No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
Visal-e-Javedan وصال جاوداں
ہر طرف سینڈ، لوہا، راڈ، شیشے، لکڑیاں بکھری ہوئ تھی……
المیرا’ جہان کےساتھ اس بلڈنگ کا جائزہ لے رہی تھی’ جو جہان کی خود کی ماڈل کی ہوئ تھی….
اٹس سچ آ بیوٹیفل…’ المیرا نے کھلے دل سے تعریف کی….
بس اللّه پاک ساتھ دے، کامیابی دے…. ‘
جہان نے دعا کی…..
انشاءاللّه کامیابی ضرور ملے گی’ بہت جلد ترقی کرو گے آپ….
آمین!
بس اب یہ جلدی سے تیار ہوجاۓ’ ویسے تو کام بہت تیزی سے چل رہا ہے یہاں اور جلدی ہوجاۓ تاکہ سارا سیٹ اپ کرسکو….
کسی بھی چیز کی ضرورت پڑے آپ کو”میں حاضر ہو”
ٹھینک یو سو مچ المیرا جی…. آپ نے یہ کہا’ میرے لۓ یہی بہت ہے’ میں سچ میں بہت خوش نصیب ہو آپ جیسی لائف پارٹنر مجھے ملنے جارہی ہے….
المیرا نے اپنا سر نفی میں ہلایا….
خوش نصیب تو میں ہوں…
آئ تھینک ہمیں اب چلنا چاہیے….
جی بالکل آۓ چلے’ مگر پہلے آئسکریم کھائیں گے’ اور اس کے بعد گھر’ اور آپ بالکل بھی منع نہیں کرے گی….
وہ ہنسی’ اوکے…
اور ان دونوں نے اس بڑی سی بلڈنگ سے باہر کھڑی جہان کی گاڑی کی طرف قدم بڑھادیے…..
______________________
جہان کی بلڈنگ سچ میں بہت خوبصورت تھی’ کافی حد تک تو بلڈنگ تیار بھی ہوگئ تھی’ سارے کام ایک ساتھ ہی کیے جارہے تھے…..
********
یوشع ابھی آفس آیا تھا’ سب ادب سے کھڑے ہوکر سلام کررہے تھے’ وہ سب کے سوالوں کا سر کے خم سے جواب دیتا آگے کی طرف بڑھ رہا تھا…..
گلاس ڈور دھکیل کر روم میں داخل ہوا’ قدم قدم چلتا اپنی چیئر کی طرف آیا…..
سامنے میز پہ رکھا خوبصورت وائٹ کلر کے پھولوں کا بوکے اٹھایا’ ناک کے قریب لے جاکر اس کی خوشبو کو اپنی روح میں اتارا’ بوکے کو واپس میز پہ رکھا’ کرسی پہ بیٹھ کر بوکے کے ساتھ رکھے ریڈ کلر کے ہارٹ شیپ سائز کارڈ کو اٹھایا’ باہر نام نہیں لکھا تھا…..
کارڈ کھول کر پڑھنا شروع کیا…..
چہرہ کسی بھی قسم کے تاثرات سے پاک تھا’ کارڈ کے اینڈ میں نام لکھا ہوا تھا’ آنکھیں سکیڑ کر ایک بار پھر نام کی تصدیق کی…..’
کارڈ کو بند کرکے میز پہ رکھا’ کرسی کی بیک سے ٹیک لگائ’ اپنے ماتھے کو دو انگلیوں سے مسلا اور کچھ سوچ کر اینٹر کام سے نمبر ڈائل کیا’
پہلی ہی بیل پر کال ریسیو کرلی گئ….
ریسیور تھامے ٹیک لگائ’ گلاس ڈور سے باہر سب کو کام کرتا دیکھنے لگا’
روم میں آؤ….”
تین حرفی جملہ کہہ کر ریسیور واپس رکھ دیا….
