No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
Visal-e-Javedan وصال جاوداں
شام کا وقت ہوگیا تھا…. سات سے اوپر کا کچھ ٹائم…. خان ولا میں خدیجہ بیگم اور خان صاحب اس بڑے سے لاؤنج میں صوفے پر بیٹھے تھے….. المیرا اور دادی دونوں اپنے روم میں تھیں…… جب یوشع انکل آنٹی پکارتا لاؤنج میں داخل ہوا تھا…..
“تمھارا دماغ خراب ہوگیا ہے’ ایسے کیوں چینخ رہے ہو اور تمھاری ہمت کیسے ہوئ گھر میں داخل ہونے کی…..” خدیجہ بیگم غصے سے کہتی صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئ…….’
“میری ہمت کی بات نہ ہی کرے تو بہتر ہوگا’ کیونکہ ابھی آپ یوشع یوسفزئ کو جانتی نہیں ہے کہ وہ کون ہے؟؟ اس میں کتنی ہمت ہے اور وہ کیا کیا کرسکتا ہے…..” یوشع نے بھی انگلی اٹھا کر ان سے تیز اور اونچی آواز میں غصے سے لال ہوتے چہرے کے ساتھ ایک ایک لفظ چبا کر کہا تھا…..’
شوروغل کی آوازیں سن کر دادی بھی روم سے نکل آئ تھی…. المیرا نے بھی روم سے نکل کر ریلنگ سے نیچے دیکھا…. آنکھوں میں حیرانگی در آئ تھی….. اپنی ماں کو دیکھا جو غصے سے کچھ کہنے لگی تھی….. ان کے بولنے سے پہلے یوشع کہہ کر المیرا نے پکارا…. سب نے اوپر ریلنگ پر کھڑی المیرا کو دیکھا…. وہ اب سیڑھیوں سے ہوتی نیچے آرہی تھی….. یوشع کے قریب پہنچی…. خان بھی اپنی جگہہ سے اٹھ کھڑے ہوۓ تھے….. یوشع کا ہاتھ پکڑا…..
“یوشع کیوں آۓ ہو یہاں؟؟؟ پلیز جاؤ’ کوئ جھگڑا نہیں…..” اس نے نم آنکھوں سے کہا……’
یوشع نے تاسف سے اسے دیکھا….وہ صرف اس کے لۓ یہاں آیا تھا اور وہی اسے جانے کا کہہ رہی ہے……
یوشع پلیز جاؤ” کہنی تھام کر کہا….. وہ اس وقت بلیک شوار قمیض میں تھا… اس کی گوری رنگت پر بلیک کلر بہت جچ رہا تھا…. وہ اس وقت کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا…..
“المیرا تمھارے پاس صرف ایک منٹ ہے’ اس آدمی کو میرے گھر سے نکالو’ میں ایک منٹ بھی اور اسے مزید یہاں برداشت نہیں کرسکتی…..” خدیجہ نے غصے سے کہا…. یوشع خدیجہ کو غصے سے اور المیرا اس کی کہنی تھامے کھڑی یوشع کو نم آنکھوں سے غصے سے اس کے لال ہوتے چہرے کو دیکھ رہی تھی……
وہ کہہ کر جانے لگی تھی…..
“ون منٹ خدیجہ بیگم’ وہ رکی…..
“یوشع پلیز جاؤ”
شٹ اپ…. المیرا ڈر کر دو قدم پیچھے ہٹی…..
آج پھر یوشع نے اسے ڈانٹ دیا تھا…. اب کہ وہ نرمی سے بولا تھا…..
“میں پیار سے کہہ رہا ہو’ درمیان میں مت بولنا’ ورنہ مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا….” اور اب المیرا میں ہمت تھی بھی نہیں کہ کچھ بولے…..’
اور آپ آنٹی’ آپ کو ذرا بھی شرم نہیں آتی’ آپ خود ایک عورت ہے اور یہ جانتے ہوۓ بھی کہ ایک عورت کیلۓ اس کی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا’ پھر بھی آپ نے المیرا کے کردار پر انگلی اٹھائ’ ایک عورت اپنی جان سے تو کھیل جاۓ گی مگر کسی کو اپنی عزت کے ساتھ نہیں کھیلنے دے گی’ اور یہ…
المیرا کو کہنی سے پکڑ کر اپنے ساتھ کھڑا کیا…..’
آپ نے اس کے کردار کو داغدار کردیا’ کیا بگاڑا ہے اس نے آپ کا’ جو آپ اس سے اتنی نفرت کرتی ہے’ اس نے کبھی آپ کو کچھ کہاں تک نہیں ‘ کبھی آپ سے کوئ گلہ نہیں کیا’ آپ کے دل میں اتنی نفرت ‘ اتنا زہر کیوں؟؟
“میں یوشع یوسفزئ’ اپنے سینے پر انگلی رکھی’ اس کے پاک دامن ہونے کہ گواہی دوں گا’ اگر ساری دنیا بھی میرے سامنے آکر مجھے کہے گی نہ کہ المیرا بدکردار ہے تو کبھی کسی کی بات کا یقین نہیں کروں گا…..”
