Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 48

ماہی یوشع کے پاس ہی بیٹھی اس کے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کررہی تھی…. پچھلے دو دن سے وہ بخار میں جل رہا تھا وجہ ایک بار پھر وہی تھی اس کو خود سے گھٹن ہونے لگی تھی…. ایک بار پھر وہی بےسکونی خود کو روم میں بند کردیا تھا کھانا پینا چھوڑ دیا تھا اور اسی وجہ سے وہ اب سخت بیمار تھا….. ماہی بھی دن رات اس کی خدمت میں لگی تھی…. انجیکشن اور اس کی دن رات کی محنت سے اس کا بخار کچھ کم تو ہوگیا تھا مگر ختم نہیں ہوا تھا….. وہ اب بھی اس کے ماتھے پر پٹیاں کررہی تھی…. اس کی آنکھوں میں نمی تھی….. کچھ دیر بعد اس نے وہی بیٹھے اس کے سینے پر سر رکھ لیا تھا….. ایک موتی ٹوٹ کر اس کی شرٹ میں جزب ہوگیا تھا…… یوشع کی پلکوں میں جنبش ہوئ تھی…..
کیوں کرتے ہیں آپ یوشع میرے ساتھ ایسا؟؟؟ کیا قصور ہے میرا میں نے تو بس محبت کی ہے نہ آپ سے’ مگر آپ کیا جانے گے میری تکلیف کو آپکو تھوڑی ہے مجھ سے محبت’ بس میں ہی ہاگل ہو آپکے پیچھے جو اپنا سب کچھ آپ پر قربان کردیا’ مگر آپ سمجھتے ہی نہیں مجھے میری محبت کو’ مگر کوئ بات نہیں میں نہیں کرتی آپ سے کوئ گلہ…….” ماہی نے اپنے آنسو صاف کیے…..
مگر یوشع مجھے ضرورت ہے آپکی یہ بات تو آپ سمجھے’ صرف کچھ دن کا ساتھ دیں دے مجھے’ صرف کچھ پل کی خوشیاں دیں دے’ میں بہت تکلیف میں ہو یوشع بہت زیادہ’ میں آپکو کچھ نہیں بتاسکتی کیا ہے کیا نہیں مگر….” اس کےہونٹ سسکنے لگے تھے……وہ ایک بار پھر رونے لگی تھی…. موتی ٹوٹ ٹوٹ کر اس کی شرٹ میں جزب ہورہے تھے…..
میں مرجاؤں گی یوشع آپ کے بغیر’ آئ کانٹ لیو وید آؤٹ یو’ کانٹ لیو…..” بولتے بولتے اسےمحسوس ہوا تھا کہ یوشع اٹھ گیا ہے…… اس نے سر اٹھا کر اس کو دیکھا تو وہ واقعی جاگ گیا تھا….. جو یک ٹک ماہی کو ہی دیکھ رہا تھا…..
کہیں یوشع نے سب کچھ سن تو نہیں لیا…..” اس نے دل میں کہا… جس طرح یوشع اس کو دیکھ رہا تھا ایسے لگ رہا تھا وہ واقعی سب کچھ سن چکا ہے….. وہ فورا وہاں سے اٹھ کر جانے لگی تھی…. مگر یوشع نے اس کی کلائ تھام لی تھی…. دھڑکنوں کی رفتار بڑھنے لگی تھی….
یوشع پلیز لیو مائ ہینڈ’ ورنہ میں اب اور خود کو قابو میں نہیں رکھ پاؤ گی پلیز یوشع چھوڑ دے ‘ مجھےاور بےبس مت کرے پلیز پلیز……” آنکھوں سے آنسوں جاری تھے….یوشع نے اس کی کلائ چھوڑدی تھی….. اور وہ اپنے آنسو صاف کرتی روم سے نکل گئ تھی…..
آئ کانٹ لیو وید آؤٹ یو’ کانٹ لیو…..” ماہی کے الفاظ اس کے ذہن میں گونجنے لگے تھے….
