No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
وقت اپنی رفتار پہ گزررہا تھا…. کیونکہ اس کا کام صرف گزرنا ہے…..
دو دن ہوگۓ تھے دادی کے چالیسویں کو بھی….. کتنا ہی وقت بیت گیا…..
قل کے بعد خان اور خدیجہ دونوں ہی چلے گۓ تھے…. جہانزیب کچھ دن رک گیا تھا…. پھر وہ بھی چلا گیا…. چالیسویں میں کوئ بھی نہیں آیا تھا…. خان خدیجہ جہانزیب…. جہانزیب کو خدیجہ نے روک لیا تھا کہ نہیں جانا…. اور خان المیرا کی وجہ سے نہیں آۓ تھے…..
سب کی زندگی چل رہی تھی گزر رہی تھی…..
اور ان سب میں اگر زندگی رک گئ تھی تو وہ المیرا کی تھی…..
چالیس دن سے وہ گھر میں اکیلی تھی….. کوئ نہیں تھا…. ملازموں کے علاوہ….. علی اور یوشع باقائدہ یہاں آتے رہے ہیں زینب بھی آجاتی تھی اور اکثر وہ یہی المیرا کے پاس رک جاتی…….
وہ سارا دن گھر میں پاگلوں کی طرح پھرتی رہتی تھی…. خالی مکاں کوئ نہیں…. اس کا رونا اب تک بند نہیں ہوا تھا…. وہ سارا سارا دن روتی رہتی…. کبھی دادی کے کمرے میں جاکر ان کی چیزوں کو دیکھ کر روتی رہتی….. تو کبھی چھت پر چلی جاتی…. تو کبھی راتوں کو اکیلے میں سوتے سوتے ڈرجاتی…. زندگی بہت تلخ اور اکیلی ہوگئ تھی جہاں کوئ نہیں تھا….. باپ سے سارے رشتے ختم کردیے تھے….. ماں تھی نہیں…. صرف ایک دادی تھی اسکی اپنی جنہوں نے اس کی پرورش کی…… جو اس کی ماں’ اس کی دادی’ اس کی دوست سب کچھ تھی…..
کتنی اکیلی ہوگئ تھی وہ دادی کے بغیر…..
اسے ایسا لگتا تھا کہ اس دنیاں میں اب کوئ چھاؤں باقی نہیں بچی….. وہ درخت جو اسے ہمیشہ اپنی چھاؤں کی ٹھنڈک میں رکھتا تھا…. سردی گرمی خزاں ہر موسم سے بچاتا تھا….. ہر سختی سے بچاتا تھا…. وہ درخت اب مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے….. یوں معلوم ہوتا کہ اس درخت کے سب پھول پتے مل کر رورہے ہیں….. وہ سب پھول ایک ساتھ ہی مرجھاگۓ ہیں…..
وہ بھی تو مرجھاہی گئ ہے…..
بےشک ایک ماں سے زیادہ کوئ اس دنیا میں آپکو پیار نہیں کرتا اس کی دادی اس کی ماں ہی تو تھی…. جو اسے اپنی ٹھنڈی چھاؤں میں رکھتی تھی…. اس کی ہر موڑ پر رہنمائ کرتی تھی….
ماں ایک ٹھنڈی چھاؤں کی مانند ہے….. جو ہر موسم میں راحت پہنچاتی ہے…..
اس نے تو کھانا پینا بھی بالکل ہی چھوڑ دیا تھا…. ان چالیس دن میں وہ پہلے سے زیادہ کمزور ہوگئ تھی…. رنگت زرد پڑنے لگی تھی….. انکھوں کے نیچے گہرے حلقے پڑگۓ تھے…. رونے کی وجہ سے آنکھیں ہمیشہ سرخ رہتی…. زندگی اسے کہاں لے آئ تھی…. اتنی بےرونق تو وہ کبھی نہیں تھی…. جتنی اب لگتی تھی…. وہ جو ہمیشہ یوشع کے سامنے بولتی رہتی تھی…. اب تو اس نے یوشع کے سامنے بھی بولنا بند کردیا تھا….. وہ جو اس کو دیکھ کر ہمیشہ مسکراتا تھا… وہ لڑکی جس کو دیکھ کر یوشع کے چہرے سے مسکراہٹ جدا نہ ہوتی تھی….. اب اس کی مسکراہٹ اس کی باتوں کیلۓ ترس رہی تھی… کہ وہ کب اس سے بات کرے تو کب اس کے لب مسکراۓ اس کی الٹی سیدھی باتیں سن کے….. یوشع روز یہاں آکر اسے خود کھلاتا تھا….. اور جب بھی وہ بس کھاتی نہیں کھاتی….. وہ اس کی ایک مسکراہٹ کیلۓ کتنا کچھ کرتا کبھی چٹکلے سناتا کبھی کوئ الٹی سیدھی حرکت کردیتا کہ وہ ہنسے…… مگر وہ نہیں ہنستی….. یہ یوشع کی وہ مہرو تو نہیں تھی یہ تو اب کوئ اور ہی تھی…..
