Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

Visal-e-Javedan وصال جاوداں

ا سی طرح لاہور کے ایک پوش علاقے میں ایک گھر کی لائٹس اون تھی…. گھر نہ زیادہ بڑا تھا’ نہ ہی چھوٹا…. اس گھر کا لان بہت ہی خوبصورت تھا…. خوبصورت پھولوں سے سجا….. زیادہ بڑا نہیں تھا…… مگر بہت خوبصورت تھا…. لان کی سائڈ پہ ایک سفید مور اپنے پنکھ پھیلاۓ’ اپنی سریلی آواز کو چاروں اور پھیلارہا تھا……. شاید وہ بھی اپنے رب کی حمد_و_ثنا میں مصروف تھا….. اندر کی طرف جاۓ تو ایک درمیانے سائز کا لاؤنج تھا….. نیچے تین کمرے اور کچن تھا….. اوپر کی طرف جاۓ تو ایک گیسٹ روم اور ایک روم اور تھا….. اس روم میں جھانکے تو پورا کمرہ روشنیوں سے نہایا ہوا تھا….. ہر چیز اپنی مثال آپ تھی…. خوبصورت فرنیچر بہت ہی خوبصورت طریقے سے سیٹ کیا ہوا….. ایسے میں ایک نوجوان بھی اپنی عبادت میں مصروف تھا….. دعا کیلۓ ہاتھ اٹھاۓ ہوۓ تھے…. خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی….وہ اپنے رب کا شکر گزار تھا کہ آخر اتنے سالوں بعد اس رب نے جہان کی سن لی تھی’ المیرا کا ساتھ اس کو دے دیا گیا تھا…. پچھلے چار سالوں سے وہ المیرا کا ساتھ مانگتا آرہا تھا اپنے رب سے…. اور آج اس رب نے سن ہی لی….. “صبر اور نماز سے کام لیا کرو”(البقرہ:45) جہان نے صبر کیا….. سجدوں میں’ دعاؤں میں اس کو مانگا اور رب نے عطا کردیا….. ******** جہان چار بہن بھائ تھے…. جب جہان تیرہ سال کا تھا جب ہی والد اس دنیا سے کوچ کرگۓ تھے….. اس کے بعد دو جڑواں بہنیں جو تین سال چھوٹی تھی اور پھر سب سے چھوٹی صفیہ جو چھ سال کی تھی….. والد کے جانے کے بعد حالت بدتر ہوتے گۓ تھے…. بہت غریبی کی زندگی گزاری تھی دکھوں سے بھری…..سیونگز اتنی زیادہ نہیں تھی کہ زیادہ دن تک گزارا ہوجاتا….اس گھر کا ایک واحد سہارا جہان ہی تھا…. کسی رشتے دار نے ساتھ نہیں دیا تھا سواۓ ایک ماموں کے… انہوں نے ہی اپنی بہن اور بھانجے’ بھانجیوں کی ذمہ داری لی تھی…. وقت اور حالات نے جہان کو لڑھک پن میں ہی میچیور بنادیا تھا……. جہان اپنی اسٹذی کو یہی اسٹوپ کرکے خود جوب کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ اپنی فیملی کا خرچہ خود پورا کرے….. کسی کا احسان نہ لے….. مگر ماموں نے ایسا کرنے نہ دیا کہ “چھوٹے بچوں کو کوئ کام پر نہیں رکھتا اس لۓ تم بھی اپنی پڑھائ پر دھیان دو بس” مگر وہ بضد تھا کہ خود جرچہ اٹھاۓ گا تو پورے ایک سال بعد اس کے ماموں راضی ہوۓ تھے جہان کی جوب کیلۓ وہ بھی اس شرط پہ کہ اپنی پڑھائ کو کنٹینیو رکھو گے….. وہ اس پہ راصضی تھا تب کہیں جاکہ انہوں نے جہان کو اپنی ہی کپڑوں کی شوپ پر رکھ لیا تھا’اچھی سیلری پہ…. ایسے میں وہ چودہ سالہ بچہ کام کرنے لگا تھا….. صبح اپنے سکول جانا’ دوپہر کو آکے دکان پہ چلے جانا’ پھر رات آٹھ بجے گھر واپس آکر نو بجے اپنا پڑھنے کیلۓ بیٹھ جانا’ اور رات