Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 52

حال:
بس کردے بھائ بس خدا کے واسطے چپ ہوجاۓ مجھ میں مزید سننے کی ہمت نہیں ہے’ اب بس کردے……”
وہ زمین پر بیٹھی کانوں پر ہاتھ رکھے بری طرح رورہی تھی….. علی کی بھی آنکھیں نم تھی……. برا حال تو ایمان کا بھی تھا….. اس کی بھی آنکھوں سے آنسو متواتر بہہ رہے تھے اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ المیرا کی قسمت پر رشک کرے یا اس کی بدنصیبی پر افسوس کرے’ المیرا کو تسلی دے یا اس کو رونے دے……. وہ ان سب کو نہیں جانتی تھی مگر اس وقت یوشع کی کہانی سن کر اس کو ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ اس کے اپنے دکھ ہو……. علی گھٹنوں کے بل المیرا کے سامنے بیٹھا……
اتنی جلدی بس ہوگئ المیرا’ ابھی تو کہانی باقی رہتی ہے وہ بھی سنو آگے کیا ہوا تھا…..” المیرا مسلسل نفی میں گردن ہلارہی تھی…..
نہیں بھائ پلیز……” علی نے بھی افسوس سے نفی میں گردن ہلائ……
اور پھر جانتی ہو کیا ہوا ماہی کے جانے کے بعد یوشع نے خود کو روم میں قید کرلیا تھا…. ایک بار پھر تنہائیاں اس پر حاوی ہوگئ تھی…. میں کتنی دفع میرہادی کو یوشع کے گھر لے کر گیا کہ وہ ایک بار تو اپنے بیٹے کو دیکھ لے مگر اس نے کبھی ہادی کو نہیں دیکھا یا تو وہ گھر سے باہر ہوتا یا تو روم میں بند رہتا….. بس صرف انکل تھے جو ہادی کا پوچھتے رہتے روز گھر آکر ہادی کو دیکھا کرتے تھے….. مگر یوشع نے کبھی نہیں دیکھا اور پھر جانتی ہو یوشع نے اپنے بیٹے کو کب دیکھا جب وہ پورے ایک سال بعد میرے گھر آیا تھا وہ میرے روم میں ہی بیٹھا تھا……
ماضی:
یوشع علی کے روم میں بیڈ پر بیٹھا تھا…. ساتھ زاور بھی بیڈ پر سورہا تھا…. ابھی علی روم میں نہیں تھا اور نہ ہی زینب….. اس نے آنکھیں بند کرکے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگالی….. کچھ پل گزرے تھے اس کے کانوں میں بچے کے رونے کی آوازیں آنے لگی تھی…. اس نے آنکھیں کھولی زاور کو دیکھا…. مگر وہ تو سورہا تھا….. ایک بار پھر بچے کے رونے کہ آواز اس کے کانوں تک پہنچی تھی…. وہ بچہ زور زور سے رورہا تھا….. یوشع کے دل کو کچھ ہونے لگا تھا….. وہ بیڈ سے اٹھ کر جانے ہی لگا تھا کہ اچانک بچے کے رونے کی آوازیں آنا بند ہوگئ….. اب اس کہ جگہہ اس کی کھلکھلاہٹوں کی آوازیں گونج رہی تھی….. یوشع نے سکون کا سانس خارج کیا…. کچھ ہی دیر بعد علی بھی آگیا تھا اس نے تھوڑی بہت علی سے باتیں کی…. اور پھر وہ جانے کیلۓ اٹھ کھڑا ہوا تھا…..
یوشع آج بھی ہادی کو نہیں دیکھو گے کیا؟؟؟ یوشع کے قدم رک گۓ تھے…. مگر پھر وہ نفی میں گردن ہلاتا باہر نکل گیا….. ابھی وہ لاؤنج سے باہر نکلنے ہی لگا تھا کہ ایک سالہ بچے نے اس کے پیروں کو تھام لیا تھا……. وہ اس کے قدموں میں لیٹ کر اس سے کھیلنے کی کوشش کررہا تھا….. یوشع نے نگاہیں زمین کی طرف کی تو وہ بچہ اس کی پینٹ کو پکڑتا کھڑا ہونے کی کوشش کررہا تھا…..