مگر یوشع مجھے ضرورت ہے آپکی’ آپ سمجھتے نہیں’ آپکو محبت تھوڑی ہے جو آپکو پتا ہوگا…..” وہ اپنے سر کو تھامتا اٹھ کر بیٹھ گیا تھا…..
ماہی کو اپنا لو بس کردو یوشع اب بس کردو…..” اس نے نفی میں گردن ہلائ تھی…..
**

رات ماہی لیٹ نائٹ روم میں آئ تھی وہ یوشع کا ابھی سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی…. کھانا بھی اس نے سندس کے ہاتھ روم میں بھیج دیا تھا… یوسف صاحب بھی سوگۓ تھے…. رات کا ایک بج رہا تھا جب وہ روم میں آئ تھی….. کمرے کی تمام لائٹس آف تھی…. کھڑکی سےآتی ہلکی روشنی جسکی تقلید میں وہ چلتی بیڈ تک آئ تھی…. کوئ بھی آہٹ کیے بغیر وہ بیڈ کی دوسری سائڈ لیٹ گئ تھی….. یک ٹک یوشع کا چہرہ دیکھنے لگی…. وہ آنکھوں پر بازو رکھے سیدھا لیٹا تھا….. ماہی کا دل بھر بھر کر آرہا تھا اب بھی اس کا دل کررہا تھا کہ وہ یوشع کے سینے پر سر رکھ کر رولے اس کو سب کچھ بتادے اس سے چند پل کی محبت صرف چند پل کا ساتھ مانگ لے مگر وہ اب کچھ نہیں مانگتی….. ایک موتی ٹوٹ کر گرا تھا…. اس نے اپنے آنسو صاف کیے….. اوپر کی طرف اٹھ کر اس نے یوشع کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے مگر فورا اس سے دور ہوکر وہ
دوسری سائڈ کروٹ بدل کر لیٹ گئ تھی….. یوشع نے کچھ پل بعد آنکھوں سے بازو ہٹایا تھا…. اس نے ماہی کی طرف نہیں دیکھا بس چھت کو دیکھے گیا….. اسے معلوم تھا کہ وہ رو رہی ہے وہ سویا نہیں تھا…… آج دونوں ہی تڑپ رہے تھے…. ماہی دبی دبی سسکیوں کے ساتھ رورہی تھی… ہونٹ سسک رہے تھے خود بھی بلک رہی تھی…. ایک یوشع کی چند پل کی محبت کیلۓ تڑپ رہی تھی تو دوسرا المیرا کی محبت میں تڑپ رہا تھا…. کب سے اس کے ذہن میں ماہی کی باتیں گونج رہی تھی… مگر کچھ ذہن سے نہیں نکل رہا تھا…..
پتہ نہیں جو بیت جاتا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا ٹہر کیوں جاتا ہے دل ودماغ میں کہیں عذاب بن کر کہیں سراب بن کر
پل پل وقت گزرتا ہی جارہا تھا…. مؤذن کی آواز چاروں طرف گونجنے لگی تھی…..
اللّه سب سے بڑا ہے’ اللّه سب سے بڑا ہے…..”
ایک منٹ کیلۓ کسی کی آنکھ نہیں لگی تھی…. ساری رات جاگنے کی وجہ سے آنکھیں لال ہوگئ تھی…. ماہی کی بھی آنکھیں سوجھ رہی تھی آنکھوں میں جلن ہونے لگی تھی نہ وہ چپ ہوئ اور نہ ہی یوشع نے چپ کروایا وہ یہی ظاہر کرتا رہا کہ وہ سورہا ہے…… مؤذن کی آواز چاروں اور گونج رہی تھی….. یوشع اٹھ کر بیٹھا ایک نظر ماہی کو دیکھا وہ کروٹ پر دوسری سائڈ منہ کرکے لیٹی تھی…. یوشع کے اٹھتے ہی اس نے فورا آنکھیں بند کی تھی…. وہ اٹھ کر واشروم کی طرف بڑھ گیا وہ بھی سیدھی ہوکر لیٹی…. کچھ دیر بعد وہ واشروم سے باہر آیا تھا ماہی نے آنکھیں بند کررکھی تھی.. جب کھولی تو یوشع مصلحہ پر نماز کیلۓ کھڑا ہورہا تھا وہ بھی یوشع کو دیکھتی اٹھ کھڑئ ہوئ اور جس وقت کو وہ وضو کرکے آئ یوشع سجدے میں تھا…. وہ بھی اس کی سائڈ میں مصلحہ بچھاتی اس کی امامت میں نماز پڑھنے لگی…. یہ وہ پہلی نماز تھی جو وہ ایک ساتھ پڑھ رہے تھے…. یوشع کے آنسوں سجدے میں گررہے تھے… وہ بھی رب کے سامنے آنسو بہارہی تھی…… یوشع نے دعا کیلۓ ہاتھ اٹھاۓ تھے….
