Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 49

کتنی ہی دیر سے دونوں کے درمیان فقط خاموشی تھی….. آخر اس چپ کو یوشع نے ہی توڑا تھا…..
ماہی مت کرو مجھ سے اتنی محبت’ یہ یکطرفہ محبت سواۓ دکھ درد تکلیف کے کچھ نہیں دیتی’ میرے بس میں نہیں ہے تمھیں ویسی محبت دینا جسکی تم حقدار ہو’ نہ تمھیں میں دل سے اپنا سکتا ہو اور نہ ہی دل سے محبت دے سکتا ہو جو تم ڈیزرو کرتی ہو……” وہ دونوں چھت کو دیکھ رہے تھے….. کسی نے کسی کی طرف نہیں دیکھا….. ماہی ہلکا سا مسکرائ…….
کون کہتا ہے یوشع کہ مجھے اب آپ سے محبت چاہیے’ مجھے تو بس اب آپ کا ساتھ چاہیے’ میں محبت میں بہت آگے نکل چکی ہو یوشع جہاں سے واپسی کی راہ میرے لۓ بہت مشکل ہے’ میں اپنا سب کچھ ختم کرکے آپ کے پاس آئ ہو’ اب میں واپس نہیں لوٹ سکتی’ یہ میرے لۓ بہت مشکل ہے……” اس نے نم لہجے سے کہا تھا……
میں نے اپنی ضد اپنی انأ میں آکر بہت غلط کیا تمہارے ساتھ’ مگر تم نے اففف تک نہیں کی’ ماہی ہم دونوں کی راہیں الگ ہے ہم کبھی ایک دوسرے کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتے’ میں چاہتا ہو تم اب اپنی زندگی اچھے سے گزارو’ تم چاہو تو بےبی بھی ساتھ لے جانا میں نہیں روکو گا’ میں تمھیں ڈائیورس دے دوں گا’ چلی جانا تم ایک اچھے لڑکے سے شادی کرلینا جو تمھیں خوش رکھے’ میں کبھی تمھیں خوشیاں نہیں دے پاؤ گا……” دونوں نے ایک ساتھ ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکا تھا….. یوشع کی آنکھیں اداس تھی تو ماہی کی آنکھیں نم……
یوشع میں سچ میں آپ کے بغیر مرجاؤ گی’ میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی’ آپ مت کرے مجھ سے محبت’ المیرا سے شادی بھی کرنی ہے تو کرلے میں نہیں روکو گی’ آپ سے کچھ نہیں پوچھو گی نہ کچھ کہو گی’ کوئ شکوہ نہیں کرو گی مگر مجھے چھوڑنے کی بات مت کیا کرے’ مجھے تکلیف ہوتی ہے آپکی اس بات سے’ دل بہت دکھتا ہے یہ سوچ کر کہیں آپ مجھے چھوڑ نہ دے’ آپ نے کہا تھا آپ میرے ساتھ رہے گے’ مجھ بھی صرف آپکا ساتھ چاہیے’ آپکا تھوڑا سا ٹائم چاہیے’ صرف دو گھڑی میرے ساتھ محبت کے گزار لے مجھے اس کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے کچھ بھی نہیں…..” وہ چپ ہوگئ….یوشع بھی چپ رہا…..
سو جاؤ ماہی گڈ نائٹ……” یوشع نے کروٹ بدل لی…… ماہی چپ سی سیدھی لیٹی رہی……
یوشع……” کچھ پل بعد اس نے پکارا تھا….. یوشع چپ رہا اس کے آگے بولنے کا منتظر تھا….. کچھ وقفے کے بعد یوشع نے اس کو کہتے سنا تھا…..
