No Download Link
Rate this Novel
Episode 53
المیرا ہاتھ میں پکڑے اس لفافے میں ہی چہرہ چھپاۓ پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی….. علی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا…..
تم سے بہت گلہ ہے المیرا تمہارے اس بھائ کو کاش ایک بار تم اس کی سن لیتی’ دل تو تمہارا بھی راضی نہیں تھا کہ وہ کچھ کرسکتا ہے مگر پھر بھی تم اس کو چھوڑ آئ ایک ایسے انسان کو جس نے صرف تم سے محبت کی’ تم ایک ایسے انسان کو چھوڑ آئ جس نے تمھیں اس دنیا میں جینا سیکھایا’ تمھیں بہادر بنایا’ جس نے صرف اور صرف تمھیں چاہا تم پھر بھی اس کو تڑپتا ہوا چھوڑ آئ’ نہ اس دن ہم نے اس کی سنی اور نہ تم نے’ ایک پل میں ہم نے اس کو اکیلا کردیا تھا’ اب ہم تو ہے اس کے پاس مگر تم نہیں’ میں یہاں بس تمھیں سچائ سے آگاہ کرنے آیا تھا جو کہ کرچکا’ غلطی ساری ماہی کی تھی اور ہم سب نے یوشع کو غلط سمجھا’ اب چلتا ہو خیال رکھنا اپنا……” وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتا جانے کیلۓ اٹھ کھڑا ہوا مگر المیرا نے اب کی بار اسکی کلائ تھام لی تھی…..
چھوڑ دو المیرا ورنہ میں بھی اب خود پر قابو نہیں رکھ پاؤ گا……” المیرا نے گرفت اور سخت کی تھی….. وہ زمین سے اٹھ کھڑی ہوئ…… علی کے سینے سے لگی….. عرصے بعد وہ کسی اپنے کے سینے سے لگی تھی…..
مجھے معاف کردے بھائ’ معاف کردے……” علی نے بھی اس کے گرد اپنے بازؤ کا گھیرا کیا……
مجھے تم سے اب کوئ گلہ نہیں ہے’ معافی مانگنی ہے تو یوشع سے مانگو’ تم اس کی گنہگار ہو’ بس ناراض تھا تم سے کہ کراچی سے آنے کے بعد تم نے ایک بار بھی رابطہ نہیں کیا’ ایک بار بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ کون جی رہا ہے کون مررہا ہے’ اتنا پرایا کردیا تھا تم نے ہمیں ایک منٹ میں……”
میں بس یوشع کے نکاح کی وجہ سے واپس آئ تھی وہ نکاح کرچکے تھے’ ان پر میرا حق نہیں رہا تھا…..” المیرا نے گرفت سخت کی تھی….. علی نے اس کے بالوں پر اپنے لب رکھے…..
اچھا چلو بس کرو تمھاری بات بات پر رونے کی عادت اب تک گئ نہیں……” وہ ہلکا سا مسکرائ….. علی بھی مسکرایا….
میں آپ دونوں کیلۓ کچھ لے کر آتی ہو….”ایمان نے کہا وہ آنسو صاف کرتی روم سے نکل گئ…..
یہ کون ہے؟؟؟؟” علی نے پوچھا…..
ماموں کی بھتیجی ہے’ میں اس کے ساتھ یہاں رہتی ہو…….”
گھر آجانا اب تو المیرا میں خود تمھیں لینے آؤ گا جب تم چاہو’ اور جانتی ہو ہادی کو تم بہت یاد آتی ہو پتا نہیں کیا جادو کردیا ہے تم نے اس پر’ ہادی کی خاطر ہی آجانا…..” المیرا نے اثبات میں سر ہلایا…..
ہادی واقعی بہت کیوٹ ہے میں دو تین بار ملی ہو اس سے…..”
میرے دونوں بیٹے بھی بہت پیارے ہیں…..”
اور ان سب میں اگر المیرا کچھ بھول رہی تھی وہ تھی جہان کے ساتھ طے شدہ نسبت…. وہ بھول گئ تھی کہ وہ اس وقت کسی کی امانت ہے….. وہ بھول گئ تھی کہ اس نے کسی کے نام کی انگوٹھی اپنی انگلی میں پہن رکھی ہے…. وہ بھول گئ تھی کہ کوئ اس کے ساتھ زندگی کے خواب سجاۓ بیٹھا ہے’ جو اس کو یوشع کی طرح ہی بہت چاہتا ہے…….
رات المیرا کھڑکی کے پاس کھڑی چاند کی ہر طرف پھیلتی روشنی کو دیکھ رہی تھی…. جب ایمان بھی اس کے پاس آئ…..
کیا سوچ رہی ہو المیرا…..”
