No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
کتنا ہی وقت بیت گیا…. عصر کا ٹائم ہوگیا…. سب ہی آگۓ تھے…… جہانزیب اور خدیجہ بیگم بھی پہنچ گۓ تھے…. ان کے رشتےدار یوسف صاحب علی اور زینب کے گھر والے سب ہی تھے….. المیرا کے ماموں ممانی بھی تھے جو لاہور میں رہتے ہیں….
المیرا بھی وہی دادی کی میت کے ساتھ بیٹھی بس ان کو یک ٹک دیکھے جارہی تھی…… اب تو رورو کر آنکھیں بھی سوجھ گئ تھی…… خان جب یہاں آۓ تو وہ المیرا کے قریب آۓ تھے کہ اسے اپنے سینے سے لگاۓ مگر اب کی بار وہ ان سے دور ہوگئ تھی…. وقت ہاتھوں سے نکل چکا تھا….
مگر وہ جہانزیب کے سینے سے لگ کر خوب روئ تھی…. سب مرد حضرات لاؤنج میں آۓ تھے…..
زینب نے المیرا کے کندھے پر ہاتھ رکھا….
المیرا….’ اٹھو یہاں سے سب آگۓ ہیں ‘ نماز جنازہ کا ٹائم ہوگیا ہے…..”
اس نے نفی میں گردن ہلائ… ایک بار پھر آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگۓ….
زینب نے بھی گیلی پلکوں سے یوشع کو دیکھا…..
اب صرف وہی المیرا کو سنبھال سکتا ہے….. یوشع ‘ علی اور جہانزیب تینوں ہی المیرا کے پاس آۓ تھے….. خان بھی کیا سنبھالتے وہ تو خود ٹوٹ گۓ تھے…… ایک طرف ماں تو دوسری طرف بیٹی کی بےرخی…..
المیرا اٹھو….”
یوشع نے اسے کھڑا کرنا چاہا…..
نہیں….” وہ اب بھی نفی میں گردن ہلارہی تھی…
المیرا پلیز’ بچوں والی حرکتیں مت کرو ہوش اور صبر سے کام لو….” جہانزیب نے بھی اسے تھاما…. وہ اٹھ کھڑی ہوئ…. جہانزیب نے اسے خوود میں بھینچا تھا….. وہ زاروقطار رونے لگی تھی…..
زینب اور اسکی ممانی نے آگے بڑھ کر المیرا کو تھاما تھا….
دادی…” وہ بس پاگلوں کی طرح روۓ جارہی تھی….. اور ان سب سے بڑھ کر سب سے زیادہ تکلیف یوشع کو تھی المیرا کو اس حال میں دیکھ دیکھ کر….. وہ سب چلے گۓ تھے…..
وقت پھر گزرا تھا رات ہوگئ تھی…. اب تو سب چلے گۓ تھے….. زینب اور علی کے گھر والے…. زینب نے یہی رکنا تھا المیرا کے پاس….. یوسف صاحب بھی چلے گۓ تھے…. وہ بھی تو صبح سے یہی تھے اب ان کی بھی طبیعت ڈاؤن ہورہی تھی…. ماہی تو آئ ہی نہیں تھی…..
المیرا اپنے روم میں تھی…. زینب بھی ساتھ ہی تھی….. باہر کیا ہورہا ہے کیا نہیں وہ سب کب واپس آۓ کب نہیں اسے کچھ خبر نہیں….. سارا دن ہوگیا مگر اب تک اس نے کچھ کھایا بھی نہیں تھا….. زینب نے کتنی کوشش کی کہ وہ کچھ کھالے مگر نہیں کھایا….. چند پل بعد یوشع روم میں آیا…. کھانے کی ٹرے ہاتھ میں تھامی ہوئ تھی….
زینب باہر جاؤں….” وہ بیڈ سے اٹھی اثبات میں سر ہلاتی روم سے نکل گئ….
یوشع بیڈ پر بیٹھا….
المیرا سیدھی ہوکر بیٹھو….”
وہ اس وقت بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ آنکھیں موندیں بیٹھی تھی….. اس نے آنکھیں کھولی…..
شہری مجھے کچھ نہیں کھانا…..”
