Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 46

یوشع ابھی آفس آیا تھا… سر کے خم سے سب کے سلام کا جواب دیتا اپنے روم کی طرف بڑھ رہا تھا….. ہانیہ نے بھی یوشع کو دور سے آتے دیکھ لیا تھا….. اسے تین دن پہلے ہوئ اپنی بےعزتی یاد آئ…..
بدلہ تو بنتا ہے…..” اس نے خود سے کہا…..
گرم گرم بھاپ اڑاتی کافی کا مگ لے کر یوشع کی طرف بڑھی….. یوشع نے اسے نہیں دیکھا تھا…. وہ اچانک سامنے آئ تھی…. گرم گرم کافی کا مگ یوشع کی شرٹ پر گرا تھا….. یوشع نے فورا اپنی شرٹ جھاڑی…. علی نے بھی یہ منظر دیکھا تھا…..
سوری سوری سر’ میں نے نہیں دیکھا تھا سوری…..” اس نے بھی یوشع کی شرٹ کو صاف کرتے ہوۓ کہا….. سب ہی ان دونوں کو دیکھ رہے تھے….. یوشع کو غصہ چڑھا….. وہ تین دن بعد آفس آیا تھا اور آتے ہی پھر یہ مصیبت…… یوشع کا ہاتھ اٹھا تھا….. پانچوں انگلیاں ہانیہ کے منہ پر ثبت ہوگئ تھی…. جہاں ہانیہ منہ پر ہاتھ رکھے حیران تھی….وہی علی اور باقی کے سب ورکرز بھی….. وہ تو سمجھ رہی تھی کہ اس طرح اس کا بدلہ پورا ہوجاۓ گا…. مگر یہاں تو بازی ہی پلٹ گئ تھی…..
بہری تو تم تھی ہی’ آج اندھی بھی ہوگئ ہو……” علی نے یوشع کی طرف قدم بڑھاۓ….. ہانیہ تو کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہی تھی….. سب ہی افسوس سے ہانیہ کو دیکھ رہے تھے……
یوشع روم میں جاؤ……” علی نے اسے پکڑتے ہوۓ کہا…..
میں نے تمھیں کہا تھا اس کی مجھے ضرورت نہیں ہے ایک دفعہ کی سمجھ نہیں آئ تھی تمھیں بھی……”
یوشع روم میں جاؤ’ جاکے شرٹ چینج کرو……” علی نے بھی اب کی بار غصے سے کہا تھا……
ناؤ یو آر فائر’ کل سے میرے آفس میں آنے کی ضرورت نہیں ہے’ مجھے تم جیسے بدتمیزوں کی اپنے آفس میں کوئ ضرورت نہیں ہے’ گیٹ لوسٹ ان مائ آفس’ گو……”
یوشع چلو اندر کچھ تو لحاظ کرو….. ہانیہ وہاں سے بھاگ گئ……. یوشع بھی غصے سے اپنے روم میں چلا گیا…..
آپ سب اپنا کام کرے…..”
مس ہانیہ سٹوپ اٹ بات سنیں…..”
کیا سنانے آئے ہیں اب آپ…..”
سوری کرنے آیا ہو یوشع کی طرف سے’ اور ویسے بھی غلطی تمھاری تھی’ میں نے خود دیکھا تھا تم نے جان بوجھ کے اس پر کافی کا مگ انڈیلا تھا’ اور میں نے تم سے اسی دن کہہ دیا تھا کہ یوشع سے بچ کر رہنا تمھارا پہلا تاثر ہی یوشع پر بہت بیڈ پڑا تھا’ میں نے کہہ دیا تھا کوئ حرکت مت کرنا مگر تمھیں سمجھ نہیں آئ’ اب بھگتو……”
آپ بھی مجھے سنانے کیلۓ آۓ تھے’ انہوں نے مجھے سب کے سامنے تھپڑ مارا ہے……”
غلطی تمہاری ہے…..” وہ جانے لگی تھی…..
رکو کہاں جارہی ہو؟؟ ہانیہ تمھاری بھلائ کیلۓ کہہ رہا ہو تم اپنی زبان کو کنٹرول کرنا سیکھو’ میں نے تمھیں جوب صرف تمھاری فائینینشل ایشوز کہ وجہ سے دی تھی’ اب کہاں جاؤ گی’ کیونکہ اب یوشع تمھیں کسی بھی صورت یہاں برداشت نہیں کرے گا…..”
