Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 01

Visal-e-Javedan وصال جاوداں

اوائل اگست کے دن تھے… ایسے میں شام کے پہر ہر کوئ اپنے گھروں سے نکلے پارک میں سیروتفریح کیلۓ آۓ ہوۓ تھے… بچے، بڑے، نوجوان، بزرگ ہر کوئ یہاں پارک میں کچھ نہ کچھ کرتا نظر آرہا تھا…ہر طرف زندگی سے بھرپور قہقہے گونج رہے تھے.. ایسے میں ایک گوشے میں خوبصورت پھولوں کے قریب رکھے بینچ پہ ایک شخص جو بلیک پینٹ، بلیک شرٹ، آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کیے، ایک ہاتھ میں برینڈڈ واچ، دوسرے ہاتھ میں بینڈز وغیرہ پہنے چہرے کی دودھیا رنگت جس پہ ہلکی شیو بناۓ، آنکھوں پہ گلاسسز چڑھاۓ، بالوں کو نفاست سے سیٹ کیے، تیکھے نین نقوش، مغرور سی ناک، پاؤں میں جوگرز پہنے، ٹانگ پہ ٹانگ چڑھاۓ، ہاتھ میں موبائل پکڑے بیٹھا بچوں کو کھیلتا دیکھ مسکرا رہا تھا کہ آیا وہ وہاں ہے یا نہیں… ایسے میں وہاں سے گزرنے والا ہر شخص اسی کو دیکھ رہا تھا مگر وہ اپنی پوری مردانہ وجاہت کے ساتھ سب سے بےنیاز وہاں بینچ پہ بیٹھا بچوں کو کھیلتا دیکھ مسکرا رہا تھا.. مگر اگلے ہی سیکنڈ اس کی مسکراہٹ سمٹ گئ اور آنکھوں سے گلاسسز ہٹاۓ فورا اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی گہری براؤن آنکھوں سے دیکھتا آگے بڑھنے لگا مگر اگلے ہی پل رک گیا کیونکہ سامنے گراں چار سالہ بچہ خود ہی اٹھ کھڑا ہوا اور وہاں سے ہاتھ ہلا کر مسکراتا اپنے باپ کو دیکھا تو وہ بھی اپنے چار سالہ بیٹے کو مسکراتا دیکھ یوشع خود بھی مسکرا اٹھا اور میرہادی کو تھمزاپ کا اشارہ کرکے وہی دوبارہ بینچ پہ بیٹھ کر اپنے موبائل کو دیکھنے میں مصروف ہوگیا

——

ہادی نے بال کو کک ماری اور وہ اڑتی ہوئ دور ایک لڑکی کے پیروں میں جاگری… وہ جو وہاں کال پہ اپنی فرینڈ سے بات کرکے مڑی ہی تھی.. کہ بال کے پیروں میں آکر رکنے پر نیچے جھک کر بال کو اپنے ہاتھوں میں اٹھالیا… اور ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ کس کی بال ہے… اتنے میں ایک بچہ وہاں بھاگا بھاگا آیا اور اسکی شرٹ کو کھینچ کر اسکو اپنی طرف مخاطب کیا.. وہ جو ادھر ادھر دیکھنے میں مصروف تھی… اپنی شرٹ کے کھینچے جانے پہ نیچے دیکھا تو ایک چار سال کا بچہ جو پھولے پھولے سے گلابی گال، سفید رنگت، چھوٹی سی ناک اور بالکل باپ جیسی گہری براؤن بڑی بڑی سی آنکھوں سے اسی کو دیکھ رہا تھا… وہ جو اس کو دیکھنے میں مصروف تھی ہادی کے مخاطب کرنے پر اسی کے پاس نیچے بیٹھ گئ.. اور اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی…

آنٹی یہ بال میری ہے مجھے دیدے… وہ جو اب تک ہادی کی آنکھوں میں دیکھنے میں مصروف تھی… ہادی کے ایک بار پھر سے مخاطب کرنے پر اپنے ہاتھ میں پکڑے فٹ بال کو دیکھا اور بال ہادی کو دیدی… وہ جو فورا وہاں سے بھاگنے لگا تھا المیرا کے مخاطب کرنے پر رک کر اسکو دیکھنے لگا…

آنٹی آپ نے کچھ کہا؟؟

جی بیٹا.. آپکا نام کیا ہے؟؟

میرا نام میرہادی ہے…

میرہادی اس نے زیرلب دہرایا اور اسکے آپنے کانوں میں جیسے خود کی آواز گونجی(میں تو اپنے بیٹے کا نام میرہادی رکھو گی) مگر اگلے ہی پل اپنے خیالوں کو جھٹک کر پھر سے پوچھنے لگی…

آپکا نام کس نے رکھا ہے؟؟

میرے پاپا نے رکھا ہے..

اووو بہت پیارا نام ہے آپکا بالکل آپکی طرح…

ٹھینک یو آنٹی… آپ بھی بہت پیاری ہے.. یہ کہتے ساتھ ہی ہادی نے اسکے گال پہ بوسہ دیا..

پہلے تو وہ حیران اور پھر مسکرا کر ہادی کو دیکھنے لگی پھر المیرا نے بھی اس کے پھولے پھولے گلابی گال پہ بوسہ دیا.. جس پر ہادی کھل کھلا کر ہنسنے لگا اور اس کے گال پہ پڑنے والا ڈمپل واضح ہوا… المیرا کچھ کہتی پیچھے سے کچھ بچوں کی آوازیں آنے لگی جو ہادی کو پکار رہے تھے اور بال لانے کا کہہ رہے تھے…

ہادی نے بال ان کی طرف اچھال دی اور واپس المیرا کی طرف متوجہ ہوا…

بیٹا آپ یہاں اکیلے آۓ ہو؟

نہیں آنٹی میں اپنے بابا کے ساتھ آیا ہو… میں یہاں روز اپنے بابا کے ساتھ آتا ہو….

