No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
Visal-e-Javedan وصال جاوداں
یوشع بچوں کو گھر چھوڑ کر ابھی علی کے ساتھ آفس آیا تھا’ میٹنگ سٹارٹ ہونے میں ابھی آدھا گھنٹہ تھا’ وہ دونوں یوشع کے روم میں بیٹھے ایک فائل کو ڈسکس کرنے میں مصروف تھے…..
وہ اپنے باس کی گاڑی سے اتری’ باہر کھڑی اس بڑی کمپنی کو دیکھا’ اور نظر بورڈ پہ ٹھہر گئ’ جس پہ بڑے سنہری الفاظ میں یوسفزئ کمپنی لکھا تھا……
“کاش یہ کمپنی اس کی نہ ہو”
اور المیرا نے بھی قدم اندر کی طرف بڑھادیے…..
اس نے اپنا پہلا قدم اس کمپنی کے اندر رکھ دیا تھا…..’
اپنے روم میں یوشع بھی کانفرینس روم میں جانے کیلۓ تیار کھڑا تھا’ فائل کو ہاتھ میں تھاما ہوا تھا’ علی بھی ساتھ ہی کھڑا تھا’
” جب یوشع نے بے اختیار سامنے وال گلاس کی طرف دیکھا اور دیکھتا ہی چلا گیا’ جیسے کسی بہت اپنے کے آنے کا منتظر ہو….”
وہ اپنے اس تسلسل سے علی کے چٹکی بجانے سے نکلا…..
کیا ہوا بھائ’ کہاں کھوگۓ ہوں…؟؟؟
اس نے اپنا سر جھٹکا….
کچھ نہیں….
“مگر آج ایک بار پھر یوشع کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئ تھی’ مال کے بعد آج دوسری بار ایسا ہوا تھا….”
اتنے میں ڈور نوک کرتی ایمن(سیکرٹری) روم میں داخل ہوئ’ سیدھی نظر سامنے کھڑے علی پر گئ’ علی نے سمائل پاس کی….’
اس دن کے بعد سے آج ایمن نے علی کو دیکھا تھا….’ علی کو اگنور کرتی وہ یوشع کو بتانے لگی…..
سر وہ شاہ انڈسٹری کے اونر کی سیکرٹری آگئ ہے’ شاہ صاحب نہیں آۓ’ اس نے بتایا ہے کہ ان کی صبح طبیعت اپ سیٹ ہوگئ تھی’ اس وجہ سے وہ نہیں آسکے’ وہ اکیلی آئ ہے’ انہیں کانفرنس روم میں بٹھادیا ہے’ آپ بھی آجاۓ…..
ہمم اوکے’ ہم آتے ہیں’
ایمن اپنے ہاتھ میں کچھ ضروری فائل اٹھاتی روم سے نکل گئ…..
اگر طبیعت اپ سیٹ تھی تو میٹنگ کینسل کردینی تھی’ کل کرلیتے…..
علی نے کہا….
کوئ بات نہیں یار’ ہم ان کی سیکرٹری سے ہی ڈسکس کرلے گے’ باقی کانفرنس کال پہ ڈسکس کرلے گے شاہ صاحب سے…..اور ویسے بھی میں اب چاہتا ہو یہ ہروجیکٹ جلد از جلد سٹارٹ ہوجاۓ’ اور ویسے بھی فائل ہی سائن کرنی ہیں تو وہ سیکرٹری بھی کرواسکتی ہے…..
ہمم اوکے….
اب چلو’ اور وہ دونوں بھی روم سے باہر نکل گۓ……
______________________
وہ راہداری سے گزرتے ہوۓ کانفرنس روم کی طرف بڑھ رہے تھے’ جیسے جیسے میٹنگ روم قریب آتا جارہا تھا’ ہر قدم پر یوشع کے دل کی دھڑکن بھی بڑھتی جارہی تھی…..
