Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

ہر طرف گہما گہمی تھی… منگنی کی تیاریاں عروج پر تھی… صرف دو دن رہ گۓ تھے انگیجمنٹ میں…. المیرا ابھی گھر میں داخل ہوئ تھی…. دائیں ہاتھ میں کچھ سامان پکڑا ہوا تھا… وہ لاؤنج میں داخل ہوئ تھی…. اسے کچھ عجیب لگا تھا یہاں… کچھ تو عجیب ہے… مگر کیا وہ سمجھ نہ پائ…. وہ سیڑھیوں کہ طرف بڑھنے لگی… ابھی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا ہی تھا کہ کسی نے پیچھے سے آکر اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا تھا اس کے کان پہ پھونک ماری تھی…. المیرا نے اپنی آنکھوں پر رکھے ہاتھوں کو چھوا… چہرے پر مسکراہٹ آئ…. جہانزیب خان’ المیرا نے کہا… اس نے بھی مسکراتے ہوۓ آنکھوں سے ہاتھ ہٹایا… المیرا پلٹی….افففف اللّه جی’ واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز..” المیرا نے جوش سے خوش ہوتے ہوۓ کہا…. ‘کیسا لگا میرا سرپرائز؟؟؟المیرا کا چہرہ ایک دم بجھا تھا…. ساری ایکسائیٹمنٹ غائب ہوگئ تھی… جہانزیب اس کو دیکھ کر پریشان ہوا….”کیا ہوا؟ یار مجھے دیکھ کر خوشی نہیں ہوئ کیا؟؟” المیرا نے ہاتھ میں پکڑا بیگ سیڑھیوں پر رکھا… خفگی سے چہرہ موڑ کر کھڑی ہوگئ…. جہانزیب مسکرایا….”او ہو’ سمجھ آگئ’ میری پیاری’ شرارتی’ کیوٹ سی بہن ناراض ہوگئ ہے….” جہانزیب نے پیچھے سے اسے کندھوں سے تھاما… “اچھا نہ یار میری طرف دیکھو..””نہیں کرنی مجھے تم سے کوئ بات’ تم جاؤ واپس دبئ…” چہرہ موڑے موڑے کہا….”ہیلو میڈم’ ناراض تو مجھے تم سے ہونا چاہیے اور ہو تم رہی ہو؟؟”ہےےے کیوں؟؟ تم کیوں ناراض ہوگے؟؟ وہ پلٹی تھی…”اب یہ بھی میں بتاؤ؟؟” جی بالکل’ آپ ہی بتاۓ گے…. اس نے سینے پر بازو باندھے….”تو سنو میڈم دو دن بعد تمھاری انگیجمنٹ ہے اور تم سے اتنا نہیں ہوا کہ مجھ ایک کال کرکے اپنی انگیجمنٹ کی خبر دے دو’ اپنی زندگی کا اتنا بڑا دن’ اتنی بڑی خوشی مجھ سے شیئر کرلو….” اب وہ خفا نظر آنے لگا تھا….. وہ واقعی ٹھیک کہہ رہا تھا المیرا نے کال کرکے اسے اپنی انگیجمنٹ کا نہیں بتایا تھا…. المیرا نے کان پکڑے…. سوری’ جہانزیب نے منہ بناتے ہوۓ المیرا کے ہاتھوں کو اس کے کانوں سے ہٹایا….”مجھے پتا تھا کہ تم ضرور آؤ گے’ میں نہ بھی بتاؤ تب بھی آؤ گے’ کیونکہ ایسا ہوسکتا ہے کہ المیرا خان کی زندگی کا اتنا بڑا خوشی کا دن ہو اور اس میں جہانزیب خان نہ ہو….””باتیں بنانا کوئ تم سے سیکھے…”ہاہاہا’ وہ تو شکر ہے ڈیڈ نے مجھے بتادیا تھا اور میں اتنا خوش ہوکہ بتا نہیں سکتا یار’ جیسے ہی مجھے پتا چلا میں نے تو آنے کی تیاری پکڑلی تھی اور آج میں یہاں ہو’ تمھارے سامنے…”تمھیں پتا ہے تم دو سال بعد پاکستان آۓ ہو’ تمھیں بڑی یاد آئ ہوگی میری…’ المیرا نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا….وہ ایک خوبصورت انیس سالہ نوجوان تھا… دودھیا رنگت’ ہلکی شیو’ سنہری بال’ سنہری آنکھیں’ حد سے زیادہ ہینڈسم جو اس وقت گرین دھاریوں والی شرٹ اور بلیک پینٹ میں ملبوس تھا’ المیرا سے قد میں لمبا تھا….”تمھیں دبئ کی ہوا لگ گئ ہے یار تم بہت کیوٹ’ بہت زیادہ ہینڈسم ہوگۓ ہو…” المیرا نے اس کے گالوں کو کھینچا…. “تمھارا بھائ شروع سے ہینڈسم ہے” ناک سے مکھی اڑائ…. “اپنے ہونے والے جیجا جی سے بھی زیادہ ہینڈسم ہو میں” شرارتی آنکھوں سے المیرا کو چڑانے والے انداز میں کہا…. خوشفہمیاں ہے جہانزیب خان آپکی’ یوشع سے زیادہ کوئ ہینڈسم نہیں ہے’ وہ بیسٹ آف دا بیسٹ ہے’ ہر لحاظ سے پرفیکٹ’ تم اسکے آگے کچھ نہیں ہو’ وہ الگ بات ہے میں اسکی تعریف کبھی نہیں کرتی’ مگر دل میں بہت صدقے واری جاتی ہو اور اس کا ڈمپل افففف جان لیتا ہے میری’ سو جان قربان جاؤ اس کے ڈمپل پہ تو’ اور تم’ ہنہ آۓ بڑے اپنے منہ میاں مٹھو…..”ہاہاہاہا’ چڑی چڑی’ جیلسی ہا….”میں کیوں جیلیس ہوگی تم سے کبھی نہیں….” المیرا خان کبھی کسی سے جیلیس نہیں ہوتی….’جی جی وہ تو پتا ہے’ المیرا خان کو جہانزیب خان سے زیادہ بہتر کون جان سکتا ہے؟؟؟”یوشع یوسفزئ… فٹ جواب دیا گیا….کیا واقعی؟؟’ جہانزیب نے آئبرو اچکائ….جی بالکل’ جب تم نہیں تھے تو وہی تھا’ اور تم نے یوشع کو صرف تصویروں میں یا ویڈیو کال پہ دیکھا ہے’ جب حقیقت میں ملو گے نہ تو فین ہوجاؤ گے اسکی پرسنیلیٹی کے….” ہاں جیسے تم ہوگئ ہو…”جی وہ بیچارا تو بس’ ترس گۓ ہے اس کے تو کان میرے منہ سے خود کی تعریف سننے کیلۓ…”تو میری بہنا اس کی تعریف کردو’ کہیں ایسا نہ ہو جس دن تم اسکی تعریف کرو’ اسے اتنی بڑی خوشی برداشت نہ ہو اور وہ خوشی کے مارے دنیا سے کوچ کرجاۓ…” شرارتی آنکھوں سے کہا… جہانزیب’ مگر المیرا کو تپ چڑھ گئ تھی….”اگر دوبارہ تم نے کوئ الٹی سیدھی بکواس کی نہ تو تمھارا منہ توڑ دو گی….”اچھا نہ کیوں غصہ کررہی ہو” میں تو صرف مزاق کررہا تھا… دو سال بعد ہم مل رہے ہیں اور اتنی دیر سے کھڑی بس باتیں کررہی ہو’ اتنا نہیں ہورہا کہ ایک ہگ ہی کردو اپنے چھوٹے بھائ کو… المیرا مسکرائ… جہانزیب کے سینے سے لگی…. کہنے کو تو جہانزیب چار سال چھوٹا ہے مگر فرض بالکل بڑے بھائیوں جیسے نبھاتا تھا….المیرا نے بھی اسے بڑا بنا رکھا تھا کہ تم بڑے ہو… جب ناز اٹھوانے ہوتے تو جہانزیب کو بڑا بنا دیا جاتا تھا اور جب اپنا غصہ اتارنا ہوتا تو وہ اس سے چھوٹا بن جاتا تھا اور پھر المیرا خوب اسکی دھلائ کرتی تھی کہ میں تم سے بڑی ہو’ تمھیں سدھارنا میرا کام ہے’ جہانزیب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا…. سدا خوش رہنے کی دعا دی…. وہ باہر لان کی طرف بڑھ رہے تھے…. “ویسے مجھے یوشع بھائ سے بڑی ہمدردی ہورہی ہے بیچارا کیسے برداشت کرے گا تمھیں ساری زندگی’ تم نے تو اسے گنجا کرکے رکھ دینا ہے’ اس کی ہڈی پسلی توڑ دینی ہے….”