کتنی تکلیف یوشع کو ہوتی تھی اس کو یوں اس حال میں دیکھ کر مگر اسے تو فکر ہی نہیں تھی یوشع کی بالکل بھی….. یوشع نے اس سے بات بھی کرنا چاہی تھی خان کے متعلق…. مگر اس نے صاف انکار کردیا تھا کہ مجھے کچھ نہیں سننا…. اور اگر تم نے بات کرنی ہی ہے تو خدا کے واسطے تم بھی یہاں سے چلے جاؤ…..”
اس نے کہا تھا خان سے کہ صرف سمجھاؤ گا’ اگر سن لیا تو ٹھیک ورنہ زبردستی نہیں کرو گا….. اور ایسا ہی اس نے کیا تھا اس نے اس سے بات کی…. اس نے نہیں سنا…. تو پھر دوبارہ یوشع نے بھی کوئ بات نہیں کی…..
اس کی نماز اور دعاؤں کی تعداد لمبی ہوگئ تھی…. گھنٹوں گھنٹوں جاۓ نماز پر بیٹھ کر رو رو کر دعائیں مانگتی رہتی…. تہجد میں بھی یہی حال تھا اس کا ساری ساری رات روتی رہتی سسکتی رہتی…..
کتنا ٹوٹ گئ تھی وہ ایک دادی کے جانے سے کتنی اکیلی ہوگئ تھی وہ…..
اور اسی دوران یوشع شادی کی بھی بات کرچکا تھا مگر جیسا اس نے کہا تھا کہ وہ منع کردیتی ہے….. ایسا ہی ہوا تھا…. اس نے منع کردیا تھا……
اب بھی وہ اپنے روم میں بیٹھی تھی….. وہ اب بھی اداس تھی….. یوشع بھی ابھی آیا تھا….. وہ اسکے سامنے آکر بیٹھا…..
وہ جب جب اس کو دیکھتا دل کی تکلیف بڑھتی تھی…..
یہ اس کی المیرا بالکل نہیں تھی…..
المیرا…..”
اس نے نگاہ اٹھا کر اس کو دیکھا…..
آؤ کہیں باہر چلے تھوڑی دیر کیلۓ……”
میرا موڈ نہیں ہے’ مجھے کہی نہیں جانا…..”
پلیز چل لو…..”
شہری پلیز…..”
آفس ہی آجاؤ یوں کب تک گھر میں رہو گی…..”
جب دل کرے گا آجاؤ گی….”
میں تمھیں فائر کردوں گا…..” اس نے آنکھیں چھوٹی کرکے اس کو گھور کر کہا…..
کردو….”
اسے بہت برا لگا…. اس نے تو صرف مزاق کیا تھا….. اور اس نے کتنی آرام سے کہہ دیا کہ کردو…..
اوکے میں جارہا ہو….” تمھیں کیا میں جیو یا مرو……”
المیرا نے اس کو دیکھا….. وہ بیڈ سے اٹھنے لگا تھا…..
المیرا نے اسکی کلائ تھامی…..
چھوڑ دو المیرا…..”
یوشع نے منہ پھیرے پھیرے کہا…..
وہ چپ رہی…. اس نے اس کی طرف دیکھا…..
اس نے گردن جھکائ ہوئ تھی…..
وہ واپس بیڈ پر بیٹھا…..
المیرا نے اس کے کندھے پر سر ٹکایا…..
مت جاۓ” مجھے اب ڈر لگتا ہے….”
یوشع نے اس کے گرد اپنا بازو پھیلایا….
