Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 08

Visal-e-Javedan وصال جاوداں

کیفے ٹیریا میں دو نفوس آمنے سامبے نظریں جھکاۓ ایک تنہا گوشے میں بیٹھے تھے….. کیفے میں چلتا مدھم میوزک اور لائٹس نے ماحول پہ خوب اچھا اثر کیا تھا….. اس سائڈ لوگوں کا رش کم تھا…. دونوں ہی اس کشمکش میں تھے کہ کہاں سے سٹارٹ کرے’ کیا بات کرے…..

آخرکار اس خاموشی کو جہان کی آواز نے توڑا تھا…..

کیا سوچا آپ نے المیرا جی…..

“جہان کی شروع سے عادت تھی وہ المیرا کو المیرا جی کہ کر مخاطب کرتا تھا”

کس بارے میں….

“المیرا کو معلوم تھا کہ جہان کس بارے میں بات کررہا ہے مگر پھر انجان بنتے پوچھا….”

آپ کو معلوم ہے’ میں کس بارے میں بات کررہا ہو…..

“بہت ہی نرم مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا…..”

میں چاہتا ہو اب آپ جواب دے دیں’ جہان نے بات کو جاری رکھتے ہوۓ کہا….

میری ماما چاہتی ہے’ میں اب شادی کرلو’ وہ پچھلے دو سالوں سے میرے پیچھے پڑی ہوئ ہے کہ ‘شادی کرلو’ میں صرف آپ کے جواب کا منتظر ہو…” ماما چاہتی ہے کہ صفیہ (جہان کی سب سے چھوٹی بہن) کے ساتھ وہ بیٹے کا بھی فرض ادا کردے…. جہان نے بات ختم کی….. اپنی اس دشمن جاں کو دیکھا جو پچھلے چار سالوں سے جہان کے دل پہ حکومت کررہی ہے’

اگر میں انکار کردوں….”

جہان کے چہرے پر مسکراہٹ ویسی ہی تھی…..

المیرا کو دیکھ کر کہا” مجھے امید ہے میرا رب مجھے مایوس نہیں کرے گا”

میری طرف سے ہاں ہے”

اس نے نظریں جھکا کر ایسے کہا جیسے کسی جرم کا اعتراف کیا ہو…..

“اور صرف ان پانچ الفاظ نے جہان کو دنیا بھر کی ڈھیروں خوشیاں دے دی تھی…..”

آپ سچ کہہ رہی ہے المیرا جی…

آگے کو ہوکر بےچینی سے پوچھا…..

المیرا نے جھکی نظریں اٹھا کر جہان کو دیکھا….. جس کے چہرے سے ہی خوشی عیاں ہورہی تھی…..

ہاں’

بس ایک لفظی جواب….”

ٹھینک یو سو مچ المیرا جی…. مطلب مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا’ آئ کانٹ بلیو اٹ….

آپ نے ہاں کہہ دیا…. میں جتنا شکر ادا کرو’ شاید اتنا کم ہوں…. اس رب نے مجھے مایوس نہیں ہونے دیا….

____________________

” اور جب امیدیں اللّه سے جوڑ لی جاۓ تو وہ آپکی امیدوں کو ٹوٹنے نہیں دیتا”

المیرا تو یک ٹک بس جہان کو ہی دیکھنے میں مصروف تھی’ اسے معلوم نہیں تھا کہ ایک ‘ہاں’ میں جواب کسی کو اتنی خوشی دے دیں گا…. اسے اب افسوس ہورہا تھا کہ اس نے شاید جواب دینے میں دیر کردی…..

جہان نے پاکٹ سے ایک باکس نکالا….

اور اسے کھول کر المیرا کے سامنے کیا….. جس میں ایک خوبصورت سی گولڈ رنگ تھی…. میں اس رنگ کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا ہو’ بس یہی سوچ کر کہ نا جانے کب اسکی ضرورت پڑجاۓ’ کبھی کہیں کسی موڑ پر آپ نے ہاں میں جواب دے دیا’ اور میرے پاس یہ رنگ نہ ہوئ تو کیا کرو گا…..

وہ رنگ کو دیکھتے ہوۓ کہہ رہا تھا…. اور المیرا اسکو دیکھنے میں بزی تھی….

المیرا جی میں اپنے نام کی رنگ آپکو پہنانا چاہتا ہو….. پلیز اس تحفے کو قبول کرلے……

پلیز منع مت کرنا….

المیرا کو لب کھولتے دیکھ اس نے کہا…..

