No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
المیرا اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑی باہر لان کو دیکھ رہی تھی….. شام کا پہر تھا…. ٹھنڈی تروتازہ ہوا…. وہی پرندوں کی چہچاہٹ…. پھولوں کی تازہ مہک…. پھر وہی رومانوی ماحول…. مگر ہر بار کی طرح آج المیرا اس موسم کو انجواۓ نہیں کررہی تھی….. اس کے دل کی دنیا اداس تھی….. پچھلے دو دن سے اس کا دل بجھا ہوا تھا…. کیونکہ خان اور خدیجہ دبئ چلے گۓ تھے…. اس نے دیکھا تھا یوشع کی گاڑی گیٹ سے اندر داخل ہورہی ہے….. یوشع نے بھی اسے دیکھ لیا تھا…..
دو دن پہلے آفس کے بعد جب وہ گھر آنے لگی تھی تو اس کی گاڑی خراب ہوگئ تھی یوشع ہی پھر اسے گھر ڈراپ کرنے آیا تھا….. وہ جب لاؤنج میں پہنچی تو دادی وہی بیٹھی تھی…. یوشع بھی ساتھ ہی تھا….. سلام دعا کے بعد اس نے خان کا پوچھا تھا کہ بابا کہاں ہے؟؟
تب انہوں نے بتایا تھا کہ تھوڑی دیر پہلے ہی وہ چلے گۓ ہیں….. اسے بہت دکھ ہوا تھا سن کر…. اسے ان کے جانے کا زیادہ دکھ نہیں تھا کیونکہ یہ بات تو اسے معلوم تھی کہ انہوں نے چلے جانا ہے…. اس کا دل سب سے زیادہ اس بات پر دکھا تھا کہ وہ اس سے ملے بغیر چلے گۓ تھے….. دل ایک بار پھر چکنا چور ہوگیا تھا اپنے باپ کی بےرخی پر….. اسے بہت افسوس تھا کہ اس کہ بابا اس سے مل کر نہیں گۓ…. اسی وجہ سے وہ پچھلے دو دن سے اداس تھی…. پہلے تو وہ صرف ناراض تھی مگر اب دل میں اپنے باپ کیلۓ نفرت پیدا ہونے لگی تھی…. دادی نے جانے سے انکار کردیا تھا کہ اپنی بیٹی کو اکیلا چھوڑ کر کیسے جاسکتی ہو اور ویسے بھی مجھ سے زیادہ دور کا سفر نہیں ہوتا اور پھر میری طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی میں نہیں جارہی….. اب پچھلے دو دن سے وہ آفس بھی نہیں گئ تھی….
یوشع نے بھی نہیں کہا کہ تم آؤ کیونکہ اسے معلوم ہے وہ ڈسٹرب ہے….”
مگر پچھلے دو دن سے وہ لگاتار گھر ضرور آرہا تھا….. اور رات گۓ تک ہی اپنے گھر جاتا کیونکہ یوسف صاحب بھی لاہور گۓ ہوۓ تھے…. جب تک یوشع یہاں رہتا وہ دادی اور المیرا دونوں سے خوب باتیں کرتا رہتا تھا جس سے المیرا کا موڈ کچھ بہتر ہوجاتا تھا مگر اس کے جانے کے بعد پھر دوبارہ دل کی دنیا اداس ہوجاتی…..
یوشع نے پیچھے سے اسے کندھوں سے تھاما تھا….. اس کے سامنے آیا گرل سے ٹیک لگاکر کھڑا ہوگیا….
ہاؤ آر یو؟؟؟”
فائن…”
واٹ آریو ڈوئینگ ہیئر؟؟؟”
نتھنگ….”
مجھے نیچے دادی بھی نظر نہیں آئ’ وہ کہاں ہے؟؟؟”
وہ اپنے روم میں ہے ریسٹ کررہی ہے ان کی طبیعت نہیں ٹھیک….”
میڈیسن لی ہے انہوں نے…”
ہمممم”
وہ المیرا کو دیکھ رہا تھا اور وہ کھڑی لان میں….