اسی لۓ تو کہہ رہا ہو گھر سے باہر نکلو گی تو ٹھیک ہوگی” گھر میں رہو گی تو ڈر ہی لگے گا…..”
مجھے دادی کی بہت یاد آتی ہے’ ایک وہی تھی میری وہ بھی مجھے چھوڑ گئ’ آپ تو کبھی نہیں چھوڑے گے نہ…..” اس کی آنکھیں پھر نم ہوئ تھی…..
کوئ اپنی سانسوں سے الگ ہوتا ہے کیا…..” کوئ اپنی زندگی کو چھوڑتا ہے….” تو میں تمھیں کیسے چھوڑسکتا ہو’ اسی لۓ تو کہتا ہو آجاؤ میری زندگی میں میری ہمسفر بن کر…..” مگر تم انکار کردیتی ہو…..”
اس نے جواب نہیں دیا وہ خاموش رہی…..
کل سے آفس آجاؤ’ دیکھنا تم خود ٹھیک ہوجاؤ گی’ تمھارے بغیر آفس ویران ہے’ میں وہاں ہوتا ہو پھر بھی ذہن تمھارے میں اٹکا رہتا ہے کہ تم کیسی ہوگی؟؟ کیا کررہی ہوگی؟؟؟ آفس آؤ گی سارا دن میری نظروں کے سامنے رہو گی’ مجھے بھی سکون رہے گا…..”
کل سے آجاؤں گی…..”
پکا’ وہ خوش ہوا…..
ہممم” ٹھینک یو…..
چلو اٹھو باہر چلتے ہیں موڈ صحیح ہوجاۓ گا…..”
یوشع پلیز میرا موڈ نہیں ہے…”
میں تمھاری اب ایک بھی نہیں سنوں گا’ اٹھو جلدی….
اس نے اس کی کلائ تھام کر کھڑا کرنا چاہا…..
شہری پلیز…..”
یار کیوں تم مجھے ہمیشہ بےبس کردیتی ہو’ اچھا باہر نہیں جانا تو نہ جاؤ مگر اوپر چھت پر تو چلو’ اس روم سے باہر نکلو’ ٹھنڈی تازہ ہوا میں چلو….’ روح کو سکوں مل جاۓ گا…..”
اٹھو…..
وہ اٹھ کھڑئ ہوئ…..
گڈ…..”
وہ اوپر چھت کی طرف بڑھ گۓ تھے…..
یوشع لاؤنج میں صوفے پر آدھا لیٹا آدھا بیٹھا تھا…. پیروں کو قینچی کی صورت شیشے کی میز پر رکھا ہوا تھا….. کشن کو پیٹ پر رکھے سامنے کسی غیر مرئ نقطے کو گھوررہا تھا….. اس کا ذہن اس وقت سوچ بچار کرنے میں لگا تھا…. آج اسے حماد کی باتیں یاد آرہی تھی……
کتنے ہی دن ہوگۓ ہیں مگر ماہی نے اب تک کوئ کھیل نہیں کھیلا’ کیا سچ میں ماہی تم نے کوئ کھیل کھیلنا بھی ہے یا نہیں’ تم نے بھی کہا تھا کہ المیرا کو میرا ہرگز نہیں ہونے دوں گی ہھر چاہے تمھیں کچھ بھی کرنا پڑے’ حماد نے بھی کہا تھا کہ تم کوئ کھیل کھیلوں گی ضرور چپ نہیں رہوں گی……”
وہ دل میں خود سے مخاطب تھا…..
اگر کوئ کھیل کھیلنا ہی ہے تو کب چلو گی اپنی بازی….”
کس موقعے کے انتظار میں ہو تم’
افففف’ اس نے اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرایا….. وہ اب کشن کو گھورتا اپنے ماتھے کو دو انگلیوں سے مسل رہا تھا….
کیا سچ میں تم نے کوئ گیم کھیلنی بھی ہے یا نہیں’ موقعے پر چوکہ تو مارنے کا نہیں سوچ رہی ہوں تم……”
وہ ناچاہتے ہوۓ بھی مسکرا دیا….
اففف ‘ ماہی کیوں کررہی ہو تم ایسا؟ میں نے تو ہمیشہ تمھیں ایک اچھا دوست سمجھا ہے مگر تم میری محبت میں پاگل ہورہی ہو یا شاید جنونی…..