چلی جاؤ گی کہی اور دیکھ ہی لوں گی…..” اس نے اپنے آنسو صاف کیے……
اچھا وہ دیکھو سامنے وہ بلڈنگ نظر آرہی ہے’ وہ ہماری کمپنی ہے’ وہاں چلی جاؤ’ میں بابا کو فون کردیتا ہو وہ سیکرٹری سے کہہ دے گے وہ تمھیں تمھارا کام سمجھادے گا’ جاؤ رونہ بند کرو’ اور ہاں بابا کے سامنے زبان بند ہی رکھنا کیونکہ وہ بھی برداشت نہیں کرتے کسی کو زیادہ……”
اب تم جاؤ میں فون کررہا ہو؟؟؟
ٹھینک یو……”
اٹس اوکے ‘ بیسٹ آف لک……”

‏رکھ لیا دل کی جگہ ہم نے اٹھا کر پتھر
اب کوئی بچھڑے تو دشواری نہیں ہوتی
اک سکوں ہے جو بہت دور پڑا رہتا ہے
اک وحشت ہے جو اب طاری نہیں ہوتی

المیرا ضد مت کرو یہاں آؤ میرے پاس……”
نہیں آؤ گی اگر پکڑ سکتے ہو تو پکڑلو…..”
المیرا یہ روڈ ہے ضد مت کرو’ بہت ٹریفک ہے یہاں آگے مت بھاگو’ ورنہ مجھ سے مار کھاؤ گی…..” یوشع گاڑی کے پاس کھڑا اسے آوازیں دے رہا تھا…. مگر المیرا اسکی ایک بھی سنے بغیر غصے سے روڈ کی طرف بڑھ رہی تھی…..
وہ یوشع کی طرف پلٹی…… اپنا ہاتھ یوشع کی طرف بڑھایا……
یوشع پکڑو مجھے آؤ……” یوشع سیدھا ہوکر کھڑا ہوگیا……
المیرا سٹوپ اٹ پیچھے مت جانا’ ٹرک آرہا ہے…..”
المیرا……” یوشع نے ایک زوردار چینخ ماری تھی……
وہ ایک ہی دم اٹھ کر بیٹھا……
یوشع کیا ہوا آپ ٹھیک ہے…..” ماہی نے پوچھا….. خالی نگاہوں سے ماہی کو اور پھر اپنے روم کو دیکھا…… وہ پسینے سے شرابور تھا…..
یوشع آپ ٹھیک ہے…..” ماہی نے پریشانی سے پوچھا….. یوشع نے اپنا ہاتھ ماہی سے چھڑوایا….. اپنے سینے کو مسلا…. ماہی نے پانی دیا…. اس نے چپ چاپ پی لیا…..
یوشع…..” ایک بار پھر ماہی نے اس کے پاس بیٹھتے اس کو پکارا…..
یوشع نے نگاہیں اٹھا کر اس کو دیکھا……
میں نے المیرا کو خواب میں دیکھا’ وہ مجھے پکار رہی تھی’ میں نے اس کا ایکسیڈنٹ ہوتے دیکھا ہے’ وہ تکلیف میں ہے وہ ٹھیک نہیں ہے اسے میری ضرورت ہے’ تم جانتی ہونہ اس کا میرے علاوہ کوئ نہیں ہے’ وہ اکیلی ہے’ یہ دنیا ظالم ہے بہت’ میری المیرا معصوم ہے…..” ماہی کے اندر ایک بار پھر چھن سے کچھ ٹوٹا تھا…. مگر آج یوشع کی حالت اس سے دیکھی نہیں جارہی تھی…. وہ جس طرح سے بول رہا تھا…. ماہی کو ڈر لگ رہا تھا…. شاید یوشع کو بھی معلوم نہیں اس نے ماہی سے یہ بات کیوں شئیر کی….. ماہی نے یوشع کو اس کا فون اٹھا کر دیا…..
آپ اس کو کال کرلے……” یوشع نے کچھ حیرت سے ماہی کو دیکھا… وہ خود اس سے المیرا کو فون کرنے کا کہہ رہی تھی…..
اس کا نمبر بند ہے’ کئ بار ٹرائ کرچکا ہو’ ہر بار سوئچ آف آتا ہے……”
اور یہ پہلی ڈسکشن تھی ان دونوں کے درمیان جو وہ آرام سے ایک ساتھ بیٹھ کر کررہے تھے….. اور شاید یوشع کو ابھی اندازہ تھا بھی نہیں کیونکہ اس کا ذہن المیرا میں الجھا ہوا تھا……
یاخدا اسے اپنی حفظ-و-ایمان میں رکھنا…… یوشع نے دل میں کہا…..