معاف کر میرے مولا’ میں بہت گنہگار بندہ ہو’ مگر تو تو دلوں کے حال تک سے واقف ہے’ تو تو ہر ایک سسکی’ ہر تکلیف’ دل میں چھپے ہر راز کو جانتا ہے’ تو ہم سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے’ ہماری اتنی اوقات نہیں مگر آپ کا کرم ہے میرے رب’ مجھے بخش دے’ آج میں تیرے در پر سکون کی بھیک مانگتا ہو’ مجھے سکون دیں دے میرے مولا’ مجھے اپنی رضا میں راضی رہنا سیکھا دے میرے مولا’ میں جانتا ہو میں بہت نافرمان ہو بہت ناشکرا بندہ ہو مگر تو پھر بھی عطا کرتا ہے’ مجھے بھی آج سکون عطا کر’ میں اب مزید یوں نہیں جی سکتا’ مجھے میرے دل کو اپنی رضا میں راضی کر’ مجھ کو اتنی ہمت دے میں المیرا کو بھول کر ماہی کے ساتھ زندگی گزار سکوں’ ماہی کو اس کے تمام حقوق دے سکوں’ اس کو بھی خوشیاں دے سکوں’ تو مجھ سے راضی ہوجا میرے مولا’ مجھے مانگنا نہیں آتا مگر تو دینا جانتا ہے مجھے بھی سکون دے….” آنسوں ٹوٹ کر جھولی میں گررہے تھے…… لب بند تھے… دل میں وہ اپنے رب سے بات کررہا تھا….. آنکھیں بھی بند تھی…. اس کو سکون ملنے لگا تھا اس کی دعا سن لی گئ تھی…..
اور پھرکتنا پُر سکون ہوتا ہے وہ سجدہ جب تم اپنی ہی خواہشوں کے ہاتھوں توڑے جانے کے بعد اپنے رب کے پاس واپس لوٹتے ہو اور پھر وہ سجدہ کیسے تمہاری روح کو ہر چیز سے آزاد کر کے تمہیں تمہارے رب کے بہت قریب لے آتا ہے…. اس دنیا میں اس سے پر سکون اور کیا بات ہوگی کہ بے بسی کی حالت میں اپنے رب کے آگے گھٹنوں کے بل بیٹھ کہ اُسے اپنے دل کا حال سناتے ہو….. یہی تو ہوتا ہے وہ لمحہ جب تمہارے اور تمہارے رب کے بیچ کوٸی نہیں ہوتا اور اسی لمحے تم اپنی ذات کو مکمل محسوس کر تے ہو….. بے شک ہمارا رب تو ہمیشہ ہم سے بہت قریب ہوتا ہے….. بس ہم ہی دور چلے جاتے ہیں اللّٰہ تو تمہاری شہ رگ سے بھی قریب ہے…..تم لو ٹو تو اس کی طرف وہ تمہیں اپنے حصار میں لے لے گا اور تمہارا دل اپنی محبت سے بھر دے گا….. اس نے منہ پر ہاتھ پھیر کر ہاتھ گرالیے تھے….. مڑ کر ماہی کو دیکھا….. وہ بھی دعا مانگنے میں مصروف تھی….. اس کے بھی آنسوں جھولی میں گررہے تھے…… وہ دعا سے فارغ ہوئ تھی…. یوشع کو دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا….. یوشع ہلکی سی سمائل پاس کرتا اٹھ کھڑا ہوا مگر ماہی تو بےچین ہوگئ تھی ایسی حرکتیں اسے پاگل ہی تو کرتی ہے……
میں کچھ دیر کیلۓ باہر جارہا ہو لان میں ٹہلنے’ تم ساری رات سوئ نہیں ہو اب ریسٹ کرلو’ ورنہ طبیعت خراب ہوجاۓ گی…..” ماہی کو حیرت ہوئ…..