ہممم ٹھیک ہے جو بازی چلنی ہے چل لو’ مگر میں بھی تمھارا کبھی نہیں ہوگا……”
مگر مجھے چین نہیں پڑتا…..”
وہ اپنی مٹھی بناکر دھیرے دھیرے اپنے ماتھے پر ماررہا تھا……
میرا دل پچھلے کئ دنوں سے بہت بےچین ہے’ المیرا میری نظروں کے سامنے ہیں وہ ٹھیک ہے’ مگر پھر کیوں مجھے اتنی بےچینی ہورہی ہے کہ جیسے کچھ غلط ہوگا اور بہت زیادہ غلط ہوگا….” مگر کیا؟؟؟
یا خدا مدد کر اپنے اس گنہگار بندے کی…”
دادی کے چالیسویں کو گزرے دو ہفتے ہوگۓ ہیں’ ہاں اب بس بہت ہوا’ اب المیرا سے بات کرنی ہوگی’ مان گئ تو ٹھیک ورنہ اب زبردستی کرنی پڑے گی’ پیار کی بولی تو وہ سمجھتی نہیں….”
ہاۓےےے نہیں زبردستی کیسے کرسکتا ہو میں؟؟ افففف خدایا!!
ہممم بابا سے کہتا ہو وہ اب المیرا سے بات کرے’ بس اب اور برداشت نہیں ہوتا اب تمھیں میرا ہمسفر بننا ہی پڑے گا’ میرے نکاح میں آنا ہی ہوگا’ وہ بھی جلد از جلد…..” پھر کیا پتا میرے دل کو بھی چین پڑجاۓ جب تم اس گھر میں میری نظروں کے سامنے رہوں گی’ اوکے اب ڈن ہوگیا پیار سے مان گئ تو ٹھیک ورنہ اب زبردستی کرو گا….”
کیا سوچ رہے ہو برخوردار؟؟؟
یوسف صاحب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا….. وہ اپنی سوچوں سے باہر نکلا……
آپ کب آۓ؟؟؟
مجھے پانچ منٹ ہوگۓ ہیں’ مگر میرا بیٹا اتنی گہری سوچ میں گم بیٹھا تھا کہ میری موجودگی کو بھی محسوس نہیں کیا…..”
طنز کررہے ہیں……”
اس نے آنکھیں چھوٹی کی…..
ارے نہیں میں کہاں طنز کرسکتا ہو….”
کیا سوچ رہے تھے…..؟؟
نتھنگ ڈیڈ کچھ خاص نہیں’ اور بزنس کی تو کوئ بھی بات نہیں ہے بزنس کی ٹینشن نہ لینا وہ بالکل پرفیکٹ ہے…..”
آئ ہوپ سو کہ ایسی ویسی کوئ بات نہیں ہوگی…..”
آپ کو مجھ پر یقین نہیں ہے ڈیڈ…..”
سب سے زیادہ تم ہی پر یقین ہے کہ میرا بیٹا کبھی میرا مان ٹوٹنے نہیں دے گا….”
تو پھر ڈیڈ آپ اپنا یہ مان یہ بھروسہ ہمیشہ یوں ہی بناکر رکھیے گا کیونکہ آپ کا بیٹا مرجاۓ گا مگر کبھی آپ کا مان نہیں توڑے گا’ کبھی آپکو کسی کی نظروں میں نہیں گراۓ گا’ آپ کا فخر آپ کا مان ان سب کا بھرم ہمیشہ قائم رکھو گا…..”
میں امید رکھوں گا…..”
اور میں امیدوں کو ٹوٹنے نہیں دیتا آپ جانتے ہیں…..”
یوشع نے گہری سانس خارج کی….
آپ سے ایک بات کرنی تھی…..
آج المیرا گھر آۓ گی’ اس نے کہا تھا…..”
آۓ گی نہیں آ گئ’ وہ دیکھو….”
یوشع نے بھی سامنے کی طرف دیکھا….. وہ سچ میں آرہی ہے…..
چڑیلوں کو یاد کیے ایک سیکنڈ نہیں گزرتا اور پہنچ وقت سے پہلے جاتی ہے جن بھوتوں کی طرح فوراً نازل……” وہ بڑبڑایا…..
یوسف صاحب نے سن لیا….
اس کا کان پکڑا….
آج کے بعد میری بیٹی کو چڑیل مت بولنا ورنہ تمھاری اور میری دشمنی پکی…..”