المیرا آنسوں بھری آنکھوں سے بس یک ٹک یوشع کا چہرہ دیکھ رہی تھی’ اسے آج احساس ہوگیا تھا اگر اس ظالم بھری دنیا میں کوئ المیرا کا اپنا ہے تو وہ صرف یوشع ہے’ جو اس کے لۓ اس دنیا سے لڑ سکتا ہے……’
وہ کہہ رہا تھا اس کا کردار ‘ اس کے دل’ اسکی روح کا طرح پاک ہے…… میں اس کے بارے میں وہ سب جانتا ہو جو اس نے ہمیشہ چاہا کہ وہ صرف اپنے بابا کو بتاۓ’ اس نے مجھ اجنبی کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کیا تھا آپ سب کے ہوتے ہوۓ بھی….. اگر آج کے بعد المیرا کو کسی نے کچھ بھی کہا یا اس کے کردار پر انگلی اٹھائ یا اس کی آنکھوں میں آپ میں سے کسی کی بھی وجہ سے آنسوں آۓ تو یاد رکھنا آپ سب یوشع یوسفزئ کو جانتے نہیں ہے’ میں وہ کروں گا جو کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا….’ انگہشت شہادت اٹھا کر کہا….. یاد رکھنا میں المیرا سے محبت کرتا ہو اور شادی بھی کروں گا پھر اس میں آپ سب کی رضا شامل ہو یا نہ ہو’ المیرا صرف میری ہے’ یاد رکھئیے گا…” خان کو دیکھ کر کہا’ جو پرسکون سے کھڑے یوشع کی باتیں سن رہے تھے اور اس کے برعکس خدیجہ بیگم اتنے ہی غصے میں لال بھبھوکے چہرے کے ساتھ کھڑی تھی…..’
“بس بہت ہوا تمھارا ڈرامہ….” گارڈز ‘ گارڈز….
جی میڈم….
“ان صاحب کو ذرا عزت کے ساتھ گیٹ تک چھوڑ کر آؤں….”
گارڈ نے یوشع کو دیکھا…..
“تم جاؤ یہاں سے….’ خان نے گارڈ کو واپس بھیجا….
خان یہ کیا….. ہاتھ کے اشارے سے انہیں کچھ بھی کہنے سے روکا…..’
ہوگیا تمھارا یا کچھ اور کہنا باقی ہے….”
میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا….. بس یاد رکھئیے گا آئندہ اگر المیرا کو کچھ کہا تو بہت برا ہوگا….’
“ایک دفعہ نہیں ہزار دفعہ کہوں گی یہ لڑکی بدکردار ہے”
اور یہاں پہ یوشع کی بس ہوئ تھی…. ٹیبل سے واس اٹھا کر غصے سے زمین پہ پھینکا تھا…. لاؤنج میں کانچ کے ٹوٹنے کی آواز گونجی….. المیرا ڈر کر دو قدم پیچھے ہٹی….. خان اپنی جگہہ پر ویسے ہی پرسکون سے کھڑے تھے….. دادی بھی تھوڑی بہت پرسکون تھی….
“بس بہت ہوگیا….. یوشع نے کہا…. آنکھیں لال انگارہ ہورہی تھی….. جتنی عزت دینی تھی دے دی….. (وہ غصے میں بھی آپ کرکے بات کرنا نہیں بھولا تھا’ ساری اس کے والدین کی ہی تو تربیت تھی’ اس کی والدہ کی جنہوں نے ہمیشہ عورتوں کی عزت کرنا سیکھائ تھی)
خدیجہ بیگم مجھے لگ رہا ہے تمھیں اپنی عزت پیاری نہیں ہے’ چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئ تھی….. (اب ساری تربیت اس نے ایک سائڈ پر رکھ دی تھی)
“آپ چاہتی ہے میں یہاں آپ کے وہ راز کھولو جو آپ کے شوہر کو بھی نہیں معلوم”
اب جیسے سب بےسکون ہوۓ تھے….. خان نے حیرانگی سے خدیجہ کو دیکھا…..
کونسے راز…. لڑکھڑاتی زبان میں پوچھا…. یوشع کی مسکراہٹ اور گہری ہوئ……
“تمھارا بیٹا جہانزیب خان ‘ دبئ گیا ہوا ہے نہ…..”
یوشع اتنا کہہ کر چپ ہوگیا تھا…. خدیجہ کو اسکی بات کا مطلب سمجھ آگیا تھا’ سر سے چھت اور پیروں تلے سے زمین کھسکتی ہوئ محسوس ہورہی تھی’ سب کچھ چکرا کر رہ گیا تھا…. وہ بات جس کا آج تک کسی کو علم نہیں ہوا وہ یوشع کو کیسے معلوم ہوئ…..”
“کیا مطلب ہے تمھاری بات کا؟؟؟” خود پہ قابو پاتے پوچھا…. خان خدیجہ کے چہرے کو دیکھ رہے تھے جس کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا ایک جارہا تھا…..”
“کوئ مطلب نہیں ہے’ میں نے تو صرف پوچھا ہے’ آپکا بیٹا دبئ رہتا ہے نہ’ مگر مجھے لگتا ہے آپ کوئ اور مطلب لے گئ ہے میری بات کا….” مسکراتی آنکھوں سے کہا….
میں کیا مطلب لوں گی اور تم اپنی بکواس بند کرو’ جاؤں یہاں سے…… اب کہ پہلے والا رعب نہ تھا…..
نہ نہ ساسوں ماں’ اپ کا ہونے والا داماد ہو’ عزت کرے ہونے والے داماد کی ورنہ آپ اچھی طرح سمجھ گئ ہوگی میرا مطلب’ “آپکا بیٹا” پہلی بات شوخی لہجے میں اور دوسری طنزیہ لہجے میں کہی…. جسکو سب نے ہی محسوس کیا تھا…..
سو ساسوں ماں” اپنے ہاتھوں کو جھاڑا’ امید کرتا ہو آج کے بعد المیرا کو بدکردار نہیں کہے گی’ المیرا کا ہاتھ پکڑا اور کسی کی بھی طرف دیکھے بغیر سیڑھیوں کی طرف بڑھا……
________________________
سیڑھیاں عبور کی وہ رورہی تھی…. اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اپنا ہاتھ یوشع کی گرفت سے چھڑواۓ یا نہیں…. یوشع اس کا ہاتھ پکڑے آگے چل رہا تھا اور وہ اس کے پیچھے کسی کٹی ڈور کی طرح کھینچتی جارہی تھی….. المیرا کے روم میں پہنچ کر اس کا ہاتھ چھوڑا… دروازہ بند کیا…. دروازے پر سر رکھ کر کھڑا ہوگیا… خود کو ریلیکس کیا…. المیرا کی طرف آیا…. اطمینان سے سینے پر بازو باندھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا….. خفا خفا سا کہا…..