میں صرف دھمکی دیتی ہو مگر آج تک مارا کسی کو نہیں ہے سواۓ تمھارے’ اور اگر تم نے بکواس بند نہ کی نہ تو مجھ سے پٹو گے….ہاۓۓۓ میں بیچارا… اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دہائ دی تھی… المیرا مسکرائ… وہ لان میں آگۓ تھے…. ہنستے مسکراتے ایک دوسرے کو یوں ہی تنگ کرتے اپنی باتوں میں مگن ہوگۓ تھے…… ********اگلے دو دن کیسے گزرے….. کسی کو پتا ہی نہ چلا…. آج جمعہ کا دن تھا…. شام کی تقریب خان ولا میں ہونی تھی…. ہر طرف گہما گہمی تھی…. نماز جمعہ ادا کی گئ اور اس کی بعد سب ہی اپنی تیاریوں میں مگن ہوگۓ…. کچھ مہمان آگۓ تھے… کچھ نے شام میں آنا تھا…. خان ولا میں تقریب کا سارا انتظام لان میں کیا گیا تھا…. سب کچھ علی اور جہانزیب نے اپنی مرضی سے کروایا تھا…. آخر کو اسکی اکلوتی بہن کی انگیجمنٹ ہے…. لان کی سجاوٹ انتہائ اعلی پاۓ کی کی گئ تھی…. ایک طرف اسٹیج بنایا گیا تھا….مہمانوں کیلۓ کرسیاں اور ٹیبلز لگائ گئ تھی… پر ٹیبل پر مختلف رنگوں کے تازہ پھولوں کا بوکے رکھا تھا…. ایک طرف ساؤنڈ سسٹم کا بھی انتظام تھا…. جس میں دھیمے سرو میں بجتے گانے ماحول پر ایک سحر سا طاری کررہے تھے… زینب نے ٹخنوں تک آتے گلابی رنگ کا فراک پہن رکھا تھا…. لائٹ سے میک اپ میں ہلکی پھلکی جیولری پہنے’ ہاتھوں میں گجرے پہنے وہ بے حد پیاری لگ رہی تھی….. اور اس وقت استقبالیہ پر کھڑی مہمانوں کا استقبال کررہی تھی… جبھی دو لینڈکروز آگے پیچھے آکر رکی… ایک گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر علی بیٹھا تھا… اور اس کے ساتھ والی سیٹ پر یوشع…. اور اس کے پیچھے والی سیٹ پر ان کا ایک اور جگری دوست حماد بیٹھا تھا…. جو یو ایس اے میں رہتا ہے…. ان کی دوستی بزنس میٹنگ میں ہوئ تھی اور اب بھی حماد صرف یوشع کی انگیجمنٹ کی وجہ سے یہاں آیا تھا… دوسری گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر عمران صاحب بیٹھے تھے… ان کی ساتھ والی سیٹ پر یوسفزئ صاحب…. پیچھے کی سیٹ پر مسز عمران اور ان کے ساتھ ماہی بیٹھی تھی…. زینب اور المیرا کی کزنیں پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے یوشع اور علی کی فیملی کا استقبال کررہی تھی…. مسز عمران نے زینب کےماتھے کو چوما تھا….”ماشااللّه میری بیٹی کتنی پیاری لگ رہی ہے” پیچھے کھڑے علی نے آنکھ ونک کی…. زینب چھینپ گئ تھی….