No Download Link
Rate this Novel
Episode 36
ایک بار پھر خوشیوں نے گھر میں دستک دے دی تھی….. تین گھروں میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھی…. ایک یوسفزئ ولا میں دوسرا عمران ولا اور تیسرا سیال صاحب کے گھر میں….. جیسے یوشع کا کہنا کہ ہر چیز میں ساتھ ساتھ رہے ہیں’ انگیجمنٹ بھی ساتھ ہوئ ہے تو اب شادی اکیلے کیسے کرسکتا ہو اور ویسے بھی تو مجھ سے بڑا ہے تو شادی تیری پہلے ہوگی…..”
اور وو بیچارہ جو شادی کیلۓ ترس رہا تھا اس کے تو باغ کھل گۓ’ اسکی خوشی تو سنبھالے نہیں سنبھلتی….. اور پھر علی کے موم ڈیڈ اور یوسف صاحب سب بڑے جاکر سیال صاحب سے بات کر آۓ تھے…. انہوں نے بھی کوئ اعتراض نہیں کیا تھا….. وہ بچوں کی خوشی میں خوش ہے….. پھر جیسا المیرا نے کہا تھا کہ شادی کی ڈیٹ دو مہینے کے بعد کی رکھی جاۓ ویسا ہی ہوا….. سب بڑوں کی رضامندی سے دو مہینے بعد کی ڈیٹ رکھ لی گئ….. شادی کی تیاریاں شروع کردی گئ تھی…. المیرا کا تو کوئ نہیں تھا جو اسکی تیاریاں کرواۓ تو سب مل کر اسکی تیاریاں کرارہے تھے….. سب سے آگے یوشع پھر اسکا پیارا بھائ علی اسکی اکلوتی پیاری دوست زینب جس نے اس کا اس کے غم کے دنوں میں کتنا ساتھ دیا اسے اکیلا نہیں چھوڑتی تھی زیادہ تر وقت اس کے ساتھ سپینڈ کیا تھا….. اور پھر مسز عمران تھی جو اسکی تیاری کررہی تھی…. آج ایک ہفتہ ہوگیا تھا ان کی شادی کی بات کو اور سب سے زیادہ خوشی تو اب ماہین عمران کو ہورہی تھی….. وہ اپنے روم میں تھی…..
المیرا کی تصویر کو اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا تھا…. وہ اسکی تصویر کو نفرت کی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی…. ایک ہاتھ میں لائٹر تھاما ہوا تھا…..
چچ چچ چچ المیرا المیرا ٹھینک یو سو مچ!! کب سے صبر کررہی تھی ان دنوں کا پانچ مہینے سے’ کہ کب تمھاری شادی کے دن آۓ؟؟ کب یوشع کو اپنا بناؤ؟؟ اور دیکھو تم نے کام آسان کردیا’ شادی کیلۓ ہاں کرکے…..” ہاہاہاہا”
وہ اس وقت بالکل پاگل جنونی لڑکی لگ رہی تھی……
صرف دو مہینے اور المیرا خان اس کے بعد یوشع پہ میرا حق ہوگا اور تم اسکی زندگی سے کوسوں دور چلی جاؤ گی” یوشع جتنا گھومنا ہے گھوم کو المیرا کے ساتھ ‘ المیرا جتنا بھی تم نے یوشع کے قریب رہنا ہے رہ لو’ کیونکہ صرف ایک مہینہ اور بائیس دن رہ گۓ ہیں تم دونوں کے پاس’ جتنا ایک دوسرے کے قریب رہ سکتے ہو رہ لو کیونکہ ان سب کے بعد زندگی بھر کی جدائ….”