وہ اپنی سیٹ سے اٹھی’ آخر کار وہ گھڑی آہی گئ تھی’جس کا اسے انتظار تھا’ بےقابو ہوتے دل کو قابو میں کرتی’ چیونٹی کی سی چال چلتی روم کے باہر پہنچی…..
یوشع اندر بیٹھا عروج کی ساری کاروائ دیکھ رہا تھا”
نوک کرنے کیلۓ ابھی ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ نوک کرنے سے پہلے اندر آجانے کا حکم دیا….
آجاؤ….
وہ ڈور دھکیل کر اندر داخل ہوئ’ اسی چیونٹی کی سی چال چلتی یوشع کے سامنے آ کھڑی ہوئ….
جی سر آپ نے بلایا….
نظریں جھکاۓ کہا…. وہ کھڑی دونوں ہاتھوں کی انگلیاں مروڑ رہی تھی’ نظریں اٹھانے کی ہمت نہیں ہورہی تھی’ کام تو کردیا تھا’ مگر اب ڈر لگ رہا تھا’ کہ کہیں سر تھپڑ ہی نہ مار دے’ ایمن کی بات سچ ہی نہ ہوجاۓ…..
کافی دیر یوشع اسے یوہی دیکھتا رہا’ پھر کارڈ ہاتھ میں اٹھایا…..’
کیا ہے یہ سب مس عروج…..
عروج نے نگاہ اٹھا کر یوشع کو دیکھا اور واپس نظریں جھکالی….
تو کب سے پسند کرتی ہے آپ مجھے…؟؟؟
عروج نے ایک بار پھر نگاہ اٹھائ اور بولی تو پورے اعتماد کے ساتھ…’
سر آئ تھینک’ میں نے اپنے دل کی ساری بات اس کارڈ میں لکھ دی ہے’ آپ اس کارڈ کو ریڈ کرلے….
اب کی بار آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا گیا….
وہ ہنوز ویسے ہی ٹیک لگاۓ بیٹھا رہا….
پڑھ لیا ہے’ تو اب کتنا ہی اچھا ہو جو سب اس کارڈ میں لکھا ہے’ وہ منہ سے بھی اظہار کردیا جاۓ…..
تو اب شروع کرو’ سب کہنا’ جو پوچھو گا’ سیدھا سیدھا جواب دوں گی….’
مجھ سے محبت کب ہوئ…؟؟؟
جب آپ کو ایک سال پہلے اس آفس میں دیکھا تھا….. دیکھتے ہی آپ کو اپنا دل دے بیٹھی….
مجھ سے شادی کرکے کیا ملے گا’ یہ جانتے ہوۓ بھی کہ ایک چار سال کا بیٹا بھی ہے میرا’ پھر بھی شادی کرنا چاہتی ہو….
جانتی ہو آپکا بیٹا ہے’ میں پھر بھی تیار ہو’ میں ہادی کو ماں کا پیار دوں گی’ سگی ماؤں سے بڑھ کر پیار کروں گی ہادی کو’ آپ کو بھی خوش رکھو گی…..
“اور میں کیسے یقین کرلو کہ ہادی کے ساتھ کبھی غیروں والا سلوک نہیں کیا جاۓ گا….؟؟؟
آپ شادی کرے’ عمل کرکے دکھانا میرا کام ہے….
“مجھ سے محبت ہے یا میری دولت سے”
یہ وہ سوال تھا’ جس پہ چند لمحوں کیلۓ خاموشی چھاگئ تھی….
آپ سے…
تو جواب دینے میں اتنی دیر کیوں لگائ….
وہ سیدھا ہوکر بیٹھا’ کارڈ کو واپس میز پر رکھا’ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کی…..
جھوٹ’ تمھیں مجھ سے محبت نہیں ہے…..
عروج نے حیرانگی سے یوشع کو دیکھا ‘ اور پھر غصہ چڑھا’
آئ رئیلی لو یو….
