…. یوشع سیدھا ہوا….. دائیں بائیں گردن ہلا کر اپنی گردن کو ریلیکس کیا…..
تم جانتے ہو یوشع’ تمھاری انگیجمنٹ کو لے کر میرے کتنے ارمان تھے…. یہ کرنا ‘ وہ کرنا….. وہ اب بھی خفا تھا…..
ہاں جانتا ہو’ تبھی “یوشع یوسفزئ یعنی کہ میں نے علی عمران کے دلی ارمانوں کو خیال رکھتے ہوۓ یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں المیرا خان کے ساتھ انگیجمنٹ دوبارہ کرو گا’ پھر جس نے جو دلی ارمان پورے کرنے ہیں’ دل کھول کر کرے’ دل کھول کر بھنگڑے ڈالے….” یوشع نے اترا اترا کر ہاتھوں کو ہوا میں لہرا لہرا کر بھرپور قسم کی ایکٹنگ کرتے ہوۓ کہا تھا…..
ہاہاہاہا یوشع تمھارا سچ میں کچھ نہیں ہوسکتا…..’
وہ تو واقعی نہیں ہوسکتا….
رنگ تو دکھا کیسی ہے؟؟؟؟
یہ دیکھ….
ماشااللّه اٹس سچ آ بیوٹیفل…..’
علی نے دل سے تعریف کی تھی…..
“بیوٹیفل تو ہوگی دادی نے اتنے پیار سے بنوائ ہے اور مہرو نے اس سے بھی زیادہ پیار سے پہنائ ہے…..”
“آئ ہوپ یوشع تم میری بہن کا بہت خیال رکھو گے’ اسے ہمیشہ خوش رکھو گے’ وہ بھلے ہی میری سگی بہن نہ ہو’ مگر وہ مجھے ماہی کی طرح عزیز ہے…..’
یوشع سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکا…..
“کبھی اس کی آنکھوں میں آنسوں مت آنے دینا…..”
یہ بات کہنےکی ضرورت نہیں تھی….’
ہممم جانتا ہوں مگر ایک بھائ کے ناطے کہہ رہا تھا….”
اور کچھ سالے صاحب….”
نہیں بس بہت ہے….’
یوسف صاحب لان میں آتے دکھائ دیے تھے….. پیچھے سندس(ملازمہ) بھی تھی…. ٹی ٹرالی کھینچتی ہوئ لارہی تھی…. گپ شپ مارتے ہوۓ چاۓ اور دیگر لوازمات سے لطف اندوز ہویا گیا اور پھر ایک بھرپور ڈنر کے بعد علی گھر کو روانہ ہوگیا……
*********
خان ولا میں بھی ڈنر سے فری ہوکر سب لاؤنج میں صوفوں پر بیٹھے تھے…..کوئ چاۓ’ کوئ کافی تو کوئ گرین ٹی سے لطف اندوز ہورہا تھا…. خان سنگل صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھاۓ کافی کا مگ پکڑے بیٹھے تھے…..
“امی جان آپ نے کچھ بات کرنی تھی اور میں نے سنا ہے آپ نے المیرا کی انگیجمنٹ کردی…..”
صحیح سنا ہے’ المیرا آجاۓ پھر بات کرتے ہیں….’ دادی نے چاۓ کا گھونٹ بھرتے کہا…. المیرا آئ…. آؤ بیٹا ادھر بیٹھو…. دادی نے المیرا کو اپنے ساتھ بیٹھایا….. وہ بھی خاموشی سے بیٹھ گئ…..
“میں نے ایک فیصلہ کیا ہے اور مجھے امید ہے کسی کو بھی میرے فیصلے سے کوئ اعتراض نہیں ہوگا…..”
“امی جان ہمیں بھلا کیوں اعتراض ہوگا آپکے کسی بھی فیصلے سے’ آپ اس گھر کی بڑی ہے آپ جو فیصلہ کرے گی سوچ سمجھ کر ہی کرے گی’ اور ہم سب کیلۓ بہتر ہی ہوگا…..” خان سیدھے ہوکر بیٹھے تھے…..
“تو پھر ٹھیک ہے’ میں چاہتی ہو اگلے ہفتے المیرا اور یوشع کی انگیجمنٹ کردی جاۓ’ ابھی تھوڑی دیر پہلے یوسف کی بھی کال آئ تھی’ وہ بھی یہی چاہتے ہیں’ وہ کہہ رہے تھے کہ یوشع انکی اکلوتی اولاد ہے’ وہ اپنے بچے کی ہر خوشی دھوم ھام سے منانا چاہتے ہیں’ ان کی بھی اور یوشع کی بھی سب کی یہی خواہش ہے کہ اگلے ہفتے یعنی جمعہ والے دن ان دونوں کی رسم کردی جاۓ…..”
“مجھے آپ کے فیصلے سے اعتراض ہے’ المیرا کی شادی یوشع سے نہیں ہوگی….” جب سے خاموش تماشائ بنی بیٹھی خدیجہ اب بولی تھی…..