با بابا ببابا……” اس بچے نے پکارا…… یوشع کا سخت دل نرم پڑ ہی گیا تھا…..
بابا بابا……” بچہ مسلسل اس کو پکارتا یوشع کی گود میں آنے کیلۓ مچلنے لگا تھا….. وہ اس کی پینٹ کو پکڑتا اس پر چڑھنے کی کوشش کررہا تھا….. یوشع نے نیچے جھک کر اس بچے کو گود میں اٹھالیا…….. پیچھے کھڑے علی اور زینب نے بھی یہ منظر دیکھا تھا…..
میرا بیٹا میرہادی……” یوشع کی آنکھوں میں آنسو آۓ تھے……
ہادی ایک بار پھر بابا کرتا یوشع کے بالوں کو کھینچ گیا تھا….. یوشع کے چہرے پر محبت بھری مسکراہٹ آئ…..
شیطان…..” اور پھر یوشع اسکو دیوانہ وار چومنے لگا تھا….. کبھی اس کا ماتھا چومتا کبھی اس کے گلابی گالوں کو کبھی اس کی آنکھوں کو کبھی اس کے ہاتھوں کو….. یوشع کی اتنی شدت ہادی برداشت نہیں کرپایا تھا وہ رونے لگا تھا…..
اففف روتے نہیں بری بات’ چپ میرا بیٹا…..” یوشع نے خود اس کو چپ کروایا تھا….. تھوڑی بعد ہادی ایک بار پھر ہنسنے لگا تھا…. یوشع نے ایک بار پھر ہادی کے گالوں کو اس کے ماتھے کو چوما تھا….. زینب کی آنکھیں نم ہوگئ تھی….. علی نے بھی زینب کے کندھے پر ہاتھ رکھا…..
دیر آۓ درست آۓ یوشع یوسفزئ…..” علی نے اس کو غیرت دلوانا چاہی….. یوشع بس مسکرایا…….
اور پھر اس کے بعد یوشع ہادی کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے آیا تھا…. یوسف صاحب بھی ہادی کو دیکھ کر خوش تھے…… اب ہادی کا خیال یوشع اور یوسف صاحب مل کر رکھتے تھے تو کبھی زینب رکھتی تھی…. کیونکہ ابھی ہادی صرف ایک سال کا تھا اور اس کو کسی کی ضرورت تھی جو اس کا خیال ماؤں کی طرح رکھے….. یوشع نے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ہادی کو سلایا تھا…. وہ بالکونی میں آکر کھڑا ہوگیا…. چاند کی روشنی ہر سو پھیلی تھی…..
ٹھینک یو ماہی اتنا خوبصورت تحفہ دے کر جانے کیلۓ’ میں ہی شاید بدنصیب تھا جو اپنے بیٹے کو ایک سال اپنے سے دور رکھا’ جانتی ہو ہمارا بیٹا ہم دونوں پر ہے’ اس کا ہئیر کلر بالکل تمھارے بالوں جیسا ہے’ اور اس کی آنکھیں’ اس کا ڈمپل بالکل میرے جیسا’ ٹھینک یو اپنی ایک خوبصورت یاد میرے پاس چھوڑ کر جانے کیلۓ…… صحیح کہتے ہیں شاید وہ رب اپنے بندوں کو کبھی اکیلا نہیں کرتا ایک چیز اگر چھینتا ہے تو اس کے بدلے دوسری چیز عطا بھی کرتا ہے…. بس ہمیں ہی نظر نہیں آتی….. اس نے المیرا کو چھین کر تمھارا ساتھ دیا اور اب تمھیں چھین کر مجھے ہادی دے دیا….. پرومس کرتا ہو ماہی ہادی کا ہمیشہ خیال رکھو گا…..