اچھا’ مگر مجھے تمھاری آنکھوں میں کوئ محبت جیسا جذبہ نہیں دکھا…..’
بےاختیار نظریں جھکائ گئ….
کیا ہوا؟؟ اب کیوں نظریں جھکارہی ہو….؟؟؟
وہ اپنی جگہہ سے اٹھا’ قدم قدم چلتا عروج کے قریب آیا’
عروج نے نگاہ اٹھا کر یوشع کی آنکھوں میں دیکھا…’
تم بہت اچھی ہو’ ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہو’ خوبصورت ہو’ ینگ ہو’ کسی چیز کی کمی نہیں ہے تم میں….
تمھیں مجھ سے بھی زیادہ اچھا انسان ڈیزرو کرتا ہے’ کسی ایسے سے شادی کرو جس سے واقعی تمھیں محبت ہو’
مجھ سے تمھیں محبت نہیں ہے’ تو شادی کرنے کی کیا ریزن لو میں’ ہینڈسم ہو اس وجہ سے شادی کرنی ہے یا میری دولت کی وجہ سے…..
اور اگر ان دونوں میں سے کوئ ایک بھی ریزن ہے نہ تو یقین کرو کبھی خوش نہیں رہ پاؤں گی زندگی میں..’
اور پتا ہے وہ کیسے…؟؟؟
فرض کرو اگر میں تم سے شادی کرلیتا ہو اور کل کو خدانخواستہ اگر میرا ایکسیڈینٹ ہوجاتا ہے’ میرا فیس خراب ہوجاتا ہے’ میری خوبصورتی آج کی طرح نہ رہی تو کیا ہوگا’ تمھارا مجھ سے دل بھر جاۓ گا’ تمھیں کوئ خوبصورت چاہیے ہوگا’ اگر کوئ مل جاۓ گا تو ڈائیورس’
کیونکہ انسان کی خوبصورتی ساری زندگی تو ایک جیسی نہیں رہتی’ ایک نہ ایک دن وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوتی ہے’ ساری زندگی تو انسان ایک جیسا نہیں رہتا….
اینڈ سیکنڈ ریزن ویلتھ…..’
یہ ویلتھ بھی آنی جانی چیز ہے’ آج نہیں ہے کل ہوگی’ آج ہے تو کل نہیں ہوگی….
آج میرے پاس سب کچھ ہے’ اگر کل کو مجھے بزنس میں لوژ ہوجاتا ہے’ میرا سارا بزنس ڈوب جاتا ہے’ یہ دولت میرے پاس نہ رہی تو کیا کرو گی…؟؟ پھر وہی لڑائ اور اینڈ میں تنگ آکر ڈائیورس….
بتاؤ رہو گی خوش’ کبھی نہیں…
اس لۓ اگر کسی سے شادی کرو تو ان دونوں ریزن کو سائڈ میں رکھ کر شادی کرنا’ ہمیشہ خوش رہو گی’ اینڈ ٹھینکس میرے بیٹے کےبارے میں اتنا سوچنے کیلۓ…’
خوش رہو’ اب جاکہ کام کرو’ اللّه نصیب اچھے کرے…..
______________________
کون ہے وہ؟؟؟ جس سے آپ عشق کرتے ہیں….
وہ جو مڑنے لگا تھا’ چونک کر اسے دیکھا…
میں نے پوچھا کون ہے وہ جس سے آپ عشق کرتے ہیں…؟؟
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا…’
کوئ نہیں ہے…. یوشع نے نظریں چرائ…
اب آپ کیوں نظریں چرارہے ہیں..؟؟؟
جاکہ اپنا کام کرو…’ نہ غصہ تھا’ نہ ہی نرمی….
