Visal-e-Javedan by Malaika Sheikh readelle50001 Episode 54 2nd Last
No Download Link
Rate this Novel
Episode 54 2nd Last
یوشع ٹیرس پر کھڑا تھا…. ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی…. المیرا بھی یہی آگئ…. اس وقت یہاں ان دونوں کے علاوہ کوئ نہیں تھا…. وہ آج بھی گھر آئ ہوئ تھی علی ہی لایا تھا کہ چلو……. وہ اسی کے برابر میں آکر کھڑی ہوگئ……
شادی کررہی ہو…..” یوشع نے آسمان کو تکتے ہوۓ کہا….
کیا تم خوش ہو…..” المیرا نے پوچھا…..
ہاں میں بہت خوش ہو’ مجھے کیا ہونا ہے……” المیرا کو دیکھ کر جواب دیا……
اچھی بات ہے تمھیں بھی لائف میں اب آگے بڑھ جانا چاہیے’ جہان ایک اچھا انسان ہے خوش رکھے گا تمھیں’ اور میں بھی تو لائف میں آگے بڑھ گیا ہو’ اور میں اپنے بیٹے کے ساتھ بہت خوش ہو’ تم بھی خوش رہو……”
ہنہ تم خوش ہو…..” المیرا طنزیہ مسکرائ…..
میں کیسے خوش رہ سکتی ہو…..” یوشع نے ناسمجھی سے اس کو دیکھا…..
تم نہیں سمجھ سکتے یوشع……” وہ جانے کیلۓ مڑگئ….
یوشع اس کو جاتا دیکھتا رہا….. وہ بھی ہلکا سا مسکرایا….
تم نہیں سمجھ سکتی المیرا بہت درد ہوتا ہے……”
**
رات کا پہر تھا……. بادل سے ہر طرف پھیلے ہوۓ تھے…… المیرا روڈ پر کھڑی رکشے کا ویٹ کررہی تھی….. رات بھی کافی ہورہی تھی….. یوشع کی گاڑی اس کے پاس رکی…..
یہاں اتنی رات کو کیا کررہی ہو؟؟؟؟”
آٹو کے ویٹ میں ہو’ آج آفس میں لیٹ ہوگیا تھا’ اور آج میں گاڑی بھی نہیں لائ تھی اپنے ساتھ’ ایمان ہی مجھے چھوڑ گئ تھی’ ایمان کو کال کرنے لگی تو موبائل بھی سوئچ آف ہے میرا……” المیرا نے تفصیل بتائ…..
بیٹھو’ میں چھوڑ دیتا ہو گھر…..” وہ بھی بنا چوں چرا کۓ بیٹھ گئ….. یوشع نے گاڑی سٹارٹ کی….. گاڑی میں آڈیو پلئیر پہ سونگ چل رہا تھا……
جانے ہر بار میرے ساتھ کیوں ہوجاتا ہے’
میں جسے چاہتا ہو مجھ سے وہ کھوجاتا ہے’
اس میں میری خطا کیا کوئ مجھ کو بتاۓ’
پیار کرنے کی اتنی کیوں سزا دل یہ پائیں’
ایک چبھن دل میں اٹھی’ اس کے ہونٹوں پہ ہنسی’
قسمت کیا پائ’ جس پہ اعتبار کیا تھا وہ ہے ہرجائ’
تھوڑا سا پیار ہوا تھا کچھ نہیں باقی”
اور پھر ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے یہ سونگ ان کے دل کی ترجمانی کررہا تھا جو وہ زبان سے کہہ نہیں پارہے تھے وہ سب یہ سونگ کہہ رہا تھا…… اس نے تو بس پیار کیا تھا تو کیوں ان کو اتنی سزائیں ملی ہے’ کیوں ان کے حصے میں جدائی آئ ہے’ اس نے بھی تو بس المیرا سے عشق کیا تھا تو کیا عشق کرنے والوں کی زندگی میں اتنی ہی مشکلیں آتی ہے’ انہیں ہجر کا وصال خود ہی جھیلنا پڑتا ہے’ اس کا سب کچھ تو اس سے چھین لیا گیا’ اب اور کتنا چھینے گی یہ زندگی ان سے…….
ساتھ چھوڑا ہے تم نے’ اپنی راہیں بدل کر
جا سکوں تو جاؤ’ تم میرے دل سے نکل کر
اففف نہیں میں کرو گا’ سارے آنسو پی لوں گا
میرے بن تم جیو گی’ تیرے بن میں جیو گا
بیوفائ کی ڈگر’ اووو تم کو راس آۓ مگر ہونے دے میری تباہی
وعدہ جو تم نے کیا تھا وہ نبھا نہیں پائ
وعدہ جو تم نے کیا تھا نبھا نہیں پائ
تھوڑاسا پیار ہوا تھا کچھ نہیں باقی”
انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ساتھ جیے گے آخری سانس تک’ ایک دوسرے کا ساتھ دے گے… مگر آج وہ جدا جدا تھے…. ایک دوسرے کی دسترس سے بہت دور تھے….. دونوں کی راہیں الگ الگ تھی’ کوئ بھی کسی کو نہیں بھولا پارہا تھا’ کیونکہ محبت اتنی آسانی سے بھولی جاتی ہے کیا’ ہمیں لگتا ہے کہ ہم اس کو بھول چکے ہیں مگر ایسا نہیں ہوتا محبت کو ہم کبھی نہیں بھولتے’ وہ دل کے کسی نہ کسی کونے میں قید ہوتی ہے’ کہیں نہ کہیں محبت کی کسک باقی رہتی ہے…….”
اب کیا کہوں میں کسی سے’ میں نے آنسو چھپاۓ ان لبوں کی ہنسی میں”
المیرا اپنے آنسو ضبط کرتی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی…..
دل نے تو کچھ چاہا تھا اور کچھ ہوگیا ہے’ میری پلکوں کا سپنا اب کہیں کھوگیا ہے”
انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کے خواب دیکھے تھے’ مگر قسمت کی ستم ظریفی کہ خواب ٹوٹ گۓ تھے……
میری آنکھوں میں نمی’ اس میں ہوگی نہ کمی’
چھائ چہرے پر اداسی’ جس سے اقرار ہوا تھا’ چھوٹا وہ ساتھی”
المیرا نے منہ پر ہاتھ رکھ کر خود کو رونے سے روکا’ یوشع کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھوٹ ہی تو گیا تھا…… ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر لڑھکا…..