*

آج یوشع باہر کھڑا اس معتبر جگہہ کو دیکھ رہا تھا….. جہاں سے کئ لوگ باہر آرہے تو کتنے ہی اندر جارہے تھے….. اس کی آنکھیں اشک بار تھی….. دل بےچین تھا اور آج وہ اپنے دل کے سکون کیلۓ ہی یہاں آیا تھا…. یوشع نے شوز اتار کر پہلا قدم اندر رکھا…… ٹھنڈی زمین پر پیر رکھتے ہی اس کو اپنے اندر تک ایک ٹھنڈک اترتی ہوئ محسوس ہوئ تھی….. سامنے دیوار پر فریم میں لکھے گۓ اللّه محمد ص کے نام پر نظر پڑی….. بےچین روح کو تھوڑا سکون ملا تھا….. اس نے وضو کیا اور پھر وہ اپنے رب کے آگے سجدے میں جھک گیا تھا….. سجدے میں بھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے….. وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوا دعا کیلۓ ہاتھ اٹھاۓ….. لب سسکنے لگے تھے…. دعا کیلۓ الفاظ نہیں نکل رہے تھے…… موتی ٹوٹ ٹوٹ کر جھولی میں گررہے تھے….. اس نے ہاتھ واپس گرالیے اور پھر سر کو سجدے میں گرا کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا…. یااللّه…… وہ سسکنے بلکنے لگا تھا….. کچھ پل بعد اسے اپنے کندھے پر کسی کا لمس محسوس ہوا تھا…. اس نے سجدے سے سر اٹھایا…. آنسو صاف کرتا ان بزرگ شخص کو دیکھنے لگا جس کی سینے تک آتی داڑھی تھی…..
محبت کیلۓ گڑگڑارہے ہو یاگناہوں پر نادم ہوکر…..”
نہیں معلوم کچھ بھی نہیں معلوم…..” انہوں نے یوشع کے کندھے پر ہاتھ رکھا….. یوشع نے نگاہیں اٹھا کر اس بزرگ کو دیکھا……
اچھے گھرانے سے معلوم ہوتے ہو……” یوشع نے اثبات میں سر ہلایا…..
سکون چاہیے سکون کیلۓ یہاں آۓ ہو نہ…..” یوشع نے ایک بار پھر اثبات میں سر ہلایا…..
ملا سکون…..” نفی میں گردن ہلائ گئ…..
لگتا ہے دل پر کوئ بوجھ لے کر گھوم رہے ہو’ جبھی سکون نہیں مل رہا…..”
ایک بات پوچھو آپ سے……”
پوچھو بیٹا…..”
جن سے محبت ہوجاۓ ان کا ملنا مقدر میں کیوں نہیں ہوتا؟؟؟”
محبت بھی انہی سے کمال کی ہوتی ہے پتر جن کا ملنا ہی مقدر میں نہیں ہوتا……” یوشع ساکت سا بیٹھا ان کو دیکھتا رہا….
کیا تھا جو میں نے اس کیلۓ نہیں کیا تھا’ اس کو اس دنیا میں جینا سیکھایا’ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا سیکھایا’ اس کو بہادر بنایا’ اپنے ماں باپ کے بعد دل سے کسی کی عزت کی تو وہ وہی تھی جسکی روح سے عشق کیا تھا مگر وہ پھر بھی چھوڑگئ…..”
بیٹا نبھانے والے ننانوے خامیوں کے ساتھ بھی نبھالیتے ہیں اور چھوڑ کر جانے والے ننانوے اچھائیوں پر بھی چھوڑ جاتے ہیں…..”