“کیوں کیا یوشع ایسا’ میں اسی لۓ کچھ نہیں بتارہی تھی آپ کو’ مجھے معلوم تھا یہی سب اپنے کرنا تھا…..”
تو پھر آج آفس آکر اپنی حالت مجھے دکھانی ہی نہیں تھی…..”
“اگر نہ آتی تو اپنے صبح ہی یہاں پہنچ جانا تھا’طبیعت تو ٹھیک ہے….”
یوشع مسکرایا’ کچھ غلط بھی نہیں کہا….
المیرا کے آنسوں صاف کیے…. اس نے اس کے ہاتھ جھٹکے…. خفگی سے چہرہ موڑ کر آگے بڑھی…. بیڈ پر بیٹھی…. یوشع نے ایک بار پھر گہری سانس خارج کی…. غصے کو کنٹرول کیا….. خود بھی اس کے سامنے آکر بیٹھا….. اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنی مضبوظ گرفت میں لیا….. المیرا نے ہاتھ چھڑوانے چاہے مگر بے سود…. گرفت مضبوط تھی…. آنسوں ٹپ ٹپ ہاتھوں پر گرنے لگے تھے….. پہلے تو وہ اسے فرصت سے دیکھے گیا….. پھر بولا تو لفظوں میں شرارت تھی…..
“تم لڑکیوں کے پاس اتنے آنسو آ کہاں سے جاتے ہیں….’
المیرا کا چہرہ اوپر کیا…..
“ذرا دیکھاؤ تو….’ اس کی آنکھوں کو کھول کر اس میں جھانکنے کی کوشش کی…. المیرا مسکرائ…. اسے دھکا دیا…. کندھے پر مکہ رسید کیا…..
نہیں نہ ذرا آج تو تم مجھے دیکھا ہی دو’ تم لڑکیوں کے پاس اتنے آنسو آ کہاں سے جاتے ہیں’ کوئ ٹینکی تو فٹ نہیں ہے اندر….” وہ اس کی انکھوں میں جھانکنے کی کوشش کررہا تھا…. اور وہ مسکراتے ہوۓ اسے خود سے دور کررہی تھی…. اس نے یوشع کو پھر دھکا دیا….. یوشع نے آنسوں صاف کرتے شوخی لہجے میں کہا…..
“یار ان آنسوں کو اپنی رخصتی کیلۓ بچا کر رکھو’ کام آۓ گے….”
المیرا نے مسکراتے ہوۓ یوشع کے کندھے پر سر رکھا…..
“وہ مجھ سے لڑے گی….. بابا خفا ہوگے…..’
یوشع نے نفی میں سر ہلایا…..
وہ تمھیں آج کے بعد کچھ نہیں کہے گی’ اس بات کی گارنٹی میں تمھیں دیتا ہو اور ویسے بھی کسی نے تو ان کی بولتی بند کرنی تھی نہ ‘ سو میں نے کردی…..’ فخر سے کالر جھاڑے….. وہ المیرا کے بالوں کو سہلارہا تھا……
“آپ سے کچھ پوچھو…؟؟”
مت پوچھنا’ کیونکہ مجھے معلوم ہے تم نے کیا یوچھنا ہے….”
کندھے سے سر اٹھایا….
کیا پوچھنا ہے؟؟؟ سوال کیا….
یہی کہ وہ کونسے راز ہے جنکی میں تمھاری ماں کو دھمکی دے کر آیا ہو….”
بتاۓ نہ آپ کیا جانتے ہیں ان کے بارے میں؟؟؟
یوشع نے المیرا کی آنکھوں میں جھانکا……
“المیرا خان اگر تم میرے پاؤں بھی پڑوں گی نہ تو بھی میں تمھیں کچھ نہیں بتانے والا کہ وہ کونسے راز ہے….”
“خوشفہمیاں ہے یوشع یوسفزئ آپکی ‘ المیرا خان کبھی آپکے قدموں میں نہیں پڑے گی….”
یوشع کی آنکھوں میں دیکھ کر ہاتھ جھلا کر کہا…..
یوشع مسکرایا ‘ اور میں کبھی چاہتا بھی نہیں کہ کبھی تم میرے پیروں میں گروں’ تمھاری جگہہ یہاں ہے….’ دل کے مقام پر انگلی رکھی…..
اوکے’ اب میں چلتا ہو’ اپنا خیال رکھنا اور ایک بات… چہرے پر ہاتھ رکھا’ انگوٹھے سے گال کو سہلانے لگا….. ” یہ دنیا بہت ظالم ہے المیرا ‘ یہاں کوئ کسی کا نہیں ہے سواۓ چند ایک لوگوں کے’ تمھیں اپنے لۓ خود اسٹینڈ لینا ہوگا ‘ اینڈ ایم شیور آج کے بعد آنٹی تمھیں کچھ نہیں کہے گی ‘ تمھارے دل میں جو آۓ تم وہ کرو’ میں ہمیشہ تمھارے ساتھ کھڑا ہو ‘ مگر خود کیلۓ لڑنا سیکھو’ بولنا سیکھو…..”
“آپ ہو نہ میرے لۓ’ میرے ساتھ”
“اگر میں ساری زندگی تمھارے ساتھ نہ رہا تو پھر کیا کرو گی؟؟؟”
شہری….
اوکے اوکے… اب رونے مت بیٹھ جانا…. میں مزاق کررہا تھا…. میں کبھی کہیں نہیں جاؤں گا تمھیں چھوڑ کر…. مگر خود کیلۓ اسٹینڈ لینا سیکھو…..”