تم نہیں ہو یا پر تیرا احساس مگر ہے’
دل کی دیواریں سوہنی کیا تجھے اس کی خبر ہے’
کوئ آہٹ ہوتی ہے یوں لگے تم آئ ہو’
بھول کر ساری باتیں ساری خوشیاں لائ ہو’
جب میرا ٹوٹا بھرم تیری پرچھائ تھی گم’
رہ گئ ہے تنہائ”
یوشع نے بھی خود پر ضبط کیا….. المیرا کے سامنے وہ رونا نہیں چاہتا….. وہ کیسے بتاۓ اس کو اس کا دل مررہا ہے اس کے بغیر’ اس کا دل مچل رہا ہے اس کو پانے کیلۓ’ اس کے پاس فقط رات کی تنہائیوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے’ اس کو بھی اب اس کا ساتھ چاہیے’ کیسے بتاۓ وہ المیرا کو………..
یاد سو بار کیا ہے پر تم نہیں آئ”
المیرا نے آڈیو پلئیر آف کردیا…. اس سے زیادہ سننے کی اس میں ہمت نہیں تھی….. یوشع نے بھی آنسو کو باہر آنے سے روکا….. گاڑی میں گہری خاموشی چھاگئ تھی…. کچھ دیر بعد یوشع نے گاڑی روکی…. المیرا نے آنسو صاف کۓ……
جاؤ المیرا…..” المیرا نے یوشع کی آواز میں نمی محسوس کی…
یوشع میری بات…….”
المیرا ہری اپ گو…..” یوشع نے سٹئیرنگ پر گرفت سخت کرتے بولا….. کیونکہ اس کی ہمت اب جواب دے گئ تھی…. المیرا کی آنکھ سے ایک بار پھر موتی برسا…..
یوشع پلیز…..”
المیرا پلیز جاؤ یار……” اس کی بس ہوگئ تھی…. اس نے بےبسی کے عالم میں کہا….. ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر سے لڑھکتا داڑھی میں جزب ہوگیا تھا….. اس نے خود کے وجود کو ڈھیلا چھوڑ دیا…… سٹئیرنگ پر گرفت ہلکی ہوگئ اور پھر وہ سٹئیرنگ پر بازو ٹکاۓ اس میں منہ چھپاتا پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا….. وہ آج دوسری بار المیرا کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رورہا تھا…..
یوشع پلیز’ یوشع مت مت رو پلیز……” المیرا نے یوشع کے کندھے پر ہاتھ رکھا….. مگر وہ روتا رہا…..
یوشع پلیز خدا کے واسطے مت رو…..” اس نے کندھے پر گرفت سخت کی تھی… اس کے خود بھی آنکھوں سے آنسو جاری تھے…..
یوشع تمھیں میری قسم پلیز چپ ہوجاؤ’ پلیز پلیز……” دونوں میں سے کوئ بھی چپ نہیں ہوا….. المیرا نے اپنا سر اس کے کندھے پر ٹکایا…..
یوشع پلیز’ مجھ پر تھوڑا رحم کھالو’ پلیز……”
کچھ دیر بعد وہ چپ ہوگیا تھا…. دل کا بوجھ تھوڑا ہلکا ہوگیا تھا رونے سے….. وہ سیدھا ہوکر بیٹھا….. اپنے آنسو صاف کۓ…… اس نے المیرا کی طرف ایک بار بھی نہیں دیکھا…. اس نے سٹئیرنگ پر گرفت سخت کی تھی….
یوشع پلیز تم بھی بڑھ جاؤ اپنی لائف میں آگے’ مت کرو خود کی زندگی کو برباد’ ہمارا قسمت میں ایک ہونا نہیں لکھا’ پلیز شادی کرلو…..”
المیرا اترو اور جاؤ’ میں مزید کچھ نہیں سننا چاہتا…..” اس کی نظریں اب بھی سٹئیرنگ پر جمی تھی…..
المیرا میں لاسٹ ٹائم بول رہا ہو اترو اور جاؤ…..” وہ چند پل بیٹھی اس کو دیکھتی رہی اور پھر اپنے آنسو اندر اتارتی وہ گاڑی سے اترگئ….. یوشع نے گاڑی سٹارٹ کی…. المیرا نے قدم آگے بڑھاۓ….. یوشع نے اب نگاہیں اٹھا کر المیرا کو خود سے دور جاتے دیکھا….. المیرا کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے…. یوشع نے دیکھا تھا اس نے دروازہ کھٹکھٹایا…. ایمان نے دروازہ کھولا….. وہ المیرا کو دیکھ کر پریشان ہوگئ تھی اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا….. یوشع نے ایک بار پھر خود پر ضبط کیا تھا اور زن سے گاڑی آگے بھگا لے گیا…….
***********************
المیرا جہان کے ساتھ یوشع کے گھر آئ تھی….. علی زینب دونوں لاؤنج میں بیٹھے باتیں کررہے تھے…. وہ دونوں المیرا اور جہان کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوۓ…… سلام دعا کی گئ….. المیرا نے بیگ سے ایک کارڈ نکالا……
بھائ یہ ہماری شادی کا کارڈ ہے’ سب کو دے دۓ تھے بس آپ سب رہ گۓ تھے’ تو جہان نے کہا کہ ہم ساتھ چلتے ہیں کارڈ دینے’ اس لۓ یہ کارڈ لے کر آئیں ہے’ آپ سب پلیز ضرور آئیں گا……” المیرا نے بہت آرام سے سوچ کر کہا….. اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کس طرح سے انہیں کہے….. اور اس وقت علی کا دل کررہا تھا کہ وہ المیرا کی اتنی دیدہ دلیری پر اس کو شاباشی دے….. وہ کتنی آسانی سے شادی کا کارڈ لے کر آگئ اور کتنے آرام سے وہ ان کو انوائٹ بھی کررہی ہے…… علی نے کارڈ ہاتھ میں نہیں پکڑا…. مگر المیرا منتظر تھی کہ وہ کارڈ پکڑلے کیونکہ جہان بھی علی کو ہی دیکھ رہا تھا……
بھائ پلیز…..”
