Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

Visal-e-Javedan وصال جاوداں

شام کا ٹائم تھا’ یوشع گھر پہنچا’ عجلت میں گاڑی سے اتر کر گھر کے اندر کی طرف بھاگا تھا’ لاؤنج میں پہنچا’ جہاں علی اور زاور دونوں ہی صوفوں پر بیٹھے پریشان لگ رہے تھے’ ذیان کو بھی گود میں لیا ہوا تھا’

کہاں ہے ہادی’ جلدی میں پوچھا….

علی اٹھ کھڑا ہوا……’

وہ اپنے روم….. جواب سنے بغیر اوپر کی طرف سیڑھیاں چڑھنے لگا…..’

(وہ اپنے روم میں بیٹھا کام میں بزی تھا’ آج یوشع سکول بھی نہیں گیا تھا ہادی کو لینے’ علی ہی جاکر لے آیا تھا….

یوشع کا فون رنگ ہوا’ سویٹ ہارٹ لکھا تھا’ کال اٹھائ گئ’ علی کی کال تھی جس میں وہ گھبرایا ہوا تھا’

علی نے بتایا’ ہادی جب سے سکول سے آیا ہے’ کسی سے بھی کوئ بھی بات نہیں کررہا ہے’ بس ماہی کی تصویر کو لے کر بیٹھا مسلسل رورہا ہے’ کھانا بھی نہیں کھایا….’

یوشع کرسی سے اٹھا’ گھڑی میں ٹائم دیکھا……’

جو پانچ کا وقت بتارہی تھی….

اسے سکول سے آۓ تین گھنٹے ہوگۓ ہیں اور وہ جب سے رورہا ہے’ تمھیں اب خیال آرہا ہے کہ تم مجھے اب بتاؤ….

یوشع نے غصے سے کہا….

یار ہم اسے چپ کروانے کی کوشش……

سنے بغیر کال کاٹ دی’ اور سب کام یوہی چھوڑ کر گاڑی کی چابی اٹھا کر جلدی سے آفس سے نکل گیا’ تیز ڈرائیو کرکے گھر پہنچا تھا)

______________________

وہ اپنے روم میں داخل ہوا’ جہاں پہ زینب بیڈ پر بیٹھی اسے چپ کروانے کی کوشش کررہی تھی اور وہ خود اپنی ماں کی تصویر کو لے کر بیٹھا اب بھی رورہا تھا…..’

ہادی….

زینب نے مڑ کر دیکھا’ جہاں یوشع دروازے میں کھڑا تھا’ وہ قدم قدم چلتا قریب آیا’ زینب بیڈ سے نیچے اتر کر کھڑی ہوگئ……

یوشع یہ جب سے آیا ہے…..

آپ باہر جاۓ میں دیکھ لیتا ہو….’

ہادی کو دیکھ کر کہا…..

وہ بھی کچھ بولے بغیر باہر کی برف بڑھ گئ’ دروازے پہ اب علی اور زاور بھی کھڑے تھے’ ذیان کو گود میں لیا ہوا تھا’ وہ بھی وہی کھڑی ہوگئ…..

یوشع بیڈ پر بیٹھا….’

ہادی نے اپنی ماں کی تصویر کو سینے سے لگایا…”

دو انگلیوں سے تھوڑی سے پکڑ کر ہادی کا چہرہ اوپر کیا….’ جہاں زاروقطار آنسو بہہ رہے تھے’ اتنی دیر سے رونے کی وجہ سے اب تو سبکیاں سی بندھ گئ تھی’ بڑی گہری براؤن آنکھیں’ چھوٹی ناک’ پھولے ہوۓ سے گلابی گال رونے کی وجہ سے لال ہوگۓ تھے…..

یوشع نے شوز اتارے اور اوپر بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا…..’

یوشع نے ہادی سےماہی کی تصویر کو اپنے ہاتھ میں لیا’ تصویر پر ہاتھ پھیرا….’

آج پھر ماما کو یاد کیا جارہا ہے….

ہادی کی طرف دیکھ کر کہا…..

جس کے آنسو گود میں رکھے ہاتھوں پر گر رہے تھے…..

ہادی نے سر جھکاۓ رکھا….’

یوشع نے دوبارہ تصویر کو دیکھا’

دیکھا ماہی’ میں آج پھر اپنا وعدہ پورا نہیں کرسکا’

ہادی نے فوراً جھکا سر اٹھا کر یوشع کو دیکھا’

یوشع ماہی کی تصویر سے مخاطب تھا….’

