Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 44

اور پھر اس سے اگلے دن ہی علی ماہی کو گھر لے گیا تھا…. تین مہینے دس دن بعد وہ اپنے گھر گئ تھی…. سب گھر والوں کے بےجا اصرار پر وہ دو دن کیلۓ وہاں رک گئ…. وہاں وہ سب سے مل کر خوش تھی…. مگر ذہن اس کا بس یوشع میں ہی اٹکا ہوا تھاکہ وہ کیا کررہے ہونگے؟؟ کہاں ہونگے؟؟ کیسے ہونگے؟؟؟ اور اب اس نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہوجاۓ وہ اب یوشع کے آس پاس ہی رہے گی پھر چاہے اسے یوشع کی کتنی ہی نفرت کیوں نہ برداشت کرنی پڑے’ وہ چاہے اسے جتنا مرضی دھتکارے مگر اب وہ اسے اپنے ہونے کا احساس دلا کر ہی رہے گی….. وہ یوشع کی نفرت کو محبت میں بدل کر ہی رہے گی’ اسے اس بات کا احساس دلاۓ گی کہ وہ بھی ایک انسان ہے….. وہ بھی ایک چھوٹا سا دل رکھتی ہے….. اس کی بھی فیلنگز ہے…. وہ اس کے ساتھ ایسا نہیں کرسکتا……
ہاں یوشع کواحساس ہوگا ضرور ہوگا…..” اس نے خود سے کہا تھا….
یاں شاید اس نے خود کو جھوٹی تسلی دی تھی کہ یوشع کو احساس ہوگا یا کیا واقعی یوشع کو احساس ہوجاۓ گا کہ وہ جو کررہا ہے غلط کررہا ہے یا نہیں؟؟؟
دو دن وہاں گزارنے کے بعد وہ واپس گھر آگئ تھی…..*

یوشع ڈائینگ ٹیبل پر ہاتھ میں کانچ کا گلاس پکڑے بیٹھا تھا…..
کہاں المیرا خان کی باڈی فزکس اور کہاں ماہین عمران…..” اس نے غصے سے گلاس پر گرفت سخت کی تھی….. آنکھیں لال اور غصے سے دماغ کی رگیں ابھری ہوئ تھی…..
بھئ تمھاری جگہہ میں ہوتا تو خوب مزے…..” گلاس پر گرفت مزید سخت ہوتی چلی گئ….. گلاس کریک ہونا سٹارٹ ہوگیا تھا….
ماہین عمران میری بیوی ہے…..” ایک بار پھر غصے سے گرفت سخت ہوئ…… گلاس ٹوٹ کر چکنا چور ہوگیا تھا….. یوشع نے سختی سے آنکھیں میچی…..
یوشع یہ یہ کیا کرلیا تم نے؟؟؟پاگل پوگۓ تھے کیا؟؟؟ ماہین نے غصے سے یوشع کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ کہا……
اے دور ہٹو….” یوشع چیئر سے اٹھ کھڑا ہوا….
یوشع میں نے کہا ہاتھ دیکھاؤ…..”
ایک بار کی سمجھ نہیں آتی کیا’ دماغ نہیں ہے’ میں نے کہا دور ہٹو….” یوشع نے ایک بار پھر اس کو خود سے دور دھکیل دیا تھا….
بابا بابا…..” ماہی نے آواز لگائ….
یوسف صاحب بھی آواز سن کر روم سے باہر آۓ…… یوشع کے خون آلود ہاتھ کو دیکھا… جسے ماہی بار بار پکڑنے کی کوشش کرتی تو یوشع ہاتھ پیچھے کرلیتا…..
یوشع یہ کیا کیا تم نے’ عقل نام کی کوئ چیز ہے یا نہیں’ کس بات کا غصہ آرہا ہے تمھین اتنا جو تم یہ سب کرتے پھررہے ہو….” انہوں نے اسے ڈانٹا تھا….