المیرا پلیز تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ہے’ رات کے دس بج رہے ہیں’ تھوڑا سا کھالو میری خاطر کھالو’ ورنہ طبیعت خراب ہوجاۓ گی…..”
شہری مجھ سے نہیں کھایا جارہا’ کچھ بھی پلیز….”
المیرا میں بھی صبح سے بھوکا ہو’ مجھے بھی بھوک لگی ہے’ صرف تھوڑا سا کھالو میں بھی کھالو گا پلیز…..”
اس نے نوالا بناکر اس کے منہ کے آگے کیا…..
پلیز مہرو مجھے اور تکلیف مت دو’ صبح سے تمھیں یوں اس حال میں دیکھ دیکھ کر اتنی تکلیف ہورہی ہے کہ اب ایسا لگنے لگا ہے کہ میرا دل پھٹ جاۓ گا تکلیف کے مارے…..”
شہری….” کپکپاتے ہونٹوں سے اسنے اسے پکارا…..
یوشع نے نوالا اس کے منہ میں دیا….. ایک بار پھر آنسوں جاری ہوگۓ…. بہت مشکلوں سے اسنے تھوڑا بہت کھایا تھا….. آخر آج پھر ہر بار کی طرح یوشع نے اسے سنبھال ہی لیا…..
خود تو اس نے اب بھی کچھ نہیں کھایا…. بھوک لگنے کا تو صرف بہانہ تھا ورنہ ایسے موقعوں پر کس کا دل کرتا ہے کچھ کھانے کو….. اس نے تو بس المیرا کو کھلانا تھا سو کھلادیا….
خان روم میں داخل ہوۓ خدیجہ بیگم بھی ساتھ تھی…… المیرا کی نظر دونوں پر پڑی…. وہ غصے میں بیڈ سے اٹھی…..
رک جاۓ وہی پہ…..” یوشع بھی اٹھا…..
بیٹا….” خان نے بھیگے لہجے میں پکارا….
مت بلاۓ مجھے بیٹا’ نہیں لگتے آپ میرے کچھ…..”
دل کتنی بری طریقے سے ٹوٹا تھا…..
آہ کاش!! جیسے شیشہ ٹوٹنے کی آواز ہوتی ہے ویسے ہی دل کے ٹوٹنے کی بھی آواز ہوتی مگر ایسا نہیں ہے دل جب ٹوٹتا ہے تو اندر ہی اندر اتنی کرچیاں ہوجاتی ہے کہ کسی کو پتا بھی نہیں لگتا…..
اور ایسا ہی آج خان کے ساتھ ہوا ہے ‘ دل کرچی کرچی ہوگیا اور کسی کو پتا بھی نہیں لگا……
سنا آپ نے نہیں لگتے آپ میرے کچھ ‘ چلے جاۓ یہاں سے نفرت کرنے لگی ہو میں آپ سے نفرت…….”
المیرا سٹوپ اٹ’ یہ کیا بکواس کررہی ہو…..” یوشع نے ڈانٹا….
شہری شہری ان سے کہہ دے یہ چلے جاۓ یہاں سے’ مجھے ان کی شکل بھی نہیں دیکھنی ‘ نہیں لگتے یہ میرے کچھ’ مرگۓ یہ میرے لۓ اور میں ان کیلۓ’ نہیں لگتے یہ میرے کچھ…..”
خان نے دل پر ہاتھ رکھا….
تکلیف بڑھنے لگی تھی…..
خدا کے واسطے بیٹا ایسے الفاظ مت بولو میں تمہارا باپ ہو….”
باپ ‘ ایسے ہوتے ہیں باپ ‘ جیسے آپ ہے….”
المیرا….’ یوشع نے اسے کہنی سے تھام کر چپ کروانا چاہا….
مگر وہ بول رہی تھی….
