Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 09

Visal-e-Javedan وصال جاوداں

اسے لے کر کمرے سے ملحقہ اسٹڈی روم کی طرف چل دیا…… اسٹڈی روم میں پہنچ کر ایک صوفے پر بیٹھ کر اس نے وہ ایلبم کھول لیا اور اس میں لگی تصویروں کو دیکھنے لگا’ آج کتنے سالوں بعد اس نے ان پکس کو اس چہرے کو دیکھا ہے….

اس نے ایک پک کو باہر نکالا جس میں وہ اور یوشع ایک ساتھ کھڑے تھے’ یوشع ایک ہاتھ بلیک پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے اور دوسرے ہاتھ میں موبائل کو پکڑے اپنے موبائل پہ جھکا ہوا تھا’ کچھ ٹائپ کرنے میں بزی تھا’ اور ساتھ ہی وہ یوشع کا بازو پکڑے یوشع کو مسکراتی نظروں سے دیکھ رہی تھی”

یوشع نے پک پہ ہاتھ پھیرا اور بے اختیار اس پک کو اپنے سینے میں بھینچا تھا’ شام سے ہوئ بےچینی کو جیسے اب قرار سا مل گیا تھا….. یوشع نے صوفے کی بیک سے ٹیک لگاکر آنکھیں موند لی…..

پک کو ابھی تک سینے سے لگایا ہوا تھا اس کے دل کو قرار مل رہا تھا….

“شروع سے یہی تو ہوتا آرہا تھا جب بھی یوشع بے چین ہوتا’ کسی بات پہ ڈسڑب ہوتا’ وہ یوشع کے گلے لگ کر اسکو سکون دے دیتی تھی اور آج کئ سالوں بعد وہ تو نہ تھی….. مگر اس کی پک نے آج بھی یوشع کو قرار دے دیا تھا…..

ایک بار پھر آنسوں اس کی آنکھوں سے نکل کر بےمول ہوا تھا جن کو چننے والا کوئ نہیں تھا…..

“صرف تصویر رہ گئ باقی

جس میں ہم ایک ساتھ بیٹھے ہیں”💔

******

المیرا بیڈ پر دونوں بازؤں کو گھٹنوں کے گرد فولڈ کیے اس پر سر رکھیں بے آواز رونے میں مصروف تھی…. اس کے آنسوں رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے…..

کتنی ہی ماضی کی یادیں اسکی آنکھوں کے سامنے سے گزر رہی تھی….. کسی فلم کی طرح ایک کے بعد ایک سین چل رہا تھا…. اس کی آنکھوں کے سامنے بس ایک چہرہ آرہا تھا’ اس کو اپنی آخری ملاقات یاد آئ’ جب وہ اس کے سامنے گڑگڑارہا تھا…..”

(آنسوؤں سے اس کی آنکھیں بھری ہوئ تھی’ جس میں سے ایک کے بعد ایک آنسوں اس کے رخسار پر بہہ رہے تھے….. وہ منت کررہا تھا اس کے سامنے’ مت جاؤ المیرا پلیز’ مجھے چھوڑ کر مت جاؤ’ میں نہیں رہ سکتا تمھارے بغیر’

وہ روتے ہوۓ فریاد کررہا تھا’ ہاتھ جوڑ رہا تھا’ پلیز مت جاؤ’ مت جاؤ’ خدا کیلۓ میرا یقین کرو’ میں نے کچھ نہیں کیا المیرا’ میں صرف تم سے محبت کرتا ہو’ میرے دل میں صرف تم ہو’ پلیز میرا یقین کرو’ تمھیں تو اپنے شہری پر یقین ہونا چاہیے’ تمھارا شہری کبھی ایسا نہیں کرسکتا’ وہ رورہا تھا’ تڑپ رہا تھا’ چھوڑ کر نہ جانے کی فریاد کررہا تھا’ مگر وہ “بےحس” بنی اسے روتا’ تڑپتا چھوڑ آئ تھی” اس کے آخری کے الفاظ تھے جب وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا کہہ رہا تھا “میں مرجاؤں گا’ خود کو ختم کرلوں گا’ واپس آجاؤ المیرا)

المیرا نے اپنا چہرہ اوپر اٹھایا اس سے آگے اس میں سوچنے کی ہمت نہیں تھی…..

کیوں کیا شہری تم نے ایسا… تم نے ایک بار بھی میرے بارے میں نہیں سوچا “میرا کیا ہوگا” میں کیسے رہو گی’ میرا تو تمھارے علاوہ کوئ اپنا نہیں تھا…. تمھارے پاس تو سب کچھ تھا” میرے پاس تو صرف تم تھے’ میرے اپنے ہوتے ہوۓ بھی میرے اپنے نہ تھے” تم میرے سب کچھ تھے” کیوں کیا تم نے اس رات ایسا؟؟؟ کیوں اس کی عزت کے ساتھ کھیل گۓ” تم اتنا گر جاؤں گے شہری میں نے کبھی نہیں سوچا تھا’ اور پھر بھی تم چاہتے تھے ‘ میں تمھارے ساتھ رہو” تمھے چھوڑ کر نہ جاؤ….