وہ نبھانے والی تھی وہ مجھے میری غلطی کی وجہ سے چھوڑ کر چلی گئ’ میں اس دن کسی اور سے نکاح کرچکا تھا…..” ان بزرگ شخص نے بھی کچھ تعجب سے یوشع کو دیکھا….. جیسے کچھ سمجھنا چاہ رہے ہو….. یوشع نے بتانا شروع کیا تھا اور پھر وہ اس رات سے لے کرحرف بہ حرف سب کچھ بتاتاچلا گیا….. ماہی کے گھر جانا…. اس سے نکاح کرلینا….. المیرا کا چھوڑ جانا…. وہ رپورٹس ماہی پر ہاتھ اٹھانا….. اس کو روم سے نکال دینا….. رات نشے کی حالت میں گھر آنا….. ماہی کو اپنانا…. ماہی کا اب اس کے بچے کی ماں بننا….. اس کا بچے کو ماننے سے انکاری کردینا…… اور اب وہ پچھلے تین دن سے مسلسل خواب میں آرہی ہے’ مجھے پکاررہی ہوتی ہے’ مجھے آواز دیتی ہے کہ مجھے بچاؤ یوشع’ مگر میں چاہ کر بھی کچھ نہیں کرپارہا’ وہ میری دسترس سے بہت دور ہے’ اس نے خود تک پہنچنے کے سارے راستے بند کردیے’ میں کچھ نہیں کرپارہا’ زندگی ایسے دہراۓ پر آکر کھڑی ہوگئ ہے جہاں اب سواۓ موت کے کچھ نہیں مانگا جارہا’ کچھ سمجھ نہیں آتا کیا کرو’ کہاں جاؤں’ کس کو سناؤ’ نہ اس کو بھول پارہا ہو اور نہ ہی اس کو قریب لاپارہا ہو’ میری وجہ سے اس کی بھی زندگی برباد ہورہی ہے جو میرے بچے کی اب ماں بننے والی ہے’ کیا کرو؟؟؟” یوشع نے نم آنکھوں سے اس بزرگ کو دیکھا جو یوشع کو ہی دیکھ رہے تھے….. وہ ہلکا سا مسکراۓ…..
تم نے اب تک اللّه کی رضا میں راضی ہونا نہیں سیکھا جبھی یہ بےسکونی یہ بےچینی ہے’ تم نے اب تک اللّه کی مصلحتوں کو سمجھنا شروع نہیں کیا’ بیٹا تم نے اب تک یہ بات نہیں سمجھی کہ وہ رب ہمیں آزماتا ہے’ کبھی انسان کی صورت میں تو کبھی مال کی صورت میں’ کبھی سب کچھ دے کر تو کبھی سب کچھ آپ سے واپس لے کر’ اور پھر آزمانے کے بعد وہ چاہتا ہے کہ تم اس کی طرف لوٹ جاؤ تھک ہار کر اس سے مدد مانگو’ اس کی آزمائشوں پر صبر کرو’ اور جب تمہارا یہ صبر ٹوٹنے لگے تو تم اس کے آگے سجدے میں جھک جاؤ اور پھر اس سے مانگو’ وہ اپنے محبوب بندوں کو ہی آزماتا ہے’ اور دیکھو اس نے تمھیں آزمائش میں ڈالا اور اب تم تھک ہار کر اس رب کی بارگاہ میں آگۓ ہو……” یوشع کی پلکوں سے موتی ٹوٹ کر گرا تھا…..
بیٹا جو چلا گیا وہ ایک آزمائش تھی’ جو ہے وہ بھی ایک آزمائش ہے’ جانے والے کو کبھی نہیں روکا جاتا اس لۓ جو چلا گیا اسے رب کی رضا سمجھ کر قبول کرلو’ اور جو ہے اسے رب کی رضا سمجھ کر قبول کرلو’ زندگی میں سکون آجاۓ گا مجھے بھی بہت دیر لگی تھی یہ بات سمجھنے میں بیٹا مگر وقت کے ساتھ ہی سہی یہ بات سمجھ آگئ تھی جس نے رب کی رضا میں راضی رہنا سیکھ لیا اس نے دنیا جہاں کا سکون پالیا’ تمھیں ایک بات بتاتا ہو مگر شرط یہ کہ میری بات پوری توجہ سے سننا بیٹا’ سنو گے تو سمجھو گے ورنہ کوئ فائدہ نہیں سننے کا میری زندگی کا ہی تجربہ ہے یہ بھی جانتے ہو میں نے بھی کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ مجھ سے دور جاۓ گی’ میں نے