گۓ تک اسٹڈیز کرنا….. اب وہ گھر کا اور اپنی بہنوں کا خرچہ خود اٹھاتا تھا…. کچھ ماموں مدد کردیتے تھے…. جس سے حالات ایک بار پھر بہتر ہوگۓ تھے…. دن یوہی تیز رفتاری سے گزرتے گۓ…. جہان بالکل ایک باپ کہ طرح اپنی بہنوں کا خیال رکھتا’ ان کی ہر خواہش کو پورا کرتا’ ہر ایوینٹ پہ نۓ کپڑے’ نۓ جوتے لاکر دیتا…. خود کیلۓ کچھ نہیں لیتا تھا…. اور آخر کار وہ دن بھی آگیا تھا جب جہان کی اسٹڈیز کمپلیٹ ہوگئ تھی…. وہ اب تیئس، چوبیس سال کا ایک نوجوان مرد تھا…. باقی دو چھوٹی بہنوں کا بی اے کمپلیٹ ہوگیا تھا…. اور سب سے چھوٹی ابھی دسویں کلاس میں تھی…. جہان ایک آفس میں جوب کرنے لگا تھا….. اس کاخواب تھا اپنا بزنس اسٹارٹ کرنا مگر بہنیں جوان ہوگئ تھی ان کی شادی کی فکر…. جہان کو بہنوں کی فکر لاحق ہوگئ تھی اورکچھ دنوں بعد اس کی یہ فکر بھی ختم ہوگئ تھی جب گھر پہ رشتہ آیا’ جہان نے دونوں لڑکوں کی فیملی کے بارے میں پتا لگوایا اور ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہونے کی وجہ سے جہان نے ایک باپ کی طرح اپنی دونوں بہنوں کا فرض بھی ادا کردیا تھا…. ایک یہی لاہور میں’ اور دوسری سعودیہ چلی گئ تھی….. اس کی ماں نے نم آنکھوں سے مسکراتے ہوۓ اس کی پیشانی چومی تھی….. جہان نے بھی اپنی ماں کے ہاتھوں پر بوسہ دیا تھا…. بےشک وہ اپنے گھر کیلۓ ایک مثالی مرد ثابت ہوا تھا’ اپنی ماں کا ایک مثالی بیٹا’ اور اپنی بہنوں کیلۓ ایک مثالی بھائ…. اب سب سے چھوٹی صرف صفیہ ہی رہتی تھی جو جہان سے پورے سات سال چھوٹی تھی…. چونکہ ابھی چھوٹی تھی اور اسٹڈیز کررہی تھی اس لۓ اس کی شادی میں ابھی دیر تھی…. ماں نے کہا بھی کہ بیٹا اب تم بھی شادی کرلوں مگر جہان نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ ہہلے صفیہ کی’ پھر اپنی کروں گا….. اور انہی دنوں میں جہان کی ملاقات المیرا سے ہوئ تھی…. جہان کو اپنے جذبات سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ وہ المیرا سے محبت کرنے لگا ہے…. المیرا کو بھی جہان اپنی ڈیزرو نیچر کی وجہ سے اچھا لگا تھا….وہ لڑکیوں کی دل سے عزت کرتا تھا اسی عادت کی وجہ سے المیرا بھی جہان سے تھوڑی بہت گفتگو کرنے لگی تھی اور پھر ایک دن جہان نے اپنے جذبات’ اپنے احساسات کےبارے میں المیرا کو بتادیا تھا….. اور اب پچھلے چار سالوں سے جواب کا منتظر تھا…. اور اب اس کو چار سالوں کا صبر اس کو مل گیا تھا…. المیرا کا ساتھ اس کو مل گیا تھا اور وہ بہت خوش تھا….. مگر کون جانے یہ خوشیاں کتنی دیر کی ہے…..” ******** وہ سیڑھیوں سے اترتا بہت خوش باش نظر آرہا تھا….. ڈائنگ ٹیبل پہ بیٹھی جہان کی ماں نے دور سے ہی اپنے بیٹے کے چہرے پر بکھرتے رنگوں کو دیکھ لیا تھا….. کسی حد تک وہ اس کے چہرے پہ ظاہر ہوتی خوشی کو سمجھ گئ تھی….. دل میں صدا اس کی خوشیوں کی دعا کی….. وہ ڈائنگ ٹیبل کے قریب پہنچ گیا تھا’ مسکرا کر اپنی ماما کو سلام کیا’ اور ان کی پیشانی کو چوما’….