Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 43

علی نے ڈور کو کھولنا چاہا مگر دروازہ اندر سے لوک تھا…. اس نے دو تین ہلکی ہلکی ستک دی…… پانچ منٹ انتظار کرنے کے بعد دروازے کے کلک کی آواز آئ…. دروازہ کھول دیا گیا…. علی دروازے کو دھکیلتا اندر داخل ہوا…. اور پھر دروازے کے سامنے ہی تو وہ کھڑا تھا…. علی چند پل اس کے اس حلیے کو دیکھتا رہا…. بڑھی ہوئ شیو’ آنکھوں کے نیچے حلقے’ بڑھے ہوۓ بکھرے بال’ لال آنکھیں’ شرٹ کے کھلے ہوۓ بٹن’ پیلی رنگت’ کمزور جسامت…… وہ چند پل کچھ بول ہی نہ پایا…… یوشع بھی یک ٹک علی کو ہی دیکھتا رہا…. علی نے قدم آگے بڑھاۓ تھے….
کیا بولو میں یوشع تمھیں؟؟ تم نے یہ کیا حالت بنائ ہوئ ہے؟؟؟ تم وہی یوشع ہو وہ پہلے والے’ نہیں شاید نہیں’ اوکے لیو دس ٹوپک’ کیا تمھارا میرے بغیر گزارا ہوگیا یوشع؟؟ کیا ایک بار آکر مجھ سے سوری نہیں کہہ سکتے تھے؟؟ ایک بار آکر میرا کالر پکڑ کر مجھے منا نہیں سکتے تھے؟؟؟ کیا ایک بار آکر مجھ سے لڑ نہیں سکتے تھے؟؟ کیا یہی تمھاری دوستی تھی؟؟ میں ناراض تھا’ غصہ تھا’ تمھیں غصے میں کتنا کچھ کہا’ ایک بار مجھے چپ نہیں کراسکتے تھے’ ایک بار تو کچھ بولتے یوشع’ صرف ایک بار مجھ سے کہتے علی مت جا مجھ سے دور’ تو کیا میں تین مہینے تجھ سے دور رہتا؟؟ کیا ایک بار بھی میرے پاس نہیں آسکتے تھے؟؟؟ کچھ تو بولو یوشع’ تین مہینے سے تمھاری آواز نہیں سنی’ اگر مجھ سے ناراض ہو مجھ پر غصہ ہے تو کرلو’ نکال لو دل کی بھڑاس’ مار لو مجھے’ مگر یوں چپ تو نہ رہو’ کچھ تو بولو…..” یوشع نظریں جھکاۓ اس کی سنتا رہا….
یوشع آئ رئیلی نیڈ یور…..” اور علی کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی یوشع علی کے گلے لگ گیا تھا….. علی نے بھی اس پر گرفت سخت کی…. دونوں کی ہی آنکھیں پرنم تھی…..
اور پھر دوستی کتنی ہی پرانی کیوں نہ ہو’ کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہو’ کتنی ہی ناراضگیاں کیوں نہ ہو’ ایک سچی اور پکی دوستی کبھی ختم ہوتی ہے کیا’ کبھی نہیں’ کچھ پل کی ناراضگیاں روٹھنا منانا ہوجاتا ہے’ مگر کبھی ختم تو نہیں ہوتی’ ختم کردینے سے بھی ختم نہیں ہوتی……” اور یہی ان کے ساتھ ہوا تھا وہ تین مہینے سے ایک دوسرے سے ناراض تھے’ مگر کب تک رہتے اور آج وہ پھر ایک دوسرے کے سنگ تھے….. کافی دیر یوشع یوہی اسے گلے سے لگاۓ کھڑا رہا…. اس
کے بعد کتنی ہی دیر علی اس کے روم میں رہا….. اس سے باتیں کرتا رہا…… جس کے وہ بس ہو ہاں میں جواب دیتا رہا…….

