No Download Link
Rate this Novel
Episode 04
Visal-e-Javedan وصال جاوداں
کا تعارف کروایا…
ہادی نے سلام کیا اور ایمان نے بھی مسکرا کر اسکے سلام کا جواب دیا…
ماشااللہ آپ بہت پیارے ہو….
ٹھینک یو آنٹی…
ہادی نے اپنی تعریف پر شرم سے سرخ ہوتے گال کے ساتھ ایمان کا شکریہ ادا کیا…
یار اب چلے رات ہونے والی ہے… میری طبیعت بھی کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی…..
کیا ہوا ہے تمھیں.. ابھی تک تو بالکل ٹھیک تھی… المیرا پریشانی سے اٹھ کھڑی ہوئ…
پتا نہیں بس سر میں درد ہورہا ہے…
اوکے پھر چلتے ہیں… المیرا ہادی کی طرف متوجہ ہوئ.. جو پہلے سے ہی دونوں کو دیکھ رہا تھا…
اچھا بیٹا پھر ملاقات ہوگی….. اب میں چلتی ہو… اپنا خیال رکھنا…. المیرا نے اسکے دونوں گالوں پہ بوسہ دیا….
ہادی نے بھی المیرا کے گال پہ کس کی…
آپ بھی اپنا بہت سارا خیال رکھنا آنٹی…
اللہ حافظ….
وہ دونوں باہر کی طرف چل دی….
تب کہیں ہادی کو بھی اپنے بابا کا خیال آیا… اس نے آسمان کو دیکھا جہاں بس اندھیرا ہونے والا تھا…..
_________________
ہادی فورا سے پہلے اپنے بابا کے پاس بھاگا تھا… مگر وہاں کوئ نہیں تھا… نہ اس کے دوست اور نہ ہی اس کے بابا…. ہادی نے ادھر ادھر دیکھا… مگر یوشع کہیں نظر نہ آیا… اور ہادی وہیں کھڑا رونے لگا…
_________
(وہ لڑکیاں جو یوشع کے پاس آئ تھی… جنگلی بلیوں کی طرح یوشع سے چمٹ ہی گئ تھی… ان لڑکیوں سے کافی دیر سر کھپانے کے بعد بہت مشکلوں سے وہاں سے بھیجا… اور بچوں کی طرف دیکھا… وہ جو لڑکیوں کو وہاں سے بھیجنے پہ ابھی سکون کا سانس بھی نہ لیا تھا… کہ ہادی کو وہاں نہ پاکر بےقرار ہوگیا… اور دوڑ کر بچوں کے پاس پہنچا….
بچوں ہادی کہا گیا آپ سب کے ساتھ ہی کھیل رہا تھا نہ…
انکل یہی تھا ہادی پھر پتا نہیں کہا چلا گیا…. ان بچوں میں سے ایک نے جواب دیا….
اس بچے کا جواب سن کر تو جیسے یوشع کو سب کچھ گھومتا ہوا محسوس ہونے لگا…
کیا مطلب پتا نہیں ہے… آپ سب کے ساتھ ہی کھیل رہا تھا… دھیان رکھنا چاہیے تھا نہ کہ کہا جارہا ہے ہادی….
یوشع نے سخت لہجے میں پوچھا…. بچے تو یوشع کی سخت آواز سن کر ہی ڈر گۓ تھے… ایک دوسرے کے ساتھ چپک کر کھڑے ہوگۓ…. یوشع کو بھی اپنے سخت رویے کا احساس ہوا… تو بچوں کو وہیں چھوڑتا دوسری سائڈ پہ ہادی کو ڈھونڈنے نکل گیا….)
ہادی یہی کھڑا روتا ہوا اپنے باپ کو پکار رہا تھا… اردگرد سے گزرنے والے ہادی کو ہی دیکھ رہے تھے… مگر کوئ بھی قریب نہیں آیا….
اب مکمل طور پر اندھیرا ہوچکا تھا… پارک کی لائٹس اون کردی گئ تھی… بہت کم ہی لوگ اب پارک میں رہ گۓ تھے….
یوشع تھوڑی دیر بعد واپس اسی جگہہ آیا… تو ہادی دور سے ہی یوشع کو کھڑا نظر آگیا تھا…. یوشع نے جیسے اب سکون کا سانس لیا…. میرہادی پکارتا آگے بڑھا… ہادی نے بھی جیسے ہی یوشع کی آواز سنی پیچھے مڑ کر دیکھا….. اپنے بابا کو دیکھ کر بھاگتا ہوا یوشع کے پاس پہنچا….
