No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
انگیجمنٹ کو…. حماد بھی ابھی یہی تھا ان دونوں نے اسے جانے ہی نہیں دیا تھا…. اور اب بھی اس نے ون ویک اور یہاں رہنا تھا اس ویک میں انہوں نے خوب ہلا گلا کیا تھا….. ہر جگہہ گھومنا پھرنا’ ناچنا گانا’ فل ٹو فل انجوۓ کیا تھا…. اس ایک ہفتے میں ماہی اور یوشع کی کوئ بات نہیں ہوئ تھی…. بات تو دور کی بات ہے ایک دوسرے کے سامنے ہی نہیں آۓ تھے…. ماہی نے خود کو کمرے میں قید کرکے رکھ لیا تھا…. اس نے آفس بھی جانا چھوڑ دیا تھا… علی نے بہت بار پوچھا بھی کہ کیا ہوا ہے آفس کیوں نہیں آتی…. تو اس کا بس ایک ہی جواب ہوتا کہ ‘ابھی موڈ نہیں ہے جب ہوگا تو آجاؤ گی’ علی اتنا تو جانتا تھا کہ وہ اپنی پروبلم کبھی کسی سے شیئر نہیں کرتی… جب وہ کسی بات پہ ڈسٹرب ہوتی تب ہی وہ خود کو کمرے میں بند کرلیتی تھی… اور موڈ ٹھیک ہونے پر خود ہی ٹھیک ہوجاتی تھی…. وہ جانتا تھا اس کے بےجا لاڈ پیار نے اسے تھوڑا ضدی کردیا ہے کہ وہ اب جلدی سے کسی کی نہیں سنتی تھی…. اور یہ تو ماہی کا آۓ دن کام ہوتا تھا خود کو روم میں قید کرلینا…. پھر علی بھی اس سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا جب اس کا موڈ آف ہوتا کیونکہ وہ بتاتی کچھ نہیں تھی تو پھر اسی وجہ سے وہ پوچھتا بھی نہیں تھا…..آج حماد اپنے ریلیٹیوز کے گیا ہوا تھا….. شام کا ہی ٹائم تھا…. یوشع علی کے گھر آیا تھا…. علی لاؤنج میں بیٹھا تھا جب یوشع بھی وہی آیا….. وہ ایک دوسرے سے ملے تھے…. حماد کہا ہے؟؟” علی نے پوچھا….پتا نہیں یار کہہ رہا تھا اس کے ماموں رہتے ہیں یہاں’ تو وہ ان ہی سے ملنے گیا ہے’ مجھے تو سمجھ ہی نہیں آرہی یہ اچانک سے ماموں کہا سے ٹپک پڑے….”یوشع نے سر کھجاتے ہوۓ کہا تھا….. علی نے قہقہہ لگایا تھا….. یوشع بھی ہنسا….ہاں یار سچ کہہ رہا ہو میں’ تو بلاوجہ میں ہنس رہا ہے….” یار وہ اس سگے ماموں نہیں ہے’ اسکی امی کے کزن ہے’ اپنی امی کے کہنے پر ہی وہ وہاں گیا ہے….” جب تمھیں پتا تھا حماد گیا ہوا ہے اپنے ماموں کے تو مجھ سے کیوں پوچھا؟؟؟ایویں ہی…. میری مرضی…..”ہنہ آیا بڑا…” بیٹا تجھ سے تو بڑا ہی ہو….”اچھا اچھا…’ یوشع نے ہاتھ ہلایا….ویسے مجھے بھی کہہ رہا تھا کہ یوشع میرے ساتھ چلو’ مگر تمھیں تو پتا یے یوشع ان جگہوں پہ جانا بالکل پسند نہیں کرتا جہاں وہ کسی کو جانتا ہی نہ ہو’ میں نے تو صاف منع کردیا تھا کہ بھائ تو خود جا’ میں نہیں جارہا….’جی بالکل ہم سے زیادہ بہتر کون جان سکتا ہے یوشع کو….”اور پتا ہے کیا کہہ رہا تھا….؟؟ یوشع نے اپنا چہرہ علی کے کان کے قریب کیا….’میرے ساتھ چل لے یار’ قسمسے بڑی سوہنڑی سوہنڑی کڑیاں ہے وہاں’ کیا پتا کوئ پسند آجاۓ تمھیں…” اور میں نے کہا…بھائ تو خود بن جاکر بالی کا بکرا…. میرے لۓ المیرا خان بہت ہے… اور اسے ذرا بھی بھنک لگ گئ نہ میں وہاں کیا کرنے گیا تھا…. تو قسمیں اس نے مجھے گنجا کر دینا ہے…. اور اوپر سے اس نے ناراض ہوجانا ہے… ساری دنیا کی ناراضگی برداشت ہوجاۓ گی بس المیرا خان کی نہیں…..”