کچھ نہیں’ بس آج خوش ہو کتنے عرصے بعد کسی اپنے سے مل کر’ تمھیں پتا ہے وہ مجھے بہت عزیز ہے’ انہوں نے ہمیشہ ماہی کی طرح مجھے چاہا ہے…..”
پھر بھی تم سب کو چھوڑ آئ تھی المیرا’ بتایا تو تم نے بھی تھا یوشع بھائ کی محبت کے بارے میں مگر تمھارے جانے کے بعد وہ کیسے کیسے دکھوں سے گزرے ییں یقین جانو میں ان سب کو نہیں جانتی مگر مجھے لگ رہا تھا کہ یہ سب میری اپنی کہانی ہے……”
اگر مجھے تھوڑا بہت بھی اندازہ ہوتا تو میں کبھی ان سب سے اس طرح تمام رشتے ختم نہیں کرتی’ مجھے ماہی اور انکل کی ڈیتھ کا بہت دکھ ہے’ سمجھ نہیں آرہا یوشع کا سامنا کیسے کرو گی’ اس سے معافی کیسے مانگو گی’ بابا مجھے بہت عزیز تھے انہوں نے کبھی مجھے پرایا نہیں سمجھا بلکہ یوشع سے زیادہ مجھے عزیز رکھتے تھے’ میرے اپنے بابا نے مجھ سے کبھی محبت نہیں کی مگر یوشع کے بابا نے مجھے سگی بیٹیوں جیسی محبت عزت دی تھی’وہ مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے’ مجھے نہیں اندازہ تھا کہ وہ یوں اچانک چلے جائیں گے……” المیرا نے آنسو صاف کۓ….
مجھے سمجھ نہیں آرہی المیرا تمھاری قسمت پر رشک کرو یا تمھاری بدقسمتی پر افسوس تمھارے پاس تمھارے اتنے چاہنے والے تھے جو تم سے کتنی محبت کرتے ہیں’ پھر بھی تم سب کو چھوڑ آئ’ یوشع بھائ کو بھی تڑپتا ہوا چھوڑ آئ……”
اس وقت مجھے جو صحیح لگا میں نے وہ کیا تھا’ یوشع نکاح کرچکا تھا تو کیسے رکتی وہاں’ سگا رشتہ تو یوشع کا ہی تھا میرے لۓ جو اگلے دن میرا محرم بننے والا تھا مگر نصیب میں یہ سب ہونا لکھا تھا…..”
تو اب تم جاؤ گی یوشع بھائ کے گھر یا نہیں…..”
اسی ٹینشن میں تو ہو وہاں جانا بھی ہے اور یوشع کا سامنا کرنے کی بھی ہمت نہیں ہے’ پتا نہیں وہ کتنا ناراض ہوگا مجھ سے…..”
المیرا چلی جانا وہ تمھارے گھر والے ہیں’ مگر ایک انسان کو مت بھولنا کہ کوئ تمھیں یوشع کی طرح ہی بہت چاہتا ہے’ کوئ تمھارے ساتھ شادی کے خواب سجاۓ بیٹھا ہے…..” ایمان نے اس کا ہاتھ پکڑ کے الٹا کیا… اس انگوٹھی پر انگلی رکھی…. المیرا نے بھی جہان کی پہنائ گئ رنگ کو دیکھا…. اس ایک انسان کو مت بھولنا….. مت بھولنا کہ اس نے تمھیں دوبارہ جینا سیکھایا ہے’ مت بھولنا اس ایک شخص کو کیونکہ قسمت بار بار مخلص لوگو سے نہیں ملواتی المیرا……”
ہمممم’ المیرا نے بس اثبات میں سرہلایا…..
**
شام کا پہر تھا…. علی نے گاڑی گیٹ کے باہر روکی…. المیرا کے کندھے پر ہاتھ رکھا….. وہ اپنے خیالوں سے باہر نکلی…..
کیا ہوا؟؟ کیا سوچ رہی ہو؟؟؟”
کچھ نہیں’ بس ڈر لگ رہا ہے اتنے عرصے بعد سب سے ملو گی’ ڈر رہی ہو یوشع بھی گھر ہوگا اس کا سامنا کیسے کرو گی’ وہ تو بہت ناراض ہونگے مجھ سے…..”