ڈیڈ کچھ نہیں ہوا میں ٹھیک ہو……”
شٹ اپ ہاتھ دیکھاؤ ادھر’ ماہی جاکے فرسٹ ایڈ لےکر آؤ…..”
جی بابا….” وہ وہاں سے چلی گئ اور کچھ دیر بعد فرسٹ ایڈ لے آئ تھی…..
یوسف صاحب نے خود اس کے بینڈیج کی اور اس سارے عمل میں نہ ہی اس نے اففف کی اور نہ ہی کچھ بولا بس چپ چاپ بینڈیج کرواتا رہا…..”
بینڈیج سے فری ہونے کے بعد یوسف صاحب چئیر سے اٹھ کھڑے ہوۓ….. جاتے جاتے یوشع کو حکم دینا نہیں بھولے تھے…..
میرے روم میں آؤ’ بات کرنی ہے تم سے…..”
اور وہ بھی چپ چاپ اٹھ کر ان کے پیچھے چل دیا….
جی بابا….”
کب تک چلے گا ایسا آج تم بتاہی دو…..”
آپ کس بارے میں بات کررہے ہیں؟؟؟”
تم اچھی طرح جانتے ہو میں کس بارے میں بات کررہا ہو یوشع….” یوشع نظریں جھکاۓ خاموش کھڑا رہا…..
اپنی حالت دیکھی ہے تم نے…..” وہ اب بھی چپ رہا….. چند پل کی خاموشی کے بعد وہ پھر گویا ہوۓ…..
کیوں کررہے ہو تم ماہی کے ساتھ ایسا برتاؤ؟؟؟”
کیونکہ وہ یہ سب ڈیزرو کرتی ہے…..” دوبدو جواب دیا گیا…..
تم اتنے بےحس تو کبھی نہیں تھے یوشع’ تو اب کیوں بن رہے ہو؟؟؟؟”
پتا نہیں اب ہر حساس مرچکا ہے……”
ساڑھے تین مہینے ہوگۓ ہیں تم دونوں کے نکاح کو اور جب سے لے کر اب تک تم نے ماہی کو روم سے نکال رکھا ہے’ کب تک چلے گا ایسا؟؟ کب تک اس کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتے رہو گے’ اگر یہی سب کرنا تھا تو نکاح ہی کیوں کیا تھا؟؟ منع کردیتے بچے تو نہیں تھے تم’ تمھارے پاس جواب تھا یا نہیں…..”
اس وقت میں مجبور تھا’ مجھ پر الزام لگاۓ گۓ تھے’ حقیقت سے ناواقف تھا’ چپ چاپ نکاح کرنے کی یہی وجہ تھی کہ ایک بار سچ سامنے آنے کے بعد میں اسے ڈائیورس دے دوں گا……”
تو اب کیا ہے؟ دے دو اسے ڈائیورس’ حقیقت تو یہی ہے نہ کہ اس رات تم دونوں کے درمیان کچھ نہیں ہوا تھا……”
ہاں یہی سچ ہے مگر یہ بات آپ جانتے ہیں’ میں جانتا ہو’ ماہی جانتی ہے’ باقی تو کوئ نہیں جانتا نہ بابا اگر کسی نے یقین کرنا ہوتا تو اسی دن بھی کرسکتے تھے’ سب اس رپورٹ پر اور ماہی کی باتوں پر یقین کرتے ہیں’ اور یہ بات آپ اور میں ہم دونوں ہی اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ رپورٹس جھوٹی ہے جبکہ وہ رپورٹس مجھے گنہگار ثابت کرتی ہے’ تو کیسے میں اسے ڈائیورس دے دو بابا اور اب آپ یہ بات ذہن سے نکال دے کے میں ماہی کو کبھی ڈائیورس دوں گا’ وہ ساری زندگی اسی گھر میں میرے نکاح میں رہے گی مگر کبھی اپناؤ گا نہیں اور ایک دن اسی گھر میں پڑے پڑے مرجائیں گی….”