نہیں بھولا میں تمھاری اس دن کی بات جب تم نے جاتے جاتے کان میں سرگوشی کی تھی کہ ہادی کو کبھی میری یاد مت آنے دینا’ وہ اگر مجھے یاد کرے تو اچھے لفظوں میں کرے’ میں ہادی کو خوش رکھو گا….. ٹھینک یو…..


حال:
المیرا کے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گود میں گررہے تھے…..
اور پھر جانتی ہو المیرا کیا ہوا پورے تین سال بعد جب ہادی تین سال کا ہوگیا تھا تو انکل بھی اس دنیا سے چلے گۓ……” المیرا نے حیرت زدہ آنکھوں سے علی کو دیکھا کہ شاید اس نے جو سنا ہے غلط سنا ہے…. علی نے اثبات میں سر ہلایا….
انکل بھی اس دنیا میں نہیں رہے المیرا وہ بھی ہم سب سے دور جاچکے ہیں’ کاش کہ تم انکل کی موت کے وقت یوشع کی حالت دیکھ سکتی تو تمہیں اس پر ترس آتا وہ کس طرح رورہا تھا….. سب کچھ ختم ہوگیا اس کا’ اب بس ہادی ہے اس کے پاس’ جس کو وہ کبھی نہیں کھونا چاہتا’ انکل کی موت کے ڈیڑھ مہینے بعد یوشع ہادی کو لے کر یہاں شفٹ ہوگیا تھا’ میں نے بہت روکا اس کو کہ مت جاؤ’ مگر جانتی ہو اس نے کیا کہا کہ نہیں علی اب اس شہر سے نفرت ہورہی ہے مجھے اس شہر میں میرے سب اپنے مجھ سے بچھڑگۓ اب نہیں رہنا یہاں بس لاہور چلاجاؤ گا ہمیشہ کیلۓ ہادی کے ساتھ وہی ایک اچھی زندگی گزاروں گا’ مگر یہاں آکر بھی وہ اکیلا تھا’ یہاں بھی انکل کی یادیں اس کو کاٹ کھانے کو دوڑ رہی تھی’ وہ بہت اکیلا ہوچکا ہے بہت زیادہ’ مگر پھر بھی کسی سے کوئ گلہ نہیں کرتا’ چپ رہتا ہے ہنسنا مسکرانا چھوڑ دیا ہے اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ دیکھنے کیلۓ تو کبھی کبھی میں بھی ترس جاتا ہو کہ کب وہ دل سے مسکراۓ’ ہمارا یوشع وہ یوشع نہیں رہا ہنستا مسکراتا یہ یوشع سنجیدہ رہتا ہےجو اگر ہنستا ہے تو صرف ایک مصنوئ سی مسکراہٹ’ وہ کبھی دل سے نہیں ہنستا’ اسنے سب کو کھودیا پندرہ سال کا تھا جب اس نے آنٹی کو کھویا تھا’ اس کے بعد تم اس کو چھوڑ کر چلی گئ’ پھر ماہی بھی چلی گئ’ اور پھر انکل’ میری تو صرف ایک بہن تھی’ مگر اس کے تو کئ اپنے تھے’ مگر اس کی حالت میں تمھیں کیوں بتارہا ہو’ تمھیں تو اب اس سے محبت نہیں ہے نہ……..” علی نے اپنی جیب سے وہ لفافہ نکالا…. المیرا کا ہاتھ پکڑ کر اس کے ہاتھ میں وہ لفافہ رکھ دیا…..
ماہی کا لکھا گیا خط’ پڑھ لو……” المیرا نے بھیگی آنکھوں سے ہاتھ میں پکڑے اس لفافے کو دیکھا…..