میں چاہتا ہو آپ ہمیشہ یہ رنگ پہن کر رکھے…. تاکہ اس رنگ کو دیکھ کر مجھے یہ احساس رہے کہ اب آپ صرف میری ہے…. آپ اس رشتے سے خوش ہے….

جہان نے اس مخملی ڈبی میں سے رنگ نکال کر المیرا کی طرف بڑھائ….

المیرا نے ہچکچاتے ہوۓ اپنا ہاتھ آگے کیا…. اور آج جہان نے بھی اپنی محبت’ اپنے نام کی رنگ المیرا کی مخروطی انگلی میں پہنادی….

رنگ ہارٹ شیپ کی بنی ہوئ تھی’ جس کے سائڈ میں وائٹ موتی جگمگارہے تھے’ ہارٹ کے بیچ میں ایک ریڈ کلر کا ڈائمنڈ’ اور اسکے نیچے ‘جے’ لکھا تھا…’

اب مجھے چلنا چاہیے… کافی ٹائم ہوگیا ہے…..

“کونکہ المیرا سے اب یہاں بیٹھنا دوبھر ہورہا تھا…. وہ اپنے آنسوؤں کو باہر آنے سے روک رہی تھی….. کوئ نہیں جان سکتا تھا کہ اس وقت المیرا کے دل پہ کیا گزرہی ہے…. اس نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کسی دوسرے انسان کو اپنی لائف میں شامل کرنا پڑے گا….”

اوکے میں آپ کو ڈراپ کردیتا ہو….

نہیں ٹھینک یو… میں چلی جاؤ گی….

وہ کہتے ہوۓ اٹھ کھڑی ہوئ اور خداحافظ کرکے جہان کو بولنے کا موقع دیے بغیر کیفے سے باہر آگئ…..

مگر جہان اب بھی وہی بیٹھا رہا…..

________________

“اسے تو اب بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ المیرا نے ہاں کہہ دی ہے… اسے تو یہ سب ایک خواب سا گماں ہورہا تھا…. کہ ابھی آنکھ کھلےگی اور یہ خواب ٹوٹ جاۓ گا”

” اگر تو یہ خواب ہے تو میں چاہتا ہو یہ خواب کبھی ختم نہ ہو’ بس چلتا رہے”

مگر یہ کوئ خواب نہیں تھا…. حقیقت تھی….. اور حقیقت کو کون جھٹلا پایا ہے آج تک…؟؟

“مگر کون جانتا ہے نصیب کا کھیل…؟؟؟ جہان کو بھی معلوم نہیں تھا کہ آگے اسکی زندگی میں کیا ہونے والا ہے…. جہان کی زندگی میں المیرا کا ساتھ ہے بھی یا پھر اسکی زندگی بھر کی جدائ….”

وہ اپنے مستقبل سے بےخبر ابھی تھوڑی دیر پہلے ملی خوشیوں میں خوش تھا……

******

یوشع اپنے گارڈن میں ادھر سے أدھر ٹہل رہا تھا….. مگر اس کے اندر کی بےچینی کسی بھی طور پر کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی….اسے خود بھی سمجھ نہیں آرہا تھا…. کہ کیوں اتنی بےچینی ہورہی ہے مگر بار بار بس ایک چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آرہا تھا’ ہنستا’ مسکراتا”

یا اللّه وہ ٹھیک ہو…

اس کے دل سے دعا نکلی”

“کہاں ہو یار تم’ کیوں آج یہ دل تمھیں بس ایک بار دیکھنے کی خواہش کررہا ہے’ وہ بھی اتنے سالوں بعد” وہ دل میں خود سے مخاطب تھا…..

کیوں چھوڑ کر چلی گئ ہو مجھے” آج مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ “آج میں نے تمھیں واقعی کھودیا ہے” کیوں ہورہی ہے مجھے یہ بے چینی” کیوں؟؟

وہ آسمان کو تک رہا تھا’ جہاں ستارے جگمگ کررہے تھے” وہ رونا نہیں چاہتا تھا’ مگر آنکھیں بار بار آنسوؤں سے بھر رہی تھی…. وہ رو کر بےبس نہیں ہونا چاہتا تھا…..

بس تم ٹھیک ہو، جہاں بھی ہو’ خوش ہو”

اس نے خود کے پکارے جانے پر نظریں آسمان سے ہٹا کر سامنے کی طرف دیکھا’ جہاں سے میرو اسکو پکارتا ہوا آرہا تھا….. میرو یوشع کے قریب پہنچ گیا تھا’ یوشع نے اسے اپنی گود میں اٹھا کر اس کو خود میں بھینچا….. ہادی تو گھبرا ہی گیا تھا…..