ٹھینک یو آنٹی! اس نے نظریں جھکائ تھی…. ماہی بھی خوشگوار موڈ کے ساتھ زینب سے ملی…. عمران اور یوسف صاحب نے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی تھی…. وہ سب اندر کی طرف بڑھ گۓ تھے…. جہانزیب بھی بلیک کرتا’ وائٹ پجامہ پہنے ان سب کی پاس آیا…. اوو ہوو’ تو آپ ہے یوشع یوسفزئ…. وہ یوشع سے گلے ملا تھا….”کیسے ہیں آپ؟؟ وہ آج یوشع سےمل رہا تھا…. وہ یوشع سے دور ہٹا… اس کے بعد باری باری علی اور حماد سےملا….” یعنی جتنا المیرا سے آپ کے بارے میں سنا’ یاجتنا بھی آپ کو ویڈیو کال پہ دیکھا’ حقیقت میں آپ ان سب سےکئ زیادہ خوبصورت ہے’ المیرا نے واقعی سچ کہا تھا….” یوشع نے آئبرو اچکائ…..”یو مین المیرا نے میری تعریف کی رائٹ…” “جی یہی تو میں کہہ رہا ہوں…” “ایمپوسیبل’ آئ نیور کانٹ بلیو اٹ کی المیرا خان یوشع یوسفزئ کی تعریف کرے’ اٹس ایمپوسیبل…” یوشع مسکراتے ہوۓ نفی میں سر ہلا رہا تھا….ہاہاہا’ اس نے بھی یہی کہا تھا کہ آپ کبھی اس بات کا یقین نہیں کرو گے’ بٹ اٹس ٹرو….””اچھا کیا تعریفیں کی یہ بھی بتادو سالےصاحب….” یوشع نےسینے پر بازو باندھے تھے….ہاہاہا’ اس نے مجھ سےکہا تھا کہ جب میں آپ سے ملو گا تو آپکی پرسنیلیٹی کا فین ہوجاؤ گا….””یار کہہ دے کہ یہ جھوٹ ہے” یوشع کو یقین نہیں آرہا تھا…..”نہیں جیجو’ اٹس ٹرو…’ “اچھا چلو مان لیا’ اور کیا کہا؟؟؟”میں نے کہا جیسے تم ہوگئ ہو ان کی فین…” اس نے کہا جی بالکل….”ہاۓۓۓ یوشع نے دل پر ہاتھ رکھا تھا…… المیرا خان میری فین’ افففف”اور پتا ہے یہ بھی کہا کہ وہ آپ کے ڈمپل پر خوب جان دیتی ہے’ وہ الگ بات ہے کہ وہ کبھی آپ کے منہ پر آپکی تعریف نہیں کرتی’ اور یہ بھی کے آپ کے کان ترس گۓ ہیں’ المیرا خان سے خود کی تعریف سننے کیلۓ…..” ہاۓۓےے سچ میں یار بہت بڑی ظالم ہے”اور پھر پتا ہے میں نے کیا کہا’ کہ میری بہن اس کی تعریف کردوں کہیں ایسا نہ ہو جس دن تم اسکی تعریف کرو’ اس سے اتنی بڑی خوشی برداشت نہ ہو اور وہ اس دنیا سے کوچ کرجاۓ” جہانزیب نے زبان دانتوں تلے دبائ تھی….ہاۓۓےے اللّه میں کوئ خواب تو نہیں دیکھ رہا’ یوشع نے ایک بار پھر اپنے دل پر ہاتھ رکھا تھا…. یار کوچ کا تو پتا نہیں مگر میں نے بےہوش ضرور ہوجانا ہے…..’ یوشع پیچھے کی طرف گرا تھا… پیچھے کھڑے علی اور حماد نے اسے پکڑ کر سیدھا کیا تھا….”ہوش کر بھائ ابھی تو انگیجمنٹ کرنی ہے…. ” حماد نے کہا…. یوشع مسکرایا…..ہاں ہاں چلو چلو جلدی چلو…. وہ سب اندر کی طرف بڑھنے لگے تھے…. جب زینب نے ان کا راستہ روکا….”اوۓ ہیلو کہاں چلے تم سب پہلے ہمارا نیگ نکالو پھر جانا….”ہےےےےے کونسا نیگ…..’ جہانزیب نے کہا…..وہی جو ہم سب لڑکیوں کا حق ہے…”آگۓ فقیر مانگنے….” علی نے زینب سے کہا…. زینب نے گھوری سے نوازا…..