پڑھ لو تمھارے کام کا ہے یہ…..” المیرا نے وہ لفافہ کھولا اور پھر اس کو پڑھنے لگی……. اسنے شروع کی باتیں پڑھی جو اس نے علی سے اس خط میں کی تھی……
میں جانتی ہو یوشع آپکو کبھی حقیقت نہیں بتاۓ گے’ اس لۓ میں آج سارا سچ لکھنے جارہی ہو’ میں نہیں چاہتی کہ یوشع کا مقام آپکی نظروں میں گرا رہے’ کیونکہ آپ دونوں بچپن سے ایک ساتھ ہے’ آپ جانتے ہیں نہ بھائ میں شروع سے بہت ضدی رہی ہو’ جو چیز پسند آجاتی تھی اس کو ہر حال میں اپنا بناکر رہتی تھی پھر چاہے وہ چیز میں کسی بھی طرح حاصل کرو’ آپ ہمیشہ میرا ساتھ دیتے تھے’ بابا ماما کتنا ڈانٹتے تھے آپ کو کہ آپ مجھے بگاڑ رہے ہیں مگر آپ ان کی نہیں سنتے تھے بلکہ آپ کہتے تھے کہ اپنی گڑیا کی ہر خواہش پوری کرو گا’ اور اب ایسا ہی میں نے یوشع کے معاملے میں کیا تھا میں بھول گئ تھی کہ چیز اور انسان میں بہت فرق ہوتا ہے’ چیزوں کو تو زبردستی ضد کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے مگر ایک جیتے جاگتے انسان کو نہیں’ اور میں نے ضد میں آکر ایک انسان کو حاصل کرنے کی کوشش کی’ جو میرا ہوکر بھی میرا نہ ہوا’ میں نے بچپن سے بس یوشع کو چاہا ہے’ آپ تو جانتے ہیں بھائ کہ آپکی گڑیا کبھی کسی غیر محرم کے قریب نہیں گئ آپکی گڑیا بس آپکے اور یوشع کے قریب رہی ہے’ میری یوشع سے پسندیدگی مجھے نہیں معلوم تھی کہ کب محبت میں بدلی مجھے لگتا تھا کہ وہ مجھے آسانی سے مل جاۓ گا مگر جب المیرا زندگی میں آئ تو جیسے سب کچھ ہاتھ سے نکل گیا تھا’ مجھے لگتا تھا یوشع مجھ سے دور ہوجاۓ گا اور میں ایسا کیسے ہونے دے سکتی تھی بچپن سے میں یوشع کے ساتھ رہی ہو اور کوئ اور آکر یوشع کو کیسے مجھ سے اتنی آسانی سے چھین سکتا ہے یہ چیز میں برداشت نہیں کرسکتی تھی’ مجھے لگتا تھا کہ یوشع پر بس میرا حق ہے ہمارے درمیان کوئ المیرا نہیں آنی چاہیے’ مجھے المیرا سے شدید نفرت تھی مگر اب اسکی قسمت پر رشک آتا ہے’ میں نے بہت کوشش کی کہ شاید یوشع میرے پاس آجاۓ مگر اس نے ہر بار مجھے ٹھکرایا’ جب میرے بس میں کچھ نہیں رہا تو میں نے اس رات ایک کھیل کھیلا تھا یوشع کو اپنا بنانے کیلۓ’ آپ کو یاد ہے بھائ اس رات آپ جا نہیں رہے تھے کہ تم اکیلی گھر میں کیسے رہو گی ماما بابا بھی نہیں ہے’ مگر میں نے کتنی ضد کرکے آپکو بھیجا تھا کہ نہیں آپ جاۓ کیونکہ آپ کا گھر پر موجود ہونا میرا کھیل بگاڑ سکتا تھا….. آپ کے جانے کے ایک گھنٹے بعد یوشع آیا تھا گھر’ میں روم میں ہی بیٹھی تھی’ مجھے معلوم تھا وہ سیدھا روم میں آۓ گا اور ایسا ہی ہوا تھا