مجھے نیند آرہی ہے یوشع’ پچھلے کئ دنوں سے میں چین کی نیند نہیں سوسکی’ ہر وقت ایک ڈر سا رہتا ہے آپکے چھوڑ جانے کا ڈر’ آج آپ مجھے اپنی بانہوں کے حصار میں لے لے’ مجھے آج سکون کی نیند دے دیں…..” آج اس نے بہت مان سے کہا تھا اور شاید آج اس کو یقین تھا کہ وہ اس کی بات نہیں ٹالے گا…… اور پھر ایسا ہی ہوا تھا….. یوشع سیدھا ہوکر لیٹ گیا تھا…. اس نے اپنے بازو پھیلا دیے تھے ماہی کیلۓ…… وہ نم آنکھوں سے مسکراتی یوشع کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرگئ…… یوشع نے بھی اس کو آج اپنے بازو کے حصار میں لے لیا تھا…… وہ اپنی انگلیاں اس کے بالوں میں پھیرنے لگا…… صرف چند پل لگے تھے ماہی نیند کی وادیوں میں تھی….. اس کے چہرےپر اطمینان تھا مگر یوشع کا چہرہ بالکل سنجیدہ تھا….. نہ کوئ خوشی تھی نہ ہی کوئ غم…..”

آج یوشع خود ہوسپٹل آیا تھا….. وہ ابھی اپنی گاڑی سے اترا تھا….. اتنا تو اس کو معلوم ہوگیا تھا کہ ماہی اسے کچھ نہیں بتاۓ گی….. کیا سچ میں وہ کسی تکلیف میں ہے یا یہ سب اس کا بس وہم ہے آج وہ یہی پتا کرنے یہاں آیا تھا…. وہ اندر کی طرف بڑھ گیا تھا…… ہوسپٹل اور ڈاکٹر کا نام وہ رپورٹس پر پہلے ہی دیکھ چکا تھا….. کچھ دیر بعد وہ اسی ڈاکٹر کے سامنا تھا جس سے ماہی اپنا چیک اپ کرواتی ہے……
آپکی تعریف……”
یوشع یوسفزئ نام ہے’ آپ یوشع کہی سکتی ہے’ میری وائف ماہین یوشع یوسفزئ آپ سے ہی چیک اپ کرواتی ہے میں کنفرم کرنا چاہتا ہو……” ماریہ کے چہرے پر حیرت ابھری…..
اوہو تو آپ ہے یوشع’ ماہین کے ہسبنڈ آج آپ نے ہوسپٹل کی راہ کیسے دیکھ لی’ ماہین کو ساتھ نہیں لاۓ…….” اس نے سینے پر بازو باندھتے ہوۓ کہا تھا…. یوشع بھی صاف اس کے لہجے میں طنز محسوس کیا تھا…..
میں فالتو ڈسکشن کیلۓ یہاں نہیں آیا میں کچھ جاننے آیا ہو اگر آپ بتادے تو مہربانی ہوگی…….”
کیا جاننا ہے آپ نے جان لے…..”
ماہی کی رپورٹس کے بارے میں…..”
تو یہ سب کچھ تو آپ رپورٹس میں بھی دیکھ سکتے ہیں اس میں سب کچھ لکھا ہے…..”