ڈیڈ…..”اس نے رونی صورت بنائ…..
آپ مجھ سے دشمنی کرے گے…..”
یوسف صاحب مسکراۓ….. اس کا کان چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوۓ….
المیرا نے بھی سن لیا تھا کہ اس نے اسے چڑیل کہا ہے’ اس نے غصے میں صرف یوشع کو گھورا…..
وہ یوسف صاحب کے گلے لگی…..
ایک الگی ہی راحت ملتی ہے جب جب وہ یوسف صاحب کے سینے سے لگتی ہے’ ایک بیٹی کو راحت باپ کے سینے سے لگ کر ہی تو ملتی ہے…..
انہوں نے بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھا…..
کیسی ہے میری بیٹی؟؟ آج اتنے دنوں بعد اپنے بابا کی یاد آگئ….”
سوری بابا….”
کوئ بات نہیں تم آئ تو صحیح آؤ باہر لان میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں….”
یوشع بیٹھا بس ان باپ بیٹی کا پیار دیکھ رہا تھا…..
اور تم سب کیلۓ چاۓ لےکر آؤ….”
ڈیڈ….” یوشع کی آنکھیں حیرت سے پھیلی….
المیرا نے مسکراہٹ دبائ…..
یوشع کو اسکی مسکراہٹ دیکھ کر تپ چڑھی….
ڈیڈ میں میں کیوں لاؤں گا؟؟؟ ملازمہ لاۓ گی….”
وہ اٹھ کھڑا ہوا….
بابا نے جو کہا ہے وہی ہوگا آپ جاکر چاۓ لےکر آۓ سب کیلۓ…..” المیرا نے بھی حکم صادر کیا….
بظاہر تو اس نے منہ بنایا…. مگر دل بہت خوش ہوا تھا کہ المیرا بولی تو سہی….. آج وہ اسکی پہلے والی المیرا بن گئ جیسے وہ پہلے اس پر حکم چلاتی تھی’ آج بھی اس نے ویسے ہی حکم صادر کیا…..
اوکے جیسے آپ دونوں کی مرضی’ لارہا ہوں خوش….”
وہ دونوں مسکراتے باہر کی طرف بڑھ گۓ….
یوشع تیری تو کوئ عزت ہی نہیں ہے یار’ اب صرف یہی دیکھنا رہ گیا تھا’ دی گریٹ یوشع یوسفزئ….”
اس نے کالر جھاڑے…..
وہ آج سب کیلۓ چاۓ لےکر جاۓ گا….”
اسکو اپنی حالت پر رونا آیا…. دل میں سے آواز آئ….
شکر کرو بیٹا یہاں اس ٹائم علی عمران نہیں ہے’ ورنہ اس نے تو ساری زندگی تجھے اس بات کا طعنہ دےدے کر ماردینا تھا….”
یوشع نے جھرجھری لی….
اوکے میں بھی یوشع یوسفزئ ہو’ چاۓ لے کر میں جاؤ گا مگر بناۓ گی سندس….”
سندس(ملازمہ) کو آواز دیتا کچن کی طرف بڑھ گیا…..
وہ دونوں باہر لان میں کرسیوں پر بیٹھے تھے….. یوشع بھی فوراً وہی آکر بیٹھا….
بیٹا چاۓ….”
بابا سندس لارہی ہے نہ پلیز آپ سب کے ساتھ بیٹھنے دے نہ…..”
اس نے بچوں کی طرح کہا…..
آخر یوسف صاحب کو اس پر ترس آہی گیا…..
وہ چپ ہوگۓ….. چند پل کی خاموشی چھاگئ….. سندس چاۓ لے کر آئ….
یوشع کو کافی پسند ہے اس نے اپنا کافی کا مگ اٹھایا….. باقی انہوں نے چاۓ…..
یوشع یک ٹک المیرا کو دیکھ رہا تھا….. المیرا کنفیوژ ہورہی تھی آج اسکی نظروں سے…..
بےشرم کہی کے بابا کا بھی لحاظ نہیں ہے…..”
اس نے دل میں کہا……
مجھے اپنی بیٹی سے ایک بات کرنی ہے اجازت ہے تو کرو…..”
بابا اجازت کی کیا ضرورت ہے کرے نہ آپ نے جو بات کرنی ہے’ مگر انہیں یہاں سے بھیجے یہ یہاں نہیں بیٹھے گے…..”
