No Download Link
Rate this Novel
Episode 50
ماہی یوشع کی گود میں سر رکھ کر لیٹی تھی…. اور یوشع ہلکے ہلکے اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں چلا رہا تھا….. جس سے اس کو کافی سکون مل رہا تھا….. وہ آنکھیں بند کرکے یوشع کا ایک ہاتھ اپنی گرفت میں پکڑے لیٹی تھی…… یوشع بھی چپ سا اس ہی کو دیکھ رہا تھا….
یوشع ایک بات پوچھو…..”
ہاں پوچھو……”
آپ سچ میں مجھے کبھی نہیں چھوڑے گے نہ……”
نہیں…..” ایک سکون سا اس کے چہرے پر اترا تھا…..
آپکو بیٹا چاہیے یا بیٹی…..” اور ایک بار پھر ماہی اس کے دل کے زخم ہرے کرگئ تھی…. المیرا کے ساتھ کی گئ گفتگو اس کے ذہن میں گردش کرنے لگی تھی….. اس کے بالوں میں چلتی انگلیاں چند پل کیلۓ رک گئ تھی….. مگر پھر اس نے خود پر قابو پالیا تھا……
کچھ بھی ہوجاۓ……”
اچھا پھر دیکھ لینا بیٹا ہوگا’ بالکل آپکے جیسا’ بلکہ آپ سے بھی زیادہ جوبصورت…..”
ہمممم’ سوجاؤ ماہی بہتر محسوس کرو گی…..”
ہممم آپ سلاۓ سوجاؤ گی……”
اچھا پہلے اٹھو اور یہ جوس پی لو……” وہ اٹھ کر بیٹھی تھی…..
آپ پی لادے نہ…….” اس نے مسکراتے ہوۓ بہت محبت سے کہا تھا….. آج وہ اس سے اپنے لاڈ اٹھوارہی تھی….. یوشع نے گلاس اس کے لبوں سے لگایا تھا….. وہ آج خود اس کو جوس پی لارہا تھا…. محبتوں میں لاڈ اٹھوانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی……
اوکے خوش اب سوجاؤ……” اس نے بھی مسکراتے ہوۓ کہا….. وہ واپس سے اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئ تھی…. ایک بار پھر وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلارہا تھا…… اور کچھ دیر بعد وہ اس کی گود میں سر رکھے ایک پرسکون سی نیند سوگئ تھی….
میں نے آج ہر چیز کیلۓ تمھیں معاف کیا ماہی’ جتنا بھی کیا جو کچھ بھی کیا تم نے’ اللّه کی رضا کہ خاطر معاف کیا’ مجھے میری خوشیاں نہیں مل پائ’ مگر تمھیں تمہاری ساری خوشیاں دو گا ماہی’ میں جانتا ہو میرے لۓ یہ بہت مشکل ہے مگر ناممکن تو نہیں ہے’ بس ایک چیز کی مجھ سے کبھی ڈیمانڈ مت کرنا المیرا کو اس دل سے نکالنے کی ڈیمانڈ’ کیونکہ یہ ایک چیز میرے اختیار میں بالکل بھی نہیں ہے’ اس کو اگر اس دل سے نکالا تو میں مرجاؤ گا…..” وہ اس کو دیکھتا اس سے کہہ رہا تھا مگر وہ اس کی سن ہی کب رہی تھی وہ تو آج یوشع کی گود میں سر رکھے ایک میٹھی نیند سورہی تھی….. یوشع نیچے کی طرف جھکا تھا….. وہ اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھنے لگا تھا مگر رک گیا تھا ناجانے کیا سوچ کر’ ناجانے اب کونسی یاد نے اس کو ایسا کرنے سے روک لیا تھا….. اس نے اپنی آنکھیں بند کی تھی اور پھر اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھتا اٹھ کھڑا ہوا تھا….. ایک بار پھر اس کی نظریں ماہی ہر تھی….. اس نے بھی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کرلی تھی…….