بالکل وہ رپورٹس میں دیکھ چکا ہو مگر اس میں سب کچھ کلئیر ہے’ میں کسی اور رپورٹس کے بارے میں جاننے آیا ہو’ مجھے معلوم ہے ماہی مجھ سے کچھ چھپارہی ہے اس لۓ اب آپ مجھے بتائے کہ وہ مجھ سے کیا چھپارہی ہے؟؟؟ اگر رپورٹس ساری کلئیر ہے تو اس کو اتنی ویکنس کیوں ہے؟؟ اس کو بار بار چکر کیوں آتے ہیں؟؟؟ اور اب اس کی ناک میں سے بھی خون آنے لگا ہے’ اگر رپورٹس سب کلیئر ہے تو یہ سب کیا ہے؟؟؟؟ اب آپ بتانا پسند کرے گی کہ وہ مجھ سے کیا چھپارہی ہے……”
وہ تم سےکچھ نہیں چھپارہی اگروہ واقعی کچھ چھپارہی ہے تو تمہاری وائف ہے وہ’ وہ خود تمھیں بتادے’اینڈ جہان تک ان سب چیزوں کا سوال ہے تو یہ سب ہر پریگننٹ لڑکی کے ساتھ کامن ہے’ ایسی حالت میں ویکنس ہوتی رہتی ہے جسکی وجہ سے چکر آتے ہیں’ اور ناک میں سے خون کا بہنا یہ تو کسی بھی انسان کے ساتھ ایک نارمل بات ہے’ جتنا میں جانتی تھی اتنا بتاچکی اگر اب بھی آپکو ڈاؤٹ ہے تو آپ ماہی سے خود پوچھے وہ بتادے گی……” یوشع سر کو ہلاتا غصے سے روم سے نکل گیا…… ماریہ نے سکھ کا سانس لیا تھا….. اور پھر اس نے ماہی کو فون کرکے یوشع کے یہاں آنے اور اس کے ساتھ ہوئ تمام گفتگو کے بارے میں بتادیا تھا…..
*

آج ماہی اپنے گھر آئ ہوئ تھی….. آج یوشع خود چھوڑ کر گیا تھا….. علی ابھی آفس نہیں گیا تھا…… وہ علی کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھی تھی….. زینب بھی اپنے گھر گئ ہوئ تھی…… مسزعمران کچن میں آج ماہی کیلۓ خود کوگنگ کررہی تھی اور عمران صاحب آفس گۓ ہوۓ تھے…….
ماشا اللّه آج تو میری گڑیا بہت خوش لگ رہی ہے……”
میں تو خوش ہی رہتی ہو بھائ……” علی نے مسکراتے نفی میں گردن ہلائ……
بہت چھوٹی سی تھی تم ماہی جب سے تمھیں گود میں کھلاتا آرہا ہو’ بچپن سےلےکر اب تک تمہاری ہر خواہش ہر ضرورت کوپورا کرتا آیا ہو’ میری گڑیا کو مجھ سے زیادہ کوئ نہیں جانتا’ تمھیں کیا لگا تھا تم مجھ سے جھوٹ بولتی رہو گی اور مجھے سچائ کا نہیں پتا چلے گا’ شک تو تھا مگر یقین جب ہوگیا تھا جب تمہارے منہ سے نکلا تھا’ اگر یوشع تمھیں خوش رکھ رہا ہوتا یا اس کا بیہیو تمہارے ساتھ صحیح ہوتا تو تم ہواؤں میں اڑتی نظر آتی یو بجھی بجھی سی نہیں’ اورآج جس طرح یوشع خود تمھیں لے کر آیا آج جسطرح وہ تم سے بات کررہا تھا تو اسکی خوشی تمہارے چہرے پر آج صاف ظاہر ہورہی ہے……”
ان کا بیہیو میرے ساتھ ٹھیک ہے بھائ’ میں خوش ہو……”
خوش رہو تمھارے بھائ کی یہی دعا ہے…..” علی نے اس کو اپنے سینے سے لگایا تھا…..
کیا باتیں ہورہی ہے دونوں بہن بھائیوں میں…..”
کچھ نہیں ماما دیکھے نہ جب دیکھو تنگ کرتے رہتے ہیں انہنیں کوئ اور کام نہیں ہے’ آپ اٹھیں اور آفس جاۓ چلے…..”
کیوں بھئ میں تو نہیں جارہا میری بہن اتنے دنوں بعد گھر آئ ہے اور میں آفس پہنچ جاؤ بالکل بھی نہیں…..”
ویسے کیا ہے بھئ بھابھی کو کیوں گھر بھیج دیا’ میں آئ ہو اور وہ نہیں ہے یہاں…..”
تو کیا وہ اپنے گھر نہیں جاسکتی آنٹی آئ تھی اور لے گئ ہے اپنے ساتھ…..”
اچھا…..” ہاں….