اللّه کرے کسی بیٹی کا باپ آپ جیسا نہ ہو ‘ باپ اپنی بیٹیوں سے بہت محبت کرتے ہیں ‘ آپ نے کی کبھی مجھ سے محبت ‘ نہیں کبھی نہیں ‘ محبت تو دور کی بات ہے آپ نے تو کبھی میرے سر پر شفقت بھرا ہاتھ بھی نہیں رکھا ‘ اور پھر آپ کہتے ہیں کہ آپ میرے باپ ہے’
ساری زندگی میں آپ کے پیار کیلۓ’ آپکی ایک پکار کیلۓ ‘ آپ کے ایک شفقت بھرے ہاتھ کیلۓ ترستی رہی ہو’ مگر نہیں اب اور نہیں اب اور برداشت نہیں ہوتا….”
اس نے اپنے آنسوں کو رگڑا…..
آپ کو پتا ہے جب سکول جاتی تھی تو سب دوستوں کے اپنے ساتھ کی سب لڑکیوں کے بابا کو دیکھا کرتی تھی جو چھٹی کے ٹائم انہیں لینے آتے تھے ‘ جو چھٹی ہونے سے پہلے سکول کے گیٹ پہ کھڑے ملتے تھے وہ اپنی بیٹیوں سے کتنی محبت کرتے تھیں اور میں ‘ میں ہمیشہ راہ ہی تکتی رہی کہ کبھی تو بابا آۓ گے مجھے لینے ‘ مگر آپ کبھی نہیں آۓ’ کبھی نہیں’
میری دادی کی جان لینے والے بھی آپ ہے……”
خان کے قدم ڈگمگاۓ…. دو قدم پیچھے ہوۓ….. خدیجہ کھڑی بس تماشہ دیکھ رہی تھی…..
المیرا اتنا بڑا الزام مت لگاؤ بیٹا مت لگاؤ…..”
یہ سچ ہے آپ ایک قاتل ہے’ قاتل ‘ آپ اچھی طرح جانتے تھے کہ دادی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ بیمار ہے’ پھر بھی آپ کو دبئ جانے کی لگی ہوئ تھی’ آپ کو اپنی ماں سے زیادہ اپنا بزنس عزیز تھا’ آپ انہیں یہاں اکیلا چھوڑ کر چلے گۓ’ مجھ سے بھی مل کر نہیں گۓ’ آپ نہیں جانتے’ دادی کے ساتھ میں تھی وہ کتنا آپ کو یاد کرکے روئ تھی اس دن کہ میرے بیٹے کو میری بالکل فکر نہیں ہے وہ کس قدر روئ تھی آپ نہیں جان سکتے…..”
بابا ایک عورت کی خوبصورتی میں آپ اتنا کھوگۓ’ اس قدر کھوگۓ کہ آپ یہ تک بھول گۓ کہ آپکی ایک ماں اور ایک بیٹی بھی ہے’ جنہیں آپکی’ آپکے ساتھ کی ضرورت ہے…..”
خان کی آنکھ سے موتی ٹوٹ کر گال پہ لڑھکا…..
اے لڑکی!!! ذرا سنبھال……”
شٹ اپ خدیجہ بیگم!! میں اپنے باپ سے بات کررہی ہو’ بیچ میں مت بولے…..”
یوشع نے بھی غصے سے خدیجہ کو دیکھا….. ان کی بولتی بند ہوئ…. وہ غصے میں روم سے نکل گئ…..
المیرا کی بھی آنکھوں سے آنسوں ٹوٹ ٹوٹ کر گالوں پہ لڑھک رہے تھے…. بولنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی مگر وہ بول رہی تھی….
اور کیا سنے گے آپ بابا” میری تو ماما بھی نہیں تھی’ میں نے ہمیشہ سوچا کہ مجھے ماں اور باپ دونوں کا پیار دے گے’ آپ مجھے کبھی میری ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دے گے’ مگر ماں کا پیار تو دور کی بات ہے’ آپ تو ایک باپ کا پیار بھی نہیں دے سکے’ ایک دادی تھی میری اپنی آج وہ بھی مجھ سے دور چلی گئ صرف آپکی وجہ سے’ آپکی وجہ سے’ میں نفرت کرنے لگی ہو آپ سے’ مجھے نفرت ہونے لگی ہے آپکے وجود سے’ چلے جاۓ یہاں سے…..”
وہ چینخی تھی….
شہری شہری ان سے کہو یہ یہاں سے چلے جاۓ…..”
اس نے یوشع کی کہنی تھامی…..