*
آج ماہی کی طبیعت بہت ڈاؤن تھی…… تکلیف بہت بڑھ گئ تھی….. سر بھی بہت دکھ رہا تھا کہ وہ اب رونے لگی تھی….. یوشع ابھی کمرے میں نہیں تھا…… وہ بیڈ پر لیٹی اپنے سر کو دبارہی تھی….. یوشع کو بھی پکارنا چاہتی تھی مگر آج الفاط بھی نہیں نکل رہے تھے…… تھوڑی دیر بعد یوشع روم میں آیا تھا….. ماہی کو دیکھا جو خود کا سر دبارہی تھی…. وہ بیڈ پر بیٹھا تو وہ رورہی تھی…..
ماہی کیا ہوا؟؟ کیوں رورہی ہو؟؟ بتاؤ مجھے….” اس نے نفی میں گردن ہلائ تھی…..
ماہی سٹوپ کرائنگ اینڈ ٹیل می واٹ ہیپنڈ؟؟ سردرد ہے کیا؟؟؟؟ اس نے اثبات میں سر ہلاہا تھا…..
تو رونے والی کیا بات ہے میں دبادیتا ہو’ تم چپ کرو…..” یوشع نے اس کے آنسو صاف کۓ….. وہ اس کا دبانے لگا تھا مگر آج اس کا دل بےچین تھا….. وہ اس کے سینے سے لگ کر رونے لگی تھی…..
ماہی….” یوشع نے آرام سے کہا تھا…..
مجھے ڈر لگتا ہے بہت….”
کس چیز سے مجھے بتاؤ’ ادھر دیکھو میری طرف…..” اس نے اس کا چہرہ تھاما…..
میں ہو تمہارے ساتھ مجھے بتاؤ؟؟؟؟”
یوشع اگر مجھے کچھ ہوگیا تو آپ مجھے یاد کرے گے؟؟؟”
پاگل ہو کیا کچھ نہیں ہوگا تمھیں’ میں ہو نہ تمھارے ساتھ’ مت کرو ایسی بچوں جیسی باتیں’ اور ویسے بھی ابھی ڈلیوری میں تھری ٹو فور ڈیز ہے’ اس لۓ چپ کرو اور سوجاؤ’ میں یہی ہو تمہارے ساتھ تمہارے پاس…..” ماہی نے اس کے بازو تھامے تھے……
ماہی مت ڈرو’ میں ہو نہ’ کس چیز سے ڈر لگتا ہے یہ بتاؤ…..” اس نے نفی میں گردن ہلائ تھی…… وہ کچھ بتا ہی تو نہیں سکتی تھی…. وہ کیسے اس کو بتادے سب کچھ….. وہ فیصلہ کرچکی تھی….. بس اب ڈر تھا تو اس کو اپنی موت کا….. اپنے بچے کا……
کچھ نہیں’ آپ بتاۓ نہ آپ مجھے یاد کرو گے یا نہیں…..”
نہین کرو گا’ بس سن لیا’ عجیب سوال ہے تمہارے بھی……” ماہی نے آنکھیں بند کرتے یوشع کے سینے میں اپنا چہرہ چھپالیا تھا….. یوشع نے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ کر اس کو اپنے ہونے کا احساس دلایا تھا….. آج دوسری بار وہ اس کے لمس کو اپنے پیشانی ہر محسوس کررہی تھی…. اس رات کے بعد سے آج اس نے اس کے لبوں کے لمس کو محسوس کیا ہے……
سوجاؤ میں ہو تمہارے ساتھ’ کچھ نہیں ہوگا…..” یوشع نے اب کی بار باری باری اپنے لب اس کی پلکوں پر رکھے تھے….. ایک تازگی سی ماہی کو اپنے وجود میں اترتی محسوس ہوئ تھی…… اور پھر اس کے بعد باری باری یوشع نے اس کے گالوں کو چوما تھا….. ماہی کو سکون محسوس ہوا تھا….