تم نے کہا تھا یوشع کہ تم میرے کبھی نہیں ہوگے ہاہاہا’ مگر اب وہ دن دور نہیں یوشع یوسفزئ کہ تم خود مجھ سے نکاح کرو گے’جو بازی میں کھیلوں گی اس کے بعد تو المیرا خان بھی تم سے نفرت کرنے لگے گی’ تمھارے وجود سے اسے نفرت ہوجاۓ گی صرف نفرت”
نفرت ہے مجھے تم سے المیرا خان’ سنا تم نے صرف اور صرف نفرت شدید نفرت……”
اس نے اس کی تصویر کو آگ لگائ….. تصویر میں شعلے بڑھکے تھے…. اس نے تصویر کو زمین پر گرایا….. اس پر اپنا پیر رکھا….. تصویر کو مسل کر راکھ کردیا…..
جو کوئ بھی میرے اور یوشع کے درمیان آۓ گا اسے جلا کر یوں ہی راکھ کر دوں گی…..”
صرف ایک مہینہ بائیس دن یوشع اس کے بعد تم زندگی بھر کیلۓ میرے’ تم پہ صرف میرا حق ہوگا…..”
وہ اس وقت بالکل سائیکو لگ رہی تھی جو ایک انسان کو پانے کیلۓ کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھی……
کاش!! اسے یہ بات سمجھ آتی کہ عشق محبت میں تو فقط اپنے محبوب کی خوشی دیکھی جاتی ہے خوشیوں کو چھینا نہیں جاتا” اپنی خوشیوں کا گلا گھونٹا جاتا ہے محبوب کی خوشی کیلۓ” اپنی انا کو مارنا پڑتا ہے……”
مگر بہت جلد جب وقت کا تماچہ ماہین عمران کے منہ پر پڑے گا تو اسے سب سمجھ آجاۓ گا کہ عشق محبت میں کیا چیز دیکھی جاتی ہے ….. تب اسے افسوس ہوگا اس نے جو کیا غلط کیا….. دو لوگوں کے معصوم عشق کو تباہ کردیا….. بہت جلد وقت ماہین عمران کو سب کچھ بتادے گا…… سب کچھ سکھادے گا……
***
اسی طرح یوشع اپنے آفس روم میں کھڑا تھا… سامنے زینب بھی کھڑی تھی….
یار کیا ہے آج المیرا ابھی تک نہیں آئ’ وہ نو بجے آجاتی ہے اور اب بارہ بج گۓ ہیں…..”
مجھے نہیں لگتا یوشع کہ وہ اب آۓ گی کیونکہ اسے اگر آنا ہوتا تو وہ صبح ہی آجاتی….”
تمھاری بات ہوئ اس سے کیونکہ میں اسے صبح سے کتنی ہی کالز کرچکا ہو مگر وہ نہیں اٹھارہی….”
نہیں میری بات نہیں ہوئ اس سے میں نے بھی کال کی تھی مگر نہیں اٹھارہی…..”
یار میرا دل بہت بےچین ہورہا ہے…..”
زینب مسکرائ….. یہ بالکل پاگل ہے……
علی آگیا….”
ہاں وہ ابھی آۓ ہیں آج انہیں بھی لیٹ ہوگیا تھا اپنے روم میں ہے….”
ٹھیک ہے میرا دل بہت بےچین ہورہا ہے اور جب تک میں اسے دیکھ نہیں لوں گا مجھے چین نہیں پڑے گا’ آج کی جو بھی ساری میٹنگ ہے وہ کینسل کرو یا علی سے کہہ دینا وہ مینج کرلے…..”
وہ بولتا ہوا ساتھ میں اپنی چیزیں بھی اٹھا رہا تھا….
یوشع آج کی میٹنگ بہت ایمپورٹنٹ ہے’ آج کی میٹنگ میں تمھارا ہونا صروری ہے ورنہ کمپنی کو لوژ ہوسکتا ہے….”
مجھے کوئ فرق نہیں پڑتا زینب کہ کمپنی کو لوژ ہو یا آج کی میٹنگ کتنی ہی ایمپورٹنٹ کیوں نہ ہو؟؟ مجھے اس وقت صرف مہرو کی ٹینشن ہے اور اب میں جارہا ہو اس کے پاس علی کو بتادینا’ میٹنگ کو کینسل کرو یا اسے مینج کرو اٹس یور ورک یا علی جیسا کہے ویسا کرلینا…..”