اس نے اس کے ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیا تھا….
المیرا….”
اس نے اب اپنی نگاہیں اس کی طرف پھیری تھی….
کب تک چلے گا ایسے؟؟ کب تک یوں اداس رہو گی؟؟ تمھیں اچھی طرح معلوم ہے’ مجھ سے تمھیں یوں اداس نہیں دیکھا جاتا….”
میں ٹھیک ہو شہری….”
نہیں ہو تم ٹھیک…..”
اس نے نظریں جھکائ تھی…..
پچھلے دو دن سے تم اداس ہو مگر دل میرا کٹ رہا ہے تمھیں یوں دیکھ دیکھ کر ‘ تم ہنستی مسکراتی ، بولتی ، شرارتے کرتی ، مجھ سے لڑتی اچھی لگتی ہو” مگر یوں اداس نہیں ‘ مت رہا کرو یوں اداس…..”
وہ چپ تھی….
اچھا چھوڑو ان باتوں کو اپنا موڈ ٹھیک کرو….” یہ بتاؤ آفس کب سے آؤ گی کیونکہ تمھیں معلوم ہے تمھارے بغیر دل نہیں لگتا…..
کل آجاؤں گی….”
اس نے اس کے کندھے پر سر ٹکایا تھا…..
المیرا کو اب کہیں سکون نہیں ملتا تھا…… جتنا اب اسے یوشع کی ذات میں ملنے لگا تھا…. وہ جب تک یوشع کے ساتھ ہوتی….. جب تک زندگی سکون میں ہے کوئ ٹینشن نہیں ہے…. مگر جیسے ہی وہ اس سے دور جاتا…. دل کا سکون ، زندگی کا سکون بھی ختم ہوجا تھا…. اس کے دل کی دنیا بےچین ہوجاتی تھی….. اور ایسا کیوں ہونے لگ گیا ہے یہ اسے خود بھی سمجھ نہیں آرہا تھا…. چند پل یوہی خاموشی کی نظر ہوگۓ تھے….. وہ اگر کچھ سن رہے تھے تو صرف ایک دوسرے کی سانسیں…..
المیرا….”
ہمممم…”
آر یو اوکے؟؟؟”
ہممم…”
اور ایک بار پھر خاموشی چھاگئ تھی…….
**
دن ایک بار پھر اپنی رفتار پر گزرنے لگے تھے….. المیرا اب بہتر ہوگئ تھی…. اور اس میں زیادہ تر ہاتھ علی اور یوشع کا ہی تھا…… وہ دونوں اسے بالکل بھی اکیلا نہیں چھوڑتے تھے….. اور ان سب سے ہٹ کر ماہی نے خاموشی اختیار کرلی تھی گہری خاموشی…. اپنے گھر والوں کے ساتھ اسکا موڈ ٹھیک تھا مگر یوشع سے وہ اب بھی بات نہیں کرتی تھی اور نہ ہی یوشع اس سے کوئ بات کرتا…. اور یہ بات علی کافی بار نوٹ کرچکا تھا مگر وہ بھی خاموش تھا اس نے کسی سے بھی کچھ نہیں پوچھا تھا….
کیونکہ بتانا کسی نے کچھ ہے نہیں تو پھر پوچھنے کا فائدہ ہمممم اپنی بےعزتی کروانے والی بات……” یہ بات علی نے خود سے کہی تھی…..
المیرا کی جہانزیب سے اکثر بات ہوجاتی جس سے سب کا معلوم ہوجاتا کہ سب ٹھیک ہے…..
اسے اب خان کی ٹینشن نہیں رہی تھی….. اسے اگر ٹینشن تھی تو اب اپنی پیاری دادی کی….. جو پچھلے کچھ دنوں سے بہت ڈاؤن ہوگئ تھی…. وہ بہت بیمار رہنے لگی تھی…. وہ دن رات ہی اب دادی کے ساتھ ہوتی تھی….. رات میں بھی ان کے ساتھ انہی کے روم میں سونے لگی تھی….. دن رات اپنے رب سے ان کی صحت و سلامتی کیلۓ دعاگوں بھی تھی…..