یوشع نے اسے گود میں اٹھاکر خود میں زور سی بھینچا… ہادی بھی زور سے یوشع کے گلے لگا اور زاروقطار ہچکیوں سے بابا کرکے رونے لگا….
یوشع کے دل کو قرار مل گیا تھا… یوشع نے دیوانہ وار اسے چوما….
کہاں چلے گۓ تھے میری جان… تم نے تو بابا کی جان ہی نکال دی تھی… بتا کر نہیں جا سکتے تھے اگر کہیں بھی جانا تھا تو… ہادی بس رونے میں مصروف تھا… کوئ جواب نہ دیا…. یوشع نے اپنے رب کا شکر ادا کیا ہادی کے ملنے پر… یوشع کے اندر اب ہمت نہیں تھی کسی بھی اپنے کو کھونے کی… چند ہی منٹ میں یوشع کی تو جان گلے میں اٹک گئ تھی…..
بس میری جان بابا آپ کے پاس ہے… بالکل چپ… یوشع نے ہادی کے آنسو صاف کیے… اور ایک بار پھر اسکو چوما… اسکی پیٹھ کو سہلایا…
ہادی بھی بہت ڈرگیا تھا… یوشع کو وہاں نہ پاکر… ہادی یہاں جانتا ہی کس کو ہے….
یوشع کو ایسے لگا جیسے ہادی کی گردن اسکے کندھے پہ سے نیچے کی طرف لڑھک رہی ہے…. یوشع نے اسکو خود سے الگ کیا… تو ہادی بےہوش ہوچکا تھا… یوشع نے اسکے گال کو تھپتھپایا…. مگر وہ ہوش میں نہ آیا….
یوشع اسے لے کر باہر کی طرف دوڑا….
__________________
وہ اپنے روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا…. جب اپنے بیٹے کو بیڈ پہ سوۓ ہوۓ دیکھا… دو گھنٹے ہوگۓ تھے… مگر ہادی کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا….
_____
پارک سے نکل کر یوشع سیدھا ہوسپٹل گیا تھا ہادی کو لے کر… ڈاکڑ نے بتایا گھبرانے والی کوئ بات نہیں ہے… آپکا بیٹا کسی خوف کے زیراثر بےہوش ہوا ہے…. دو سے تین گھنٹوں میں ہوش آجاۓ گا….
اور اب اسکو گھر واپس آۓ دو گھنٹے ہوگۓ تھے… مگر ہادی کو اب تک ہوش نہیں آیا تھا….
وہ قدم قدم چلتا ہادی کے پاس بیڈ پر آکر بیٹھ گیا… اسکی پیشانی کو چوما…. یوشع ہادی کو ہی دیکھ رہا تھا… جب تھوڑی دیر بعد ہادی کی پلکوں پہ جنبش ہوئ…. یوشع اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا…. ہادی بند آنکھوں سے بابا پکارنے لگا….
میرو بابا ادھر ہی ہے… آنکھیں کھولو شاباش….
وہ بس بابا پکار رہا تھا اور اپنی گردن کو بائیں دائیں گھمانے لگا….
میرو اٹھو….. یوشع اسکو اس طرح کرتے دیکھ ڈر گیا تھا….
جب اچانک ہادی نے آنکھیں کھولی…. اور اٹھ کر ایک بار پھر یوشع کے گلے لگ کر رونے لگا….
بابا آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جاۓ گے….
یہ کیسی باتیں کررہے ہو بیٹا… میں کیوں جاؤں گا آپ کو چھوڑ کر…. میں کہیں نہیں جارہا یہی ہو آپکے پاس…. یوشع نے اسے خود سے دور کرکے اسکے آنسوں صاف کیے….
یوشع کو اب صححیح معنوں میں اندازہ ہوا تھا کہ ہادی کتنا ڈر گیا تھا…..
بہت مشکلوں سے یوشع نے ہادی کو چپ کروایا تھا….
*****
المیرا روم میں داخل ہوئ….. ہاتھ میں چاۓ کی ٹرے اور کچھ دیگر لوازمات کے ساتھ….
اب کیسی طبیعت ہے…. ایمان جو آنکھیں بند کیے لیٹی تھی… المیرا کی آواز پر اٹھ کر بیٹھ گئ…
ہممم اب ٹھیک ہو….
اچھا یہ لو چاۓ اور کچھ کھالو… پھر ٹیبلٹ لےکر سوجانا… المیرا بھی اسی کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئ….
دونوں نے اپنے چاۓ کے کپ اپنے ہاتھوں میں اٹھالیے تھے…
مگر پی نہیں تھی… بس پکڑے رکھی….
المیرا…
ہمممم….