وہ روم سے نکل گیا…..
المیرا سچ میں بہت خوش قسمت ہے یوشع جو اسے تمھارے جیسا لائف پارٹنر ملنے جارہا ہے’ کبھی کبھار تو تم دونوں کی محبت کے اگے مجھے اپنی اور علی کی محبت بھی بہت تھوڑی لگتی ہے’ مگر نہیں علی بھی مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں’ میری بہت فکر کرتے ہیں’ اللّه ہم سب کو خوش رکھیں لوگوں کی بری نظروں سے بچاۓ آمین…..”
وہ بھی روم سے نکل گئ….
یوشع رش ڈرائیونگ کرکے المیرا کے گھر پہنچا تھا…. لاؤنج میں آیا….ایک ملازمہ وہاں سے گزررہی تھی…. یوشع کو دیکھ کر رکی…..
المیرا کہاں ہے؟؟
وہ اپنے روم میں ہے آج ان کی طبیعت نہیں ٹھیک؟؟؟
کیا ہوا ہے اسے؟؟
صبح سے بخار ہے انہیں……”
اس نے کچھ کھایا ہے اب تک؟؟؟
نہیں صاحب!!!
ہممم اوکے……”
وہ المیرا کے روم کی طرف بڑھ گیا…..
تبھی مجھے اتنی بےچینی ہورہی تھی میڈم بیمار جو پڑی ہے….”
خود سے بڑبڑایا….
اس کے روم کا دروازہ کھولا….. وہ بیڈ پر سر تک کمبل تانے لیٹی تھی……
وہ دروازے پہ رکا….. اس کے دل کو تھوڑا قرار مل گیا….. اس کو یہاں دیکھ کر….
وہ اس کے قریب آیا….
المیرا اٹھو…..” اس نے اس کا کمبل کھینچا….
مگر پھر خود پر غصہ آیا اس نے فوراً منہ پھیرا…… اس کے کپڑوں کی ترتیب نہیں تھی….
اسکی بھی ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آنکھ کھولی تھی بس بستر سے اٹھنے کی ہمت نہیں ہوئ تو وہ یوہی لیٹی رہی….
مگر یوشع کی اس حرکت پر وہ فوراً اٹھ کر بیٹھی’ کپڑے صحیح کیے’ اسے شرمندگی ہورہی تھی….. اس کے پاس دوپٹہ بھی نہیں تھا….. یوشع کو بھی خود پر غصہ آیا تھا کہ کیا ضرورت تھی یہ حرکت کرنے کی…. وہ اپنا دوپٹہ بیڈ پر ادھر ادھر دیکھ رہی تھی….. یوشع کی نظر اسکے دوپٹے پر پڑی…. جو زمین پر بیڈ کے نیچے پڑا تھا….. یوشع نے جھک کر اس کا دوپٹہ اٹھایا…. وہ نظریں جھکاۓ بیٹھی تھی…..
یوشع نے دوپٹہ کھول کر اس کے سر پر پھیلایا’ اس کے کندھوں پر دوپٹے کو اچھی طرح پھیلایا…..
یہ دوپٹہ زمین پر نہیں سر پر اچھا لگتا ہے’ مجھے میری مہرو جب اچھی لگتی ہے جب وہ خود کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھتی ہے….”
وہ مسکرائ…..
اس نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اس کا ٹمپریچر چیک کیا….. آگ کی طرح گرم ہورہی تھی وہ….
موبائل کہاں ہے تمھارا؟؟؟؟
وہ وہ…” اس نے ادھر ادھر دیکھا…..
نہیں معلوم…..”
یوشع نے اسکی آنکھوں کو دیکھا….
اسکی انکھیں گلابی ہورہی تھی….. ناک سرخ تھی….. بخار کی حدت کی وجہ سے….