یوشع زبان سنبھال کے بات کرو بیٹی ہے وہ میری’ اور کیسے کہہ سکتے ہو کہ وہ رپورٹس جھوٹی ہے’ وہ رپورٹس سچ بھی تو ہوسکتی ہے’ اس کے اوپر لکھا ہوا ایک ایک لفظ سچ بھی تو ہوسکتا ہے’ کیا پتا تم واقعی گنہگار ہوں؟؟؟”
بابا ایک تو سب ہی آپکی بیٹیاں ہوتی ہے’ میری بلا سے کل کی مرتی آج مرجاۓ’ جان چھوٹے گی میری’ اور وہ رپورٹس جھوٹی ہے…..” یوشع کے چہرے پر ایک اطمینان تھا…..
تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو؟؟”
یوشع یوسفزئ ہو بابا’ ہاتھ پہ ہاتھ دھر کر بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہو’ گیا تھا میں اسی ہوسپٹل میں واپس وہاں ڈاکٹر سے ملا تھا’ انہیں تو کچھ معلوم نہیں تھا پھر اس نرس کے پاس گیا تھا جس نے رپورٹ لاکر دی تھی ڈاکٹر کو’ زیادہ کچھ نہیں بابا بس تھوڑا بہت ڈرایا تھا اور وہ ڈر بھی گئ تھی’ اگلے پانچ منٹ میں اس نے سارا سچ اگل دیا تھا کہ اس نے رپورٹ میں ماہی کے کہنے پر ردوبدل کروایا تھا’ ماہی نے اسے چند پیسے دے کر خرید لیا تھا….”
جب حقیقت تمھارے سامنے آہی گئ تھی تو اس نرس کو سب کے سامنے کیوں نہیں لاۓ….”
خود نہیں لایا بابا’ اس نے مجھ پر گھٹیا الزام لگاۓ تھے’ سب کی نظروں میں میرا مقام گرایا تھا’ صرف اسلۓ نہ کہ وہ مجھے حاصل کرسکے’ تو ٹھیک ہے بابا میرا مقام دوسروں کی نظروں میں گر تو چکا ہی ہے کوئ بات نہیں برداشت کرلوں گا’ مگر ماہی کی اس سے زیادہ اچھی سزا کوئ اور نہیں ہوگی ساری زندگی میرے نکاح میں رہے گی مگر میری محبت میری ایک نظر کیلۓ ساری زندگی تڑپتی رہ جاۓ گی’ مگر کبھی مجھے حاصل نہیں کرپاۓ گی’ کبھی اسے نہیں اپناؤ گا’ اس لۓ بابا وہ کل کی مرتی آج مرجاۓ جان چھوٹے گی میری…..”
یوشع…….” اور پھر یوسف صاحب کا ہاتھ اٹھتے اٹھتے رہ گیا تھا…. یوشع نے سر جھکالیا…..
بہت ہوگیا یوشع اب اگر تم نے فالتو کی بکواس کی تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا’ بہت برداشت کرلیا تمھیں اور تمھاری ان حرکتوں کو’ صرف دس سے پندرہ دن ہے تمھارے پاس یوشع اچھی طرح سے سوچ لینا یا تو ماہی کو اپنی بیوی تسلیم کرو گے’ اسکے ساتھ ایک خوشحال زندگی گزارو گے یا پھر اسے ڈائیورس دوں گے اور اسکے بعد میں خود تم سے بھی زیادہ اچھا لڑکا دیکھ کر ایک اچھے گھرانے میں اس کی شادی کرو گا’ جو اسکی عزت تو کرے گا……”
اگر اس نے کہی اور شادی کرنی ہی ہوتی نہ بابا تو وہ یہ گھٹیا سا کھیل نہ کھیلتی……”
مجھے مزید کچھ نہیں سننا یوشع……”
اوکے…..” وہ پلٹ کر واپس جانے لگا…. دروازے کے پاس رکا…..