وہ آیا تھا ہم نے بات چیت کی’ جب یوشع کو معلوم ہوا کہ گھر پر کوئ نہیں ہے تو وہ فوراً جانے لگا تھا اپنے گھر کہ ہم بعد میں بات کرلے گے مگر میں نے اسے روک لیا تھا کہ پلیز بیٹھ جاؤ’ بہت مشکلوں کے بعد وہ بیٹھ گیا تھا میں اس کیلۓ کولڈ ڈرنک لینے گئ تھی اور اس کی کولڈ ڈرنک میں میں نے دو تین نشے کی ڈوز ملادی تھی جس سے اس کا سر گھومنے لگا تھا…. وہ تو پھر بھی وہاں سے جانے لگا تھا کہ مجھ سے دور رہو مگر اس کا نشہ بڑھتا ہی جارہا تھا اور میں یہی چاہتی تھی میں خود اس کو بیڈ تک لائ تھی’ یہ سچ ہے کہ وہ مجھ پر گرا تھا اس کے لب بھی میری گردن پر تھے’ مگر بھائ وہ اسی وقت بےہوش ہوگۓ تھے انہیں تو پتا ہی نہیں تھا کہ وہ کب بےہوش ہوۓ کب نہیں’ میں نے بہت مشکلوں سے ان کو بیڈ پر سیدھا کیا تھا’ ان کی شرٹ بھی اتاردی تھی تاکہ آپ سب کا شک یوشع پر جاۓ’ میں تو رات کو روم سے چلی گئ تھی اور صبح کو جب یوشع کو ہوش آنے والا تھا جب روم میں واپس آئ تھی اور زمین پر بیٹھ کر رونا شروع کردیا یوشع جب اٹھا تو اس کو بھی کچھ نہیں معلوم تھا ان کا سر تو اس وقت بھی گھوم رہا تھا پھر آپ سب آگۓ اور جیسا جیسا میں چاہتی تھی سب ویسا ویسا ہوتا گیا’ میں یوشع کو خود سے دور نہیں جانے دے سکتی تھی’ کیونکہ میں نے ان سے عشق کیا ہے بھائ’ میں کیسے ان کو کسی اور کے نکاح میں دیکھ سکتی تھی’ بھائ آپ کی گڑیا اس رات پاک تھی’ ہمارے درمیان کچھ ہوا ہوتا تو یوشع کو کچھ یاد ہوتا’ ہمارے درمیان کچھ نہیں ہوا تھا اور اس کے بعد وہ رپورٹس بھی جھوٹی تھی’ میں وہاں ایک نرس کے پاس گئ تھی میں نے پیسے دے کر اس کو خرید لیا تھا اور رپورٹس میں ردوبدل کرنے کیلۓ کہا تھا اس نے ویسا ہی کیا جیسے میں نے کہا تھا رپورٹس نے مجھے صحیح اور یوشع کو غلط ثابت کردیا تھا’ آپ نے کہا تھا نہ بھائ کہ میں کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گی ایسا ہی ہوا تھا بھائ میں کبھی یوشع کے ساتھ خوش نہیں رہ سکی’ وہ میرے نکاح میں تو تھے مگر میرے قریب کبھی نہیں آۓ ہمیشہ المیرا کو یاد کرتے روتے رہے’ میں نے یوشع کو بہت دکھ دیے ہیں’ یوشع واقعی غصے کے بہت تیز ہے’ وہ غصے میں مجھ پر ہاتھ تک اٹھادیتے تھے’ مجھے دھتکارتے رہتے تھے’ مجھے کبھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے تھے’ ان آنکھوں میں سواۓ نفرت کے کچھ نہیں تھا’ یوشع نے کبھی مجھ سے محبت نہیں کی’ دن گزر رہے تھے بھائ اس رات وہ جب گھر آۓ تو وہ نشے میں تھے’ انہوں نے ڈرنک کی تھی اور آپ کو معلوم ہے بھائ اس رات ان کو مجھ میں المیرا دکھ رہی تھی’ انہوں نے مجھے اپنایا بھی تو المیرا سمجھ کر’ مگر یہ بات میں نے ان کو نہیں بتائ’ جب میں پہلی بار ڈاکٹر کے گئ تھی تب وہاں مجھے معلوم ہوا کہ آپکی گڑیا کو تو کینسر ہے اور وہ تو کبھی بھی اس دنیا سے جاسکتی ہے ‘ اپنی بیماری کا سن کر میں بہت ٹوٹ گئ تھی بھائ’اس وقت یوشع کی باتیں ذہن میں گونجنے لگی تھی آپ جانتے ہیں بھائ یوشع نے مجھے کیا کہا تھا کہ میں مرجاؤ تو ان کی زندگی میں سکون ہوگا اور دیکھے بھائ اب آپکی گڑیا واقعی مررہی ہے’ مجھے یوشع کی المیرا کی آہ لگ گئ ہے بھائ’ آپ نے کہا تھا نہ کہ کسی کی خوشی چھین کر کوئ خوش نہیں رہ پایا میں بھی کبھی خوش نہیں رہ پائ’ میں نے یوشع المیرا کی خوشی چھینی تھی بھائ تو مجھے کیسے خوشیاں مل سکتی تھی’ میں کیسے خوش رہ سکتی تھی’ یوشع تو ہر وقت المیرا کو یاد کرتے رہتے تھے’ یوشع نے مجھے عشق کا صحیح مطلب بتایا کہ عشق کیسے کرتے ہیں’ عشق میں شرک نہیں کرتے’ محبت میں محبوب کی خوشیاں نہیں چھینی جاتی’ محبوب کو اس کی خوشیاں دی جاتی ہے اور میں نے یوشع کی ہر خوشی ان سے چھین لی’ ان کی المیرا کو ان سے دور کردیا’ یوشع کی خوشی صرف المیرا ہے’ وہ بس اسی کے ساتھ خوش رہ سکتے ہیں’ میں خود کو خوش قسمت سمجھتی تھی کہ مجھے میرا عشق مل گیا’ مگر یوشع مجھے مل کر بھی کبھی نہیں ملے’ کبھی ان کی محبت مجھے نہیں مل پائ’ انہوں نے مجھ پر ترس تو کھالیا مگر دل میں جگہہ کبھی نہیں دی’ آپ جانتے ہیں بھائ یوشع کو احساس ہوگیا تھا انہوں نے جو کیا غلط کیا مگر یوشع نے آنے میں دیر کردی بھائ بہت زیادہ’ کہ اب میں ان سے دور جارہی ہو’ آپ جانتے ہیں بھائ آپکی بہن بہت تکلیف میں ہے بہت زیادہ ‘ یہ بیماری مجھے اندر سے دن بہ دن ختم کرتی جارہی ہے’ اب بھی مجھے چکر آرہے ہیں’ مجھ سے لکھا بھی نہیں جارہا مگر مجھے نہیں معلوم میرے پاس اب کتنے دن ہے’ میں اپنے بچے کو بھی اس دنیا میں لاپاؤ گی یا نہیں مگر میں بہت دعا کرتی ہو اللّه مجھے اتنی زندگی دے دیں تاکہ میں جاتے جاتے یوشع کو ایک خوشی دے جاؤ’ جس کے بعد یوشع کو اکیلا پن محسوس نہ ہو ان کے پاس ان کا بیٹا یو’ وہ میرے جانے کے بعد بہت اکیلے ہوجاۓ گے بھائ’ مگر مجھ سے پرومس کرو آپ یوشع کا خیال رکھے گے اس کو کبھی تنہا نہیں کرے گے’ وہ تنہا ہوجاۓ گے مگر کسی کو کچھ نہیں بتاۓ گے’ اب تو ان کے پاس المیرا بھی نہیں رہی ہے’ آپ مجھ سے وعدہ کرے بھائ آپ یوشع کی شادی المیرا سے کرواۓ گے’ یوشع کی شادی المیرا سے کروادینا بھائ’ اور آپ المیرا سے کہنا کہ وہ مجھے معاف