وہ بیڈ سے اٹھا…. المیرا کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا…. نیچے جھکا…. المیرا کی آنکھوں میں جھانکا…..
“تمھارا شہری زندگی کے ہر موڑ پر تمھارے ساتھ ہے’ زندگی میں کبھی بھی خود کو اکیلا محسوس کرو ‘ صرف ایک آواز دینا ‘ تمھارا شہری سات سمندر پار کرکے بھی چلاۓ آۓ گا تمھارے لۓ….”
وہ ہلکا سا مسکرائ…. وہ بھی اس کو دیکھ کر مسکرایا…. اس کی پیشانی پر محبت بھرا لمس چھوڑا….. ٹیک کیئر کہتا’ گال تھپتھپا کے سیدھا ہوا…. جانے کیلۓ مڑا….. وہ دروازے تک پہنچ گیا تھا…… جب المیرا نے پکارا….
شہری…. وہ رکا ‘ پلٹا جی جان یوشع…..
دادی سے ملے بغیر مت جانا’ آپ نے ان سے سلام تک نہیں کیا’ ملے بغیر جاؤں گے تو وہ خفا ہوگی…”
ٹھینک یو سو مچ میری جان…. مجھے بتانے کیلۓ…. اگر آپ نہ بتاتی تو مجھے تو اس بات کا احساس ہی نہیں ہونا تھا کہ دادی سے بھی ملنا ہے……
“پہلے والا غصہ کہیں جا سویا تھا’ وہ ہنستا مسکراتا دوسروں کو ہنساتا یوشع بن گیا تھا”
ہاں تو احسان مانو میرا….’ فخر سے گردن اٹھائ….
“میں دادی سے ہی ملنے جارہا تھا ‘ ان سے ملے بغیر جاسکتا ہو کیا ‘ بلکہ ایک کام کرو تم بھی میرے ساتھ چلو ‘ دونوں کو ایک ساتھ دیکھے گی تو خوش ہوجاۓ گی’ اور اگر ڈانٹ پڑے گی تو دونوں ایک ساتھ سنے گے ‘ بہت مزہ آۓ گا….”
المیرا ہنسی’ چلو چلو جلدی…. بیڈ کے پاس پہنچ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا…. اسے لے کر روم سے باہر نکلا ‘ اسے کچھ بھی کہنے کا موقع دیے بغیر….. لاؤنج میں پہنچا وہاں اب کوئ نہیں تھا ‘ بالکل خالی…….
_______________________
وہ دادی کے روم کیطرف بڑھا…. ڈور کو نوک کرکے ذرا سا کھول کر اندر جھانکا…. دادی بیڈ پر بیٹھی تسبی پڑھنے میں مصروف تھی….. المیرا نے پیچھے سے دھکا دیا…. آآآ کرتا اندر گیا اور گرتا گرتا بچا… المیرا بھی قہقہہ لگاتی اندر داخل ہوئ…. دادی نے بھی مسکراتے ہوۓ اپنی تسبی سائڈ ٹیبل پر رکھی….. المیرا کو غصے سے گھورتا بیڈ کی طرف بڑھا…..
“السلام علیکم ! مائ سویٹ ہارٹ….” بیڈ پر بیٹھا…. دادی نے کندھے پر تھپڑ رسید کرتے سلام کا جواب دیا…..
افففف اللّه’ دادی جس کو دیکھو مجھ معصوم کو کیوں مارتا ہے…؟؟ المیرا کو دیکھ کر کہا…..
“تو تم اپنی حرکتیں صحیح کرلو’ کوئ بھی نہیں مارے گا….”
یوشع کے سر پر پیار کیا….’
دادی میں نہیں سدھرنے والا کبھی’ اگر میں سدھر گیا تو اس چڑیل کو کون ہنساۓ گا…..”
دادی ‘المیرا نے غصے سے کہا…. اس کو کہہ دیں مجھے دوبارہ چڑیل مت بولے ‘ میں کیا چڑیل دیکھتی ہو….”
ہاں جی صرف دیکھتی ہی نہیں ہو ‘ تم سچ میں چڑیل ہو….”
یوشع ‘ جھنجھلا کر غصے سے انگلی اٹھائ…..
اچھا اچھا بچوں کی طرح لڑنے مت بیٹھ جاؤ…. یوشع سدھر جاؤ تم بھی…..
میں تھوڑی لڑرہی’ یہی لڑتے ہیں جب دیکھو….’ یہ کہتے ساتھ میں زبان دیکھائ…
یوشع نے منہ بنایا….. دادی کی طرف متوجہ ہوا……
دادی ایم سو سوری ‘ میں تھوڑی دیر پہلے اتنا غصے میں تھا کہ آپ کا بھی خیال نہیں کیا’ بس جو منہ میں آیا’ بولتا گیا’ آپ سے سلام تک نہیں کیا….’ وہ شرمندہ نظر آرہا تھا…..
دادی نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا ‘ میں اپنے بیٹے سے بالکل بھی ناراض نہیں ہو…..’ یوشع نے چہرہ اٹھایا…..
بلکہ آج تم جس طرح المیرا کیلۓ لڑے ہو ‘ سچ کہو تو مجھے بہت اچھا لگا ہے ‘ مجھے ہمیشہ بس المیرا کی فکر لگی رہتی ہے کہ میرے بعد اس کا کون خیال رکھے گا’ اگر کل کو مجھے کچھ ہوجاتا ہے نہ….. دادی…. المیرا نے ٹوکا…. انہوں نے بس ایک نظر المیرا کو دیکھا….. “میں کل کو آرام سے مر سکوں گی”
دادی…. ایک بار پھر ٹوکا…. یوشع بھی خفا نظر آنے لگا تھا…. “دادی ایسی باتیں مت کرے’ ورنہ میں پکے والا ناراض ہوجاؤں گا….”