یوشع پہلے ہمارا نیگ نکالو پھر اندر جاؤ…” زینب نے غصے سے کہا…. ( یوشع اس وقت زینب کا بوس نہیں تھا وہ سب ایک فرینڈز تھے…. بوس کولیگز تو وہ بس آفس کی حد تک ہوتے تھے… اس کے بعد ایک دوسرے کے جگری یار بن جاتے تھے) یوشع ہنسا کتنے چاہیے تمھیں’ کیونکہ ہمارے یوشع کو تو اب بس اندر جانے کی جلدی ہے اور اپنی اس دشمن جاں کو دیکھنے کی جس نے کل سے نہ کوئ بات کی اور نہ ہی اپنی شکل دکھائ…… ایک منٹ تم پیسے ابھی نہیں نکالو گے یوشع…..” علی نے کہا….”اوۓ جہانزیب’ تو کس کی سائڈ پہ ہے ان فقیروں کی یا ہماری…” زینب کے ساتھ ساتھ باقی لڑکیوں کو بھی غصہ چڑھا….. ہاہاہاہا بھائ’ آف کورس تمھارے ساتھ’ بیکوز ایم آ بواۓ تو پھر آپکی ہی سائڈ پہ ہوا نہ….’ حماد خاموش کھڑا بس ان کی سن رہا تھا کیونکہ وہ ان کو نہیں جانتا تھا….. “یہ ہوئ نہ ہمارے بھائ کی بات….” علی نے جہانزیب کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا…..”اوکے لڑکیوں اب عزت دے کر بول رہا ہو جس کے تم بالکل بھی قابل نہیں ہو’ سو شرافت سے ہمارے اوپر پھول پھینکو تاکہ ہم اندر جاۓ…..” یوشع علی کے قریب کھسکا…. اپنا چہرہ علی کے کان کے قریب کیا…. سرگوشی نما کہا…..”بھائ کنٹرول کر کیوں مار کھانے والے کام کررہا ہے’ بھول گیا کیا شادی تو نے زینب سے ہی کرنی ہے’ سوچ پھر شادی کے بعد وہ تیرا کیا حال کرے گی’ چن چن کر بدلے لے گی’ ذرا چہرہ تو دیکھ اس کا لال بھبھوکا ہوگیا ہے’ کہیں ایسا نہ ہو شادی کی پہلی رات ہی تمھیں سٹوروم میں سونا پڑے……” ساتھ میں کھڑےحماد اور جہانزیب نے بھی یوشع کی بات سن لی تھی ان دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر بھرپور قہقہہ لگایا…. زینب کو ان کے قہقہوں سے اور غصہ چڑھا…. علی نے تھوگ نگلا….”بھائ تو کیوں مجھے ہر بار میرا فوچر دیکھا دیکھا کر ڈراتا رہتا ہے…” “اور یار تو ڈر بھی تو جاتا ہے اسی لۓ….” یوشع نے مزاق اڑایا….”یوشع میں آخری بار پوچھ رہی ہو تم پیسے دے رہے ہو یا نہیں’ سوچ لو’ کیونکہ اب اگر تم نے پندرہ ہزار روپے میرے ہاتھ پہ نہ رکھے تو میں المیرا کے پاس چلی جاؤ گی’ کیونکہ یہ نیگ لینے کا پلان اسی کا تھا’ اس نے ہی کہا تھا کہ نیگ لیے بغیر اندر مت آنے دینا’ اس نے مجھے دس ہزار کا کہا تھا’ مگر جو تمھارے دوست نے (علی کو خونخوار نظروں سے گھورا) جو ہماری بےعزتی کی ہے نہ تو اب پندرہ ہزار دو گے نہ اس سے ایک روپیہ زیادہ اور نہ ہی اس سے ایک روپیہ کم….””اللّه اللّه تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ المیرا نے یہ سب کرنے کو کہا تھا….” یوشع نے فورا جیب میں ہاتھ ڈالا تھا…. حماد نے اس کا جیب میں گیا ہاتھ پکڑا تھا…. “لو بھئ یہ تو بن گیا شادی سے پہلے ہی……”جورو کا غلام….’ جہانزیب نے جملہ پورا کیا تھا…. وہ تینوں پھر ہنسے تھے…. اب کی بار زینب اور باقی لڑکیاں بھی مسکرائ تھی……. یوشع نے بےچارگی سے حماد کو دیکھا….”یار دینے دے پیسے’ کہیں ایسا نہ ہو جو فیوچر میں نے علی کو بتایا ہے’ وہ بعد میں میرا بن رہا ہو…..” اور اب کی بار علی کی باری تھی ہنسنے کی…. وہ تالی بجاکر زور سے ہنسا تھا…. حماد نے اس کا ہاتھ چھوڑا…. یوشع نے شکر کرتے جیب سے پانچ ہزا کے دو نوٹ نکالے…..”یہ لو….’ ینب کی طرف بڑھاۓ…”ہمیں پورے پیسے چاہیے….ایک منٹ یار پکڑو تو…” زینب نے پیسے اپنی مٹھی میں لیے…. یوشع نے جہانزیب اور حماد کو آنکھوں کا اشارہ کیا… علی کو سمجھ نہ آیا کس چیز کا اشارہ ہے….. وہ دونوں اپنے دانتوں کی نمائش کرتے علی کے پاس آۓ…. علی کو خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہورہی تھی…. اس سے پہلے وہ ان کا ارادہ بھانپتا….. ان دونوں نے علی کو اپنے شکنجے میں لیا تھا…..”ابے اوۓ’ یہ کیا کررہے ہو؟؟؟”حماد نے علی کے ہاتھوں کو پیچھے اس کی کمر پہ باندھے تھے…..”ابے اوۓ چھوڑو….’ یوشع دانتوں کی نمائش کرتا علی کی طرف بڑھا تھا…. جہانزیب موبائل نکال کر انکی ویڈیو بنانے لگا تھا….”میرے قریب بھی مت آیو’ یوشع کے بچے…..” ساتھ ساتھ وہ خود کو حماد کی گرفت سے بھی چھڑوانے کی کوشش کررہا تھا….. ہر بار کی طرح یوشع کا ایک ہی جواب….”میرے بچے نہیں ہے….” یہ کہتے یوشع نے علی کی جیب سے اس کا وائلٹ نکالا تھا…. اس میں سے پانچ ہزار نکالے…. علی کے سامنے پانچ ہزار کا نوٹ لہرایا….”بیٹا بےعزتی تم نے کی ہے زینب کی تو’ جو ٹیکس پانچ ہزار کا اوپر لگا ہے نہ صرف تمھاری وجہ سے’ تو اسے پورا کرنا تمھاری ذمہ داری ہے….” علی خونخوا نظروں سے یوشع کو گھور رہا تھا… جیسے بس ابھی کچا چبا جاۓ گا…. زینب’ علی کو دیکھ کر مسکرارہی تھی…. اس کی بےعزتی کا بدلا یوشع نے لے لیا تھا’ جو وہ چاہ رہی تھی وہ ہوگیا تھا…. زینب نے علی کو زبان دکھائ….. یوشع نے دانتوں کی نمائش کرتا اس کا وائلٹ اس کی جیب میں واپس رکھا….. جہانزیب چاروں طرف گھومتا ان کی ویڈیو بنارہا تھا…. کبھی ان کی بناتا تو کبھی اپنی طرف کیمرا کرکے اپنی ویڈیو بناتا…. حماد نے علی کے ہاتھ چھوڑے…. یوشع نے باقی کے پیسے زینب کے ہاتھ میں دیے…..”یہ لو ہیپی’ ٹھینک یو…. وہ خوشدلی سے مسکرائ تھی…. اس نے یوشع سے ہاتھ ملایا… یوشع نے بھی علی کو دانت دکھاتے زینب سے مصافحہ کیا تھا… علی ان دونوں کے ہاتھوں کو گھور رہا تھا….”خوش رہو ہمیشہ اس بندر کے ساتھ….” علی مسکرایا….