علی مسکرایا تھا….. المیرا کیلۓ یوشع سے زیادہ بیسٹ کوئ نہیں ہے… اگر المیرا کو پاگلوں کی طرح کوئ چاہا سکتا ہے تو وہ سرپھیراہ یوشع ہی ہے….’ وہ دل میں خود سے کہتا مسکرارہا تھا…..’یوشع بھی سیدھا ہوا….اب کیوں مسکرارہا ہے…؟کچھ نہیں ایسے ہی….” اچھا یہ بتا ماہی کہا ہے’ آج کل آفس نہیں آرہی’ طبیعت ٹھیک ہے اس کی’ وہ میرے میسیجز کا جواب بھی نہیں دے رہی….” پتا نہیں اسے کیا ہوا ہے” جب انگیجمنٹ کے بعد گھر آۓ تھے’ تو تب سے ہی اس نے خود کو کمرے میں بند کرکے رکھا ہوا ہے’ کھانا بھی براۓ نام کھاتی ہے’ کسی سے کوئ بات نہیں کرتی’ مجھے بھی کچھ نہیں بتاتی’ یوشع تمھاری کیا بات ہوئ تھی جب تم ماہی کے پاس گۓ تھے’ کیونکہ میں دیکھ رہا تھا’ تم لوگ اسٹیج سے بہت دور ہی صحیح مگر تم دونوں کے بات کرنے کے انداز سے ایسے لگ رہا تھا کہ تم کتنی ایمپورٹنٹ بات کررے ہو’ اور شاید ماہی کی آنکھوں میں آنسوں بھی تھے’ اور تم بھی مجھے غصے میں لگ رہے تھے’ کیا بات ہوئ تھی یوشع؟؟یوشع چپ رہا’ وہ کچھ غلط نہیں کہہ رہا تھا’ اسے اس وقت واقعی بہت غصہ آیا تھا ماہی پر مگر کنٹرول کرگیا تھا اور ماہی کی آنکھوں میں بھی آنسوں تھے….” علی یوشع کا چہرہ دیکھ رہا تھا….. وہ کشمکش میں تھا کہ سچ بتاۓ یا نہیں’ آج تک علی سے کچھ نہیں چھپایا تھا’ کوئ بات علی سےچھپی نہیں تھی’ مگر کوئ اور بات ہوتی تو بھی ٹھیک تھا مگر اب بات ماہی کی تھی وہ سچ نہیں بتا سکتا تھا” وہ بہت سینٹی ہوگئ تھی میری انگیجمنٹ کو لے کر’ کہ ہاۓ یوشع تمھاری منگنی ہورہی ہے’ مجھے یقین نہیں آرہا ‘ وہ آنسوں خوشی کے آنسوں تھے’ بس اسی پہ میں غصہ کرگیا تھا کہ رونے والی کیا بات ہے’ اتنے دنوں بعد تم چڑیل سے انسان لگی ہو’ اب روکر تم پھر انسان سے بھوت بننا چاہتی ہو’ اور پھر تمھیں پتا تو ہے جب لڑکیوں کو چڑیل بولو تو وہ چڑ جاتی ہے اس بات پہ’ بس یہی بات ہوئ تھی اور کچھ نہیں…..” ماہی ہے کہا روم میں ہے نہ میں مل کر آتا ہو اس سے…” وہ صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا…..علی گہری نظروں سے یوشع کا چہرہ دیکھ رہا تھا….” یوشع تمھیں تو جھوٹ بھی بولنا نہیں آتا…” چہرے پر تلخ سی مسکراہٹ آئ تھی…. اس نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کرلی تھی….یوشع نے آج تک علی سے جھوٹ نہیں بولا تھا کوئ بات نہیں چھپائ تھی… وہ ماہی کے روم کے باہر پہنچا تھا اسے تو کہہ دیا تھا کہ ماہی سے مل کر آرہا ہوں…. اب اندر جاۓ یا نہیں…. اسے ماہی سے نہیں ملنا تھا…. اسے تو بس وہاں سے اٹھ کر آنا تھا… اتنا تو اسے بھی معلوم ہے کہ علی جتنی گہری نظروں سے اس کے چہرے کا ایکسرے کررہا تھا اس نے سیکنڈ میں جان لیا ہوگا کہ میں جھوٹ بول کر آیا ہو…. چلو اب آ ہی گیا ہو تو مل ہی لیتا ہو….