نہیں بیٹا ‘ آج تو مجھے بولنے دوں…. میں اب بوڑھی ہوچکی ہو ‘ بیمار رہتی ہو’ سب کو ایک دن اس دنیا سے چلے جانا ہے’ میرا بھی کبھی بھی بلاوہ آسکتا ہے’ مجھ سے وعدہ کرو یوشع’ میرے بعد میری بیٹی کا خیال رکھو گے….”
“میں وعدہ کرتا ہو دادی’ میں ہمیشہ اس چڑیل کا خیال رکھو گا….” المیرا کو دیکھ کر کہا…. جو سر جھکاۓ بیٹھی اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی…. اس نے تو اب چڑیل صرف المیرا کا موڈ ٹھیک کرنے کیلۓ کہا تھا…… مگر وہ تو ایک لفظ بھی نہیں بولی’
المیرا ‘ یہ سائڈ ڈرا کھولو بیٹا’ اس میں دو ڈبی رکھی ہے’ انہیں نکالو….. سر پر ہاتھ پھیرا…..
المیرا نے ڈبی نکال کر دادی کو دی…. ریڈ کلر کی مخملی ڈبی تھی….. دادی نے انہیں کھولا…. دونوں میں انگیجمنٹ رنگ تھی….. ایک لڑکے کی اور دوسری لڑکی کی….. لڑکی والی رنگ نکال کر یوشع کو دی…. وہ ڈائمنڈ رنگ تھی بہت ہی خوبصورت….
یہ میں نے تم دونوں کیلۓ بنوائ تھی….. میں اب تم دونوں کی چھوٹی سی رسم کررہی ہو…. پہنادو المیرا کو…..
مگر دادی رسم وغیرہ تو سب بڑوں کی رضا مندی سے ہوتی ہے’ سب ہوتے ہیں ‘ ایسے کیسے..؟؟؟
بیٹا کیا میں بڑی نہیں ہو…. مجھے کسی سے کچھ نہیں لینا دینا…. تم پہنادو….. یوشع نے اپنی چوڑی ہتھیلی آگے کی…. وہ اب تک سر جھکاۓ بیٹھی تھی….. دادی نے المیرا کے سر پر ہاتھ رکھا…… المیرا نے اپنا نازک ہاتھ اس کی چوڑی ہتھیلی پر رکھا’ یوشع نے اس کی مخروطی انگلی میں رنگ پہنائ’ دوسری رنگ المیرا کو دی…. المیرا نے بھی اسے رنگ پہنائ اور اب المیرا کی بس ہوئ تھی…. وہ دادی کے گلے لگ کر رودی….
بس بیٹا چپ کرجاؤں’ آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جاۓ گی…. روتے ہوۓ کہا’ رونے کی وجہ سے بولا بھی نہیں جارہا تھا…..
یوشع لب کاٹتا اس کو دیکھنے لگا… ‘ سب کچھ برداشت ہے ‘ بس المیرا کی آنکھوں میں آنسوں نہیں ‘ روتی وہ تھی’ تکلیف یوشع کو ہوتی….”
اچھا میں نہیں جارہی چپ کرو….. وہ دور ہٹی….دادی نے اس کے آنسوں صاف کیے…. اس کی پیشانی کو چوما….
“دادی دیکھ لینا ‘ ابھی آپکو کچھ نہیں ہوتا ‘ ابھی تو اپنے ہماری شادی دیکھنی ہے’ اس کے بعد ہمارے بچوں کی ‘ اس کے بعد ان کے بچوں کی اور ہھر اس کی بعد ان کے….. بس بس اتنا آگے مت بڑھو…. دادی نے ٹوکا…. المیرا نم آنکھوں سے مسکرائ…. اس کی مسکراہٹ دیکھ کر یوشع کے دل کو سکون ملا….. وہ دادی کے گلے لگا…. المیرا کی ناک کو پکڑ کر کھینچا اور ساتھ میں المیرا سے اپنے ہاتھ پر تھپڑ کھایا…. وہ دور ہوا….
آج سے میری المیرا تمھاری ہوئ ‘ میں امید کرتی ہو تم اس کا مجھ سے بھی زیادہ خیال رکھو گے…..
سینے پر ہاتھ رکھ کر سر کو جھکایا….. “جو حکم میرے آقا’ دادی اور المیرا دونوں ہنسی….
اوکے اب مجھے اجازت دے دادی ‘ انشااللّه پھر ملاقات ہوگی…. المیرا کی آنکھیں اب بھی نم تھی ‘ ایک نظر المیرا پر ڈالی اور اٹھ کھڑا ہوا…. اور ہاں دادی میری المیرا کو اپنے رلایا ہے’ ا. اس کو چپ بھی کروالیجۓ….
اوکے بیٹا اور کچھ….’
ہاں بس اب جلدی جلدی شادی کروادے…..’ بالوں میں ہاتھ پھیرا….
وہ بھی ہوجاۓ گی….’ صبر رکھو….
مسکرا کر اللّه حافظ کہتا پلٹا اور روم سے نکل گیا…..
_______________________
لان میں پہنچا….. وہاں خان صاحب ٹہل رہے تھے…. وہ آگے بڑھنے لگا….
بیٹا” خان نے پکارا…. وہ رکا’ خان اس کے قریب آۓ….
“کیا جانتے ہو تم خدیجہ کے بارے میں….’ پغیر کسی لگی لپٹی کے بات کی….’
وہ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے تھے….
کچھ نہیں انکل’ میں نے صرف ایسے ہی بول دیا تھا’ ورنہ میں ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتا…..”
“یوشع جھوٹ مت بولو بیٹا ” وہ بہت نرمی سے ایک دوسرے سے بات کررہے تھے…..