یوشع کو غصہ چڑھا…. یوسف صاحب مسکراۓ….
بیٹا کارڈ پر لکھ کر دو کہ میری بیٹی نے کیا کہا ہے’ چلو شاباش اٹھو!!! اور جاؤ یہاں سے…..”
بابا” وہ روہانسی ہوا…..
یوشع…..” انہوں نے اسے گھورا…. وہ اٹھ کھڑا ہوا….
آج پھر المیرا کیا آئ وہی ہوا جو ہر بار ہوتا ہے یوشع کی کوئ عزت نہیں’ اب صرف المیرا المیرا ہوگی…. یوشع بیچ میں کہی نہیں….
یوشع کیا بنے گا تمھارا….”
المیرا کی بچی اللّه پوچھے گا تم سے اچھا بھلا دیدار یار ہورہا تھا مگر نہیں جناب کو شرم آتی ہے…..”
وہ آگے بڑھتا خود سے بڑبڑارہا تھا….
اب تو مجھے خود پہ ترس آنے لگا ہے’ المیرا کیا بنے گا تمہارا شادی کے بعد’ مجھے تو لگتا ہے تم تو شرما شرما کر ہی آدھی ادھوری ہوجاؤ گی جبکہ مجھ مین شرم نام کی کوئ چیز نہیں’ مین بہت بڑا بےشرم ہو’ میرا کیا بنے گا’ ہاۓےے….”
وہ خود سے بڑبڑاتا اپنے روم کی بالکونی میں جاکر کھڑا ہوگیا…..
چلو یہاں سے بھی وہ نظر آرہی ہے دیدار یار تو ہورہا ہے…..”
وہ دیکھ رہا تھا ان کے ہونٹ ہل رہے ہیں….. وہ جانتا ہے ڈیڈ نے کیا بات کرنی ہے خان انکل اور اس کی شادی کی……
بیٹا ” مجھے سچ میں بہت افسوس ہوا تھا سن کر جب یوشع نے مجھے سب بتایا…..” میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میری بیٹی اتنا بول سکتی ہے وہ بھی اپنے سگے باپ کو…..”
بابا مجھے ان کے بارے میں کوئ بات نہیں کرنی…..”
یوسف صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا….
میری بھی بات نہیں سنو گی’ کیا میں تمھارا بابا نہیں…..”
المیرا نے ان کا ہاتھ تھاما…..
بابا ایک آپ ہی تو ہے’ جو پیار جو محبت مین اپنے بابا سے ڈیزرو کرتی تھی وہ سب آپسے ملا ہے’ آپ ہی میرے بابا ہے…..”
تو پھر میری بات کو سنو اور سمجھو…..
بیٹا دو مہینے ہوگۓ ہیں’ زہرہ بہن کو دنیا سے گۓ اور دو مہینوں سےتم نے خان سے کوئ بات نہیں کی’ کیا وہ تمھاری محبت کیلۓ نہیں ترس رہا ہوگا’ ایک بیٹی کبھی اپنے سگے باپ سے زیادہ دن ناراض نہیں رہتی’ المیرا بیٹا تمھارا کام پتا ہے کیا تھا’ جب خان تمھارے پاس آیا تھا تو تمھیں اس کے سینے سے لگ جانا تھا کوئ شکوہ’ کوئ شکایت نہیں کرنی تھی’ اس نے جو کیا سو کیا تم نے بھی وہی کیا….”
اس نے نظریں جھکائ….
یوشع بالکونی میں کھڑا گہری نظروں سے ان کو دیکھ رہا تھا….
بیٹا یہ جو خون کے رشتے ہوتے ہیں اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتے’ ان رشتوں میں وقتی طور کی ناراضگی آجاتی ہے مگر ختم نہیں ہوتے’ یہاں تک کہ ختم کردینے سے بھی ختم نہیں ہوتے’ اور ایک سب سے ایمپورٹنٹ بات جو مجھے تمھاری بہت بری لگی تھی…..”
تم نے زہرہ بہن کی موت کا ذمہ دار بھی خان کو ٹھہرایا….”
اس نے اور گردن جھکائ…..
یوسف صاحب نے ایک بار پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھا……
مجھے اس بات پر فخر تھا کہ میری بیٹی دین کی سمجھ بوجھ رکھتی ہے مگر بیٹا تم نے…..”