تمھیں لگتا ہے المیرا وہ تم سے ناراض ہوسکتا ہے’ بلکہ اسکو تو معلوم بھی نہیں کہ آج تم گھر آرہی ہو’ یوشع کو کیا کسی کو بھی معلوم نہیں ہے’ اب اترو ہمت پکڑو اور اندر چلو….” وہ دل کو سنبھالتی گاڑی سے اترگئ…. اندر یوشع لان میں ٹہل رہا تھا….. المیرا نے پہلا قدم اندر رکھا….. یوشع کی پیٹھ تھی وہ المیرا کو نہیں دیکھ پایا مگر یوشع کے چلتے قدم رک گۓ تھے…..اس نے آنکھیں بند کرکے ایک گہرا سانس اندر کو کھینچا….. وہ آج پھر اس کو محسوس ہورہی تھی…. وہ ہلکا سا مسکرایا…. اس نے دروازے کی اور دیکھا… وہاں سے المیرا اندر داخل ہورہی تھی….. پوشع کو اپنی آنکھوں پر شبہ ہوا… وہ قدم قدم چلتا دروازے تک آیا….. جس چیز سے المیرا ڈر رہی تھی آخر وہی ہوگیا تھا سب سے پہلے اسکا یوشع سے ہی سامنا ہوا تھا…. وہ کھڑی ہاتھوں کی انگلیاں مروڑرہی تھی…… اس میں نظریں اٹھانے کی ہمت بھی نہیں ہورہی تھی کہ کیسے وہ یوشع سے نظریں ملاۓ….. یوشع نے پہلے المیرا اور پھر اس کے پیچھے آتے علی کو دیکھا….. نہ وہ مسکرا پایا نہ ہی المیرا سے کچھ کہہ پایا….
آنٹی آپ یہاں؟؟؟” ہادی المیرا کو دیکھتا اندر سے بھاگتا ہوا باہر آیا…. سب کا ایک تسلسل سا ٹوٹا تھا…..
بابا بابا یہی ہے وہ آنٹی جو مجھ سے پارک میں ملی تھی……” یوشع بس ہلکا سا مسکرایا…. ہادی المیرا کی گود میں چڑھا….
آنٹی کیسی ہے آپ؟؟؟؟” المیرا نے اس کو پیار کیا….. زینب بھی المیرا کو پانچ سال بعد اچانک یہاں دیکھ کر ٹھٹھکی تھی…..
میں ٹھیک آپ کیسے ہو؟؟؟؟” المیرا آج غور سے ہادی کو دیکھ رہی تھی وہ واقعی یوشع اور ماہی میں بہت ملتا ہے…..
آپ کیسے ہیں؟؟؟”
میں بھی ٹھیک ہو میں نے آنٹی آپکو بہت مس کیا بہت زیادہ…..”
میں نے بھی اس کیوٹ بواۓ کو بہت مس کیا…..”
آنٹی آپ چلے میں آپکو اپنا روم دکھاؤ’ آپ کو بڑی ماما سے ملواؤ……” وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر آگے کی طرف بھاگا….. جاتے جاتے بس ایک نظر المیرا نے یوشع کو دیکھا ایک بار پھر دونوں کی نظریں ملی تھی…… المیرا زینب کے قریب رکی….. دونوں کی آنکھیں نم ہوگئ تھی….. ایک وقت تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی بیسٹ فرینڈز ہوا کرتی تھی اور ایک آج کا وقت تھا دونوں کو سمجھ ہی کچھ نہیں آرہا تھا…. زینب نے آگے بڑھ کر المیرا کو اپنے گلے سے لگایا…. المیرا کا ضبط ٹوٹ گیا تھا… وہ زینب کے گلے لگی رونے لگی تھی کتنی دیر وہ روتی رہی…. باہر یوشع کھڑا خود پر ضبط کررہا تھا…..
کیوں لاۓ ہو اس کو یہاں؟؟؟ یوشع نے علی سے کہا…..
تم سے شادی کروانے کیلۓ لایا ہو بیٹا اب تو تیاری پکڑلے گھوڑی چڑھنے کی…..”
علی تم…..”
ہاں زینب آیا بس’ وہ کیا ہے تمھاری بھابھی مجھے بلارہی ہے’ ہم بعد میں بات کرے گے ٹھیک ہے یوشع بیٹا……” اس نے یوشع کا گال کھینچا…… اور اس سے پہلے یوشع غصے میں اسے کچھ سناتا…. علی سیٹی بجاتا اندر کی طرف بھاگ گیا…..
_____________
وہ سب علی کے روم میں تھے…… زینب اور المیرا بیڈ تو علی صوفے پر بیٹھا تھا….. ہادی اور زاور بھی دونوں المیرا کے اردگرد بیٹھے اس کو تک رہے تھے….. اور ان سب سے الگ ایک یوشع تھا جو روم میں نہیں تھا…. دو گھنٹے المیرا کو آۓ ہوۓ ہوگۓ تھے مگر ان دو گھنٹوں میں یوشع نہ ہی المیرا کے سامنے آیا نہ ان کے درمیان کوئ بات ہوئ….. اور المیرا یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہورہی تھی کہ یوشع بہت زیادہ ناراض ہے….. زینب نے کندھے پر ہاتھ رکھا….