“یوشع نے گہری سانس خارج کی….” اوکے انکل میں آپ کو کچھ نہیں بتاؤ گا ‘ کیونکہ میں کسی کے راز نہیں کھولتا ‘ باقی وہ آپ کی بیوی ہے’ اگر آپ خود پتا لگوانہ چاہے تو ایز یو وش’ بٹ میں آپ کو کچھ نہیں بتاؤ گا…..”
انہوں نے اثبات میں سر ہلایا…. وہ اندر جانے کیلۓ مڑے…. انکل… وہ رکے…. یوشع کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھا….
“میں اپنے تھوڑی دیر پہلے والے رویہ کی معافی مانگتا ہو’ مجھے غصہ صرف آنٹی پر تھا ‘ انکل میں المیرا سے بہت محبت کرتا ہو ‘ وہ بھی مجھ سے بہت محبت کرتی ہے ‘ ہم ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے’ انفیکٹ وہ آپ سے بھی بہت محبت کرتی ہے اور میں جانتا ہو آپ بھی اس سے بہت محبت کرتے ہیں’ بس آپ کی محبت کہیں سوگئ ہے’ اس محبت کو جگانا آپ کا کام ہے’ المیرا مجھ سے کچھ نہیں چھپاتی ‘ اپ کو پتا ہے کل جب آنٹی نے اس کے کردار کو داغدار کیا تھا تو اسے سب سے زیادہ کس چیز نے تکلیف دی تھی’ آپ کا چپ رہنا ‘ انکل وہ آپ کی محبت کیلۓ ترستی ہے ‘ اسے اکیلا مت چھوڑے’ آپ اس کی طرف ایک قدم بڑھاۓ’ باقی کے قدم وہ طے کرلے گی’ اسے ایک بار اپنے سینے سے لگالے’ وہ اتنے میں ہی خوش ہوجاۓ گی’ آپ کو پتا ہے اس نے اپنی زندگی کی وہ تلخ بات تک مجھ کو بتائ ہے جو وہ چاہتی تھی کی وہ آپ کو بتاۓ’ انکل اب بھی وقت ہے’ اس کو صرف ایک بار’ ایک بار اپنے سینے سے لگالے’ چلے جائیں اس کے پاس’ کہیں ایسا نہ ہو جب آپ اس کے پاس جاۓ تو وقت ہاتھوں سے نکل جائیں اور پھر سواۓ پچھتاوے کے کچھ نہ رہیں’ اس لۓ اب بھی وقت ہے چلے جائیں……”
خان نے یوشع کا کندھا تھپکا اور بنا کچھ بولے اندر کی طرف بڑھ گۓ……
یوشع کے موبائل پر کال آرہی تھی… اس نے جیب سے موبائل نکالا…. کال یس کرکے کان سے لگایا…. اور بات کرتا آگے بڑھنے لگا….. گیٹ پر پہنچ کر رکا…. موبائل کو واپس جیب میں ڈالا….
یوشع’ خدیجہ بیگم نے پکارا…..
یوشع نے آسمان کو دیکھا…. دونوں ہاتھوں کو دعا کی طرح ہوا میں اٹھایا….
“یااللّه آج لگتا ہے’ یہ سب مجھے گھر نہیں جانے دے گے…..” ہاتھ واپس گراۓ….. خدیجہ قریب پہنچی….. وہ بھی پلٹا….
“آپ سب نہ ایک کام کرے’ مجھے یہی روک لے’ پھر جس نے جو بات کرنی ہو آرام سے بیٹھ کرکرتے ہیں’ بس خدمتیں کرتے رہنا….”
شٹ اپ’ اور اب جو پوچھو اس کا جواب دو…..’
نہ نہ ساسوں ماں آرام سے’ آپکا فیوچر سن ان لا ء ہو’ یہ دیکھیں…. اس نے ہاتھ اٹھا کر رنگ دیکھائ…..
ابھی تھوڑی دیر پہلے انگیجمنٹ ہوئ ہے المیرا کے ساتھ’ دادی نے کی ہیں› اس لۓ مدر ان لاء عزت سے پیش آۓ….”
انہوں نے خود پر ضبط کیا….’
“کیا جانتے ہو تم میرے بارے.؟؟؟”
“جو کوئ نہیں جانتا….”
مجھے صاف لفظوں میں بتاؤ؟؟؟؟
اوکے اگر سننا چاہتی ہے تو سنیں…..’ یوشع نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پیچھے کرکے باندھے…. خدیجہ کی طرف جھکا…. اپنا چہرہ اس کے کان کے قریب کیا…. اور جب بولا تو لہجے میں بے پناہ نفرت تھی….
“آپکا بیٹا’ کیا نام ہے اس کا…. آنکھیں بند کرکے سوچنے کی ایکٹنگ کی…. ہاں جہانزیب خان’ اوہ سوری اگر میں اپنے لفظوں کی تصحیح کرو تو جہانزیب سلیمان’ رائٹ یہی نام ہے نہ آپکے بیٹے کا….”
خدیجہ کا سانس حلق میں اٹکا’ چہرے کی رنگت زرد پڑی……
“اور بھی کچھ سننا ہے خدیجہ بیگم” نفرت ہی نفرت تھی لہجے میں جسے چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی….’
“اب آپ بتاۓ بدکردار کون ہے؟؟؟ المیرا یا آپ….”
وہ سیدھا ہوا ‘ نفرت بھری نگاہوں سے سامنے کھڑی اس عورت کا چہرہ دیکھا….. جو سفید پڑ چکا تھا…..
تمھیں کیسے پتا چلا….’ اٹک اٹک کر پوچھا…..’