وہ چپ ہوۓ…..
تم اپنے رب کو بھول گئ’ تم بھول گئ کہ زندگی اور موت کس کے اختیار میں ہے’ بیٹا جب ایک بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو اللّه اسکی آخری لمحے تک کہ وہ کیا حرکتیں کرے گا؟؟ وہ کتنا کھاۓ گا؟؟ کتنا پئیے گا؟؟ کتنی سالٹ’ شوگر کنزیوم کرے گا؟؟ ساری چیزیں اس کی تقدیر پورا پورا اس کے گلے میں ایک تعویز کی صورت لٹکادی جاتی ہے اور ان سب کے بعد جو ایمپورٹنٹ چیز ہوتی ہے اسکی ایج’ وہ بھی سب کچھ پہلے سے’ ایک بچے کے دنیا میں آنے سے پہلے یہ طے ہوتا ہے کہ اسنے کتنی سانسیں لینی ہے کتنی نہیں… ”
بیٹا یہ تو ایک ایسی حقیقت ہے کہ زندگی کی الٹ ہی موت بنتی ہے’ جس سے کوئ انسان نہیں بھاگ سکتا’ موت سے تو بڑے سے بڑا فرعون بھی نہیں بچ پایا’ وہ بھی پانی میں غرق کردیا گیا’ یہاں تک کہ موت والی کیفیت سے تو رسول انبیاء بھی نہیں بچ پاۓ وہ بھی روح قبض کرنے والی کیفیت سے گزرے ہیں’ اس سے کوئ جان نہیں چھڑا سکتا’ جیسے زندگی ایک حقیقت ہے اسی طرح موت بھی ایک حقیقت ہے….”
بیٹا کیا قرآن میں نہیں پڑھا تم نے…..
“ہر نفس نے موت کا مزہ چکھنا ہے” (سورہ آل عمران: 185)
تو میرا بیٹا سب نے ایک دن اس دنیا سے جانا ہے’ کل کو میں جاؤ گا’ یوشع جاۓ گا’ تم جاؤ گی سب جائیں گے’ اور ہم اس دنیا میں سے جانے کا الزام کسی پر نہیں لگا سکتے’ بہت زیادہ غلط کیا بیٹا یہ تم نے جو زہرہ بہن کی موت کا ذمہ دار تم نے خان کو ٹھہرایا….”
بیٹا تم نے اپنے رب کو بھی ناراض کیا….”
یوشع کو نظر آرہا تھا کہ وہ رورہی ہے…..
بیٹا گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا ‘ خان کو احساس ہوا وہ تمھارے پاس آیا مگر وقت اسکے ہاتھوں سے نکل چکا تھا’ تمھارے دل میں خان کیلۓ نفرت پیدا ہونے لگ گئ’ بیٹا جو غلطی خان نے کی وہ تم نہ کرو’ وہ تمھارا باپ ہے’ تم اسکا خون ہو’ تم اسے ایک کال کرو’ تم صرف اس سے اتنا بھی کہو گی نہ کہ بابا آجاۓ تو وہ دوڑا چلا آۓ گا….”
میری بات ہوئ تھی خان سے بیٹا اس کی طبیعت بالکل ٹھیک نہیں ہے…..”
اس نے نگاہیں اٹھائ….
میں سچ کہہ رہا ہو وہ تم سے بات کرنے کیلۓ تڑپ رہا ہے’ ایک بار اس سے بات کرلو کہیں ایسا نہ ہو وقت تمھارے ہاتھوں سے بھی نکل جاۓ اور تم کچھ نہ کرسکو…..”
میں امید کرتا ہو بیٹا کہ تم میری بات کو سمجھو گی’ اکیلے میں بیٹھ کر سوچنا ضرور میری ان سب باتوں کو’ میں امید کرتا ہو بیٹا انشااللّه وہ دن جلد آۓ گا جب تم خان کو بلالو گی……”
اب دوسری بات!!