میں نے صرف ایک پرومس کیا تھا تم سے’ صرف ایک اور دیکھو ‘ وہ بھی میں پورا نہ کرسکا’ آج ایک بار پھر میرا پرومس ہمارے بیٹے کی وجہ سے ٹوٹ گیا’

“میں نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ کبھی ہادی کی آنکھوں میں آنسوں نہیں آنے دوں گا’ تم نے کہا تھا میں ہمیشہ ہمارے بیٹے کا خیال رکھو’ اسے کبھی تمھاری یاد نہ آنے دوں’ کبھی ہادی کی آنکھوں میں تمھیں یاد کرتے ہوۓ آنسوں نہ آۓ’ مگر دیکھو میں غلط تھا’ میرا پرومس ٹوٹ گیا’ تمھیں پتا ہے ماہی…..’

یوشع تصویر کو دیکھتے بات کررہا تھا’ ہادی یک ٹک یوشع کا چہرہ تکتا اس کی باتوں کو سن رہا تھا…..”

ہمارے بیٹے نے بھی مجھ سے ایک پرومس کیا تھا کہ وہ تمھیں یاد کرکے کبھی نہیں روۓ گا’ مجھے لگتا تھا ہمارا بیٹا اپنی باتوں پر قائم رہتا ہے’ وہ جو کہتا ہے’ وہ کرکے دکھاتا ہے’ مگر دیکھو’ میں یہاں بھی غلط تھا’ ہادی نے بھی اپنا پرومس توڑ دیا’ یہ مجھے ہمیشہ رو کر تکلیف دیتا ہے…..’

ہادی کی آنکھوں سے آنسوں نکلنا بند ہوگۓ تھے…..

یوشع کی بھی آواز بھراگئ تھی….’

یوشع نے ہادی کو دیکھا’ آپنے اپنا پرومس توڑ دیا’ بس اتنا کہا گیا….’

بابا میری ماما کیوں نہیں ہے…؟؟؟ وہ یوشع کے سینے سے لگ کر رونے لگا…..’

یوشع نے تصویر کو بیڈ پر رکھ کر ہادی کے گرد اپنے بازوؤں کا گھیرا کرکے اسے خود میں بھینچا….’

پیچھے کھڑے علی اور زینب کی بھی آنکھیں نم تھی…..

(یوشع کے دل میں درد اٹھا’ گلے میں گلٹی سی ابھری’ بابا میری ماما کیوں نہیں ہے…؟؟؟ )

زینب نے علی کی گود سے ذیان کو لیا اور روم سے نکل گئ…..

زاور بھی وہی کھڑا رہا ‘ علی نے بھی وہی کھڑے دونوں بازوں سینے پر باندھ کر دروازے سے ٹیک لگائ…..

“بابا میں نہیں رورہا’

ہادی یوشع سے دور ہٹا….

اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا…..

آئ پرومس بابا’ میں اب ماما کو یاد کرکے نہیں رو گا’ میں رو کر آپکو بھی تکلیف نہیں دو گا’ یوشع نے ہادی کے سر پر پیار کیا اور ایک بار پھر اسے گلے سے لگایا’

علی نے اپنی آنکھیں رگڑ کر ان میں آئ نمی کو صاف کیا….

زاور بیڈ پر چڑھ کر بیٹھا’

یوشع نے زاور کے بال بگاڑے’ ہادی کو خود سے دور کیا…..

اب بتاؤ’ کیا ہوا تھا’ کس نے آپ سے کیا کہا’ جسکی وجہ سے آپ اتنا روۓ ہو….؟؟؟

میں بتاتا ہو چھوٹے پاپا’ ہادی کیوں رورہا تھا…..

بتاؤ…..

زاور نے بتانا شروع کیا…..”

________________________

سکول بریک ٹائم:

ہادی اور زاور دونوں اپنے ہم عمروں کے ساتھ فٹ بال کھیلنے میں مصروف تھے’ اور ایک سائڈ پہ تیرہ’ چودہ سال کے بچے کھڑے باتیں کرنے میں مصروف تھے….. جب ہادی کی بال اڑتی ہوئ ان لڑکوں میں سے ایک لڑکے کی کمر پہ لگی’ ہادی زاور دونوں ہی بال کو لینے بھاگے تھے’ اس لڑکے نے مڑ کر بول اپنے ہاتھوں میں اٹھالی……

بھائ یہ بول ہماری ہے’ ہمیں دے دیں’ ہادی نے کہا….

وہ لڑکے شکل سے ہی آوارہ’ بگڑے ہوۓ لگ رہے تھے…..’

اووو اچھا تمھاری ہے’ ہمت ہے تو لے کر دیکھاؤ…..

اس لڑکے نے بال ہنستے ہوۓ دوسرے لڑکے کو پکڑائ……’

آس پاس دوسرے بچوں کا رش بھی لگنا شروع ہوگیا تھا…..

بھائ بال دے دیں’ اب کی بار زاور نے کہا…..