میں باہر ویٹ کررہا ہو تمھارا’ اٹھو!! فریش ہو اور پھر میرے ساتھ ڈاکٹر کے چلو’ جلدی آجاؤ…..”
وہ اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتا اٹھ کھڑا ہوا…. گال تھپتھپاتا وہ باہر نکل گیا….. وہ تھوڑی دیر یونلں ہی بیٹھی اس دروازے کو دیکھتی رہی….. جہاں سے وہ گیا تھا…..
اس نے اپنے دوپٹے کو دیکھا…. اپنے ماتھے کو چھوا…..
کتنا رشک کرے اپنی قسمت پر’ کتنا شکرادا کرے اپنے رب کا….”
وہ اٹھی فریش ہوئ….
یوشع نے پہلے اسے بریک فاسٹ کروایا اور اس کے بعد اسے لے کر ڈاکٹر کے چلا گیا……
***
یوشع المیرا کے گھر آیا تھا… آج دوسرا ہفتہ ہوگیا تھا ان کہ شادی کی بات کو….
المیرا اپنے روم میں تھی…..
یوشع بھی آیا…..
المیرا میری جان’ یہ دیکھو مین تمھارے لۓ کیا لے کر آیا….”
وہ ہواؤں میں اڑ رہا تھا….
کیا؟؟؟
اس نے اس کا رخ شیشے کی طرف کیا…..
اس کے گلے میں گولڈ کی چین پہنائ….. جس پر یوشع لکھا تھا…. اور اسی کے نام کے ایک حرف میں اے لکھا تھا جس سے المیرا…..
واؤ’ اٹس سو بیوٹیفل…..”
اس نے اس گولڈ کی چین پر ہاتھ پھیرا…..
بیوٹیفل تو ہوگی…… اتنے پیار سے جو بنوائ ہے…..
وہ ڈریسنگ ٹیبل پر چڑھ کر بیٹھا… سیب اٹھا کر بائیٹ لی….
ویسے میں ایک ڈائمنڈ کا سیٹ بھی بنوارہا ہو…..”
کس کیلۓ اور کیوں؟؟؟
یوشع نے غصے میں سانس خارج کی…
ہمسائیوں کی ایک لڑکی پسند آگئ ہے’ اس کیلۓ بنوایا ہے اسے گفٹ کرو گا….”
اس نے تپ کر کہا… اسے تپ ہی تو چڑھی تھی اس کے بیہودہ سوال پر…..
یار عجیب ہی بات ہے ویسے’ کس کیلۓ بنواؤ گا’ تمھاری منہ دیکھائ کیلۓ بنوارہا ہو’ منہ دیکھائ نہیں لو گی کیا؟؟؟ اور اگر نہیں لینی تو بتادو نہیں بنواؤ گا’ اچھی بات ہے میرا خرچہ ہونے سے بچ جاۓ گا…..”
یوشع یوسفزئ…..” وہ ڈریسنگ سے نیچے اترا…..
ویسے تو مجھے جیولری بالکل پسند نہیں ہے’ مگر تمھاری جیبیں بھی اگر میں نے خالی نہ کروائ تو میرا نام بھی المیرا خان نہیں….”
وہ مسکرایا کچھ سوچ کر مسکرایا…..
(باپ سے رشتے بھلے سارے ختم کردیے ہو مگر اپنا پورا نام اب بھی فخر سے بتاتی ہے کہ مین المیرا خان ہو’ صحیح کہا ہے رشتے کہان ختم ہوتے ہین اتنی اسانی سے ختم کردینے سے بھی ختم نہیں ہوتے’ یہ خون کے رشتے ہیں)
ایک شیر تو دوسرا سوا شیر…..
ہمم گڈ’ مگر شادی کے بعد میرے لۓ تو پہنو گی نہ جیولری’ میرے لۓ تو سجو سنورو گی…..”
