Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

Visal-e-Javedan وصال جاوداں

یوشع کی گاڑی خان ولا کے سامنے رکی تھی….. فرنٹ ڈور کھول کر المیرا نیچے اتری تھی….. مڑ کر ڈرائیونگ سیٹ کی طرف آنے لگی جب اسکی نظر اوپر بالکونی میں کھڑی خدیجہ بیگم پر پڑی’ جو اسی کو دیکھ رہی تھی…. المیرا نے اگنور کیا….. اسے کوئ فرق نہیں پڑتا تھا سامنے کھڑی عورت سے….. وہ ڈرائیونگ سیٹ کے پاس کھڑی ہوگئ…. اندر آنے کیلۓ نہیں کہو گی….’ وہ مسکرائ’ بالکل بھی نہی….’ کتنی بے شرم ہو تم…..’ اس میں بے شرم والی کیا بات ہوئ…’ ایک تو اتنے دن بعد میں تمھارے گھر آیا ہو اور تم مجھے عزت کے ساتھ اندر لے جاکر ایک مگ کافی کا پلانے کی بجاۓ’ بے شرموں کی طرح تم مجھے یہاں سے جانے کیلۓ کہہ رہی ہو…… کنجوس کہی کی…..’ ہووو تو ایسی بات ہے….’ المیرا نے افسوس سے کہا….. جی ایسی ہی بات ہے….’ یوشع نے بھی اتراتے ہوۓ کہا….. تو ٹھیک ہے یوشع جی’ میں آپ سے عزت سے کہتی ہو کہ میں آپکو اپنے گھر نہیں آنے دوں گی’ سیدھی شرافت سے اپنے گھر جاۓ…..’ یوشع ہنسا’ مجھے اسی جواب کی توقع تھی بندریا تم سے…… کیا کہا بندریا….’ دونوں ہاتھ کمر پر رکھتے غصے سے کہا….. ہاں تم ہو بندریا’ مجھے کافی نہیں پلائ نہ اس لۓ آج سے تم بندریا…..’ اب اگر آپ نے مجھے بندریا بولا نہ…..’ انگلی اٹھا کر وارن کیا…. تو میں آپکا سر پھاڑ دو گی….’ تم ایک بات تو بتاؤ….’ وہ رازداری سے آگے کو ہوکر بیٹھا…. جی پوچھے…..’ وہ بھی آگے کو جھکی…
تمھیں گنجا کرنے’ سر پھاڑنے کے علاوہ کائ کام نہیں آتا کیا….’ کام چور… یوشع اب اگر آپ نے مجھے کچھ بھی بولا نہ تو میں ‘ آپ کا گلا دبا دوں گی…..’ بس یہی کام تو تمھیں آتے ہیں’ یہی کیا کرو تم’ سر پھاڑ دوں گی’ گنجا کردوں گی’ گلا دبادوں گی’ ہڈیاں توڑ دوں گی’ قسم سے پوری غنڈی لگتی ہو….. آپ جارہے ہیں یا میں جاؤ….؟؟؟ ہاں تو دونوں ساتھ چلتے ہیں نہ اندر’ اسی بہانے دادی سے بھی ملاقات ہوجاۓ گی’ کئ دن ہوگۓ ان سے ملاقات نہیں ہوئ…..’ بالکل بھی نہیں آپکو ملنا ہے’ کل دن میں مل لینا’ اب آپ جاۓ رات ہوگئ ہے’ دس بج رہے ہیں’ بابا بھی گھر پر آگۓ ہوں گے ‘ وہ آپکا ویٹ کررہے ہونگے…..’ اوکے جارہا ہوں’ کیونکہ مجھے اندازہ ہوگیا ہے تم ایک نمبر کی کام چور ہو’ اور تمھاری زبان صرف میرے سامنے چلتی ہے’ دوسروں کے سامنے تم بھیگی بلی بن جاتی ہو…..’ وہ ناراضگی سے اسکو دیکھ رہی تھی…. اوکے اوکے….. سیدھی بات پہ آتا ہو….. وہ ایک دم سنجیدہ ہوا تھا….. میں جانتا ہو تم مجھے اندر آنے سے کیوں منع کررہی ہو’ اپنی ماما کی وجہ سے نہ کیونکہ وہ اوپر بالکونی میں کھڑی تمھیں دیکھ رہی ہے’ میں نے دیکھ لیا ہے انہیں وہاں کھڑا ہوا…..’ مجھے ان سے کوئ فرق نہیں پڑتا وہ دیکھے یا نہ دیکھے….. اصل وجہ یہ کہ میں ابھی کسی لڑائ کے موڈ میں نہیں ہو’ آپ اندر گۓ تو وہ لڑے گی…..’ یوشع نے دروازہ کھولا…. ایک پاؤں باہر نکال کر آگے کو ہوکر بیٹھا… المیرا کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا…. المیرا کچھ بھی ہوجاۓ’ تمھارا شہری ہمیشہ تمھارے ساتھ کھڑا ہے’ ہر حال میں’ وہ اپنے انگوٹھے سے اس کے ہاتھ کی پشت کو مسل رہا تھا….. المیرا نے اثبات میں سر ہلایا….. المیرا میری طرف دیکھو…. اس نے نظریں اٹھائ’ یوشع نے اسکی آنکھوں میں دیکھا جہاں ہلکی نمی تیر رہی تھی….. “وہ ایسی ہی تھی چھوٹے دل کی ملکہ’ ذرا ذرا سی بات پہ آنکھیں بھر آتی تھی” ڈونٹ ڈو دس یار’ یوشع کا اشارہ آنکھوں کی طرف تھا…. مجھے شرارتی’ چلبل سی المیرا پسند ہے’ یہ روتی ہوئ نہیں’ روتے ہوۓ تم ی لگتی ہو….’ یوشع…. چلو جلدی سے ہنس کر دیکھاؤ…. وہ ہلکا سا مسکرائ…. ڈیٹس لائک مائ گڈ گرل…. اوک اب میں چلتا ہو’ سی یو ٹومورو…. اس کا گال تھپتھپایا…. پاؤں گاڑی کے اندر رکھا’ دروازہ بند کیا….. گاڑی سٹارٹ کی…… سٹیئرنگ پہ ہاتھ رکھے… المیرا کی طرف دیکھا…. یاد رکھنا ہمیشہ تمھارے ساتھ ہو’ کچھ بھی ہوجاۓ صرف ایک مسڈکال…. ٹیک کیئر اور زن سے گاڑی آگے بھگا لے گیا….. فی امان اللّه….. المیرا نے کہا اور گہری سانس لیتی اس بڑے سے گیٹ سے اندر داخل ہوگئ…….. ________________________ لان کو عبور کرتی راہداری سے گزرتی لاؤنج میں پہنچی تھی….. جو بالکل خالی تھا…. وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگی تھی کہ آواز سن کر رکنا پڑا….. کہاں سے آرہی ہو؟؟؟ ٹائم دیکھا ہے تم نے؟؟؟ اور کون تھا وہ لڑکا؟؟؟ وہ پیچھے مڑی’ نائٹ ڈریس میں ملبوس اپنی سوتیلی ماں کو دیکھا’ اور ان کے پیچھے کھڑے اپنے ڈیڈ کو….’ میں جہاں مرضی سے آؤ’ آپ کو اس سے کوئ ایشو نہیں ہونا چاہیے’ میں بھلے دس بجے گھر آؤ یا ساری رات ہی گھر نہ آؤ’ آپ کو میری فکر کرنے کی کوئ ضرورت نہیں ہے…..’ ارے دیکھو! کتنی زبان چل رہی ہے اسکی…… خدیجہ نے خان کا بازو پکڑ کر ہلایا……” آپ اسے کچھ کہتے کیوں نہیں ہے؟؟؟ یہ مجھ سے بدتمیزی کررہی ہے….. ارے میں ماں ہو اسکی اگر میں فکر نہیں کرو گی تو کون کرے گا…..’ بس کرے’ انگلی اٹھائ…. کچھ نہیں لگتی آپ میری’ کچھ بھی نہیں’ میرے اس دنیا میں آنے کے پندرہ دن بعد ہی میری ماما اس دنیا سے چلی گئ تھی’ سو دوبارہ خود کو میری ماں مت کہنا اور کون سی فکر کی بات کررہی ہے’ اگر اتنی ہی فکر ہوتی تو بچپن سے میرا خیال کرتی آتی’ ہمیشہ مجھے دھتکارتی نہ رہتی……” خان دیکھ رہے ہیں آپ اس لڑکی کو’ یہ اس ہی لڑکے کی محبت کا اثر ہے جس کے آفس میں کام کرتی ہے’ میں بتارہی ہو خان آپ کو’ یہ لڑکی ایک دن آپ کے خاندان کی عزت کو خاک میں ملادے گی’ ارے سارا دن اسکے ساتھ آفس میں کام کرتی ہے اور شام کو اس کے ساتھ گھومنے نکل جاتی ہے’ سارا دن اس کے ساتھ چپکی رہتی ہے’ کچھ تو خیال کرو’ لڑکی ذات ہو’ ارے پتا نہیں جس طرح تم اس کے ساتھ گھومتی پھیرتی ہو’ کہیں کچھ کر نہ لیا ہو تم نے…..’ المیرا نے حیرت سے اپنی سوتیلی ماں کو دیکھا…..” سٹوپ اٹ اب اگر ایک لفظ بھی آپ نے مزید بولا نہ تو” “ایک نظر اپنے باپ کو دیکھا جو خاموش تماشائ بنا کھڑا بس المیرا کو دیکھ رہا تھا……” میں بھول جاؤں گی کہ آپ میری سوتیلی ماں ہے’ اگر اب میرے کردار پر انگلی اٹھائ نہ تو حشر بگاڑ دوں گی….. میں سچ میں بھول جاؤں گی کہ آپ میری سوتیلی ماں اور میرے باپ کی دوسری بیوی ہے…… اپنے کام سے کام رکھو’ میری لائف میں اینٹرفیئر مت کرو’ میرے دل میں جو آۓ گا میں وہ کرو گی…..’ اور بنا کسی کی طرف دیکھے اوپر سیڑھیاں چڑھنے لگی تھی…. وہ اور کھڑی نہیں ہوسکتی تھی یہاں….. اس کا دل بھر بھر کر آرہا تھا….. آنکھوں سے آنسوں نکلنا شروع ہوگۓ تھے…..’ خان اپنے روم کی طرف بڑھ گۓ تھے’ خدیجہ بھی غصے میں اپنے شوہر کے پیچھے چل دی…..’ المیرا نے روم میں داخل ہوکر روم کو لوک کیا اور وہی دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئ….. اپنے چہرے پہ ہاتھوں کو رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی……” بابا آپ آج بھی کچھ نہیں بولے’ وہ روتے ہوۓ خود سے بول رہی تھی…… آپ کی وائف نے آپ کی بیٹی کہ کریکٹر پر انگلی اٹھائ’ آپ آج بھی چپ رہے’ کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ میں آپ کی عزت پر کوئ حرف آنے دوں گی…….” اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے سب سے زیادہ کیا چیز تکلیف دے رہی ہے……. “آج بھی ہر بار کی طرح اپنے باپ کا چپ رہنا یا اپنے کردار پر لگاۓ گۓ یہ گھٹیا الزام” وہ کافی دیر یوہی بیٹھی روتی رہی اور پھر اپنے آنسو صاف کرتی اٹھی اور واشروم میں جاکے بند ہوگئ…….’ _______________________ وہ غصے میں اپنے شوہر سے لڑ رہی تھی….. میں کہتی ہو آپ نے اس کے منہ پہ تھپڑ کیوں نہیں مارا’ وہ کتنی بدتمیزی کررہی تھی مجھ سے’ آپ نے اسے کچھ نہیں کہا…..” بس کردو خدیجہ’ تم نے بھی کچھ کم نہیں کہا اس کو…… غصے سے ہاتھ اٹھا کر کہا تھا…… تم نے اس کے کردار پر انگلی اٹھائ ہے’ اگر کوئ تمھارے کردار پر انگلی اٹھاۓ گا تو تمھیں کیسا لگے گا…… میں اپنی بیٹی کو اچھی طرح جانتا ہو وہ میری بیٹی ہے’ وہ مر تو سکتی ہے مگر کبھی میری عزت پر کوئ حرف نہیں آنے دے گی اور اب میں نے کوئ بات نہیں کرنی…… وہ بیڈ کی طرف بڑھ گۓ تھے…. بلینکٹ اوڑھ کر لیٹ گۓ’ لائیٹ آف کردو مجھے نیند آرہی ہے’ وہ بھی غصے سے لائیٹ آف کرتی خود بھی دوسری سائڈ پہ آکر لیٹ گئ……. ******** بس کردو بیٹا اور کتنا رؤں گی’ چپ کرجاؤ….. دادی چپ کروانے کے ساتھ ساتھ المیرا کے بالوں میں بھی ہاتھ پھیررہی تھی…. المیرا اپنی دادی کی گود میں سر رکھے لیٹی رورہی تھی…… دادی’ بابا آج بھی چپ رہے’ وہ آج بھی کچھ نہیں بولے’ انہیں بھی لگتا ہے کہ میں ان کی عزت کو خاک میں ملادو گی’ انہیں مجھ پر یقین نہیں ہے” وہ ایک ہی دم اٹھ کر بیٹھی تھی…. دادی کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا رونے کی وجہ سے آنکھیں اور ناک دونوں ہی لال ہوگئ تھی…..’ “دادی آپکو تو مجھ پر یقین ہے نہ آپکی المیرا کبھی کوئ غلط کام نہیں کرسکتی” دادی نے المیرا کے آنسو صاف کیے’ اس کے بالوں کو کان کے پیچھے اڑسا’ اس کے ماتھے پر بوسہ دیا مجھے پورا یقین ہے اپنی بیٹی پر’ تم کبھی کوئ غلط حرکت نہیں کرو گی’ مجھے یقین ہے میری بیٹی کا دامن آج بھی اس کے دل’ اس کے روح کی طرح پاک ہے’ مجھے اپنی تربیت پر ناز ہے’ اور مجھے یقین ہے تم کبھی اپنی دادی کی تربیت کو نہیں بھولوں گی” اس نے روتے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا…. آپ جانتی ہے دادی یوشع کو اچھی طرح’ وہ بالکل بھی ایسا نہیں ہے’ وہ دوسرے لڑکوں سے بہت ڈیفرنٹ ہے’ وہ میری بہت عزت کرتا ہے ‘ وہ تو خود بھی یہی کہتا ہے محبت ہوجانا کوئ گناہ نہیں ہے’ محبت میں بہک جانا گناہ ہے’ محبت تو ہو جاتی ہے مگر اس محبت کو پاک رکھنا ‘اصل محبت’ ہے’ محبت عزت مانگتی ہے’ اور وہ میری بہت عزت کرتا ہے’ محبت کا اصل ثبوت “عزت” ہے….. عزت کرو اپنی محبت کی’ اس محبت کو پاک رکھو…. سچ میں دادی ہم دیڑھ سال سے ایک ساتھ ہے اور ان ڈیڑھ سال میں کوئ غلط حرکت تو دور اس نے کوئ غلط بات تک نہیں کی ہے’ شہری کبھی کوئ ایسی حرکت نہیں کرتا جس سے مجھے تکلیف ہو’ جو میرے لۓ تکلیف کا باعث بنے’ وہ مجھ سے بہت محبت کرتا ہے’ میں بھی اس سے بہت محبت کرتی ہو’ اسکی عزت کرتی ہو’ میں شہری کے بغیر نہیں رہ سکتی…..” میں جانتی ہو بیٹا تم شہری سے کتنی محبت کرتی ہو’ اور وہ تم سے کتنی محبت کرتا ہے’ میں نے خود اس کی آنکھوں میں تمھارے لۓ عزت’ چاہت’ محبت کا جلتا دیا دیکھا ہے’ یوشع سے زیادہ بیسٹ لائف پارٹنر تمھیں کہی نہیں ملے گا’ میں خوش ہو المیرا تم نے ایک بہترین انتخاب کیا ہے یوشع کی صورت’ اس کی ہمیشہ قدر کرنا…..” المیرا روتے ہوۓ دادی کے گلے لگی تھی اور وہ اس کی پیٹھ کوسہلا کر اسے چپ کروانے کی کوشش کررہی تھی…… ********* یوسفزئ ولا میں صبح ناشتے کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئ تھی…. ڈائننگ ہال میں رکھی ڈائنگ ٹیبل کی طرف جاۓ تو سربراہی کرسی پر یوسف صاحب آنکھوں پر عینک جماۓ صبح کے اخبار کا مطالعہ کررہے تھے….. وہ سفید شلوار’ قمیص میں ملبوس’ پنتالیس سے پچاس کی درمیانی عمر’ درمیانی صحت کے آدمی تھے…. گھنی مونچھیں تھی…. وہ وقفے وقفے سے چاۓ کا مگ اٹھا کر گھونٹ بھرتے دکھائ دے رہے تھے…… تھوڑی دیر بعد ڈائننگ ہال میں تیز مردانہ پرفیوم کی مہک پھیلی…… یوشع قدم قدم چلتا ڈائننگ ٹیبل تک آیا… چہرے پر مسکراہٹ تھی…… ہاتھ میں پکڑا کوٹ کرسی کی بیک پہ ہینگ کیا….. “گڈ مارننگ ڈیڈ! ہیو آ نائس ڈے؟؟؟” کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا…..’ السلام علیکم برخوردار……’ انہوں نے یوشع کو شرم دلوانا چاہی….. یوشع نے صرف ہنسنے پر اکتفا کیا….. اوو کم اون ڈیڈ….’ ایک ہی بات ہے…..’ ناک سے مکھی اڑائ…..’ “یوشع تمھیں سمجھانا’ بھینس کے آگے بین بجانا” اووع رئیلی….. اتراتے ہوۓ کہا…..’ یوسف صاحب نے اخبار فولڈ کرکے میز پر رکھا’ عینک اتار کر اخبار پر رکھی….. ملازمہ کافی کا مگ لے آئ….’ “اسے سب سے پہلے کافی چاہیے ہوتی ہے’ اس کے بعد بریک فاسٹ…. کافی سے تو عشق ہے نہ یوشع کو….” کل رات کہاں آوارہ گردیاں کرتے پھررہے تھے….” یوشع نے مسکراتے ہوۓ کافی کا سپ لیا….. اپنے ڈیڈ کی طرف دیکھا….. “میں آوارہ گردیاں نہیں کرتا’ یہ بات آپ اور میں’ ہم ‘ دونوں ہی اچھی طرح جانتے ہیں….. “ملازمہ ایک بار پھر آئ تھی اب یوشع کا بریک فاسٹ لے کر وہ سرو کررہی تھی…..” یوسف صاحب نے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھے’ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کی……” “میں نے پوچھا کل کہاں آوارہ گردیاں کرتے پھررہے تھے” ڈیڈ….. یوشع نے تھوڑا خفگی سے کہا…..’ جب تم میری بیٹی کو ڈانٹتے ہو’ اسکی آنکھوں میں تمھاری وجہ سے آنسوں آتے ہیں’ تو تب تم میرے لۓ ایک آوارہ قسم کے بدمعاش لڑکے بن جاتے ہو’ پتا چلتا ہے کہ تم یوشع نہیں ہو’ کیونکہ یوشع لڑکیوں کی عزت کرنا جانتا ہے’ ان کو رلانا نہیں…..” یوشع نے کافی کا مگ ٹیبل پر رکھا’ وہ اب بھی مسکرارہا تھا….. ایک بار پھر اپنے ڈیڈ کی طرف دیکھا….. اووو تو صحیح سے بتاۓ نہ اصل بات وہ آپکی پیاری بیٹی ہے’ میں کل رات آپکی ہونے والی بہو کے ساتھ تھا’ وہ مجھ…….. سے ناراض ہوگئ تھی…’ یہی کہنا تھا نہ… یوسف صاحب نے جملہ پورا کیا…..’ ایک بات تو بتاۓ’ وہ آگے کو ہوا’ آپکی بیٹی کے پیٹ میں کچھ بچتا نہیں ہے کیا’ ایک ایک بات آپکو بتاتی ہے میری…..’ “ویل میری بیٹی نے تو کچھ نہیں بتایا مجھے’ البتہ علی نے کال پہ کل آفس میں ہوئ ساری کاروائ بتادی تھی کہ تم نے المیرا کو ڈانٹا اور وہ روئ تھی….” یوسفزئ نے کان پکڑ کے مروڑا……”وہ جو دل میں علی کو گالیوں سے نواز رہا تھا….” ایک چینخ حلق سے برآمد ہوئ….. آآآ ڈیڈ چھوڑے میرا نازک سا کان….” یہ بتاؤ میری بیٹی کو کیوں رلایا…؟؟؟ آآ چھوڑےگے تو بتاؤ گا نہ’ چھوڑے نہ…..” یوسف صاحب نے کان چھوڑا…. شکر کرو المیرا نے مجھے کچھ نہیں بتایا کیونکہ اگر وہ مجھے بتاتی تو تمھاری ٹانگیں توڑ دیتا……” “یونو ڈیڈ کبھی کبھی تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں نہیں المیرا آپکی سگی اولاد ہے……” تم جیلس ہورہے ہو؟؟ میں کیوں جیلس ہوگا….. اگر سچ بتاؤں تو’ اس نے کافی کا گھونٹ بھرا…. ملازمہ کب کی جاچکی تھی….. “مجھے بہت اچھا لگتا ہے’ جب آپ المیرا کو اپنی بیٹی کہتے ہو….” وہ میری بیٹی ہے’ میں دل سے اسے اپنی بیٹی مانتا ہو’ وہ دونوں اب بریک فاسٹ کرتے ہوۓ بات کررہے تھے’ یاد رکھنا یوشع اگر میری بیٹی کی آنکھوں میں تمھاری وجہ سے دوبارہ کبھی آنسوں آۓ تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا’ “آنسوں دینے والے نہیں’ آنسوں صاف کرنے والے بنو” یوشع کی مسکراہٹ ہنوز برقرار تھی….. ایم سوری ڈیڈ آج کے بعد نہیں ڈانٹوں گا آپکی پیاری بیٹی کو’ میری توبہ ہے جو آج کے بعد ڈانٹا…..’ آپ اچھی طرح جانتے ہیں ڈیڈ…. المیرا کی آنکھوں میں آنسوں تو میں بھی نہیں دیکھ سکتا’ مگر میں بھی کیا کرو آپکی بیٹی اتنے چھوٹے دل کی ہے ہلکا سا بھی ڈانٹوں تو رونے لگ جاتی ہے…..” تمھیں اسے نہیں ڈانٹنا چاہیے تھا یوشع’ غلطی ہوئ بھی تو معاف کردیتے’ جب تم نے سارا معاملہ سنبھال لیا تھا تو مت ڈانٹتے” وہ اب آرام سے بول رہے تھے….. ہاں غلطی ہوگئ’ آپکو معلوم ہے ڈیڈ جب کل آفس میں اسکی آنکھوں میں’ میں نے نمی دیکھی تھی تو مجھے ایسا لگا جیسے میرا دل کسی نے مٹھی میں زور سے بھینچ لیا ہو’ جب تک وہ مان نہیں گئ’ میری جان “اس نے شہ رگ پر انگلی رکھی” یہاں اٹکی ہوئ تھی…..’ اور اس کے بعد مجھ سے کام بھی نہیں ہوا تھا’ میں ڈسٹرب ہوگیا تھا اسکی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر’ بار بار اس کی نمی بھری آنکھیں سامنے آرہی تھی….. تو پھر ناراض کیا ہی کیوں تھا؟؟؟ جب اسکی ناراضگی سے اتنا ڈرتے ہو…..” کہاں تو ہے غلطی ہوگئ’ اب دوبارہ کبھی ایسا نہیں ہوگا…..” ہونا بھی نہیں چاہیے….. اچھا آپ کل جلدی سوگۓ تھے’ طبیعت ٹھیک ہے آپ کی’ میڈیسن لی تھی….” ہاں بھئ مجھے کیا ہونا ہے’ میں تو فٹ فاٹ ہو’ تم نے ہی مجھے بیمار اور بوڑھا بناکے رکھا ہوا ہے….” میں ایسی گستاخی کرسکتا ہو آپکی شان میں’ آپ تو ابھی ینگ ہے اور دوسری شادی بھی کرسکتے ہیں….’ بتاۓ لڑکی ڈھونڈوں آپ کیلۓ…..” یوشع نے شرارت بھری چمکتی آنکھوں سے پوچھا” یوسف صاحب نے کندھے پر چپت رسید کی…” میری عمر دوسری شادی کی نہیں’ گھر بیٹھ کر پوتے’ پوتیوں سے کھیلنے کی ہیں’ شادی تم کرو گے….” “ہاۓۓ ڈیڈ کیوں جلتے پہ نمک چھڑک رہے ہیں” میں تو ابھی شادی کرلو’ مگر آپکی بیٹی بھی تو مانے….’ یوسف صاحب مسکراۓ’ بھئ اسے منانا تو تمھارا کام ہے’ اس معاملے میں تو میں بھی تمھاری مدد نہیں کرسکتا….” “ہاۓۓ پتا نہیں کب مانے گی” یوشع نے کہنی ٹیبل پر رکھ کر بند مٹھی پر سر رکھتے دور خلا میں سوچتے ہوۓ کہا….’ وہ سیدھا ہوا’ اوکے ڈیڈ میرا تو ہوگیا’ اب میں چلتا ہو….” اوکے بیٹا ٹیک کیئر…” میں آج آفس آؤ گا” اوکے ڈیڈ’ سی یو ان آفس” اس نے جھک کر باپ کے ہاتھ پر بوسہ دیا’ اپنا کوٹ اٹھایا اور ڈائننگ ہال سے نکل گیا…… یوسف صاحب وہی بیٹھے اسے جاتا دیکھتے رہے….. ********