ہادی سچ میں بہت ہی خوبصورت ہے….. اسے دیکھ کر کوئ بھی باآسانی اس کی طرف اٹریکٹ ہوسکتا ہے… کچھ پل کیلۓ تو میں بھی اسے دیکھ کر مبہوت ہوگئ تھی… کہ واقع کوئ اتنا خوبصورت بھی ہوسکتا ہے….. میں نہیں جانتی کہ شہری کیسا ہے… میں نے اسے کبھی نہیں دیکھا… بس صرف تم سے سنا ہے….
دیکھنا چاہو گی وہ کیسا ہے؟؟؟ المیرا نے اسکی بات پہ اس سے پوچھا….
تمھارے پاس تصویر ہے اس کی…. ایمان نے کچھ حیرت سے پوچھا…
کیونکہ جب شروع میں ایمان نے کہا تھا کہ اسکی کوئ پک دکھاؤ تو المیرا نے یہ کہہ کر ٹال دیا تھا کہ میرے پاس نہیں ہے…..
ہاں ہے…
تو تم نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا…. ایمان نے کچھ غصے سے کہا…
نہیں جھوٹ نہیں بولا تھا…بس میں نے خود نہیں دکھائ تھی….
کیوں؟؟؟
تم اس بات کو چھوڑو… بس یہ بتاؤ دیکھنا ہے یا نہیں…
نہیں… مجھے کوئ شوق نہیں ہے ایسے انسان کو دیکھنے کا جس نے میری دوست کا دل دکھایا ہو….
تم اب تک اسکی پک کو دیکھتی ہوں… ایمان نے ناجانے کس احساس کے تحت پوچھا….
نہیں میں نہیں دیکھتی… بس شروع شروع میں دیکھتی تھی اس کے بعد نہیں دیکھا…. اس کو دیکھ کر وہ سب یاد آجاتا ہے… اسکے ساتھ گزارا ایک ایک پل… اور وہ اذیت بھرا دن جو میرے لۓ بہت تکلیف دہ ہے…..
یہاں پہ یہاں درد ہوتا ہے جب اس دن کے بارے میں سوچتی ہو… المیرا نے اپنے دل کہ مقام پہ انگلی رکھ کر کہا…. المیرا کی آواز میں نمی تھی… آنکھوں میں اذیت تھی…. شکوہ تھا….
ایمان نے نظریں چرائ….
المیرا اسے بھول جاؤ….
تمھیں لگتا ہے محبت کو بھلانا اتنا آسان ہے اور وہ تو محبت نہیں عشق ہے میرا… میرے لۓ میرا سب کچھ تھا… میں چاہ کر بھی اسے بھلا نہیں پاتی… جتنا اسے بھولنے کی کوشش کرتی ہو… وہ اتنا ہی یاد آتا ہے…
پلیز المیرا کوشش کرو… کوشش کرنے سے کیا کچھ نہیں ہوجاتا ہے…. تم کب تک اسکی یادوں کے سہارے زندگی گزاروں گی… میری جان کسی کی یادوں کے سہارے ساری زندگی نہیں گزرتی…
میری مانو تو جہان کو جواب دے دوں…. تم جانتی ہو وہ تم سے کتنی محبت کرتا ہے… پچھلے چار سالوں سے وہ تمھارے جواب کا منتظر ہے… کب تک اسے یوں خوار کرو گی… اسے ہاں میں جواب دے دوں… وہ تمھیں بہت خوش رکھے گا… وہ تمھاری دل سے عزت کرتا ہے…
دیکھنا وہ تمھارے دل سے شہری کی محبت کو نکال دے گا… اور خود اس دل کا بادشاہ بن جاۓ گا… وہ تمھیں بہت خوش رکھے گا….
جہان کو اپنا نصیب سمجھ کر قبول کرلو… اس رب کی رضا پہ راضی ہوجاؤ… موواون کرو اپنی لائف میں… ایک لڑکی کا اکیلے اس دنیا میں رہنا کتنا مشکل ہے… تم اچھی طرح جانتی ہو… اسے ہمیشہ کسی مضبوط سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اس دنیا میں سروائیو کرنے کیلۓ… اور وہ مضبوط سہارا جہان کے علاوہ کوئ نہیں ہے… جہان ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہے….
ایمان چپ تھی… المیرا نے کوئ جواب نہیں دیا… ایمان نے بھی پھر کوئ بات نہیں کی…. دونوں چپ تھی… اب ان کے درمیان خاموشی تھی… گہری خاموشی…. اور المیرا کی لائ ہوئ چیزیں یوہی پڑے پڑے ٹھنڈی ہوگئ تھی…..
***********
جاری ہے____________