کچھ راتیں بہت بھیانک ہوتی ہے اور یہ بھیانک راتیں جب انسان کی زندگی میں آتی ہے جب وہ اپنے پیاروں کو ہمیشہ کیلۓ کھودیتا ہے جب آپ کے اپنے پیارے اس دنیا سے جارہے ہوتے ہیں یہ راتیں ہوتی ہے بہت بھیانک قسم کی اور پھر ان راتوں سے ڈر لگنے لگتا ہے یہ راتیں اتنی آسانی سے نہیں کٹتی اور ایک ایسی ہی رات المیرا خان کی زندگی میں بھی آگئ تھی اس رات کے بعد اس کی زندگی سے خوشیاں ایسے روٹھ جاۓ گی کہ اس نے تو کبھی خوابوں خیالوں میں بھی نہیں سوچا ہوگا…..
رات کا پہر تھا….. آدھی رات کا سماں….. وہ دادی کے ہی ساتھ ان کے روم میں سورہی تھی…. دادی نے آنکھیں کھولی تھی…. انہیں سانس لینے میں دشواری پیش آرہی تھی….. انہیں کمرے میں گھٹن کا احساس ہورہا تھا…. وہ اٹھ کر بیٹھنا چاہتی تھی مگر اتنی ہمت بھی نہیں ہورہی تھی کہ اٹھ کر بیٹھ جاۓ…. المیرا کی بھی آنکھ کھولی وہ گھبراگئ تھی….
دادی کیا ہوا آپ کو؟؟ آپ ٹھیک ہے؟؟ آپ اٹھ کر بیٹھے….”
اس نے مشکلوں سے انہیں بٹھایا….. پانی پلایا تھا….
المیرا کھڑکی کھول دو بیٹا مجھے گھٹن ہورہی ہے بہت زیادہ….”
اس نے فوراً سے پہلے کمرے کی ساری کھڑکیاں کھولی…. ساری لائٹس اون کی….
دادی اپنے دل پر ہاتھ رکھے دل کو مسل رہی تھی…. انہیں اپنے دل میں تکیلف ہوتی محسوس ہورہی تھی….
دادی دادی کیا ہورہا ہے آپ کو؟؟؟ دادی….”
وہ رونے لگی تھی…. اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے…..
یوشع ہاں یوشع…..” اس کے ذہن میں یوشع آیا…. اس نے فورا موبائل اٹھا کر یوشع کو کال ملائ تھی…..
یوسفزئ ولا میں بھی یوشع اپنے کمرے میں بیڈ پر پیٹ کے بل لیٹا خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا تھا….. اس کا موبائل رنگ ہوا…. نیند میں ادھر ادھر ہاتھ مار کر موبائل کو دھونڈنا چاہا…. ملنے پر یس کرکے کان سے لگایا…. اس نے نمبر بھی نہیں دیکھا تھا کہ کس کا ہے…… اس کی آنکھیں اب بھی بند تھی… وہ نیندوں میں ہورہا تھا……
مری مری آواز میں ہیلو کہاں گیا…..
ہیلو’ ہیلو شہری….”
المیرا کی آواز کانوں میں گونجی…. اس نے فٹ آنکھیں کھولی…. ساری نیند اڑن چھو ہوگئ تھی….. اس نے نمبر دیکھا پھر ٹائم دیکھا…. 3:45… وہ اٹھ کر بیٹھا….
ہیلو المیرا کیا ہوا تمھیں؟؟؟”
شہری ‘ شہری وہ وہ دا دادی….” اس سے تو بولا بھی نہیں جارہا تھا…. وہ چھلانگ مار کر بیڈ سے نیچے اترا تھا…. اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ دادی کی طبیعت نہیں ٹھیک….. دوسری طرف سے وہ بس اسے پکارے جارہی تھی….. وہ گاڑی کی چابی وائلٹ اٹھا کر روم سے نکلا…..
