No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
علی اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹا تھا…. جب اس نے موبائل اٹھا کر کال ملائ تھی… زینب بھی اپنے کمرے میں بیڈ پر منہ تک کمبل تانے لیٹی تھی…. جب اس کا موبائل رنگ ہوا… کمبل میں سے منہ باہر نکالا… اس کے گال اور ناک لال ہورہی تھی… کال اسکرین کو دیکھا….. مائ لائف لائن لکھا تھا… کلا ریسیو کرکے کان سے لگایا سلام کیا…..دوسری طرف سے جواب دیا گیا…. “تمھیں المیرا نے شوپنگ کیلۓ بلایا تھا؟؟ اور تم کیوں نہیں آئ؟؟ہاں’ بلایا تھا…” اس نے آرام سے کہا تھا… علی ایک ہی دم اٹھ کر بیٹھا تھا…..زینب….’جی….’تمھاری طبیعت نہیں ٹھیک’ اس نے اس کی آواز سے پہچانا تھا…. ہممم’ بس اتنا سا جواب….علی نے دو انگلیوں سے اپنا ماتھا مسلا تھا…. کیا ہوا ہے؟؟؟ فیور….’ڈاکٹر کے گئ تھی’ میڈیسن لی ہے….” وہ ایک ہی دم پریشان سا ہوا تھا….وہ مسکرائ’ جی ابھی لے کر ہی لیٹی تھی…’ صبح سے ہی طبیعت اپ سیٹ ہے’ بس اسی وجہ سے نہیں آئ تھی میں…’ اب کچھ بہتر ہو…” خاموشی چھاگئ تھی…. کچھ پل بعد وہ بولا….زینب… اس نے ایک بار پھر اسے پکارا تھا….جی….’تم سچ میں ٹھیک ہو نہ….’ وہ زیادہ پریشان لگ رہا تھا….جی میں ٹھیک ہو….”میں آجاؤ’ اگر کہو تو….” علی میں سچ میں اب ٹھیک ہو’ اور آپ آکر کیا کرے گے…”تمھاری کیئر….’ انکل آنٹی سے ملاقات…ٹھینک یو… ایم فائن…. اور کوئ ضرورت نہیں آنے کی….” وہ مسکرایا….اوکے پھر تم آرام کرو’ کل آفس بھی آنے کی ضرورت نہیں ہے’ آرام کرنا بس….” اوکے اگر طبیعت ٹھیک ہوئ تو آجاؤ گی’ ورنہ پھر آپکا دل کیسے لگے گا…”اب کی بار علی پھر مسکرایا تھا… لگ جاۓ گا’ مگر مجھے اپنے دل سے زیادہ اس وقت تمھاری فکر ہے… تم ٹھیک ہوجاؤ….’اوکے….. اور کچھ….نہیں اب بس تم آرام کرو’ اور سنو اگر زیادہ طبیعت خراب ہوجاۓ تو ایک مس کال ہی مار دینا میں آجاؤ گا…. اللّه حافظ… ٹیک کیئر….اللّه حافظ…… زینب نے مسکراتے ہوۓ موبائل سائڈ میں رکھا تھا… علی کو سوچتے مسکراتے ہوۓ آنکھیں بند کرلی…. *********المیرا یوشع کے ساتھ پارک میں ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی…… جب تھک ہار کر وہ دونوں ایک بینچ پر بیٹھے تھے….. المیرا نے اس کی کندھے پر سر رکھا تھا…. وہ اس کے قریب نہیں آتی تھی…. مگر اب آنے لگی تھی… شاید ایک رشتہ ان کے درمیان بندھنے جارہا تھا اس وجہ سے…. یا اپنے دل کی اداسی کو دور کرنے کیلۓ…. اس کا یوشع کے ساتھ اچھا ٹائم سپینڈ ہوجاتا تھا… وہ جب بھی اداس ہوتی اس کے اداس موڈ کو خوشیوں میں وہی تو بدلتا تھا… ایک یوشع یا پھر علی….. اور ان دنوں میں یوشع بھی اسے زیادہ اکیلا نہیں چھوڑتا تھا زیادہ سے زیادہ ٹائم اس کی ساتھ سپینڈ کرتا تھا تاکہ اسے اپنی ماما کی یاد نہ آۓ وہ خوش رہے… کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے’ المیرا بھلے ہی کچھ نہ بتاۓ مگر وہ اس کے فیس سے ہی اس کے موڈ کا اندازہ لگا لیتا تھا…..”