اب سوجاؤ…..” کچھ دیر بعد یوشع نے اس کو سلا دیا تھا…. وہ تو سوگئ تھی مگر یوشع کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیوں ایسی بات کررہی ہے…… وہ اپنے خیالوں کو جھٹکتا واشروم کی طرف بڑھ گیا…..
***
اور پھر رات کو ہی ماہی کی طبیعت خراب ہونے لگ گئ تھی….. اس کو شدید تکلیف محسوس ہورہی تھی…. وہ اٹھ کر بیٹھنا چاہتی تھی مگر بیٹھنے کی بھی ہمت نہیں ہورہی تھی….. رات کا تین بج رہا تھا اور یوشع بھی روم میں نہیں تھا….. اس نے یوشع کو آواز دینے کی کوشش کی مگر ناکام رہی….
یااللہ مدد کر….” آنسو ٹپ ٹپ برسنے لگے تھے….
یو یوشع…..” اس نے پکارا تھا…… یوشع باہر بالکونی میں کھڑا چاند کو تک رہا تھا…. خود کے پکارے جانے پر فورا اندر کی طرف لپکا…. اس نے ماہی کو دیکھا جو درد سے دوبھر ہورہی تھی…..
ماہی کیا ہوا؟؟؟”
یوشع میرے’ میرے بہت پین ہورہا ہے’ ہوس ہوسپٹل چلو……” تکلیف کے مارے اس سے بولا بھی نہیں جارہا تھا….. ایک بار پھر اس کو اپنی ناک سے کچھ بہتا ہوا محسوس ہوا تھا…. ایک بار پھر اس کی ناک سے خون بہنے لگا تھا…… یوشع بھی حیران تھا…. ماہی کو اپنی سانسیں پھولتی ہوئ محسوس ہوئ تھی….. وہ گہرے سانس لےرہی تھی……
ماہی ہمت مت ہارو’ میں ہو تمہارے ساتھ’ کچھ نہیں ہوگا’ کچھ نہیں…..” وہ اسے اپنی بانہوں میں بھرتا باہر کی طرف دوڑا تھا….. گاڑی نکالو جلدی…..” اس نے ڈرائیور کو حکم دیا اور پھر اگلے چند سیکنڈ میں گاڑی اس سنسان روڈ پر رواں دواں تھی……
ماہی میری طرف دیکھو’ ڈونٹ کلوز یور آئیز….” وہ اس کے گال تھپتھپاتا اس سے کہہ رہا تھا….. وہ پیچھے کی سیٹ پر اس کا سر اپنی گود میں رکھ کے بیٹھا تھا….. ماہی کی ہمت اب جواب دے رہی تھی….. ناک میں سے خون بھی نہیں رک رہا تھا….. سانس تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھی….. آنکھیں بھی اب بند ہونے لگی تھی…..
ماہی لوک ایٹ می….” ادھر دیکھو مجھے دیکھو’ آنکھیں کھلی رکھو……” وہ مشکل سے آنکھیں کھولتی اس کو دیکھنے کی کوشش کررہی تھی….. کبھی یوشع کا چہرہ دھندلا دکھائ دیتا تو کبھی صاف…… وہ اس کو دیکھ کر مسکرانے لگی تھی…..یک ٹک یوشع کا دیدار کررہی تھی کیونکہ شاید اس کو معلوم تھا کہ پھر دوبارہ کبھی یوشع کو نہیں دیکھ پاۓ گی’ شاید وہ کبھی دوبارہ اس کی آغوش میں سر نہ رکھ سکیں…..
یو یوشع…..” اس نے بامشکل پکارا تھا….
میں ہو ماہی تمہارے ساتھ’ تم مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جاسکتی’ میں نہیں جانے دو گا تمھیں……” اس نے ماہی کو خود میں بھینچا تھا…..
**
وہ مضطرب سا کوریڈور کے ادھر سے ادھر چکرکاٹ رہا تھا….. ایک پل بھی اس کو چین نہیں مل رہا تھا….. اس نے دور سے علی اور عمران صاحب کو خود کی طرف بھاگتے دیکھا…..