کیوں المیرا خان اپ کو سادگی میں نہیں پسند…..”
پوشع نے اپنے ہاتھ پیچھے کمر پر باندھے…… اگے اس کی طرف جھکا….
یوشع یوسفزی نے اپنا دل المیرا خان کی اسی سادگی پر وارا ہے’ یہ دل دھڑکتا مجھ میں ہے’ مگر چوبیس گھنٹے تمھارے نام لی مالا جپتا ہے’ میری ہر سانس تمھارا نام لیتی ہے’ میرے دل کی ہر ایک دھڑکن میں تم بسی ہو’ میرا دل اب میرا نہین رہا نمک حرامی کرگیا ہے یہ میرے ساتھ’ دل تو دور کی بات ہے میں بھی اب اپنا نہیں رہا’ میری سوچوں میں’ میرے خوابوں میں صرف تم ہو’ نہ تم سے پہلے کوئ تھا اور نہ تمھارے بعد کوئ ہوگا…..”
یاد رکھنا المیرا خان اس بات کو….
اس کے گال لال ہوۓ…..
وہ اور اسکی طرف جھکا…..
المیرا خان ڈیڑھ مہینہ ہماری شادی میں رہ گیا ہے’ قسم سے یہ بلش کرنہ چھوڑدو’ کیونکہ میں بہت بڑا بےشرم ہو’ شرم نام کی مجھ میں ذرا بھی چیز نہیں ہے’ شادی کے بعد مت شرمانا’ جب میرے پاس آؤ تو اپنی ساری شرم یہی چھوڑ کر آنا’ کیونکہ جب جب تم بلش کرتی ہو تو میری نیت خراب ہوجاتی ہے’ اور پھر دل کرتا ہے کہ کوئ شرارت کردو’مگر کنٹرول کرجاتا ہو صرف تمھارے بارے میں سوچ کر’ اور یہ بھی کہ اگر تمھیں محسوس کرو گا تو صرف حلال طریقے سے’ کیونکہ حرام چیزیں یوشع کو نہین پسند……”
وہ اس کے کتنا قریب تھا اس قدر قریب کہ اس کی سانسیں اس کو اپنے کان پر آرام سے محسوس ہورہی تھی بس ایک انچ کا فاصلہ تھا اگر وہ تھوڑا اور اس کے قریب ہوگیا تو بولتے ہوۓ اس کے لب اس کے کان کی لو کو چھو جاۓ….
دل کی دھڑکنون کی سپیڈ بڑھ گئ تھی…..
وہ اس سے دور ہٹا…. اس کی چہرے کو دیکھا….
شرم سے اس کی پلکیں جھکی ہوئ تھی……
اب تم بتاؤ تم نے مجھ مین کیا پسند کیا…..؟؟؟
آپکا ڈمپل…..”
اس کو حیرت کا جھٹکا لگا…
بس صرف ڈمپل…..”
ہاں تو’ آپ میں پسند کرنے والی کوئ چیز ہے جو پسند کی جاۓ…..” اس نے آرام سے کندھے اچکاۓ….
یوشع یوسفزئ کی ایک نظر کیلے لڑکیاں مرتی ہے’ سب یوشع یوسفزئ پ اپنا دل ہارتی ہے اور تم کہتی ہو….”
ہان تو سچ ہی کہا ہے مین نے مجھے بس آپکا ڈمپل پسند ہے…..” وہ اسے تنگ کررہی تھی ورنہ یوشع میں ایسی کوئ چیز نہیں جس کی بنا پر اسے ریجیکٹ کیا جاسکے’ اس کا تو وجود محبت سے بھرپور ہے’ وہ بہت خوبصورت ہے….”
المیرا کی بچی تم…..” اس نے انگلی اٹھائ…..
اس سے پہلے وہ اسے کچھ کہتا اس کا موبائل رنگ ہوا……
صبر کرو تم ‘ تمھیں تو ابھی بتاتا ہو…..” اس نے جیب سے موبائل نکالا…..