تم اس کو چھوڑو ماہی یہ یوہی سر کھاتا رہے گا تم بتاؤ کچھ کھاؤ گی کچھ منگواؤ تمہارے لۓ…….”
نہیں ماما ابھی نہیں…..”
اور پھر وہ اپنی باتوں میں مگن ہوگۓ تھے…..
*

آج سب ایک بار پھر علی کے گھر پر اکٹھے تھے….. زینب کی فیملی ماہی یوشع سب….. کیونکہ آج زاور اس دنیا میں آیا ہے…. آج ہمارا علی بھی باپ بن گیا ہے اور اسی خوشی کے موقع پر آج سب ایک ساتھ تھے….. اسی طرح ماہی کی ڈلیوری میں بھی ایک ڈیڑھ مہینہ باقی رہ گیا تھا……
***

کیا چل رہا ہے آج کل زندگی میں…..” حماد نے یوشع سے پوچھا….. حماد بھی کل ہی آیا تھا علی کی خوشی میں شریک ہونے اور آج وہ یوشع کے گھر پر تھا…. وہ دونوں بالکونی میں کھڑے باتیں کررہے تھے…..
کچھ نہیں کیا چل سکتا ہے گزر رہی ہے زندگی…..”
زندگی تو سب کی گزر جاتی ہے یوشع چاہے اس کو اداسی سے گزارو یا خوشی سے……”
ہممممم…..”
المیرا کی یاد نہیں آتی……”
آتی ہے بہت آتی ہے دن رات آتی ہے’ وہ کبھی سوچوں سے نکلتی ہی نہیں ہے……”
مشکل ہورہا ہوگا ماہی کے ساتھ زندگی گزارنا……”
مشکل ہے مگر ناممکن تو نہیں’ آہستہ آہستہ سب سیٹ ہوجاۓ گا…..”
اچھا ہے تو اس کو اپنانے کی کوشش کررہا ہے میں نے بھی کہا تھا راضی ہوجا اپنا لے اسکو’ مگر تم نے ہی منع کیا تھا’ مگر اب میں خوش ہو……”
اب دل تھوڑا سکون میں ہے جب سے اس کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ہے’ جب سے اس کے ساتھ اپنا بیہیو چینج کیا ہے سکون ہے دل کو بھی اور زندگی میں بھی…..”
دل اگر سکون میں ہو تو ہر چیز میں سکون خود بہ خود محسوس ہوتا ہے یوشع……”
المیرا کی خبر ہے کہ وہ ہے کہاں؟؟؟؟
ہاں دبئ چلی گئ ہے جہانزیب کے پاس’ وہی رہ رہی ہے’ اس کے ماموں سے بات ہوئ تھی انہوں نے بتایا تھا……”
ہاں میں نے بھی پتا کروایا تھا مجھے بھی یہی خبر ملی تھی کہ وہ دبئ چلی گئ ہے……”
یوشع ایک بات پوچھو……”
ہمارے درمیان کبھی کچھ چھپا ہے کیا حماد؟؟؟ جو آج تم اجازت مانگ رہے ہو؟؟؟؟
تم المیرا کو سچائ کیوں نہیں بتادیتے ہو؟؟؟ وہ کب تک تمھیں گنہگار ٹھہراتی رہے گی؟؟؟”
کیسے بتاؤ حماد’ اس نے خود تک پہنچنے کے سارے راستے بند کردیے ہیں’ میں نے ماموں سے کہا تھا اس کا کونٹیکٹ نمبر دے دیں مگر انہوں نے مجھے کہا کہ المیرا نے نمبر دینے سے منع کیا ہے اور یہ بھی کہ خاص میرے لۓ پیغام ہے میں اس سے کبھی رابطہ کرنے کی کوشش نہ کرو’ نہ کبھی اس کے سامنے آکر اس کو اپنی شکل دکھاؤ’ اس کو نفرت ہے اب میرے وجود سے’ وہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی……”
دل دکھتا ہوگا بہت……” حماد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اس سے پوچھا……
بہت دکھتا ہے’ مگر میں ٹھیک ہو……”
تو کیا المیرا کو کبھی سچائ سے آگاہ نہیں کرو گے’ تو کیا وہ ساری زندگی تمھیں یوہی گنہگار سمجھتی رہے گی؟؟؟”
ہمممم اللّه ہے نہ انصاف کرنے والا’ وہ کرے گا نہ بہتر فیصلہ……”
اور ویسے بھی اب تو سوچ رہا ہو ماہی کی ڈیلیوری کے بعد اس کے ساتھ اس شہر سے کہی دور چلا جاؤ بہت دور’ وہاں جاکر اس کے ساتھ ایک اچھی خوشحال زندگی گزارو’ ایک ایسی جگہہ جہاں نہ ہی المیرا کا نام ہو اور نہ ہی اس کی کوئ یاد…..”