کہہ دے ان سے چلے جاۓ یہاں سے’ مجھے ان کی شکل بھی نہیں دیکھنی…..”
اس نے یوشع کے سینے میں اپنا چہرہ چھپایا….. یوشع نے بھی اس کے گرد اپنے بازؤں کا گھیرا کیا…..
میں اپنے آپ کو جان سے ماردوں گی یوشع’ کہہ دے ان سے چلے جاۓ’ نہیں لگتے یہ میرے کچھ…..”
وہ کانپنے لگی تھی…..
کاش المیرا محسوس کرپاتی اپنے لہجے کی نفرت’ محسوس کرپاتی کے اس کے لہجے کی نفرت’ اس کے ان کڑوے لفظوں نے کسی کے دل کے کتنے ٹکڑے کر کے رکھ دیے……
المیرا خدا کے واسطے مت کرو میرے ساتھ ایسا…..”
وہ ہنوز کانپ رہی تھی…..
چلے جاۓ میں خود کو ختم کرلوں گی’ چلے جاۓ…..”
انکل پلیز جاۓ….” یوشع نے بھی غصے سے کہا وہ کہنا نہیں چاہ رہا تھا ایسا مگر المیرا کے الفاظ کہ وہ خود کو ختم کرلے گی “یہ برداشت نہیں “
وہ مسلسل کانپ رہی تھی…. اس کی بس ایک ہی رٹ تھی کہ
چلے جاۓ’
انکل خدا کے واسطے چلے جاۓ’ اگر المیرا کو کچھ ہوگیا تو ساری دنیا کو آگ لگادوں گا’ یہ ابھی اپنے ہوش میں نہیں ہے’ میں سمجھادوں گا اسکو بعد میں مگر ابھی آپ جاۓ…..”
انہوں نے قدم پیچھے لۓ….. وہ رورہے تھے….
وہ اپنے آنسوں صاف کرتے باہر نکل گۓ…..
وہ نہ جانے کتنی ہی دیر یوشع کے سینے سے لگی بس روتی رہی….. یوشع نے بھی چپ نہیں کروایا کہ دل کا بوجھ ہلکا ہوجاۓ گا…..
“ایسا انسان بھی تو زندگی میں ہونا چاہیے نہ کہ ہم اس کے کندھے پر سر رکھ کر بس روتے رہے اور وہ ہم سے بس کچھ نہ پوچھے کہ کیوں رورہے ہوں؟؟
وہ ہمارے آنسوں ہماری خاموشی سے ہی ہماری کیفیت کا اندازہ لگالے….. اور وہ ایسا ہی تھا المیرا کے معاملے میں….. المیرا کی خاموشی اسکے آنسوں اسے سب کچھ بیاں کردیتے تھے…..”
کافی دیر بعد وہ روم سے نکلا تھا….. زینب سامنے سے آرہی تھی…. وہ اس کے قریب رکا….
المیرا کیسی ہے؟؟ کھانا کھالیا اس نے….”
ہممم کھالیا اور سلا بھی دیا سورہی ہے وہ’ اب تم چلی جاؤ اس کے پاس….”
سو بھی گئ….” اسے کچھ حیرت ہوئ….
سلیپنگ پلز دی تھی’ جب سوگئ ہے’ ورنہ اس نے ساری رات بھی نہیں سونا تھا….”
وہ صرف تمھارے قابو آتی ہے….”
یوشع نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا…..
زیادہ سوال مت کرو جو کہا ہے وہ کرو؟؟ اس کے پاس جاؤ….”
وہ تھوڑا آگے کو ہوئ…. آنکھیں چھوٹی کی…..
اور تم اس وقت میرا بوس بننے کی کوشش مت کرو انڈرسٹینڈ…..”
یوشع نے ہاتھ جوڑے….
اوکے میری پیاری بہنا’ المیرا کے پاس چلی جاؤ….”
اس نے ہاتھ جوڑے جوڑے آگے کا راستہ دیکھایا…..
وہ مسکراتے ہوۓ آگے بڑھ گئ…. یوشع نے نفی میں گردن ہلائ….
