Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

Visal-e-Javedan وصال جاوداں

شام کی چاۓ کا وقت ہوچکا تھا…. وہ سب باہر لان میں سوئمنگ پول کے قریب رکھی کرسیوں پر بیٹھے تھے…. جب ملازمہ ٹی ٹرالی اور کچھ کھانے کا سامان لائ….

یوشع ذیان کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھا…. یوشع نے ہادی کو دیکھا جو سلائڈ کررہا تھا اور خوب ہنس رہا تھا….

وہ دوپہر سے ہی اسی طرح بہت خوش تھا’ اپنے سارے کھلونے زاور کو دیکھاۓ’ جو اس ایک سال میں یوشع نے لے کر دیے تھے’ زاور نے بھی اپنے کھلونے ہادی کو دیکھاۓ جو وہ کراچی سے اپنے ساتھ لایا تھا…. دونوں نے خوب کھیلا تھا کھلونوں سے… ہوم ورک بھی اب تک نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی یوشع نے کرنے کا کہا…..

آج تو جیسے ہادی’ یوشع کو بھول ہی گیا تھا…. ذیان کے رونے کی آواز گونجی…. زینب نے ذیان کو یوشع کی گود سے اپنی گود میں لیا’ ملازمہ چاۓ سرو کرکے اندر چلی گئ تھی…. زینب نے ذیان کو چپ کرواتے ہوۓ ساتھ ہی بچوں کو بھی آواز لگائ….

بچوں آجاؤ چاۓ پی لو….

دونوں دوڑے چلے آۓ….

ہادی اپنی چیئر پر بیٹھنے لگا تھا جب ایک نظر یوشع کو دیکھا’ جو اسی کو دیکھ رہا تھا’ ہادی مسکرایا’ یوشع بھی جواباً مسکرایا”

میرو اپنی چیئر چھوڑکر’ گھوم کر آکے یوشع کی گود میں چڑھ کر بیٹھا….

یاد آگئ بابا کی…. خفا خفا سا پوچھا….

ماتھے پہ آۓ بالوں کو پیچھے کرتے ماتھے پر پیار کیا’

جی بابا…… بہت ہی معصومیت سے جواب دیا….

سب کا قہقہہ بلند ہوا’ یوشع کا حیرت کے مارے منہ کھل گیا….

کیا تم سچ میں مجھے بھول گۓ تھے…؟؟

اب کی بار ہادی کا قہقہہ گونجا…..

بابا میں آپکو بھول سکتا ہو…

اب کہ یوشع کو کچھ اطمینان ہوا” پیچھے سے ہی ہادی کو ہگ کیا….

زاور نے بھی ہادی کی نکل کی’ اپنی چیئر سے اٹھ کر علی کی گود میں بیٹھا’ ایک بار پھر سب کا قہقہہ بلند ہوا’ دوپہر والی اداسی اب کم ہوچکی تھی….

یوشع نے چاۓ کا کپ اٹھا کر ہادی کو دیا’ سب نے اپنے اپنے کپ اٹھاۓ….

اب جب یہی رہنا ہے تو میں سوچ رہا ہو کہ کل ہی زاور کا بھی ایڈمیشن کروادیتے ہیں’ کیوں اسکی پڑھائ کا لوژ ہو’ دونوں ہی ایک ساتھ اسٹڈی کرے گے….

یوشع نے علی کو دیکھ کر کہا…

مانا کہ ہم یہاں آگۓ ہیں’ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کی ہم اس گھر میں رہیں گے’ ہم اپنے گھر میں جاۓ گے….

اور تمھیں لگتا ہے میں تمھیں اب یہاں سے جانے دوں گا…..

یوشع نے آئبرو اچکا کر کہا…. اگر تمھیں یہاں سے بھیجنا ہوتا’ تو میں تمھیں یہاں کبھی نہ بلاتا’ یہ اتنا بڑا گھر ہے’ یہی رہو’کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے’ تم سب آگۓ ہو اس گھر کی بھی تنہائ کم ہوجاۓ گی’اور ہادی کا بھی دل لگا رہے گا”

علی تم کہیں نہیں جاؤ گے’ یہی رہو گے…. یوشع نے علی کو منہ کھولتا دیکھ کر کہا….

علی کوسمجھ نہ آیا’ منت کی گئ ہے’ یا آرڈر سنایا گیا ہے…”

بڑے پاپا آپ یہی رہو گے…. آپ سب کہیں نہیں جاؤ گے…. بڑی ماما آپ بولے نہ بڑے پاپا سے وہ یہی رہیں گے’ کہیں نہیں جاۓ گے….

زینب نے علی کی طرف دیکھا….

بابا کیا ہم یہاں نہیں رہ سکتے ہادی کے ساتھ’مجھے ہادی کے ساتھ رہنا ہے…. زاور نے بھی کہا….”

