No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
Visal-e-Javedan وصال جاوداں
پتا نہیں یار نیو سر کیسے ہوگے..؟؟؟ یوشع سر تو بہت سٹرکٹ ہے….
“دو کولیگز ایک دوسے کے سامنے کھڑی باتیں کرنے میں مصروف تھی’ اس بات سے بے خبر کہ کوئ ان کی باتیں سننے میں مصروف ہے”
یار بس دعا کرو’ علی سر’ یوشع سر کی طرح نہ ہو…. پہلی لڑکی نے کہا…..
ویسے یار آپس کی بات ہے… علی سر یوشع سر کی طرح بہت ہینڈسم ہے…. دوسری نے کہا….
نہیں’ یوشع سر زیادہ ہینڈسم ہے’ علی سر بھی ہینڈسم ہے’ مگر یوشع سر سے کم ہے….
علی جو چھپکے سے ان کی باتیں سننے میں مصروف تھا’ بامشکل اپنی ہنسی روکی…..
آئ وش سر میرڈ نہ ہوتے تو میں نے شادی کرلینی تھی یوشع سر سے’ پہلی نے اداسی سے کہا…
میں نے سنا ہے یوشع سر کی وائف نہیں ہے’ ان کی ڈیتھ ہوگئ ہے’ چار سال پہلے ہی….
دوسری نے رازدانہ طور پر آگے کو جھک کر بتایا….
“علی کی ہنسی غائب ہوئ’ دل چاہا کی دونوں کو آگے باتیں کرنے سے روکے’ مگر پھر رک کر سننے لگا”
تمھیں کس نے بتایا…؟؟؟ پہلی نے حیرت کے مارے پوچھا….
یاد ہے تمھیں میں نے کچھ دن پہلے بتایا تھا کہ یوشع سر اپنے بیٹے کو لاۓ تھے آفس’ تم نے اس دن آف کیا تھا….
ہاں’ مگر أس بات کا اس بات سے کیا تعلق؟؟
بتاتی ہو’ سنو…. میں نے میرہادی سے پوچھا تھا کیونکہ میں سوچ رہی تھی کہ جب سر خود اتنے خوبصورت ہے’ ان کا بیٹا ان سے بھی زیادہ تو سر کی وائف کیسی ہوگی….؟؟؟
بس یہی جاننے کیلۓ میں نے ہادی سے پوچھا تھا کہ آپکی ماما کیسی ہے؟؟ وہ کیوں نہیں آتی آفس..؟؟؟
علی کان لگاۓ ان کی باتیں سننے میں مصروف تھا”
بس تب ہی ہادی نے بتایا تھا کہ اس کی ماما کی ڈیتھ ہوگئ ہے چار سال پہلے ہی’ مجھے بہت دکھ ہوا تھا یار سن کر جب ہادی نے بتایا…. دوسری کا چہرہ بتاتے بتاتے اداسی میں بدل گیا تھا….
یوسفزئ سر کی ڈیتھ کو ابھی ڈیڑھ سال ہی ہوا ہے’ سر سے ابھی بیوی کا غم تو بھلایا نہیں گیا ہوگا کی ڈھائ سال بعد ہی والد بھی چلے گۓ’ اور سر کی مدر بھی جب سر چھوٹے تھے’ جب ان کی ماما کی بھی ڈیتھ ہوگئ تھی….
اوووو تبھی سر اب اتنے سنجیدہ رہتے ہیں…. پہلی نے بھی افسوس سے کہا….
پہلے سر بالکل بھی ایسے نہیں تھے’ وہ بہت اچھے تھے ہنس مکھ’ سر پہلے کراچی رہتے تھے’ کبھی کبھی بیچ میں آکر چکر لگا لیتے تھے جب یوسف سر ان کو یہاں بھیجتے تھے’ وہ کچھ دن کیلۓ آتے’ سب سے مزاق کیا کرتے تھے’ وہ پہلے بہت اچھے تھے’ پھر پتا نہیں کیا ہوا یار کہ سر نے آنا بند کردیا’ وہ پورے چار سال لاہور نہیں آۓ’ اور پھر ایک سال پہلے یہاں ہی سیٹل ہوگۓ…. تم ایک سال پہلے ہی آئ ہو جب سر یہاں پورے چار سال بعد آۓ تھے…. میں یہاں بہت پہلے سے کام کررہی ہو’ سر کی سیکرٹری ہو’ اب اتنا تو میں سر کو جانتی ہو”
“علی کا دل ڈوبنے لگا’ چار سال پہلے کے مناظر آنکھوں کے سامنے گھومے’ یوشع کی اجڑی حالت’ آنکھوں میں نمی آئ…..”
پتا نہیں سر کی لائف میں کوئ لڑکی ہے یا نہیں…. عروج(پہلی لڑکی) نے کہا….
کیوں تمھیں اپنا ٹانکہ فکس کرنا ہے کیا…. ایمن(دوسری) نے بھی چڑ کر کہا….