ما ماہی کیسی ہے؟؟؟؟” علی نے ہانپتے ہوۓ پوچھا….
کچھ نہیں معلوم……” یوشع بھی بہت پریشان دکھائ دے رہا تھا…..
مگر تمھیں کس نے بتایا؟؟؟”
انکل کی کال آئ تھی ہمیں…..” ٹائم گزرتا جارہا تھا….. فجر کی آذانوں کی آواز ہر طرف گونجنے لگی تھی…… مگر ماہی کی اب تک کوئ خبر نہیں دی گئ تھی…..
یوشع میں نماز پڑھ کر آرہا ہو’ تم یہی رہنا….” علی نے کہا….. عمران صاحب بھی اٹھ کھڑے ہوۓ تھے….. ابھی وہ دونوں آگے بڑھنے ہی لگے تھے کہ جلتی لال بتی بجھ گئ تھی….. ایک ڈاکٹر اس طرف آتی دکھائ دی تھی….
یوشع……” جی جی میں ہوں؟؟؟”
وہ آپکو اندر بلارہی ہے؟؟؟؟”
سب ٹھیک ہے نہ ڈاکٹر…..” یوشع نے پوچھا…..
جی…..” وہ اندر کی طرف بڑھ گیا….
آپ پیشنٹ کے کیا لگتے ہیں؟؟؟؟”
میں اس کا بھائ ہو اور یہ فادر……”
آپکی بہن کو کینسر تھا….” اور یہ خبر تھی کہ کیا جو ان کے ہوش اڑانے کیلۓ کافی تھی…..
آپ مزاق کررہی ہے’ یہ سچ نہیں ہے’ ماہی کو کوئ کینسر نہیں تھا…..”
ایک ڈاکٹر ڈیوٹی کے ٹائم اس طرح کا وہلانہ مزاق نہیں کرتی…..” ان کو اب بھی یقین نہیں آرہا تھا…..
نہیں یقینا کوئ غلط فہمی ہوئ ہے آپ کو….” عمران صاحب نے کہا…..
مجھے کوئ غلط فہمی نہیں ہوئ ہے’ افسوس ہے پیشنٹ کو کینسر تھا گھر والوں کو پتا ہی نہیں……”
مگر یہ کب ڈاکٹر’ میرا مطلب کب سے تھا؟؟؟؟” علی نے پوچھا…..
وہ کینسر کے لاسٹ سٹیج پر تھی…..”
لاسٹ سٹیج……” علی نے سر تھاما تھا……
یوشع ماہی کے بیڈ کی پاس جاکر کھڑا ہوگیا….. اس کے آکسیجن ماکس لگا ہوا تھا اور ہاتھ پر بھی ڈریپ لگی ہوئ تھی….
ماہی…..” وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا بیڈ پر اس کے قریب بیٹھ گیا… اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولی تھی…. آنسو ٹوٹ کر گرے تھے…. یوشع نے ماہی کو تھوڑا اوپر کی طرف اٹھاتا اپنی بانہوں میں بھرا تھا…..
تمھیں کچھ نہیں ہوگا’ سب ٹھیک ہوجاۓ گا…..” اس نے نفی میں گردن ہلائ…. منہ پر سے آکسیجن ماسک ہٹایا….
نہیں اس کو مت اتارو اس کو لگا رہنے دو…..” ماہی نے ایک گہری سانس خارج کی تھی….
ماہی یار میں نے کہا ہے اس کو لگا رہنے دو یار….” وہ اس کے ماسک لگانے لگا تھا مگر اس نے روک دیا…..
نہیں یوشع آج مجھے بولنے دو میرے پاس ٹائم نہیں ہے…..”
کی کیا مطلب؟؟؟”
کچھ نہیں میری سنو بس…..” وہ لمبے لمبے سانس لیتی بول رہی تھی…..
