No Download Link
Rate this Novel
Episode 02
Visal-e-Javedan وصال جاوداں
یوشع ابھی فریش ہوکر اپنے گیلے بالوں کو تولیے سے رگڑتا واشروم سے نکلا تھا… جب روم کا ڈور نوک ہوا…. کم ان کہتا وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھ گیا…. ایک ملازم اندر داخل ہوا…
ہاں لگادو” بالوں میں برش پھیرتے جواب دیا…. ملازم ‘جی صاحب’ کہتا روم سے چلا گیا…. یوشع نے بال بناۓ… برش ڈریسنگ ٹیبل پر واپس رکھا اور خود بھی روم سے نکل کر اپنے بیٹے کے روم کی طرف بڑھا…. دروازہ کھول کے ‘میرو بیٹا آؤ کھانا کھالو’ کہا.. مگر وہ اسے کہیں نظر نہ آیا تو روم کے اندر چلا آیا….
(میرو جس نے ابھی کھٹکے کی آواز سنی تھی.. دروازہ کھلنے سے پہلے دوڑ کر صوفے کے پیچھے چھپ گیا تھا)
یوشع نے روم میں آکر ادھر ادھر دیکھا کہ کہا گیا تو وہ اسے صوفے کے پیچھے چھپا ہوا نظر آگیا… یوشع مسکرایا’ صوفے کی طرف پشت کرکے کھڑا ہوگیا….
میرو بیٹا کہا ہو؟؟ چلو شاباش جلدی سے باہر آجاؤ’ بابا کو تنگ مت کرو…. ہادی صوفے کے پیچھے سے نکلا اور یوشع کے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا… یوشع نے اپنے پیچھے اسکی موجودگی کو محسوس کرلیا تھا… مگر پلٹا نہیں تھا…. کیونکہ وہ جانتا تھا “اب اس کا بیٹا کیا کرنے لگا ہے”
ہادی آہستہ آہستہ یوشع کے قریب پہنچ کر اس کے پیروں کو پکڑ کر زور سے بھاؤؤں کیا…. ہاۓ اللّه کون ہے…” یوشع بھی بھرپور ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوۓ پلٹا اور سامنے کھڑے اپنے بیٹے کو دیکھا جو ہنسنے میں مصروف تھا…
اوووہو تو تم ہو’ ہاۓ شرم نہیں آتی اپنے بابا کو ڈراتے ہوۓ…. یوشع نے کمر پر ہاتھ باندھتے ہوۓ کہا….
ہاہاہاہا… بابا… ہاہاہا آپ ڈر گۓ… آپ اتنے بڑے ہوکر ڈر گۓ….
یوشع بھی اس کو مسکراتا دیکھ مسکرا اٹھا… ہادی کو گود میں اٹھا کر ہوا میں اچھالا… اسے گھومانے لگا… جس پہ وہ اور زور سے ہنسنے لگا تھا…. یوشع تو چاہتا بھی یہی ہے کہ اس کی یہ معصوم سی مسکراہٹ اور یہ شرارتیں کبھی ختم نہ ہو… وہ یوہی ہنستا مسکراتا رہے… چلو اب چل کر کھانا کھالیتے ہیں….. یوشع نے باری باری میرو کے دونوں گالوں کو چوما… اور اسے لے کر روم سے باہر نکل گیا….
_______________________
وہ اپنے کمرے میں بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ کسی گہری سوچ میں گم تھی… جب ایمان( اسکی دوست) دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئ… جب وہ اپنی سوچوں سے باہر آئ…
کیا ہوا المیرا؟ کیا سوچ رہی ہو؟؟ ایمان نے پوچھا….اور اسکے ساتھ ہی بیڈ پر چڑھ کر بیٹھ گئ…
کچھ نہیں… المیرا نے جواب دیا…
کچھ تو سوچ رہی تھی ؟؟بتاؤ کیا سوچ رہی ہوں؟؟ ایمان نے پھر پوچھا… ذرا ایک منٹ کہیں تم اس بچے کے بارے میں تو نہیں سوچ رہی… جو پارک میں تمھیں ملا تھا….
المیرا نے ایک نظر اپنے ساتھ بیٹھی اپنی جان سے پیاری دوست کو دیکھا… اور دوبارہ سامنے دیکھنے لگ گئ….
کوئ جواب نہ پا کر ایمان نے ایک بار پھر پوچھا… المیرا سچ بتاؤ تم اسی کے بارے میں سوچ رہی ہونہ…
ہمم… المیرا نے بس اتنا جواب دیا…
(المیرا جب سے واپس آئ تھی… بس ہادی کو ہی سوچ رہی تھی… اس کی ان آنکھوں کے بارے میں… المیرا نے تو اس سے اب بھی اور بات کرنی تھی…. مگر ایمان کی کال پہ وہ باہر آگئ تھی…)
“پتا نہیں کیوں مگر اسے وہ بچہ بہت اپنا اپنا سہ لگا تھا… اور سب سے بڑھ کر اس کی وہ آئیز….”