علی’ جہانزیب’ المیرا کے لاہور والے ماموں اور اس کے دو تین کزنز سب لان میں بیٹھے تھے…. اور باقی سب ہی چلے گۓ تھے….
یوشع ڈور نوک کرتا خان کے روم میں داخل ہوا…. خان صوفے پر تو خدیجہ بیڈ پر بیٹھی تھی….
خان یوشع کو دیکھ کر اپنی جگہہ سے اٹھے…. یوشع کے قریب آۓ….
المیرا…..”
وہ سوگئ ہے….”
خان نے ہاتھ جوڑے….
انکل یہ کیا کررہے ہیں؟؟؟ یوشع نے ان کے ہاتھوں کو پکڑا….
مجھے میری بیٹی لادو’ مینلں جانتا ہو میں نے اس کے ساتھ بہت غلط کیا’ مگر میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا’ ماں کو میں کھوچکا ہو’ اب بیٹی کو کھونا نہیں چاہتا….”
انکل میں جانتا ہو المیرا نے بہت غلط کیا جو بھی کیا اسے اتنا کچھ نہیں بولنا چاہیے تھا…. مگر…..” وہ چند پل کیلۓ جاموش ہوگیا….
اگر ہم خود کو ایک بار المیرا کی جگہہ رکھ کر سوچے تو مجھے نہیں لگتا کہ المیرا نے کچھ غلط کہا ہے….”
آپ خود بتاۓ کیا اس نے جو کچھ بھی کہا وہ سب جھوٹ تھا….”
نہیں انکل’ اس نے جو کہا سچ کہا ہے….” وہ ہمیشہ آپکی محبت کیلۓ ترستی رہی ہے’ اس کی تو ماں بھی نہیں تھی’ آپ ہی اس کے سب کچھ تھے’ ایسا کیا گناہ کردیا تھا اس نے جو آپ نے کبھی اس سے بات نہیں کی’ اس سے پیار نہیں کیا’ حالانکہ اس نے تو آج تک کچھ غلط نہیں کیا’ آپکی عزت پر کوئ حرف نہیں آنے دیا’ جبکہ غلط تو اس کے ساتھ ہوا ہے بچپن سے’ سہتی تو وہ آئ ہے سب کے رویوں کو’ اس کے دل میں کتنا درد کتنے راز دفن ہے آپ نہیں جانتے’ وہ کن کن اذیتوں سے گزری ہے آپ نہیں جانتے’
سب سے زیادہ اور سب سے پہلے آپکی بےرخی کو برداشت کرنا اور اس کے بعد….”
وہ ایک بار پھر خاموش ہوگیا….. خدیجہ کو دیکھا جو غور سے اس کو سن رہی تھی…..
کچھ نہیں چھوڑے….”
بتاؤ بیٹا’ کیا ہوا تھا بچپن میں اسکے ساتھ’ کونسی اذیت تھی جو اس نے برداشت کی تھی…..”
وہ جب پندرہ سال کی تھی’ گھر میں اس ٹائم کوئ نہیں تھا…. المیرا کے لاہور والے ماموں اور ان کا بیٹا جو ہے عالیان وہ بھی یہاں آیا ہوا تھا…. جب وہ گھر میں اکیلی تھی تو وہ کہیں باہر سے آیا تھا جو کہ اس ٹائم انیس سال کا تھا…. المیرا کو گھر میں اکیلا دیکھ کر اسکی نیت خراب ہوگئ تھی’ اس نے بہت غلط کیا تھا’ اس کی عزت کے ساتھ کھیلنا چاہا اور ان سب کا ثبوت المیرا کے کندھوں پر آج تک ثبت ہے’ اس کے دانتوں کے نشان المیرا کے کندھے پر آج تک ہے’ وہ آج بھی ان نشان کو دیکھتی ہے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے اسے یہ سب سوچ سوچ کر’ اس وقت اس کے قسمت اچھی تھی جو اس کے ماموں گھر آگۓ تھے اور انہوں نے یہ سب دیکھ لیا تھا’ اور اس کے بعد انہوں نے اپنے بیٹے کو بہت مارا تھا’ اگر اس وقت ماموں نہ آتے تو آج آپکی بیٹی کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہ ہوتی’ اور اللّه جانتا ہے کہ وہ اب تک زندہ بھی رہتی یا نہیں….” یہی وہ وجہ تھی کے وہ اس دنیا کے مردوں سے ڈرنے لگی تھی’ یہی وہ بات تھی جو اس نے صرف مجھے بتائ مجھے پر بھروسہ کیا’ یہ تھی وہ بات جو وہ آپکو بتانا چاہتی تھی…..”