بھی اسے چاہنے میں حد کی تھی’ مگر ایک دن ایسا آیا کہ وہ مجھ سے دور ہوگئ’ ہر طرف بےسکونی ہی بےسکونی تھی’ ہر پل ہر لمحہ ہر گھڑی صرف بےسکونی مگر پھر ایک دن آیا تھا جب میں بھی تمھاری طرح یہاں اس چوکھٹ پر آگیا تھا اس چوکھٹ پر گر کر روپڑا تھا’ اس وقت معلوم نہیں تھا کہ صبر کا حوصلہ اتنا خوبصورت بھی ہوتا ہے کہ بدلے میں مجھے صبر کا صلہ دینے والا ہی مجھے مل جاۓ گا’ مجھے تو کبھی ایسا گمان ہوا ہی نہیں تھا کہ سب کچھ کھوکر بھی مجھے سب کچھ مل جاۓ گا’ کیا تھا جو میں نے اس کیلۓ نہیں کھویا تھا سب کچھ اپنا اس پر وار دیا تھا مگر سب کچھ وار کر بھی مجھے سب کچھ مل گیا تھا’ وہ ہے نہ کہ زندگی کی بھی ایک عجیب پہلی ہے کبھی سب کچھ جیت کر بھی انسان ہار جاتا ہے تو کبھی سب کچھ ہار کر بھی انسان جیت جاتا ہے’ اور میں نے سب کچھ ہار کر سب کچھ جیتا ہے’ جانتے ہو مجھے لگتا تھا کہ جیت جانے کا مطلب صرف اپنی من پسند چیز کا حاصل کرلینا ہوتا ہے’ بہت دیر لگی تھی یہ بات سجھنے میں مگر سمجھ آگئ تھی کہ اپنی من پسند چیز ہار کر اللّه کو پالینا ہی اصل جیت ہے’ تبھی تو ہر جیت پرسکون نہیں ہوتی اور ہر بار بےسکونی نہیں ہوتی’ یہ بات سمجھنے میں بہت دیر لگی تھی مجھے کہ اللّه کی محبت کے سوا ہر محبت آزمائش ہے’ وقت لگا تھا بیٹا مگر بات سمجھ آگئ تھی کہ وہ رب کیسے کیسے ہمیں آزماتا ہے’ اس لۓ راضی ہوجا تو بھی اس کی رضا میں جو ہے اس کی قدر کر’ کہیں ایسا نہ ہو جو ہے وہ بھی تجھ سے چھین لیا جاۓ’

بڑی سے بڑی پریشانی کا حل ہے سجدے میں
گرجا سجدے میں اور اسی کے سرور میں گم ہوجا’
تلاش یار کی بجاۓ, تلاش خدا میں گم ہوجا’
سکون ہی سکون چاہیے اگر زندگی میں
تو ہونے والی ہر ایک آزاں میں گم ہوجا’
کسی کہ چاہ اگر لے آۓ خدا کی طرف
تو خدا کہ چاہت میں ہی گم ہوجا’
انہوں نے یوشع کے کندھے پر ہاتھ رکھا….. آئ سمجھ پتر…..”وہ خاموشی سے نظریں جھکاۓ بیٹھا رہا….. آنسوں ٹوٹ ٹوٹ کر گود میں گررہے تھے…..
جو چلا گیا وہ تیرا نصیب نہیں تھا’ راضی ہوجا اس کی رضا میں’ جو ہوگیا یہ سب نصیب میں ہونا لکھا تھا’ اپنالے اس کو سکون مل جاۓ گا’ گرجا سجدے میں بنالے اس رب کو ہمیشہ کیلۓ اپنا’ تو اس کا بن کر تو دیکھ وہ ساری دنیا کو تیرا نہ کردے تو کہنا’ ایک بار تو اس کا ہوگیا تو پھر ایک وقت وہ بھی آۓ گا جب تجھے کسی چیز کی چاہ نہ رہے گی’ اس وقت صرف تو رب کو چاہے گا……” انہوں نے اس کے کندھے پر سے ہاتھ اٹھایا….. راضی ہوجا بس راضی ہوجا…..” یوشع خاموشی سے اٹھ کھڑا ہوا….. ماہی کو اپنانا ایک یہی کام تو اب اس کے بس میں نہیں…… اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ ان بزرگ کی نظروں سے اوجھل ہوگیا تھا…..
عشق تو ایرے غیرے نتھو غیرے کا کام ہی نہیں ہے’
یہ تو ہمیشہ لاڈلوں کو ہی کھاتی ہے…..” واہ رے خدا تیری بھی خدائ…..” انہوں نے آسماں کی طرف نگاہ اٹھا کر مسکراتے ہوۓ کہا تھا…..