المیرا کو آج شدت سے کسی کی یاد دلاگئ تھی…. اس نے ایمان کو بھی سب بتایا تھا ہادی کے بارے میں…
مگر وہ اسے کیا کہتی… ایمان سب جانتی تھی اسکی محبت، اسکے عشق اسکی فیلینگز کے بارے میں…
یار المیرا کیوں سوچ رہی ہو اس کے بارے میں اتنا بس کردو…. ایمان نے اس کو سمجھانا چاہا….
نہیں ایمان تم نے نہیں دیکھا تھا اس کو….میں نے دیکھا تھا بہت قریب سے… اسکی وہ آنکھیں گہری براؤن تھی… بالکل اس کے جیسی… اس کا وہ ڈمپل… سب سے بڑھ کر اس کا نام میرہادی…
اسکی آنکھوں کے سامنے ماضی کا ایک لمحہ آیا تھا…
(المیرا ہمارے بیٹے کا کیا نام رکھوں گی….المیرا نے فوراً سے پہلے اس کی براؤن آنکھوں میں دیکھ کر جواب دیا تھا… میرہادی… مجھے میرہادی نام بہت پسند ہے… دیکھنا میں تو اپنے بیٹے کا نام میرہادی ہی رکھوں گی)….
ایمان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور وہ اپنے خیالوں سے باہر نکلی….
المیرا میری جان… مت سوچو اتنا… اتنا سوچ سوچ کر خود کو اذیت مت دو…. اور جہاں تک آنکھوں اور نام کی بات ہے… تو ہر دوسرے دن ہمیں ہمارے اردگرد میرہادی نام کے اور یہ براؤن آنکھوں والے بہت ملے گے تو کیا یوہی ہر بار سوچ سوچ کر خود کو اذیت دوں گی… اور یاد کرو ابھی ایک ہفتے پہلے ہی تمھیں ایک بچہ ملا تھا…. میرہادی نام کا… اسکی بھی تو آنکھیں براؤن تھی… تب تو تم نے اتنا نہیں سوچا تھا…. تو پھر آج کیوں اتنا سوچ رہی ہو….
پتا نہیں ایمان… بس وہ مجھے بہت اپنا اپنا سہ لگا تھا…. ہادی کو دیکھ کر ایسے لگا کہ جیسے وہ میرے سامنے کھڑا ہو…. یہ کہتے ہوۓ المیرا کی آواز بھرا گئ… آنکھوں میں بھی نمی تیرنے لگی….
ایمان نے اس کو اپنے گلے لگایا… کیونکہ وہ جانتی تھی….کہ وہ کبھی بھی المیرا کی تکلیف کو کم نہیں کر سکتی… کبھی المیرا کے دل سے اس شخص کی محبت کو نہیں نکال سکتی…
ایمان کتنے سال ہوگۓ ہیں…. وہ تو اپنی لائف میں بہت خوش ہوگا… اور مجھے دیکھوں میں خوش نہیں رہ پاتی… اس کے بغیر ایک ایک پل اذیت بھرا لگتا ہے… میں اس سے ہمیشہ کہتی تھی کہ مجھے اپنی اتنی عادت مت ڈالو… اگر کبھی ہم جدا ہوگۓ تو میں تمھارے بغیر کبھی نہیں رہ پاؤ گی…. اور وہ کہتا اللہ نہ کرے ہم کبھی الگ ہو… اور آج دیکھوں ہم ایک دوسرے سے کتنے دور ہے… ہم الگ ہوگۓ ایمان….کیا اسے میری یاد نہیں آتی ہوگی…میرے ساتھ گزارے کتنے ہی لمحوں میں سے اسے کوئ ایک لمحہ بھی یاد نہیں آتا ہوگا… المیرا اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر زاروقطار رونے لگی تھی….
بس کردو المیرا.. سٹوپ اٹ… خدا کے واسطے بس کردو ….
ابھی تم نے خود کہا ہے کہ وہ اپنی لائف میں خوش ہوگا…. تو تم کیوں اپنی لائف کو برباد کررہی ہو… بس کردو… پلیز مت روؤں…المیرا بھی اس کی بات سن کر چپ ہوگئ… کیونکہ وہ صححیح کہہ رہی تھی….