سوری میں کارڈ نہیں لو گا……” زینب خاموش تھی مگر المیرا کا دل ٹوٹ رہا تھا……
ایک کام کرو یوشع اوپر اپنے روم میں ہے’ ہادی کی بھی طبیعت خراب ہے’ میں نے بتایا تھا نہ’ اوپر جاکر یوشع کو خود انوائٹ کرو’ اور ہادی کا بھی پوچھ لینا……” علی نے مکسراتے ہوۓ کہا….. مگر علی کا چبھتا ہوا لہجہ المیرا سمجھ گئ تھی…. جہان نے محسوس نہیں کیا…..
میں ہادی کا پوچھ کر آتی ہو…..” وہ اٹھ کھڑی ہوئ…. پیچھے علی جہان سے باتوں میں لگ گیا تھا….. المیرا یوشع کے روم میں داخل ہوئ….. وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کرکے بیٹھا تھا…… ساتھ میں ہادی بھی سورہا تھا…. یوشع اس کے بالوں میں ہاتھ پھر رہا تھا…. یوشع نے المیرا کی موجودگی کو محسوس کرتے آنکھیں کھولی….. سامنے ہی وہ کھڑی تھی…..
ہادی کی طبیعت کیسی ہے’ مجھے بھائ نے بتایا تھا ہادی کے بارے میں…..” یوشع سیدھا ہوکر بیٹھا…..
شکر ہے اللّه کا اب بہتر ہے…….” المیرا نے ہادی کے سر پر بوسہ دیا…..
یوشع یہ شادی کا کارڈ ہے میری اور جہان کی’ میں بھائ کو دے رہی تھی مگر انہوں نے کہا کہ آپ کو دے دوں…….”
کب ہے نکاح……” یوشع نے ایسے پوچھا جیسے اس کو کوئ فرق ہی نہیں پڑتا
اس جمعہ کو ہے تم آؤ گے یوشع……”
دل جلانے کیلۓ بلارہی ہو نہ’ المیرا تم اتنی آسانی سے کیسے کہہ سکتی ہو کہ تم آؤ گے’ یار اگر مارنا ہے مجھے تو ایک ہی دفعہ کیوں نہیں ماردیتی’ ہر لمحہ ہر پل تڑپا تڑپا کر مارنا ضرور ہے کیا؟؟؟؟”
یوشع میں کیوں مارو گی……” یوشع قدم قدم چلتا المیرا کے قریب آیا….. اس کو بازوؤں سے تھاما…..
المیرا اب بس بہت ہوا’ اب اور میں تم سے کچھ نہیں چھپا سکتا’ مجھ سے نہیں رہا جارہا تمھارے بغیر’ پلیز مجھے سنو اور سمجھنے کی کوشش کرو’ میں نہیں رہ سکتا تمھارے بغیر……” یوشع کی آنکھوں میں آنسو آۓ تھے…..
یوشع چھوڑو مجھے’ جانے دو…..”
نہیں میں آج تمھیں کہی نہیں جانے دوں گا’ تم میرے ساتھ رہو گی…..” یوشع اس کے اور قریب ہوا تھا…..
ہم شادی کرلے گے’ اپنا سارا پاسٹ بھولا دے گے’ اور یہاں سے سب سے کہی دور چلے جاۓ گے’ ہم ایک ساتھ خوش رہے گے’ تم میں اور ہادی پلیز المیرا آجاؤ واپس جہان کو چھوڑ دو…..” یوشع نے اپنا سر المیرا کے ماتھے سے ٹکایا….. اپنا انگوٹھا اس کے گال پر رب کرنے لگا…..
یوشع دور ہٹو مجھ سے……”
نہی نہیں میں آج تمھیں کہی نہیں جانے دو گا’ مجھ سے اب اور برداشت نہیں ہوتا’ میں مرجاؤ گا یار تمھارے بغیر’ میں تمھیں کسی اور کی دسترس میں نہیں دیکھ سکتا’ پلیز جہان کو سب کچھ بتادو پلیز پلیز’ واپس آجاؤ ہم خوش رہے گے ایک ساتھ ہمیشہ’ میں تمھارا بہت خیال رکھو گا’ تمھیں کبھی کوئ غم نہیں دو گا’ مگر پلیز لوٹ آؤ’ مجھے سمجھنے کی کوشش کرو المیرا پلیز’ میں بہت تکلیف میں ہو’ اور ان تکلیفوں کو بس تم ہی ختم کرسکتی ہو’ پلیز لوٹ آؤ……” یوشع المیرا کے گلے لگا……
یوشع دور ہٹو مجھ سے سمجھ نہیں آتی ایک دفعہ کی……” المیرا نے اس کو خود سے دور دھکیلا…. المیرا کی بھی آنکھوں میں آنسو آۓ تھے……
تم خودغرض بن رہے ہو یوشع’ تم بس اپنی خوشیاں چاہتے ہو’ مگر میں تمھاری طرح خودغرض نہیں ہو’ تم چاہتے ہو میں ایک ایسے انسان کو چھوڑ دو جس نے مجھے دوبارہ جینا سکھایا’ جو اپنی فیملی سے زیادہ خود سے زیادہ میری عزت کرتا ہے……” المیرا نے آنسو صاف کۓ…..
نہیں یوشع میں خودغرض نہیں ہو’ میں اپنی خوشیوں کی خاطر کسی کی خوشیاں نہیں چھین سکتی’ ہاں میں کرتی ہو تم سے بہت محبت’ بہت زیادہ’ اور شاید کرتی رہو گی’ مگر میں جہان کا دل نہیں توڑ سکتی’ وہ بہت محبت کرتا ہے مجھ سے بہت زیادہ’ میں اس کا دل نہیں توڑ سکتی……”
المیرا میں خودغرض’ ٹھیک ہے ہاں بن رہا ہو خودغرض تو اور کیا کرو بتاؤ’ خودغرض نہ بنو تو اور کیا کرو’ مجھےبھی خوشیاں چاہیے یار تمھارا ساتھ چاہیے’ نہیں رہا جاتا تمھارے بغیر’ کیوں نہیں سمجھتی تم…..”