“میں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے اندر بھی کہا تھا’ اب پھر کہہ دیتا ہو’ آپ سب یوشع یوسفزئ کو جانتے نہیں ہیں کہ میں کیا چیز ہو؟؟؟ میں کسی کو کچھ کہتا نہیں ہو مگر خبر سب کی رکھتا ہو’ کون کیسا ہے؟؟؟ اگر میں چپ ہو تو اس کو میری کمزوری مت سمجھنا’ میں اگر چپ ہو تو یہ بھی مت سمجھنا کہ میں ساری زندگی چپ رہو گا’ میں چپ ہو تو اس لۓ کہ میرا اسلام میری تربیت مجھے اس چیز کی اجازت نہیں دیتا کہ میں کسی کے راز کھولو’ اسلام کہتا ہے کہ اگر کسی کے کوئ راز معلوم ہو تو اس پہ پردہ ڈال دوں’ ایک دوسرے کے راز رکھنا سیکھو ‘ اور مبارک ہو خدیجہ بیگم مجھے لوگوں کے راز رکھنے آتے ہیں’ یاد رکھنا خدیجہ بیگم…. انگلی اٹھائ…..
اگر آج کے بعد المیرا کے کردار پر انگلی اٹھائ تو میں بھی ایک منٹ نہیں لگاؤں گا’ آپ کے اس ناپاک راز سے پردہ اٹھانے میں’ یاد رکھیے گا المیرا پہ اب میرا حق ہے’ وہ میری ہے’ ایک بار پھر اپنا ہاتھ اٹھا کر انگلی میں پہنی رنگ دکھائ….. خیال رکھیے گا ساسوں ماں…. “میری ہونے والی بیوی کا” ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا….. ایک آخری نفرت بھری نگاہ ڈالتا پلٹا اور گیٹ سے باہر نکل گیا…. وہ وہیں شل سی کھڑی رہیں…..
********
اگلے دن وہ آفس میں یوشع کے سامنے بیٹھی تھی…..
“اففف کیا بتاؤ یار جب گھر پہنچ کر ڈیڈ کو بتایا کہ انگیجمنٹ کر آیا ہو’ دو کھینچ کے گدی پہ لگاۓ’ اففف بہت زور کے لگے تھے…..” یوشع نے اپنی گدی مسلی….
ہاہاہا المیرا کی ہنسی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی…..’
“آئ وش میں اس وقت وہاں ہوتی تو میں بھی دیکھتی آپ کی مار’ ہاہاہا’ وہ ایک بار پھر ہنسی…..”
ہنسو ہنسو خوب ہنسو…..’ وہ کہتے ہوۓ چیئر سے اٹھا اور المیرا کے سامنے آکر شیشے کی ٹیبل پر چڑھ کر بیٹھا’ ہاتھ میں کافی کا مگ تھام رکھا تھا…. “
گھر آجاؤ’ آکے تم بھی تھوڑی ڈانٹ کھالو…..” المیرا نے ہاتھ ہلایا……
خوشفہمیاں ہیں آپکی بابا مجھے کبھی نہیں ڈانٹے گے….. اچھا اور بتاؤ نہ کیا کہا بابا نے….”
یار کیا کہنا تھا انہوں نے’ کہتے کہ واہ بیٹا منگنی کر آۓ ہو’ وہ بھی باپ کے بغیر’ شاباش ہے بیٹا ‘ اسی طرح سے شادی بھی کر آنا ہے….. بالکل صحیح جارہے ہو…..” وہ ایک بار پھر ہنسی….
آپ نے منگنی کرنے کی وجہ نہیں بتائ….؟؟
بتائ تھی’ سب کچھ بتادیا تھا….’
“تمھیں پتا ہے المیرا’ میں اپنے رب سے اور رب کے بعد جن تینوں کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کردیتا ہو’ وہ ڈیڈ’ علی اور تم ہو’ اپنے رب سے اور تم تینوں سے میں کچھ نہیں چھپاتا’ اپنے رب کے اور تم تینوں کے سامنے میں خود کو ایک کھلی کتاب کی طرح پیش کردیتا ہو’ اس لۓ میں نے بابا سے بھی کچھ نہیں چھپایا’ سب کچھ بتادیا کس طرح آنٹی نے تھارے کردار پر انگلی اٹھائ’ اس کے بعد میرا تمھارے گھر جاکر تمھارے لۓ لڑنا’ اور اس کے بعد دادی کا ہماری انگیجمنٹ کردینا’ انہیں آنٹی پر بہت غصہ آیا تھا’ اور پھر میرے عمل پر خوش بھی تھے’ تمھیں پتا ہے پھر بابا نے میرا کندھا تھپکا’ مجھے اپنے گلے سے لگایا اور ایم پراؤڈ آف یو مائ سن کہا’ اور میں اتنا خوش ہوا کہ تمھیں بتا نہیں سکتا…..” المیرا ہلکا سا مسکرائ….. یوشع نے خالی مگ ٹیبل پر رکھا اور نیچے اترا….. اپنے دونوں ہاتھوں کو المیرا کی چیئر کے دونوں ہینڈل پر رکھ کر اسکی طرف جھکا…. المیرا پیچھے کو ہوئ…. یوشع اور آگے کو ہوا…. اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب کیا اتنا کہ ایک دوسرے کے چہرے پر گرم سانسیں محسوس ہونے لگی….. یوشع نے اپنی گہری براؤن آنکھیں’ کالی گہری آنکھوں میں گاڑھی…..
“بس ایک علی اور ماہی ہے جن کو ابھی انگیجمنٹ کا نہیں پتا’ جب علی کو پتا چلے گا نہ تو بس پھر میرا اللّه حافظ’ مجھے بچا لینا اپنے پاگل بھائ سے’ المیرا کا چہرہ شرم و حیا سے سرخ پڑرہا تھا…. اس نے نظریں جھکائ…. علی نے میری انگیجمنٹ کو لے کر بہت سے خواب دیکھ رکھے تھے کہ یہ کرنا ہے وہ کرنا ہے’ اب جب اسے پتا چلے گا کہ میں انگیجمنٹ کرچکا تو اس نے میرا قتل کردینا ہے…..”