تم چپ کرو’ تم سے بات نہیں کی ہم نے’ ہم اس ہادی سے بات کررہے ہیں…..’

اوۓ یار’ سنا ہے اس کا باپ اس سکول کا ٹرسٹی ہے…..

انہی میں سے ایک لڑکے نے کہا’

اوۓ یار اور تم سب کو پتا ہے’ اس بیچارے کی تو ماں بھی نہیں ہے…..

بول پکڑے لڑکے نے کہا….. نیچے گھٹنوں کے بل ہادی کے سامنے بیٹھ گیا…..

یہ لو بول’ بول لینی تھی نہ تم نے چھٹکے…..

بول ہادی کی طرف بڑھائ….

ہادی نے بول کو چپ چاپ لینا چاہا’ مگر اس نے ایک بار پھر بول پیچھے کردی…….

نہ نہ اب اتنی بھی کیا جلدی ہے’ آخر کو کمر پہ بول لگی ہے’ بدلا تو لینا ہے….’

سوری بھائ’ غلطی سے لگ گئ تھی’ سوری….

ہادی کی آنکھوں میں آنسوں آگۓ تھے……

ارے ارے دیکھو یہ تو رونے لگا….’ نہ نہ بچے روتے نہیں ہے….’

نیچے بیٹھے لڑکے نے ہادی کے جبڑے کو بھینچا……

باقی لڑکے قہقہہ لگانے لگے’

چھوڑو ہادی کو’ زاور نے چھڑوانے کی کوشش کی’ اپنے چھوٹے ہاتھوں سے اس لڑکے کو مارنے لگا’

مگر اس نے زاور کو بھی دھکا دے دیا….’

سب کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے’ ان بچون میں سے ایک نکل کر دوسری طرف بھاگا…..

چھوڑے مجھے’ ہادی نے بھی خود کو چھڑوانے کی کوشش کی…..

بابا’ ہادی نے پکارا….

لڑکے نے جبڑا چھوڑا…..’

ہادی زور زور سے رونے لگا’

بچے تو اپنی ماں کو پکارتے ہیں اپنی تکلیف میں’ تم باپ کو پکار رہے ہو…..’

ارے اسے کیا پتا ہوگا ماں کی محبت کا’ اس کی تو ماں ہی نہیں ہے….

اب کی بار تیسرے لڑکے نے کہا…..

یہ تو بیچارہ مسکین ہے’ بن ماں کا بچہ’ چچ چچ چچ….

ان لڑکوں نے افسوس کیا….’

کیا ہورہا ہے یہاں یہ سب….؟؟؟

سر کی آواز پر چاروں لڑکوں نے چونک کر سر کو دیکھا’ ان کو ڈانٹ کر وہاں سے سب کو بھیجا گیا……

________________________

یوشع کی آنکھیں ضبط کے مارے سرخ ہونے لگی تھی’ اس نے ہادی کے بال سنوارے’ سر پر پیار کیا’اپنے سینے سے لگایا…..’

اس نے سوچ لیا تھا اس نے کیا کرنا ہے’ اب آگے…..

اتنے میں ملازمہ کھانے کی ٹرے ہاتھ میں لیے روم میں داخل ہوئ….

صاحب یہ کھانا زینب بی بی نے بھیجا ہے ہادی کیلۓ…. علی نے ٹرے اپنے ہاتھ میں لی’ ملازمہ کو واپس بھیج دیا’ علی نے ٹرے یوشع کے پاس رکھی…..

یوشع نے ہادی کو خود سے دور کیا….

کسی کی بھی بات کو دل پہ نہیں لیتے’ میرا بیٹا تو بہت بہادر ہے نہ’

ہادی نے اثبات میں سر ہلایا…..

اور کیا ہوا اگر ہمارے پاس ماما نہیں ہے تو….’

ہادی کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا….’

ہمارے پاس بابا تو ہے’ ہادی کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا…..

ہادی نے اپنا سر ایک بار پھر ہاں میں ہلایا……

ہم پچھلے تین گھنٹوں سے کوشش میں لگے ہوۓ تھے کہ شاید اب چپ ہوجاۓ’ مگر تم نے چند باتوں میں اسے چپ کروادیا’ اگر مجھے پتا ہوتا کہ یہ صرف تم سے سنبھلے گا’ میں تمھیں پہلے ہی کال کرکے بلالیتا…..’

اٹس اوکے’ میں ناراض نہیں ہو….

جاؤ زاور آپ اپنا اور ہادی کا بیگ لے کر آؤ’ ہوم ورک کرتے ہیں پھر پارک چلے گے’ اور واپسی پہ آئسکریم کھاۓ گے……

سچی…

ہاں جاؤ’ اور وہ فوراً بیگ لینے کیلۓ بھاگا…..