اور چاروناچار علی کو ماننا پڑا….

اوکے… یہی رہیں گے…. اب خوش…

ہرررررےے….

زاور اور میرو نے نعرہ لگایا….

یوشع نے تشکرانہ نظروں سے علی کو دیکھا….

ٹھیک ہے یوشع آپ زاور کا بھی کل ایڈمیشن کروادینا…. زینب نے کہا….

اوکے….

اور اب آپ میرو کو دیکھا…. بہت کھیل لیا آپ نے…. اب آرام سے اپنا ہومورک کرلینا….

جی بابا…..

خوش گیپوں میں چاۓ کا اختتام کیا گیا…..

********

وہ دونوں لاؤنج میں ساتھ ساتھ داخل ہوۓ تھے کہ سامنے سیڑھیوں سے زینب اترتی دیکھائ دی…. وہ سیڑھیوں سے اترچکی تھی اور وہ دونوں بھی سیڑھیوں کے قریب پہنچ چکے تھے….

آگۓ آپ لوگ…. کھانا لگواؤ آپ دونوں کیلۓ….

نہیں’ ہم کھا کر آۓ ہیں…. علی نے جواب دیا…

وہ دونوں سات بجے گھر سے باہر چلے گۓ تھے….علی زبردستی یوشع کو لے کر گیا تھا تاکہ اس کا موڈ کچھ ٹھیک ہوجاۓ اور وہ اب گیارہ بجے واپس آۓ تھے… یوشع کا موڈ بھی اب ٹھیک ہوگیا تھا….

بچے سوگۓ…. علی نے پوچھا…

ہاں دس بجے ہی سوگۓ تھے….

میرو تو نہی سویا ہوگا ابھی کیونکہ وہ میرے بغیر نہیں سوتا’ جب تک میں اسے نہ سلاؤ…

وہ تذبذب کا شکار تھا جیسے پتا نہیں کیا سننا چاہتا ہوں….

زینب مسکرائ….

صحیح کہہ رہے ہو وہ ابھی تک نہیں سویا’ تمھارا ویٹ کررہا ہے’ میں نے کتنی کوشش کی کہ وہ سوجاۓ’ مگر اسکی ایک ہی رٹ تھی کہ بابا کے بغیر نیند نہیں آتی’ میں ان کے بغیر نہیں سوتا’ وہی مجھے سلاۓ گے….”

یوشع نے اطمینان بھری سانس خارج کی’ کہاں ہے وہ؟؟ مسکرا کر پوچھا….

اپنے روم میں ہیں…. وہی زاور بھی سورہا ہے….

اوکے… وہ اوپر کی طرف بڑھا….

پیچھے زینب اور علی بھی گۓ….

ہادی کے روم کا دروازہ کھولا تو وہ وہی بیڈ پر بیٹھا اپنی آنکھوں کو مسل رہا تھا….

یوشع کو دیکھا….

بابا آپ آگۓ” کہتا بیڈ پر کھڑا ہوگیا….

وہ قدم قدم چلتا ہادی کے پاس پہنچا….

جی میری جان بابا آگۓ….

یوشع نے ہادی کو اپنی گود میں اٹھایا اور ہادی تو ویسے ہی یوشع کا انتظار کررہا تھا….

یوشع کے گلے کے گرد اپنے ہاتھوں کا گھیرا کرکے کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لی…

اور وہ دونوں ان باپ’ بیٹوں کا پیار دیکھ کر مسکرا رہے تھے…. صدا ان کی خوشیوں کیلۓ دعاگوں تھے….”

وہ ہادی کو لے کر روم سے جانے لگا….. علی کو حکم دیا….

زاور کو بھی اٹھا کر میرے روم میں لے آؤ’ میرو میرے ساتھ میرے روم میں ہی سوتا ہے’ اور پیچھے سے زاور اٹھ گیا تو اکیلے میں ڈر نہ جاۓ’ میرے روم میں لے آؤ’ میرے ساتھ ہی سوجاۓ گے….”

اپنی سنا کر سامنے والے کی سنے بغیر روم سے نکلا… علی نے بھی زاور کو گود میں اٹھایا’ اور یوشع کے روم کی طرف قدم بڑھادیے… زینب بھی اپنے روم میں چلی گئ…

جب علی روم میں داخل ہوا’ اس وقت یوشع بیڈ پر لیٹ رہا تھا….

علی نے بھی زاور کو بیڈ پہ لٹا کر اس کے پاس ہی بیٹھ گیا’ ہادی نے یوشع کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرلی….

علی’ زاور کے بالوں میں ہاتھ پھیررہا تھا اور یوشع ہادی کے….

یہ روز اسی طرح سوتا ہے….