المیرا میری بات سنو!!
مگر وہ سن ہی کب رہی تھی….
شہری دادی کی طبیعت خراب ہورہی ہے…..”
المیرا میری سنو!!!
وہ اب بھی اپنی ہی بول رہی تھی….
المیرا سٹوپ اٹ….” اس نے غصے سے کہا تھا….
وہ چپ ہوئ…. نم آنکھوں سے دادی کو دیکھا….. جو اپنے دل پر ہاتھ رکھے اپنے دل کو مسل رہی تھی….. ان کی تکلیف بڑھتی جارہی تھی…. انہیں سانس لینے میں بھی دشواری ہورہی تھی….
المیرا ہوش سے کام لو… میں آرہا ہو پانچ منٹ میں پہنچ رہا ہو….” اس نے اپنی گاڑی گیٹ سے باہر نکالی تھی….
کول ڈاؤن المیرا….. مجھے دادی کی کنڈیشن بتاؤں؟؟”
اس نے اسے سب بتادیا تھا…. یوشع نے اپنا ماتھا مسلا…. وہ بہت رش ڈرائیونگ کررہا تھا ویسے بھی گلیاں سنسان تھی….
ملازم کہاں ہے؟؟؟
وہ وہ اپنے کوارٹر میں….”
اوکے دادی کا خیال رکھو میں آرہا ہو’ سنبھالوں خود کو اوکے….”
اس نے کال کاٹی تھی……
دادی میں ابھی آرہی ہو….”
وہ دوڑ کر ملازموں کے کوارٹر کے پاس پہنچی تھی…. وہ بنا دوپٹے کے تھی…. اسے تو اپنے دوپٹے کا بھی ہوش نہیں تھا…..
بہادر بہادر بہادر…..” وہ لگاتار دروازہ پیٹ رہی تھی…. دروازی کھولا گیا….
بہادر وہ وہ دادی….”
چھوٹی بی بی آپ مت گھبراۓ آپ اندر چلے’ ابھی یوشع صاحب کی بھی کال آئ تھی انہوں نے بتایا ہے’ آپ چلے اندر…..”
وہ اندر کی طرف دوڑی…. کچھ دیر بعد یوشع بھی آگیا…. ایمبولینس ساتھ تھی….. المیرا کو دیکھ کر غصے سے اس کے دماغ کی رگیں ابھری تھی…..
وہ اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھنے والی لڑکی آج ملازموں کے آگے بھی بغیر دوپٹے کے کھڑی ہے….
کہاں ہوش تھا اسے کسی چیز کا….. دادی کو اسٹریچر پر لٹا کر لے جایا گیا…. ان کی سانسیں مدھم ہورہی تھی… انہیں آکسیجن ماسک لگایا گیا تھا….. المیرا بھی باہر کی طرف دوڑنے لگی تھی…. یوشع نے اس کا کا ہاتھ پکڑ کر روکا…. اس نے نم آنکھوں سے یوشع کو دیکھا…. اس کی آنکھیں ضبط کے مارے لال ہوگئ تھی…. مگر وہ کسی کے سامنے اسے کچھ کہہ نہیں پایا…. اس نے اسکی شال اٹھا کر اس کے گرد اچھی طرح لپیٹی…. اس نے اسے بازوں سے تھاما گرفت بھی سخت تھی….
“المیرا خان اگر آج کے بعد تم مجھے بغیر دوپٹے کے کسی کے بھی سامنے نظر آئ تو میں بھول جاؤں گا کہ تمھارا اور میرا کیا رشتہ ہے ‘ اور اگر غصے میں واقعی میں نے تمھارے اوپر ہاتھ اٹھا دیا تو بعد میں مجھ سے گلے شکوے مت کرنا کہ میں نے کیوں ہاتھ اٹھایا ‘ سیچویشن چاہے کوئ بھی ہو ، کیسی بھی ہو، کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو’ تم سب سے پہلے اپنے آپ کو کور کرو گی’ تمھیں دیکھنے کا حق صرف میرا ہے’ کوئ اور تمھیں دیکھیں جان لے لوں گا ‘ انڈرسٹینڈ…..”