المیرا تم نے لاہور آنے کے بعد کیا کیا تھا کچھ تو بتاؤ’ تم اپنے ماموں کے ساتھ رہ رہی تھی تو الگ گھر میں کیوں گئ……”
ہاں واقعی یہ تو میں نے بھی نہیں پوچھا’ المیرا بتاؤ الگ کیوں رہنے لگی تھی تم’ اور اس گھر میں تم دو ہو بس’ کوئ مرد بھی نہیں تو ایسے کیسے تم الگ رہ سکتی ہو’ خدانخواستہ کچھ ہوجاۓ پھر؟؟؟؟” علی نے پوچھا…. وہ بھی صوفے سے اٹھ کر بیڈ پر آکر بیٹھا….. المیرا کے سر پر ہاتھ رکھا……
میں ماموں کے گھر ہی آئ تھی اور میں وہاں رہ بھی رہی تھی’ یوشع کے بارے میں بھی میں نے انہیں بتادیا تھا’ ماموں ممانی نے میرا بہت ساتھ دیا’ بیٹیوں کی طرح میرا خیال رکھا’ مجھے سہارا دیا’ میری ضروریاتیں پوری کی میں وہاں بالکل ٹھیک رہ رہی تھی’ مگر شاید قسمت کو میرا وہاں رہنا منظور ہی نہیں تھا میں وہاں تین مہینے رہی ہو اس کے بعد ماموں کا بیٹا جو آؤٹ آف سٹی گیا ہوا تھا وہ اپنی بیوی اور ایک بیٹی کے ساتھ واپس آگیا تھا’ اس نے اس رات ایک بار پھر میرے ساتھ بدتمیزی کی تھی’ میری عزت خراب کرنے کی کوشش کی’ مگر اس وقت بھی ماموں نے بچالیا تھا……” المیرا نے آنسو صاف کۓ….. علی نے غصے سے مٹھیاں بھینچی….. روم کے باہر دیوار سے ٹیک لگاکر کھڑے یوشع نے بھی غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھی….. یقینا وہ بھی کافی دیر سے وہاں کھڑا ان سب کی گفتگو سن رہا تھا……
اس رات کے بعد میرا وہاں پل پل گزارنا بہت مشکل ہوگیا تھا’ ماموں بھی بہت شرمندہ تھے وہ مجھ سے نظریں نہیں ملا پارہے تھے’ اور بھابھی نے بھی مجھے غلط سمجھا کہ میں ان کے شوہر پر گندی نظر رکھے ہوۓ ہو یہ جو کچھ ہورہا تھا میری مرضی سے ہورہا تھا بھابھی کو بھی میرا وجود وہاں برداشت نہیں ہورہا تھا پھر مجھے ماموں نے کہا تھا کہ ان کی بھتیجی گاؤں سے یہاں ڈاکٹر بننے کیلۓ آئ تھی’ ڈاکٹر بننے کے بعد وہ یہی جوب کرنے لگی اور پھر یہی سیٹل ہوگئ تھی’ پہلے وہ بھی ماموں کے ساتھ رہتی تھی مگر بھائ کی گندی حرکتوں کی وجہ سے وہ بھی الگ رہنے لگی تھی’ مجھے ماموں نے کہا میں ایمان کے ساتھ رہ لو وہ بھی اکیلی رہتی ایک سے ہم دو ہوجاۓ گی’ ایک دوسرے کا سہارا بھی بنی رہے گی’ تبھی میں ایمان کے ساتھ رہنے لگی تھی’ روز ماموں آتے ہیں ہمیں دیکھ کر چلے جاتے ہیں’ کہ ہم ٹھیک ہے اور آرام سے رہ رہے ہیں’ بس ایک ماموں تھے جنہوں نے ساتھ دیا اس کے بعد پھر ایمان تھی جو ایک اچھی دوست بن گئ……” زینب نے کندھے پر ہاتھ رکھا….. یوشع باہر کھڑا ہلکا سا مسکرایا…. اس کو ایسے ہی خواب تھوڑی آتے تھے وہ تکلیف میں تھی تبھی تو وہ خواب میں بھی اس کو پکارتی تھی….. علی نے المیرا کو سینے سے لگایا….. علی اس سے دور ہٹا…..
اچھا تو اس کا نام ایمان ہے واہ بہت پیارا نام ہے’ ہاۓۓۓ المیرا یہ اتنی پیاری ڈاکٹرنی پانچ سال پہلے کہاں تھی ایوے اس بھوتنء سے شادی کرنی پڑگئ’ ڈاکٹر سے شادی کرلیتا میں…..”