کتنا کچھ وہ برداشت کرتی آئ ہے انکل’ اب نہیں ہورہا اس سے کچھ بھی برداشت…..’ اب آپ خود بتاۓ جو بھی کچھ اس نے کہا ہے غلط کہا ہے کیا؟؟”
خان نے اپنے سر کو تھاما….. وہ لڑکھڑاۓ…. وہ زمین پر بیٹھتے چلے گۓ…. یوشع بھی گھٹنوں کے بل ان کے سامنے بیٹھا…..
اتنی تکلیف’ اتنی اذیت….” خان نے کہا…..
یاد ہے انکل آپ کو جب المیرا کے کردار پر آنٹی نے انگلی اٹھائ تھی’ اس دن بھی میں نے آپ سے کیا کہا تھا؟؟؟
میں نے آپ سے کہا تھا کہ آپ اس کے پاس چلے جاۓ’ وہ آپ کے پیار کیلۓ ترستی ہے’ آپ ایک قدم اسکی طرف بڑھاۓ’ باقی کے قدم وہ خود طے کرلے گی…”
میں نے کہا تھا کہ اس کے پاس چلے جاۓ کہیں ایسا نہ ہو وقت ہاتھوں سے نکل جاۓ’ اور اب وقت واقعی ہاتھوں سے نکل چکا’ وہ اتنی آسانی سے آپکے پاس نہیں آۓ گی’ وہ ابھی غصے میں ہے’ اپنے ہوش میں نہیں ہے’ اس کے غم تازہ ہے’ اس نے اپنی جان سے زیادہ عزیز دادی کو کھویا ہے’ جب وہ سنبھل جاۓ گی تو میں خود اس سے بات کرو گا’ اسے سمجھاؤ گا’ وہ آجاۓ گی آپکے پاس مجھے امید ہے’ مگر صرف سمجھاؤ گا’ اگر اس نے سن لیا سمجھ لیا تو ٹھیک ورنہ زبردستی میں نہیں کروگا’ مجھے اچھا تو نہیں لگ رہا یہ کہتے ہوۓ مگر آپ پلیز یہاں سے چلے جائیے گا واپس دبئ…..”
خدیجہ نے آئبرو اچکائ…..
کیونکہ آپ یہاں رہے گے تو غصے میں کہی وہ خود کو نقصان نہ پہنچادے’ ایک دن وہ خود آپ کو بلاۓ گی مجھے امید ہے’ کیونکہ ایک بیٹی زیادہ دیر اپنے باپ سے ناراض نہیں رہتی’ اب میں چلتا ہو….’
وہ ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتا’ ان کو تسلی دیتا اٹھ کھڑا ہوا اور پھر وہ چلاگیا….. خان کو اب پچھتاوا ہورہا تھا کہ یہ انہوں نے کیا کیا…..
___
خان کی آنکھوں سے آنسوں جاری تھے….. وہ زمین پہ سے اٹھے……
بس اب یہی دیکھنا باقی رہ گیا تھا….”
خان نے خدیجہ کو دیکھا……
ایک بیٹی نے سارے رشتے ختم کردیے’ جیتے جی اپنے باپ کو ماردیا’ اور دوسرا جو ابھی داماد بنا بھی نہیں ہے’ وہ بھی آج حکم جاری کرکے چلا گیا کہ یہاں سے چلے جاۓ….”
ارے کیسے سن لیا آپ نے اس سے اتنا کچھ’ یہ گھر اس کے باپ کا ہے کیا جو وہ ہمیں جانے کیلۓ کہہ رہا ہے’
اس کے منہ پر ایک تھپڑ رکھتے نہ تو مجال نہیں ہوتی اس کی اتنا کچھ کہنے کی’ وہ ہوتا کون ہے ہمیں یہاں سے جانے کیلۓ کہنے والا…..”