آپ کو کیسے معلوم میں نہیں سوئ…..”
میں جاگ رہا تھا…..” ایک بار پھر حیرت ہوئ تھی….
آپ کی طبیعت ٹھیک ہے نہ…..”
ہاں مجھے کیا ہونا ہے؟؟؟؟ آپ نے اس سے پہلے کبھی مجھے نہیں بتایا کہ آپ کہاں جارہے ہیں اور آج بتا کر جارہے ہیں……”
ہممم’ ریسٹ کرو…..”
میں بھی چلو آپکے ساتھ’ میں بھی تھوڑی والک کرلو گی….”
ٹھیک ہے آجاؤ’ مگر کوئ شال لےلینا’ باہر موسم ٹھنڈا ہے’ سردی لگ جاۓ گی…..”
جی……” اور کچھ دیر بعد وہ دونوں باہر لان میں ایک ساتھ ٹہل رہے تھے…. یوسف صاحب بالکونی میں کھڑے تھے….. وہ بھی ابھی نماز کیلۓ اٹھے تھے….. آج ان دونوں کو ایک ساتھ لان میں ٹہلتا دیکھ وہ دل سے مسکراۓ تھے….. ان کیلۓ ہمیشہ ایک ساتھ خوش رہنے کی دعا بھی کی…… وہ آج بہت خوش تھے اور پھر روم میں رب کا شکر کرنے ادا چلے گۓ….. یوشع نے چلتے چلتے ماہی کو دیکھا اس کے چہرے پر خوشی جھلک رہی تھی…. وہ اس کی اتنے سے ساتھ پر ہی کتنا خوش ہوگئ تھی…… ماہی کا ہاتھ یوشع کے ہاتھ سے ٹکرایا تھا…. ماہی نے ہاتھ دور کرلیا مگر اگلے لمحے یوشع نے اس کا ہاتھ اپنی گرفت میں تھام لیا تھا….. ماہی نے چلتے چلتے یوشع کا چہرہ دیکھا مگر وہ اب اس کو نہیں دیکھ رہا تھا…… وہ بس سیدھا دیکھتا چپ چاپ چل رہا تھا….. آج ماہی کو زندگی حسین لگ رہی تھی…… آج یوشع اس کے ساتھ تھا…. مگر کون جانتا ہے یہ خوشیاں کتنے پل کی ہے……”
*

یوشع بالکونی میں کھڑا باہر دیکھ رہا تھا….. کافی کا مگ ہاتھ میں تھام رکھا تھا…..
یوشع میں بہت تکلیف میں ہو’ میں آپکو کچھ نہیں بتاسکتی’ مجھے آپ کی ضرورت ہے…..”
میں بھی کل تمہارے ساتھ چلوں گا….”
نہیں نہیں آپ کیوں جائیں گے’ میں چلی جاؤں گی….”
نہیں میں آپ سے کیا چھپاؤں گی کچھ نہیں…..”
کچھ تو ہے ماہی جو تم مجھ سے چھپارہی ہو’ مگر کیا؟؟؟؟ کافی کے گھونٹ بھرتا وہ خود سے بڑبڑایا….. اس کا موبائل رنگ ہوا…. وہ سوچوں سے باہر نکلا…..
ہمم بولو….” دوسری طرف علی تھا جو اسے کہیں آنے کیلۓ کہہ رہا تھا….
نہیں تم چلے جاؤ میرا موڈ نہیں ہے….”
اففف یار میں نے کہا نہ نہیں ہے میرا موڈ تم چلے جاؤ….”