آپ کی آنکھیں خالی ہے’ تنہائ’ ویرانی ہے آپکی آنکھوں میں اور آپ کی آنکھیں دیکھ کر بس ایک ہی چیز پتا لگائ جاتی ہے کہ عشق میں ہارے ہوۓ انسان ہیں آپ……’
بتادے نہ سر اب کون ہے وہ خوش نصیب جس سے آپ نے عشق کیا…؟؟؟ کہاں رہتی ہے وہ؟؟؟ یا پھر کہیں وہ…؟؟؟
عرج نے جملہ ادھورا چھوڑا….’
زندہ ہے مگر کہاں ہے معلوم نہیں’ کس حال میں ہے نہیں معلوم….
دونوں ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں تھے….
اووو بےوفائ کرگئ ہے….
عروج کو جہاں تک سمجھ آئ’ اس نے کہہ دیا…..’
نہیں’ اسے بے وفا مت بولو’ اس نے غصے سے تڑپ کر کہا….
وہ بےوفا نہیں ہے’ اس نے بےوفائ نہیں کی’ بے وفا تو میں ہو’ بےوفائ میں نے کی ہے…..”
عروج نے اثبات میں سر ہلایا’
مگر کیوں؟؟؟
یہ سب جاننا تمھارے لۓ ضروری نہیں ہے…..
“کہاں تک سناؤں’ کہاں تک سنو گی……
تڑپ جاؤں گی جہاں تک سنو گی…..”
آپ سے ایک بات پوچھو؟؟؟
ہممم’ پوچھو’
آپ شادی کیوں نہیں کرنا چاہتے…؟؟؟ شادی بھی مرد کی ایک ضرورت ہوتی ہے’ کیا آپ کو ضرورت محسوس نہیں ہوتی..؟؟ کیا آپ نہیں چاہتے کہ آپ کی بھی بیوی ہو؟؟؟ ہادی کو پیار کرنے والی ماں ہو..؟؟؟
مجھے ایسی کوئ ضرورت محسوس نہیں ہوتی اور ہادی کو پیار کرنے کیلۓ اس کے اپنے بہت ہے…. آپ ایک بار شادی کرلے’ دیکھنا آپ کی یہ اداسی سب ختم ہوجاۓ گی…..’
یوشع نے نفی میں سر ہلایا…’
میری اداسی کبھی ختم نہیں ہوگی’ بلکہ آنے والی کی بھی زندگی خراب ہوجاۓ گی’ اسے عزت تو ملے گی’ مگر پیار میں اسے شاید کبھی نہ دے سکو’ وہ میرے دل میں کبھی نہیں آسکے گی’ اس دل میں صرف میرا عشق پلتا ہے…..’
دل پہ انگلی رکھ کر کہا….
میں ہر جزبے سے خالی ہوگیا ہو’ ہر احساس سے عاری…..
میں اوپر سے تو دیکھتا ہو مگر اندر سے مرگیا ہو’ میں ایسے ہی رہو گا’ اس لۓ میں نہیں چاہتا کہ میں شادی کرکے آنے والی کی بھی زندگی خراب کردو’ اس کی زندگی خراب ہو…’
عروج یک ٹک اس کا چہرہ دیکھتی رہی….
بنا کچھ کہے واپس جانے کیلۓ مڑگئ’ وہ وہیں نظریں جھکاۓ کھڑا رہا’
عروج دروازے تک رکی’ بنا مڑے کہا’
“میں دعا کرں گی آپ کو آپ کا عشق مل جاۓ’ اس سے آپ کی ملاقات ہوجاۓ’ اور اس کے ملنے کے بعد آپ کا ہر جذبہ’ ہر احساس پھر سے بیدار ہوجاۓ’ آپ پہلے کی طرح بن جاؤ….”
وہ دروازے سے باہر نکل گئ….
یوشع اسی دروازے کو کھڑا تکتا رہا ناجانے کتنی ہی دیر اور پھر نفی میں سر ہلایا….