علیییی میں نے منہ توڑ دینا ہے آپ کا’اگر دوبارہ کسی بھی لڑکی کا نام اپنی زبان سے لیا تو…..” زینب نے پلو اٹھا کر علی کے مارا….. المیرا نے مسکراہٹ دبائ مگر ہادی اور زاور دونوں کھلکھلا کر ہنسے تھے اپنے بابا کی پٹائ پر…..
شرم کرو شرم بچے بیٹھے ہیں’ کیوں میری عزت کا فالودہ کررہی ہو بچوں کے سامنے…..”
تو آپکو شرم نہیں آئ کہتے ہوۓ بچوں کہ سامنے…..”
دیکھو المیرا کتنا ظلم کرتی ہے یہ تمھارے معصوم بھائ پر…..” علی نے ناآنے والے آنسو صاف کۓ……
آپ کو تو میں بعد میں بتاتی ہو….”
اففف دیکھو یار تمھارے سامنے مجھے دھمکیاں دے رہی ہے تو خود سوچو میرا اکیلے میں کیا حال کرتی ہوگی یہ…..”
کوئ بات نہیں برداشت کرے میری دوست کو…..”
پچھلے پانچ سالوں سے کرہی تو رہا ہو….” علی منہ میں بڑبڑایا…… المیرا بھی اب کی بار خودپر قابو نہیں رکھ پائ تھی…. وہ بھی ہنسی…..
بات مت کرنا اب آپ مجھ سے…..” علی زینب کی حالت سے محظوظ ہوتا اس کو اور تنگ کرنے لگا…..
المیرا سچ میں اگر تمھیں یقین نہ آۓ تو ثبوت بھی ہے میرے پاس’ میری کمر……” المیرا نے آئبرو اچکائ…..
ہاں یار میری کمر پر اس کی پانچوں انگلیوں کے نشان چھپے ہوۓ ہیں’اتنی زور سے اس نے میری کمر پر تھپڑ مارا تھا کہ نشان اب تک ہے’ یقین نہ آۓ تو دیکھ لو…..”
استغفراللّه یہ جھوٹ بول رہے ہیں المیرا میں نے ان کو نہیں مارا…..”
ہاہاہا جانتی ہو یار مت لو ٹینشن’ بھائ بس کردے مت کرے اتنا تنگ’ آپکی تنگ کرنے والی عادت گئ نہیں ابھی تک…..”
ہاہاہا نہیں یار جاۓ گی بھی نہیں…..”
زینب میری طرف سے اجازت ہے تمھیں آج رات مار لینا’ سارے حساب پورے کرلینا…..”
استغفراللّه بہن ہو کہ دشمن….”
ہی ہی ہی…..” دونوں……”
ٹھیک ہے بھئ دیکھ لیا تمھارا پیار…..”
زینب اور المیرا دونوں ہنسے تھے…….
____________
المیرا اب واپس گھر جارہی تھی علی ہی چھوڑنے جارہا تھا….. سب نے بہت کہاں کہ رک جاۓ مگر وہ کیسے رک سکتی تھی یہاں…. اس نے بس سب سے یہی کہا کہ ایمان اکیلی ہوجاۓ گی مجھے جانا ہے….. وہ علی کے ساتھ ہی لان میں آئ تھی….. یوشع کو دیکھا جو لان میں ایک بینچ پر بیٹھا چاند کو تک رہا تھا….
بات کرنی ہے…” علی نے پوچھا….. المیرا نے اثبات میں سر ہلایا……
میں گاڑی میں ویٹ کررہا ہو’ ٹھیک ہے…..” اس نے ایک بار پھر اثبات میں سر ہلایا….. وہ قدم قدم چلتی یوشع کے قریب پہنچی….. اس کے ساتھ اس کے کچھ فاصلے پر اس کے ساتھ بیٹھ گئ…..
کیا چاند پورا ہے ؟؟؟؟” المیرا نے پوچھا….. یوشع نے المیرا کو دیکھا…..
ہاں شاید…..” یوشع نے جواب دیا…..
کہتے ہیں جب کوئ بہت فرصت سے چاند کو دیکھ رہا ہو اور اس سے یہ پوچھ لو کہ کیا چاند پورا ہے تو اس کو معلوم نہیں ہوتا کہ چاند واقعی پورا ہے یا نہیں کیونکہ وہ چاند کو دیکھ ہی نہیں رہا ہوتا بلکہ وہ چاند کو تکتا کسی اور کی یاد میں گم ہوتا ہے’ یا اپنے محبوب کو چاند میں دیکھ رہا ہوتا ہے’ آج آپ کو دیکھ کر یہ بات ثابت ہوگئ…….”
اچھا پتا نہیں….” یوشع نے رووڈ سا جواب دیا….. وہ اب بھی آسمان کو ہی تک رہا تھا….
ناراض ہو بہت زیادہ….”
نہیں مجھے کیا حق ہے تم سے ناراض ہونے کا’ میں تو ناراض نہیں ہو…….”