جاتے جاتے علی کی ماہی سے بھی ملاقات ہوئ تھی’ جو لاؤنج میں علی کے سینے سے لگی کھڑی تھی…..
ب تو آجاؤ گھر یار ماما بابا دونوں بہت یاد کرتے ہیں تمھیں’ ایک بار بھی تم گھر نہیں آئ ہو…..”
ماما بابا تو آجاتے ہیں نہ یہاں تو میں کیا کرو اور ویسے بھی اب یہی تو میرا گھر ہے’یہیں تو رہنا ہے مجھے…..”
ماما بابا آجاتے ہیں کیا بھائ کی یاد نہیں آئ ان تین مہینوں میں’ نہ کال اٹھاتی ہو’ نہ کوئ کال کرتی ہو’ اور کیا تم بھی مجھے ایک بار بھی کال کرکے یوشع کی حالت کے بارے میں نہیں بتاسکتی تھی….”
کیا بتاتی بھائ؟؟؟”
تم خوش ہو؟؟؟” علی نے غور سے اس کے چہرے کو دیکھا تھا…. اس کی بھی حالت یوشع سے کم نہیں تھی….
ہاں بھائ میں تو خوش ہو…..” جھوٹ تو کسی کو بھی بولنا نہیں آتا….. علی نے دل میں کہا….
اچھا اب گھر آجانا’ کیا اپنی بھابھی کو بھی مبارکباد نہیں دوگی گھر آکر’ کیا مجھے بھی مبارکباد نہیں دو گی’ تمھارا بھائ باپ بننے والا ہے’ تم پھوپھو بننے والی ہو…..”
کیا سچ’ آپ سچ کہہ رہے ہیں بھائ؟؟؟؟؟ علی نے ہاں میں سر ہلایا…
بھائ بہت بہت مبارک ہو آپکو بہت زیادہ’ آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟؟؟ وہ کچھ خفا ہوئ تھی… اور بھابھی وہ کیسی ہے؟؟؟؟
تم میری کوئ کال اٹھاؤ تو تمھیں کچھ بتاؤ نہ’ اور زینب بالکل ٹھیک ہے’ اب تو آجانا یار گھر’ جب سے تم گئ ہو’ گھر سے خوشیاں بھی روٹھ گئ ہے’ اب کوئ مجھ سے ضد کرکے اپنی خواہشات کو پورا نہیں کرواتا’ کوئ مجھ سے نہیں لڑتا’ کوئ بھی مجھ سے ناراض نہیں ہوتا’ یہ سب حرکتیں تمھاری تھی’ کبھی تو کوئ خواہش کرو…..”
بھائ اب خواہش رہی ہی نہیں تو کیا کرو؟؟؟ اب تو بس یوشع کے دل میں جگہہ چاہتی ہو’ اور وہ تو آپ بھی چاہ کر نہیں دے سکتے…..” وہ دل میں خود سے کہہ جارہی تھی…
کیا ہوا؟؟ کیا سوچ رہی ہو؟؟؟
کچھ نہیں بھائ’ اگر کبھی کچھ لینا ہوا تو ضرور آپکا سر کھاؤ گی…..” اس نے مسکراتے ہوۓ کہا….
میں جانتا ہو ماہی میں تمھیں تمھاری ساری خوشیاں نہیں دے سکتا’ مگر جتنا بھی مجھ سے ہوگا میں ضرور کرو گا’ میں یوشع سے بھی بات کرو گا’ سمجھاؤ گا اسے……”
نہیں بھائ ان سے اب کچھ مت کہیے گا’ میں ٹھیک ہو خوش ہو……” علی چپ رہا…. زینب کے ماتھے پر پیار کرتا پھر وہ چلا گیا…..
پیچھے اس کی آنکھیں پھر نم ہوئ تھی…..
کیا بتاؤ آپکو بھائ کہ آپکی بہن کتنی تکلیف میں ہے’ آپکی بہن اب بدل چکی ہے’ آپ کی بہن کو اب کسی چیز کی چاہ نہ رہی’ کیا بتاؤ آپکو بھائ کہ یوشع مجھ سے کتنی نفرت کرتے ہیں’ نہیں بھائ اب تو آپکی بہن نے کمپرومائز کرنا سیکھ لیا ہے’ آپ خوش رہے ہمیشہ…….” وہ اپنی سوچوں سے باہر نکلی تھی….. اس نے آنکھیں صاف کرتے یوسف صاحب کو دیکھا جو اس کے سر پر ہاتھ رکھے کھڑے تھے……
سب ٹھیک ہوجاۓ گا بیٹا’ مت رو’ میں جانتا ہو تم تکلیف میں ہو’ میں یہ بھی جانتا ہو یوشع بھی بہت تکلیف میں ہے’ اسے بھی تھوڑا ٹائم چاہیے’ اس کو وقت دو’ تم صبر کرو’ یوشع کے سارے کام تم خود کرنے کی کوشش کرو’ اس کے آس پاس رہو’ میں جانتا ہو وہ تمہارا وجود اپنے آس پاس بھی برداشت نہیں کرتا’ مگر جب تک تم اس کے آس پاس نہیں رہو گی’ اس کو بار بار اپنے ہونے کا احساس نہیں دلاؤں گی’ تو وہ کیسے تمھیں اپناۓ گا’ اسے بتاؤ تمھیں اس کی فکر ہے’ کچھ ٹائم لگے گا مگر سب ٹھیک ہوجاۓ گا…..” ماہی نے بس ہاں میں سر ہلایا…..
خوش رہو…..” اور پھر وہ بھی وہاں سے چلی گئ….