پھر کہاں جاؤ گے؟؟؟؟ یوشع نے ایک گہری سانس خارج کی…..
ویل ابھی تو نہیں معلوم’ماہی سے پوچھو گا جہاں وہ کہے چلا جاؤ گا اس کے ساتھ…..”
اہم اہم رن مرید بنتے جارہے ہو’پتا لگ رہا ہے…..” حماد نے گلا کہنکارتے ہوۓ کہا….. یوشع بس ہلکا سا مسکرایا……
ویسے ماہی آج مجھے دیکھ کر ڈر گئ تھی’ اس کے چہرے پر ڈر صاف دکھائ دے رہا تھا’ یونو وہ دن میں نے بتایا تھا……”
حماد اب وہ میری بیوی ہے’ کچھ بھی بولنے سے پہلے سوچ لینا’ ورنہ منہ توڑ دو گا…..”
او آئ سی جیسے اس بار والے کا توڑا تھا’ اووو میں تو ڈر گیا یار……”
اچھا بس کر اپنی نوٹنکی’ آ نماز پڑھنے چلے آذان ہوگئ ہے…..”
اووو ہاں رئیلی یہ بات میں کیسے بھول سکتا ہو آپ تو مولوی بن گۓ ہیں…..”
حماد سٹوپ ربیش یار……”
اوکے اوکے سوری آؤ چلے…..”
ہاں چلو’ اوکے تم اب شادی کب کررہے ہو؟؟؟” وہ باہر کی طرف بڑھتے بات کررہے تھے…..
او یار کیوں جلے پہ نمک چھڑک رہا ہے’ کوئ لڑکی گھاس ہی نہیں ڈالتی…..”
اور یہ بات میں بالکل نہیں ماننے والا کہ کوئ لڑکی تمھیں لفٹ نہ کرواۓ’اچھے خاصے ہینڈسم ہو تم’ مجھے پورا یقین ہے لڑکیاں تو بہت آتی ہوگی مگر تم ہی کسی کو گھاس نہیں ڈالتے ہونگے…….” حماد بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہلکا سا مسکرایا…..
یار ایک دو کو گھاس ڈالی تھی مگر قسمے انہوں نے کھائ ہی نہیں……” یوشع زور کی ہنسی ہنسا تھا…..
یار وہ سچ مچ کی گدھی نہیں ہے جو گھاس کھالے گی’ ہاں بس ذرا سی ان کے پاس عقل کی کمی ہوتی ہے تو ضروری تو نہیں کہ وہ گدھی بن جاۓ گی…..”
اوو آئ سی مجھے تو سب گدھی لگتی ہے…..” وہ دونوں پھر ہنسے تھے…..
ٹھیک ہے یار اب پتا لگا وہ انسان کی بچیاں ہے’ ٹھیک ہے نیکسٹ ٹائم برگر شوارما پزا ڈال کر دیکھو گا’ کیا پتا کھالے……” اور اب کی بار وہ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسے تھے…… آخر حماد کا مزاق رنگ لے ہی آیا تھا یوشع ہنسا تو سہی……
**

جاری ہے_