المیرا ‘ آر یو اوکے؟؟”ہمممم’ شہری آپ کبھی مجھے چھوڑ کر تو نہیں جاۓ گے’ ہمیشہ میرا ساتھ دے گے نہ…”المیرا’ کیا ہوگیا ہے تمھیں’ کیوں ایسی بات کررہی ہو؟؟ میں کیوں تمھیں چھوڑ کر کہیں جاؤ گا….”پتا نہیں کیوں” بس ایک عجیب سا ڈر لگا رہتا ہے’ کہ میں کبھی کہیں کسی موڑ پر آپ کو نہ کھودوں…” میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی…” تو کیا میں تمھارے بغیر رہ لوں گا؟؟” کبھی نہیں یار’ یاد رکھنا’ جب تک مہرو ہے’ تب تک یوشع ہے…’ جس دن مہرو بھی نہ رہی تو اس دن شہری بھی نہیں رہے گا….” المیرا نے نظریں اٹھا کر یوشع کو دیکھا….’ اتنی محبت کرتے ہو مجھ سے…’ تمھاری سوچ سے بھی زیادہ’ جہاں تمھاری سوچ ختم ہوتی ہوگی وہاں سے یوشع یوسفزئ کی محبت شروع ہوتی ہے…. اور سنو مہرو….. میں بھی ﮈﺭتا ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ…..ﺟﺐ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺍﺭ ﺁ ﺟﺎئے…. ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ .. ؟ المیرا نے ناسمجھی سے کہا….مطﻠﺐ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺿﺪ ﮨﯿﮟ…..ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ…..ﻭﮦ ﮐﺒﻬﯽ ﺑﻬﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺻﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ…..ﻗﺮﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺳﮑﺘﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺤﺒﻮﺏ….ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮ ﮔﺎ،، ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮔﺎ….ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ…..ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ….ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎ ﺭﮨﺎﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻭﺟﮧ ﮨﻮ ﮔﯽ…..المیرا ﺑﮩﺖ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ اسکی بات ﺳﻦ ﺭہی تھی….وہ کہہ رہا تھا کہ….ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮨﺮ ﻟﻤﺤﮧ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ..ﮐﺴﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ….. ﮐﺴﯽ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺖ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎنتا… ﯾﮧ ﻣﺤﺒﺖ ہے….ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﺩﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺻﺒﺮ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ….ﺳﻤﺠﻬﻮ…..ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ……ﻣﺤﺒﺖ ﺍﺏ ﺑﺲ ﻋﺎﺩﺕ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ….ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﻮﻥ ﺧﺘﻢ…..ﺗﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﺧﺘﻢ…..یوشع کی ﺑﺎﺕ ﺳﻨﺘﮯ ﺳﻨﺘﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻬﯿﮓ ﮔﺌﯿﮟ تھی…. ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ آج میں بھی کہتا ﮨﻮﮞ…..ﮐﮧ ﻣﺠﻬﮯ بھی ﮈﺭ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ……ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﺟﺐ تم مجھ سے دور نہ ہوجاؤں ‘ ڈر لگتا ہے اس وقت سے جب ﻣﺠﻬﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺍﺭ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ..المیرا ﻧﮯ ﮨﻠﮑﮯ ﺳﮯ ﺍﺛﺒﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼ ﺩﯾﺎ….. ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺩﻭﺭﯼ ﭘﮧ ﭼﮍتا ﮨﻮﮞ…..ﻟﮍتا ﮨﻮﮞ ﺗﻢ ﺳﮯ….. تم سے غصہ بھی کرتا ہوں… ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻏﺼﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ…..ﺑﻠﮑﮧ یہ ﺑﮯﺍﻧﺘﮩﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻢ ﺳﮯ….ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺧﻔﺎ ﮨﻮ ﺟﺎتی ﮨﻮ ﮐﮧ….ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ سمجھتا ﻧﮩﯿﮟ…ﺟﺒﮑﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ….ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﺲ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ……ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﮯﺍﻧﺘﮩﺎ ﻣﺤﺒﺖ….ﮐﺮتا ﮨﻮﮞ….تبھی تمہیں اپنے ہونے کا بار بار احساس دلاتا ہوں،اپنا حق جتاتا ہوں کہ مجھے تمہارا وقت،،، تمہارا پیار،،،،اور تمہاری توجہ چاہیے،،،، اور تم سمجھتی ہو میں تم سے بلاوجہ لڑتا ہوں،،،جھگڑتا ہوں،، جب کہ ایسا کچھ نہیں ہے المیرا جس دن میں تمھیں ڈانٹ بھی دو نہ تو وہ دن بہت برا ہوتا ہے… میں سارا دن بےچین رہتا ہوں… مجھے قرار نہیں ملتا…. اور جس دن میں نے خاموشی اختیار کر لی،اس دن سمجھ جانا اب تم بھی وہ اہمیت کھو چکی ہو۔ تب مجھے کوئی فرق نہیں پڑیگا کہ تم مجھے یاد کرتی ہو یا بھول چکی ہو۔ تب وہ خاموشی سب کچھ ختم کر دیگی۔کوئی محبت کرے تو اسکی قدر کرنا سیکھو المیرا…ورنہ جس کے لئے ٹھکراؤ گے، وہ مخلص نہ نکلا، تو بہت پچھتاوا ہوگا اپنے قیمتی شخص کے کھونے کا۔ اس لۓ اگر کوئی آپ سے مخلص ہے تو اسکی قدر کرنا سیکھو۔ زندگی بار بار موقع نہیں دیتی مخلص لوگوں سے ملوانے کا💔😭…اور بس ایک گلہ ہے تم سے….”یوشع نے اس کی بھیگی آنکھوں میں دیکھا…. تم کبھی اپنی محبت کا اظہار نہیں کرتی….”اس نے نظریں جھکائ تھی…. مجھے ڈر لگتا ہے….”کس چیز کا ڈر’ پتا نہیں ایسا لگتا ہے جس دن میں نے آپ سے اپنی محبت کا اظہار کیا اس دن میں آپ کو کھودوں گی…’ ایک اظہار کرنے سے کوئ کسی کو نہیں کھوتا..’ پتا نہیں بس مجھے لگتا ہے…’ “اور میں آپ کو کبھی کھونا نہیں چاہتی….” اور اب مجھے نہیں لگتا اس آخری بات کے بعد مجھے اظہار کرنے کی ضرورت پڑے گی….’یوشع مسکرایا…’ تو پھر یاد رکھنا میں یوشع یوسفزئ ہو’ میں تم سے ایک دن اظہار کروا کر رہوں گا…. وہ خاموش تھی… نہ کوئ جواب نہ کوئ مسکراہٹ… دل بے چین….”یوشع نے ریسٹ واچ میں ٹائم دیکھا… وہ مسکرایا… اس نے المیرا کاموڈ ٹھیک کرنا ہے پھر وہ چاہے کسی بھی طریقے سے کرے… کسی کے راز ہی کیوں نہ کھولنے پڑے….. کسی کو گنجا ہوتے ہی کیوں نہ دیکھنا پڑے… مہرو تمھیں پتا ہے علی اس وقت کہا ہوگا… اس نے سر اوپر اٹھایا… ” گھر ہوگے…” نہیں’ چلو میں دیکھاتا ہو وہ کہاں ہے؟؟؟!کہاں؟؟ اٹھو چلو تو مووی دیکھاؤ گا رئیل….’وہ اٹھی تھی… اور وہ دونوں پارک سے نکل گۓ….. پورے راستے دونوں خاموش رہے تھے….یوشع نے سی سائڈ پر گاڑی پارک کی تھی… چلو اترو…’ وہ اتری تھی…. یوشع نے اس کا ہاتھ تھاما تھا…. سمندر دیکھ کر دل خوش ہوگیا تھا…. یہاں کیا دیکھاۓ گے آپ…؟ چلو تو پتا چل جاۓ گا…وہ اسے لے کر چلتا جارہا تھا…. ادھر بہت رش تھا… وہ سمندر کو دیکھ کر ہمیشہ کی طرح آج بھی بچوں کی طرح خوش ہورہی تھی….. وہ چلتے چلتے رکے تھے… “وہ دیکھو سامنے اس سٹون پہ کون بیٹھا ہے..؟؟”المیرا نے سامنے اس سٹون کی طرف دیکھا جہاں یوشع نے اشارہ کیا تھا….. دو نفوس بیٹھے تھے دونوں کی پشت تھی… وہ سمجھ نہ پائ کون ہے؟؟ مگر جب اس نے غور کیا تو اسے سمجھنے میں بالکل دیر نہ لگی کہ یہ علی کی پشت ہے’ مگر اس کی ساتھ وہ لڑکی جو ہے’ وہ کون ہے؟؟؟ یوشع’ بھائ کے ساتھ یہ کون لڑکی بیٹھی ہے..؟؟؟خود دیکھ لو” یوشع نے اس کا ہاتھ چھوڑا تھا… وہ آنکھیں چھوٹی کرتے آگے بڑھنے لگی تھی… یوشع بھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا… بھائ’ المیرا نے پکارا… علی کی آنکھیں حیرت سے پھٹی… زینب بھی اسی کیفیت میں تھی… وہ ڈرتے ڈرتے پیچھے پلٹا… جہاں وہ کمر پر ہاتھ باندھے’ آنکھیں چھوٹی کیے غصے سے علی کو گھور رہی تھی… تتتتت تم’ اس کی پیچھے کھڑے یوشع کو دیکھا جو وہاں کھڑا اسے زبان دکھا رہا تھا…. علی کو غصہ چڑھا… زینب نے پلٹنے کی ہمت نہیں کی تھی… یہ کس چڑیل کے ساتھ بیٹھے ہو؟؟ علی اور یوشع گلا پھاڑ کر ہنسے تھے.. اور وہی زینب کو چڑیل نام پہ غصہ چڑھا تھا… پتھر سے اٹھ کر پلٹی… تمھیں میں کہا سے چڑیل لگتی ہو…’ تم خود ہوگی چڑیل… جنگلی بلی… المیرا کی آنکھیں پھٹی…تت تم… یوشع المیرا کے قریب آیا… تمھاری ہونے والی بھابھی….دیکھ لو اپنے بھائ کے کرتوت… تمھیں بتایا بھی نہیں ہے.. اچھی ایڈوائز دے رہا ہو گنجا کردو… او او یوشع کے بچے چپ کر….. کیوں جلتی پہ تیل کا کام کررہا ہے… یوشع پھر ہنسا… المیرا غصے سے آگےبڑھنے لگی تھی… علی الٹے قدم چل رہا تھا… یار المیرا غصہ نہیں… تھوگ دو غصہ …. یار میں بتاتا ہو نہ تمھیں کیوں تم اس بندر کی باتوں میں آرہی ہو….