آپ میرے جانے کے بعد مجھے یاد نہیں کرے گے’ پرومس کرے میرے سے’ مجھے بالکل بھی یاد نہیں کرے گے…..”
میں میں نے جھوٹ بولا تھا ماہی’ تم مجھے یاد آؤ گی’ میں تمھیں کہی نہیں جانے دو گا……” یوشع کی بھی آنکھیں بھیگنے لگی تھی….
پلیز یوشع بس میری سن لے’ کہی میں کچھ باتیں دل میں لے کر ہی نہ چلی جاؤ……”
نہیں یار پلیز’ مت مت کرو ایسی بات…..” یوشع نے اس کو سینے سے لگایا تھا……
ہما ہمارے بیٹا ہوا ہے’ آپ اس کا نام میرہادی رکھنا’ المیرا کو پسند تھا نہ’ اور اور آپ اب المیرا سے شادی کرلینا وہ…….” ایک بار پھر اس نے لمبا سانس لیا تھا….
وہ آپ کو خوش رکھے گی’ اب کوئ بھی آپ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا…..”
مجھے نہیں چاہیے نہ اب کوئ’ دیکھو میری طرف دیکھو’ میری سنو تم میں اور میرہادی ہم یہاں سے کہی دور چلے جائیں گے’ اور وہاں جاکر ایک اچھی خوشحال زندگی گزارے گے’ میں تمھیں ساری خوشیاں دو گا مگر میرے ساتھ پلیز ایسا مت کرو’ مجھے ایک بار پھر اکیلا مت کرو……” اس نے ایک بار پھر لمبا سانس لیا تھا…..
میں ڈاکٹر کو بلاکے لاتا ہو تم ریسٹ کرو….” وہ اٹھ کر جانے لگا تھا ماہی نے کالر سے پکڑ کر روک لیا تھا……
یوشع پلیز…….” یوشع کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر اس کا ماتھا اپنے ماتھے سے ٹکایا تھا…..
میری سنو بس’ میں نے بھی آپ سے ایک جھوٹ بولا تھا’ می میں نے کہا تھا کہ مجھے آپکی محبت نہیں چاہیے’ جھوٹ بولا تھا نہ یار میں نے’ مجھے چاہیے آپ کی محبت’ آپ کا ساتھ’ آپ کا پیار’ آپ کا وقت سب کچھ…….”
میں دوں گا تمھیں سب کچھ اپنا پیار اپنا وقت اپنی محبت سب کچھ’ مگر تم……”
شششش…..” ماہی نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اس کو چپ کروادیا…..
ہمارے بیٹے کو المیرا کی گود میں ڈال دینا’ وہ اس کا سگی ماں سے بڑھ کر خیال رکھے گی’ مجھے معلوم ہے وہ بہت اچھی ہے’ بہت زیادہ وہ اس کو کبھی سوتیلی ماں کا پیار نہیں دے گی’ المیرا سے شادی کرلینا……” ماہی نے اپنے لب یوشع کے ماتھے پر رکھے تھے…… دونوں کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے……
میں ہمیشہ آپکے پیار کیلۓ آپکی ایک محبت بھری نظر کیلۓ ترستی رہی ہو’ آپکے محبت بھرے لمس کیلۓ’ آج آخری بار مجھے پیار کرلے’ کبھی کوئ ضد کبھی کوئ خواہش نہیں کرو گی’ آج مجھے اپنی محبت بھری آغوش میں لے لے یوشع’ مجھے آپ سے کسی چیز کا کوئ گلہ نہیں ہے’ یہ سب تو مجھے میرے کۓ کی سزا ملی ہے’ صرف ایک بار آخری بار پلیز یوشع’ پلیز…….” وہ ایک بار پھر گہرے سانس لینے لگی تھی…. یوشع کے کالر کو سختی سے مٹھی میں جکڑا ہوا تھا……
یوشع نے بھی روتے ہوۓ اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے…… ماہی نے سکون سے آنکھیں بند کرلی تھی……. ایک ہاتھ اس کے کندھے پر تو دوسرا یوشع کی کمر پر رکھ لیا تھا…..