ہممم اچھا ہاں حماد سے بات ہوجاتی ہے کبھی کبھی بہت کم…..”
ہمم اچھا ٹھیک ہے خدا حافظ……” اس نے فون رکھ دیا…..
تمہاری میڈیکل رپورٹس ہی اب سچ سامنےلائیں گی جو تم چھپا رہی ہو’ یقینا کچھ تو غلط ہے…..” وہ اس کی وارڈروب کی طرف بڑھا تھا….. اس میں رپورٹس ڈھونڈنے لگا…. ماہی روم میں آئ تھی….. آج پھر اس کو چکر آرہے تھے….. سر گھوم رہا تھا….. وہ بھاری قدموں سے چلتی بامشکل یوشع کے قریب پہنچی….. ایک میڈیکل رپورٹ یوشع کے ہاتھ لگ گئ تھی….. جس پر ماہین یوشع یوسفزئ لکھا تھا…..
یو یوشع…..” اپنے چکراتے سر کے ساتھ اس نے یوشع کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا….. یوشع نے ماہی کو دیکھا….. اس کی آنکھیں بند ہورہی تھی اور اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی یوشع نے اسے تھاما تھا…….
ماہی اٹھو کیا ہوا؟؟؟ آنکھیں کھولو….” وہ اس کے گال تھپتھپارہا تھا…… اس نے ماہی کی ناک کے قریب انگلی لگائ….. اس کی انگلی پر خون لگ گیا تھا….. ایک نظر اپنی انگلی پر لگے خون تو ایک نظر بےہوش ہوئ ماہی پر ڈالی…..
ماہی…..” اس کے وجود میں کوئ ہلچل نہیں تھی…… وہ اسے گود میں بھرتا بیڈ تک لایا….. اپنے فیملی ڈاکٹرنی کو کال کرتا ان کو جلدی آنے کو کہا….. کچھ دیر بعد ڈاکٹرنی بھی آگئ تھی….
ان کو ہوسپٹل لے آئیں گا وہاں ان کا باقاعدہ چیک اپ ہوگا رپورٹس کے بعد ہی پتا لگے گا کہ کیا ہوا ہے’ اینڈ آپکی مسز بہت ویک ہے ان کی جیسی کنڈیشن ہے اس میں آپ کو ان کا’ ان کی ہر ضرورت کا’ ان کی ڈائٹ کا خیال رکھنا چاہیے’ ان کی کئیر کرے اور جتنا ہوسکے ان کو ریسٹ کرنے دے یہی بہتر ہوگا’ کچھ دیر تک ہوش آجاۓ گا’ اب میں چلتی ہو….”
ٹھینک یو ڈاکٹر…..”
وہ بیڈ پر ماہی کے پاس بیٹھا….. اس کے ایک ایک نقش کو غور سے دیکھ رہا تھا….. بجھا بجھا سا چہرہ تھا جس پر کوئ رونق نہیں تھی….. یہ وہ خوبصورت سی ماہی نہیں تھی….. یہ عشق میں ہاری ہوئ ایک بےبس ماہی تھی جس نے اس کی یہ حالت کردی تھی…… یوشع کے ذہن میں ایک بار پھر وہ رپورٹس آئ تھی…..اس نے وہ رپورٹس ریڈ کی…. ہوسپٹل کا نام….. اس کی ڈاکٹر کا نام…… مگر اس رپورٹس میں سب کچھ کلئیر تھا….. اس میں تو ایسا کچھ نہیں تھا جو اسے کچھ بتا سکتا……
یہ وہ رپورٹس نہیں ہے’ وہ رپورٹس یا تو چھپا دی گئ ہے یا پھینک دی گئ ہے’ اگر چھپائ ہے تو کہاں چھپاسکتی ہو تم ماہی’ کہاں پر…….؟؟؟”
اس نے کھڑے کھڑے پوری وارڈروب کا جائزہ لیا تھا مگر کوئ ایسی جگہہ نہیں دکھی جو اسے رپورٹس کا بتا سکیں کہ رپورٹس یہاں چھپائ گئ ہے……” یوشع ایک بار پھر اس کے پاس آکر بیٹھ گیا تھا…… ماہی کی پلکوں میں جنبش ہوئ…..