بابا آپ ٹھیک ہے؟؟

ہاں’ ٹھیک ہو…..

میرو کو خود سے دور کیا….

بابا چلے’ بھوک لگ رہی ہے’ کھانا کھاتے ہیں….

“یہ بات یوشع کیلۓ واقعی خوشگوار تھی کہ آج میرو نے خود کھانے کا بولا ہے…. ورنہ ہادی کھانے کے معاملے میں بہت چور ہے’ یوشع کو زبردستی اسے کھلانا پڑتا تھا’ اور آج ہادی نے خود کھانے کا کہا ہے’ یوشع کے چہرے پر مسکراہٹ آئ تھی اور وہ اسے لے کر اندر کی طرف چل دیا…..

________________________

المیرا پورے راستے کس طرح خود پر ضبد باندھتے آئ تھی صرف وہی جانتی تھی….. وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی’ جب ایمان کی آواز سن کر رکنا پڑا” المیرا کو بالکل امید نہیں تھی کہ ایمان اس وقت گھر میں موجود ہوگی” اور المیرا ابھی اس سیچویشن میں نہیں تھی کہ کسی کا سامنا کرے”

وہ ایمان کو دیکھے بغیر آگے بڑھنے لگی تھی جب ایمان اس کے راستے میں حائل ہوگئ….

کہاں جارہی….. اس کا باقی کا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا جب ایمان کی نظر اس کے آنسوں بھری آنکھوں پر پڑی’

المیرا کیا ہوا ہے؟؟

تم رو کیوں رہی ہو..؟؟؟ کچھ ہوا ہے؟؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟؟؟

ایمان اس کو دیکھ کر پریشان ہوگئ تھی اور سارے سوال ایک ساتھ ہی کر دیے….

المیرا چپ رہی…..

ایمان نے اسے کندھوں سے تھاما اور اس کا چہرہ اوپر کیا’ جہاں آنسوں اب آنکھوں سے نکل کر رخساروں پر بہہ رہے تھے….

المیرا یار تم مجھے پریشان کررہی ہو؟؟ کچھ تو بولو’ تم تو جہان سے ملنے گئ تھی نہ’ پھر ایسا کیا ہوگیا’ جو تم ایسے رورہی ہو….

المیرا’ ایمان کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی… رونے کی وجہ سے اس سے کچھ بولا بھی نہیں جارہا تھا….

المیرا…..

ایمان نے بس اتنا کہا’ اور اس کی پیٹھ کو سہلانے لگی….. تھوڑی دیر بعد المیرا دور ہوئ تو ناک سرخ تھی….

کچھ نہیں’

بامشکل المیرا نے بس اتنا کہا….

اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ…. روم میں جاکر دروازہ لوک کرلیا….

ایمان بھی اس کے پیچھے گئ…. دروازے پر پہنچ کر ڈور نوک کرنے ہی لگی تھی کہ پھر رک گئ….

ایمان اس کو تنہائ دینا چاہ رہی تھی…. اس لۓ رک گئ تھی….

“جب تھوڑی بہت سنبھل جاۓ گی پھر پوچھ لو گی… خود سے کہتی وہ کچن کی طرف بڑھ گئ…. مگر دل میں اب بھی بےچینی تھی المیرا کو لے کر….”

**********

کھانا کھانے اور تھوڑی بہت باتیں کرنے کے بعد میرو سوگیا تھا….. مگر اب تک یوشع کی بےچینی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی…. اس نے ایک نظر اپنے سینے پہ سر رکھے سوتے اپنے بیٹے کو دیکھا’ جو گہری نیند میں تھا’ اس کا سر پلو پہ رکھنے ‘ بلینکٹ اچھی طرح ٹھیک کرنے کے بعد بیڈ سے اٹھا…..

سلیپر کو پیروں میں اڑسا اور وہ چلتا ہوا وارڈروب کے پاس آکے رک گیا…. وارڈروب کو کھولا اندر رکھے سیف کی طرف ہاتھ بڑھایا…. مگر سیف کھولے بغیر ہاتھ پیچھے کو کھینچ لیا….”

“مگر دل کی بڑھتی ہوئ بےچینی کو کیسے کم کرے”

آج کئ سالوں بعد اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے بالآخر سیف پہ پاسورڈ ڈالا” سیف کھولا…..

اند کی طرف ایک میڈیم سائز کا ایلبم موجود تھا’ اس نے ہاتھ بڑھاکر وہ ایلبم باہر نکالا اور اسے لے کر کمرے سے ملحقہ اسٹڈی روم کی طرف چل دیا……

__________________جاری ہے_____________