یوشع لان میں گھاس پر بیٹھا تھا…. ہاتھ میں المیرا کی پک پکڑے بیٹھا یک ٹک اسکی پک کو دیکھ رہا تھا…. یہ پک انکی انگیجمنٹ کی تھی….. جس میں وہ علی کی بازو میں بازو ڈالے زبان نکال کر یوشع کو چڑارہی تھی….. یوشع کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئ….. وہ اس قدر گم تھا کہ اسے یہ بھی اندازہ نہیں ہوا کہ اس کے پیچھے کوئ کھڑا ہے….. جو نم آنکھوں سے یوشع کے ہاتھ میں پکڑی المیرا کی پک کو دیکھ رہا ہے….. آج پہلی بار ماہی کو المیرا کی قسمت پر رشک آیا تھا…… المیرا نہ ہوکر بھی سب کے درمیان ہوتی تھی….. اور وہ یہاں ہوکر بھی کسی کے درمیان میں نہیں تھی…..
اچھا المیرا سنو نہ یار!! شادی کے بعد پہلے بیٹا چاہیے یا بیٹی….”
یہ ان کی مہندی سے ایک دن پہلے کی بات تھی….. جب یوشع المیرا سے ملنے آیا تھا….. وہ صوفے پر اس کے کندھے پر سر رکھے بیٹھی تھی…. جب یوشع نے اس کا موڈ ٹھیک کرنے کیلۓ اس سے مزاق میں یہ بات کی تھی….
بتاؤ نہ یار!! پہلے کیا چاہیے بیٹا یا بیٹی؟؟؟؟
یہ تو اللّه پاک کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ جس چیز سے بھی نوازے’ جو ہمارے نصیب میں ہوا وہ ہمیں مل جاۓ گا…..”
ہاں وہ تو ٹھیک ہے جانم’ مگر پھر بھی اپنی بھی تو کچھ خواہشات ہوتی ہے کہ ہمیں پہلے بیٹا ہو یا بیٹی……”
اگر ایسا ہے تو میں پہلے بیٹی چاہو گی کہ ہمارے ہاں پہلی اولاد بیٹی ہو’ کیونکہ ہمارے نبی کو بھی بیٹیاں بہت پسند ہے’ اور پھر بیٹی رحمت ہوتی ہے….”
اور اگر بیٹا ہوا تو؟؟؟
وہ پھر اللّه پاک کی مرضی ہے ہم تو کچھ نہیں کرسکتے اس میں…..”
اور اگر بیٹی ہوئ تو کیا نام رکھو گی؟؟؟
ہمممم بیٹی کا تو نہیں سوچا وہ آپ سوچ لیجۓ گا…..”
اچھا یعنی بیٹے کا سوچ لیا…..
ہاں جی….’ تو پھر بتاؤ ہمارے بیٹے کا کیا نام رکھو گی…..
میرہادی’ مجھے میرہادی نام بہت پسند ہے’ دیکھ لینا میں تو میرہادی ہی رکھو گی’ اور اس کو پیار سے میرو کہہ کر بلایا کرو گی’ اور دیکھ لینا ہمارا بیٹا آپ سے بھی زیادہ پیارا ہوگا’ جس سے میں بہت پیار کرو گی……”
ہاہاہاہاہا جانو تم سب سے پہلے مجھے پیار کرو گی…..” المیرا نے آنکھیں چھوٹی کرکے اسکو گھورا…..
یونو جانو جب تک میں کچھ نہیں کرو گا تو…..”
یوشع شٹ اپ’ خبردار کچھ الٹا سیدھا بولا تو……”
ہاہاہاہاہا یار تمھاری تو ابھی سے حالت خراب ہوگئ’ ابھی تو میں نے کچھ کیا بھی نہیں ہے’ ہاہاہا آجاؤ اونلی ٹو ڈیز لیفٹ’ اس کے بعد تم میں اور……” یوشع آنکھ ونک کرتا اسکی طرف جھکا تھا…..
یوشع اب تم سچ میں مجھ سے مار کھالو گے…..” اور وہ مسکراتا ہوا اس سے دور ہوا تھا….
جاؤ المیرا خان وہ دن اب دور نہیں جب تم پر میرا حق ہوگا’ جب تم المیرا خان نہیں المیرا یوشع یوسفزئ ہوگی اور میں پورے حق سے تم سے اپنے حق وصول کرو گا…..
ارے جاۓ جاۓ’ پہلے وہ دن تو آنے دے….”
جسٹ ویٹ اینڈ واچ…..” یوشع نے بھی آنکھیں چھوٹی کرکے اس کو گھورا تھا…..

میرہادی……” یوشع نے زیرلب نام دہرایا….. پیچھے کھڑی ماہی نے بھی اس نام کو سنا تھا…. اور پھر وہ کچھ بھی کہے بغیر نم آنکھوں سے وہاں سے چلی گئ….. یوشع یوہی اس کی تصویر کو لے کر بیٹھا رہا…..

جاری ہے__