اور اندر بیٹھی المیرا کا بھی حال مختلف نہ تھا’ دل کی دھڑکنوں کی سپیڈ تیز تھی’ کون ہوگا’ کس سے سامنا ہوگا’ اسی پریشانی میں گھری ہوئ تھی…..’
علی کے فون کی گھنٹی بجی’ یوشع تم چلو ‘ میں آتا ہو کال سن کے……
وہ اب میٹنگ روم کے باہر کھڑا تھا’ ایمن بھی ساتھ ہی تھی’ چند فائلز ہاتھ میں تھامی ہوئ تھی…..
وہ بلیو فائل کہاں ہے..؟؟؟
وہ بھی لانی تھی کیا’ ایمن نے ہچکچاتے ہوۓ پوچھا…..
وہی تو لانی تھی…..
نہ غصہ تھا’ نہ ہی نرمی…..
سوری سر میں ابھی لے آتی ہوں’
یوشع نے ایک فائل اپنے ہاتھ میں لی ‘ایمن فائل لینے کو دوڑی….
ایک نظر علی پر ڈالی جو فون پہ بات کرنے میں مصروف تھا’
گہری سانس لے کر خود کو ریلیکس کیا’ ہینڈل گھمایا’ اندر کی طرف قدم بڑھادیے…..’
ایم سو سوری’ مجھے تھوڑی دیر ہوگئ…..’
وہ فائل کو دیکھتا کہہ رہا تھا…..
“اور یہ آواز’ یہ خوشبو’ وہ اس آواز’ اس خوشبو کو لاکھوں’ کروڑوں میں بھی پہچان سکتی ہے…..’
“آخر کار وہ وقت’ وہ گھڑی آہی گئ تھی جس سے وہ دور بھاگنا چاہتی تھی”
“المیرا اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑی ہوئ’ یوشع فائل پہ نظر جماتا المیرا کے سامنے رکھی کرسی کر پاس آکر کھڑا ہوگیا”
“المیرا نے نظریں اٹھا کر اس نوجوان کو دیکھا’ اور عین اسی وقت یوشع نے بھی اب فائل سے نظر ہٹا کر سامنے کھڑی اس لڑکی کو دیکھا’ دونوں کی آنکھوں میں حیرانگی در آئ بےیقینی ہی بےیقینی تھی”
ہاتھ سے فائل چھوٹ کر نیچے میز پر گری’ مگر وہ ویسے ہی کھڑے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے’ آج کتنے سالوں بعد وہ دونوں ایک دوسرے کے روبرو ہوۓ تھے’ دونوں کی آنکھوں میں نمی آگئ… ”
“جتنی چاہت سے تجھ کو دیکھا ہے…..
اتنی چاہت سے میں نے کچھ نہیں دیکھا…..
اپنی آنکھوں میں دیکھ لینے دو…..
میں نے مدت سے کچھ نہیں دیکھا……”
یوشع کی آنکھوں میں معذرت’ چھوڑ کے جانے کا دکھ’ تکلیف’ چاہت پتا نہیں کیا کچھ تھا”
دوسری طرف بھی حال مختلف نہ تھا….
المیرا کی آنکھوں میں بھی دکھ’ تکلیف’ اپنی اس محبت میں کسی دوسرے کو شریک کرکے شرک کرنے کا دکھ….”
بڑی گہری براؤن آنکھیں’ بڑی کالی گہری آنکھوں میں جھانک رہی تھی…..