ہاں تو اس میں حرج ہی کیا ہے…. ان کی لائف میں خوشیاں آجاۓ گی….
اور تمھیں لگتا ہے سر تم سے شادی کرے گے….
ہاں تو کرلے گے’ میں اتنی بری تو نہیں ہو کہ سر کو پسند نہ آؤ’ ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہو’ ینگ ہو….
علی نے اپنی اداسی دور کرکے عروج کواوپر سے نیچے تک دیکھا’ کالی آنکھیں کاجل سے لبریز’ کندھوں تک آتے کالے بال جو ٹیل پونی میں مقید تھے’ چھوٹی ناک’ پنکھڑی جیسے گلابی لب’ گوری رنگت’ وہ واقعی خوبصورت تھی’ ہر لحاظ سے پرفیکٹ….
میں تو ویسے بھی یوشع کی شادی کروانے کے چکر میں ہو’ تو کیو نہ اس لڑکی سے ہی
کروادوں…. علی نے خود سے کہا…. ایک بار پھر عروج کو دیکھا’ جو یوشع کیلۓ پرفیکٹ تھی….
ایک دفعہ پرپوز کردوں گی’ باقی ان کی مرضی وہ سلیکٹ کرے’ یا پھر ریجیکٹ….
تم پرپوز کرو گی….
ہاں تو اس میں حرج ہی کیا ہے’ میں کردوں گی….
اففففف عروج تم جو مرضی کرو’ مگر مجھے لگتا نہیں ہے کہ سر تم سے شادی کرے گے…. دیکھا نہیں تم نے سر کتنے سنجیدہ رہتے ہیں’ کسی سے کوئ فالتو بات نہیں کرتے’ بس
اپنے کام سے کام’ مجھے نہیں لگتا کہ سر کا دوسری شادی کا کوئ پلان ہوگا’ یا وہ تم سے شادی کرے گے”
“لڑکی کہہ تو سہی رہی ہے’ یوشع کو شادی کیلۓ راضی کرنا’ “دیوار میں اپنا سر مارنا” علی نے دل میں سوچا اور پھر ہلکا سا مسکرایا’ سامنے شیشے سے باہر آسمان کو دیکھا’ ہاتھوں کو دعا کی طرح ہوا میں پھیلایا’
“یا اللّه اب تو آپ ہی کچھ کرسکتے ہیں”
اور ہاتھوں کو واپس گرالیا…..
_____________________
ہونے کو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے…. اب تم یہی دیکھ لو اس سے پہلے کہا معلوم تھا کسی کو کہ سر میرڈ ہے’ پھر چار سال کا بیٹا بھی’ جب سر کی پہلی شادی کا کسی کو معلوم نہیں تھا تو اسی طرح وہ دوسری شادی بھی کرسکتے ہیں…. میں پرپوز کردوں گی اور وہ بھی بہت جلد….عروج نے ایکسائیٹڈ ہوکر کہا…. اس بات سے بے خبر کہ چند ہی دنوں میں اس کا یہ جوش جھاگ کی طرح بیٹھنے والا ہے….
اوکے…. تم یوشع سر کو پرپوز کروں’ میں علی سر کو کرو گی… ایمن نے بھی ایکسائیٹڈ ہوکر کہا’ اس بات سے بے خبر کہ اس کا یہ سارا جوش ابھی بیٹھنے والا ہے…..
علی نے اپنی ہنسی کا گلا گھونٹا….
اور کورنر سے نکل کر سامنے آیا….
کیا کررہی ہو تم دونوں یہاں….
دونوں نے چونک کر پیچھے مڑ کر دیکھا’
کہیں سر نے سب کچھ سن تو نہیں لیا’ ایمن نے عروج کے کان میں سرگوشی کی…..
کیا کھسر پھسر کررہی ہو تم دونوں….. علی نے ایمن کو دیکھا جو علی کو پرپوز کرنے کی بات کررہی تھی…. وہ عروج کی طرح زیادہ خوبصورت نہیں تھی تو اس سے کم بھی نہیں تھی’
کچھ نہیں سر’ بس ایسے ہی بات کررہے تھے…. عروج نے کہا…
اوکے جاؤ کام کروں اپنا…..
علی ان دونوں کو وہی چھوڑکر آگے کی طرف بڑھا….
شکر بچ گۓ یار’ لگتا ہے سر نے کچھ نہیں سنا…..
علی تھوڑا آگے جاکے رکا’ پیچھے مڑا’
میں میرڈ ہوں… ایمن کو دیکھ کر کہا… اور الحمداللّه دو بیٹے ہیں میرے’ میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بہت خوش ہو…
ایمن نے نظریں جھکائ…. یعنی سر نے سب کچھ سن لیا…. افففف
عروج کو دیکھا’ میں خود بھی یوشع کی شادی کروانا چاہتا ہو مگر کوئ اچھی لڑکی نہیں مل رہی’ اور نہ ہی وہ شادی کیلۓ راضی ہے’ تم اسے پرپوز کردینا’ باقی اسے سمجھانا میرا کام ہے’ آگے تمھاری قسمت…..