ہاں…

اووو تبھی تو تمھارے بغیر اس کو نیند نہیں آتی’ تمھاری عادت جو ہے…”

یوشع ہنسا’

اس ایک سال میں ہوئ ہے تمھاری عادت’ ورنہ جب تک ہادی تین سال کا نہیں ہوگیا تھا زینب ہی ہادی کو سلاتی تھی…. اس کے بعد تم یہاں آگۓ…

تم اچھی طرح جانتے ہو’ میں یہاں کیوں آیا تھا….

وہ دونوں اپنے بیٹے کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے’ سامنے دیوار پہ نظریں مرکوز کیے بات کررہے تھے….

ہاں’ جانتا ہو….

تم زاور کو اپنے ساتھ نہیں سلاتے کیا….

وہ میرے سے سوتا ہی نہیں ہے’ اس کے پاس اس کی ماں ہے’ وہ ماں کے بغیر نہیں سوتا’ ہر چیز میں زاور کو ہینڈل کرنا میرا کام ہے’ کیونکہ زینب کی وہ سنتا نہیں ہے’ مجھ سے تھوڑا بہت ڈرتا تو ہے’ وہ بھلے سارا دن بھی میرے ساتھ رہ لے مگر سوتے ہوۓ بس زینب یاد آتی ہے”

یوشع مسکرایا….

کچھ دیر کی خاموشی چھاگئ….

ہادی تمھارے بغیر سوتا نہیں ہے’ تم ذرا سی دیر کیلۓ نظروں سے دور ہوجاؤں تو وہ رونے لگ جاتا ہے’ اور پھر بھی تم کہہ رہے تھے کہ میں ہادی کا خیال رکھو….”

یوشع نے ہادی کو دیکھا’ جو سو چکا تھا…”

کچھ دن کی پریشانی ہوگی’ پھر سب ٹھیک ہوجاۓ گا’ میرو سنبھل جاۓ گا”

تم سنبھل پاۓ ہو ابھی تک جو ہادی سنبھل جاۓ گا’ یہ تو پھر بچہ ہے’ ابھی صرف چار سال کا ہے…..

کچھ دیر کی پھر خاموشی چھاگئ…

یوشع تمھیں نہیں لگتا ہادی کو ایک ماں کی ضرورت ہے….

نہیں’ ہادی کیلۓ میں خود کافی ہو’ اپنے بیٹے کو میں سنبھال لیتا ہو’ آگے بھی سنبھال لو گا….

یوشع صرف سنبھالنا ہی کافی نہیں ہوتا’ بچوں کو ماں کے پیار کی ضرورت ہوتی ہے….

علی’ میرو کو پیار کرنے کیلۓ میں بہت ہو’ اور اگر تم یہ سوچ رہے ہو کہ مجھے بلیک میل کرکے تم شادی کیلۓ راضی کرلو گے تو یہ بھول ہے تمھاری’ میں کبھی شادی نہیں کروں گا’ نہ ہی اب’ اور نہ ہی بعد میں…..

علی کو دیکھ کر کہا….

اور نہ اب مجھے اس ٹاپک پہ کوئ بات کرنی ہے…. اس نے غصے سے کہہ کر آنکھوں پر بازو رکھا….

صاف ظاہر تھا کہ وہ روم سے چلا جاۓ’ مجھے بات نہیں کرنی….

علی نے اپنے غصے کو کنٹرول کیا’ زاور کے ماتھے پر پیار کرکے اٹھا’ دوسری سائڈ پر آیا’ جھک کر یوشع کے سینے پر سر رکھے ہادی کے ماتھے پر پیار کیا….. اور سیدھا ہوکر قدم قدم چلتا دروازے کی چوکھٹ پہ رکا’

یوشع یوسفزئ میری بھی ایک بات یاد رکھنا’

اگر تم ضدی ہو تو میں بھی تمھارا بڑا بھائ ہو’ تم سے زیادہ ضدی میں ہو….

میں بھی دیکھتا ہو کہ تم کیسے شادی نہیں کرتے’ میرے یہاں آنے کا مقصد صرف تمھاری شادی ہے ‘ جب تک تمھاری شادی نہیں کروادیتا’ میں بھی سکون سے نہیں بیٹھوں گا’ اور نہ ہی تمھیں سکون سے جینے دوں گا…..

غصے سے کہہ کر روم سے نکلا’ اپنے پیچھے زور سے دروازہ بند کیا….

یوشع نے آنکھوں سے بازو ہٹایا….