یوشع ڈور دھکیلتا روم میں داخل ہوا تھا…. ماہی بھی اسکو دیکھ کر اس کے قریب آگئ…. ہر بار کی طرح اس نے آج ایک بار پھر سلام کیا تھا کہ شاید آج تو یوشع جواب دے دیں…. اور آج واقعی یوشع نے سلام کا جواب دے دیا تھا…. ماہی کو واقعی حیرت کا جھٹکا لگا تھا….
یہ کوٹ مجھے دے دیں میں رکھ دو گی…..” ماہی نے یوشع کے ہاتھ میں پکڑے اس کے کوٹ کی طرف اشارہ کیا….. یوشع نے ایک بار بھر اسے حیرت کا جھٹکا دیا تھا…. جب اس نے بنا چوں چرا کے کوٹ ماہی کو دے دیا تھا…. وہ کندھے ہلاتے وہاں سے جانے لگی تھی…. جب یوشع نے پکارا….
سنو….” وہ رک گئ….. جھٹکے پر جھٹکے لگ رہے تھے آج اسے…..”
جی بولے….”
کل بابا واپس آرہے ہیں؟؟؟؟
جی مجھے معلوم ہے’ میری بات ہوئ تھی ان سے….”
تم ٹھیک ہو…..” ماہی کی آنکھیں ایک بارپھر حیرت سے پھٹی تھی……
یوشع میں تو بالکل ٹھیک ہو مگر آج آپ کا دماغ مجھے بالکل بھی ٹھکانے پر نہیں لگ رہا’ کوئ سکریو تو ڈھیلا نہیں ہوگیا آپکا’ اگر ہوگیا ہے تو بتادے یار مگر یوں حیرت کے جھٹکے دے دے کر مت مارے مجھے’ طبیعت ٹھیک ہے نہ…..”
یو نو ماہین تم ریسپیکٹ نہیں وہی تھپڑ ڈیزرو کرتی ہو’ تم بس اسی کے قابل ہو’ بھاڑ میں جاؤ تم…..” اور پھر اس کو ایسا لگا جیسے یوشع نے اسکو ایک بار پھر طمانچہ مارا ہے….. وہ ایک ہی دم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی…. سامنے ہی یوشع کو غصے سے خود کو گھورتا پایا…..
یوشع میں بتارہی ہو اگر آپ نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا تو اب مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا’ میں بابا کو بتادوں گی سب کچھ…..” ماہی نے تکیہ اٹھا کر یوشع کو مارا….. یوشع تکیہ کو پکڑتا ماہی کو گھورنے لگا…. تمھارا دماغ خراب ہوگیا ہے یہ کیا حرکت ہے’ ایک تو میرے بیڈ پر سورہی ہو دوسرا مجھ پر ہی غصہ کررہی ہو’کب اٹھایا میں نے تم پر ہاتھ’ میں نے تم پر ہاتھ اٹھانا چھوڑ دیا ہے آئ سمجھ’ اٹھو بیڈ پہ سے…..” یوشع نے غصے سے اس کا بازو پکڑتے اس کو اٹھایا…… وہ سب کیا خواب تھا….. اس نے دل میں سوچا….
ہاۓ کتنا حسین خواب تھا…..” وہ مسکرائ….
میں تم پر غصہ کررہا ہو اور تمھیں ہنسی آرہی ہے’ ماہی مجھے مجبور مت کرو کہ میں تم پر دوبارہ ہاتھ اٹھاؤ’ مجھے غصہ مت دلوایا کرو…..”
آپ کو آپ کو آتا ہی کیا ہے غصہ کرنے کے علاوہ’ جب دیکھو مجھے دانٹتے رہتے ہیں’ جب دل کرتا ہے مجھ پر ہاتھ اٹھادیتے ہیں’ خواب میں تو بخش دے’ وہاں تو مجھے اپنی مرضی سے جینے دو یوشع…..” اس نے غصے سے اپنا بازو چھڑواتے ہوۓ کہا…..
کیا قصور ہے میرا جو آپ میرے ساتھ ایساکرتے ہیں’ میں نے تو بس محبت کی ہے نہ آپ سے……” ماہی نے نم آنکھوں سے غصے سے اس کے کالر کو اپنی مٹھی میں جکڑا…..