وہ اسے چھو کر محسوس کرنا چاہتا تھا’ مگر ڈر رہا تھا’ کہیں یہ خواب ہوا تو ٹوٹ جاۓ گا’ اوہ وہ کہیں ہوا میں تحلیل ہوجاۓ گی….’ وہ کافی دیر یوہی کھڑی ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے…. اور پھر
المیرا پیچھے کو نفی میں سر ہلاتی ہٹی’ وہ الٹے قدموں پیچھے کی طرف یوشع کو دیکھتے قدم بڑھا رہی تھی’ اور وہ وہیں ساکن سا کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا……
_______________________
دونوں کے الفاظ تھے کہ جیسے ختم ہوگۓ تھے’ یوشع نے خواہش کی کہ ‘یہ وقت’ یہی رک جاۓ’ اسے کہیں نہ جانے دے’ وہ اس کے سامنے سٹیچو ہوجاۓ اور وہ ساری زندگی اسے دیکھتا رہے’ اپنی آخری سانس تک…..’.
وہ دروازے تک پہنچ گئ تھی’ آنکھوں سے آنسوں نکلنا جاری ہوگۓ تھے’
وہ یک دم مڑی’ دروازے کے ہینڈل کو گھمایا’ کلک کی آواز سے دروازہ کھلا…..
وہ باہر نکلنے لگی تھی کہ خود کے پکارے جانے پر رکی…..’
المیرا’ اس نے وہیں کھڑے اپنی آنکھیں بند کی’ ایک ہاتھ دیوار پہ’ اور دوسرے سے ہینڈل کو تھاما ہوا تھا…..”
المیرا کے دل نے بھی خواہش کی کہ کاش وہ اسے جاکے گلے لگالے’ اسے محسوس کرسکے’ اسے بتاۓ کہ اس کے بغیر یہ ماہ و سال کتنے تکلیف میں گزرے ہیں….’
اس نے اپنی آنکھیں کھولی’ نظر دیوار پہ رکھے ہاتھ میں انگلی میں جہان کی پہنائ ہوئ رنگ پر پڑی….’
جہان کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آیا” ساری خواہشیں دم توڑگئ’ یوشع اسے ملا بھی تو کب’ جب وہ خود کسی اور کی ہونے جارہی تھی…..”
المیرا’ اب تک ناراض ہو….؟؟
بس اتنا کہا اور ایک موتی ٹوٹ کر یوشع کی آنکھوں سے نکل کر داڑھی میں جذب ہوگیا…..
المیرا نفی میں سر ہلاتی روم سے نکل گئ اور وہ وہیں کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا…. ‘ وہ آج پھر اسے چھوڑ کر چلی گئ تھی…. دل کی دنیا ایک بار پھر ہلا گئ تھی…. پہلے بھی وہ اسے چھوڑ گئ تھی اور آج ایک بار پھر وہ اسے اکیلا کرگئ اس سے بات تک نہیں کی… وہ اب تک اسے گنہگار سمجھتی ہے…. عشق میں شرک کرنے والا سمجھتی ہے…. ایک اور موتی آنکھ سے برسا تھا… دل میں شدید درد کی ٹیس اٹھی تھی…..
باہر کھڑے علی کا بھی حال مختلف نہ تھا’ وہ بھی باہر سکتے کی حالت میں کھڑا تھا’ المیرا کو روم سے نکلتا ہوا دیکھ چکا تھا…..
چند پل باہر رک کر علی کو دیکھا اور بنا کچھ کہے’ روتے ہوۓ وہاں سے چلی گئ…..
علی نے بھی خواہش کی کہ کاش وہ اس پل کو اس وقت کو واپس موڑ سکتا’ جہاں سب ٹھیک تھا’ وہ دونوں ایک ساتھ بہت خوش تھے…. ‘ مگر گزرا ہوا وقت بھی کبھی لوٹ کر آیا ہے کیا؟؟؟
یوشع کے کانوں میں کل عروج کی دی ہوئ دعا گونجی…..
“میں دعا کروں گی آپ کو آپکا عشق مل جاۓ’ اس سے آپ کی ملاقات ہوجاۓ”
کسی کی دعا اتنی جلدی بھی رنگ لے آتی ہے اسے یقین نہیں آرہا تھا…..” سارا ماضی ایک فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے چلنے لگا تھا……
*********
“دعاؤں کا کوئ رنگ نہیں ہوتا…..