خان کو غصہ چڑھا تھا…..
ان کا ہاتھ اٹھا تھا…. اور خدیجہ کے منہ پر نشان چھوڑگیا…..
خدیجہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھے حیرت سے ان کو دیکھ رہی تھی….
خان نے کہا کچھ نہیں بس غصے میں انگلی وارن کرنے والے انداز میں اٹھائ تھی….
بنا کچھ بولے بھی وہ سب کچھ بول گۓ تھے……. ان کی آنکھوں میں تنبہیہ تھی…..
وہ غصے میں روم سے نکل گۓ…..
***
یوشع اپنے گھر پہنچا تھا….. وہ لاؤنج میں آیا…. یوسف صاحب وہی لاؤنج میں صوفے پر بیٹھے تھے…. وہ بھی وہی بیٹھ گیا….
آپ ابھی تک نہیں سوۓ….”
بیٹا گھر سے باہر ہو’ اور باپ کو چین کی نیند آجاۓ….”
آپ کو معلوم تو تھا کہ میں کہاں ہوں؟؟ پھر بھی آپ انتظار کررہے تھے میرا….”
وہ مسکرایا…..
کیا کرسکتا ہو باپ ہو’ جب تک بیٹے کو صحیح سلامت گھر پہ نہ دیکھ لو’ کہاں چین پڑتا ہے…..”
تم ہی تو میرے اکلوتے سہارے ہو…..” اور اتنی دیر کیوں لگادی آنے میں؟؟ میری بیٹی ٹھیک ہے؟؟؟
کیا بتاؤ بابا آپ کو؟؟؟
یوسف صاحب نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا….. وہ کافی تھکا تھکا لگ رہا ہے…..
یوشع نے آخر انہیں سب بتادیا… باپ سے کچھ نہیں چھپاتا…..
یہ المیرا نے کیا کیا؟؟؟
بابا’ المیرا غلط نہیں ہے آپ خود کو اس کی جگہہ رکھ کر سوچے’ پھر وہ آپ کو کہیں سے بھی غلط نہیں لگے گی’
بابا ایک آپ ہے جو یہ جانتے ہوۓ بھی کہ میں کہاں ہو؟؟ آپ پھر بھی میرا انتظار کررہے تھے’ حالانکہ میں ایک جوان مضبوط لڑکا ہو’ پھر بھی انتظار کیا….
ماما کے جانے کے بعد میں بھی کتنا ٹوٹ گیا تھا’ آخر کو میں سب سے زیادہ انہی کے ساتھ اٹیچ تھا’ ماما کے جانے کے بعد آپ نے مجھے سنبھالا مجھے مضبوط بنایا ‘ میں ایک لڑکا ہو پھر بھی آپ نے کبھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑا ہر موڑ پر میری رہنمائ کی’ ایک بیٹا ہونے کے ناطے آپ نے مجھ سے کتنی محبت کی….
المیرا تو پھر ایک لڑکی ہے وہ بھی ایک بیٹی ہے’ تو کیا وہ اپنے باپ کے پیار کی حقدار نہیں تھی….
کہتے ہیں بیٹیاں بیٹوں سے زیادہ پیاری اور عزیز ہوتی ہے’ ایک بیٹیاں ہی ہوتی ہے جو کبھی بھی زندگی بھر بھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑتی’ چاہے پھر حالات کیسے بھی ہو’ بیٹی ہر اچھے برے وقت میں اپنے باپ کے ساتھ کھڑی رہتی ہے’ مگر جو بیٹے ہوتے ہیں وہ ایک نہ ایک دن ساتھ چھوڑ جاتے ہیں…..”
وہ بھی تو ایک بیٹی ہے’ باپ کو تو بیٹوں سے زیادہ بیٹیاں عزیز ہوتی ہے’ تو پھر کیوں خان انکل نے کبھی المیرا سے محبت نہیں کی’ وہ کتنا ترستی رہی ہے ان کی محبت کیلۓ’ مگر انہوں نے کبھی اس سے محبت نہیں کی’ سوچے بابا اس کا کتنا دل دکھتا ہوگا خان انکل کی بےرخی پر’ صرف ایک بار بابا اگر ہم خود کو المیرا کہ جگہہ رکھ کر سوچے تو وہ ہمیں غلط نہیں لگے گی’ مجھے تو وہ کہی سے بھی غلط نہیں لگی’ اگر المیرا کی جگہہ کوئ اور بھی ہوتا تو وہ یہی ری ایکٹ کرتا……
المیرا نے کچھ غلط نہیں کیا….”