کردے میں نے اس کی خوشیوں کو آگ لگائ تھی’ اس سے کہنا بھائ مجھے معاف کردے تو کیا پتا میرا اللّه بھی مجھے معاف کردے اور میری بےچین روح کو تھوڑا سکون مل جاۓ’ مجھے قبر میں سکون مل جاۓ’ المیرا سے کہنا بھائ وہ یوشع اور ہادی کا خیال رکھے’ بس بھائ اب تو لکھا بھی نہیں جارہا’ اب ہمت نہیں ہورہی آگے لکھنے کی’ مجھے بہت تکلیف ہے بہت زیادہ’ مگر میں کسی کو کچھ نہیں بتاسکتی کیونکہ یہ سب میں اپنے لۓ طے کرچکی میری یہی سزا ہے’ میرے جانے سے آپ سب کی زندگی میں خوشیاں اور سکون آجاۓ گا’ آپ سب ہمیشہ خوش رہے آپ سب بہت اچھے ہیں’ بس بری تو ایک میں ہی تھی بھائ بس صرف کچھ دن ہے آپ سب کی زندگی سے دور چلی جاؤ گی’ میں ہاتھ جوڑتی ہو بھائ بس آپ کبھی اپنی گڑیا سے کبھی نفرت مت کرنا’ بھائ مجھے سمجھ آگیا بھائ صرف عشق کو پالینا ہی اصل جیت نہیں ہوتی’ کبھی عشق کو ہاردینے میں بھی جیت ہے’ المیرا نے اپنے عشق کو ہاردیا وہ سب کے دل میں ہے’ اور میں جس نے عشق کو تو پالیا مگر سب کے دلوں سے اترگئ’ یوشع کی نفرت یوشع کی بےرخی مجھے جیتے جی ویسے بھی ماررہی ہے’ اپنے محبوب کی بےرخی کو برداشت کرنا آسان نہیں ہوتا بھائ’ اس لۓ میں فیصلہ کرچکی تھی بھائ کہ میرا اب ان کی زندگی سے دور جانا ہی بہتر ہے’ اپنی گڑیا کو معاف کردینا بھائ میں ہاتھ جوڑتی ہو آپ سب کے سامنے’ المیرا سے کہنا بس مجھے معاف کردے’ میں اس کی گنہگار ہو’ وہ مجھے معاف کردے’ یوشع کو بھی کہنا مجھے کبھی غلط لفظوں میں یاد نہ کرے’ میں اپنے کۓ پر بہت شرمندہ ہو’ میں نے جو کیا أنا میں آکر کیا تھا’ اور أنا انسان کو کہی کا نہیں چھوڑتی مجھے سمجھ آگئ’ میں نے ہمیشہ سے اپنی زندگی میں صرف جیت حاصل کی ہے’ کبھی ہار نہیں’ اور پھر میں کیسے المیرا کو جیتنے دے سکتی تھی’ میں نے یوشع کواپنا بنالیا’ میں نے بہت غلط کیا کہ یوشع سے آنکھ ملانے کے قابل بھی نہیں ہو’ یوشع میرے ساتھ جو کیا صحیح کیا’ ان کا حق بنتا تھا یہ سب کرنا’ میں نے ایک انسان پر تہمت لگائ تھی سب کی نظروں میں یوشع کو گرادیا’ میں تو یوشع کی معافی کے بھی قابل نہیں ہو’ بھائ یوشع سے بھی کہنا کہ مجھے معاف کردے’ میں سب کی گنہگار ہو’ المیرا سے کہنا مجھے معاف کردے پلیز مجھے معاف کردے’ بس ایک خواہش پوری کردینا المیرا اور یوشع کو ایک کردینا’ وہ دونوں ایک دوسرے کیلۓ ہی بنے ہیں’ یوشع کو انکا پیار لوٹا دینا’ کسی بھی طرح المیرا اور یوشع کو ملادینا’ بس میں یہی چاہتی ہو’ اپنا خیال رکھنا بھائ’ سب کا خیال رکھنا…. خدا حافظ….. فقط آپکی گڑیا……
***

جاری ہے_