مجھے بابا اور ماہی کی ڈیتھ کا بہت دکھ ہے’ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ سب ہوجاۓ گا’ اگر معلوم ہوتا تو میں پہلے ہی…..” وہ ہاتھوں کی انگلیاں مروڑتے بول رہی تھی….
اب کیا فائدہ المیرا ان سب باتوں کا’ تمھارے افسوس کرنے سے کوئ واپس تو نہیں آجاۓ گا’ جاؤ تم بھی…..”
یوشع ایم سوری’ مجھے معاف…..”
المیرا جس وقت مجھے تمھاری سب سے زیادہ ضرورت تھی تم اس وقت میرے پاس تھی ہی نہیں…..” وہ اس کی بات کو بیچ میں کاٹتا بولا….. یوشع نے آسمان سے نظریں ہٹا کر المیرا کو دیکھا….. اس کی آنکھیں نم تھی….
تم جانتی ہو نہ تمھارے یہ آنسو ہمیشہ سے میری کمزوری رہے ہیں…..” یوشع نے اس کے پلکوں سے گرتے ایک آنسو کو اپنے انگلی کی پوروں سے چن لیا….. المیرا نے آنکھیں بند کرکے اس کے لمس کو محسوس کیا…..
یہ آنسو بہت قیمتی ہوتے ہیں المیرا ان کو اتنا مت ضائع کیا کرو’ بچا کر رکھو پتا نہیں کب کہاں کس موڑ پر تمھیں اس کی اشد ضرورت پڑجاۓ’ اور اس وقت تمھارے پاس بہانے کو ایک آنسو بھی نہ ہو…..”
یوشع آگے بڑھ جاؤ شادی کرلو……” وہ ہلکا سا مسکرایا….. ڈمپل واضح ہوا اور یہ ڈمپل شروع سے المیرا کی کمزوری رہا ہے…….
المیرا بات پتا ہے کیا ہے محبت اور شادی دونوں کا ایکسپیرینس ہوگیا ہے مجھے’ مجھے اب مزید کسی ایکسپیرینس کی ضرورت نہیں’ رات بہت ہورہی ہے جاؤ چلی جاؤ گھر’ علی ویسے بھی ویٹ کررہا ہے تمھارا’ خوش رہو ہمیشہ…..” وہ بیٹھی یوشع کو دیکھتی رہی….. یوشع اپنا ضبط کھونا نہیں چاہتا تھا وہ بہت ضبط کرکے بیٹھا تھا……
یوشع معاف کردو پلیز’ مجھے بھائ نے سب کچھ بتادیا ہے……”
میں کہہ رہا تھا المیرا کہ میرا یقین کرو میں نے کچھ نہیں کیا’ میں بےقصور ہو’ مگر تم نے سنی ہی نہیں’ چھوڑ آئ مجھے اکیلا…..” المیرا نے نظریں جھکائ…..
یاد ہے المیرا جب آنٹی نے تمھارے کردار پر انگلی اٹھائ تھی تو میں ان سے کتنا لڑا تھا صرف تمھاری خاطر’ یاد ہے میں نے کیا کہا تھا کہ ساری دنیا بھی آکر مجھے اگر کہے گی کہ میری المیرا بدکردار ہے تو میں کبھی کسی کی بات کا یقین نہیں کرو گا’ اپنی مہرو کے پاک دامن ہونے کی گواہی میں دو گا’ اور ایک تم تھی جو لوگوں کی باتوں میں آگئ’ میری ایک بار بھی نہیں سنی……” المیرا کی آنکھ سے آنسو ٹپکا……
تمھارے ساتھ گزارا ایک پل بھی نہیں بھولتا مجھے’ اور تمھارے وہ زہر بھرے الفاظ کہ مجھے نفرت ہے تمھارے وجود سے’ تم میری شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی’ جانتی ہو یہاں یہاں پر لگے تھے وہ الفاظ کسی خنجر کی طرح اتنی زور سے چبھے تھے کہ بیاں بھی نہیں کرسکتا…….” یوشع نے دل پر انگلی رکھ کر کہا…..
مجھے یقین نہیں تھا المیرا کہ تم چند منٹ میں اتنی بدل جاؤ گی…..”
یوشع میں…..”
جاؤ المیرا پلیز ورنہ میں اب سچ میں اپنا ضبط کھودوں گا’ نہیں رکھ پاؤ گا میں خود پر قابو…..” یوشع نے منہ موڑلیا….. چند پل بیٹھی وہ اس کی پیٹھ کو دیکھتی رہی…… المیرا آنسو پیتی اٹھ کھڑی ہوئ…..
