No Download Link
Rate this Novel
Episode 03
Visal-e-Javedan وصال جاوداں
یوشع جب اپنے روم میں داخل ہوا تو میرو بیڈ پہ منہ پھلاۓ بیٹھا تھا… وہ شام میں جب سے پارک سے واپس آۓ تھے.. وہ یوں ہی منہ پھلاۓ ہوۓ تھا….
یوشع نے اس سے بات بھی کرنا چاہی مگر ہادی نے کچھ نہیں بتایا…
وہ چلتا ہوا اسکے پاس بیڈ پر آکر بیٹھ گیا اور ہادی کو اپنی گود میں بیٹھایا….
میرو میری جان کیا بات ہے…. کیوں اداس ہو… اپنے بابا کو بھی نہیں بتاؤ گے…
بابا آج وہ آنٹی نہیں آئ… مجھے لگا تھا کہ شاید وہ آج بھی آئیں گی…. مگر وہ نہیں آئ…
کونسی آنٹی؟؟؟؟
بابا وہی آنٹی جو کل پارک میں مجھے ملی تھی….
یوشع کو بھی جیسے ابھی یاد آیا کہ اس نے تو خود ہادی سے اس بارے میں بات کرنی تھی…
بیٹا اپنے کل کیا بات کی تھی؟؟ ان آنٹی سے…
تب ہادی نے یوشع کو المیرا کے ساتھ ہوئ ہر بات بتادی…
یوشع کو بالکل حیرانگی نہیں تھی کہ ہادی کو سب کچھ یاد ہے… کیونکہ وہ جانتا ہے اپنے بیٹے کی ذہانت کے بارے میں…
اسے فکر اس بات کی ہے کہ میرو اس کے بارے میں بہت زیادہ سوچ رہا ہے….
بیٹا آپ کیوں اتنا سوچ رہے ہو انکے بارے میں….. کیا پتا وہ روز نہ آتی ہو پارک… اور اگر آئ بھی ہوگی تو کیا پتا آپکو نہ دیکھی ہو… اتنا بڑا پارک ہے….. نہیں آئ ہوگی آپکو نظر…
آپ اتنا مت سوچو… اگر آپکی آنٹی کو آپ سے ملنا ہوتا تو وہ آجاتی…. یوشع نے میرو کو سمجھانا چاہا…
پاپا کیا اب وہ آنٹی مجھے نہیں ملے گی…. ہادی نے تھوڑا اداسی سے پوچھا….
پتا نہیں بیٹا… ملنا ہوا تو مل جاۓ گی….
اب آپ یہ اداس ہونا بند کرو… آپکو پتا ہے نہ بابا آپکو اداس نہیں دیکھ سکتے…. تو ذرا جلدی سے ہنس کے دیکھادو…..
یوشع نے یہ کہتے ہوۓ اسکے گدگدی کی… اور وہ کھل کھلا کر ہنس پڑا….
یوشع نے بھی سکون کی سانس لی کہ اب ہادی کا دھیان اس طرف نہیں جاۓ گا…
چلو جلدی سے یہ بتاؤ ہوم ورک کرلیا… سبق یاد کیا تھا ….
جی بابا کرلیا….
ہمممم گڈ… تو اب ذرا اپنا ورک بھی دیکھاؤ کیسا کیا ہے… غلطی تو نہیں کی…
نہیں بابا دیکھ لینا کوئ غلطی نہیں کی…
ہادی گود سے اتر کر اپنا بیگ لینے بھاگا…. ورک چیک کرنے اور بھی کافی بات کرنے کے بعد یوشع اسے لے کر لیٹ گیا…
چلو اب جلدی سے سوجاؤ… ورنہ پھر صبح آنکھ نہیں کھلے گی…
یوشع نے ہادی کا دھیان اب اس طرف سے ہٹالیا تھا….
ہادی نے بھی مسکرا کر اسکے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لی….
یوشع بھی مسکراتا ہوا…. اسکی پیشانی پہ بوسہ دیکر… اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا…. خود بھی آنکھیں بند کرگیا….
*********
وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کھولے کھڑی چاند کو تک رہی تھی…. اک نظر بیڈ پہ ڈالی… جہاں ایمان دنیا جہاں سے بے خبر خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی… وہ دوبارہ سے چاند کو دیکھنے میں مصروف ہوگئ…. المیرا کو افسوس تھا کہ وہ آج پارک نہ جاسکی…. میرہادی سے ملنے…. صبح اٹھتے ہی اسکی آنکھوں کے سامنے ہادی کا چہرہ آیا تھا… اس نے سوچا تھا کہ شام کو پارک ضرور جاۓ گی… مگر شام کافی دیر تک آفس میں کام کرنے کی وجہ سے وہ لیٹ ہوگئ تھی… رات ہونے کی وجہ سے وہ گئ نہیں…
_______
وہ روز تو پارک نہیں جاتی تھی… کل بھی اتوار ہونے کی وجہ سے چلی گئ تھی… کل بھی کئ مہینوں بعد ہی وہ پارک گئ تھی… اور ہادی سے ملاقات ہوگئ… جو کل سے ہی اسکی سوچوں پہ ہاوی تھا….
_______
گھڑی پر نظر پڑی… جو دو سے اوپر کا وقت بتارہی تھی… اپنے سارے خیالوں کو جھٹک کر وہ واشروم میں وضو کیلۓ چلی گئ… تہجد ادا کی… اور سونے کیلۓ لیٹ گئ….