اس نے ڈور نوک کرکے اوپن کیا تھا…. وہ کھل گیا تھا…. اس نے اندر قدم رکھا تھا…. مانو کسی کالے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں آگیا ہو….. کچھ نظر نہیں آرہا تھا…. یوشع نے سوئچ بورڈ پہ ہاتھ مار کر بٹن اون کۓ تھے…. سیکنڈ میں ہی کمرہ روشنیوں میں نہا گیا تھا…. پورے کمرے میں نظر دوڑائ تو وہ اسے کھڑکی کے پاس کھڑی نظر آگئ…. پردے بھی لگاۓ ہوۓ تھے… کھڑکی بند تھی مگر وہ وہاں کھڑی تھی…. اس نے اس کی خوشبو کو محسوس کرلیا تھا اسی وقت جب اس نے پہلا قدم اندر رکھا تھا مگر وہ وہی بت بنی کھڑی رہی…. یوشع ماہی کے قریب آیا…. کھڑکیوں پہ سے پردے ہٹاۓ….. کھڑکیوں کو کھول دیا تھا… ماہی نے روشنی پڑتے ہی آنکھوں پہ ہاتھ رکھا تھا….. ایک بار پھر روشنی پورے کمرے میں بکھری تھی…..کیسی ہو؟؟” اس نے یوشع کو نہیں دیکھا تھا…. مگر یوشع تو اسی کو دیکھ رہا تھا…. وہ اس ایک ہفتہ میں پہلے سے زیادہ کمزور ہوگئ تھی… آنکھوں کے نیچے حلقے بھی پڑرہے تھے….. نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے…. یوشع نے گہری سانس خارج کی…..کب تک ایسے ہی چلے گا ماہی…” وہ بھی اب اس سے تھوڑے فاصلے پر کھڑا کھڑکی سے باہر دیکھتا بول رہا تھا….. وہ چپ تھی….ماہی ایم ٹالکنگ ٹو یو….” اس نے اسے کہنی سے تھام کر اس کا چہرہ خود کی طرف کیا تھا….. اس نے جب سے اب یوشع کو زخمی نگاہوں سے دیکھا تھا….کیا دیکھنے آۓ ہو؟؟ زندہ ہو یا مرگئ ہو؟؟” ماہی سٹوپ اٹ’ ڈونٹ کروس یور لمٹ…..” وہ طنزیہ مسکرائ تھی….ماہی ماہی…..’ اس نے اسے دونوں بازؤں سے تھاما تھا…..مت دو خود کو تکلیف’ مجھے اچھا نہیں لگ رہا تمھیں یوں اس حال میں دیکھ کر’ مجھے میری پہلے والی ماہی چاہیے’ جو سجی سنوری رہتی تھی’ یہ ماہی نہیں چاہیے’ حالت دیکھو اپنی کتنی ویک ہوگئ ہو’ اپنی آنکھیں دیکھو’ مت دو خود کو اذیت’ تمھیں ذرا بھی اندازہ ہے مجھے کتنی تکلیف ہورہی ہے تمھیں اس حال میں دیکھ کر…..”تمھیں تکلیف….’ ماہی نے نفی میں گردن ہلائ تھی…..کیا ہوگا زیادہ سے زیادہ مرجاؤں گی نہ تو مرجانے دو’ مگر تم تو خوش ہو نہ اپنی زندگی میں المیرا کے ساتھ….” اس نے غصے سے کہا تھا….. یوشع کا ہاتھ اٹھا تھا….مگر اس نے خود کو کنٹرول کرلیا تھا…. یہ کیا کررہا ہے یوشع؟؟ یہ تو تمھاری تربیت نہیں ہے….’ دل میں خود سے کہا تھا….. ماہی نے آنسوں بھری آنکھوں سے تلخ مسکراہٹ کے ساتھ یوشع کا ہوا میں رکا ہاتھ دیکھا…. اس نے ہاتھ واپس گرایا تھا…..اوکے جو دل میں آتا ہے وہ کرو’ مرنا ہے تو مرو….” وہ بھی غصے سے کہتا آگے بڑھنے لگا تھا….. ماہی نے اس کی کہنی تھامی تھی…. وہ رکا تھا…. اس نے اس کے کندھے پر سر رکھا تھا….”