اسے آنا ہوتا تو کب کی آجاتی ‘ وہ اب کبھی نہیں آۓ گی…. جانے والے بھی کبھی واپس آۓ ہیں کیا….. خود سے کہا’ واپس اپنی چیئر پر بیٹھ کر اپنے کام میں بزی ہوگیا…….
______________________
مگر اب یوشع واقعی نہیں جانتا تھا کہ اس کی زندگی آگے کس طرح چینج ہونے والی ہے’ کسی کی دعا یوشع کی زندگی میں کیا رنگ لے کر آنے والی ہے؟؟ وہ اپنے مستقبل سے بے خبر اپنے کام میں بزی تھا…..
********
اس وقت’ اسی شہر میں’ اس آفس سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر دوسرے آفس “شاہ کمپنی” میں…’
وہ اپنے سر کے سامنے کھڑی تھی…..
جی سر نے آپ نے بلایا ہے…..’
ہاں المیرا یہ فائل ریڈ کرلوں…..
اوکے سر میں کرلوں گی……
المیرا نے فائل ہاتھ میں پکڑی…..’
اور کل کی میٹنگ کی بھی تیاری کرلینا’ یاد ہے نہ کل پروجیکٹ فائنل کرنا ہے’ تو کل تیار رہنا’ ٹائم سے چلنا ہے…’
سر آپ کسی اور کو لے جاۓ…..
سٹوپ اٹ المیرا’ صبح سے ایک ہی رٹ لگا رکھی ہے’ میں نے نہیں جانا’ کسی اور کو لے جاۓ’ مجھے یہ بتاۓ سیکرٹری آپ ہے یا کوئ اور’
جی سر میں….
شرمندہ سا نظریں جھکا کر کہا….
تو میں اب دوبارہ نا نہ سنو آپ سے’ سیکرٹری آپ ہے تو آپ ہی جاۓ گی’ اس فائل کو ریڈ کرلے’ کل ہم چلیں گے’ “ناؤ یو کین گو”
شاہ صاحب غصے سے کہتے اپنی چیئر گھسیٹ کر بیٹھے…..’
اس نے ایک نظر اپنے سر کو دیکھا’
وہ ایک ادھیڑ عمر کے مرد تھے’ جو پینٹ کوٹ میں ملبوس’ سانولی رنگت کے’ ایک پرکشش مرد تھے…..
جی سر’ المیرا بھی روم سے باہر آئ’ اپنے کیبن کی طرف جارہی تھی جب جہان نے راستہ روکا…..’
کیا ہوا المیرا جی’ آپ کچھ پریشان لگ رہی ہے…..
کل سر کے ساتھ ایک میٹنگ میں جانا ہے….
اچھا وہ یوسفزئ کمپنی’ جس کے ساتھ پروجیکٹ فائنل کرنا ہے….’
جی وہی….
تو آپ نہیں جانا چاہتی کیا….؟؟؟
المیرا نے حیرانگی سے دیکھا….
آپ کو کیسے پتا چلا….
آپ کے چہرے سے…..
آپ کیوں نہیں جانا چاہتی؟؟؟؟
(اب المیرا اسے کیسے بتاتی اپنے نہ جانے کی وجہ’ اسے وہاں جانے سے پروبلم نہیں تھی’ اس نام سے تھی جو اس کمپنی کا نام ہے’ وہ دعا کررہی تھی کی کاش یہ کمپنی اس کی نہ ہو)
کیا ہوا’ کیا سوچنے لگ گئ ہے…؟؟
کچھ نہیں’ بس یہی کہ چلی جاتی ہو….
المیرا نے جھوٹ بولا’
مگر آپ جانا کیوں نہیں چاہتی…؟؟؟
نہیں کچھ نہیں’ میں ذرا یہ فائل ریڈ کرلوں’ وہ کہتی آگے بڑھ گئ….
جہان بھی پھر اپنے کام میں بزی ہوگیا…..
*********