ہمارا نصیب ایک ساتھ نہیں ہے یوشع’ پاسٹ میں جو ہوا تم وہ بھول جاؤ’ اگے بڑھو اور بھول جاؤ کہ تم نے کسی المیرا سے پیار کیا تھا’ میں بھی بھول جاؤ گی تمھیں کہ میں نے بھی کسی یوشع کو بہت چاہا ہے’ اگر ہمیں آگے بڑھنا ہے نہ یوشع تو ہمیں اپنے پاسٹ کو بھولنا ہوگا’ ہم آج کے بعد دوبارہ کبھی نہیں ملے گے’ بھول جانا کہ تم نے کبھی کسی سے عشق کیا تھا’ خدا حافظ……” وہ آنسو صاف کرتی جانے کیلۓ مڑگئ……
المیرا مجھے بھولنا تمھارے لۓ اتنا آسان ہے کیا؟؟ اگر کسی کو بھولنا اتنا آسان ہوتا تو تم اپنی لائف کے پانچ سال میری یادوں کے سہارے برباد نہ کرتی’ کب کا اپنی لائف میں آگے بڑھ چکی ہوتی……” المیرا ان سنی کرتی آگے بڑھ گئ…….
آنٹی…..” ہادی اٹھ گیا تھا…. یوشع نے فوراً آنسو صاف کۓ…… المیرا نے بھی اپنے آنسو پیۓ…..
آنٹی آپ مجھ سے ملے بغیر جارہی ہے…..” وہ خود کو نارمل کرتی واپس مڑی…..
نہیں بیٹا آپ سے ملے بغیر جاسکتی ہو کیا؟؟؟؟” وہ بیڈ تک آئ…. یوشع روم سے باہر نکل گیا….. المیرا نے ہادی کو اپنی گود میں اٹھایا….
آنٹی آپ رو کیوں رہی ہے؟؟؟”
نہیں بیٹا وہ بس آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا’ اب ٹھیک ہو میں…..” یوشع کے قدم دروازے کے باہر رک گۓ تھے….. باہر جہان کھڑا تھا….. جس کی آنکھوں میں حیرانگی کے ساتھ شاید نمی بھی تھی……
سن لیا سب کچھ…..” یوشع نے کہا….. جہان کچھ نہیں بول پایا…..
چھوڑ نہیں سکتے اس کو……” جہان نے نفی میں گردن ہلائ……
ایک بات کہو جہان المیرا بہت اچھی ہے’ دل کی بہت صاف ہے’ آج تم اس کو اپنا بنا بھی لو گے’ اس کے ساتھ شاید خوش بھی رہ لو گے’ مگر اس کے دل میں آخری سانس تک صرف میرے لۓ محبت رہے گی’ اس کا جسم اس کا وجود تمھارے پاس ضرور ہوگا’ مگر اس کی روح کہی میرے آس پاس ہی بھٹکتی رہے گی’ تم اس کو اپنا بنا کر بھی کبھی اپنا نہیں بنا پاؤ گے…..” یوشع اس کی سائڈ سے ہوتا آگے بڑھ گیا….. مگر جہان کو کئ سوچوں میں منتقل کرگیا تھا……
___________
میرے شہزادے کی طبیعت کیسی ہے….”
بخار ہے….” ہادی نے منہ بنایا….
اور آپکو پتا ہے آنٹی بابا اتنی کڑوی دوائ پلادیتے ہیں’ میرا دل نہیں کرتا پینے کو…..” المیرا ہلکا سا مسکرائ…..
اگر دوائ نہیں پیو گے تو ٹھیک کیسے ہوگے’ جلدی جلدی ٹھیک بھی تو ہونا ہے نہ…..” ہادی نے ہاں میں سر ہلایا…..
آنٹی کیا میں آپکو ماما بلاسکتا ہو…..” المیرا ایک ہی دم خاموش ہوگئ….. اسے ماہی کی باتیں یاد آنے لگی کہ ہادی کو المیرا کو دے دینا وہ اس کا سگی ماں سے بڑھ کر خیال رکھے گی……
آنٹی بتاۓ نہ میں آپکو ماما بلاسکتا ہو’ میرے سب دوستوں کی ماما ہے’ وہ سب مجھ سے کہتے ہیں کہ میری ماما نہیں ہے’ مگر آپکو پتا ہے میں ان سے کہتا ہو کہ میرے پاس بڑی ماما ہے ‘ مگر میں آپکو ماما بلانا چاہتا ہو’ بابا بھی کہتے ہیں میری ماما اللّه پاک کے پاس چلی گئ ہے میری کوئ ماما نہیں بنے گی’ میں بابا کو بتاؤ گا کہ آپ میری ماما ہے……” المیرا نے نم آنکھوں سے اثبات میں سر ہلایا……
سچی میں آپکو ماما بلاسکتا ہو…..”
جی بلاسکتے ہیں…..” المیرا نے ہادی کا ماتھا چوما…….
*
یوشع یار المیرا شادی کررہی ہے اور تم کیسے اتنے آرام سے بیٹھے رہ سکتے ہو’ یا تمھاری محبت تمھاری چاہت اس کیلۓ ختم ہوگئ ہے……”
علی اس نے مجھے کہا کہ میں خودغرض بن رہا ہو’ میں بس اپنی خوشیاں دیکھ رہا ہو……”
یہ المیرا نے کہا؟؟؟”
ہاں…..” یوشع نے اثبات میں سر ہلایا…..
صرف دو دن رہ گۓ ہیں اس کے نکاح میں’ ٹھیک ہے یوشع میں آتا ہو تھوڑی دیر تک کچھ کام کرکے……”
کہاں پر کیسا کام؟؟؟؟” علی ہلکا سا مسکرایا….
ہیں کوئ کام آتا ہو تھوڑی دیر تک…..” وہ یوشع کا کندھا تھپتھپاتا باہر نکل گیا…..