وہ سن ہی کب رہی تھی؟؟ وہ تو علی کو مارنے پہ تلی ہوئ تھی….. یار بہنا’ اپنے بھائ کوگنجا کرو گی شرم کرو کیوں اپنے معصوم بھائ پہ اتنا ظلم کررہی ہو” قسم سے یار پھر زینب مجھ سے شادی بھی نہیں کرے گی” ہاۓ کون مجھ سے شادی کرے گا…”آپ اور وہ بھی معصوم لاحولا…وہ رک گئ تھی.. علی بھی رک گیا.. آپ نے اتنی بڑی بات مجھ سے چھپائ… مجھ سے… اس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر رونی صورت بنائ… کب سے چل رہا ہے یہ سب’زینب کو گھورا….. تم نے بھی مجھے نہیں بتایا… اور پھر خود کو میرا دوست کہتی ہو…. ایسے ہوتے ہیں دوست… علی المیرا کے قریب آیا… آپ’ المیرا نے انگلی دکھائ… علی نے المیرا کے کان پکڑے… سورییییی اس کے کان کھینچے… اففف’ چھوڑے… اچھا ناراض مت ہونا… تمھاری ناراضگی برداشت نہیں ہوتی…. اور ویسے بھی تمھیں تو خوش ہونا چاہیے تمھاری بیسٹی ہی تمھاری بھابھی بن جاۓ گی…. اس نے پھر علی کو گھورا تھا… کیوں یار تمھیں زینب’ بھابھی کے روپ میں پسند نہیں کیا…’ وہ تھوڑا سیریس ہوا تھا… اور اگر کہوں کہ نہیں پسند تو کیا چھوڑ دے گے…. علی نے زینب کیطرف دیکھا جو یوشع کے ساتھ کھڑی تھی… وہ کچھ بےچین ہوئ تھی… بتاۓ اب کیوں چپ ہوگۓ… کون زیادہ عزیز ہے وہ یا میں…..’ علی نے آنکھیں میچیں…. تم” زینب کی آنکھوں میں نمی اتری….. یوشع مسکرارہا تھا… علی نے آنکھیں کھولی تو وہ اب بھی غصے سے کھڑی اس کو گھوررہی تھی… اب کیا ہوا..؟؟ آپ کی ہمت بھی کیسے ہوئ یہ بات کرنے کی… المیرا نے اس کی بازو پہ زور کا تپھڑ مارا تھا… اوئ… اس نے بازو سہلایا… علی عمران… اگر کبھی آپکی وجہ سے میری بیسٹی کی آنکھوں میں آنسوں آۓ یا آپ نے دوبارہ اسے چھوڑنے کی بات کی نہ تو یاد رکھنا انگلی اٹھائ’ بہت برا حال کرو گی” مجھے زینب اپنی بھابھی کے روپ میں بہت پسند ہے…زینب کو دیکھ کر کہا…وہ نم آنکھوں سے مسکرائ تھی…. علی سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکا… جو حکم میرے آقا… وہ دل سے مسکرائ… وہ سیدھا ہوا… ویسے ایک پل کو تو تم نے مجھے ڈرا ہی دیا تھا… مجھے لگا میں سچ میں زینب کو کھودوں گا’ تم دونوں مجھے بہت عزیز ہو’ زینب کو دیکھا… المیرا تمھارا تو پتا نہیں مگر جب جب زینب کو دیکھتا ہو تم ہمیشہ یاد آتی ہو… اس میں تمھاری جھلک دیکھتی ہے” تم دونوں کی حرکتیں بھی تو ایک جیسی ہے….. زینب کو علی سے کوئ گلا نہیں تھا کہ اس نے کیوں المیرا کا نام لیا” یہ بات وہ پہلے دن سے جانتی ہے کہ المیرا علی کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے…..المیرا نے زینب کے پاس آکر اس کو ہگ کیا….اس کے گال کو چوما….. وہ دل سے خوش تھی… آج بھی یوشع نے اسکو خوش کردیا تھا…. زینب اور المیرا ایک دوسرے سے ہنسی مزاق کرتی آگے چل رہی تھی… اور وہ دونوں پیچھے… ٹھینک یو… علی نے کہا….یار ہے تو میرا….. ***********_______جاری ہے_______