میں جانتا ہو بیٹا’ بیٹیاں بہت انمول ہوتی ہے’ میری کوئ بہٹی نہیں ہے تھی اس لۓ مجھے اتنا معلوم نہیں تھا کہ بیٹیوں کی محبت کیا ہوتی ہے” مگر المیرا کو ملنے کے بعد اس کو اپنی بیٹی بنانے کے بعد مجھے پتا چلا کہ بیٹیاں کتنی پیاری ہوتی ہے’ کہ کاش میری بھی ایک بیٹی ہوتی مگر میری بیٹی کی کمی المیرا نے پوری کردی’ وہ ان دو سالوں میں مجھے اتنی عزیز ہوگئ کہ اس کے آگے میں تمھیں بھی بھول جاتا ہو کہ میرا کوئ بیٹا بھی ہے’ ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ میری اپنی سگی بیٹی ہے…..”
یوشع مسکرایا…..
مگر پھر بھی المیرا کو اتنے تلخ الفاظ نہیں بولنے چاہیے تھے’ بیٹا خون کے رشتے اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتے…..”
جی بابا’ میں بات کروں گا’ سمجھاؤں گا سمجھ جاۓ گی…..”
ایک بات کہو’ اب المیرا سے نکاح کرلو لے آؤ اس کو اس گھر میں’ خان واپس چلاجاۓ گا’ زہرہ بہن بھی اب نہیں رہی’ المیرا اب بالکل اکیلی ہوگئ ہے’ وہ اس گھر میں اکیلے نہیں رہ پاۓ گی ‘ اسے ایک مضبوط سہارے کی ضرورت ہے اور وہ سہارا تم ہو…..”
بابا نکاح کی بات آپ کرلیجیے گا’ مجھے امید ہے وہ آپکی بات نہیں ٹالے گی’ میں اس سے ہمیشہ بات کرتا رہتا ہو نکاح کی مگر وہ ہر بار منع کردیتی ہے کہ ابھی نہیں’ وہ آپ کا مان رکھ لے گی آپ کو منع نہیں کرے گی’ مگر ابھی نہیں چالیسویں کے بعد کرلیجیے گا….”
یوشع نے اپنا ماتھا مسلا…..
درد ہے….”
ہممم بہت زیادہ…..”
کھانا کھایا ہے تم نے….”
جی…..”
ٹھیک ہے جاؤ ریسٹ کرو’ پھر کل قل کی بھی تیاری کرنی ہے….”
لو یو بابا” یوشع ان کے گلے لگا تھا…..
لڑکیوں کی طرح اتنے سینٹی مت ہوجایا کرو…..”
وہ سکراتا ہوا ان سے دور ہٹا…..
لویوٹو مائ سن’ ہمیشہ خوش رہو…..”
ہممم اپنا جملہ پورا کرے….”
کیا ہوتو گیا ہے کہ ہمیشہ خوش رہو…..”
یو کہے یوشع بیٹا ہمیشہ خوش رہو المیرا کے ساتھ…..”
اس نے زبان نکالی…..
تم نہ پورے پاگل ہو….”
اوکے بابا گڈ نائٹ…….”
وہ اٹھ کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا….
ہمیشہ خوش رہو المیرا کے ساتھ…..”
انہوں نے دل میں دعا دی….. اور بھی ڈھیروں دعائیں دیتے وہ بھی اپنے روم کی طرف بڑھ گۓ
**
آب آپ سب اپنی رائیں دیجۓ گا کہ المیرا نے اپنے باپ کہ ساتھ جو کیا وہ سب صحیح تھا یا غلط….. اور اگر آپ المیرا کی جگہہ ہوتے تو آپ سب کیا کرتے…..
جاری ہے_