بابا آپ اچھی طرح جانتے ہیں یہ دونوں کام ہی میرے بس میں نہیں ہے’ نہ ہی میں اسے اپنا سکتا ہو اور نہ ہی اسے چھوڑ سکتا’ آپ کو بس اپنی بیٹی کی تکلیف نظر آرہی ہے اور میرا کیا بابا’ وہ ایک لڑکی تھی جس کو میں نے چاہا تھا’ وہ پہلی لڑکی تھی جس نے میرے دل میں جگہہ بنائ تھی’ وہ لڑکی تھی بابا جسکی روح سے میں نے عشق کیا تھا’ مجھے اس کی نظروں میں گرادیا گیا بابا’ وہ بھی مجھے گنہگار سمجھ کر چھوڑ کر چلی گئ’ میرے دل پر کیا گزرتی ہوگی کبھی سوچا ہے بابا’ اور آپ جانتے ہیں ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟؟ آپکی وہ بیٹی جسکے لۓ آج آپ مجھ سےلڑرہے ہیں…..”
میں تم دونوں کا بھلا چاہتا ہو’ میں دو زندگیاں برباد ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتا…..” اب کی بار انہوں نے قدرے نرمی سے کہا تھا کیونکہ انہوں نے یوشع کی آواز میں نمی محسوس کی تھی…..
اور یہ دونوں کام میرے اختیار میں نہیں ہے بابا سوری…..” وہ دروازے سے باہر نکلنے لگا تھا…..
رکو یوشع ابھی بات ختم نہیں ہوئ ہے….” وہ رک گیا…. مگر پلٹا نہیں…..
سب کچھ جانتے ہوۓ بھی المیرا کو سچ کیوں نہیں بتارہے؟؟ اسے بتاؤ اور لے آؤ اس گھر میں’ دے دو ماہی کو ڈائیورس’ گزارو المیرا کے ساتھ ایک خوشحال زندگی……”
وہ المیرا خان ہے وہ باتوں سے زیادہ ثبوتوں پر یقین کرتی ہے’ اور حد سے زیادہ ڈھیٹ بھی ہے’ وہ اتنی آسانی سے واپس نہیں آۓ گی’ جب تک ماہی خود اسے حقیقت نہیں بتادے گی وہ کسی پر یقین نہیں کرے گی’ اس کو بھی میں ایک نہ ایک دن واپس لے آؤ گا…..”
اگر المیرا ثبوتوں پر ہی یقین رکھتی ہے تو اس دن تمھاری بات سنے بغیر کیوں چلی گئ’ کیوں اس نے تم پر یقین نہیں کیا؟؟؟
کیونکہ اس وقت میں خاموش تھا’ ماہی اور آنٹی کے آنسو کسی کو بھی اپنی طرف مائل کرسکتے تھے’اور اس کے جانے کی وجہ ماہی پر یقین کرنا نہیں تھا بلکہ میرا ماہی کے ساتھ نکاح کرلینا تھا’ اس لۓ وہ کسی کی بھی مزید سنے بغیر میری اور ماہی کی زندگی سے دور چلی گئ……”
یوشع ماہی کو ڈائیورس دے دو…..”
نہیں بابا میں ماہی کو کبھی ڈائیورس نہیں دوں گا’ اس کی یہی سزا ہے’ اور وہ یہ سزا ساری زندگی کاٹے گی…..”
خطائیں تو خدا بھی معاف کردیتا ہے’تو کیا تم اسے معاف نہیں کرسکتے؟؟؟؟ وہ پلٹا…. باپ کی طرف دیکھا….