قسمت نے چاہا تو پھر ملاقات ہوگی یوشع’ اب چلتی ہو خیال رکھنا’ خدا حافظ…..” اس نے قدم آگے کی طرف بڑھادیے….. یوشع نے گردن موڑ کر المیرا کو ایک بار پھر خود سے دور جاتے دیکھا….. اس کا ضبط ٹوٹ رہا تھا…. اس کی ہمت اب جواب دے رہی تھی……
المیرا کیسے بتاؤ یار تمھیں کہ میں تو آج بھی تمھارا منتطر ہو’ اور تم کتنی آسانی سے کہہ گئ ہو کہ میں شادی کرکے آگے بڑھ جاؤ’ نہیں یار ایسا تھوڑی ہوتا ہے ہم ہزار بار جیتے ہیں ہزار بار مرتے ہیں’ مگر محبت صرف ایک بار کرتے ہیں’ اور وہ میں تم سے بےانتہا کرچکا…..” ضبط ٹوٹ چکا تھا… آنسو ٹوٹ کر گال لر لڑھکا تھا…..
دل چاہتا ہے کچھ ایسا لکھوں
لفظوں کی آہیں نکلیں
قلم سے خون ٹپکے
کاغذ پر درد بکھرے
میری خاموشی ٹوٹے اور
پھر اذیت سے جان چھوٹے
*************************
المیرا اور جہان دونوں آج شاپنگ مال میں اپنی شادی کی شوپنگ کرنے آۓ ہوۓ تھے….. جہان تو بہت خوش تھا مگر المیرا اب بےچین ہوگئ تھی….. جب سے اس کی یوشع سے ملاقات ہوئ ہے…. یوشع کی وہ باتیں اس کا دل ڈوب رہا تھا…. مگر قسمت کی ستم ظریفی کہ وہ اب جہان کی امانت ہے….. وہ شاپنگ سے فری ہوکر واپس جانے لگے تھے کہ مال کے باہر علی اور یوشع دونوں کھڑے تھے….. المیرا دونوں کو دیکھ کر رکی….. علی کو بہت خوشی ہوئ…. مگر یوشع نے کوئ خوشی ظاہر نہیں کی….. سلام دعا کی گئ….. علی یوشع دونوں جہان کو بھی اچھی طرح جانتے تھے…. میٹنگ میں ان کی ملاقات ہوتی رہی ہے…..
المیرا تم یہاں شوپنگ کررہی ہو جہان کے ساتھ’ خیر تو ہے…..” علی نے پوچھا…..
جی بھائ یہ میرے منگیتر ہے’ بہت جلد شادی ہونے والی ہے ہماری…..” المیرا نے یوشع کو دیکھ کر کہا…… علی کو کھانسی کا دورہ اٹھا….. مگر یوشع وہ تو کوئ ری ایکٹ کر ہی نہیں پایا…. دل بہت بری طرح دکھا تھا مگر ظاہر کچھ نہیں کیا…..
بھائ آپ ٹھیک ہے….”
ہمم ہمم ہاں ٹھیک ہو’ مگر تم نے تو بتایا نہیں تمھاری انگیجمنٹ ہوگئ ہے…..”
جی بھائ وہ بس بتانے والی تھی……”
مبارک ہو آپکو جہان’ بہت لکی ہے آپ جو آپکو المیرا جیسی لڑکی کا ساتھ نصیب ہوا…..” یوشع نے مسکراتے ہوۓ جہان کو مبارک دی… علی نے حیرت سے یوشع کو دیکھا….
خیر مبارک’ مگر مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ آپ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں’ میرا مطلب المیرا جی علی کو بھائ بول رہی ہے’ جبکہ المیرا جی نے تو کہا تھا کہ ان کا ان کے ماموں کے علاوہ اور کوئ نہیں…..”
اچھا المیرا نے یہ سب کہا؟؟؟؟” علی نے المیرا کو دیکھتے ہوۓ کہا…. اس نے نظریں جھکائ…..
وہ ایکچوئلی میں جب کراچی میں تھی تو یوشع سر کی کمپنی میں ہی جوب کرتی تھی’ سیکرٹری کی پوسٹ پر’ اور علی بھائ نے مجھے بہن بنایا ہوا تھا تو بس اسی وجہ سے میں ان کو بھائ بلاتی ہو’ اور میری دوست زینب میں نے بتایا تھا نہ آپکو اس کے بارے میں تو زینب کی علی بھائ سے ہی شادی ہوئ ہے’ اس لۓ بھی پھر یہ بھائ ہوۓ نہ میرے……” المیرا نے ایک بار پھر یوشع کو دیکھ کر کہا….. جو نظریں جھکاۓ کھڑا تھا……
اووو اچھا المیرا جی’ یہ تو بہت اچھی بات ہے……”
نائس ٹو میٹ یو باتھ آف یو…..” جہان نے کہا….