مگر جب یہ رنگ لاتی ہے تو زندگی میں رنگ بھرجاتے ہیں…..”
_____________
“آج بھی اسکی آنکھوں میں راز وہی تھا……
چہرہ وہی تھا’ چہرے کا لباس وہی تھا….
کیسے اسے بےوفا کہہ دوں….. یاروں’
آج بھی اس کے دیکھنے کا انداز وہی تھا…..”
_________________
آج مدت بعد دیدار یار ہوا تھا ۔
وہی رستہ وہی گلیاں جہاں مجھے پیار ہوا تھا ۔
دیکھا تجھے تو یاد آئے وہ بیتے ہوئے لمحے ۔
جب پیار کے جذبات کا اظہار ہوا تھا ۔
کیسے بھول جاؤں تیری بھیگی بھیگی نگاہوں کو ۔
انہیں جھیل سی آنکھوں میں تو میں گرفتار ہوا تھا ۔
وہ تو چھوڑ گئی نگاہیں پھیر کے دوست ۔
میں ہی رسوا سر بازار ہوا تھا ۔
اس دن سے بھٹک بھٹک کے جی رہا ہوں ۔
جس دن سے بیوفا میرا یار ہوا تھا ۔۔ ۔ ۔ ![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
_______________________
“چھ سال پہلے”
ماضی:-
‘براؤن پینٹ’ براؤن شرٹ’ براؤن کوٹ’ براؤن شوز’ ایک ہاتھ میں برینڈڈ واچ’ دوسرے ہاتھ میں بینڈز’ دودھیا رنگت’ فرنچ کٹ داڑھی’ مغرور ناک’ بڑی گہری براؤن آنکھیں’ بالوں کو جیل سے نفاست کے ساتھ سیٹ کیے وہ اپنے آفس میں غصے سے ادھر سے ادھر ٹہلتا چکر کاٹ رہا تھا’ اور بار بار ہاتھ میں پہنی گھڑی میں ٹائم دیکھتا……’
پاس ہی ایک لڑکی سر جھکاۓ مؤدبانہ انداز میں کھڑی دل میں “آلتو جلالتو” کا ورد کررہی تھی….’
کیونکہ کچھ نہیں معلوم تھا آج انکا باس کسی کی بھی کلاس لگادے’ یہاں کام کرنے والا ہر ایمپلائ اپنے باس کے غصے سے واقف تھا’ ان کا باس کام کے معاملے میں کتنا کنزرویٹو ہے’ ویسے تو وہ سب معاملات میں سب کے ساتھ اچھا ہے مگر جب کام کی بات آتی تو وہ اکثر جلاد بن جاتا’ کام کے معاملے میں کوئ غلطی برداشت نہیں کرتا اور جس سے غلطی ہوجاۓ’ بس پھر اس کا اللّه حافظ…..’
وہ غصے میں ادھر سے ادھر ٹہلتا اپنے غصے کو کم کرنے کی کوشش کررہا تھا’
اور پاس ہی ایک اور نوجوان کھڑا تھا’علی جو اس کا دوست کم بھائ زیادہ تھا….. اسکو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہا تھا……’
یار یوشع کول ڈاؤن’ کیوں اتنا ہائپر ہورہا ہے’ وہ معلاملہ اب ختم ہوتو گیا ہے……
ہنہ معاملہ ختم ہوگیا’ اس نے یہ غلطی کی تو کیسے کی’ اب بس بہت ہوگیا’ اور تم یہاں کھڑی کیا کررہی ہو’ جاؤں جاکے دیکھو وہ میڈم صاحبہ آئ ہے یا نہیں’ بلاکے لاؤ……
یوشع نے غصے سے زینب کو دیکھ کر کہا’ جو سر جھکاۓ کھڑی تھی….