اوو اچھا اور آپکی ماما…؟

ماں کے ذکر پہ ہادی اداس ہوگیا اور پھر کہنے لگا ” وہ نہیں ہے_ بابا کہتے ہیں وہ اللہ میاں کے پاس چلی گئ ہے…

اس کے ایسے کہنے پر المیرا نے بھی اس کو اداس نظروں سے دیکھا اور ہادی کو میرو کہہ کر پکارا…. اپنے میرو کہہ کر پکارے جانے پر ہادی نے اس کو حیرت سے دیکھا… آپ کو کیسے پتا میرا نام میرو ہے… میرو مجھے بس میرے بابا کہہ کر پکارتے ہیں ..

آپکو میرا میرو کہنا برا لگا؟؟؟

نہیں آنٹی بالکل بھی نہیں… آپ میرے بابا سے ملے گی؟؟ آپ رکے میں بابا کو لے کر آتا ہو اور ایک سیکنڈ سے بھے پہلے المیرا کی سنے بغیر ہادی وہاں سے یوشع کے پاس بھاگا تھا… المیرا تو منع کرنے لگی تھی کہ میں کیا کرو گی آپکے بابا سے مل کر… مگر ہادی سنتا تو بات تھی… المیرا اٹھ کھڑی ہوئ… اور ہادی کو دیکھنے لگی جو سامنے کھڑے ایک شخص کی طرف بڑھ رہا تھا… یوشع کی المیرا کی طرف پشت تھی اس لیے وہ اس کا چہرہ نہ دیکھ سکی کہ جبھی المیرا کے موبائل پر کال آئ اور وہ کال سنتے ہوۓ پارک سے باہر نکل گئ… ———-

ہادی نے یوشع کے پاس پہنچ کر اس کا ہاتھ پکڑا اور پاپا کہہ کر اسے پکارا… یوشع نے ایک نظر ہادی کو دیکھا اور اللہ حافظ کہہ کر کال ڈراپ کردی… اور ہادی کی طرف متوجہ ہوا…

کہاں چلے گۓ تھے بیٹا آپ؟؟

کہیں نہیں پاپا آپ میرے ساتھ چلے… آپ کو کسی سے ملواتا ہو… ہادی یہ کہہ کر اس کا ہاتھ تھامے آگے چلنے لگا اور اس جگہ پہنچ گیا جہاں وہ تھوڑی دیر پہلے کھڑا المیرا سے باتیں کررہا تھا… وہاں پہنچ کر اس نے ادھر ادھر دیکھا مگر المیرا ہادی کو کہیں نظر نہ آئ..

بیٹا کس سے ملوانا تھا آپ نے؟؟

بابا پتا نہیں کہا چلی گئ آنٹی ابھی یہی تھی…

اچھا چلو کوئ بات نہیں اب ہمیں بھی چلنا چاہیۓ اندھیرا ہونے لگا ہے… یوشع نے ہادی کو گود میں اٹھایا اور پارک سے باہر آکر اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا…

_____

وہ اپنی گاڑی ڈرائیو کرنے میں مصروف تھا جب ایک نظر اپنے بیٹے کو دیکھا…. جو اپنے چھوٹے چھوٹے پھولے گالوں کو اور پھلاۓ ناراض ناراض سا بیٹھا تھا… یو شع کو معلوم تھا کہ وہ کس بات پہ ناراض ہے… مسکرا کر اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا…

میرا بیٹا کس بات پہ ناراض ہے… یوشع نے مسکرا کر پوچھا..

اپنے کہا تھا کہ اپ مجھے آئسکریم کھلانے لےکر جاۓ گے اور چاکلیٹس بھی کھلاۓ گے نہ ہی آپ نے مجھے آئسکریم کھلائ اور نہ ہی چاکلیٹس… اس لۓ میں آپ سے ناراض ہو… مجھے آپ سے بات نہیں کرنی…

یوشع ہادی کے اس طرح کہنے پر زور سے ہنسا اور ہادی کے بال بگاڑتا ہوا کہنے لگا…..

مجھے معلوم ہے جبھی تو ہم آئسکریم پارلر جارہے ہیں آئسکریم کھانے… ہادی ساری ناراضگی بھلاۓ فوراً خوشی کے مارے تالی بجائ… واؤ بابا بہت مزہ آۓ گا… آئ لو یو بابا

لو یو ٹو بابا کی جان…

اور میری چاکلیٹس.. ہادی نے یاد آنے پر پوچھا

یوشع نے پچھلی سیٹ پر رکھی چاکلیٹس اٹھا کر ہادی کو دی…

ہادی بھی چاکلیٹس لےکر جلدی سے یوشع کی گود میں چڑھ کر بیٹھ گیا… اور ہادی کے ایسے کرنے پر یوشع اک بار پھر ہنس پڑا… ہادی کے سر پر پیار سے بوسہ دیا اور آئسکریم پارلر کی طرف چل دیے… آئسکریم کھانے اور بھی کافی وقت گزارنے کے بعد تقریباً نو بجے اپنے گھر واپس آگۓ

***********

________جاری ہے______