جب تم نے بےوفائ کی تھی’ آج میں بھی بےوفا بن گئ’ شہری دیکھو’ میں بھی بےوفا بن گئ’ آج صحیح معنوں میں میں نے تمھیں کھودیا’ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ تمھارے علاوہ بھی کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرنا پڑے گا’ آج میں نے خود پہ کسی اور کو حق دے دیا ہے’ آج میں نے تمھیں کھودیا’

وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو بیڈ پر گراۓ ایسے بول رہی تھی جیسے وہ اس کے سامنے موجود ہے’ وہ اس کو سن رہا ہے’

“ہاں وہ موجود ہے یہاں’ اس کے تصوّر میں” وہ تصوّر میں اس سے مخاطب ہے”

اور باہر کھڑی ایمان کا چہرہ بھی آنسوؤں سے تر تھا….. وہ سب سن چکی تھی…. اسے اب المیرا سے کچھ بھی پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی…. ایمان کو اپنے سارے سوالوں کے جواب مل گۓ تھے’ “خود پر کسی کا حق یعنی المیرا نے جہان کو ہاں کہہ دیا ہے’ المیرا کے ہاتھ میں وہ رنگ یقیناً جہان نے پہنائ ہے…. ایمان کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اپنی دوست کی خوشی میں خوش ہو’ یا اس کے اداس ہونے پہ اداس’ اب ایمان سے بھی وہاں کھڑا ہونا دشوار ہورہا تھا…. اس لۓ وہ بھی اب باہر لان کی طرف چل دی…..

*******

صبح اپنے معمول پر ہوئ تھی….. آج کی صبح کسی کیلۓ اداسی کا سبب’ تو کسی کیلۓ یہ خوشیوں کا تحفہ لے کر آئ تھی”

“چاروں طرف فجر کی آذانوں کی آواز گونج رہی تھی”

“اللّه سب سے بڑا ہے…..اللّه سب سے بڑا ہے”

یوشع نے آنکھیں کھولی” وہ اب تک اسی پوزیشن میں بیٹھا تھا….. ایک منٹ کیلۓ بھی آنکھ نہیں لگی تھی…. اس کی سرخ آنکھیں رات بھر جاگنے کی چغلی کھارہی تھی” اب تو اس کی کمر اور گردن بھی ساری رات ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے رہنے کی وجہ سے اکڑ گئ تھی’ اس نے ہاتھوں سے کندھوں پر دباؤ ڈال کر پٹھوں کو ریلیکس کرنا چاہا’ پک کو ایلبم میں واپس رکھا…. مؤذن کی آواز اب بھی چاروں طرف گونج رہی تھی…..

“میں گواہی دیتا ہو کہ اللّه کے سوا کوئ عبادت کے لائق نہیں”

وہ روم میں آیا’ ایلبم کو واپس وارڈروب میں رکھا’

“میں گواہی دیتا ہو کہ اللّه کے سوا کوئ عبادت کے لائق نہیں”

بیڈ تک آیا’ جھک کر میرو کے سر پر پیار کیا’ بلینکٹ صحیح کرنے کے بعد واشروم کی طرف بڑھ گیا’

“میں گواہی دیتا ہو کہ محمّد اللّه کے رسول ہیں”

“میں گواہی دیتا ہو کہ محمد اللّه کے رسول ہیں”

وہ واشروم سےباہر نکلا….. کف کہنیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا…. کہنیاں پانی سے بھیگی ہوئ تھی…. اس کامطلب تھا وہ وضو کرکے آیا ہے….

“نماز کی طرف آؤ’ نماز کی طرف آؤ…”

اس نے مصلحہ اٹھایا’ اور قبلہ رخ بچھاکر اس پہ کھڑا ہوگیا”

“فلاح کی طرف آؤ’ فلاح کی طرف آؤ….”

اس نے نیت باندھی’ اللّه اکبر کہتا’ سینے پر ہاتھ باندھے’ گردن جھکا کر کھڑا ہوگیا…..’

“نماز نیند سے بہتر ہے’ نماز نیند سے بہتر ہے…”

وہ اب رکوع میں جھک رہا تھا’ اور تھوڑی دیر بعد سیدھا ہوکر کھڑا ہوگیا”

“اللّه سب سے بڑا ہے….. اللّه سب سے بڑا ہے”

وہ تسمیع_و_تمحید کے بعد اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوگیا”

“اللّه کے سوا کوئ عبادت کے لائق نہیں”

مؤذن کی آواز دم توڑ گئ…..لوگ اپنے رب کو یاد کرنے میں مصروف ہوگۓ…..