___________
جب سے جہان نے المیرا اور یوشع کی گفتگو سنی تھی جب سے وہ ڈسٹرب تھا….. اسے پتا نہیں کیوں مگر پہلے بھی کچھ شک ہوا تھا جب وہ مال کے باہر علی اور یوشع سے ملے تھے….. یوشع کا المیرا کو دیکھ کر مبارک باد دینا…. مبارک باد دیتے وقت اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی اور تھکن تھی….. پتا نہیں کیوں مگر وہ بےچین تھا اور اب یوشع اور المیرا کی گفتگو اس کے شک کو یقین میں بدل گئ تھی…..
المیرا کے الفاظ کہ ہاں میں کرتی ہو تم سے محبت اور شاید کرتی رہو گی’ اس کو پل پل بےچین کررہے تھے….. وہ خود کو خوش قسمت سجھ رہا تھا کہ شاید المیرا کی زندگی میں وہ آنے والا پہلا مرد ہے’ المیرا کا دل جیتنے والا بھی مگر اس کا دل کچھ ٹوٹ گیا تھا کہ المیرا کے دل میں کسی اور کی محبت ہے اور المیرا نے کبھی بتایا بھی نہیں کہ وہ کسی سے محبت کرتی تھی….. یہی سب سوچ سوچ کر وہ ہلکان ہورہا تھا…. سر بھی بہت بھاری ہورہا تھا…..
سن لیا سب کچھ’ کیا تم اسے چھوڑ نہیں سکتے’ اس کا وجود بھلے تمھارے پاس ہوگا مگر اس کی روح کہی نہ کہی میرے آس پاس ہی بھٹکتی رہے گی……” وہ اس وقت اپنے روم میں تھا….. سارا گھر سجا ہوا تھا….. کیونکہ صرف دو دن رہ گۓ تھے شادی میں….. کسی نے باہر سے دروازہ نوک کیا….. جہان نے دروازہ کھولا….. باہر صفیہ کھڑی تھی….
بھائ کوئ علی آپ سے ملنے آیا ہے’ میں نے نیچے بٹھادیا ہے آپ آرہے ہیں یا روم میں بھیج دو….”
علی یہاں پر…..” اس نے خود سے کہا….
ٹھیک ہے گڑیا اوپر بھیج دو…..”
جی بھائ…..
علی یہاں کیا کرنے آیا ہے؟؟؟؟” جہان نے دل میں سوچا….. ایک بار پھر دروازہ نوک ہوا…. جہان نے دروازہ کھولا اس بار علی تھا… سلام دعا کی گئ….
آپ یہاں؟؟؟” جہان نے کہا….
آؤ بیٹھو بات کرتے ہیں؟؟؟” علی نیچے زمین پر بیڈ سے ٹیک لگاکر بیٹھ گیا….
آپ نیچے کیوں بیٹھ رہے ہیں اوپر بیٹھے’ پلیز اٹھے نیچے سے’ مجھے اچھا نہیں لگے گا’ آپ پہلی بار گھر آۓ ہیں…..”
اورووو کم اون یار اسی زمین کے نیچے تو ہم نے جانا ہے’ تو پھر اسی زمین پر بیٹھنے میں کیا برائ ہے’ آؤ تم بھی بیٹھو کچھ بات کرنی ہے تم سے…..”
مگر آپ…..”
اوو کم اون جہان بس کردو’ بھول جاؤ میں پہلی بار آیا ہو’ بیٹھو تم بھی….” علی نے جہان کا ہاتھ پکڑ کے اسے بھی اپنے ساتھ بٹھایا….. وہ دونوں زمین پر بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے…… کچھ پل دونوں میں خاموشی رہی….. علی کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کہاں سے اور کس طرح سے بات سٹارٹ کرے….. جہان علی کے بولنے کا منتظر تھا….. کچھ پل اور گزرے تھے…. علی نے گہری سانس خارج کی…..
جہان میں آج تم سے کسی کی خوشیاں مانگنے آیا ہو’ دے دو گے کیا؟؟؟؟؟” جہان نے علی کو دیکھا….. علی نے بھی سامنے دیوار سے نظریں ہٹاکر جہان کو دیکھا…. علی ہلکا سا مسکرایا….
المیرا کو چھوڑ سکتے ہو یوشع کیلۓ……”
آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟؟؟؟”
میں جانتا ہو مجھے یہ بات نہیں کرنی چاہیے’ تمھارے اور المیرا کے نکاح میں دودن رہ گۓ ہیں’ مگر میں اب دو زندگیوں کو ان کے حصے کی خوشیاں دینا چاہتا ہو’ اس لۓ جہان میری پہلے ساری بات سننا اس کو سمجھنے کی کوشش کرنا اور پھر کوئ فیصلہ کرنا……” جہان کو دیکھا….. جو پہلے ہی مضطرب تھا….
یوشع اور المیرا ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں…..” علی نے بتایا مگر جہان یہ بات جان گیا تھا علی کے علم میں نہیں تھی یہ بات….. علی نے بتانا شروع کیا….