مجھ کو شام سے وہ اک شخص بہت یاد آنے لگا ہے…
دل نے مدت سے جس کو بھلا رکھا ہے… ![]()
___________________________
یوشع اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا…. اور شام میں کہیں اپنے بیٹے کی بات کو سوچ رہا تھا….(بابا پتا نہیں کہاں چلی گئ… ابھی تو یہیں تھی آنٹی)…
میرو کسی لڑکی سے ملوانے والا تھا… کون تھی وہ؟؟؟ جو میرو سے بات کررہی تھی…. اگر جانتی تھی تو ملے بغیر کیوں چلی گئ… مگر میں تو یہاں کسی کو اتنا جانتا بھی نہیں ہوں… تو پھر کون تھی وہ…؟؟
ہنہ مجھے کیا… کوئ بھی ہو…
یوشع نے خود ہی اپنی سوچوں کو جھٹک دیا تھا…
کل میرو سے بات کرلوں گا اس بارے میں….
یوشع نے چھت سے نظریں ہٹا کر اپنے بیٹے کو دیکھا… جو اس کے سینے پر سر رکھے پرسکون سا سو رہا تھا….
اپنے بیٹے کی پیشانی پہ بوسہ دیا…. سائڈ میں پلو پر لیٹا کر… خود اٹھ کر اپنے لیپ ٹاپ پہ کل آفس میں ہونے والی میٹنگ کی تیاری کرنے لگا… کیونکہ نیند تو اس کو آتی نہیں تھی زیادہ…
پچھلے کچھ سالوں سے نیند اس سے کچھ روٹھ سی گئ
**********
آنکھوں پہ گلاسسز چڑھاۓ ، اپنے سینے پہ دونوں بازؤں کو فولڈ کیے، ریڈ شرٹ، بلیو پینٹ میں کار سے ٹیک لگاۓ يوشع اپنے بیٹے کا انتظار کررہا تھا….
جب اسکول بیل بجنے پر سب بچے اسکول گیٹ سے باہر نکلے… کوئ اپنی ماں کے پاس … تو کوئ اپنے باپ کے پاس جارہا تھا…. جبھی میرہادی بھی باہر آتا یوشع کو دیکھائ دیا….میرو فوراً سے پہلے دوڑ کر اپنے باپ کے پاس پہنچا…. یوشع نے اسے اپنی گود میں اٹھا کر باری باری اس کے دونوں گالوں پہ پیار کیا….
السلام و علیکم بابا!
میرو نے بھی سلام کرکے اپنے باپ کہ گال پہ کس کی….
وعلیکم السلام!
چلے گھر….
ہاں جی … ہادی نے جواب دیا…. اور وہ گاڑی میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوگۓ….
_____________
ہادی جب ساڑھے تین سال کا تھا … جب ہی اسکا سکول میں ایڈمیشن کروادیا تھا یوشع نے… کیونکہ ہادی ایک ذہین بچہ تھا… وہ بہت جلد چیزوں کو سیکھ لیتا تھا… کبھی تو وہ اپنی باتوں سے بہت بڑا لگتا تھا…
ہادی نے آئیز کلر، گال پہ پڑتا ڈمپل اور ذہانت تینوں چیزیں اپنے باپ سے وراثت میں لی تھی… اور بالوں کا کلر جو لائٹ براؤن تھے اپنی ماں سے چراۓ تھے…
________
گھر آکر ہادی کو چینج کروانے، لنچ کرنے کے بعد، ہادی کو اپنا ہوم ورک کرنے کی ہدایات دیتا…. یوشع اپنے آفس کیلۓ دوبارہ نکل گیا…..
________
شروع سے ہی میرو کو سکول سے لانے اور لے جانے کی ذمہ داری بھی خود ہی لی ہوئ تھی…کسی ڈرائیور کے ذمہ نہیں لگائ تھی….اس لۓ روز صبح اسکو سکول چھوڑنے کے بعد یوشع بھی اپنے آفس چلا جاتا… اور دوپہر میں میرہادی کو گھر چھوڑ کر دوبارہ آفس کیلۓ نکل جاتا….
اور شام جلدی گھر واپس آکر اپنا سارا ٹائم صرف اپنے بیٹے کے ساتھ سپینڈ کرتا…. تاکہ اسکو کبھی اپنی ماں کی کمی محسوس نہ ہو…
اور ایسا بہت کم ہی ہوتا تھا… کہ ہادی اپنی ماں کو یاد کرتا ہوں کونکہ کبھی یوشع نے اسے اپنی ماں کی کمی محسوس ہی نہیں ہونے دی….
شروع سے ہی یوشع اسکی ہر خواہش، ہر ضرورت کو پورا کرتا… یوشع اسے ماں باپ دونوں کا پیار دیتا…
ہاں جب بھی ہادی کو اپنی ماں کی کمی محسوس ہوتی… وہ اپنی ماں کی تصویر کو اپنے سینے سے لگاکر خوب روتا… اور جب جب میرو روتا… یوشع سے بھی ہادی کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا…… مگر سنبھال لیتا تھا….
**********
___________________جاری ہے_______________