______________

دوسری طرف المیرا بھی اپنے رب کو یاد کرنے میں مصروف تھی….. اس کی آنکھیں لال انگارہ ہورہی تھی…… رات بھر نہ سونے کی چغلی کھارہی تھی… وہ چپ تھی…. اس کی آنکھیں خشک تھی….. شاید اب تو آنسوں بھی ختم ہوگۓ تھے….

رات بھر ایمان بھی روم میں نہیں آئ تھی…..

المیرا نے دعا کیلۓ ہاتھ اٹھاۓ……

“یااللّه میں نہیں جانتی آپ نے کیوں شہری کو میری زندگی میں بھیجا تھا… اگر جہان کو ہی میرا نصیب بنانا تھا تو کیوں میرے دل میں شہری کی محبت ڈالی تھی….. یااللّه میں نہیں جانتی میں نے شہری کو جواب دے کر صحیح کیا ہے یا غلط…. مگر میرا دل خوش نہیں ہے….. میرا دل راضی نہیں ہورہا بالکل بھی….. یااللّه تو سب سے بہتر جانتا ہے کہ ہمارے حق میں کیا بہتر ہے’ کیا نہیں’ اگر جہان ہی اب میرا نصیب ہے تو یااللّه شہری کو اس دل سے نکال دے…. مجھے سکون دے دیں یارب….. میں تیری رضا میں راضی ہونا چاہتی ہو…. مجھے اپنی رضا میں راضی کردے…. میرے دل کو سکون دے دیں….

یااللّه آپ نے ہر موڑ پر میری مدد کی ہے’ ہر دفعہ مجھے اس دنیا کے سامنے رسوا ہونے بچایا ہے’ اب بھی میری مدد کر’ میں اپنا فیصلہ تجھ پر چھوڑتی ہو یارب’ جو میرے حق میں بہتر ہے’ وہ مجھے دے دیں’ اور جو میرے حق میں بہتر نہیں ہے اس چیز کو مجھ سے دور کردے”

المیرا کی دعا ختم ہوگئ تھی….. اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرا……

اس کی آنکھیں اب بھی خشک تھی…. اور اس کے دل کو قرار مل رہا تھا…..

_______________

ہر بار کی طرح آج بھی المیرا نے اپنا فیصلہ اپنے رب پر چھوڑ دیا تھا….. وہ شروع سے ہی اپنے فیصلے اپنے رب پر چھوڑتی آئ تھی اور بیشک وہ رب تو ہمیں ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے’ تو کیسے وہ اپنے بندے کو تکلیف میں دیکھ سکتا ہے’ اپنے فیصلے بس اس رب پر چھوڑدے…. وہ تمھیں کبھی مایوس نہیں کرے گا…. وہ تمھارے لۓ بہترین کرے گا’ کیونکہ وہ کرسکتا ہے’ اس کے سوا کوئ نہیں جو ہمارے دلوں کو سکون دے’ اور یہی المیرا بھی کرتی تھی شروع سے وہ اپنے رب سے سکون مانگتی تھی اور وہ رب اس کو سکون دیتا تھا….

ایک آیت میں بھی ہے کہ:

” بےشک اللّه کی یاد میں ہی دلوں کو سکون اور اطمینان ملتا ہے” (الرعد:28)

بس ایک دعا جو المیرا کی پوری نہیں ہوتی تھی وہ تھی شہری کو بھولنا’شاید وہ دل سے اس دعا کو مانگتی ہی نہیں تھی’ شاید وہ کبھی شہری کو بھولنا ہی نہیں چاہتی تھی…. ورنہ ایسے کیسے ہوسکتا ہے ہم رو رو کر کوئ دل سے دعا مانگے اور وہ پوری نہ ہو…”

******

ایمان بھی اپنے رب کے حضور دعا کیلۓ ہاتھ اٹھاۓ بیٹھی تھی…. وہ رو رہی تھی…. اس کے ہونٹ ساکت تھے…. وہ دل میں اپنے رب سے مخاطب تھی….. کیا مانگ رہی تھی کچھ نہیں معلوم….. سواۓ اس رب کی ذات کے…..

“بےشک ہم تمھاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے(ق:16)

*******

یوشع جاۓنماز تہہ کررہا تھا…. اس نے دعا نہیں مانگی تھی…. دعا کیلۓ ہاتھ اٹھاۓ مگر الفاظوں نے ساتھ نہ دیا توبغیر دعا مانگے اٹھ گیا”

_________________جاری ہے________________