اللّه بھی انہیں معاف کرتا ہے بابا جو اپنی خطاؤں پر’ گناہوں پر شرمندہ ہو’ جو یہ وعدہ کرے کہ یارب آج کے بعد نہیں ہوگا معاف کردے’ مگر ماہی اس کو کیسے معاف کرسکتا ہو’ وہ تو اپنے کئے گۓ کام پر بالکل بھی شرمندہ نہیں ہے’ اس میں تو اب بھی وہی انأ ہے’ تو کیسے معاف کردو’ سوری بابا آپ جو کہے گے وہ کرو گا’میں نے آپ کو کبھی مایوس نہیں کیا’ مگر اب کی بار آپ جو چاہ رہے ہیں وہ میں نہیں کرسکتا سوری…..” وہ پلٹا اور پھر باہر نکل گیا….. یوسف صاحب کھڑے دروازے کو دیکھتے رہے…..
سب کچھ پتا لگالیا’ ہر ایک کو سمجھ لیا’ مگر ماہی کو سمجھنے میں غلطی کرگۓ تم یوشع’ اس میں تو انأ کب کی ختم ہوچکی ہے’ وہ تو اب تمھارے رنگ میں ڈھلنا چاہتی ہے’ کاش تم اسے بھی جلدی سمجھ جاؤ…..”

یہ لے علی….” زینب کافی کا مگ لے کر آئ تھی… علی کھڑکی سے باہر دیکھتا کسی گہری سوچ میں گم تھا…..
علی کہاں کھوۓ ہوۓ ہیں آپ’ یہ لے کافی…..”
ہنہ ہاں کیا کہاں؟؟؟
کن سوچو میں گم ہے آپ’ یہ لے کافی…..”
کچھ نہیں ماہی کے بارے میں سوچ رہا تھا…..” کافی کا مگ ہاتھ میں پکڑتے ہوۓ کہا…. وہ پلٹا اور کھڑکی کی منڈیر پر بیٹھ گیا…..
یار میں سوچ رہا ہو کہ یوشع سے کہو ماہی کو ڈائیورس دے دے’ اور المیرا کے ساتھ زندگی گزارنی ہے تو گزارلے…..”
اور آپکو لگتا ہے کہ یوشع ڈائیورس دے دے گا ماہی کو یا ماہی اس بات پر راضی ہوجاۓ گی…..”
کیوں نہیں ہوگی راضی’ راضی ہونا پڑے گا’ ویسے بھی تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ خوش نہیں ہے’ ساری زندگی ایک دوسرے کے ساتھ ناخوش رہنے سے بہتر ہے علیحدگی ہوجاۓ…..”
کہہ تو آپ سہی رہے ہیں’ ماہی خوش رہنے کی کوشش کرتی ہے’ مگر وہ خوش نہیں ہے’ جب وہ یہاں تھی جب بھی یہی حال تھا’ پتا نہیں کن خیالوں میں کھوئ رہتی تھی’ پوچھو تو پھر بتاتی بھی نہیں تھی…..”
نہ میں ماہی کو اسطرح دیکھ سکتا ہوں اور نہ ہی یوشع کو’ دونوں ہی مجھے جان سے زیادہ عزیز ہے’ اور میں دونوں کی ہی زندگی یوں برباد ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتا’ اس لۓ دونوں کی بھلائ اسی میں ہے کہ دونوں علیحدہ ہوجاۓ……”
بات تو ٹھیک ہے مگر مجھے نہیں لگتا کہ ماہی کبھی آپکی بات سے اتفاق کرے گی’ وہ یوشع سے محبت کرتی ہے’ وہ یوشع کو کبھی نہیں چھوڑے گی…..”
ہممم دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟؟؟ تمھاری طبیعت ٹھیک ہے…..” علی نے اسے کمر سے پکڑتا خود کے قریب کیا….
آپ کے سامنے ہو فٹ فاٹ…..”
وہ ہلکا سا مسکرایا…… وہ بھی مسکرائ……

جاری ہے_