علی اب تو سمجھ آگئ ہوگی تمھیں میں اپنے بچے کو اکیلا سنبھال سکتا ہو….’

ہادی کے منہ میں نوالا ڈالتے ہوۓ کہا….’

علی بس چپ رہا’

یوشع نے ہادی کو کھانا کھلایا’ ہوم ورک کرنے کے بعد وہ چاروں پارک کی طرف روانہ ہوگۓ……

“ہر بار کی طرح اس بار بھی یوشع نے ہادی کو سنبھال لیا تھا”

*********

جب سے زاور آیا تھا ہادی نے پارک جانا بھی کم کردیا تھا’ وہ دونوں دن بھر گھر میں ہی کھیلا کرتے تھے’ ہادی جب بھی جاتا اسے بس المیرا کی یاد آتی’ اس کی نگاہیں بس المیرا کو ہی ڈھونڈتی رہتی تھی’ مگر المیرا کبھی نظر نہ آئ…..

اپنی انگیجمنٹ کے بعد سے المیرا نے بھی پارک جانا چھوڑ دیا تھا……

********

یوشع پرنسپل کے آفس میں ریوالونگ چیئر پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھاۓ بیٹھا تھا……

سامنے خالد صاحب اس سکول کے پرنسپل شرمندہ سے بیٹھے نظر آرہے تھے…..

“میں ایک بار پھر معزرت کرتا ہو’ آج کے بعد دوبارہ کبھی ایسا نہیں ہوگا”

میرے والد اس سکول کے ٹرسٹی تھے’ ان کے بعد میں یہاں کا ٹرسٹی ہو’ میرا بیٹا اس سکول میں پڑھتا ہے’ اس سکول کے چار آوارہ لڑکوں نے میرے بیٹے کو بن ماں کا بچہ ہونے کا طعنہ دیا ہے اور آپ یہاں میرے سامنے بیٹھے صرف معزرت کررہے ہیں…..’

یوشع نے غصے سے کہا…..

ایم سو سوری سر’ بٹ یو بلیو می’ ہم نے ان بچوں کو بہت ڈانٹا تھا’ ان کو پنیش بھی کیا تھا’ انفیکٹ ان کے پیرینٹس کو بلاکر ان کے بچوں کی حرکتوں کے بارے میں بھی بتایا ہے…..’

آج کے بعد میرہادی کو کوئ کچھ بھی نہیں کہے گا…..’

خالد صاحب’

وہ سیدھا ہوکر بیٹھا’ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں سامنے شیشے کی میز پر جمائ’ ایک ایک لفظ چبا کر کہا…..

آپ کیلۓ’ اور آپ کے اس سکول کیلۓ یہی بہتر ہوگا کہ میرہادی کو کوئ کچھ نہ ہی کہے’ اگر آج کے بعد میرے بیٹے کی آنکھوں میں آنسو آپ کے اس سکول کی وجہ سے آۓ’ یا اس سکول میں کسی نے بھی ہادی کو کچھ کہا ‘ اس کو بلاوجہ تنگ کیا’ “انگلی وارن کرنے کے انداز میں اٹھائ….”

آپ کیلۓ اور آپ کے اس سکول کیلۓ’ یا اس کیلۓ جو ہادی کو بلاوجہ تنگ کرے گا’ اسے رلاۓ گا’ تو بالکل اچھا نہیں ہوگا کسی کیلۓ بھی…..

جی’ آپ بے فکر رہے’ آج کے بعد ہادی کو کوئ تنگ نہیں کرے گا…..’

یاد رکھیے گا خالد صاحب نہ ہی ہادی کو کچھ بولا جاۓ گا اور نہ ہی زاور کو……. میں اپنی باتیں بار بار دہرانے کا عادی نہیں ہو…..

غصے سے کہتا’ کرسی سے ٹیک لگائ…..

جی…..

یوشع نے ٹائم دیکھا…..

دونوں بچوں کو بلادے’ چھٹی کا ٹائم ہوگیا ہے’ میں انہیں ساتھ لے کر جارہا ہوں…..’

جی ابھی بلادیتا ہو’

پرنسپل نے کال ملاکر دونوں بچوں کو لانے کا کہا…..

یوشع نے گہری سانس لے کر خود کو ریلیکس کیا…..

بچے آگۓ تھے….

بابا… دونوں خوش ہوگۓ….. یوشع چیئر سے اٹھا’ ہادی کو گود میں اٹھا کر پیار کیا’

خالد صاحب سے مصافحہ کرکے’ آئندہ دھیان رکھنے کا کہہ کر’ زاور کا ہاتھ پکڑ کر پرنسپل کے آفس سے باہر نکل گیا…….

*********