یوشع…..” وہ اسےپکار رہی تھی…..
گیٹ اپ ماہی سی میں یہی ہو…..” وہ اپنا انگوٹھا اس کے گال پر رب کرکے اس کو اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا…… اس نے بھی اس کو محسوس کرلیا تھا بند پلکوں سے موتی ٹوٹ کر گرا تھا….. یوشع نے آنسو صاف کیے…….
ماہی آنکھیں کھولو’ میں ہو تمہارے ساتھ……” آج وہ اس کو محبت سے پکاررہا تھا اس کو اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا….. ماہی نے آہستہ سے آنکھیں کھولی….. یوشع کو دیکھا….. وہ بھی اسی کو دیکھ رہا تھا…… وہ رونے لگی تھی……
چپ مت رہو’ میں ہونا’ بالکل چپ…..” مگر آج یوشع کی یہ محبت یہ احساس اس کو ایک زندگی دے رہی تھی…… اس نے اس کی گود میں سر رکھ لیا تھا….. یوشع نے بھی نہیں منع کیا وہ رورہی تھی اس نے اب رونے دیا….. کافی دیر بعد جاکر وہ چپ ہوئ تھی…..
اوکے اب میری طرف دیکھو ماہی…..” اس کے بالوں کو سنوارتا بہت اپنائیت سے کہہ رہا تھا….. ایک بار پھر وہ اپنا انگوٹھا اس کے گال پر رب کررہا تھا…..
مجھے بتاؤ ماہی کیا چھپارہی ہو تم مجھ سے؟؟ کیوں بار بار تمھیں چکر آتے ہیں؟؟ کونسی تکلیف میں ہو تم’ میں آج تمام تکلیفوں کا مداوہ کردوں گا؟؟ مگر مجھے بتاؤ کہ ہوا کیا ہے؟؟ ڈاکٹر کیا کہتی ہے’ ہمارا بےبی ٹھیک ہے یا نہیں’ تم کس تکلیف میں ہو’ مجھے بتاؤ میں سنو گا آج مگر یوں چپ مت رہو’ یوں گھٹ گھٹ کر مت جیو’ کیا چھپارہی ہو’ یہ ناک میں سے خون کیوں آرہا تھا’ ہمم بتاؤ کچھ تو بولو……” ماہی نے گال پر رکھے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا……
یوشع…..” آنکھ میں سے موتی برسے تھے…..
بولو…..” آپ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گے نہ’ بےبی ہونے کے بعد مجھے چھوڑے گے تو نہیں…..” وہ کچھ پل کیلۓ خاموش ہوگیا تھا…. مگر ماہی اس کے جواب کی منتظر تھی…..
نہیں چھوڑو گا کبھی ہمیشہ تمہارے ساتھ ہو…..” اس نے سکون سے آنکھیں بند کی تھی….
ماہی کچھ تو بولو پلیز……” اس نے مسکرا کر یوشع کو دیکھا….. اس کے دل پر انگلی رکھی…..
آپ جب میرے ساتھ ہے تو مجھے کیا تکلیف ہوسکتی ہے یوشع’ میں ٹھیک ہو’ بالکل ٹھیک ہو……” نم آنکھیں مسکراتے لبوں سے اس نے کہا تھا…..
آپ میرے ساتھ ہونگے تو میں ہر تکلیف ہر آزمائش سے خوشی خوشی گزرجاؤنگی…..” اس نے یوشع کو خود کے قریب کیا تھا اور پھر وہ اس کے گلے لگ گئ تھی…… آج پہلی بار وہ اس کے گلے لگی اس کو محسوس کررہی تھی….. اس نے اپنے لب اس کی شرٹ پر رکھے تھے….. وہ آج بہت خوش تھی……
ہمارا بےبی تو ٹھیک ہے نہ ماہی….”
ہاں الحمداللّه بالکل ٹھیک ہے’ اور آج میں بھی خوش ہو……”
ہمممم…..”

جاری ہے__