بھائ آپ کو کچھ نہیں کہے گے’ جب آپ انہیں پوری بات بتاؤ گے…..’ المیرا نے اٹک اٹک کر کہا اور اپنے ہاتھ یوشع کے سینے پر رکھ کر اسے خود سے دور کرنا چاہا….. مگر وہ وہیں جما کھڑا رہا….
شہری پلیز’ التجا کی….. وہ مسکرایا…. مگر اسے مزہ آرہا تھا اسے تنگ کرنے میں’ اس کے شرم و حیا سے سرخ پڑتے گالوں کو دیکھ رہا تھا…..”
اس نے المیرا کے ماتھے پر پیار کیا…..’ اتنا تو حق رکھتا ہو نہ اب تم پر……’ اس نے اثبات میں سر ہلایا…..’ وہ پیچھے ہٹا…..’ اتنے میں گلاس ڈور دھکیل کر ایک سٹائلش سی براؤن بالوں والی لڑکی اندر داخل ہوئ….. اورنج کڑھائ والی کرتی کے نیچے بلیو پینٹ ‘ سائڈ میں کی چین والا بیگ’ پنک لپسٹک ‘ تیکھے نین نقوش’ دودھیا رنگت اور بڑی بڑی کالی آنکھیں جو کاجل سے لبریز تھی’ ہرنی جیسی چال چلتی یوشع کے قریب پہنچی’ مسکراتی ہوئ یوشع کے گلے لگی’ اپنا گال اس کے گال سے مس کیا…..’ اس حرکت پر المیرا کو غصہ آیا مگر کنٹرول کرلیا…..’ وہ یوشع سے دور ہٹی….”
واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز یار’ آج تم اتنے دونوں بعدکیسے…؟؟ ماہی نے ایک بیزار سی نظر المیرا پر ڈالی مگر مصافحہ کرلیا….’
تم نے تو یاد نہیں کیا’ سوچا میں ہی کرلو’ اسی لۓ چلی آئ….”
چلو اچھا کیا…”
تمھارے لۓ ایک گڈ نیوز ہے میرے پاس؟؟
کیسی نیوز؟؟؟
یہی کی آج کے بعد میں بھی روز آفس آؤں گی اور تمھارے ساتھ کام کرو گی…..’ المیرا کو دیکھ کر کہا…..
کتنا مزہ آۓ گا مل کر کام کرے گے…. ‘ یوشع نے پینٹوں کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے….’ مگر تمھاری تو ہمیں ضرورت ہی نہیں ہے…’ شرارتی لہجے میں کہا….. المیرا نے مسکراہٹ دبائ….’ ماہی نے غصے سے یوشع کہتا کندھے پر تھپڑ مارا….
“مجھے پتا ہے تم مزاق کررہے ہو؟؟”
“نو ایم سیریس’ آئ رئیلی ڈونٹ نیڈ یو…”
یوشع ‘ وہ روہانسی ہوئ…. علی بھائ بھی مجھے کہہ رہے تھے کہ گڑیا تمھاری ضرورت نہیں ہیں اور اب تم بھی مجھے یہی کہہ رہے ہو….’ تم دونوں سچ میں بہت برے ہو….”
ہاں تو صحیح کہا ہے اس نے’ لڑکی تم اپنے ڈیڈ کی کمپنی کو سنبھالو…. یہاں پہ علی میری ہیلپ کرتا ہے تو تم وہاں انکل کے ساتھ کام کرکے پہلے ایکسپیرینس اچیو کرو کیونکہ میں تمھیں یہاں کام کرنے کا کہہ کر کمپنی کو لوژ میں نہیں ڈال سکتا’ سو شاباش جاؤ پہلے ایکسپیرینس اچیو کرو’ اپنے بابا کی کمپنی کو سنبھالو….. ‘ وہ غصے سے اس کو گھور رہی تھی اور المیرا ماہی کے غصے سے لال ہوتے چہرے کو دیکھ کر انجواۓ کررہی تھی…..”
تو تم مجھے سکھادو نہ بزنس کیسے کرتے ہیں’ میں تو یہی تمھارے ساتھ کام کرو گی’ تم مجھے گائیڈ کرو گے…..”
خوشفہمیاں ہے ماہی تم یہاں اس آفس میں کام نہیں کرو گی’ اپنے دیڈ کی کمپنی سنبھالو……’
یوشع وئ آر آ بیسٹ فرینڈز….’ ماہی نے یوشع کا بازو پکڑا…..’
فرینڈز ہے تبھی تو کہا ہے پہلے بزنس سیکھ کر آؤ ‘ کرتے کیسے ہیں’ اگر کوئ اور ہوتا تو وہ یہاں اب تک کھڑا نہ ہوتا….. یوشع کے چہرے پر دل جلادینے والی مسکراہٹ تھی….’
تم میری بےعزتی کررہے ہو یوشع….
اب کی بار یوشع زور سے ہنسا تھا….. اس سے زیادہ وہ برداشت نہیں کرسکتا تھا…..
میری اتنی ہمت ہے کہ میں ماہی عمران کی شان میں گستاخی کرو…..”
ہممم اب آۓ نہ تم صحیح لائن پہ’ کبھی کبھی تمھارے مزاق بھی سیریس لگنے لگتے ہیں….’
آؤ بیٹھو’ کیا منگواؤ تمھارے لۓ….
المیرا چیئر سے اٹھ کھڑی ہوئ…
یوشع نے دیکھا’ تم کہاں چلی….
وہ میں کام کرلو….
“المیرا کو ماہی کا یہاں آنا ‘ یوشع کے قریب ہونا’ بات بات پہ اس کو ٹچ کرنا بالکل اچھا نہیں لگا تھا’ اس لۓ وہ غصے میں کچھ غلط کہے ‘ اس نے یہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا….
اوکے….
المیرا وہاں سے چلی گئ اور پیچھے وہ دونوں اپنی باتوں میں مگن ہوگۓ……
*********