اووو ہیلو’ ذرا آرام سے یہ میری سیکرٹری ہے…..
علی نے کہا…..
یوشع نے غصے سے آنکھیں چھوٹی کرکے علی کو گھورا’ جواباً علی نے بھی اسے انہی خونخوار نظروں سے گھورا…..
زینب فوراً المیرا کو بلانے کیلۓ بھاگی تھی…..
وہ جو ابھی آفس آئ تھی’ ایک تو لیٹ ہوگئ اور دوسرا اسے معلوم ہے آج اسکی سر سے خیر نہیں’ اسکا جلاد باس آج اسکو نہیں چھوڑے گا’ انہی سوچوں میں گم اپنے کیبن کی طرف بڑھ رہی تھی’ زینب کی آواز پر رکی’ ایڑھیوں کے بل پیچھے مڑی’ جو کڑے تیوروں سے اسے گھور رہی تھی……’
کہاں تھی تم اب تک…؟؟ تمھیں معلوم ہے آج سر کتنے غصے میں ہیں’ تمھاری وجہ سے صبح آٹھ بجے کے وہ آفس آۓ ہوۓ ہیں اور پچھلے دیڑھ گھنٹے سے آفس کو سر پہ اٹھایا ہوا ہے’ صرف تمھاری وجہ سے پچھلے دیڑھ گھنٹے سے مجھے ان کا غصہ برداشت کرنا پڑرہا ہے…..’
اور اب تم چلو سر بلارہے ہیں…..
یار زینب…..
بس المیرا میں کچھ نہیں سنو گی’ غلطی تم سے ہوئ ہے’ اس کو فیس بھی تم کرو گی’ کیونکہ میں اب مزید یوشع سر کا غصہ برداشت نہیں کرسکتی…..
وہ اپنی کہتی المیرا کی سنے بغیر آگے کی طرف بڑھ گئ….
وہ بھی دل میں ‘آلتو جلالتو’ کا ورد کرتی زینب کے پیچھے پیچھے چل دی…..’
یار یوشع اب بس بھی کردے’ ایک ہی تو غلطی ہوئ ہے اس سے’ اور تو اس کے پیچھے پڑگیا ہے’ اس سے پہلے کونسا المیرا نے کبھی کسی شکایت کا موقعہ دیا ہے’ اب بس کر’ اور دیکھ تجھے اسے ڈانٹنا ہو ‘ ڈانٹ لے ‘ مگر یار کم ڈانٹیو’ تجھے پتا ہے وہ چھوٹے دل کی ہے ‘ بہت جلدی رونے لگ جاتی ہے…..’
علی عمران’ تمھیں کچھ زیادہ فکر نہیں ہورہی المیرا میڈم کی’ آخر معاملہ کیا ہے’ ہمیں بھی تو پتا چلے….’ یوشع نے مشکوک نظریں علی پہ ڈالی….’
‘لاحولا’ زیادہ فالتو مت بکو’ میں نے بس ایسے ہی بولا ہے…..’
اتنے میں زینب ڈور نوک کرتی گلاس وال دھکیل کر اندر داخل ہوئ…..’
سر’ المیرا آگئ یے……
پیچھے المیرا بھی روم میں داخل ہوئ’ پریشان سی…..
سامنے کھڑے اپنے دونوں باس کو دیکھا” جس میں سے ایک خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ اس کے برعکس علی اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں پرسکون رہنے کیلۓ کہہ رہا تھا….’
ڈرتے ڈرتے المیرا نے سلام کیا…..
آئیے المیرا جی’ ہم تو کب سے آپ ہی کا ویٹ کررہے ہیں کہ المیرا جی آۓ گی تو ہم ان سے بات کرے گے’ مگر المیرا جی تو ہماری باس ہے’ اور ہم ان کے ورکر’ جو ہم اپنے باس کے آنے کا انتظار کررہے ہیں….’