علی یہ کہہ کر اپنے روم کی طرف بڑھ گیا……
ہاۓۓ سر کتنے اچھے ہیں… عروج نے خوش ہوتے ہوۓ جوش سے کہا…. تمھیں کیا ہوا تم ایسے کیوں کھڑی ہو…..
سر نے سب کچھ سن لیا ہے اور تم خوش ہورہی ہو…..
ہاں تو اچھا ہوا نہ سن لیا’ ہمارا کام آسان ہوگیا…. اب تم علی سر کو پرپوز کرنے کا خیال دل سے نکال دوں کہیں اور ٹرائ کرو… میں تو یوشع سر کو پرپوز کرو گی…..
تم جو مرضی کرو’ میری طرف سے بھلے جہنم میں جاؤ’ میں جارہی ہو اب کام کرنے کیونکہ یہ علی سر تھے جنہوں نے کچھ نہیں کہا’ اب اگر یوشع سر نے دیکھ لیا نہ تو یہی کھڑے کھڑے تمھارا سارا پرپوزل نکال دے گے….
ہاں چلو کہیں سچ میں یوشع سر نہ آجاۓ…. اور وہ دونوں بھی اپنے اپنے کام کی طرف بڑھ گئ…..
___________________
یوشع علی کو آج آفس لایا تھا…. صبح زاور کا ایڈمیشن کروانے کے بعد دونوں ہی آفس آگۓ تھے… یوشع نے بتایا کہ آج سے علی بھی آپ کا بوس ہے… اور روز آفس آۓ گا…
اور سب اسی پہ پریشان تھے کہ علی سر بھی یوشع سر کی طرح سٹرکٹ ہے یا نہیں…. مگر اس دفعہ آفس والوں کی قسمت جاگ گئ تھی کیونکہ علی یوشع کی طرح اتنا سٹرکٹ نہیں ہے……
********
شام کا پہر تھا… ہر سو آسمانوں پہ بادل چھاۓ ہوۓ تھے… ٹھنڈی ہوا چاروں اطراف میں چل رہی تھی ‘ پرندوں کی چہچاہٹ ہر سو پھیلی ہوئ تھی’ ایسے موسم نے ہر چیز کو رومانوی احساس میں ڈھالا ہوا تھا’ خوبصورت ہرے بھرے لان میں سوئمنگ پول کے قریب رکھی کرسیوں میں سے ایک کرسی پر یوشع تنہا’ ویران دل کے ساتھ ٹانگ پہ ٹانگ چڑھاۓ براؤن کھلی سی شرٹ’ بلیو پینٹ میں اپنی گود میں ایک ڈائری رکھے’ ایک ہاتھ میں چاۓ کا مگ اور دوسرے میں بال پوائنٹ پکڑے ہر چیز سے بےنیاز بیٹھا تھا…..
“ایک وقت تھا جب یوشع کو اس طرح کے موسم کو خوب انجواۓ کرتا تھا’ مگر ان چند سالوں میں یوشع کے اندر کا ہر جزبہ’ ہر احساس جیسے مر سا گیا تھا’ اس طرح کے موسم یوشع کو بالکل اٹریکٹ نہیں کرتے تھے’ وہ ہر جزبے’ ہر احساس ے بالکل عاری ہوگیا تھا”
یوشع کی سیدھ میں جاۓ تو تین بچوں کی کھلکھلاہٹیں اس رومانوی ماحول میں گونج رہی تھی…. زاور اور ہادی دونوں ہی ذیان کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھے…. گھر کے اندر کی طرف راہداری سے ہوتے ہوۓ لاؤنج اور لاؤنج سے کچن کی طرف جاۓ تو وہاں زینب ملازموں کو کھانے کی ہدایتیں دیتی خود بھی کوگنگ کرنے میں مصروف تھی اور علی گھر سے باہر تھا……
یوشع کو ڈائری لکھنے کا شوق نہیں تھا مگر لاہور آنے کے بعد اس نے ڈائری لکھی تھی’ اپنی زندگی’ اپنے عشق کے بارے میں’ اس کو شعر،غزلیں پسند نہیں تھی’ مگر اس ایک سال میں اس نے آدھے سے زیادہ ڈائری میں غزلیں لکھی تھی’ پسند تو اسے چاۓ بھی نہیں تھی’ مگر اب وہ صرف چاۓ پیتا تھا’ شاید کسی کی یاد میں’ ایسی کتنی چیزیں تھی جو اسے پسند نہیں تھی مگر اب وہ سارے وہ کام کرتا تھا اور جو چیزیں پسند تھی وہ اب یوشع کو اپنی طرف بالکل اٹریکٹ نہیں کرتی تھی …. وہ چاۓ کے گھونٹ بھرتا بال پوائنٹ لۓ اب ڈائری پہ لکھنے لگا تھا…..
__________جاری ہے________