مت کرو میرے ساتھ ایسا یوشع’ میں نہیں رہ سکتی تمھارے بغیر’ میں تمھیں کسی اور کا ہوتے ہوۓ نہیں دیکھ سکتی….” اس کے آنسوں آنکھوں سے نکل کر اس کی شرٹ میں جزب ہورہے تھے….. وہ تھوڑا نرم پڑا تھا…. یوشع کا چہرہ دروازے کی طرف تھا تو ماہی کا چہرہ کھڑکی کی طرف….. “کیوں ہوگئ ہو تم ایک دم اتنی بےبس’ میں نے تو اپنے عمل سے کبھی تمھیں یہ شو نہیں کرایا کہ میں تمھیں پسند کرتا ہو’ میں شروع سے المیرا سے محبت کرتا ہو’ یہ بات تم اچھی طرح جانتی ہو’ میں نے ہمیشہ سب سے یہی کہا ہے کہ ہم اچھے دوست ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں…..” “محبت کرنا کسی کے اختیار میں نہیں ہوتا یوشع’ میں بھی تم سے بہت محبت کرتی ہو’ بچپن سے کرتی ہو’ آئ کین نوٹ لیو وید آؤٹ یو’ نیور ‘ تمھیں بس اپنی محبت نظر آرہی ہے’ میری محبت کی قدر نہیں….” وہ آرام آرام سے بول رہی تھی…. یوشع مڑا…. وہ بھی سیدھی ہوئ…..”کس نے کہا کہ میں نے تمھاری محبت کی قدر نہیں کی’ میں کرتا ہو قدر’ یہ ایک ایسا جزبہ ہے جس پہ ہمارا اختیار نہیں رہتا’ محبت انسان کو بےبس کردیتی ہے اور یہ بھی سچ ہے محبت عشق میں ہم اپنے محبوب کو کسی اور کی دسترس میں نہیں دیکھ سکتے’ جس طرح تم بےبس ہوگئ ہو میری محبت میں’ اسی طرح میں بھی بےبس ہو’ جس طرح تم مجھے المیرا کا ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتی’ تو میں کیسے المیرا کو کسی دوسرے کہ دسترس میں دیکھ سکتا ہو’ وہ تو پھر میرا عشق ہے’ کیسے میں اسے کسی اور کیلۓ چھوڑ دو’ نہیں ماہی اگر تم یہ چاہتی ہوکہ میں المیرا کو چھوڑ کر تم سے شادی کرو تو سب سے بڑی بھول ہے یہ تمھاری’ المیرا پہ صرف میرا حق ہوگا’ اور ایک بات میں تمھاری اور تمھاری محبت کی دل سے قدر کرتا ہو کیونکہ محبت میں ناقدری نہیں ہوتی’ قدر ہوتی ہے’ عزت ہوتی ہے’ ہاں یہ سچ ہے جب تم نے مجھے پرپوز کیا تھا تو مجھے اس وقت تم پہ واقعی بہت غصہ آیا تھا’ مجھے تمھارا پرپوز کرنا غلط نہیں لگا تھا’ تمہیں محبت ہوئ تم نے اظہار کردیا’ مگر جس جگہہ جس وقت تم نے مجھے پرپوز کیا وہ غلط تھا’ یہ بات اچھی طرح جانتے ہوۓ بھی کہ میری المیرا سے انگیجمنٹ ہے…..اگر میں تمھاری محبت کی ناقدری کرتا تو آج یہاں تمہارے سامنے یوں کھڑا تم سے باتیں نہ کررہا ہوتا’ تمھیں اچھے دوست کی طرح سمجھارا نہ ہوتا…. جانتی یو کبھی کبھی تو مجھے واقعی تمھارے بیہیو سے شک پڑتا تھا کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو’ مگر میرے شک پہ یقین کی مہر تم نے لگادی….””ایسا کیا ہے اس میں جو مجھ میں نہیں ہے….’ اس نے اس کا کالر پکڑا تھا….”تم اچھی طرح جانتے ہو کسی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ کسی کا ہاتھ یوشع یوسفزئ کے کالر تک پہنچے ‘ اور یہ حق تو آج تک تمھیں نہیں دیا تو تمھاری ہمت کیسے ہوئ میرے کالر کو پکڑبے کی….” اس نے غصے میں اس کے ہاتھوں کو جھٹکا تھا…..اب بس بہت ہوا’ میں جتنا تمھیں ایک اچھے دوست کی طرح سمجھانے کی کوشش کررہا ہو تم اتنا ہی سر پر چڑھ رہی ہو….’ اس نے اس کے دونوں بازؤں کو اپنی مضبوط گرفت میں لیا تھا…..تم اچھی طرح جانتی ہو لوگوں کو سر پہ سے اتارنا میں کتنی اچھی طرح جانتا ہو….” اس نے گرفت سخت کی تھی…. ماہی نے سختی سے آنکھیں میچی تھی….یہ کالر پکڑنے کا حق ڈیڈ ‘ علی ‘ حماد اور المیرا کے علاوہ کسی کو نہیں ہے’ تمھیں بھی نہیں….” ماہیں عمران تم بےشک المیرا خان سے زیادہ خوبصورت ہو یا نہ ہو’ مجھے اس بات سے کوئ فرق نہیں پڑتا’ میرے لۓ المیرا خان اس دنیا کی سب سے حسین لڑکی ہے اس کے پاس وہ ہے جو تمھارے پاس نہیں ہے’ اس کے پاس اخلاق ‘ آدب و احترام ہے’ جو تمھارے پاس بالکل نہیں ہے’ یاد رکھنا ماہین عمران میرے جسم میں دوڑتی خون کی ہر ایک بوند’ اس دھڑکتے دل کی ہر ایک دھڑکن’ میری ہر ایک سانس’ میرا دل و دماغ اگر کسی کے نام کی مالا جپتا ہے تو وہ المیرا خان ہے’ وہ میری محبت’ میرا عشق’ میرا جنون’ میرا سکون’ ہر درد کی دوا صرف المیرا خان ہے ‘ المیرا خان ہے تو یوشع یوسفزئ ہے جس دن المیرا نہ رہی اس دن یوشع بھی نہیں رہے گا ‘ اور ہم دوست تھے ‘ ہیں اور رہے گے ‘ پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہہ رہا ہو’ اس سے زیادہ کی امید مجھ سے مت رکھنا’ دوبارہ نہیں سمجھاؤں گا….” یوشع نے اس پر اپنی گرفت چھوڑی تھی…. الٹے قدم سے پیچھے کی طرف چل رہا تھا…. ماہی کے آنسوں متواتر اس کے گالوں پر بہہ رہے تھے….یاد رکھنا یوشع ‘ میں بھی ماہین عمران ہو’ جھکنا اور ہارنا میں نے بھی نہیں سیکھا ہے ‘ تمھیں تو میں اپنا بناکر رہوں گی….” وہ مسکرایا تھا….لگالینا ایڑی سے چوٹی تک کا زور’ ہارنا میں نے بھی نہی ںسیکھا’ دیکھتے ہیں اس کھیل میں کون جیتتا ہے’ تم یا میں ‘ جیت کس کا مقدر بنے گی’ جسٹ ویٹ اینڈ واچ’ کھیل میں خوب مزہ آۓ گا…..” وہ دروازے سے باہر نکل گیا تھا…. وہ وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئ….”نہیں یوشع’ تمھیں میں کسی بھی قیمت پر المیرا کا نہیں ہونے دوں گی’ جیت تو میری ہی ہوگی ‘ ایسا کھیل کھیلوں گی کہ تمھیں بھی سمجھ نہیں آۓ گا کہ ہوا کیا ہے’ نفرت کرنے لگو گے تم خود کے وجود سے’ پھر چاہے اس کیلۓ مجھے کسی بھی حد تک کیوں نہ جانا پڑے….’ اس نے بےدردی سے اپنے آنسوں کو رگڑا تھا…. یوشع لاؤنج میں پہنچا تھا…. علی وہی صوفے پر بیٹھا تھا….کیا ہوا؟؟ کچھ بتایا ماہی نے….”تمھاری بہن کا دماغ خراب ہوگیا ہے اور کچھ نہیں’ کسی اچھے سائیکاٹرسٹ کے پاس لے جاکر ٹریٹمنٹ کروادوں کیا پتا دماغ سیٹ ہوجاۓ…..”وہ یہ بس سوچ ہی پایا تھا…. بول تو سکتا نہیں تھا ورنہ علی نے اب پیچھے پڑجانا تھا کہ اب مجھے سب سچ سچ بتاؤں کہ کیا ہوا ہے؟؟؟ اور یوشع بھی شاید اب کی بار علی سے جھوٹ نہ بول پاتا…… کچھ نہیں ہوا’ کچھ دنوں تک خود ہی ٹھیک ہوجاۓ گی….” وہ یہ کہتا آگے بڑھ گیا تھا… علی نے گہری سانس خارج کی تھی اور اپنے روم کی طرف بڑھ گیا….. ********_______جاری ہے_______