المیرا اور یوشع کی ملاقات سب سے پہلے یوشع کے آفس میں ہوئ تھی’ المیرا جوب کیلۓ آئ تھی……” اور پھر علی اس کو پہلے دن سے لے کر آخری تک کی حرف بہ حرف تمام کہانی سناتا گیا……
ان کی پہلی ملاقات….. بچپن میں پندرہ سالہ بچی کے ساتھ ہوا وہ واقعہ…… المیرا کا اپنے باپ سے نفرت کرنا…… المیرا کا یوشع سے ڈرنا…… علی کا المیرا کو بہن بنالینا….. اس کو اس بات کا حساس دلانا کہ سب ایک جیسے نہیں ہوتے….. آہستہ آہستہ یوشع المیرا کا ایک دوسرے کے قریب آنا…… یوشع کا المیرا کو بہادر بنانا….. خدیجہ بیگم کا المیرا کے کردار پر انگلی اٹھانا…. یوشع کا المیرا کی خاطر خدیجہ بیگم سے لڑنا…… ان دونوں کی انگیجمنٹ…… دادی کے اس دنیا سے جانے کے بعد المیرا کا ٹوٹ جانا….. پھر خان کی موت کے بعد المیرا کی چپ….. یوشع کا پل پل المیرا کو سنبھالنا…… یوشع اور ماہی کی وہ ملاقات…… یوشع اور ماہی کا نکاح….. المیرا کا یوشع پر الزام لگا کر اس کو چھوڑ آنا…. یوشع کے ماہی پر کۓ گۓ ظلم….. ماہی کا اس کے بچے کی ماں بننا….. یوشع کا سسکنا تڑپنا……. المیرا کے واپس لوٹ آنے کی دعائیں کرنا….. ماہی کا اس دنیا سے چلے جانا…… ماہی کا لکھا گیا وہ خط….. المیرا اور یوشع کو ایک کرنے کی بات…… ایک سال تک یوشع کا ہادی سے دور رہنا….. تین سال بعد یوسف صاحب کی موت….. یوشع کا بالکل ہی ٹوٹ کر بکھر جانا…… اس شہر سے نفرت ہوجانا….. لاہور میں سیٹل ہوجانا……. اور پھر پورے پانچ سال بعد المیرا اور یوشع کی ملاقات ہوئ تھی اس میٹنگ کے دوران…… علی چپ ہوگیا تھا….. وہ دونوں بیڈ سے ٹیک لگاۓ چھت کو دیکھ رہے تھے….. علی کی آنکھیں نم تھی ہی ساتھ میں جہان کی بھی ہوگئ…..
ساری غلطی میری بہن کی تھی اور اس کی سزا آج تک وہ دونوں کاٹ رہے ہیں’ پانچ سال گزرگۓ جہان مگر آج تک ان کی محبت میں کوئ کمی نہیں آئ……” علی نے اپنے آنسو صاف کۓ….. وہ سیدھا ہوکر بیٹھا…. مگر جہان وہ تو ہل بھی نہیں سکا….. علی نے جہان کو دیکھا…. اسے افسوس ہوا….. جہان یک ٹک چھت کو گھور رہا تھا….. جہان کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا…… وہ کتنا کچھ سوچے بیٹھا تھا اپنی زندگی کے بارے میں اور یہ سب کیا ہوگیا تھا….. اسے آج اپنی قسمت پر رونا آرہا تھا…..
جہان مجھے معلوم ہے تم بھی المیرا سے بہت محبت کرتے ہو’ مگر اب سب کچھ صرف تمھارے ہاتھ میں ہے’ تمھارا فیصلہ ہی ان کو اب ایک کر سکتا ہے’ یا ان کو ہمیشہ کیلۓ جدا کردے گا’ جہان میں ہاتھ جوڑتا ہو تمھارے سامنے’ پلیز المیرا کو چھوڑ دو المیرا کی خوشی صرف یوشع میں ہے اور یوشع کی خوشی المیرا میں’ صرف تمھارا فیصلہ ہی ان کی قسمت کو طے کرے گا’ تم المیرا سے شادی بھی کرلو گے تو بھی شاید اس کے دل میں کبھی جگہہ نہیں بنا پاؤ گے’ اس کے دل میں صرف یوشع کا عشق پلتا ہے’ محبت میں صرف دوسرے کی خوشی دیکھی جاتی ہے’ تمھارے فیصلے کے آگے میں کچھ نہیں بولو گا’ مگر پلیز آج ایک بھائ’ ایک دوست تم سے التجا کررہا ہے جہان پلیز تم ہی ہو اب جو ان دونوں کو ایک کرسکتے ہو ہمیشہ کیلۓ’ ان کو ان کے حصے خوشیاں دے دو جہان……” علی نے ہاتھ جوڑ رکھے تھے آنسو بھی ٹپ ٹپ گررہے تھے…… جہان نے چھت سے نظریں ہٹا کر علی کو دیکھا….. جہان علی کے جڑے ہوۓ ہاتھوں کو تھپتھپاتا نیچے کرگیا…..
مجھے کچھ دیر اکیلا چھوڑ دے…..” جہان نے کہا…..
میں بہت امید لیکر تمھارے پاس آیا تھا جہان’ مجھے امید ہے تم
مجھے مایوس نہیں کرو گے’ میں ساری زندگی تمھارا احسان مند رہو گا’ باقی آخری فیصلہ تمھارا اپنا ہے تم کیا کرتے ہو’ خیال رکھنا اپنا میں تمھارے جواب کا انتطار کرو گا’ اب چلتا ہو……” علی جانے کیلۓ اٹھ کھڑا ہوا….. ایک نظر جہان کو دیکھتا وہ روم سے نکل گیا….. پیچھے جہان کے دل کی دنیا ہل گئ تھی….. ایک آنسو پھر ٹوٹ کر گرا تھا…..
ہاں میں کرتی ہو تم سے بے انتہا محبت اور شاید کرتی رہو گی’ مگر میں جہان کا دل نہیں توڑ سکتی……” جہان ہلکا سا مسکرایا…..
اس کا وجود ضرور تمھارے پاس ہوگا’ مگر اس کی روح کہی نہ کہی میرے آس پاس ہی بھٹکتی رہے گی……” جہان نے اپنے سر کو تھاما…..