کیوں کرتے ہو میرے ساتھ ایسا قصور تو بتادے میرا’ میں نے تو بس اپنی محبت کو حاصل کیا ہے’ ہاں جانتی ہو جس طرح سے کیا وہ غلط تھا’ مگر محبت کو حاصل کرنا غلط تو نہیں ہے’ بچپن سے آپ کو چاہا ہے صرف آپکو’ تو اب کیسے دیکھ لیتی آپکو کسی اور کے ساتھ’ آپکو اپنی محبت نظر آتی ہے میری محبت کچھ نہیں میری محبت کی آپکی نظر میں کوئ اہمیت نہیں ہے’ اگر اتنی ہی نفرت تھی تو مت کرتے نکاح……”
کالر چھوڑو میرا’ میں بار بار اپنی باتوں کی وضاحت نہیں کرتا آئ سمجھ’ نکاح کرنا اور طلاق نہ دینا سب کچھ جانتی ہو تم بکواس مت کیا کرو میرے سامنے’ تمھیں کمرے میں جگہہ دی ہے دل میں نہیں’ اور اب نکلو یہاں سے…..” یوشع نے ایک بار پھر اس کو روم سے نکال دیا تھا…..” ڈور کو غصے سے بند کرتا وہ اپنے سر کو پکڑتا روم میں چکر لگانے لگا تھا…..
کیا قصور ہے میرا میں نے تو بس محبت کی ہے نہ آپ سے’ کیسے آپکو کسی اور کے ساتھ دیکھ لو……”
راضی ہوجا بیٹا راضی ہوجا’ سکون چاہیے اگر زندگی میں تو اس کی رضا میں راضی رہنا سیکھ لے’ اپنالے اس کو وقت کے رہتے قدر کرلے….”
یوشع اگر رپورٹس جھوٹی ہوئ تو تم اس کو طلاق دے دینا’ اگر سچ ہوئ تو اسکو اپنا لینا’ اور بھول جانا المیرا کو……”
بیٹا غلطیاں تو خدا بھی معاف کردیتا ہے تو کیا تم ماہی کو معاف نہیں کرسکتے’ بابا معاف انہیں کیا جاتا ہے جو اپنی غلطیوں پر نادم ہو مگر وہ شرمندہ نہیں ہے اپنے کۓ پر……”
ہاں میں جانتی ہو جس طرح اپنایا وہ غلط تھا’ مگر محبت کو حال کرنا غلط نہیں ہے…..” ایک کے بعد ایک بات اس کے ذہن میں گونج رہی تھی جو اس کو پل بھر بھی چین نہیں لینے دے رہی تھی….. وہ سر کو تھامتا زمین پر بیٹھتا چلا گیا…..آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تھا اور پھر کچھ پل لگے تھے اسے زمین بوس ہونے میں…….”
***

ڈاکٹر یوشع کی طبیعت کیسی ہے…..” ڈاکٹر کو روم سے باہر نکلتا دیکھ علی نے پوچھا تھا…… وہ کوریڈور میں تھا….. ماہی اور یوسف صاحب بھی یہی تھے……
ان کا نروس بریک ڈاؤن ہوگیا تھا’ مگر ابھی فلحال خطرے سے باہر ہے’ مگر نیکسٹ ٹائم سٹریس ان کی جان لےسکتا ہے’ یا پھر وہ پاگل بھی ہوسکتے ہیں’ احتیاط کیجۓ گا نیکسٹ ٹائم ایسا کچھ نہ ہو……”
کیا ہم اسے گھر لے جاسکتے ہیں……”
جی بالکل لے جاۓ’ مگر ان کی پروپر ڈائیٹ کا خیال کھیں…..”
ٹھینک یو ڈاکٹر……”
جب اپنے دوست کو گھر لے کر آؤ تو کہہ دینا اس سے کہ نہ مجھے اپنی شکل دکھاۓ اور نہ ہی مجھ سے بات کرے……”
انکل……” بس علی بہت ہوگیا اب……” وہ غصے سے باہر چلے گۓ….. ماہی کھڑی آنسو بہارہی تھی……
اب تم کیوں رو رہی ہو؟؟؟؟”
یوشع…..” ماہی نے روتے ہوۓ کہا…….
ڈھیٹ ہے وہ نہیں ہوگا اسے کچھ’ نہیں مرتا وہ اتنی جلدی……”
بھائ……” ماہی نے غصے سے کہا……
اچھا نہ مزاق کررہا ہو’ چپ کرو…..” اس نے ماہی کو اپنے سینے سے لگایا تھا…….
*

جاری ہے__