(زینب یوشع کیلۓ بالکل بہنوں جیسی تھی…. اس کی اپنی تو کوئ بہن نہیں تھی…. ماہی اس کی ایک اچھی دوست تھی…. بہن بھائیوں والا رشتہ ان کے درمیان کبھی قائم ہی نہیں ہوا…. المیرا اس کا عشق ہے اور بس اب صرف ایک زینب ہی تو تھی جو یوشع کو بہنوں کی طرح عزیز تھی….. اسی طرح پھر زینب بھی یوشع کو کبھی بھائ تو کبھی یوشع کہہ کر پکارتی) “اب اگر تمھارے پیسے پورے ہوگۓ ہیں تو ہمارے اوپر پھول پھینکو پھول تاکہ ہم اندر جاۓ”زینب نے ایک لڑکی سے پھولوں سے بھری پلیٹ اپنے ہاتھ میں لی…. علی کی طرف بڑھی… اپنا ہاتھ اوپر اٹھایا… پلیٹ علی کے سر کے اوپر کی اور پلیٹ الٹادی…. “یہ لو ہوگئ پھولوں کی بارش” زینب نے ایک ایک لفظ دانت پیس کر کہا….. علی کھڑا دانت نکال رہا تھا….. وہ سب ہنستے مسکراتے اندر بڑھ گۓ تھے…. المیرا اپنے کمرے میں بیڈ پر اکیلی بیٹھی تھی….. آج اس کا دل خوشی سے بھرپور تھا اور اداس بھی….. آج اسے اپنی ماں کی کمی شدت سے محسوس ہورہی تھی…. جب ہی زینب اور جہانزیب دونوں المیرا کے روم میں داخل ہوۓ تھے…..ماشااللّه آج تو میری بہن بہت خوبصورت لگ رہی ہے….” جہانزیب نے دل سے تعریف کی تھی…. المیرا کی آنکھوں میں آنسوں تھے…. وہ اس وقت ٹخنوں تک آتی گھیردار میکسی میں ملبوس تھی…. اس نے اپنے لمبے کمر تک آتے بالوں کو نہچے سے کرل کرکے کھلا چھوڑا ہوا تھا…..لائٹ میک اپ…. ہلکی سی جیولری…. ہاتھوں میں گجرے ڈالے وہ مکمل حسن کا پیکر بنی ہوئ تھی…. علی بھی روم میں داخل ہوا تھا…. اس نے بلیک پینٹ پہ بلیک شرٹ ڈالی ہوئ تھی…. بلیک جوگرز…. بالوں کو جیل سے سیٹ کۓ…. ہاتھ میں برینڈڈ واچ…. وہ اس سب میں بے خد خوبصورت لگ رہا تھا…. جہانزیب المیرا کے پاس آیا….واٹ ہیپنڈ’ یہ آنسوں کیوں؟؟؟ زینب اور علی بھی المیرا کے قریب آۓ…. المیرا بیڈ سے اٹھی تھی….”یار کیا ہوا’ یہ خوشی کے موقع پر آنسوں کیوں؟؟؟” المیرا جہانزیب کے سینے سے لگی تھی…. جہانزیب نے بھی اس کے گرد اپنے بازؤں کا گھیرا کیا تھا… اس کے سر پر بوسہ دیا…. ماماکی یاد آرہی ہے کیا؟؟” المیرا نے اثبات میں سر ہلایا….”یار میں نے بھی رونے لگ جانا ہے…” علی نے رونی صورت بناکر کہا…. المیرا کو علی کی شکل دیکھ کر ہنسی آئ…. علی بھی مسکرایا…. علی قدم قدم چلتا المیرا کے پاس آیا…. اس کے ماتھے کو چوما… “اب اگر ایک بھی آنسوں تمھاری آنکھوں میں آیا نہ تو میں نے یوشع کو بلالینا ہے’ پھر وہ تمھیں چپ کرواۓ گا….”زینب کو یہی عادت تو اچھی لگتی ہے علی کی وہ سب کا خیال رکھتا ہے’ ہنسی’ مزاق’ اپنی جگہہ مگر علی زینب کی جان ہے’ اس کی محبت ہے…. حماد بھی روم میں داخل ہوا تھا…. زینب نے بیڈ پر رکھی لال چنری کو اٹھایا…. علی نے المیرا اور حماد کا تعارف کروایا…. وہ چاروں المیرا کو لے کر روم سے نکلے تھے…..________جاری ہے_______