“بس خدیجہ بہت ہوگیا’ تم اگر کچھ نہ ہی بولو تو بہتر ہوگا’ اگر تم نے اب دوبارہ کوئ اعتراض کیا تو میں تمھیں کچھ نہیں کہوں گی’ مگر یوشع تمھیں ضرور جواب دے گا’ تمھاری بھلائ اسی میں ہے کہ تم چپ رہو’ المیرا میری پوتی ہے تمھاری بیٹی نہیں’ المیرا کی شادی کہاں ہوگی کہاں نہیں اس کا فیصلہ بھی میں لوں گی تم نہیں’ اس کی زندگی کا ہر فیصلہ میں کرو گی تم نہیں’ جہاں جس چیز میں المیرا کی خوشی ہے’ اسی خوشی میں میری خوشی ہے’ اور کس اعتراض کی بات کررہی ہو تم’ میں تمھیں یاددہانی کروادیتی ہو کہ میں کل ان دونوں کی انگیجمنٹ کرچکی ہو’ اب دوبارہ اس لۓ ہوگی کہ سب بڑوں کی رضامندی ہے’ کسی کہ کچھ خواب ہے جو وہ پورے کرے گے’ یہ انگیجمنٹ اس لۓ ہورہی ہے تاکہ سب کو المیرا اور یوشع کے ریلیشن کا پتہ چل جاۓ…..”
دادی نے غصے میں ایک ایک لفظ کہا تھا….. خدیجہ کا چہرہ توہین کے مارے سرخ پڑنے لگا تھا…. آج تک دادی نے کبھی خدیجہ کے آگے کچھ بولنے کی ہمت نہیں کی تھی اور آج بولی تو اتنا’ آج تک اس گھر کے سارے فیصلے خدیجہ لیتی آئ تھی اور آج اسے سب کے سامنے کیسے چپ کروادیا…..
خدیجہ کو ایسے لگا جیسے کسی نے گال پہ زور کا طمانچہ سرمحفل ماردیا ہو….. یہاں تک بھی ٹھیک تھا مگر یوشع کی بھی دھمکی دی…..’ وہ غصے سے پیر پٹخ کر اٹھی تھی اور اپنے روم کی طرف بڑھ گئ تھی….. (وہ اب کچھ بول نہیں سکتی تھی کیونکہ اگر اس نے کچھ کہا تو یوشع نے ایک سیکنڈ نہیں لگانا خدیجہ کا راز سب کے سامنے فاش کرنے سے…. یاد رکھنا خدیجہ بیگم اگر دوبارہ کبھی المیرا کو کچھ کہا تو ایک منٹ نہیں لگاؤ گا تمھارے اس ناپاک راز سے پردہ اٹھا نے میں…..)
المیرا خاموش نظریں جھکائ بیٹھی تھی….
“خان میں فیصلہ کرچکی ہو’ اگلے جمعے المیرا کی منگنی کی رسم ادا کی جاۓ گی اور جسے اعتراض ہو وہ بھلے ہی رسم میں شامل نہ ہو…..” آخری بات خدیجہ کی پشت کو دیکھ کر کہی تھی….. خدیجہ نے بھی یہ الفاظ سنے مگر اب کچھ بولنا نہیں تھا…. کیونکہ یوشع جو بولتا ہے وہ کرکے دکھاتا ہے……
“خان چپ تھے’ شاید کچھ سوچ رہے تھے….’ اوکے امی جان آپ کا یہی فیصلہ ہے تو مجھے بھی کوئ اعتراض نہیں ہے’ جیسا آپ چاہے گی ویسا ہی ہوگا’ میں سب کے دعوت نامہ بھیجوادوں گا اگلے جمعہ کا…..” المیرا نے نگاہ اٹھا کر خان پہ ڈالی عین اسی وقت خان نے بھی المیرا کو دیکھا تھا….. المیرا نے پھر نظریں جھکالی….. (المیرا آپ سے بہت محبت کرتی ہے…. وہ آپ کی محبت کیلۓ ترستی ہے…. ایک بار اسے اپنے سینے سے لگالے وہ خوش ہوجاۓ گی) خان کو کل یوشع کی کہی باتیں یاد آئ…. دل نے کہا بھی کہ اٹھو اور اسے اپنے سینے سے لگالو…. مگر ان کے اٹھنے سے پہلے المیرا اٹھ کھڑی ہوئ….
دادی میں روم میں جارہی ہو ریسٹ کرنے….’ دادی نے المیرا کی پیشانی چومی اور وہ وہاں سے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئ…. خان وہی بیٹھے اسے جاتا دیکھتے رہے….. (کیا المیرا سچ میں مجھ سے دور ہوگئ ہے….) خود سے پوچھا… انہیں تو یاد ہی نہیں کہ لاسٹ ٹائم المیرا کو کب اپنے سینے سے لگایا تھا….یا شاید کبھی سینے سے لگایا ہی نہیں….. دل میں شدید ٹیس اٹھی تھی… المیرا آنکھوں سے اوجھل ہوچکی تھی…. مگر وہ اب بھی اس کے روم کے بند دروازے کو دیکھ رہے تھے…. انہوں نے نگاہ ہٹائ…. دادی بھی اپنے روم میں جارہی تھی…. وہ وہیں صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کرکے بیٹھ گۓ….. بند آنکھوں کے پیچھے ماضی کی یادیں گھومنے لگی تھی…..
_______________________
_______جاری ہے______