وی آلسو……”
چلے جہان……”
جی جی المیرا جی کیوں نہیں…..”
سی یو آگین……” المیرا جہان کا ہاتھ تھامتی آگے بڑھ گئ……
چلے ہم بھی…..” یوشع نے کہا….
یوشع تم اتنے ایزی کیسے رہ سکتے ہو’ المیرا کی انگیجمنٹ ہوگئ ہے اور تمھیں کوئ فرق نہیں پڑرہا……” یوشع ہلکا سا مسکرایا…..
پانچ سال ہوگۓ ہیں علی’ اس کو بھی اپنی لائف میں آگے بڑھنے کا پورا حق ہے’ آجاؤ ورنہ میں خود چلا جاؤ گا…..” یوشع اپنے درد کو چھپاتا آگے بڑھ گیا…..
نہیں یوشع دل تو تمھارا بھی دکھا ہے’ مگر ظاہر نہیں کررہے’ المیرا کو تو واپس آنا ہی ہوگا’ اتنے سال انتظار کیا ہے ایسے ہی تو نہیں جانے دو گا اتنی آسانی سے’ المیرا تمھیں واپس آنا ہوگا یوشع کی زندگی میں’ ورنہ میں گولیاں چلادو گا گولیاں…..” وہ اپنی بات پر خود ہی مسکرایا….
علی تم آرہے ہو یا میں جاؤ…..”
اچھا اچھا آرہا ہو……” وہ بھی گاڑی کی طرف بڑھ گیا……
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟؟ المیرا اور انگیجمنٹ….”
صحیح کہہ رہا ہو’ المیرا انگیجمنٹ کرچکی جہان کے ساتھ’ جہان سے دو تین بار ہماری ملاقات ہوئ ہے میٹنگ وغیرہ کے سلسلے میں’ عادت کا تو اچھا ہے’ مگر اب شادی المیرا کی جہان کی’ سمجھ نہیں آرہی کیا کرو……” علی ذیان کے ساتھ کھیل رہا تھا…. زینب بھی ساتھ ہی بیٹھی تھی…. جب علی نے شام میں المیرا کے ساتھ ہوئ ملاقات کے بارے میں بتایا……
پورے پانچ سال بعد وہ لائف میں آگے بڑھ رہی ہے……”
پکا ثابت کرتی ہو کہ یوشع کہ بہن ہو’ مطلب حد ہے یار تم اتنی آسانی سے یہ بات کیسے کہہ سکتی ہو’ یوشع بھی وہاں اتنے ایزیلی کہہ گیا تھا کہ اس کو اپنی لائف میں آگے بڑھنے کا حق ہے’ اور یہاں تم کہہ رہی ہو’ میں سوچ سوچ کر ہلکان ہورہا ہو کہ المیرا کو یوشع کی زندگی میں کیسے واپس لاؤ اور تم ہو کہ…..”
پھر کیا کرے گے آپ؟؟؟؟”
وہی تو سوچنا ہے کہ کیسے لایا جاۓ’ اب المیرا اور یوشع کو ایک ہونا ہوگا’ اور ماہی کی بھی یہی خواہش تھی’ پورا تو کرنا ہے نہ……”
زینب نے ماتھے پر انگلی پھیری…..
کیا سوچ رہی ہو؟؟؟؟”
کچھ نہیں…..”
ہمم میرے ہوتے ہوۓ کوئ ٹینشن لینا بھی مت’ میں ہو نہ کرو گا کچھ تو……”
میں آپکے ہوتے ہوۓ کوئ ٹینشن لیتی بھی نہیں ہو……” زینب نے علی کے کندھے پر سر ٹکایا…… وہ گہرائ سے مسکرایا…..
اہم اہم تمھیں نہیں لگتا زینب کہ زاور ذیان کی ایک بہن بھی آجانی چاہیے……” زینب نے آنکھیں چھوٹی کرکے علی کو گھورا…..
خدا کی قسم ایسے مت دیکھا کرو یار قسم سے میں ڈر جاتا ہو……” ذیان کے رونے کی آواز گونجی…..
لو کرلو بات میری تو خیر ہے میرا بیٹا بھی تمھیں دیکھ کر ڈر گیا’ سنبھالو اپنے ان شیطانوں کو…..”
جب دیکھو میرے بیٹوں کو کچھ نہ کچھ بولتے رہتے ہیں’ یہ سب آپکی کرم نوازیاں ہے……” علی نے زبان نکالی….
بس بیٹا چپ…..” علی نے زینب کی کمر پر زور کی چٹکی کاٹی…..
اوئئ اللّه کیا ہوگیا علی بس…..”
ہاہاہاہا اب نہیں کرتا میں بس……” وہ اس کو اب تنگ کرنے لگا تھا…….
**