“کتنا اچھا ہوتا ماہی’ اگر تم مجھے اکیلا چھوڑ کر نہ جاتی’ میرا نہ سہی میرو کا ہی خیال کرلیتی’ کہ وہ تو بچہ ہے’ اور ایک بچے کو اپنی ماں کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے…”

یوشع نے یادوں کو جھٹکا’

دروازے کو دیکھا جہاں سے علی ابھی غصے سے نکلا تھا’ وہ جانتا تھا کہ علی ناراض ہوگیا ہے… یوشع نے دوبارہ آنکھیں بند کرلی….

*******

“اور کبھی کبھی شام اس طرح سے ڈھلتی ہے کہ ہمیں اپنے دل سمیت’

سب کچھ ڈوبتا ہوا محسوس پوتا ہے’

زوال چاہے کسی بھی دن کا ہو یا کسی بھی عروج کا’

ہمیشہ اداس کرجاتا ہے”

____________________

دونوں ایک ساتھ آفس میں اینٹر ہوۓ تھے…. بات کرتے ہوۓ لفٹ کی طرف بڑھ رہے تھے….. لفٹ کے پاس پہنچ کر بٹن دبایا’ ایلیویٹر کے دونوں پٹ اوپن ہوۓ….

المیرا سوچ رہی تھی ایک ساتھ اندر جاۓ یا نہیں….

المیرا جی آپ پہلے چلی جاۓ’ میں بعد میں آجاؤں گا….

اور وہ حیران تھی کہ جہان کو کیسے پتا چلا کہ میں کیا سوچ رہی ہو’ مگر المیرا کو کیا معلوم کہ کئ سالوں سے جہان صرف المیرا کو ہی تو پڑھتا آیا ہے’ اور اب بھی کیسے نہ سمجھتا کہ المیرا کیا سوچ رہی ہے….

ایک بار پھر بٹن دبایا گیا….. کیونکہ وہ بند ہوچکی تھی….

المیرا آگے بڑھی’ آپ بھی آجاۓ’ مجھے کوئ ایشو نہیں ہے اور ویسے بھی آپ میرے لۓ غیر تو نہیں ہے’ جو میں آپ کے ساتھ نہیں جاسکتی….

وہ اندر چلی گئ تھی’ جہان بھی مسکراتا’ بالوں میں ہاتھ پھیرتا المیرا کے پیچھے لفٹ میں داخل ہوا…. مطلوبہ فلور کا بٹن دبایا’ لفٹ اوپر کی طرف چل دی…..

“المیرا کے الفاظ نے آج جہان کو ڈھیروں خوشیاں دی تھی…. اس سے پہلے کہاں المیرا نے اس طرح سے کہا تھا کہ آپ کونسا غیر ہے’ شاید آج جہان کے دل کو قرار مل گیا تھا’ ان کی منگنی کو دو ہفتے ہوگۓ تھے’ جہان کو کبھی ایسا لگتا تھا کہ شاید المیرا خوش نہیں ہے’ مگر آج المیرا کے الفاظ نے خوشی کے ساتھ ساتھ دل کو بھی قرار دے دیا تھا”

ماما آپ کو ڈنر پہ انوائٹ کرنا چاہتی ہے’ اگر آپ آجاۓ تو ماما کو خوشی ہوگی’ وہ ایکچوئلی جو سسٹر کراچی گئ ہوئ تھی وہ آج واپس آجاۓ گی’ کل یا پرسوں جب بھی آپ فری ہو….

وہ تذبذب کا شکار تھی کہ ہاں کہے یا نہیں…. وہ دونوں فاصلوں پر کھڑے ایک دوسرے سے بات کررہے تھے…. المیرا ایک کونے پر تو جہان لفٹ کے دوسرے کونے پر تھا…..

ایلیویٹر کا ڈور اوپن ہوا…. پہلے المیرا اور پھر جہان باہر نکلا…… وہ اب ایک ساتھ کوریڈور میں چل رہے تھے….

اوکے کل ٹھیک ہے’ کل آجاؤں گی میں….

سچ….

جی…..

اوکے پھر میں آؤ گا آپ کو لینے….

نہیں’ آپ کیوں زحمت کررہے ہیں؟؟؟ میں آجاؤ گی…

وہ ہلکا سا ہنسا…. ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے کہا تھا کہ میں کونسا غیر ہو اور اگلے ہی پل مجھے پرایہ بھی کررہی ہے’ المیرا جی اپنوں میں کیسی زحمت….

المیرا نے جواب نہیں دیا’ بس اثبات میں سر ہلایا….

ایمان کو بھی کہہ دینا’ وہ اب رک کر بات کررہے تھے’ وہ بھی کل ریڈی رہے….

اوکے میں کہہ دوں گی’ آپ بھی کال کرکے اسے انوائٹ کرلینا….

جی میں کال کرلوں گا….

اوکے پھر بات ہوتی ہے….

اوکے…

وہ دونوں اپنے اپنے کیبن کی طرف بڑھ گۓ…..

*******

_________________جاری ہے_______________