کیا کردیا المیراجی’ ایک بار تو آپ بتاتی مجھے کہ آپ کی زندگی میں مجھ سے پہلے بھی ایک مرد رہ چکا ہے’ خوش قسمت میں نہیں یوشع ہے’ جس نے آپکے ساتھ محبت کے پل گزارے ہیں’ اور آپکے دل میں صرف یوشع ہے’ کاش میں آپ کے دل میں جھانک لیتا’ میں بھی کتنا بڑا پاگل ہو’ کتنی خوشفہمیاں پال رکھی تھی میں نے بھی کہ شاید آپ کے دل میں صرف میں ہو’ مگر میں تو آپ کے دل کے کسی بھی کونے میں نہیں ہو’ وہاں تو بس یوشع کا راج ہے’ لکی مین’ کتنا کچھ برداشت کیا ہے اکیلے ہی اور کبھی کسی کو شو نہیں کروایا کبھی کسی کو دل تک رہائ نہیں دی’ کبھی کسی کی تسلیاں نہیں لی’ دل میں کتنا درد چھپا رکھا ہے المیرا جی اور پھر بھی دنیا سے ہنس کر ملتی ہے’ کہ کہیں کوئ آپکے دل میں نہ جھانک لے’ ایک بار مجھے تو جھانکنے دے دیتی یار……” ایک بار پھر آنسو گرا تھا……
*
المیرا یار بس کردو کتنی دیر سے روۓ جارہی یا’ اب تو بس دو دن رہ گۓ ہیں نکاح میں’ کیوں پھر خود کو ہلکان کررہی ہو’ اگر یوشع کے بغیر نہیں جیا جارہا تھا تو جہان کو کبھی ہاں مت کرتی’ اس کو پہلے ہی سب کچھ بتادیتی کہ تم کسی سے محبت کرتی ہو’وہ کچھ بھی تمھیں نہیں کہتا’ وہ تو اتنا اچھا ہے’اب پلیز چپ کرجاؤ یار……” المیرا بس مسلسل روۓ جارہی تھی……
المیرا پلیز یار بہت رات ہورہی ہے’ چپ کرجاؤ…..”
استغفراللّه اب اتنی رات کو کون آگیا؟؟؟؟” ایمان نے گھنٹی کی آواز سن کر کہا…..
اچھا تم چپ کرو میں دیکھتی ہو کون ہے؟؟؟؟” کچھ دیر بعد وہ واپس آئ تھی….. المیرا جہان آیا ہے…..” المیرا نے نگاہیں اٹھا کر جہان کو دیکھا….. وہ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئ…
آپ اس وقت…..” ایمان مجھے المیرا جی سے اکیلے میں کچھ بات کرنی ہے’ پلیز کچھ دیر کیلۓ ہمیں اکیلا چھوڑ دے…..”
ارے ایسے کیسے تم دونوں کو اکیلا چھوڑ دو’ دو دن بعد تم دونوں کی شادی ہے’ جو بھی بات کرنی ہے شادی کے بعد کرنا اور شادی کے بعد ہی ایک دوسرے کو دیکھنا…..”
ایمان پلیز صرف تھوڑی دیر کیلۓ اکیلا چھوڑ دے’ مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے المیرا جی سے…..”
ایمان جاؤ…..” المیرا نے کہا….
ٹھیک ہے تم کہتی ہو تو میں چلی جاتی ہو’ مگر زیادہ دیر کیلۓ نہیں…..” ایمان روم سے نکل گئ….. المیرا منہ موڑ کر کھڑی ہوگئ…..
کرے جو بات کرنی ہے…..” جہان کچھ پل خاموش رہا…..
المیرا جی میری طرف دیکھے…..”
نہیں یوہی بات کرلے…..”
المیرا جی پلیز لوک ایٹ می…..” جہان نے اسے بازو سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا…. المیرا نے اس کی آنکھوں میں دیکھا…. جو لال ہورہی تھی…..
کیا بات ہے جہان…..”
آپ یوشع سے محبت کرتی ہے؟؟؟؟” جہان نے بغیر کسی لگی لپٹی کے بات شروع کی…… المیرا کو اپنی سماعت پر شبہ ہوا….
یہ آپ……”
المیرا جی میں نے پوچھا آپ یوشع سے محبت کرتی ہے؟؟؟؟” جہان نے کچھ غصے سے پوچھا تھا…..
المیرا نے اثبات میں سر ہلایا….. جہان نے اس کے بازؤں کو چھوڑا…..
گریٹ…..” منہ پر ہاتھ پھیرا……
میرا کیا قصور تھا میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟؟؟ اگر مجھ سے محبت نہیں تھی المیرا جی تو مجھے کبھی ہاں مت کرتی’ ایک بار تو کچھ بتاتی مجھے’ ایک بار تو کہتی مجھے کہ آپ کسی اور سے محبت کرتی ہے’ تو شاید میں آج خود کی نظروں میں نہیں گرتا…..”
جہان میری بات سنو…..”
نہیں المہرا جی اب سننے کیلۓ کیا بچا ہے’ کچھ نہیں جو سننا تھا اس دن سب سن چکا’ آپ کی اور یوشع کے درمیان کی تمام گفتگو’ آپ کی وہ تمام گفتگو مجھے عرش سے فرش پر پٹک گئ……”
المیرا جی کیسے سوچ لیا آپ نے کہ شاید میں آپ کا ساتھ نہیں دو گا’ یا آپ کی محبت کا سن کر میری محبت ختم ہوجاۓ گی’ یا میں آپ کو آپ کی محبت نہیں دو گا…..” جہان نےالمیرا کے ہاتھوں کو تھاما……
محبت قربانی مانگتی ہے’ محبت میں خوشیاں دی جاتی ہے’ محبت میں خوشیان چھینی نہیں جاتی’ محبت میں اپنی خوشیاں کوئ معنی نہیں رکھتی مگر محبوب کی خوشی اول ہوتی ہے’ اور آپ نے کیسے سوچ لیا کہ میں آپ کو آپکی خوشیاں آپکی محبت نہیں دو گا’ باخدا اگر آپ مجھ سے میری جان بھی مانگتی تو وہ بھی آپکے قدموں میں رکھ دیتا’ مگر مجھ سے مانگتی تو کہ آپ کو یوشع چاہیے…..”
جہان پر تم…..”
شششش مت بولے کچھ…..” جہان نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چپ کروادیا…..
مجھے مزید میری نظروں میں مت گراۓ’ میں ٹھیک ہو المیرا جی……”
جہان مگر صرف دودن رہ گۓ ہیں ہمارے نکاح میں…..”
میں تو شکر کررہا ہو کہ شکر ہے یہ سچائ نکاح سے پہلے میرے سامنے آگئ’ اگر نکاح کے بعد سامنے آتی نہ المیرا جی تو نا میں خود سے نظریں ملا پاتا اور نہ ہی آپ سے…”
یوشع کا ساتھ چاہیے نہ آپکو…..” جہان نے گال پر ہاتھ رکھتے پوچھا….. المیرا کی آنکھ سے آنسو ٹپکے تھے…..