اور جواب میں انہوں نے بھی اسکی پیشانی کو چوما….. اب وہ ان کی ساتھ والی چیئر کھینچ کر بیٹھ گیا تھا….. میں اپنے بیٹے کے چہرے پر بکھرتے ان خوشی کے رنگوں کو جان سکتی ہو’ ماما آپ خود بتاۓ…. کیا وجہ ہوسکتی ہے..؟؟؟ جہاں تک میرا خیال ہے میری ہونے والی بہو نے ‘ہاں’ کہہ دی ہے’ وہ تم سے شادی کیلۓ راضی ہے…. جی ماما المیرا شادی کیلۓ مان گئ ہے…. اور میں بہت خوش ہو”. افف اللّه جی’ میں یہ کیا سن رہی ہو… بھائ آپ سچ کہہ رہے ہیں…. بھابھی مان گئ ہے…. “صفیہ پتا نہیں کیاں سے آٹپکی تھی اور شاید ساری بات بھی سن چکی تھی” اس نے پیچھے سے آکر جہان کو ہگ کیا…. آپ سچ کہہ رہے ہیں…. صفیہ نے خوشی اور حیرانی کے ملے جلے تاثرات میں پوچھا…. جہان سے دور ہوئ….. ہاں جی میری گڑیا آپ نے جو سنا سچ سنا ہے…. آپکی بھابھی مان گئ ہے…. اور اب آپ کے ساتھ میری بھی شادی” جہان نے اپنی لاڈلی بہن کو دیکھا جو بچوں کی طرح خوش ہورہی تھی….. اففف سچ میں بھائ مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا… بھابھی مان گئ…. ہاۓ ایسے لگ رہا ہے میں خواب میں ہو’ آنکھ کھلے گی اور خواب ٹوٹ جاۓ گا…. آآآآ….. صفیہ نے چینخ ماری’ خفہ نظروں سے بھائ کو گھورتی اپنے بازو کو سہلانے لگی…. بھائ میں نے آپ کے سر میں بمب پھوڑ دینا ہے’ پھر المیرا بھابھی تو کیا کوئ بھی آپ سے شادی نہیں کرے گی….. جہان نے اس کا بازو پکڑ کر اپنے ساتھ والی چیئر پر بٹھایا…. ماں تو ان دونوں کی نوک جھونک دیکھ کر ہی خوش ہورہی تھی…. جہان کیٹل میں سے چاۓ کپوں میں نکال رہا تھا…. ہاۓ بھائ کتنا مزہ آۓ گا آپکی شادی…. میں نے تو خوب ساری شوپنگ کرنی ہے…. اور ہاں میں نے نہیں کرنی آپ کی ساتھ شادی’ مطلب میرا ایک اکلوتا بھائ ہے’ اور میں نے اس کی شادی کو خوب انجواۓ کرنا ہے’ اگر میں دلہن بن گئ تو انجواۓ کون کرے گا… بھنگڑے کون ڈالے گا….” ہاہاہاہا… جہان اور ماں دونوں ایک ساتھ ہنسے…… تم بھنگڑے ڈالوں گی…. جہان نے مسکراتے ہوۓ پوچھا….. جی بالکل میں نے لڈی پانی ہے…. بیٹا آپکی شادی کے ساتھ ہی میں اپنی شادی کروں گا کیونکہ پہلے تمھیں اس گھر سے بھیجوں گا….. بھائ…. تم اس کی باتوں پہ دھیان نہ دو صفیہ تمھیں پتا ہے یہ صرف مزاق کررہا ہے’ اچھا بریک فاسٹ کرو نہیں تو پھر لیٹ ہوجاؤ گی….. پھر مجھے مت کہنا بھائ آپکی وجہ سے دیر ہوگئ…. جہان نے اس کی طرف بریڈ بڑھاۓ….. اور میں ہو نہ اپنی بہن کو انجواۓ کروانے کیلۓ…. مل کے انجواۓ کرے گے… جہان نے اپنا کندھا اسکے کندھے سے مس کرتے ہوۓ آنکھ ونک کرکے کہا…. ملواؤگے کب بھابھی سے….. بہت جلد…. یو ہی ہنستے’ مسکراتے’ ہنسی مزاق میں بریک فاسٹ کیا جانے لگا…” ******** وہ دونوں بھی آمنےسامنے بیٹھی ناشتہ کرنے میں مصروف تھی…. دونوں خاموش تھی…. دونوں نے کل سے کوئ بات نہیں کی تھی…. آخر اس چپ کو المیرا نے توڑا…. تم رات کو روم میں کیوں نہیں آئ’ المیرا’ ایمان کی سرخ آنکھیں دیکھ رہی تھی” تم ساری رات روتی رہی ہو؟؟؟ ایمان نے نظریں چرائ”. نہیں میں کیوں رؤں گی….. تو پھر نظریں کیوں چرارہی ہو؟؟؟ اگر یہی سوال میں تم سے پوچھو…. کہ تم کیوں روتی رہی ہو…؟؟؟ اب کی بار نظریں چرانے کی باری المیرا کی تھی…. ایمان طنزیہ مسکرائ” سر جھٹکا’ میرے بارے میں تم سب جانتی ہو ایمان پھر کیوں پوچھ رہی ہو…؟؟؟ اب اپنا بتاؤ؟؟ تم کیوں روتی رہی ہو…؟؟؟ تمہاری وجہ سے’ تمھیں لے کر پریشان تھی…. ایمان نے سفید جھوٹ بولا’ المیرا نے کچھ نہیں کہا…. وہ جانتی ہے وہ جھوٹ بول رہی ہے…. کچھ تو ہے جو تم چھپارہی ہو’ مگر کیا…” میں بھی پتا لگواکر رہوں گی ایمان تم کیا چھپارہی ہو…؟؟؟ المیرا نے دل میں خود سے کہا اور بریک فاسٹ کرنے لگی…. ایک بار پھر دونوں میں خاموشی چھاگئ تھی…. ******* دن ایک بار پھر اپنے معمول پہ گزرنے لگے تھے……. اپنی اپنی لائف میں بزی’ سب ہی اب سنبھل گۓ تھے…. المیرا بھی اپنے رب کی رضا میں راضی ہوگئ تھی….. اور یہ سب جہان کی فیملی سے ملنے کے بعد ہوا تھا…. جہان اگلے ہی دن المیرا کو بہت انسسٹ کرکے گھر لے آیا تھا تاکہ وہ گھر والوں سے مل سکے….. جہان کی ماں اور بہن دونوں کو ہی المیرا بہت پسند آئ تھی…. صفیہ کو فخر تھا اپنے بھائ کی پسند پر….. وہ اتنی خوبصورت نہیں تھی مگر اچھی لگتی تھی’ ایک اٹریکشن تھی اس میں’ جو سب ایک دفعہ کے بعد دوسری دفعہ ضرور متوجہ ہوتے تھے’ المیرا کی طرف…. المیرا کو بھی بہت اچھا لگا تھا جہان کی فیملی سے مل کر اتنے سالوں بعد اس نے ایک بار پھر ایک فیملی کا پیار محسوس کیا تھا….. وہ اپنے رب کے فیصلے پر راضی تھی…. “بیشک وہ رب بہترین کرنے والوں میں سے ہیں” جہان کی صورت اسے ایک بار پھر فیملی’ ایک فیملی کا پیار مل رہا تھا” جہان کو بھی اس بات کی سمجھ آگئ تھی اس سے زیادہ خوبصورت احساس اور کیا ہوگا’ کہ آپکو ایک ایسے انسان کا ساتھ حاصل ہو “جو آپکا من پسند ہو” جہان کو اس کا من پسند شخص کا ساتھ مل رہا تھا…” ******* یوشع اپنے آفس میں بیٹھا سامنے رکھی فائل کو ریڈ کرنے میں مصروف تھا…. جب ساتھ میں رکھا اس کا موبائل رنگ ہوا… اس نے فائل سے نظریں ہٹا کر موبائل اسکرین کو دیکھا’ جہاں ‘سویٹ ہارٹ’ کے الفاظ جگمگارہے تھے….. یوشع نے مسکراتے ہوۓ کال اٹینڈ کی…. کرسی کی بیک سے ٹیک لگا کر بڑی ہی خوشدلی سے سلام کیا…. دوسری طرف سے بھی اتنی ہی خوشدلی سے جواب دیا گیا…. یوشع کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوئ…. گال پہ پڑتا ڈمپل بھی گہرا ہوا…. دوسری طرف سے کچھ کہا گیا…. ہمممم… ہاں میں جواب دیا گیا…. اور اینڈ میں ‘اوکے میں آجاؤ گا’ کہہ کر موبائل رکھ دیا…. خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی…. اب یوشع کو صرف کل کا انتظار تھا…. وہ مسکراتا ہوا واپس فائل کی طرف متوجہ ہوگیا….

*******

جاری ہے________