مجھے امید ہے میری بیٹی اس بات پہ مجھے بالکل مایوس نہیں کرے گی……
خان یہاں نہیں ہے…. زہرہ بہن بھی اب نہیں رہی…. اس گھر میں تم بالکل اکیلی ہوگئ ہو اور تم جانتی ہونہ بیٹا ایک اکیلی عورت کبھی بھی اس دنیا میں سروائیو نہیں کرسکتی’ اسے ایک مضبوط سہارے کی ضرورت ہوتی ہے سروائیو کرنے کیلۓ’ اور وہ مضبوط سہارا ایک شوہر کے علاوہ کسی کا نہیں ہوتا’ ایک مرد اپنی عورت کو اس دنیا کی غلیظ نظروں سے بچا کر رکھتا ہے…..”
اسے وہ سب یاد آیا جو اس کے ساتھ بچپن میں ہوا تھا وہ پندرہ سال کی معصوم بچی…..
مرد جو ہے اس مضبوط درخت کی طرح ہوتا ہے جو جتنی مرضی آندھی طوفان آجاۓ مگر وہ مضبوطی سے کھڑا رہتا ہے’ وہ مضبوط درخت اپنے آس پاس کے لوگوں کو سایہ فراہم کرتا ہے’ اسی طرح عورت کو سایہ ایک مرد کی پناہ میں آنے سے ملتا ہے ورنہ یہ دنیا اتنی ظالم ہے کہ اکیلی عورت کو نوچ لیتی ہے…..” اب اس گھر کو تمھاری ضرورت ہے اس گھر میں آجاؤ’ یوشع سے اب شادی کرلو’ ویسے بھی پانچ مہینے گزرگۓ ہیں تم دونوں کی انگیجمنٹ کو’ تم جانتی ہو میری بھی اب عمر ہوگئ ہے’ میری بھی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی اور کبھی کبھار اس قدر بگڑ جاتی ہے کہ سنبھلنے پہ نہیں آتی اور جب مجھے ایسا لگتا ہے کہ اب میرا وقت آگیا ہے اپنے خالق حقیقی سے ملنے کا’ اس لۓ بیٹا اگلی سانس کا کسی کو علم نہیں ہے کہ اگلی سانس ہم لے گے یا نہیں’ اسی لۓ بیٹا بس میری اب ایک ہی خواہش ہے کہ اس دنیا سے جانے سے پہلے اپنے بیٹے کا گھر بسا ہوا دیکھ لو بس اتنی سی خواہش ہے کہ اپنے پوتے پوتیوں سے کھیل لو…..”
بابا” اس نے نم آنکھوں کپکپاتے ہونٹوں سے پکارا…..
شش بالکل چپ مت رو اور بیچ میں مت بولنا…..”
یوشع تمھارے لۓ پریشان رہتا ہے دن رات اسے تمھاری فکر لگی رہتی ہے’ میری اتنی سی خواہش پوری کردو بیٹا آجاؤ اس گھر میں ‘ اس گھر کو خوشیوں سے بھردو’ میرے یوشع کا گھر بسادو’ اگر تم کہو گی کہ سادگی سے نکاح ہوگا تو ہم وہ بھی کرلے گے’ جیسا میری بیٹی کہے گی سب ویسا ہوگا’ بس ایک بار تم ہاں کردو اب یہ گھر تمھارا منتظر ہے…..”
المیرا نے اثبات میں سرہلایا….
میں تیار ہو بابا آپ رکھ لے شادی کی ڈیٹ مگر دو مہینے کے بعد کی ابھی اتنی جلدی نہیں اور شادی دھوم دھام سے ہی ہوگی مجھے معلوم ہے بابا آپ نے یوشع کی شادی کو لےکر کتنے خواب سجا کر رکھے ہوۓ ہیں’ سب کچھ دھوم دھام سے ہوگا مگر ایک بات آپ میری مان لیجیے گا آپ بابا کو نہیں بتاۓ گے کہ میں شادی کررہی ہو….”
اس نے بجھے دل سے کہا….
بیٹا اب بھی تم غلطی کررہی ہو….”
بابا پلیز….”
آنکھیں نم…..
انہوں نے گہری سانس خارج کی…..
اوکے بیٹا مگر میں امید رکھو گا کہ تم شادی سے پہلے خود خان کو فون کرکے بلاؤ گی…..”
اور اب المیرا کی بس ہوگئ تھی….. وہ یوسف صاحب کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی…..
بس بیٹا بری بات نہیں روتے…..”
وہ کافی دیر یوں ہی ان کے سینے سے لگی بس روتی رہی اور یوشع بالکونی میں بےبس کھڑا اسے روتا ہوا دیکھتا رہا…..
**
جاری ہے