اب چلو….” وہ اس کا ہاتھ تھامے باہر کی طرف نکلا تھا…..
صبح کا سورج بھی طلوع ہوگیا تھا…. سب پرندے اپنے آشیانوں سے نکل آۓ تھے….. یوشع ہسپتال کے کوریڈور میں ایک پیر دیوار پر جماۓ دیوار سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا….. نگاہیں چھت پر مرکوز تھی شاید اپنے رب سے دعا گوں ہے….. اس کی آنکھیں اب بھی لال ہورہی تھی…. ایک ہاتھ پاکٹ میں اور دوسرا پہلو میں گرایا ہوا تھا اور اسی ہاتھ کو المیرا تھامے اس ہاتھ پر سر ٹکاۓ بینچ پر بیٹھی تھی….. کتنی ہی دیر ہوگئ تھی مگر اب تک ڈاکٹر باہر نہیں آۓ تھے…. یوشع نے ہوسپٹل پہنچتے ہی خان کو بھی فون کرکے سب کچھ بتادیا تھا….. معلوم پڑا تھا کہ وہ پچھلے دو دن سے حیدرآباد آۓ ہوۓ ہیں وہ بھی بہت پریشان ہوگۓ تھے سن کر….. انہوں نے وہاں سے نکلنے کی تیاری پکڑی تھی……
لمحہ بہ لمحہ گزرتا ہی جارہا تھا اور ہر گزرتا لمحہ کسی اذیت سے کم نہیں ہے المیرا کیلۓ…. پریشان تو یوشع بھی بہت ہوگیا تھا….. چھ بج گۓ تھے مگر اب تک دادی کی کوئ خبر خیریت نہیں…..
چند پل اور یوہی خاموشی کی نظر گزرے کے بعد جلتی لال بجتی بجھ گئ…. ڈاکٹر باہر آۓ تھے…. یوشع سیدھا ہوا المیرا بھی اٹھ کھڑی ہوئ…..
وہ دو قدم آگے بڑھے….. ڈاکٹر بھی قریب پہنچ گیا تھا…..
ڈاکٹر ‘ دادی…..”
یوشع نے پوچھا….
ہم نے بہت کوشش کی انہیں بچانے کی مگر وہ شاید اپنی زندگی اتنی ہی لکھوا کر آئ تھی ‘ ایم سوری ‘ جب انہیں یہاں لایا گیا تو انکی حالت بہت تشویش ناک تھی’ انہیں استھما اور ہارٹ اٹیک دونوں ہی ہوگۓ ‘ ہم انہیں نہیں بچا پاۓ ‘ ایم سوری ‘ اللّه آپ سب کے گھر والوں کو صبروجمیل عطا کرے آمین!!!”
ڈاکٹر آگے بڑھ گیا تھا…..
المیرا نے لڑکھڑا کر دوقدم پیچھے لۓ….. وہ بینچ پر واپس بیٹھی تھی…. یوشع بھی نیچھے اس کے قدموں کے پاس بیٹھا….
المیرا نے خالی خالی نگاہوں سے یوشع کو دیکھا…..
شہری ایک بار کہہ دے ڈاکٹر نے جو کہا ہے وہ جھوٹ ہے’ دادی کو کچھ نہیں ہوا’ وہ ٹھیک ہے…..”
دل کتنی بری طرح سے کٹا تھا المیرا کو اس طرح بولتا دیکھ….
مہرو ‘ اس نے اس کے ہاتھ تھامے…. اس کے ہاتھ سرد ہورہے تھے……
دادی…..” یوشع نے نفی میں گردن ہلائ……
المیرا کی آنکھوں سے موتی ٹوٹ کر گالوں پہ لڑھکا تھا…..
_________
جاری ہے_