*****
آج اسکو ہادی سے ملے ایک ہفتہ ہوگیا تھا….دوپہر کا وقت تھا… وہ اپنے کمرے میں رکھی کرسی کی بیک سے ٹیک لگاۓ آنکھیں موندیں بیٹھی تھی… اس پورے ہفتے میں وہ پارک نہیں جاسکی تھی….. آج اتوار تھا اور اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ آج ضرور پارک جاۓ گی….
********
اور دوسری طرف ہادی بھی اب تقریباً المیرا کو بھول گیا تھا… وہ روز پارک جاتا رہا ہے… مگر المیرا کہی نہیں دیکھی…. اس لۓ وہ بھی اب مایوس ہوگیا تھا…. مگر اسکو ایسا لگتا تھا کہ شاید ضرور ملاقات ہوگی….. ان آنٹی سے….
______
مگر ناامیدی تو کفر ہے… ہمیں کبھی بھی ناامید نہیں ہونا چاہیے…. اور ایسا ہی ہادی نے بھی کیا… اس نے امید نہیں چھوڑی… اور اب جلد ہی ہادی کی ملاقات المیرا سے ہونے والی تھی….
*********
شام کا وقت ہوگیا تھا…. ہادی روز کی طرح یوشع کے ساتھ پارک آگیا تھا…. اور اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہوگیا…. اور وہ ہر بار کی طرح بینچ پہ بیٹھا ہادی کو کھیلتا ہوا دیکھ رہا تھا… جب اچانک یوشع کو اپنی طرف کچھ لڑکیاں آتی دکھائ دی… جو شکل سے ہی چھچھوری لگ رہی تھی…. یوشع کا دھیان ہادی کی طرف سے ہٹ گیا… اور یہی اسکی غلطی تھی….
جب اچانک ہادی کو المیرا دور ایک بینچ پہ بیٹھی نظر آئ… جو اسی کو کھیلتا ہوا دیکھ رہی تھی…. ہادی نے المیرا کو ایک ہی نظر میں پہچان لیا تھا….
ہادی نے ایک نظر اپنے باپ پہ ڈالی جو لڑکیوں سے بات کرنے میں مصروف تھا… ہادی ایک منٹ بھی ضائع کیے بغیر المیرا کے پاس پہنچا…. اور وہیں اس کے پاس بینچ پہ چڑھ کر بیٹھ گیا…
السلام علیکم آنٹی! کیسی ہو آپ؟ کہاں تھی آپ اتنے دنوں سے؟ ہادی نے ایک ہی ساتھ سارے سوال کرڈالے… اور وہ ہادی کے اتنے سوالوں پہ مسکرا کر جواب دینے لگی…
وعلیکم السلام! میں ٹھیک ہو.. آپ کیسے ہو؟؟ اور میں آپ کو ابھی تک یاد ہو؟؟؟
میں اپکو بھولا ہی کب تھا… ہادی نے جواب دیا…
المیرا کو تو جیسے چپ لگ گئ تھی ہادی کے جواب پہ…
کچھ دیر بعد بولی بھی تو یہ “کیا میں سچ میں اپکو یاد ہو… مطلب ون ویک ہوگیا ہے… “
جی آپ مجھے یاد ہو… کیا آپ نے مجھے یاد نہیں کیا؟؟
میں نے بھی اس کیوٹ بےبی کو بہت سارا مس کیا…. المیرا نے پیار سے اس کے پھولے ہوۓ گلابی گالوں کو کھینچا… جو ہلکے سے کھینچے جانے پر گلابی سے لال ہوگۓ تھے…
اور ہادی تو مانو جیسے بہت خوش ہوگیا تھا المیرا کے جواب پہ….
پھر آپ مجھ سے ملنے کیوں نہیں آئ؟؟؟ میں یہاں روز آتا رہا ہوں… مگر آپ نہیں آئ…
سوری بیٹا میں نہ جوب کرتی ہو… تو آفس سے پھر دیر سے آف کرتی ہو… اور پھر رات ہوجاتی ہے… اس لۓ نہیں آئ… سوری…
اووو اچھا تو کیا آپ میرے بابا کے آفس میں کام کرتی ہیں…
نہیں بیٹا.. اتنا بڑا شہر ہے یہاں کوئ ایک آفس تھوڑی ہے… میں کہیں اور کام کرتی ہوں… اور ویسے بھی میں تو آپکے بابا کے بارے میں جانتی بھی نہیں ہوں… کہ وہ کون ہے..؟؟؟
آنٹی آپ مجھ سے ملنے آیا کرے گی… ہادی نے بہت چاہت سے پوچھا… اور المیرا انکار نہ کرسکی… وہ بچے کا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی….
ہاں ضرور آؤ گی میں پرومس تو نہیں کرتی کہ روز آؤ گی آپ سے ملنے… مگر ہاں جب بھی میں آفس سے جلدی فری ہوگئ تو ضرور آیا کرو گی آپ سے ملنے….
سچی….
مچی….
ویسے آپکے بابا کا کیا نام ہے بیٹا…؟؟؟
اور اس سے پہلے کہ ہادی جواب دیتا… ایمان وہاں آئ تھی…..
________________
بیٹا ان سے ملو… یہ میری دوست ہے ایمان… اور ایمان یہ ہی ہے وہ میرہادی…. المیرا نے دونوں کا تعارف……………..
_____________________جاری ہے________________