سمجھ گیا….” المیرا روتے ہوۓ جہان کے گلے لگی…… وہ آج زندگی میں پہلی بار اس کے سینے سے لگی تھی….. جہان نے آنکھوں میں آئ نمی صاف کی….. اس کا دل ٹوٹ گیا تھا….. دل بہت رورہا تھا مگر المیرا کے سامنے رو کر بےبس نہیں ہونا چاہتا…… کچھ دیر بعد المیرا اس سے دور ہٹی….. دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر جہان نے پہلی بار المیرا کے ماتھے پر اپنے لب رکھے….. المیرا نے آنکھیں بند کی…… اس نے پہلی بار جہان کا لمس محسوس کیا تھا….. وہ اپنے آنکھوں کی نمی کو چھپاتا اس سے دور ہٹا…..
چلے میرے ساتھ میں جانتا ہو یوشع اس وقت کہاں ہے؟؟ اب وقت آگیا ہے آپ دونوں کے ایک ہونے کا’ چلے……” وہ اس کی کلائ تھامتا روم سے نکل گیا…..
____________
جہان کی گاڑی اس سنسان روڈ پر رواں دواں تھی….. بجلی بھی زور زور سے کڑک رہی تھی….. بادل بھی گرج رہے تھے….. وہ برسنے کیلۓ بالکل تیار تھے…… جہان نے ایک جھٹکے سے اس سنسان روڈ پر گاڑی روکی….. المیرا نے جہان کو دیکھا…… جہان ونڈوسکرین سے باہر اس سنسان روڈ پر کسی کی طرف اشارہ کررہا تھا…. المیرا نے روڈ پر دیکھا….. ایک جوان لڑکا اس سنسان روڈ پر گردن جھکاۓ پیدل سا چلتا جارہا تھا….. شاید اس کی کوئ منزل نہیں تھی…..
یوشع’ جاۓ چلی جاۓ…..” وہ دروازہ کھول کر گاڑی سے نکلنے لگی تھی مگر رک گئ….. ایک نظر جہان کو دیکھا……
ٹھینک یو’ ٹھینک یو سو مچ……” جہان نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا….. المیرا نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا…..
آپ ہمیشہ خوش رہے المیرا جی’ میں بس یہی چاہتا ہو’ آپ کی خوشی صرف یوشع میں ہے’ تو کیسے میں آپ کی خوشی آپ سے چھین سکتا ہو’ میں آپ سے بہت محبت کرتا ہو مگر شاید یوشع کے عشق کے آگے میری محبت کہی بہت پیچھے رہ گئ ہے’ یوشع اور آپ ایک دوسرے کیلۓ ہی بنے ہیں’ تو آپ دونوں کے پیار کے بیچ میں میں کیسے آسکتا ہو’ یوشع آپ کو مجھ سے زیادہ خوش رکھے گا’ یوشع سے زیادہ بیسٹ لائف پارٹنر آپکو کہی نہیں مل سکتا’ جاۓ کہی وہ آپ سے دور نہ چلا جاۓ’ میری دعا ہمیشہ آپکے ساتھ ہے…..” جہان نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا….. المیرا کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے……
جاۓ المیرا جی اگر اب آپ ایک سیکنڈ اور رکی تو پھر میں شاید اب آپکو ہمیشہ کیلۓ روک لو گا’ کہی نہیں جانے دو گا…..” المیرا روتے ہوۓ میں ہلکا سا مسکرائ…..
مزاق کررہا ہو اب جاۓ بیسٹ آف لک…..” اور پھر المیرا گاڑی سے اترگئ….. پیچھے جہان اکیلا رہ گیا تھا….. جہان نے المیرا کو نہیں بتایا کہ اسے سب کچھ علی نے بتایا ہے….. وہ یہ بات چھپا گیا تھا کہ آج وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہے تو بس علی کی وجہ سے……
__________
یوشع….” المیرا نے دوڑتے ہوۓ پکارا…… المیرا نے دو تین بار پھر آواز دی…. یوشع کے چلتے قدم رک گۓ….. وہ پیچھے پلٹا….. المیرا اس کی طرف آرہی تھی….. یوشع نے المیرا اور اس کے پیچھے کچھ فاصلے پر دور کھڑی جہان کی گاڑی کو دیکھا…… المیرا اس کے قریب رکی…..
مجھے اکیلے چھوڑ کر جارہے ہو’ مجھے نہیں لے کر جاؤ گے’ یو سٹوپ اٹ’ یو بندر’ یو سڑے ہوۓ بینگن……” المیرا نے روتے ہوۓ کہا….. یوشع ہلکا سا مسکرایا……
المیرا……” یوشع نے اسے تھاما….. وہ اس کے گلے سے لگی….. بادل زور سے گرجے تھے اور پھر ٹپ ٹپ بارش برسنے لگی تھی….. وہ اس تیز برستی بارش میں آج ایک دوسرے کے سنگ تھے….. المیرا اس سے دور ہوئ…. دونوں کی آنکھیں نم تھی…. المیرا نے یوشع کے ماتھے پر لب رکھے…. اس کی بھیگی پلکوں کو چوما….. وہ دوبارہ اس کے گلے سے لگی….. بارش کے آنسوؤں میں ان دونوں کے آنسو بھی شامل ہوگۓ تھے…… اور ایک تیسرا وہ انسان تھا جو تن تنہا بھیگی پلکوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا ان دو پیار کرنے والوں کے ملن کو دیکھ رہا تھا….. آنسو ٹوٹ کر گال پر لڑھکا تھا…..
میڈ فور ایچ ادر’ یا اللّه مجھے اتنا حوصلہ دینا کہ میں صبر کرسکوں’ المیرا کو بھول سکوں اور تیری رضا میں راضی رہ سکوں’ کرم کر میرے اللّه…..” وہ اپنی آنکھیں رگڑتا بھیگی نگاہوں کے ساتھ اس نے گاڑی سٹارٹ کردی…. اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ گاڑی ریورس لے گیا….. المیرا اور یوشع دونوں نے جہان کی گاڑی کو دور جاتے دیکھا…..
ٹھینک یو جہان…..” یوشع نے دل میں کہا…..
جاری ہے_