ہنہ تو میں نے کہا تھا کہ صبح آٹھ بجے ہی آفس آکے بیٹھ جاۓ’ میرے انتظار میں….’
المیرا منہ ہی منہ میں بڑائ….
جو یوشع اور زینب کو تو سمجھ نہیں آئ مگر پاس کھڑے علی نے اس کی بڑبڑاہٹ سن لی تھی… مشکلوں سے اپنا قہقہہ روکا’ وہ اس وقت ہنس کر اپنی شامت بھی نہیں لانا چاہتا…..
یہ کیا منہ ہی منہ میں بڑبڑارہی ہو….؟؟
یوشع کے ایک دم پوچھنے پر المیرا گڑبڑائ’ اٹکتے اٹکتے کہا’
کچھ نہیں سر….
تو مس المیرا آپ ذرا بتانا پسند کرے گی کہ آپ سے یہ غلطی کیوں ہوئ..؟؟ آپ جانتی ہے آپکی اس غلطی کی وجہ سے ہمیں لاکھوں کا لوژ ہوسکتا تھا…..
غصے سے کہا….
سوری سر’ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا’ وہ بس ایک ہی دم سے ہوگیا تھا’ سوری…..’
المیرا نے نظریں جھاکر کہا’ ایک نظر یوشع پہ ڈالی پھر نظریں جھکالی…..
یوشع نے المیرا کی آنکھوں میں آئ نمی کو دیکھا’ آخر علی کی بات سچ ہو ہی گئ’ ہلکا سا ڈانٹنے پر ہی وہ رونے لگ گئ تھی…..
دیکھۓ مس المیرا’ یہ آپکی فرسٹ اینڈ لاسٹ مسٹیک سمجھ کر معاف کررہا ہو’ کیونکہ مجھے اپنے کام میں کسی بھی قسم کی کوئ غلطی نہیں چاہیے’
پہلے والا غصہ کم ہوگیا تھا….
آپ نے اس سے پہلے کبھی کوئ شکایت کا موقع نہیں دیا’ اس لۓ میں آپ کو زیادہ کچھ نہیں کہہ رہا’ بٹ نیکسٹ ٹائم بی کیئر فل’ یہ غلطی دوبارہ نہیں ہونی چاہیے’ ورنہ آپ اپنا بندوبست کہیں اور کرلے’ نیکسٹ ٹائم ایسی کوئ غلطی ہوئ تو آپکو فائر کردیا جاۓ گا’ ہمارے پاس اور بھی بہت سے قابل ایمپلائیز ہے جو آپ کی جگہہ کام کرسکتے ہیں…..’ ناؤ یو کین گو….’
یوشع یہ بول کر اپنی چیئر گھسیٹ کر بیٹھ گیا…..
المیرا دل ہی دل میں یوشع کو کوستی روم سے نکل گئ…. زینب بھی چلی گئ…..
اب بس علی وہاں کھڑا اسے خونخوار نظروں سے گھور رہا تھا……’
یوشع نے کندھے اچکاۓ’ کیا ہوا؟؟ ایسے کیوں دیکھ رہے ہوں…؟؟؟
مل گئ تمھارے دل کو تسکین اسے رلا کر’ تھوڑا اور ڈانٹ لیتے’ اور تسکین حاصل کرلیتے…..’
غلطی کی ہے تو ڈونٹ بھی برداشت کرنی ہوگی’ صرف سیکرٹری ہے’ باس نہیں ہے’ جو سر کا تاج بنا کر سر پہ سجالو….
علی نے آئبرو اچکائ ” جیسے یہ سب تم کہہ رہے ہو’ تم سے یہ امید نہیں تھی……’
ایک خفگی بھری نگاہ ڈالتا وہ بھی روم سے نکل گیا….’
یوشع نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر’ کرسی کی بیک سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کرلی’ وہ اب ڈسٹرب ہوچکا تھا’ کام اس سے نہیں ہوگا……..
**********