خان انکل کالنگ….”
اس نے ایک نظر المیرا کو دیکھا….. وہ اسی کو دیکھ رہی تھی…..
اس نے یس کرکے کان سے لگایا…. سلام دعا کی….
دوسری طرف سے کچھ کہا گیا….. یوشع چپ چاپ سنتا رہا….
اس نے موبائل المیرا کی طرف بڑھایا…..
المیرا نے آئبرو اچکائ…..
انکل کی کال ہے بات کرلو…..”
وہ اس کے ہاتھ میں پکڑے موبائل کو دیکھتی رہی….
یوشع نے پھر اشارہ کیا کہ بات کرلو…..”
مگر نہیں وقت کب کا نکل چکا…..
نہیں کرنی مجھے ان سے بات’ میں ان سے اپنے سارے رشتے ختم کرچکی ہو……”
وہ چینخی تھی….
دوسری طرف سے خان کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوۓ تھے… انہوں نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا…..
سنا آپ نے نہیں ہے آپ سے میرا کوئ رشتہ’ مرگے ہیں آپ میرے لۓ…..”
اس کی بھی انکھوں سے آنسوں جاری ہوۓ تھے…..
یوشع نے بےبسی سے اپنے لب کاٹے…..
آپ سے تین مہینہ صبر نہیں ہوا بابا’ آپ تین مہینے مین کتنا تڑپ رہے ہیں مجھ سے بات کرنے کیلۓ تو سوچے میں بھی تو تھی ‘ میں نے بھی آپکی بائیس تئیس سال بےرخی برداشت کی ہے’ میرا کیا قصور تھا جو میرے ساتھ ایسا کیا گیا….”
کتنے سالوں تک برداشت کیا کتنی تکلیفیں برداشت کی’ اور آپ سے تین مہینے برداشت نہیں ہوریا’ نہیں بابا اب آپ بھی گزرے گے ان تکلیفوں سے جن سے میں پچھلے تئیس سالوں سے گزرتی آرہی ہو’ آپ کو بھی پتا لگنا چاہیے کہ کسی کو بےرخی دکھانا ان سے بات نہ کرنا کتنا تکلیف دہ عمل ہوتا ہے…..” کرے گے اپ سب برداشت کرے گے جو میں نے کیا…..”
خان نے آنکھیں بند کی…..
المیرا بھی روتے روتے زمین پر بیٹھی….
یوشع نے کال کاٹ دی…..
وہ گھٹنوں کے بل زمین پر اس کے سامنے بیٹھا…. اس کو اپنے سینے سے لگایا….
وہ اس کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رودی…..
المیرا تم اب بھی بہت بڑی غلطی کررہی ہو’ اب اتنی سزا مت دو انہین’ ورنہ پچھتاوے کے سواکچھ نہیں رہے گا…..”
نہیں میں میں انہیں کبھی معاف کروں گی’ کبھی نہیں…..”
وہ بھی بول کر چپ ہوگئ…. وہ بھی چپ رہا……
***
جاری ہے
مجھے امید ہیں آپ سب ٹھیک ہونگے اور آپ سب میرے ساتھ بھرپور تعاون کرے گے…. جیسا کہ آپ سب جانتے ہی ہے کہ عید قریب ہے مصروفیات بڑھ جاتی ہے…. ویسے میرے پاس تو ایسی کوئ مصروفیت نہیں مگر پھر بھی مجھے ایک ایپی لکھنے میں دو تین دن لگ جاتے ہیں…. اسی لۓ ایک دن بعد آپ کو اپی دی جاۓ گی….. جیسے اب دی گئ ہے…. آج دی گئ ہے تو نیکسٹ ایپی آپ کو کل کا گیپ کرکے پرسوں دی جاۓ گی….. تاکہ میں لکھ سکوں…. اور آپ بار بار نیکسٹ کرکے مجھے شرمندہ نہیں کرے گے…. خوش رہیں….