یوشع نے اس کی آنکھوں کو چوما….. اس کی آنکھوں سے گرتے موتیوں کو اپنے لبوں سے چن لیا….. یوشع کو محسوس ہونے لگا تھا کہ ماہی کا ہاتھ کمر سے نیچے کی طرف لڑھک رہا ہے….. ماہی کا ہاتھ اس کی گود میں آکر گرا تھا…. یوشع کے لب ساکت ہوگۓ تھے…..
ماہی…..” اس نے آرام سے اس کے کان میں پکارا تھا….. مگر کوئ جواب نہیں…..
ماہی اٹھو’ جواب دو…..” اس بار بھی کوئ جواب نہیں…… وہ آہستہ آہستہ اوپر کی طرف اٹھا تھا….. ماہی کی بند پلکوں میں ایک آنسو اٹکا ہوا تھا….. اس نے اپنی پوروں سے اس آنسو کو چن لیا تھا….. علی ڈور کھولتا اندر داخل ہوا مگر آگے ایک قدم بھی نہیں بڑھا پایا…..
ماہی لوک ایٹ می’ پلیز……” وہ رورہا تھا….. علی کو اپنی آنکھوں پر شک ہورہا تھا…..
یہ نہیں ہوسکتا…..” وہ قدم بڑھاتا پیچھے ہوا…. عمران صاحب نے اس کو تھاما تھا….. یوشع نے ماہی کے چہرے پر سکون دیکھا تھا….. وہ کہتی تھی اس کو تکلیف ہے وہ تکلیف میں ہے’ میں آپ کو کچھ نہیں بتاسکتی’ کچھ نہیں…… اور آج وہ مسکراتے ہوۓ ہر تکلیف سے آزاد ہوگئ تھی….. اس کے چہرے پر سکون تھا ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ…….
ماہی…….” وہ اب زاورقطار رونے لگا تھا….. بہت ہمت کرتا علی آگے بڑھا تھا….. یوشع کے کندھے پر ہاتھ رکھا…..
وہ اب نہیں اٹھے گی یوشع’ وہ چلی گئ ہمیشہ کیلۓ ہم سب سے دور کبھی نہ واپس آنے کیلۓ……” اور صرف اس وقت علی ہی جانتا تھا کہ اس نے یہ الفاظ کس طرح ادا کۓ ہیں……
علی تو بول ایک دفعہ یار ایک بار تو اٹھ جا’ میں اس کو کبھی کوئ دکھ نہیں دوگا’ اس کو کبھی کچھ نہیں کہو گا’ مگر صرف ایک بار اٹھ جا’ تیری تو گڑیا ہے نہ یہ تیری تو کوئ بھی بات نہیں ٹالتی آج بھی اس کو بول……”
یوشع سنبھالو یار…..” علی کی بھی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے تھے……. یوشع ایک جھٹکے سے اٹھتا علی کے گلے لگا تھا…. علی نے بھی اس کو خود میں بھینچا…… ایک نظر ماہی کو دیکھا بس صرف ایک نظر….. اس کو لگ رہا تھا کہ شاید وہ اٹھ جاۓ گی…..
مگر جانے والے کبھی واپس آۓ ہیں کیا….. وہ بھی چلی گئ اس دنیا سے…… ایک ایسی جگہہ جہاں سے ایک نئ زندگی شروع ہوتی ہے…… ہمیشہ کی زندگی…… آخرت کی زندگی……
علی نے بھی اپنا چہرہ یوشع کے کندھے میں چھپالیا تھا….. آج پھر وہ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگے رورہے تھے….. عمران صاحب کا الگ برا حال تھا اپنی جوان بیٹی کی موت پر….. ایک بار پھر غم نے ان کے گھر کا راستہ دیکھ لیا تھا……
اک روز کوئی آئے گا لے کر کے فرصتیں
اک روز ہم کہیں گے ضرورت نہیں رہی…….
***
جاری ہے__
